- احادیثِ نبوی ﷺ

 

1234Last ›

10. باب قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ‏}‏

الْقَوَاعِدُ أَسَاسُهُ، وَاحِدَتُهَا قَاعِدَةٌ، وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ وَاحِدُهَا قَاعِدٌ‏.

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ قَوْمَكِ بَنَوُا الْكَعْبَةَ وَاقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ‏"‏ لَوْلاَ حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ اسْتِلاَمَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلاَّ أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) Allah's Apostle said, "Don't you see that when your people built the Ka'ba, they did not build it on all Abraham's foundations?" I said, "O Allah's Apostle! Why don't you rebuild it on Abraham's foundations?" He said, "Were your people not so close to (the period of Heathenism, i.e. the Period between their being Muslims and being infidels), I would do so." The sub-narrator, 'Abdullah bin 'Umar said, "'Aisha had surely heard Allah's Apostle saying that, for I do not think that Allah's Apostle left touching the two corners of the Ka'ba facing Al-Hijr except because the Ka'ba was not built on all Abraham's foundations."

ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالکؒ نے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے کہ عبداللہ بن محمد بن ابی بکر نے حضرت عائشہؓ سے نقل کر کے یہ حدیث عبداللہ بن عمرؓ سے بیان کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عائشہؓ! تجھے کیا معلوم نہیں تیری قوم (قریش) نے جب کعبہ کو (اپنے وقت میں) بنایا تو ابراہیمؑ کی بنیادوں سے چھوٹا کر دیا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ اس کو ابراہیمؑ کی بنیادوں پر پورا کیوں نہیں کر دیتے ۔ آپؐ نےفرمایا (میں ایسا کرتا) مگر تیری قوم کا کفر کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے۔ عبداللہ بن عمرؓ نے یہ حدیث سن کر کہا اگر حضرت عائشہؓ نے یہ حدیث رسول اللہﷺ سے سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں یہی وجہ تھی کہ رسول اللہﷺ ان کونوں کا جو حطیم کے پاس ہیں بوسہ نہیں لیتے تھےکیونکہ وہ کونے اس مقام پر نہ تھے جہاں پر حضرت ابراہیمؑ نے بنیاد رکھی تھی۔

11. باب ‏{‏قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا‏}‏

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لأَهْلِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلاَ تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا ‏{‏آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ‏}‏ الآيَةَ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The people of the Scripture (Jews) used to recite the Torah in Hebrew and they used to explain it in Arabic to the Muslims. On that Allah's Apostle said, "Do not believe the people of the Scripture or disbelieve them, but say: "We believe in Allah and what is revealed to us." (2.136)

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے عثمان بن عمرؓ نے کہا ہم کو علی بن مبارک نے خبر دیانہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلمہؓ سے انہوں ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا اہل کتاب (یہودی لوگ) تورات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور اس کا ترجمہ عربی زبان میں مسلمانوں کو سمجھاتے (علوم نہیں ترجمے میں کیا کیا تصرف کرتے) آخر رسول اللہﷺ نے (مسلمانوں سے) فرمایا تم اہل کتاب کو نہ سچا کہو اور نہ جھوٹا کہو۔ اور یوں کہو آمَنَّا بِاللہ ِوَمَاأُنۡزِلَ أِلَیۡنَا ۔ الآیہ

12. باب ‏{‏سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلاَّهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ }‏

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، سَمِعَ زُهَيْرًا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَإِنَّهُ صَلَّى ـ أَوْ صَلاَّهَا ـ صَلاَةَ الْعَصْرِ، وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ صَلَّى مَعَهُ، فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ وَهُمْ رَاكِعُونَ قَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ مَكَّةَ، فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَكَانَ الَّذِي مَاتَ عَلَى الْقِبْلَةِ قَبْلَ أَنْ تُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَيْتِ رِجَالٌ قُتِلُوا لَمْ نَدْرِ مَا نَقُولُ فِيهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ

Narrated By Al-Bara : The Prophet prayed facing Bait-ulMaqdis (i.e. Jerusalem) for sixteen or seventeen months but he wished that his Qibla would be the Ka'ba (at Mecca). (So Allah Revealed (2.144) and he offered 'Asr prayers(in his Mosque facing Ka'ba at Mecca) and some people prayed with him. A man from among those who had prayed with him, went out and passed by some people offering prayer in another mosque, and they were in the state of bowing. He said, "I, (swearing by Allah,) testify that I have prayed with the Prophet facing Mecca." Hearing that, they turned their faces to the Ka'ba while they were still bowing. Some men had died before the Qibla was changed towards the Ka'ba. They had been killed and we did not know what to say about them (i.e. whether their prayers towards Jerusalem were accepted or not). So Allah revealed: "And Allah would never make your faith (i.e. prayer) to be lost (i.e. your prayers offered (towards Jerusalem). Truly Allah is Full of Pity, Most Merciful towards mankind." (2.143)

