50. باب {يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا} يُذْهِبُهُ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ الأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلاَهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ، فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
Narrated By 'Aisha : When the last Verses of Surat-al-Baqara were revealed. Allah's Apostle went out and recited them in the Mosque and prohibited the trade of alcoholic liquors.
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا۔ کہا ہم سے محمد بن جعفر نے ۔ انہوں نے شعبہ سے۔ انہوں نے سلیمان اعمش سے۔ انہوں نے کہا میں نے ابو الضحی سے سنا وہ مسروق سے روایت کرتے تھے۔ وہ حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا جب سورہ بقرہ کی اخیر آیتیں (سود کے باب میں) اتریں۔ تو آپؐ باہر برآمد ہوئے۔ اور مسجد میں جا کر ان آیتوں کو پڑھ کر سنایا۔ پھر شراب کی سوداگری بھی حرام کی۔
51. باب {فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ } فَاعْلَمُوا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ، وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
Narrated By 'Aisha : When the last Verses of Surat-al-Baqara were revealed, the Prophet read them in the Mosque and prohibited the trade of alcoholic liquors.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے۔ انہوں نے منصور سے انہوں نے ابو الضحی سے انہوں نے مسروق سےانہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا جب سورہ بقرہ کی اخیر کی آیتیں (سود کی حرمت میں) اتریں تو نبیﷺ نے مسجد میں لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور شراب کی سوداگری حرام کی۔
52. باب {وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ}الآية
وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
Narrated 'Aisha: When the last Verses of Surat-al-Baqara were revealed, Allah's Apostle stood up and recited them before us and then prohibited the trade of alcoholic liquors.
محمد بن یوسف فریابی نے ہم سے کہا انہوں نے سفیان ثوری سے ۔ انہوں نے منصور اور اعمش سے انہوں نے ابو الضحی سے انہوں نے مسروق سےانہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا جب سورہ بقرہ کی اخیر کی آیتیں (سود کی حرمت میں) اتریں تو رسول اللہﷺکھڑے ہوئے اور یہ آیتیں ہم کو پڑھ کر سنائیں اور پھر شراب کی سوداگری حرام کی۔
53. باب {وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ}
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم آيَةُ الرِّبَا.
Narrated By Ibn Abbas : The last Verse (in the Qur'an) revealed to the Prophet was the Verse dealing with usury (i.e. Riba).
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثور ی نے انہوں نے عاصم بن سلیمان سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا آخری آیت جو نبیﷺ پر اتری وہ سود کی آیت تھی۔
54. باب {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ}الآية
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّهَا قَدْ نُسِخَتْ {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ} الآيَةَ.
Narrated By Ibn 'Umar : This Verse: "Whether you show what is in your minds or conceal it..." (2.284) was abrogated.
ہم سے محمد نے بیان کیا۔ کہا ہم سے عبداللہ بن محمد نفیلی نے۔ کہا ہم کو مسکین بن بکیر حرانی نے انہوں نے شعبہ سے انہوں نے خالد حذاء سے انہوں نے مروان اصغر سے۔ انہوں نے نبیﷺ کے ایک صحابیؓ یعنی عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا کہ یہ آیت وَاِن تُبدُوا مَا فِی أنفُسِکُم أو تُخفُوہُ یُحِاسِبکُم بِہِ اللہ منسوخ ہو گئی ہے۔
55. باب {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ}
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {إِصْرًا} عَهْدًا. وَيُقَالُ {غُفْرَانَكَ} مَغْفِرَتَكَ، فَاغْفِرْ لَنَا
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ أَحْسِبُهُ ابْنَ عُمَرَ ـ {إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ} قَالَ نَسَخَتْهَا الآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا.
Narrated By Marwan Al-Asfar : A man from the companions of Allah's Apostle who I think, was Ibn 'Umar said, "The Verse: "Whether you show what is in your minds or conceal it..." was abrogated by the Verse following it."
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم کو روح بن عبادہ نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی انہوں نے خالد حذاء سے۔ انہوں نے رسول اللہﷺ کے ایک صحابی سے مروان نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ عبداللہ بن عمرؓ تھے۔ انہوں نے کہا وَاِن تُبدُوا مَا فِی أنفُسِکُم (الخ) اس آیت سے منسوخ ہو گئی ہے۔ جو اس کے بعد ہے (یعنی لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا سے) ۔