11. باب فَضْلُ الْكَهْفِ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَإِلَى جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ "
Narrated By Al-Bara' : A man was reciting Surat Al-Kahf and his horse was tied with two ropes beside him. A cloud came down and spread over that man, and it kept on coming closer and closer to him till his horse started jumping (as if afraid of something). When it was morning, the man came to the Prophet, and told him of that experience. The Prophet said, "That was As-Sakina (tranquility) which descended because of (the recitation of) the Qur'an."
ہم سےعمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے، کہا ہم سے ابو اسحاق نے، انہوں نے براء بن عازبؓ سے، انہوں نے کہا ایک شخص (اُسید بن عضیر) سورۃ لکھف پڑھ رہے تھے۔ ان کے پاس ایک گھوڑا دو رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔ ایک ابر اوپر سے آیا اور گھوڑے کو ڈھانک لیا۔ اور ابر برابر نزدیک آتا جاتا تھا یہاں تک کہ گھوڑا اس کو دیکھ کر بھڑکنے لگا۔ صبح ہوئی تو اس شخص نے نبیﷺ سے یہ حال بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا یہ سکینہ تھا جو قرآن کی تلاوت کی وجہ سے اترا تھا۔
12. باب فَضْلُ سُورَةِ الْفَتْحِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلاً فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَىْءٍ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقَالَ عُمَرُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ لاَ يُجِيبُكَ، قَالَ عُمَرُ فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي حَتَّى كُنْتُ أَمَامَ النَّاسِ وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ ـ قَالَ ـ فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ ـ قَالَ ـ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ". ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا}
Narrated By Aslam : Allah's Apostle was travelling on one of his journeys, and 'Umar bin Al-Khattab was travelling along with him at night. 'Umar asked him about something, but Allah's Apostle did not answer him. He asked again, but he did not answer. He asked for the third time!, but he did not answer. On that, 'Umar said to himself, "May your mother lose you! You have asked Allah's Apostle three times, but he did not answer at all!" Umar said, "So I made my camel go fast till I was ahead of the people, and I was afraid that something might be! revealed about me. After a little while I heard a call maker calling me, I said, 'I was afraid that some Qur'anic Verse might be revealed about me.' So I went to Allah's Apostle and greeted him. He said, 'Tonight there has been revealed to me a Surah which is dearer to me than that on which the sun shines (i.e. the world).' Then he recited: 'Verily! We have given you (O Muhammad I, a manifest victory.' " (Surat al-Fath) No. (48.1).
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے، انہو ں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے اپنے والد اسلمؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ رات کو ایک سفر میں چل رہے تھے۔ عمرؓ بھی آپؐ کے ساتھ چلے جا رہے تھے اتنے میں عمرؓ نے آپؐ سے کچھ پوچھا آپؐ نے جواب نہ دیا (خاموش رہے) پھر انہوں نے پوچھا تب بھی جواب نہ دیا پھر پوچھا تب بھی جواب نہ دیا۔ عمرؓ (اپنے تیئیں کوسنے لگے) کہنے لگے تیری ماں تجھ پر روئے (تو مر جائے) تو نے تین بار رسول اللہﷺ سے عاجزی کے ساتھ عرض کیا لیکن ایک بار بھی آپؐ نے جواب نہ دیا۔ عمرؓ کہتے تھے (غصے میں آ کر) میں نے اپنے اونٹ کو ایڑھ لگائی اور آگے بڑھ گیا (آپؐ کے برابر چلنا چھوڑ دیا) مگر (دل میں) ڈر رہا تھا اس حرکت پر میرے لئے قرآن میں کیا اترتا ہے اتنے میں ایک نامعلوم پکارنے والے نے پکارا (عمرؓ کہاں ہیں عمرؓ کہاں ہیں) جب تو مجھ کو پورا ڈر ہو گیا میرے باب میں کچھ قرآن ضرور اترا۔ خیر میں رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا میں نے آپؐ کو سلام کیا۔ آپؐ نے (جواب دیا اور) فرمایا اس رات میں مجھ پر ایک سورت اتری ہے۔ وہ مجھ کو ان سب چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن پر سورج کی روشنی پہنچتی ہے (یعنی ساری دنیا کی چیزوں سے مجھ کو زیادہ پسند ہے) بعد اس کے آپؐ نے یہ سورت پڑھی انا فتحنا لک فتحا مبینا اخیر تک۔ ۔
13. باب فَضْلِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ "
Narrated By Abu Said Al-Khudri : A man heard another man reciting (Surat-Al-Ikhlas) 'Say He is Allah, (the) One.' (112. 1) repeatedly. The next morning he came to Allah's Apostle and informed him about it as if he thought that it was not enough to recite. On that Allah's Apostle said, "By Him in Whose Hand my life is, this Surah is equal to one-third of the Qur'an!"