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا انہوں نے زہیر سے سنا انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے براء بن عازب سے انہوں نے کہانبیﷺ نے (مدینہ آکر) بیت المقدس کی طرف سولہ مہینے تک نماز پرھی۔ لیکن یہ آپؐ کو پسند تھا کہ آپؐ کا قبلہ خانہ کعبہ کی طرف ہو جائے۔ (حکم الہی کے منتظر تھے) ایک بار ایسا ہوا (قبلہ بدلتے ہی) آپؐ نے عصر کی نماز (خانہ کعبہ کی طرف) پڑھی۔ لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ (اسی طرف)نماز پڑھی۔ان میں سے ایک شخص جو آپؐ کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا (عبداللہ بن عباد بن نہیک) دوسری مسجد والوں پر سے گزرا وہ (بیت المقدس کی طرف) نماز پڑھ رہے تھے۔ اس شخص نے نماز ہی میں ان سے کہا خدا گواہ ہی میں نے ابھی نبیﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھی یہ سنتے ہی وہ لوگ نماز ہی میں کعبے کی طرف گھوم گئے (نماز کا اعادہ نہ کیا) اور ایسا ہوا کہ قبلہ بدلنے سے پہلے بہت لوگ شہید ہو چکے ہم لوگوں کو ان کے باب میں شبہ ہوا۔ (کہ ان کی نمازیں قبول ہوئیں یا نہیں) س وقت یہ آیت اتری وَمَا کَانَ اللہُ لِیُضِیۡعَ أِیۡمَانَکُمۡ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَحِیۡمٌ ۔

13. باب قَوْلِهِ تَعَالى: ‏{‏وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا‏}‏

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ ـ وَاللَّفْظُ لِجَرِيرٍ ـ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُدْعَى نُوحٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَبِّ‏.‏ فَيَقُولُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ‏.‏ فَيُقَالُ لأُمَّتِهِ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ‏.‏ فَيَقُولُ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ‏.‏ فَتَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ ‏"‏‏.‏ ‏{‏وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا‏}‏ فَذَلِكَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا‏}‏ وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ‏.‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle said, "Noah will be called on the Day of Resurrection and he will say, 'Labbaik and Sa'daik, O my Lord!' Allah will say, 'Did you convey the Message?' Noah will say, 'Yes.' His nation will then be asked, 'Did he convey the Message to you?' They will say, 'No Warner came to us.' Then Allah will say (to Noah), 'Who will bear witness in your favour?' He will say, 'Muhammad and his followers. So they (i.e. Muslims) will testify that he conveyed the Message. And the Apostle (Muhammad) will be a witness over yourselves, and that is what is meant by the Statement of Allah "Thus We have made of you a just and the best nation that you may be witnesses over mankind and the Apostle (Muhammad) will be a witness over yourselves." (2.143)

ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا کہا ہم سے جریر اور ابو اسامہ نے اس روایت میں جریر نے جو الفاظ نقل کیے وہی بیان کیے گئے دونوں نے اعمش سے روایت کیا انہوں نے ابو صالح سے۔ ابو اسامہ نے اعمش سے یوں نقل کیا ہم سے ابو صالح نے بیان کیا انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن نوحؑ پیغمبر بلائے جائیں گے (پروردگار بلائے گا) وہ عرض کریں گے پروردگار حاضر ہوں جو ارشاد ہو بجا لاؤں۔ پروردگار فرمائے گا تو نے میرا حکم اپنے امت کو پہنچا دیا تھا۔ وہ کہیں گے جی ہاں۔ اس وقت ان کی امت والوں سے پوچھا جائے گانوحؑ نے تم کو میرا پیغام پہنچا دیا تھا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) آیا ہی نہیں۔ تب اللہ نوحؑ سے فرمائے گا کوئی تیرا گواہ ہے۔ وہ کہیں گے محمدؐ اور ان کی امت کے لوگ گواہ ہیں۔ پھر اس امت کے لوگ گواہی دیں گےکہ بیشک نوحؑ نے اللہ کا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا۔ اور پیغمبر (یعنی حضرت محمدﷺ) تم پر گواہ بنیں گے۔ یہی مطلب ہےاس آیت کا وَکَذٰلِکَ جَعَلۡنَاکُمۡ أُمِّۃً وَسَطًا لِتَکُونُوۡاشُھَدَاءَ عَلَیالنَّاسِ وسط کا معنی عدل،بہتر ۔

14. باب قَوْلِ اللهِ تَعَالى: ‏{‏وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ ‏}‏الآية

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ بَيْنَا النَّاسُ يُصَلُّونَ الصُّبْحَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ إِذْ جَاءَ جَاءٍ فَقَالَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُرْآنًا أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا‏.‏ فَتَوَجَّهُوا إِلَى الْكَعْبَةِ‏.

Narrated By Ibn 'Umar : While some people were offering Fajr prayer in the Quba' mosque, some-one came and said, "Allah has revealed to the Prophet Qur'anic instructions that you should face the Ka'ba (while praying) so you too, should face it." Those people then turned towards the Ka'ba.

