40. باب {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ}
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَىَّ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ،. حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أُخْتَ، مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَتَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَخَطَبَهَا فَأَبَى مَعْقِلٌ، فَنَزَلَتْ {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ}
Narrated By Al-Hasan : The sister of Ma'qal bin Yasar was divorced by her husband who left her till she had fulfilled her term of 'Iddat (i.e. the period which should elapse before she can Remarry) and then he wanted to remarry her but Maqal refused, so this Verse was revealed:
"Do not prevent them from marrying their (former) husbands." (2.232)
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم ابو عامر عقدی نے۔ کہا ہم سے عباد بن راشد نے۔ کہا ہم سے حسن نے کہا مجھ سے معقل بن یسار نے انہوں نے کہا میری ایک بہن تھی۔ اس کو (اس کے اگلے خاوند نے) نکاح کا پیغام دیا۔ دوسری سند اور ابراہیم بن طہمان نے یونس سے روایت کی۔ انہوں نے امام حسن بصریؒ سے کہا مجھ سے معقل بن یسار نے بیان کیا۔ تیسری سند اور امام بخاری نے کہا ہم سے ابو معمر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث نے کہا ہم سے یونس نے انہوں نے امام حسن بصری سے کہ معقل بن یسار کی بہن انہوں نے امام حسن بصری سے کہ معقل بن یسار کی بہن کو ان کے خاوند نے طلاق دی۔ اور عدت گزرنے تک اس کو چھوڑ دیا۔ (رجعت نہیں کی) جب عدت کزر گئی (طلاق بائن ہو گئی) تو پھر اس نے نکاح کا پیغام دیا۔ لیکن معقل نے منظور نہ کیا (گو عورت چاہتی تھی) اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری فَلَا تَعضُلُوھُنَّ أن یَنکِحنَ أزواجَھُنَّ۔
41. باب {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} إِلَى {بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ}
يَعْفُونَ يَهَبْنَ
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} قَالَ قَدْ نَسَخَتْهَا الآيَةُ الأُخْرَى فَلِمَ تَكْتُبُهَا أَوْ تَدَعُهَا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي، لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ
Narrated By Ibn Az-Zubair : I said to 'Uthman bin 'Affan (while he was collecting the Qur'an) regarding the Verse: "Those of you who die and leave wives..." (2.240) "This Verse was abrogated by an other Verse. So why should you write it? (Or leave it in the Qur'an)?" 'Uthman said. "O son of my brother! I will not shift anything of it from its place."
مجھ سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا کہا مجھ سے یزید بن زریع سے، انہوں نے حبیب بن شہید سے، انہوں ابن ابی ملیکہ سے کہ عبداللہ بن زبیرؓ کہتے تھے میں نے حضرت عثمانؓ سے کہا وَ الَّذِینَ یُتَوَفَّونَ مِنکُم وَیَذَرُونَ اَزوَاجًا یہ آیت تو دوسری آیت سے منسوخ ہے۔ پھر تم نے اس کو مصحف میں کیوں لکھا یا چھوڑ کیوں نہ دیا۔ عثمانؓ نے کہا بھیتجے بات یہ ہے کہ میں تو قرآن کی کوئی آیت اپنے ٹھکانے سے بدلنے والا نہیں (گو وہ منسوخ ہو گئی ہو)
حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} قَالَ كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً، إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} فَالْعِدَّةُ كَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا. زَعَمَ ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ. وَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ}. قَالَ عَطَاءٌ إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ}. قَالَ عَطَاءٌ ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَلاَ سُكْنَى لَهَا. وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا. وَعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} نَحْوَهُ.
Narrated By Mujahi : (Regarding the Verse): "Those of you who die and leave wives behind. They (their wives)... shall wait (as regards their marriage) for four months and ten days)." (2.234)
The widow, according to this Verse, was to spend this period of waiting with her husband's family, so Allah revealed: "Those of you who die and leave wives (i.e. widows) should bequeath for their wives, a year's maintenance and residences without turning them out, but if they leave (their residence), there is no blame on you for what they do with themselves provided it is honourable.' (i.e. lawful marriage) (2.240).
So Allah entitled the widow to be bequeathed extra maintenance for seven months and twenty nights, and that is the completion of one year. If she wished she could stay (in her husband's home) according to the will, and she could leave it if she wished, as Allah says:
"...without turning them out, but if they leave (the residence), there is no blame on you." So the 'Idda (i.e. four months and ten days as it) is obligatory for her.