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ سے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے کہ ایک شخص(ابو سعید خدریؓ) نے دوسرے شخص (قتادہ بن نعمان اپنے ماں جائے بھائی) کو دیکھا وہ رات کو قُل ھُوَ اللہ بار بار پڑھ رہا ہے۔ وہ شخص صبح کو رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے بیان کیا کہ فلاں شخص کو میں نے بار بار قُل ھُوَ اللہ پڑھتے دیکھا گویا اس نے سمجھا کہ اس میں کچھ بڑا ثواب نہ ہو گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا قسم پروردگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔
وَزَادَ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَخِي، قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ أَنَّ رَجُلاً، قَامَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ مِنَ السَّحَرِ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} لاَ يَزِيدُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ.
Narrated Abu Said Al-Khudri: My brother, Qatada bin An-Nau'man said, "A man performed the night prayer late at night in the lifetime of the Prophet and he read: 'Say: He is Allah, (the) One,' (112.1) and read nothing besides that. The next morning a man went to the Prophet and told him about that. (The Prophet replied the same as above.)
ابو معمر (عبداللہ بن عمرو منقری) نے اتنا زیادہ کیا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے مالک بن انسؓ سے، انہوں نے عبد الرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے کہا مجھ کو میرے ماں جائے بھائی قتادہ بن نعمان نے خبر دی کہ ایک شخص نبیﷺ کے زمانہ میں پچھلی رات سے اٹھا اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھتا رہا (بس یہی سورت بار بار پڑھتا رہا) جب صبح ہوئی تو وہ شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، وَالضَّحَّاكُ الْمَشْرِقِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ ". فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ وَقَالُوا أَيُّنَا يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ " اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلُثُ الْقُرْآنِ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مُرْسَلٌ وَعَنِ الضَّحَّاكِ الْمَشْرِقِيِّ مُسْنَدٌ
Narrated By Abu Said Al-Khudri : The Prophet said to his companions, "Is it difficult for any of you to recite one third of the Qur'an in one night?" This suggestion was difficult for them so they said, "Who among us has the power to do so, O Allah's Apostle?" Allah Apostle replied: " Allah (the) One, the Self-Sufficient Master Whom all creatures need.' (Surat Al-Ikhlas 112.1 to the End) is equal to one third of the Qur'an."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ہم سے ابراہیم نخعی اور ضحّاک بن شراحیل مشرقی نے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا تم میں کوئی یہ بھی نہیں کرسکتا کہ رات کو تہائی حصہ قرآن کو پڑھ لیا کرے۔ لوگوں کو یہ مشکل ہوا کہنے لگے بھلا تہائی قرآن (ہر رات کو) کون پڑھ سکتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ الواحد الصّمد (یعنی قل ھو اللہ احد) تہائی قرآن کے برابر ہے۔ محمد بن یوسف فربری نے کہا میں نے ابو جعفر محمد بن ابی حاتم سے سنا جو امام بخاری کے کاتب منشی تھے وہ کہتے تھے امام بخاری نے کہا ابراہیم نخعی کی روایت ابو سعید خدریؓ سے منقطع ہے (ابراہیم نخعی نے ابو سعید خدریؓ سے نہیں سنا) لیکن ضحاک مشرقی کی روایت ابو سعید سے متصل ہے۔
14. باب فَضْلِ الْمُعَوِّذَاتِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا
