30. باب قَوْلِهِ: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَى الظَّالِمِينَ}
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَتَاهُ رَجُلاَنِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالاَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ ضُيِّعُوا، وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ فَقَالَ يَمْنَعُنِي أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ دَمَ أَخِي. فَقَالاَ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ } فَقَالَ قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، وَكَانَ الدِّينُ لِلَّهِ، وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللَّهِ
Narrated By Nafi' : During the affliction of Ibn Az-Zubair, two men came to Ibn 'Umar and said, "The people are lost, and you are the son of 'Umar, and the companion of the Prophet, so what forbids you from coming out?" He said, "What forbids me is that Allah has prohibited the shedding of my brother's blood." They both said, "Didn't Allah say, 'And fight then until there is no more affliction?" He said "We fought until there was no more affliction and the worship is for Allah (Alone while you want to fight until there is affliction and until the worship become for other than Allah."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سےعبدالوھاب نے کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے۔ انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے جب عبداللہ بن زبیرؓ کا فتنہ ہوا ان پر حجاج ظالم نے حملہ کیا۔ مکہ کا محاصرہ کیا۔ دو شخص (علاء بن عرار، حبان سلمی) ان کے پاس آئے۔ کہنے لگے تم دیکھتے ہو لوگ (آپس میں لڑائیوں سے) تباہ ہو گئے۔ (یا تم دیکھتے ہو انہوں نے کیا کر رکھا ہے) اور تم عمر فاروقؓ کے بیٹے اور نبیﷺ کے صحابہ ہو ایسے وقت میں نکلتے کیوں نہیں (اس فساد کو رفع کرو)۔ انہوں نے کہا میں اس وجہ سے نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ نے بھائی (مسلمان) کا خون حرام کیا ہے۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ تو یوں فرماتا ہے کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہےانہوں نے کہا ہم لوگ تو یہاں تک لڑے کہ فتنہ یعنی شرک اور کفر باقی نہیں رہا۔ اور اللہ ہی کا سچا دین رہ گیا۔ اور تم لوگ اس لئے لڑتے ہو کہ فتنہ اور فساد پیدا ہو(اسلام ضعیف ہو اور کافروں کو قوت ہو) اور خدا کے سوا دوسروں کا حکم سنا جائے۔
وَزَادَ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي فُلاَنٌ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَحُجَّ عَامًا وَتَعْتَمِرَ عَامًا، وَتَتْرُكَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ عَلِمْتَ مَا رَغَّبَ اللَّهُ فِيهِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ إِيمَانٍ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَالصَّلاَةِ الْخَمْسِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ. قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلاَ تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا} {إِلَى أَمْرِ اللَّهِ} {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ} قَالَ فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ الإِسْلاَمُ قَلِيلاً، فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ إِمَّا قَتَلُوهُ، وَإِمَّا يُعَذِّبُوهُ، حَتَّى كَثُرَ الإِسْلاَمُ فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ
Narrated Nafi (through another group of sub-narrators): A man came to Ibn 'Umar and said, "O Abu Abdur Rahman! What made you perform Hajj in one year and Umra in another year and leave the Jihad for Allah' Cause though you know how much Allah recommends it?" Ibn 'Umar replied, "O son of my brother! Islam is founded on five principles, i.e. believe in Allah and His Apostle, the five compulsory prayers, the fasting of the month of Ramadan, the payment of Zakat, and the Hajj to the House (of Allah)." The man said, "O Abu Abdur Rahman! Won't you listen to why Allah has mentioned in His Book: 'If two groups of believers fight each other, then make peace between them, but if one of then transgresses beyond bounds against the other, then you all fight against the one that transgresses. (49.9) and: "And fight them till there is no more affliction (i.e. no more worshiping of others along with Allah)." Ibn 'Umar said, "We did it, during the lifetime of Allah's Apostle when Islam had only a few followers. A man would be put to trial because of his religion; he would either be killed or tortured. But when the Muslims increased, there was no more afflictions or oppressions."