'Ata said: Ibn 'Abbas said, "This Verse, i.e. the Statement of Allah: "...without turning them out.." cancelled the obligation of staying for the waiting period in her dead husband's house, and she can complete this period wherever she likes." 'Ata's aid: If she wished, she could complete her 'Idda by staying in her dead husband's residence according to the will or leave it according to Allah's Statement:
"There is no blame on you for what they do with themselves." 'Ata' added: Later the regulations of inheritance came and abrogated the order of the dwelling of the widow (in her dead husband's house), so she could complete the 'Idda wherever she likes. And it was no longer necessary to provide her with a residence. Ibn 'Abbas said, "This Verse abrogated her (i.e. widow's) dwelling in her dead husband's house and she could complete the 'Idda (i.e. four months and ten days) wherever she liked, as Allah's Statement says: "...without turning them out..."
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم سے روح بن عبادہ نے کہا ہم سے شبل بن عباد نے انہوں نے ابن ابی نجیح سے۔ انہوں نے مجاہد سے انہوں نے کہا یہ آیت وَ الَّذِینَ یُتَوَفَّونَ مِنکُم وَیَذَرُونَ اَزوَاجًا اس وقت اتری جب (جاہلیت کے زمانے کی طرح) یہ عدت خواہ مخواہ خاوند کے گھر میں گزارنا ضروری تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ اتارا وَ الَّذِینَ یُتَوَفَّونَ مِنکُم وَیَذَرُونَ اَزوَاجًا وَصِیَّۃً لِّازوَاجِھِم مَتَاعًا ألَی الحَولِ غَیرِ أِخرَاجٍ فَاِن خَرَجنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیکُم فِیمَا فَعَلنَ : الخ اگر یہ عورتیں (چار ماہ دس دن کے بعد) اپنے خاوند کے گھر سے نکل جائیں تو خاوند کے وارثو! تم پر کوئی گناہ نہ ہو گا۔ اگر وہ اپنے دستور کے موافق اپنے لئے کوئی کام کریں مجاہد نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک سال پورا کرنے کے لئے سات ماہ بیس دن زیادہ خاوند کے گھر ٹھہرے رہنا۔ وصیت پر موقوف رکھا ہے۔ مگر عورت کو اختیار ہے چاہے خاوند کی وصیت کے موافق خاوند کے گھر میں (ایک سال پورا ہوئے تک) رہے چاہے (چار ماہ دس دن کے بعد) نکل جائے اللہ تعالٰی کے اس قول غَیرِ أِخرَاجٍ فَاِن خَرَجنَ سے یہی مراد ہے ۔ تو اصل عدت یعنی چار ماہ دس دن ہر حال میں عورت پر واجب ہے۔ شبل نے کہا ابن ابی نجیح نے مجاہد سے ایسا ہی نقل کیا ہے۔ اور عطاء بن ابی رباح نے کہا ابن عباسؓں نے کہا اس آیت نے اس رسم کو منسوخ کر دیا کہ عورت اپنے خاوند کے گھر والوں کے پاس عدت کرے۔ اور خاوند کی وصیت کے موافق اسی کے گھر میں رہے اور اگر چاہے تو وہاں سے نکل جائے۔ کیونکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا اگر وہ نکل جائیں تو دستور کے موافق اپنے حق میں جو بات کریں اس میں کوئی گناہ تم پر نہ ہو گا۔ عطاء نے کہا اس کے بعد میراث کی آیت اتری جو (سورہ النساًء میں ہے) اب گھر میں رکھنے کا حکم منسوخ ہو گیا۔ عورت کو اختیار ملا۔ جہاں چاہے عدت پوری کرےمکان کا خرچہ اس کو نہیں ملنے کا۔ اور محمد بن یوسف فریابی سے روایت ہے کہا ہم سے ورقاء بن عمرو خوارزمی نے۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے مجاہد سے پھر وہی قول بیان کیا جو اوپر گزرا۔ اور ورقاء نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے انہوں نے ابن عباسؓ سے روایت کی۔ کہ اس آیت نے عورت کا مرد کے گھر میں عدت کرنے کا حکم منسوخ کر دیا اب اس کو اختیار ملا جہاں چاہے وہاں عدت کرے کیونکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا غَیرِ أِخرَاجٍ۔
حَدَّثَنِى حِبَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ جَلَسْتُ إِلَى مَجْلِسٍ فِيهِ عُظْمٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَفِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، فَذَكَرْتُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَلَكِنَّ عَمَّهُ كَانَ لاَ يَقُولُ ذَلِكَ. فَقُلْتُ إِنِّي لَجَرِيءٌ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى رَجُلٍ فِي جَانِبِ الْكُوفَةِ. وَرَفَعَ صَوْتَهُ، قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ أَوْ مَالِكَ بْنَ عَوْفٍ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهْىَ حَامِلٌ فَقَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ، وَلاَ تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى. وَقَالَ أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ لَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ.
