31. باب حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَةِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " يَا أَبَا مُوسَى لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ "
Narrated By Abu Musa : That the Prophet said to him' "O Abu Musa! You have been given one of the musical wind-instruments of the family of David."
ہم سے ابو بکر عسقلانی محمد بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی حمانی نے، کہا ہم سے یزید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، انہوں نے اپنے دادا ابو بردہ سے، انہوں نے ابو موسٰی اشعریؓ سے، انہوں نے نبیﷺ سے، آپؐ نے ابو موسٰیؓ سے فرمایا تجھ کو تو داؤدؑ پیغمبر کی بانسریوں میں سے ایک بانسری ملی ہے۔
32. باب مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْمَعَ الْقُرْآنَ مِنْ غَيْرِهِ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ عَلَىَّ الْقُرْآنَ ". قُلْتُ آقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ " إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي "
Narrated By 'Abdullah : That the Prophet said to him, "Recite the Qur'an to me." 'Abdullah said, "Shall I recite (the Qur'an) to you while it has been revealed to you?" He said, "I like to hear it from others."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، انہوں نے کہا مجھ سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا ذرا تو قرآن تو مجھ کو سنا۔ میں نے کہا بھلا آپؐ کو کیا سناؤں آپؐ پر تو قرآن شریف اترا ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں مجھے دوسرے سے سننا اچھا معلوم ہوتا ہے۔
33. باب قَوْلِ الْمُقْرِئِ لِلْقَارِئِ حَسْبُكَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ عَلَىَّ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ آقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ " نَعَمْ ". فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الآيَةِ {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} قَالَ " حَسْبُكَ الآنَ ". فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ
Narrated By Abdullah bin Mas'ud : The Prophet said to me, "Recite (the Qur'an) to me." I said, "O Allah's Apostle Shall I recite (the Qur'an) to you while it has been revealed to you?" He said, "Yes." So I recited Surat-An-Nisa' (The Women), but when I recited the Verse:
'How (will it be) then when We bring from each nation a witness and We bring you (O Muhammad) as a witness against these people.' (4.41) He said, "Enough for the present," I looked at him and behold! His eyes were overflowing with tears.
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا ذرا تو قرآن تو مجھ کو سنا۔ میں نے کہا یا رسول اللہﷺ! بھلا آپؐ کو کیا سناؤں آپؐ پر تو قرآن اترا ہی ہے(آپ سے بہتر کون پڑھ سکتا ہے)۔ آپؐ نے فرمایا نہیں سنا۔ میں نے سورۃ النساء شروع کی۔ جب اس آیت پر پہنچا فکیف اذا جئنا من کل امّۃ بشھید آپؐ نے فرمایا بس کر بس۔ میں نے دیکھا تو آپؐ کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
34. باب فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؟
وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ}
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ لِي ابْنُ شُبْرُمَةَ نَظَرْتُ كَمْ يَكْفِي الرَّجُلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَلَمْ أَجِدْ سُورَةً أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثِ آيَاتٍ، فَقُلْتُ لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقْرَأَ أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثِ آيَاتٍ.
قَالَ عَلِيٌّ قَالَ سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ عَلْقَمَةُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، وَلَقِيتُهُ، وَهْوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَّ مَنْ قَرَأَ بِالآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ "
Narrated By Sufyan : Ibn Shubruma said, "I wanted to see how much of the Qur'an can be enough (to recite in prayer) and I could not find a Surah containing less than three Verses, therefore I said to myself), "One ought not to recite less than three (Qur'anic) Verses (in prayer)."