عثمان بن صالح نے عبداللہ بن وہب سے اتنا زیادہ کیا۔ انہوں نے کہا مجھ سے فلاں شخص (عبداللہ بن لہیعہؓ) اور حیوہ بن شریح نے بیان کیا۔انہوں نے بکر بن عمرو معافری ان سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے نافع سے انہوں نے کہا ایک شخص (حکیم) عبداللہ بن عمرؓ کے پاس آیا کہنے لگا اے ابو عبدالرحمٰن تم کو کیا ہو گیا ہے ایک سال حج کرتے ہو اور ایک سال عمرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا تم نے بالکل چھوڑ دیا۔ اور تم جانتے ہو کہ اللہ نے جہاد کی (کیسی فضیلت بیان کر کے) اس کی رغبت دلائی ہے۔ انہوں نے کہا میرے بھتیجے! اسلام کی بنا پانچ چیزوں پر ہے۔ اللہ اور رسولؐ اللہ پر ایمان لانا، پانچ نمازیں ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا، زکوۃ دینا، حج کرنا۔ پھر وہ کہنے لگا ابو عبدالرحمٰن تم نے (سورہ الحجرات کی) یہ آیت نہیں سنی کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل جول کرا دو۔ اگر ایک گروہ نہ مانے دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے گروہ سے اس وقت تک لڑو جب تک وہ اللہ کا حکم مان لے۔ اور سورہ بقرہ کی یہ آیت کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔ عبداللہ بن عمرؓ نے کہا ہم لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں یہ کام کر چکے ۔ اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے (کافروں کا ہجوم تھا) تو کافر لوگ مسلمانوں کا دین خراب کرتے تھے۔ کہیں مسلمانوں کو مار ڈالتے، کہیں تکلیف دیتےتھے۔ یہاں تک کہ مسلمان بہت ہو گئےفتنہ جاتا رہا۔
قَالَ فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ قَالَ أَمَّا عُثْمَانُ فَكَأَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكَرِهْتُمْ أَنْ تَعْفُوا عَنْهُ، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَتَنُهُ. وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ هَذَا بَيْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ
The man said, "What is your opinion about 'Uthman and 'Ali?" Ibn 'Umar said, "As for 'Uthman, it seems that Allah has forgiven him, but you people dislike that he should be forgiven. And as for 'Ali, he is the cousin of Allah's Apostle and his son-in-law." Then he pointed with his hand and said, "That is his house which you see."
پھر اس شخص نے پوچھا اچھا یہ تو کہو علیؓ اور عثمانؓ کے باب میں تمھارا کیا اعتقاد ہے۔ انہوں نے کہا عثمانؓ کا قصور اللہ نے معاف کو دیا لیکن تم اس معافی کو اچھا نہیں سمجھتے۔ اب رہے علیؓ وہ تو رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی اور آپؐ کے داماد تھے۔ اور ہاتھ کے اشارے سے بتلایا یہ دیکھو ان کا گھر آپﷺ کے گھر سے ملا ہوا ہے۔
31. باب قَوْلِهِ {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ}
التَّهْلُكَةُ وَالْهَلاَكُ وَاحِدٌ
حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} قَالَ نَزَلَتْ فِي النَّفَقَةِ.
Narrated By Abu Wail : Hudhaifa said, "The Verse:
"And spend (of your wealth) in the Cause of Allah and do not throw yourselves in destruction," (2.195) was revealed concerning spending in Allah's Cause (i.e. Jihad)."