Narrated By Muhammad bin Sirin : I sat in a gathering in which the chiefs of the Ansar were present, and Abdur-Rahman bin Abu Laila was amongst them. I mentioned the narration of 'Abdullah bin 'Utba regarding the question of Subai'a bint Al-Harith. Abdur-Rahman said, "But 'Abdullah's uncle used not to say so." I said, "I am too brave if I tell a lie concerning a person who is now in Al-Kufa," and I raised my voice. Then I went out and met Malik bin 'Amir or Malik bin 'Auf, and said, "What was the verdict of Ibn Mas'ud about the pregnant widow whose husband had died?" He replied, "Ibn Mas'ud said, 'Why do you impose on her the hard order and don't let her make use of the leave? The shorter Sura of women (i.e. Surat-at-Talaq) was revealed after the longer Sura (i.e. Surat-al-Baqara)." (i.e. Her 'Idda is up till she delivers.)
ہم سے حبان بن موسٰی مروزی نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے کہا میں ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ جس میں انصاری بڑے بڑے لوگ موجود تھے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلٰی بھی تھے۔ میں نے عبداللہ بن عتبہ کی حدیث جو سبیعہ بنت حارث کے باب میں ہے نقل کی۔ اس پر عبدالرحمٰن بن ابی لیلٰی کہنے لگے عبداللہ بن عتبہ کے چچا
(عبداللہ بن مسعودؓ) تو اس کے قائل نہ تھے۔ میں نے خوب بلند آواز کہا پھر تو میں جھوٹ بولنے میں بڑا دلیر ٹھہرا۔ اگر میں نے کوفہ میں جو شخص رہتا ہے(یعنی عبداللہ بن عتبہ) اس پر جھوٹ باندھا ہو اور یہ کہ کر میں باہر نکلا مجھ کو (رستے میں) مالک بن عامر یا مالک بن عوف ملے۔ (راوی کو شک ہے یہ عبداللہ بن مسعودؓ کے رفیقوں میں تھے) میں نے ان سے پوچھا عبداللہ بن مسعودؓ اس حاملہ عورت کی عدت کیا کہتے تھے جس کا خاوند
مر جائے۔ کہا ابن مسعودؓ تو یہ کہتے تھے کہ لوگو! تم حاملہ عورت پر سختی کرتے ہو۔ اس پر آسانی نہیں کرتے (اس کو بھی عدت کا حکم دیتے ہو) حالانکہ چھوٹی سورہ نساًء (سورہ اطلاق) لمبی سورت النساًء کے بعد اتری۔ اور ایوب سختیانی نے محمدؐ بن سیرین سے یوں نقل کیا ہے کہ میں ابو عطیہ مالک بن عامر سے ملا۔
42. باب {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى}
حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ " حَبَسُونَا عَنْ صَلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ أَجْوَافَهُمْ نَارًا "شَكَّ يَحْيَى.
Narrated By 'Ali : On the day of Al-Khandaq (the battle of the Trench). the Prophet said "They (i.e. pagans) prevented us from offering the middle (the Best) Prayer till the sun had set. May Allah fill their graves, their houses (or their bodies) with fire."
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن ہارون نے۔ کہا ہم کو ہشام بن حسان نے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے عبیدہ بن عمرو بن سے۔ انہوں نے حضرت علیؓ سے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دوسری سند مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشر بن حکم نے بیان کیاکہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے کہا ہم سے ہشام بن حسان نے کہا ہم سے محمد بن سیرین نے انہوں نے عبیدہ بن عمرو سلمانی سے انہوں نے حضرت علیؓ سے کہ نبیﷺ نے جنگ خندق کے دن فرمایا ان کافروں نے ہم کو بیچ والی نماز نہ پڑھنے دی سورج ڈوب گیا۔ اللہ تعالٰی ان کی قبروں اور گھروں اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ یحیٰی راوی کو شک ہے۔
43. باب {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ}
أى مُطِيعِينَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.
