- احادیثِ نبوی ﷺ

 

12345Last ›

20. باب ‏{‏وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ المَسْجِدِ الحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ }‏

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا‏.‏ وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْقِبْلَةِ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : While some people were offering Fajr prayer at Quba mosque, someone came to them and said, "Qur'anic literature" has been revealed to Allah's Apostle tonight, and he has been ordered to face the Ka'ba (of Mecca) so you too, should turn your faces towards it. Their faces were then towards Sham (Jerusalem), so they turned towards the Qibla (i.e. Ka'ba of Mecca)."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے امام مالکؒ سے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا ایسا ہوا کہ لوگ مسجد قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک شخص (عباد بن بشر) آیا کہنے لگا رات کو رسول اللہﷺپر قرآن اترا۔ آپؐ کو کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم ہو گیا ۔ تم لوگ بھی کعبے کی طرف منہ کرلو۔ اس وقت ان کے منہ شام کی طرف تھے ۔ یہ سنتے ہی وہ کعبے کی طرف گھوم گئے۔

21. باب قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ}‏الآية

شَعَائِرُ عَلاَمَاتٌ، وَاحِدَتُهَا شَعِيرَةٌ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الصَّفْوَانُ الْحَجَرُ‏.‏ وَيُقَالُ الْحِجَارَةُ الْمُلْسُ الَّتِي لاَ تُنْبِتُ شَيْئًا، وَالْوَاحِدَةُ صَفْوَانَةٌ بِمَعْنَى الصَّفَا، وَالصَّفَا لِلْجَمِيعِ‏

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا‏}‏ فَمَا أُرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَلاَّ لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الأَنْصَارِ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا‏}‏

Narrated By Urwa : I said to 'Aisha, the wife of the Prophet, and I was at that time a young boy, "How do you interpret the Statement of Allah: "Verily, Safa and Marwa (i.e. two mountains at Mecca) are among the Symbols of Allah." So it is not harmful of those who perform the Hajj to the House of Allah) or perform the Umra, to ambulate (Tawaf) between them. In my opinion it is not sinful for one not to ambulate (Tawaf) between them." 'Aisha said, "Your interpretation is wrong for as you say, the Verse should have been: "So it is not harmful of those who perform the Hajj or Umra to the House, not to ambulate (Tawaf) between them.' This Verse was revealed in connection with the Ansar who (during the Pre-Islamic Period) used to visit Manat (i.e. an idol) after assuming their Ihram, and it was situated near Qudaid (i.e. a place at Mecca), and they used to regard it sinful to ambulate between Safa and Marwa after embracing Islam. When Islam came, they asked Allah's Apostle about it, whereupon Allah revealed: "Verily, Safa and Marwa (i.e. two mountains at Mecca) are among the Symbols of Allah. So it is not harmful of those who perform the Hajj of the House (of Allah) or perform the Umra, to ambulate (Tawaf) between them." (2.158)

ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالکؒ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنےو الد سے انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہؓ ام المؤمنین سے پوچھا اس وقت میں کمسن تھا۔ یہ جو قرآن میں ہے کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیاں ہیں جو کوئی حج یا عمرہ کرے تو ان کا طواف کر لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے اس سے تو یہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی صفا یا مروہ کا طواف نہ کرے تب بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا نہیں یہ نہیں نکلتا۔ اگر یہ مطلب ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا اگر ان کا طواف نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ہوا یہ کہ یہ آیت انصار کے باب میں اتری۔ وہ احرام میں مناۃ (بت) کا نام پکارتے یہ بت قدید کے برابر رکھا ہوا تھا۔ انصاری لوگ صفا اور مروہ کا پھیرا برا سمجھتے تھے۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو انہوں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی أِنَّ الصَفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَائِرِاللہِ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ أ وِاعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ أَنۡ یَطَّوَّفَ بِھِمَا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ،‏.‏ فَقَالَ كُنَّا نَرَى أَنَّهُمَا مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ أَمْسَكْنَا عَنْهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا‏}‏‏.‏

Narrated By 'Asim bin Sulaiman : I asked Anas bin Malik about Safa and Marwa. Anas replied, "We used to consider (i.e. going around) them a custom of the Pre-Islamic period of Ignorance, so when Islam came, we gave up going around them. Then Allah revealed" "Verily, Safa and Marwa (i.e. two mountains at Mecca) are among the Symbols of Allah. So it is not harmful of those who perform the Hajj of the House (of Allah) or perform the Umra to ambulate (Tawaf) between them." (2.158)

ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان نے انہوں نے عاصم بن سلیمان سے انہوں نے کہا میں نے انس بن مالکؓ سے پوچھا صفا مروے کا پھیرا۔ انہوں نے کہا ہم لوگ (شروع اسلام میں) یہ سمجھے کہ صفا مروہ کا پھیرا کرنا جاہلیت کی ایک رسم ہے۔ اس وقت ہم نے اس کو چھوڑ دیا اس وقت اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی أِنَّ الصَفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَائِرِاللہِ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ ۔ ۔ ۔ الخ

22. باب قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَاداً يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ‏}‏

يعنى أَضْدَادًا، وَاحِدُهَا نِدٌّ‏

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَلِمَةً وَقُلْتُ أُخْرَى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ ‏"‏‏.‏ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَاتَ وَهْوَ لاَ يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ‏.‏

Narrated By 'Abdullah : The Prophet said one statement and I said another. The Prophet said "Whoever dies while still invoking anything other than Allah as a rival to Allah, will enter Hell (Fire)." And I said, "Whoever dies without invoking anything as a rival to Allah, will enter Paradise."

ہم سے عبدان نے بیان کیا انہوں نے ابو حمزہ (محمد بن میمون) سے۔ انہوں نے اعمش سے۔ انہوں نے شقیق سے۔ انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے۔ انہوں نے کہا نبیﷺ نے ایک بات فرمائی میں (اپنی طرف سے) ایک بات اور کہتا ہوں کہ نبیﷺ نے تو یہ فرمایا جو شخص اس حالت میں مرے کہ اللہ کے سوا دوسرے کسی (مقابل والے) شریک کو پکارتا ہو، اس کو اللہ کے برابر سمجھتا ہو وہ دوزخ میں جائے گا۔ اور میں کہتا ہوں جو ایسی حالت میں مرے کہ اللہ کے سوا دوسرے کسی شریک کو نہ پکارتا ہو (یعنی توحید پر ہو) وہ (ایک نہ ایک دن) بہشت میں جائے گا گو کتنا ہی گنہگار ہو۔

23. باب ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ ‏}الآية ‏

‏{‏عُفِيَ‏}‏ تُرِكَ‏

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِهَذِهِ الأُمَّةِ ‏{‏كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ‏}‏ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ ‏{‏فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ‏}‏ يَتَّبِعُ بِالْمَعْرُوفِ وَيُؤَدِّي بِإِحْسَانٍ، ‏{‏ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ‏}‏ وَرَحْمَةٌ مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ‏.‏ ‏{‏فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏ قَتَلَ بَعْدَ قَبُولِ الدِّيَةِ‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : The law of Qisas (i.e. equality in punishment) was prescribed for the children of Israel, but the Diya (i.e. blood money was not ordained for them). So Allah said to this Nation (i.e. Muslims): "O you who believe! The law of Al-Qisas (i.e. equality in punishment) is prescribed for you in cases of murder: The free for the free, the slave for the slave, and the female for the female. But if the relatives (or one of them) of the killed (person) forgive their brother (i.e. the killers something of Qisas (i.e. not to kill the killer by accepting blood money in the case of intentional murder)... then the relatives (of the killed person) should demand blood-money in a reasonable manner and the killer must pay with handsome gratitude. This is an alleviation and a Mercy from your Lord, (in comparison to what was prescribed for the nations before you)." So after this, whoever transgresses the limits (i.e. to kill the killer after taking the blood-money) shall have a painful torment." (2.178)