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا۔ کہا ہم کو نضر بن شمائل نے۔ کہا ہم سے شعبہ نے۔ انہوں نے سلیمان سے۔ کہا میں نے ابو وائل سے سنا۔ انہوں نے حذیفہ یمان سے انہوں نے کہا وَ اَنۡفِقُوا فِی سَبِیلِ اللہِ وَ لَا تُلۡقُوا بِأیۡدِیکُمۡ أِلَی التَّھۡلُکَۃِ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے باب میں اتری۔
32. باب قَوْلِهِ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ}
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ، قَالَ قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ـ يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ ـ فَسَأَلْتُهُ عَنْ فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ فَقَالَ حُمِلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ قَدْ بَلَغَ بِكَ هَذَا، أَمَا تَجِدُ شَاةً ". قُلْتُ لاَ. قَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، وَاحْلِقْ رَأْسَكَ ". فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهْىَ لَكُمْ عَامَّةً
Narrated By 'Abdullah bin Maqal : I sat with Ka'b bin Ujra in this mosque, i.e. Kufa Mosque, and asked him about the meaning of: "Pay a ransom (i.e. Fidya) of either fasting or - - - - (2.196) He said, "I was taken to the Prophet while lice were falling on my face. The Prophet said, 'I did not think that your trouble reached to such an extent. Can you afford to slaughter a sheep (as a ransom for shaving your head)?' I said, 'No.' He said, 'Then fast for three days, or feed six poor persons by giving half a Sa of food for each and shave your head.' So the above Verse was revealed especially for me and generally for all of you."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا۔ کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن اصبہانی سے۔ انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن معقل سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس مسجد یعنی کوفہ کی مسجد میں کعب بن عجرہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے ان سے یہ آیت پوچھی فِدۡیَۃٌ مِنۡ صِیَامٍ۔ انہوں نے کہا لوگ مجھ کو نبیﷺ کے پاس لے گئےاس وقت میرے سر ( میں اتنی جوئیں ہو گئیں تھیں کہ) منہ پر جوئیں گر آ رہی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا میں یہ نہیں سمجھا تھا کہ تجھ کو ایسی سخت تکلیف ہو گئی ہے۔ اچھا تجھ کو ایک بکری کا مقدور ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ ہر مسکین کو آدھا صاع میوے یا اناج کا دیدے۔ اور اپنا سر منڈا ڈال۔ کعبؐ نے کہا یہ خاص میرے باب میں اتری۔ مگر اس کا حکم تو سب کیلئے عام ہے۔
33. باب {فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ}
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.قَالَ مُحَمدٌ يُقَال: إِنَّهُ عُمَر.
Narrated By 'Imran bin Husain : The Verse of Hajj-at-Tamatu was revealed in Allah's Book, so we performed it with Allah's Apostle, and nothing was revealed in Qur'an to make it illegal, nor did the Prophet prohibit it till he died. But the man (who regarded it illegal) just expressed what his own mind suggested.
ہم سے مسدد نے بیان کیا۔ کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے عمران بن ابی بکرؓ سے۔ کہا ہم سے ابو رجاء نےبیان کیا انہوں نے عمران بن حصینؓ سے انہوں نے کہا تمتع کی آیت اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اتری۔ اور ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ تمتع کیا۔ (عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا پھر حج کیا۔ اس کے بعد کوئی آیت قرآن کی ایسی نہیں اتری جس سے تمتع منع ہوا۔ اور رسول اللہﷺ نے بھی منع نہیں کیا یہاں تک کہ آپؐ کی وفات ہو گئی۔ اب ایک شخص (حضرت عمرؓ) اپنی رائے سے جو چاہا وہ کہنے لگا۔
34. باب {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ}
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ عُكَاظٌ وَمَجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَأَثَّمُوا أَنْ يَتَّجِرُوا فِي الْمَوَاسِمِ فَنَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ} فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ
Narrated By Ibn 'Abbas : 'Ukaz, Mijanna and Dhul-Majaz were markets during the Pre-Islamic Period. They (i.e. Muslims) considered it a sin to trade there during the Hajj time (i.e. season), so this Verse was revealed: "There is no harm for you if you seek of the Bounty of your Lord during the Hajj season." (2.198)
مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا۔ کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی انہوں نے عمرو سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا عکاظ اور مجنہ اور ذوالمجاز جاہلیت کے زمانے کی بازاریں تھیں۔ پھر مسلمانوں نے حج کے موسم میں سوداگری کرنا برا سمجھا اس وقت یہ آیت اتری لَیسَ عَلَیکُم جُنَاحٌ أن تَبتَغُوا فَضلًا مِن رَبِّکُمۡ یعنی حج کے موسم میں اپنے مالک کا فضل ڈھونڈنے (تجارت کرنے) میں کوئی گناہ نہیں۔
35. باب {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَاتٍ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ، ثُمَّ يَقِفَ بِهَا ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}
Narrated By 'Aisha : The Quraish people and those who embraced their religion, used to stay at Muzdalifa and used to call themselves Al-Hums, while the rest of the Arabs used to stay at 'Arafat. When Islam came, Allah ordered His Prophet to go to 'Arafat and stay at it, and then pass on from there, and that is what is meant by the Statement of Allah: "Then depart from the place whence all the people depart..." (2.199)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن حازم نے۔ کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے انہوں نے اپنے والد سے۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا قریش کے لوگ اور جو ان کے طریق پر چلتے تھے (عرفات کے بدل) مزدلفہ میں وقوف کرتے (ٹھہرا کرتے) ان لوگوں کو حمس کہتے۔ باقی عرب لوگ عرفات کا وقوف کرتے۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو اللہ نے اپنے نبیﷺ کو یہ حکم دیا کہ عرفات جائیں اور وہاں ٹھہریں۔ پھر وہاں سے لوٹ کر (مزدلفہ میں) آئیں۔ ثُمَّ أ فِیضُوا مِن حَیثُ أفَاضَ النَّاسُ سے یہی مراد ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ يَطَوَّفُ الرَّجُلُ بِالْبَيْتِ مَا كَانَ حَلاَلاً حَتَّى يُهِلَّ بِالْحَجِّ، فَإِذَا رَكِبَ إِلَى عَرَفَةَ فَمَنْ تَيَسَّرَ لَهُ هَدِيَّةٌ مِنَ الإِبِلِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الْغَنَمِ، مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ ذَلِكَ أَىَّ ذَلِكَ شَاءَ، غَيْرَ إِنْ لَمْ يَتَيَسَّرْ لَهُ فَعَلَيْهِ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ، وَذَلِكَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَإِنْ كَانَ آخِرُ يَوْمٍ مِنَ الأَيَّامِ الثَّلاَثَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَنْطَلِقْ حَتَّى يَقِفَ بِعَرَفَاتٍ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ يَكُونَ الظَّلاَمُ، ثُمَّ لِيَدْفَعُوا مِنْ عَرَفَاتٍ إِذَا أَفَاضُوا مِنْهَا حَتَّى يَبْلُغُوا جَمْعًا الَّذِي يُتَبَرَّرُ فِيهِ، ثُمَّ لِيَذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا، أَوْ أَكْثِرُوا التَّكْبِيرَ وَالتَّهْلِيلَ قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا ثُمَّ أَفِيضُوا، فَإِنَّ النَّاسَ كَانُوا يُفِيضُونَ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} حَتَّى تَرْمُوا الْجَمْرَةَ.
Narrated By Ibn 'Abbas : A man who wants to perform the Hajj (from Mecca) can perform the Tawaf around the Ka'ba as long as he is not in the state of Ihram till he assumes the Ihram for Hajj. Then, if he rides and proceeds to 'Arafat, he should take a Hadi (i.e. animal for sacrifice), either a camel or a cow or a sheep, whatever he can afford; but if he cannot afford it, he should fast for three days during the Hajj before the day of 'Arafat, but if the third day of his fasting happens to be the day of 'Arafat (i.e. 9th of Dhul-Hijja) then it is no sin for him (to fast on it). Then he should proceed to 'Arafat and stay there from the time of the 'Asr prayer till darkness falls. Then the pilgrims should proceed from 'Arafat, and when they have departed from it, they reach Jam' (i.e. Al-Muzdalifa) where they ask Allah to help them to be righteous and dutiful to Him, and there they remember Allah greatly or say Takbir (i.e. Allah is Greater) and Tahlil (i.e. None has the right to be worshipped but Allah) repeatedly before dawn breaks. Then, after offering the morning (Fajr) prayer you should pass on (to Mina) for the people used to do so and Allah said:
"Then depart from the place whence all the people depart. And ask for Allah's Forgiveness. Truly! Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful." (2.199) Then you should go on doing so till you throw pebbles over the Jamra.