Narrated By Zaid bin Arqam : We used to speak while in prayer. One of us used to speak to his brother (while in prayer) about his need, till the Verse was revealed:
"Guard strictly the (five obligatory) prayers, especially the middle (the Best) (Asr) Prayer and stand before Allah with obedience (and not to speak to others during the prayers)." Then we were ordered not to speak in the prayers.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان انہوں نے سعید بن ابی خالد سے انہوں نے حارث بن شبیل سے انہوں نے
ابو عمرو (سعد بن اویس) شیبانی سے۔ انہوں نے زید بن ارقمؓ سے انہوں نے کہا( پہلے) ہم نماز پڑھنے میں بات کیا کرتے تھے ہم میں سے کسی کو اپنے بھائی سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی (تو نماز ہی میں بات کر لیتا) یہاں تک کہ یہ آیت اتری حَافِظُوا عَلَی الصَّلَواتِ اس وقت ہم کو نماز میں خاموش رہنے کا حکم ہوا۔
44. باب قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ }الآية
وَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ {كُرْسِيُّهُ} عِلْمُهُ يُقَالُ {بَسْطَةً} زِيَادَةً وَفَضْلاً {أَفْرِغْ} أَنْزِلْ {وَلاَ يَئُودُهُ } لاَ يُثْقِلُهُ. آدَنِي أَثْقَلَنِي. وَالآدُ وَالأَيْدُ الْقُوَّةُ، السِّنَةُ نُعَاسٌ. {يَتَسَنَّهْ} يَتَغَيَّرْ. {فَبُهِتَ } ذَهَبَتْ حُجَّتُهُ. {خَاوِيَةٌ} لاَ أَنِيسَ فِيهَا. عُرُوشُهَا أَبْنِيَتُهَا. نُنْشِرُهَا نُخْرِجُهَا {إِعْصَارٌ} رِيحٌ عَاصِفٌ تَهُبُّ مِنَ الأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ كَعَمُودٍ فِيهِ نَارٌ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {صَلْدًا} لَيْسَ عَلَيْهِ شَىْءٌ. وَقَالَ عِكْرِمَةُ {وَابِلٌ} مَطَرٌ شَدِيدٌ. الطَّلُّ النَّدَى، وَهَذَا مَثَلُ عَمَلِ الْمُؤْمِنِ. {يَتَسَنَّهْ} يَتَغَيَّرْ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاَةِ الْخَوْفِ قَالَ يَتَقَدَّمُ الإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمِ الإِمَامُ رَكْعَةً، وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا، فَإِذَا صَلَّوُا الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلاَ يُسَلِّمُونَ، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَيَقُومُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الإِمَامُ، فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ هُوَ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالاً، قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا. قَالَ مَالِكٌ قَالَ نَافِعٌ لاَ أُرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذَلِكَ إِلاَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By Nafi' : Whenever 'Abdullah bin 'Umar was asked about Salat-al-Khauf (i.e. prayer of fear) he said, "The Imam comes forward with a group of people and leads them in a one Rak'a prayer while another group from them who has not prayed yet, stay between the praying group and the enemy. When those who are with the Imam have finished their one Rak'a, they retreat and take the positions of those who have not prayed but they will not finish their prayers with Taslim. Those who have not prayed, come forward to offer a Rak'a with the Imam (while the first group covers them from the enemy). Then the Imam, having offered two Rakat, finishes his prayer. Then each member of the two groups offer the second Rak'a alone after the Imam has finished his prayer. Thus each one of the two groups will have offered two Rakat. But if the fear is too great, they can pray standing on their feet or riding on their mounts, facing the Qibla or not." Nafi added: I do not think that 'Abdullah bin 'Umar narrated this except from Allah's Apostle
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالکؒ نے۔ انہوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمرؓ سے جب کوئی پوچھتا کہ خوف کی نماز کیونکر پڑھیں تو وہ کہتے امام آگے پڑھے اور کچھ لوگ اس کے ساتھ رہیں۔ امام ایک رکعت ان کو پڑھائے اور باقی لوگ ان میں اور دشمن کے بیچ میں کھڑے رہیں۔ وہ نماز نہ پڑھیں۔ جب یہ لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ چکیں تو پیچھے سرک کر ان لوگوں کی جگہ چلے پر جائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ اب وہ لوگ آ جائیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں۔ پھر امام تو اپنی نماز سے فراغت کرے کیونکہ وہ دو رکعت پڑھ چکا۔ اور امام فارغ ہوئے بعد یہ دونوں گروہ کھڑے ہو کر ایک ایک رکعت اپنی پوری کر لے۔ اب ہر گروہ کی دو رکعتیں پوری ہو گئیں۔ اگر اس سے زیادہ خوف ہو (صف بندی کا موقع نہ ملے۔ تلوار چل رہی ہو) تو پاؤں پر کھڑے کھڑے پیدل یا سواری پر رہ کر نماز پڑھ لیں۔ قبلے کی طرف منہ ہو یا اور طرف۔ امام مالکؒ کہتے ہیں نافع نے کہا میں سمجھتا ہوں عبداللہ بن عمرؓ نے یہ رسول اللہﷺ سے نقل کیا۔
45. باب {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا}
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ قُلْتُ لِعُثْمَانَ هَذِهِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} إِلَى قَوْلِهِ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} قَدْ نَسَخَتْهَا الأُخْرَى، فَلِمَ تَكْتُبُهَا قَالَ تَدَعُهَا. يَا ابْنَ أَخِي لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ. قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ نَحْوَ هَذَا.