Narrated By 'Aisha : Whenever Allah's Apostle became sick, he would recite Mu'awwidhat (Surat Al-Falaq and Surat An-Nas) and then blow his breath over his body. When he became seriously ill, I used to recite (these two Suras) and rub his hands over his body hoping for its blessings.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیرؓ سے، انہوں نے عائشہؓ سے کہ رسول اللہﷺ جب بیمار ہوتے تو معوّاذات سورتیں پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے (اس طرح کہ ہوا کہ ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا) جب (موت کی بیماری میں) آپؐ کی علالت سخت ہو گئی تو میں برکت کے خیال سے یہ سورتیں پڑھ کر آپؐ کا ہاتھ آپؐ کے بدن پر پھیرتی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ
Narrated By 'Aisha : Whenever thy Prophet go went to bed every night, he used to cup his hands together and blow over it after reciting Surat Al-Ikhlas, Surat Al-Falaq and Surat An-Nas, and then rub his hands over whatever parts of his body he was able to rub, starting with his head, face and front of his body. He used to do that three times.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے مفضل بن فضالہ نے، انہوں نے عقیل بن خالد سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ ہر رات کو جب (سونے کے لئے) اپنے بچھونے پر جاتے تو دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان میں پھونکتے اور یہ سورتیں پڑھتے قُل ھُوَ اللہُ اَحَدٌ ۔قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَق۔قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاس پھر اپنے سارے بدن پر جہاں تک ہو سکتا ان کو پھیرتے۔ پہلے سر اور چہرہ اطہر پر پھیرتے اور سامنے کے بدن پر ۔ تین بار ایسا ہی کرتے۔
15. باب نُزُولِ السَّكِينَةِ وَالْمَلاَئِكَةِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ فَسَكَتَ فَسَكَتَتْ فَقَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَسَكَتَ وَسَكَتَتِ الْفَرَسُ ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ، فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِيبَهُ فَلَمَّا اجْتَرَّهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى مَا يَرَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ ". قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبًا فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَخَرَجَتْ حَتَّى لاَ أَرَاهَا. قَالَ " وَتَدْرِي مَا ذَاكَ ". قَالَ لاَ. قَالَ " تِلْكَ الْمَلاَئِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لاَ تَتَوَارَى مِنْهُمْ ". قَالَ ابْنُ الْهَادِ وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ
Narrated By Usaid bin Hudair : That while he was reciting Surat Al-Baqara (The Cow) at night, and his horse was tied beside him, the horse was suddenly startled and troubled. When he stopped reciting, the horse became quiet, and when he started again, the horse was startled again. Then he stopped reciting and the horse became quiet too. He started reciting again and the horse was startled and troubled once again. Then he stopped reciting and his son, Yahya was beside the horse. He was afraid that the horse might trample on him. When he took the boy away and looked towards the sky, he could not see it. The next morning he informed the Prophet who said, "Recite, O Ibn Hudair! Recite, O Ibn Hudair!" Ibn Hudair replied, "O Allah's Apostle! My son, Yahya was near the horse and I was afraid that it might trample on him, so I looked towards the sky, and went to him. When I looked at the sky, I saw something like a cloud containing what looked like lamps, so I went out in order not to see it." The Prophet said, "Do you know what that was?" Ibn Hudair replied, "No." The Prophet said, "Those were Angels who came near to you for your voice and if you had kept on reciting till dawn, it would have remained there till morning when people would have seen it as it would not have disappear."
اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یزید بن ھاد نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے اسید بن حضیر سے، وہ رات کو سورۃ البقرۃ پڑھ رہے تھے۔ ان کا گھوڑا پاس بندھا ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بھڑکنے لگا۔ اسیدؓ خاموش ہو رہے (قراءت چھوڑ دی) تو گھوڑا بھی تھم گیا۔ پھر پڑھنا شروع کیا تو پھر گھوڑا چمکا۔ پھر چپ ہو گئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا۔ پھر پڑھنا شروع کیا تو پھر گھوڑا بگڑا۔ جب تو انہوں نے اپنے لڑکے یحیٰی کو سنبھالا۔ وہ گھوڑے کے قریب تھا۔ ڈرے کہ کہیں اس کو صدمہ نہ پہنچے۔ اپنے پاس گھسیٹ لیا اور آسمان کی طرف نگاہ کی (ایک سائیبان کی طرح چیز دکھلائی دی) اسی کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ غائب ہو گئی (اوپر چڑھ گئی) صبح کو اسیدؓ نے یہ قصہ نبیﷺ سے بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا اسیدؓ ! قرآن پڑھتا رہ (یہ جو تجھ پر گزرا بڑا عمدہ واقعہ ہے)۔ اسیدؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! میں ڈر گیا کہ کہیں گھوڑا یحیٰی کو کچل نہ ڈالے وہ بالکل گھوڑے کے قریب پڑا تھا۔ اور سر اٹھا کر ادھر خیال کیا پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا دیکھا تو سائیبان کی طرح کچھ معلوم ہوا اس میں جیسے چراغ روشن ہیں۔ پھر میں باہر آیا یہاں تک کہ وہ نظر سے غائب ہو گیا۔ آپﷺ نے فرمایا اسیدؓ تو جانتا ہے یہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ فرشتے تھے جو تمھاری آواز سن کر قریب آ گئے تھے اور اگر تو قرآن پڑھتا رہتا تو ان فرشتوں کو دوسرے لوگ بھی دیکھ لیتے اور وہ نظروں سے غائب نہ ہوتے۔ ابن ھاد نے کہا مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن خباب نے بھی بیان کی، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے اسید بن حضیرؓ سے۔
16. باب مَنْ قَالَ لَمْ يَتْرُكِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ، عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما فَقَالَ لَهُ شَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ أَتَرَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ شَىْءٍ قَالَ مَا تَرَكَ إِلاَّ مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ. قَالَ وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ مَا تَرَكَ إِلاَّ مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ
Narrated By 'Abdul 'Aziz bin Rufai' : Shaddad bin Ma'qil and I entered upon Ibn 'Abbas. Shaddad bin Ma'qil asked him, "Did the Prophet leave anything (besides the Qur'an)?" He replied. "He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur'an)." Then we visited Muhammad bin Al-Hanafiyya and asked him (the same question). He replied, "The Prophet did not leave except what is between the bindings (of the Qur'an)."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عبدالعزیز بن رفیع سے انہوں نے کہا میں اور شداد بن معقل دونوں عبداللہ بن عباسؓ کے پاس گئے۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا کیا نبیﷺ نے اپنی وفات کے بعد (اس قرآن کے سوا) اور بھی کچھ قرآن چھوڑا انہوں نے کہا نہیں بس یہی قرآن چھوڑا جو دو دفیتوں کے بیچ میں ہے۔ ابن رفیع نے کہا اور ہم محمد بن حنیفہ کے پاس گئے (جو علیؓ کے صاحبزادے تھے) ان سے بھی یہی پوچھا انہوں نے کہا سوا اس قرآن کے جو دو دفیتوں کے بیچ میں ہے اور کچھ آپﷺ نے نہیں چھوڑا۔
17. باب فَضْلِ الْقُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الْكَلاَمِ
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَالَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلاَ رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلاَ رِيحَ لَهَا "
Narrated By Abu Musa Al-Ash'ari : The Prophet said, "The example of him (a believer) who recites the Qur'an is like that of a citron which tastes good and smells good. And he (a believer) who does not recite the Qur'an is like a date which is good in taste but has no smell. And the example of a dissolute wicked person who recites the Qur'an is like the Raihana (sweet basil) which smells good but tastes bitter. And the example of a dissolute wicked person who does not recite the Qur'an is like the colocynth which tastes bitter and has no smell.