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے۔ کہا مجھ کو کریب نے خبر دی۔ انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا (جو کوئی تمتع کر کے عمرہ کا احرام کھول ڈالے) وہ جب تک احرام نہ باندھے بیت اللہ کا (نفل) طواف کر تا رہے۔ جب حج کا احرام باندھے اور عرفات جانے کو سوار ہو تو (حج کے بعد) جو قربانی ہو سکےوہ کرے۔ اونٹ، گائے یا بکری۔ ان تینوں میں سے جو ہو سکے۔ اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے۔ عرفہ کے دن سے پہلے اگر اخیر روزہ عرفہ کے دن آ جائےتب بھی کوئی قباحت نہیں۔ خیر مکہ سے چل کر عرفات کو جائے۔ وہاں عصر کی نماز سے رات کی تاریکی ہو ئے تک ٹھہرے۔ پھر عرفات سے اس وقت لوٹے جب دوسرے لوگ لوٹیں اور سب لوگوں کے ساتھ رات مزدلفہ میں گزارے۔ اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور تکبیر و تہلیل بہت کرتا رہےصبح ہونے تک۔ صبح کو لوگوں کے ساتھ مزدلفہ سے (منیٰ کو )لوٹے جیسے اللہ نے فرمایا ہے ثُمَّ أ فِیضُوا مِن حَیثُ أفَاضَ النَّاسُ، وَستَغفِرُوا اللہَ انَّ اللہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ۔ یعنی کنکریاں مارنے تک اسی طرح اللہ کی یاد اور تکبیر و تہلیل بہت کرتے رہو۔
36. باب {وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً}
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ "
Narrated By Anas : The Prophet used to say, "O Allah! Our Lord! Give us in this world that, which is good and in the Hereafter that, which is good and save us from the torment of the Fire." (2.201)
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا۔ کہا ہم سے عبدالوارث نے انہوں نے عبدالعزیز سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے۔ انہوں نے کہا نبیﷺ یوں دعا کرتے تھے۔اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنۃً وَ فِی الآخِرَۃِ حَسَنۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
37. باب {وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ}
وَقَالَ عَطَاءٌ النَّسْلُ الْحَيَوَانُ
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، تَرْفَعُهُ قَالَ " أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الأَلَدُّ الْخَصِمُ ".وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By 'Aisha : The Prophet said, "The most hated man in the Sight of Allah is the one who is the most quarrelsome."
ہم سے قبیصہ بن عقبہ بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے۔ کہا مجھ سے ابن جریج نے۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے مرفوعًا روایت کی۔ سب لوگوں میں اللہ کو وہ شخص زیادہ نہ پسند ہے جو ألَدُّ الخِصَامِ (بڑا لڑنے والا جھگڑالو) ہو۔ دوسری سند اور عبداللہ بن ولید نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہا مجھ سے ابن جریج نے۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا وہی حدیث جو اوپر گزری۔
38. باب {أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ }الآية
حَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ {حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا} خَفِيفَةً، ذَهَبَ بِهَا هُنَاكَ، وَتَلاَ {حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ}فَلَقِيتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ
Narrated By Ibn Abu Mulaika : Ibn 'Abbas recited: "(Respite will be granted) until when the Apostles gave up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people). There came to them Our Help..." (12.110) reading Kudhibu without doubling the sound 'dh', and that was what he understood of the Verse. Then he went on reciting: "...even the Apostle and those who believed along with him said: When (will come) Allah's Help? Yes, verily, Allah's Help is near." (2.214)
Then I met 'Urwa bin Az-Zubair and I mentioned that to him.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام نے خبر دی انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے کہا میں نے ابن ابی میلکہ سے سنا وہ کہتے تھے ابن عباسؓ نے (سورہ یوسف میں) یوں پڑھا حَتّٰی اِذَا استَئسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا انَّھُم قَد کُذِبُوا۔ اور اس آیت کا مطلب وہی سمجھے جو اس آیت کا ہے (یہ آیت سورہ بقرہ کی پڑھی) حَتَّی یَقُولَ الرَّسُولُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ مَتَی نَصرُاللہِ ألَا نَصرُاللہِ قَرِیبٌ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں۔ پھر میں عروہ بن زبیر سے ملا۔ میں نے ان سے ابن عباسؓ کی تفسیر بیان کی۔
فَقَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَعَاذَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا وَعَدَ اللَّهُ رَسُولَهُ مِنْ شَىْءٍ قَطُّ إِلاَّ عَلِمَ أَنَّهُ كَائِنٌ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلِ الْبَلاَءُ بِالرُّسُلِ حَتَّى خَافُوا أَنْ يَكُونَ مَنْ مَعَهُمْ يُكَذِّبُونَهُمْ، فَكَانَتْ تَقْرَؤُهَا {وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا} مُثَقَّلَةً.