Narrated By Ibn Az-Zubair : I said to 'Uthman, "This Verse which is in Surat-al-Baqara:
"Those of you who die and leave widows behind... without turning them out." has been abrogated by another Verse. Why then do you write it (in the Qur'an)?" 'Uthman said. "Leave it (where it is), O the son of my brother, for I will not shift anything of it (i.e. the Qur'an) from its original position."
مجھ سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا۔ کہا ہم سے حمید بن اسود اور یزید بن زریع نے دونوں نے کہا ہم سے حبیب بن شہید نے۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے کہ عبداللہ بن زبیرؓ کہتے ہیں۔ میں نے حضرت عثمانؓ سے کہا یہ سورہ بقر کی آیت وَ الَّذِینَ یُتَوَفَّونَ مِنکُم وَیَذَرُونَ اَزوَاجًا ۔ غَیرِ أِخرَاجٍ تک تو دوسری آیت سے منسوخ ہے۔ اس کو تم نے (مصحف میں) کاہے کو لکھوایا ہے چھوڑ کیوں نہیں دیا۔ انہوں نے کہا میرے بھتیجے ! میں کسی آیت کو اس کے ٹھکانے سے بدلنے والا نہیں۔ حمید نے کہا یا کچھ ایسا ہی جواب دیا۔
46. باب {وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى}
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي}"
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "We have more right to be in doubt than Abraham when he said, 'My Lord! Show me how You give life to the dead.' He said, 'Do you not believe?' He said, 'Yes (I believe) but to be stronger in Faith.'" (2.260)
ہم سے احمد بن ابی صالح نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے کہا مجھ کو یونس نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے ابو سلمہ اور سعید بن مسیببؒ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا (ابراہیم کو اللہ کی قدرت میں شک نہ تھا اگر شک ہوتا تو) ہم کو ابراہیم سے زیادہ شک ہونا تھا۔ جب ابراہیم نے یہ دعا کی پروردگار مجھ کو دکھلا تو مردوں کو کس طرح جلائیگا۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کیا تجھ کو اس کا یقین نہیں ہے۔ عرض کیا کیوں نہیں (یقین تو ہے پر دیکھ لینے سے) دل کو خوب اطمینان ہو جائے گا۔
47. باب قَوْلِهِ {أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ} إِلَى قَوْلِهِ {تَتَفَكَّرُونَ}
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،. قَالَ وَسَمِعْتُ أَخَاهُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ يَوْمًا لأَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَ تَرَوْنَ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ {أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ} قَالُوا اللَّهُ أَعْلَمُ. فَغَضِبَ عُمَرُ فَقَالَ قُولُوا نَعْلَمُ أَوْ لاَ نَعْلَمُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي نَفْسِي مِنْهَا شَىْءٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ عُمَرُ يَا ابْنَ أَخِي قُلْ وَلاَ تَحْقِرْ نَفْسَكَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ضُرِبَتْ مَثَلاً لِعَمَلٍ. قَالَ عُمَرُ أَىُّ عَمَلٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعَمَلٍ. قَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ غَنِيٍّ يَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ لَهُ الشَّيْطَانَ فَعَمِلَ بِالْمَعَاصِي حَتَّى أَغْرَقَ أَعْمَالَهُ. {فَصُرْهُنَّ} قَطِّعْهُنَّ.