ہم سے عبداللہ بن حمیدی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے کہا میں نے مجاہد سے سنا۔ کہا میں نے ابن عباسؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ بنی اسرائیل(یعنی یہودیوں) میں قصاص کا رواج تھا۔ لیکن دیت کا دستور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے ارشاد فرمایا مسلمانوں ! تم میں جو لوگ مارے جائیں ان میں جان کے بدل جان کا حکم دیا جاتا ہے۔ آزاد کے بدل آزاد اور غلام کے بدل غلام اور عورت کے بدل عورت قتل کیا جائے۔ پھر جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ چھوڑ دیا جائے یعنی قتل عمد میں مقتول کے وارث قصاص چھوڑ کر دیت پر راضی ہوجائیں تو ان کو دیت کا مطالبہ دستور کے مطابق کرنا چاہے۔ اور قاتل کو اچھی طرح دیت ادا کرنا چاہے۔ یہ دیت کا حکم اللہ کی ایک تخفیف اور رحمت ہے۔ یعنی اگلے لوگوں پر صرف قصاص کا حکم تھا اور تمھارے لئے دیت جائز رکھی گئی۔ اب اس کے بعد جو کوئی زیادتی کرے یعنی دیت قبول کر لینے کے بعد بھی قاتل کو قتل کرے اس کو تکلیف کا عذاب ہو گا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas : The Prophet said, "The prescribed Law of Allah is the equality in punishment (i.e. Al-Qisas)." (In cases of murders, etc.)

ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا کہا ہم سے حمید نے ان سے انسؓ نے بیان کیا انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا اللہ کی کتاب تو قصاص کا حکم کرتی ہے۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ السَّهْمِيَّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ، عَمَّتَهُ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا إِلَيْهَا الْعَفْوَ فَأَبَوْا، فَعَرَضُوا الأَرْشَ فَأَبَوْا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَوْا إِلاَّ الْقِصَاصَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ ‏"‏‏.‏ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas : That his aunt, Ar-Rubai' broke an incisor tooth of a girl. My aunt's family requested the girl's relatives for forgiveness but they refused; then they proposed a compensation, but they refused. Then they went to Allah's Apostle and refused everything except Al-Qisas (i.e. equality in punishment). So Allah's Apostle passed the judgment of Al-Qisas (i.e. equality of punishment). Anas bin Al-Nadr said, "O Allah's Apostle! Will the incisor tooth of Ar-Rubai be broken? No, by Him Who sent you with the Truth, her incisor tooth will not be broken." Allah's Apostle said, "O Anas! The prescribed law of Allah is equality in punishment (i.e. Al-Qisas.)" Thereupon those people became satisfied and forgave her. Then Allah's Apostle said, "Among Allah's Worshippers there are some who, if they took Allah's Oath (for something), Allah fulfil their oaths."

مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا انہوں نے عبداللہ بن بکر سہمی سے سنا۔ کہا ہم سے حمید نے۔ انہوں نے انسؓ سے۔ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک جوان لڑکی کا دانت توڑ ڈالا۔ ربیع کے لوگوں نے اس سے معافی چاہی لیکن لڑکی کے لوگوں نے معافی نہ دی۔ پھر ربیع کے لوگوں نے کہا اچھا دیت لے لو۔ وہ اس پر بھی راضی نہ ہوئے اور رسول اللہﷺ کے پاس آئے قصاص کی درخواست کی۔ آپؐ نے قصاص کا حکم دیا اس پر ربیع کے بھائی انس بن نضر کہنے لگے۔ یا رسولؐ اللہ کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا قسم پروردگار کی جس نے آپؐ کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ایسا تو کبھی نہیں ہونے کا کہ ربیع کا دانت توڑا جائے۔ آپؐ نے فرمایا انس یہ تو (کیا کہتا ہے) اللہ کی کتاب تو قصاص کا حکم دے رہی ہے (قصاص ضرور ہونا ہے) پھر (خدا کی قدرت) ایساہوا کہ لڑکی کے وارث راضی ہو گئےقصاص معاف کر دیا ۔ اس وقت رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کے بعضے بندے ایسے بھی ہیں اگر اللہ پر بھروسہ کر کے قسم کھا بیٹھیں اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے۔

24. باب ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ‏}‏

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ عَاشُورَاءُ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ قَالَ ‏"‏ مَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : Fasting was observed on the day of 'Ashura' (i.e. 10th of Muharram) by the people of the Pre-Islamic Period. But when (the order of compulsory fasting) in the month of Ramadan was revealed, the Prophet said, "It is up to one to fast on it (i.e. day of 'Ashura') or not."