ہم سے ابو خالد ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحیٰی نے، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالکؓ نے، انہوں نے ابو موسٰی اشعری سے، انہوں نے نبیﷺ سے، آپؐ نے فرمایا جو مومن قرآن کا قاری ہے اس کی مثال ترنج (میٹھے لیموں کی بتی) کی سی ہے خوشبو بھی اچھی اور مزہ بھی اچھا۔ اور جو مومن قرآن کا قاری نہیں ہے اس کی مثال اس کھجور کی سی ہے جس کا مزہ عمدہ لیکن اس میں خوشبو نہیں ہے۔ اور جو شخص بدکار ہے لیکن قرآن شریف کا قاری ہے اس کی مثال ریحان (خوشبودار سبزہ) کی سی ہے بو تو اچھی مگر مزہ کڑوا۔ اور جو شخص بدکار ہے اور قرآن کا قاری بھی نہیں ہے اس کی مثال تو اندرائن کے پھل کی سی ہے (کم بخت) مزا بھی کڑوا اور خوشبو بھی ندارد۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلاَ مِنَ الأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْعَصْرِ وَمَغْرِبِ الشَّمْسِ، وَمَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالاً، فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى الْعَصْرِ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى، ثُمَّ أَنْتُمْ تَعْمَلُونَ مِنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ بِقِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، قَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلاً وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ قَالُوا لاَ قَالَ فَذَاكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ شِئْتُ "
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "Your life in comparison to the lifetime of the past nations is like the period between the time of 'Asr prayer and sunset. Your example and the example of the Jews and Christians is that of person who employed labourers and said to them, "Who will work for me till the middle of the day for one Qirat (a special weight)?' The Jews did. He then said, "Who will work for me from the middle of the day till the 'Asr prayer for one Qirat each?" The Christians worked accordingly. Then you (Muslims) are working from the bar prayer till the Maghrib prayer for two Qirats each. They (the Jews and the Christians) said, 'We did more labour but took less wages.' He (Allah) said, 'Have I wronged you in your rights?' They replied, 'No.' Then He said, 'This is My Blessing which I give to whom I wish."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے یحیی بن سعید انصاری سے، انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے سنا، انہوں نے نبیﷺ سے سنا آپؐ نے فرمایا تم مسلمانوں کا دنیا میں رہنا اگلی امتوں کی نسبت رہنا ایسا ہے جیسے عصر کی نماز سے لیکر سورج ڈوبنے تک۔ اور تمھاری مثال اور یہود اور نصارٰی کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے چند آدمیوں کو مزدوری پر لگایا اور یہ کہا (صبح سے) دوپہر تک کون کام کرتا ہے اس کو ایک قیراط ملے گا۔ یہود نے دوپہر تک کام کیا اس کے بعد کہنے لگا اب دوپہر سے عصر تک کون کام کرتا ہے (اس کو ایک قیراط ملے گا) نصارٰی نے عصر تک کام کیا۔ اس کے بعد کہنے لگا عصر سے مغرب تک کون کام کرتا ہے اس کو دو قیراط ملیں گے تو تم مسلمانوں نے عصر سے مغرب تک کام کیا اور دو دو قیراط کمائے۔ یہود اور نصارٰی (قیامت کے دن کہیں گے کام تو ہم نے یعنی یہود و نصارٰی دونوں نے مل کر) زیادہ کیا (صبح سے لیکر عصر تک) اور مزدوری کم ملی۔ اللہ تعالٰی فرمائے گا (اس میں تمھارا کیا اجارہ ہے) میں نے جو تمھاری مزدوری ٹھہرائی تھی اس میں سے تو کچھ دبا نہیں رکھی (پوری دے دی)۔ وہ کہیں گے بیشک (جو مزدوری ٹھری تھی وہ تو مل گئی) پھر اللہ تعالٰی فرمائے گا یہ تو میرا فضل ہے جس پر چاہتا ہوں کرتا ہوں۔
18. باب الْوَصَاةِ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لاَ. فَقُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ، أُمِرُوا بِهَا وَلَمْ يُوصِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ.
Narrated By Talha : I asked 'Abdullah bin Abi 'Aufa, "Did the Prophet make a will (to appoint his successor or bequeath wealth)?" He replied, "No." I said, "How is it prescribed then for the people to make wills, and they are ordered to do so while the Prophet did not make any will?" He said, "He made a will wherein he recommended Allah's Book."
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے وصل کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے، کہا ہم سے طلحہ بن مصرف نے، انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے پوچھا کہ نبیﷺ نے (وفات کے وقت) وصیت کی۔ انہوں نے کہا نہیں۔ میں نے کہا قرآن میں تو وصیت کرنا لوگوں پر فرض ہوا اور نبیﷺ نے وصیت نہیں فرمائی (یہ کیسے ہو سکتا ہے)۔ انہوں نے کہا آپؐ نے اللہ کی کتاب پر چلتے رہنے کی وصیت کی۔
19. باب مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ
وَقَوْلُهُ تَعَالَى {أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ}
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمْ يَأْذَنِ اللَّهُ لِشَىْءٍ مَا أَذِنَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ". وَقَالَ صَاحِبٌ لَهُ يُرِيدُ يَجْهَرُ بِهِ
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Allah does not listen to a prophet as He listens to a prophet who recites the Qur'an in a pleasant tone." The companion of the sub-narrator (Abu Salama) said, "It means, reciting it aloud."
ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے، انہوں نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا مجھ کو ابو سلمہ بن عبدا لرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے ابو یرہرہؓ سے۔ وہ کہتے تھے اللہ تعالٰی اتنا متوجہ ہو کر کسی چیز کو نہیں سنتا جتنا قرآن کی طرف متوجہ ہو کر سنتا ہے۔ جب پیغمبرؐ اس کو خوش آوازی سے پڑھتا ہے۔ ابو سلمہ راوی کا ایک دوست (عبدالحمید بن عبدالرحمٰن) کہتا تھااس حدیث میں یَتَغَنَّی بالقراٰن سے مراد ہے کہ پکار کو اس کو پڑھو۔ اچھی آواز سے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَىْءٍ مَا أَذِنَ لِلنَّبِيِّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ". قَالَ سُفْيَانُ تَفْسِيرُهُ يَسْتَغْنِي بِهِ
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah does not listen to a prophet as He listens to a prophet who recites the Qur'an in a loud and pleasant tone." Sufyan said, "This saying means: a prophet who regards the Qur'an as something that makes him dispense with many worldly pleasures."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا اللہ تعالٰی اتنی توجہ کے ساتھ کوئی بات نہیں سنتا جتنی توجہ سے قرآن پیغمبر کے منہ سے سنتا ہے جب وہ تغنی کے ساتھ پڑھے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ تغنی سے مراد یہ ہے کہ قرآن پر قناعت کرے (اب دوسری کتابوں یا دنیا کے مال و دولت کی اس کو پرواہ نہ رہے)۔
20. باب اغْتِبَاطِ صَاحِبِ الْقُرْآنِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رضى الله عنهما قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ حَسَدَ إِلاَّ عَلَى اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالاً فَهْوَ يَتَصَدَّقُ بِهِ اللَّيْلِ وَآنَاءَالنَّهَارِ "
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said, "Not to wish to be the like except of two men. A man whom Allah has given the knowledge of the Book and he recites it during the hours of the night, and a man whom Allah has given wealth, and he spends it in charity during the night and the hours of the day."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، کہا مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، عبداللہ بن عمرؓ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے صرف دو شخصوں پر رشک ہو سکتا ہے۔ ایک تو وہ شخص جس کو اللہ تعالٰی نے قرآن دیا ہو وہ راتوں کو بھی اس کو پڑھتا ہوں (دن کو بھی) ۔دوسرے وہ شخص جس کو اللہ تعالٰی نے (حلال) مال دیا ہے۔ وہ رات دن محتاجوں پر خیرات کرتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ فَقَالَ لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلاَنٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَهْوَ يُهْلِكُهُ فِي الْحَقِّ فَقَالَ رَجُلٌ لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلاَنٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle I said, "Not to wish to be the like of except two men: A man whom Allah has taught the Qur'an and he recites it during the hours of the night and during the hours of the day, and his neighbour listens to him and says, 'I wish I had been given what has been given to so-and-so, so that I might do what he does; and a man whom Allah has given wealth and he spends it on what is just and right, whereupon an other man May say, 'I wish I had been given what so-and-so has been given, for then I would do what he does."
ہم سے علی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے سلیمان بن مہران اعمش سے، کہا میں نے ذکوان سے سنا، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا دو آدمیوں پر فقط رشک ہو سکتا ہے۔ ایک تو اس شخص پر جس کو اللہ تعالٰی نے قرآن سکھلا دیا وہ رات میں اور دن میں اس کو پڑھتا رہتا ہے۔ اس کا ہمسایہ یوں رشک کر سکتا ہے کاش مجھ کو بھی قرآن اس شخص کی طرح یاد ہوتا تو میں بھی اس کی طرح کرتا رہتا (پڑھتا رہتا)۔ دوسرے اس شخص پر جس کو اللہ تعالٰی نے (حلال) مال عنایت فرمایا وہ اس کو اچھے کاموں میں خرچ کرتا رہتا ہے۔ اس پر کوئی شخص یوں رشک کر سکتا ہے کاش مجھ کو بھی ایسی ہی دولت ملتی تو میں بھی اس کی طرح کرتا (اللہ کی راہ میں نیک کاموں میں خرچ کرتا)۔