He said, "'Aisha said, 'Allah forbid! By Allah, Allah never promised His Apostle anything but he knew that it would certainly happen before he died. But trials were continuously presented before the Apostles till they were afraid that their followers would accuse them of telling lies. So I used to recite:
"Till they (come to) think that they were treated as liars." reading 'Kudh-dhibu with double 'dh.'
انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ تو کہتی تھیں اللہ کی پناہ پیغمبر تو جو وعدہ اللہ نے ان سے کیا ہے اس کو سمجھتے ہیں کہ وہ مرنے سے پہلے پورا ہو گا۔ بات یہ ہے کہ پیغمبروں کی آزمائش برابر ہوتی رہی ہے (مدد آنے میں اتنی دیر ہوئی) کہ پیغمبر ڈر گئے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی امت کے لوگ ان کو جھوٹا سمجھ لیں۔ تو حضرت عائشہؓ اس آیت کو (سورہ یوسف کی) یوں پڑھتی تھیں قَد کُذِّبُوا تشدید سے۔
39. باب {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ }
حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ، فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا، فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَانٍ قَالَ تَدْرِي فِيمَا أُنْزِلَتْ. قُلْتُ لاَ. قَالَ أُنْزِلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا. ثُمَّ مَضَى
Narrated By Nafi' : Whenever Ibn 'Umar recited the Qur'an, he would not speak to anyone till he had finished his recitation. Once I held the Qur'an and he recited Surat-al-Baqara from his memory and then stopped at a certain Verse and said, "Do you know in what connection this Verse was revealed? " I replied, "No." He said, "It was revealed in such-and-such connection."
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم کو نضر بن شمیل نے خبر دی۔ کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے۔ انہوں نے نافع سے انہوں نے کہا ابن عمرؓ جب قرآن شریف کی تلاوت کرتے تھے تو تلاوت سے فارغ ہوئے تک کسی سے بات نہ کرتے ایک دن میں ان کے پاس گیا وہ سورہ بقرہ (یاد سے) پڑھ رہے تھےجب اس آیت پر پہنچے نِسَاءُکُم حَرثٌ لَکُم تو مجھ سے کہنے لگے کیا تو جانتا ہے یہ آیت کس باب میں اتری۔ میں نے کہا نہیں۔ ابن عمرؓ نے کہا فلاں فلاں باب میں اتری پھر تلاوت کرنے لگے۔
وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، {فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} قَالَ يَأْتِيهَا فِي. رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
Ibn 'Umar then resumed his recitation. Nafi added regarding the Verse: "So go to your tilth when or how you will" Ibn 'Umar said, "It means one should approach his wife in..."
اور عبد الصمد بن عبدالوارث سے روایت ہے کہ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا۔ کہا مجھ سے ایوب نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا اس آیت سے یہ مراد ہے کے مرد عورت سے (دبر میں) جماع کرے۔ اس حدیث کو محمد بن یحیٰی بن دعید قطان نے بھی اپنے والد سے۔ انہوں نے عبیداللہ سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے روایت کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ إِذَا جَامَعَهَا مِنْ وَرَائِهَا جَاءَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ. فَنَزَلَتْ {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}
Narrated By Jabir : Jews used to say: "If one has sexual intercourse with his wife from the back, then she will deliver a squint-eyed child." So this Verse was revealed:"Your wives are a tilth unto you; so go to your tilth when or how you will." (2.223)
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے محمد بن منکدر سےانہوں نے کہا میں نے جابرؓ سے سنا وہ کہتے تھےیہودیوں کا یہ خیال تھا کہ جب مرد عورت کے پیچھے کی طرف سے اس کے فرج میں جماع کرے۔ تو لڑکا بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری نِسَاءُکُم حَرثٌ لَکُم فَأۡ تُوا حَرثَکُم أنِّی شِئتُم