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے سفیان ثوری سے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا لوگ مسجد قبا میں نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ پر قرآن میں یہ حکم اتارا کہ آپؐ کعبے کی طرف منہ کریں تم بھی کعبے کی طرف منہ کرو۔ یہ سنتے ہی وہ لوگ (نماز ہی میں) کعبے کی طرف پھر گئے۔

15. باب قَوْلِ اللهِ تَعَالى: ‏{‏قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ‏}‏ الآية

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ صَلَّى الْقِبْلَتَيْنِ غَيْرِي‏.‏

Narrated By Anas : None remains of those who prayed facing both Qiblas (that is, Jerusalem and Mecca) except myself.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا اب کوئی صحابی میرے سوا باقی نہیں، جس نے دونوں قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ) کی طرف نماز پڑھی ہو۔

16. باب ‏{‏وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ‏}‏الآية

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ جَاءَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَأُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ أَلاَ فَاسْتَقْبِلُوهَا‏.‏ وَكَانَ وَجْهُ النَّاسِ إِلَى الشَّأْمِ فَاسْتَدَارُوا بِوُجُوهِهِمْ إِلَى الْكَعْبَةِ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : While some people were offering morning prayer at Quba' a man came to them and said, "A Qur'anic Order has been revealed to Allah's Apostle tonight that he should face the Ka'ba at Mecca (in prayer), so you too should turn your faces towards it." At that moment their faces were towards Sham (i.e. Jerusalem) (and on hearing that) they turned towards the Ka'ba (at Mecca).

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن دینار نے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا کہ ایسا ہوا کہ لوگ مسجد قبا میں صبح کی نماز پرھ رہے تھے اتنے میں ایک شخص (عباد بن بشر) آیا اور کہنے لگا آج رات کو رسول اللہﷺ پر قرآن اترا اور یہ حکم ہوا کہ آپؐ نماز میں کعبے کی طرف منہ کریں۔ تم لوگ کعبے کی طرف منہ کرو۔ اس وقت لوگوں کے منہ شام کی طرف تھے انہوں نے گھوم کر کعبے کی طرف منہ کر لیا۔

17. باب ‏{‏الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ }‏

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا‏.‏ وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ‏.‏

Narrated By Ibn Umar : While some people were offering Fajr prayer at Quba' (mosque), some-one came to them and said, "Tonight some Qur'anic Verses have been revealed to the Prophet and he has been ordered to face the Ka'ba (at Mecca) (during prayers), so you too should turn your faces towards it." At that time their faces were towards Sham (Jerusalem) so they turned towards the Ka'ba (at Mecca).

ہم سےیحیٰی بن قزعہ نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالکؒ نے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا لوگ مسجد قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک شخص (عباد بن بشر) آیا کہنے لگا نبیﷺپر آج رات کو قرآن شریف اترا۔ آپؐ کو کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا ۔ تم لوگ بھی کعبے کی طرف منہ کرلو۔ اس وقت ان کے منہ شام کی طرف تھے وہ (نماز ہی میں) کعبے کی طرف گھوم گئے۔

18. باب ‏{‏وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ‏}‏‏الآية

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ ـ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ ـ شَهْرًا، ثُمَّ صَرَفَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ‏.‏

Narrated By Al-Bara : We prayed along with the Prophet facing Jerusalem for sixteen or seventeen months. Then Allah ordered him to turn his face towards the Qibla (in Mecca)

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے سفیان ثوری سے کہا مجھ سے ابو اسحاق سے بیان کیا کہا میں نے براء بن عازبؓ سے سنا وہ کہتے تھے ہم مدینہ میں نبیﷺ کے ساتھ سولہ یا سترہ سال بیت المقدس کی طرف نماز پرھی۔ پھر آپؐ نے کعبہ کی طرف منہ کر لیاومن حیث خرجت فولّ وجھک شطراالمسجد الحرام۔ وانّھُاللحق من ربک ، شطر کے معنی طرف ۔

19. باب ‏{‏وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ‏}‏ الآية.شَطْرُهُ تِلْقَاؤُهُ‏.

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَيْنَا النَّاسُ فِي الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ إِذْ جَاءَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، فَأُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا‏.‏ وَاسْتَدَارُوا كَهَيْئَتِهِمْ، فَتَوَجَّهُوا إِلَى الْكَعْبَةِ وَكَانَ وَجْهُ النَّاسِ إِلَى الشَّأْمِ‏.‏

Narrated By Ibn Umar : While some people were at Quba (offering) morning prayer, a man came to them and said, "Last night Qur'anic Verses have been revealed whereby the Prophet has been ordered to face the Ka'ba (at Mecca), so you too should face it." So they, keeping their postures, turned towards the Ka'ba. Formerly the people were facing Sham (Jerusalem)

ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے ایسا ہوا لوگ مسجد قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک شخص (عباد بن بشر) آیا کہنے لگا ر آج رات کو قرآن شریف اترا اور کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم ہو گیا ۔ تم لوگ بھی کعبے کی طرف منہ کرلو۔ یہ سنتے ہی وہ لوگ اسی حالت میں (یعنی نماز ہی میں) گھوم گئے اورکعبے کی طرف منہ کر لیا۔ اس وقت لوگوں کا منہ شام کی طرف تھا ۔

1234Last ›