ہم سےمسدد نے بیان کیا ۔ کہا ہم یحیٰی بن سعید قطان نے۔ انہوں نے عبیداللہ سے۔ کہا مجھ کو نافع نے خبر دی۔ انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا کہ جاہلیت کے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا اب جس کا جی چاہے وہ عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَ عَاشُورَاءُ يُصَامُ قَبْلَ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ قَالَ ‏"‏ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : The people used to fast on the day of 'Ashura' before fasting in Ramadan was prescribed but when (the order of compulsory fasting in) Ramadan was revealed, it was up to one to fast on it (i.e. 'Ashura') or not.

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے زہری سے۔ انہوں نے عروہ سے۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے۔ انہوں نے کہا رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو یہ حکم ہوا جس کا جی چاہے وہ عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔


حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلَ عَلَيْهِ الأَشْعَثُ وَهْوَ يَطْعَمُ فَقَالَ الْيَوْمُ عَاشُورَاءُ‏.‏ فَقَالَ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ، فَادْنُ فَكُلْ‏.‏

Narrated By 'Abdullah : That Al-Ash'ath entered upon him while he was eating. Al-Ash'ath said, "Today is 'Ashura." I said (to him), "Fasting had been observed (on such a day) before (the order of compulsory fasting in) Ramadan was revealed. But when (the order of fasting in) Ramadan was revealed, fasting (on 'Ashura') was given up, so come and eat."

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ۔ کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے انہوں نے اسرائیل سے۔ انہوں نے منصور سے۔ انہوں نے ابراہیم نخعی سے۔ انہوں نے علقمہ سے۔ انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے کہ اشعث بن قیس ان کے پاس گئے۔ وہ کھانا کھا رہے تھے۔ اشعث نے کہا یہ عاشورہ کا دن ہے۔ عبداللہ نے کہا رمضان کے روزے فرض ہونے س پہلے اس دن کا روزہ رکھتے تھےجب رمضان کےروزے فرض ہوئے تو عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا۔ آؤ کھانا کھاؤ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ الْفَرِيضَةَ، وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ، فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ‏.‏

Narrated By 'Aisha : During the Pre-Islamic Period of ignorance the Quraish used to observe fasting on the day of 'Ashura', and the Prophet himself used to observe fasting on it too. But when he came to Medina, he fasted on that day and ordered the Muslims to fast on it. When (the order of compulsory fasting in) Ramadan was revealed, fasting in Ramadan became an obligation, and fasting on 'Ashura' was given up, and who ever wished to fast (on it) did so, and whoever did not wish to fast on it, did not fast.

ہم محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا۔ کہا ہم یحیٰی بن سعید قطان نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی۔ انہوں نے اپنے والد عروہ سے۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے۔ انہوں نے کہا عاشورہ کے دن قریش کے لوگ جاہلیت کے زمانے میں روزہ رکھا کرتے تھے اور نبیﷺ بھی اس دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب آپؐ مدینہ تشریف لائے تو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا پھر رمضان کے روزے فرض ہوئے۔ عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا۔ اب یہ قرار پایا کہ جس کا جی چاہےوہ عاشورہ کا روزہ رکھے جس کا جی چاہے نہ رکھے۔

25. باب قَوْلِهِ تَعَالَى:

‏{‏أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ‏}‏

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقْرَأُ ‏{‏وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ‏}‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ، هُوَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْمَرْأَةُ الْكَبِيرَةُ لاَ يَسْتَطِيعَانِ أَنْ يَصُومَا، فَلْيُطْعِمَانِ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا‏.‏

Narrated By 'Ata : That he heard Ibn 'Abbas reciting the Divine Verse: "And for those who can fast they had a choice either fast, or feed a poor for every day.." (2.184) Ibn 'Abbas said, "This Verse is not abrogated, but it is meant for old men and old women who have no strength to fast, so they should feed one poor person for each day of fasting (instead of fasting)."

مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیاکہا ہم کو روح بن عبادہ نے کہا ہم کو زکریا بن اسحاق نے۔ کہا ہم سے عمرو بن دینار نے۔ انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے۔ انہوں نے ابن عباسؓ سے سنا وہ یوں پڑھتے تھے وَعَلَی الَّذِینَ یُطِیقُونَہُ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ ابن عباسؓ نے کہا کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے ۔ یُطِیقُونَہُ کے معنی طاقت نہیں رکھتے۔ ان کو روزے سے سخت تکلیف ہوتہ ہےیعنی بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت جو روزہ نہیں رکھ سکتے۔ وہ ایسا کریں کہ ہر روزے کے بدل ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔

26. باب ‏{‏فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ‏}‏

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَرَأَ ‏{‏فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ‏}‏ قَالَ هِيَ مَنْسُوخَةٌ‏.‏

Narrated By Nafi : Ibn 'Umar recited: "They had a choice, either fast or feed a poor for every day..." and added, "This Verse is abrogated."

ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا۔ کہا ہم سے عبدالاعلی نے ۔ انہوں نے عبیداللہ سے۔ انہوں نے نافع سے۔ انہوں نے ابن عمرؓ سے۔ انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ وَعَلَی الَّذِینَ یُطِیقُونَہُ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ اور کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ‏}‏ كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا‏.‏ مَاتَ بُكَيْرٌ قَبْلَ يَزِيدَ‏.‏

Narrated By Salama : When the Divine Revelation: "For those who can fast, they had a choice either fast, or feed a poor for every day," (2.184) was revealed, it was permissible for one to give a ransom and give up fasting, till the Verse succeeding it was revealed and abrogated it.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے بکر بن مضر نے۔ انہوں نے عمرو بن الحارث سے۔ انہوں نے بکیر بن عبداللہ سے۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے جو سلمہ بن اکوع کے غلام تھے۔ انہوں نے سلمہ سے انہوں نے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی۔ وَعَلَی الَّذِینَ یُطِیقُونَہُ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ تو جس کا جی چاہتا روزہ نہ رکھتا فدیہ دے دیتا۔ یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت اتری۔فَمَنۡ شَھِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ اتری اور یہ آیت منسوخ ہو گئی۔ امام بخاریؒ نے کہا بکیر (جو یزید کے شاگرد تھے) یزید سے پہلے(۱۲۰ھ میں) فوت ہو گئے ۔

27. باب ‏{‏أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ} إلى قولِه:{وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ‏}‏

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ لَمَّا نَزَلَ صَوْمُ رَمَضَانَ كَانُوا لاَ يَقْرَبُونَ النِّسَاءَ رَمَضَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ رِجَالٌ يَخُونُونَ أَنْفُسَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ‏}‏‏.‏

Narrated By Al-Bara : When the order of compulsory fasting of Ramadan was revealed, the people did not have sexual relations with their wives for the whole month of Ramadan, but some men cheated themselves (by violating that restriction). So Allah revealed: "Allah is aware that you were deceiving yourselves but He accepted your repentance and for gave you..." (3.187)

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا۔ انہوں نے اسرائیل سے۔ انہوں نے ابو اسحاق سے۔ انہوں نے براء بن عازب سے۔ دوسری سند ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے۔ کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو اسحا ق سے انہوں نے کہا میں نے براء بن عازبؓ سے سنا وہ کہتے تھےجب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو (شروع زمانہ میں) لوگ رمضان کے سارے مہینے عورتوں کے پاس نہیں جاتے تھے۔ اب بعض مردوں (عمر اور کعبؓ) نے چوری چوری رات کو جماع کیا۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت اتری عَلِمَ اللہُ أَنَّکُم کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُونَ أنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ۔

28. باب قَوْلِهِ ‏{‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ}‏الآية

الْعَاكِفُ الْمُقِيمُ

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ أَخَذَ عَدِيٌّ عِقَالاً أَبْيَضَ وَعِقَالاً أَسْوَدَ حَتَّى كَانَ بَعْضُ اللَّيْلِ نَظَرَ فَلَمْ يَسْتَبِينَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَعَلْتُ تَحْتَ وِسَادَتِي‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ وِسَادَكَ إِذًا لَعَرِيضٌ أَنْ كَانَ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ وَالأَسْوَدُ تَحْتَ وِسَادَتِكَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ash-Sha'bi : 'Adi took a white rope (or thread) and a black one, and when some part of the night had passed, he looked at them but he could not distinguish one from the other. The next morning he said, "O Allah's Apostle! I put (a white thread and a black thread) underneath my pillow." The Prophet said, "Then your pillow is too wide if the white thread (of dawn) and the black thread (of the night) are underneath your pillow!"

ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے انہوں نے حصین بن عبدالرحمٰن سےانہوں نے عامر شعبی سے انہوں نے عدی بن حاتم سےانہوں نے دو ڈوریاں لیں ایک سفید اور ایک کالی۔ اور رات کو ان کو دیکھا۔ تو دونوں میں تمیز نہیں ہوئی (اس وقت تک کھاتے پیتے رہے) جب صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ میں نے اپنے تکیے کے نیچے دو ڈوریاں رکھ لیں تھیں۔ آپؐ نے (مزاح کے طور پر) فرمایا تیرا تکیہ بہت بڑا ہے کہ (صبح کی) سفید اور کالی دھاری اس کے نیچے آ گئی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ أَهُمَا الْخَيْطَانِ قَالَ ‏"‏ إِنَّكَ لَعَرِيضُ الْقَفَا إِنْ أَبْصَرْتَ الْخَيْطَيْنِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لاَ بَلْ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ ‏"‏‏.

Narrated By 'Adi bin Hatim : I said, "O Allah's Apostle! What is the meaning of the white thread distinct from the black thread? Are these two threads?" He said, "You are not intelligent if you watch the two threads." He then added, "No, it is the darkness of the night and the whiteness of the day."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے جریر نے انہوں نے مطرف سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے عدی بن حاتم سے انہوں نے کہا میں آپﷺ سے پوچھا آیت میں خیط البیض اور خیط الاسود سےکیا کالے دھاگے مراد ہیں۔ آپؐ نے فرمایا تو بھی (عجب) بیوقوف آدمی ہے اگر رات کو یہ دیکھا کرتا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا دھاگے مراد نہیں ہیں بلکہ رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی مراد ہیں۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ وَأُنْزِلَتْ ‏{‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ‏}‏ وَلَمْ يُنْزَلْ ‏{‏مِنَ الْفَجْرِ‏}‏ وَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الأَسْوَدَ، وَلاَ يَزَالُ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَهُ ‏{‏مِنَ الْفَجْرِ‏}‏ فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ‏.‏

Narrated By Sahl bin Sad : The Verse: "And eat and drink until the white thread appears to you distinct from the black thread." was revealed, but: '...of dawn' was not revealed (along with it) so some men, when intending to fast, used to tie their legs, one with white thread and the other with black thread and would keep on eating till they could distinguish one thread from the other. Then Allah revealed'... of dawn,' whereupon they understood that meant the night and the day.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا۔ کہا ہم سے ابو غسان محمد بن مطرف نے کہا مجھ سے ابو حازم سلمہ بن دینار ے انہوں نے سہل بن سعدؓ سے انہوں نے کہا پہلے اتنی آیت اتری تھی ۔ وَکُلُوا وَشۡرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الخَیۡطُ الأبۡیَضُ مِنَ الخَیۡطِ الأَسۡوَدِاور مِنَ الفَجۡرِ کا لفظ نہیں اترا تھا۔ تو کئی لوگ جب روزہ رکھنا چاہتےتو اپنے پاؤں میں ایک سفید ایک کالا دھاگہ باندھ لیتے۔ اور رات کو برابر کھاتے پیتے رہتے جب تک ان دھاگوں میں تمیز نہ ہوتی۔ اس کی بعد اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ اتارا۔ مِنَ الفَجۡرِ تب ان کو معلوم ہوا کہ کالے دھاگے سے مراد رات اور سفید دھاگے سے دن مراد ہے۔

29. باب قَوْلِهِ ‏{‏وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى‏}الآية

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانُوا إِذَا أَحْرَمُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَتَوُا الْبَيْتَ مِنْ ظَهْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا‏}‏

Narrated By Al-Bara : In the Pre-Islamic Period when the people assumed Ihram, they would enter their houses from the back. So Allah revealed: "And it is not righteousness that you enter houses from the back, but the righteous man is he who fears Allah, obeys His Orders and keeps away from what He has forbidden. So enter houses through their doors." (2.189)

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا جاہلیت کے زمانے میں جب لوگ احرام باندھتے تو گھروں میں پشت کی طرف سے (چھت پر چڑھ کر) آتے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ وَلَیۡسَ البِرُّ بِأنۡ تَأ تُوا البُیُوتَ مِنۡ ظُہُورِھَا وَلَکِنَّ البِرَّ مَنِ اتَّقَی وَأتُوالبُیُوتَ مِنۡ أبۡوابِھَا۔ الخ

12345Last ›