Narrated By Ubaid bin Umair : Once 'Umar (bin Al-Khattab) said to the companions of the Prophet "What do you think about this Verse: "Does any of you wish that he should have a garden?" They replied, "Allah knows best." 'Umar became angry and said, "Either say that you know or say that you do not know!" On that Ibn Abbas said, "O chief of the believers! I have something in my mind to say about it." Umar said, "O son of my brother! Say, and do not under estimate yourself." Ibn Abbas said, "This Verse has been set up as an example for deeds." Umar said, "What kind of deeds?" Ibn Abbas said, "For deeds." Umar said, "This is an example for a rich man who does goods out of obedience of Allah and then Allah sends him Satan whereupon he commits sins till all his good deeds are lost."
ہم سے ابراہیم بن موسٰی نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام نے انہوں نے ابن جریج سے کہا میں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے سنا وہ ابن عباسؓ سے روایت کرتے تھے۔ ابن جریج نے کہا میں نے ابن ابی ملیکہ کے بھائی ابو بکر بن ابی ملیکہ سے بھی سنا۔ وہ عبید بن عمیر سے روایت کرتے تھے کہ حضرت عمرؓ نے ایک دن نبیﷺ کے صحابہ سے پوچھا تم جانتے ہو یہ آیت اَ یَوَدُّ اَحَدُکُم أن تَکُونَ لَہُ جَنَّۃٌ اس سے کیا مطلب۔ انہوں نے کہا اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ غصے ہوئے اور کہنے لگے۔ صاف کہو ہم کو معلوم ہے یا معلوم نہیں ہے۔اس وقت ابن عباسؓ نے کہا امیر المؤمنین میرے دل میں ایک بات آئی ہے حضرت عمرؓ نے کہا میرے بھتیجے بیان کر تو اپنے تئیں حقیر مت سمجھ۔ ابن عباسؓ نے کہا یہ اللہ تعالٰی نے عمل کی مثال بیان کی ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کون سے عمل کی۔ ابن عباسؓ نے کہا عمل کی (بس اور کیا کہوں) حضرت عمرؓ نے کہا یہ ایک مالدار شخص کی مثال ہے جو اللہ تعالٰی کی اطاعت میں نیک عمل کرتا رہتا ہے پھر اللہ شیطان کو اس پر غالب کر دیتا ہے وہ گناہوں میں مصروف ہو جاتا ہے اور اس کے (اگلے) نیک اعمال سب کے سب فنا ہو جاتے ہیں۔
48. باب {لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا}
يُقَالُ أَلْحَفَ عَلَىَّ وَأَلَحَّ عَلَىَّ، وَأَحْفَانِي بِالْمَسْأَلَةِ، {فَيُحْفِكُمْ} يُجْهِدْكُمْ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيَّ، قَالاَ سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلاَ اللُّقْمَةُ وَلاَ اللُّقْمَتَانِ. إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي يَتَعَفَّفُ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ يَعْنِي قَوْلَهُ {لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا}"
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The poor person is not the one for whom a date or two or a morsel or two (of food is sufficient but the poor person is he who does not (beg or) ask the people (for something) or show his poverty at all. Recite if you wish, (Allah's Statement): "They do not beg of people at all." (2.273)
ہم سے سعید بن ابی مریم نےبیان کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر نے کہا مجھ سے شریک بن ابی نمر نے کہا عطاءبن یسار اور عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری دونوں کہتے تھےہم نے ابوہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ نبیﷺ نے فرمایا مسکین وہ نہیں جو ایک کھجور دو کھجور یا ایک لقمہ دو لقمہ لے کر چل دیتا ہے۔ مسکین (جس کا ذکر اس آیت میں ہے) وہ ہے جو سوال سے بچتا ہو۔ مسکین کا مطلب تم سمجھنا چاہو تو یہ آیت لَا یَسئَلُونَ النَّاسَ أِلحَافًا پڑھو۔
49. باب {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا}
الْمَسُّ الْجُنُونُ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
Narrated By 'Aisha : When the Verses of Surat-al-Baqara regarding usury (i.e. Riba) were revealed, Allah's Apostle recited them before the people and then he prohibited the trade of alcoholic liquors.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا۔ کہا ہم سے والد نے۔ کہا ہم سے اعمش نے۔ کہا ہم سے مسلم نے انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا جب سورہ بقرہ کی اخیر آیتیں سود کے باب میں اتریں تو رسول اللہﷺ نے لوگوں کو سنا دیں۔ اس کے بعد شراب کی سوداگری بھی حرام کی۔