Narrated Abu Mas'ud: The Prophet said, "If somebody recites the last two Verses of Surat al-Baqara at night, it will be sufficient for him.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ بن شبرمہ نے (جو کہ کوفہ کے قاضی تھے) میں نے یہ سوچا کہ (نماز میں) آدمی کو کتنا قرآن پڑھنا کفایت کرتا ہے یعنی کم از کم (ہر رکعت میں) تو میں نے کوئی سورت تین آیتوں سے کم کی نہ پائی۔اس سے میں نے یہ نکالا کہ تین آیتوں سے کم نہ پڑھنا چاہیئے۔ علی بن مدینی نے کہا، سفیان بن عیینہ نے کہا، ہم کو منصور بن معتمر نے خبر دی، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے عبد الرحمٰن یزید سے، ان سے ان کے چچا علقمہ بن قیس نے، انہوں نے ابو مسعودؓ سے، عقبہ بن عامر سے عبدالرحمٰن نے کہا میں خود بھی ابو مسعودؓ سے ملا وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ انہوں نے نبیﷺ کا ذکر کیا اور کہا آپؐ نے فرمایا جو کوئی سورۃ بقرہ کی اخیر کی دو آیتیں رات کو پڑھ لے وہ اس کو کافی ہو جائیں گی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ فَكَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا فَتَقُولُ نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُذْ أَتَيْنَاهُ فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " الْقَنِي بِهِ ". فَلَقِيتُهُ بَعْدُ فَقَالَ " كَيْفَ تَصُومُ ". قَالَ كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ " وَكَيْفَ تَخْتِمُ ". قَالَ كُلَّ لَيْلَةً. قَالَ " صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةً وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ". قَالَ قُلْتُ أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْجُمُعَةِ ". قُلْتُ أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ " أَفْطِرْ يَوْمَيْنِ وَصُمْ يَوْمًا ". قَالَ قُلْتُ أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ " صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمِ دَاوُدَ صِيَامَ يَوْمٍ وَإِفْطَارَ يَوْمٍ وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً ". فَلَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَاكَ أَنِّي كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ فَكَانَ يَقْرَأُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ السُّبْعَ مِنَ الْقُرْآنِ بِالنَّهَارِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَعْرِضُهُ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَقَوَّى أَفْطَرَ أَيَّامًا وَأَحْصَى وَصَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيةَ أَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا فَارَقَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي ثَلاَثٍ وَفِي خَمْسٍ وَأَكْثَرُهُمْ عَلَى سَبْعٍ
Narrated By 'Abdullah bin Amr bin Al-As : My father got me married to a lady of a noble family, and often used to ask my wife about me, and she used to reply, "What a wonderful man he is! He never comes to my bed, nor has he approached me since he married me." When this state continued for a long period, my father told the story to the Prophet who said to my father, "Let me meet him." Then I met him and he asked me, "How do you fast?" I replied, "I fast daily," He asked, "How long does it take you to finish the recitation of the whole Qur'an?" I replied, "I finish it every night." On that he said, "Fast for three days every month and recite the Qur'an (and finish it) in one month." I said, "But I have power to do more than that." He said, "Then fast for three days per week." I said, "i have the power to do more than that." He said, "Therefore, fast the most superior type of fasting, (that is, the fasting of (prophet) David who used to fast every alternate day; and finish the recitation of the whole Qur'an In seven days." I wish I had accepted the permission of Allah's Apostle as I have become a weak old man. It is said that 'Abdullah used to recite one-seventh of the Qur'an during the day-time to some of his family members, for he used to check his memorization of what he would recite at night during the daytime so that it would be easier for him to read at night. And whenever he wanted to gain some strength, he used to give up fasting for some days and count those days to fast for a similar period, for he disliked to leave those things which he used to do during the lifetime of the Prophet.
ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے، انہوں نے مغیرہ بن مقسم سے، انہوں نے مجاہد بن جبر سے، انہوں نے عبداللہ بن عمروؓ سے، انہوں نے کہا میرے والد عمرو بن عاص نے (ایک خاندان والی قریش کی) ایک عورت (ام محمد بنت محمیہ) سے میرا نکاح کر دیا۔ اور ہمیشہ اس کی خبرگیری کرتے رہتے۔ اس سے یعنی بہو سے خاوند کا یعنی میرا حال پوچھتے رہتے۔ کہو تو تمھاری خاوند کے ساتھ کیسی گزرتی ہے (وہ کہتی میرا خاوند بہت اچھا نیک)" آدمی ہے مگر جب سے میں اس کے نکاح میں آئی ہوں نہ تو اس نے میرے بستر پر قدم رکھا نہ میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ ڈالا۔ جب ایک مدت اسی طرح گزری ان کی بہو یہی شکایت کرتی رہی۔ آخر عمروؓ نے مجبور ہو کر نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا اچھا عبداللہ کو میرے پاس بلا لاؤ۔ عبداللہؓ کہتے ہیں میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا آپؐ نے پوچھا تو روزے کیسے رکھتا ہے۔ میں نے کہا ہر روز روزہ رکھتا ہوں۔ پھر پوچھا قرآن کتنے دن میں ختم کرتا ہے۔ میں نے کہا ہر رات میں ایک ختم کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا (اتنی محنت کرتا ہے) ایسا کر ہر مہینے میں تین روزے رکھا کر اور ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کر۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! مجھ کو تو اس سے بھی زیادہ طاقت ہے۔ آپؐ نے فرمایا اچھا دو دن افطار کر ایک دن روزہ رکھ۔ میں نے عرض کیا مجھ کو تو اس سے بھی زیادہ (عبادت) کی طاقت ہے۔ آپؐ نے فرمایا اچھا تمام روزوں سے افضل روزہ داؤدؑ پیغمبرؑ کا اختیار کر۔ ایک دن روزہ رکھ ایک دن افطار کر ۔ اور قرآن کا ختم سات راتوں میں ایک بار کر۔ عبداللہ بن عمروؓ کہا کرتے تھے کاش میں رسول اللہﷺ کی رخصت قبول کر لیتا کیونکہ اب میں ضعیف اور بوڑھا ہو گیا ہوں (اس وقت تو جوانی کا جوش تھا) مجاہد نے کہا عبداللہ بن عمروؓ (ضعیفی کے زمانہ میں) ایسا کیا کرتے تھے قرآن شریف کا ساتواں حصّہ یعنی منزل دن کو کسی کو سنا دیتے۔ رات کو جو منزل پڑھنا ہوتی اس کو دن کو سنا رکھتے تا کہ رات کو اس کا پڑھنا آسان ہو جائے (اس میں بھولیں نہیں) اور قوت حاصل کرنے کے لئے یوں کرتے کہ چند روز تک برابر افطار کرتے لیکن دن گنتے جاتے پھر اتنے ہی دن برابر روزہ رکھتے۔ ان کو یہ برا معلوم ہوتا کہ نبیﷺ سے جو ٹھہرا تھا (ایک دن روزہ رکھنا ایک دن افطار کرنا) اس میں کمی ہو جائے۔ امام بخاری نے کہا بعض راویوں نے اس حدیث میں یوں نقل کیا ہے اچھا تین راتوں میں ختم کیا کر یا پانچ راتوں میں۔ لیکن اکثر راوی یوں نقل کرتے ہیں سات راتوں میں ایک ختم کیا کر (جیسے اوپر گزرا)۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ".
Narrated By Abdullah bin Amr : The Prophet asked me, "How long does it take you to finish the recitation of the whole Qur'an?"
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے، انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا تو کتنے دن میں ختم کرتا ہے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ـ قَالَ وَأَحْسِبُنِي قَالَ ـ سَمِعْتُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ". قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً حَتَّى قَالَ " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ "
Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : Allah's Apostle said to me, "Recite the whole Qur'an in one month's time." I said, "But I have power (to do more than that)." Allah's Apostle said, "Then finish the recitation of the Qur'an in seven days, and do not finish it in less than this period."
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسٰی نے، انہوں نے شیبان سے، انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے جو بنی زہرہ کے غلام تھے، انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، یحیٰی نے کہا اور میں خیال کرتا ہوں شاید میں نے یہ حدیث خود ابو سلمہؓ سے سنی (بلا واسطہ محمد بن عبدالرحمٰن کے) خیر ابو سلمہؓ نے عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت کی، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کر۔ میں نے عرض کیا مجھ کو تو زیادہ کی طاقت ہے۔ آپؐ نے فرمایا اچھا سات راتوں میں ختم کیا کر۔ اس سے زیادہ مت پڑھ۔
35. باب الْبُكَاءِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ يَحْيَى بَعْضُ الْحَدِيثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.ٌٌٌ[و] حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الأَعْمَشُ وَبَعْضُ الْحَدِيثِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَعَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ عَلَىَّ ". قَالَ قُلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ " إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ". قَالَ فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا}. قَالَ لِي " كُفَّ ـ أَوْ أَمْسِكْ ـ ". فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ
Narrated By 'Abdullah (bin Mas'ud) : Allah's Apostle said (to me), "Recite the Qur'an to me." I said, "Shall I recite (it) to you while it has been revealed to you?" He said, "I like to hear it from another person." So I recited Surat An-Nisa (The Women) till I reached the Verse: 'How (will it be) then when We bring from each nation a witness, and We bring you (O Muhammad) as a witness against these people.' (4.41) Then he said to me, "Stop!" Thereupon I saw his eyes overflowing with tears.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحیٰی بن سعید قطان نے، انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے سلیمان سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، یحیٰی بن سعید قطان نے کہا اس حدیث کا کچھ ٹکڑا اعمش نے ابراہیم سے خود سنا اور کچھ ٹکڑا عمرو بن مرہ کے واسطے سے، انہوں نے ابراہیم سے سنا ہے۔ دوسری سند امام بخاری نے کہا ہم سے مسدد نے، انہوں نے یحیٰی بن سعید قطان سے، انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، اعمش نے کہا میں نے اس حدیث کا ایک ٹکڑا تو خود ابراہیم سے سنا اور ایک ٹکڑا اس حدیث کامجھ سے عمرو بن مرّہ نے نقل کیا، انہوں نے ابراہیم سے، سفیان ثوری نے اس حدیث کو اپنے والد (سعید بن مسروق ثوری) سے بھی روایت کیا جیسے اعمش سے روایت کیا، انہوں نے ابو الضحٰی سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا ذرا قرآن تو پڑھ کر سنا۔ میں نے کہا بھلا آپؐ کو کیا سناؤں آپؐ پر تو قرآن اترا ہے (آپؐ سے بہتر کون پڑھ سکتا ہے)۔ آپؐ نے فرمایا نہیں مجھ کو دوسرے سے سننا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ تب میں نے سورہ النساء پڑھنا شروع کی۔ جب میں اس آیت پر پہنچا فکیف اذا جئنا تو آپؐ نے فرمایا بس کر یا ٹھہر جا۔ میں نے دیکھا آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ عَلَىَّ ". قُلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ " إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي "
Narrated By Abdullah bin Masud : The Prophet said to me, "Recite Qur'an to me." I said to him. "Shall I recite (it) to you while it has been revealed to you?" He said, "I like to hear it from another person."
ہم سے قیس بن حفص بصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے، کہا ہم سے اعمش نے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا قرآن پرھ کر مجھ کو سناؤ۔ میں نے عرض کیا آپؐ کو کیا سناؤں آپؐ پر تو قرآن شریف نازل ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں مجھ کو دوسرے سے سننا اچھا لگتا ہے۔
36. باب اِثْمَ مَنْ رَايَا بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ تَأَكَّلَ بِهِ أَوْ فَخَرَ بِهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ عَلِيٌّ رضى الله عنه سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الأَحْلاَمِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لاَ يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
Narrated By 'Ali : I heard the Prophet saying, "In the last days (of the world) there will appear young people with foolish thoughts and ideas. They will give good talks, but they will go out of Islam as an arrow goes out of its game, their faith will not exceed their throats. So, wherever you find them, kill them, for there will be a reward for their killers on the Day of Resurrection."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے خبر دی کہا ہم سے اعمش نے، انہوں خثیمہ بن عبدالرحمٰن کوفی سے، انہوں نے سوید بن غفلہ سے، انہوں نے کہا علیؓ نے کہا میں نے نبیﷺ سے سنا آپؐ نے فرمایا اخیر زمانہ میں کچھ نوجوان کم عمر کم عقل ایسے پیدا ہوں گے جو ایسا کلام پڑھیں گے جو ساری خلق کے کلاموں سے افضل ہے (یعنی آیت یا حدیث پڑھیں گے اس سے سند لائیں گے) وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے آرپار نکل جاتا ہے (اس میں کچھ لگا نہیں رہتا) ایمان کا نور اس کے گلے سے نیچے نہیں اترنے کا (بس زبان پر اللہ اللہ اور دل میں کفر) تم ان لوگوں کو جہاں پاؤ قتل کرنا۔ جو کوئی ان کو قتل کرے گا قیامت کے دن بڑا ثواب پائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَكُمْ مَعَ صَلاَتِهِمْ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ "
Narrated By Abu Said Al-Khudri : I heard Allah's Apostle saying, "There will appear some people among you whose prayer will make you look down upon yours, and whose fasting will make you look down upon yours, but they will recite the Qur'an which will not exceed their throats (they will not act on it) and they will go out of Islam as an arrow goes out through the game whereupon the archer would examine the arrowhead but see nothing, and look at the un-feathered arrow but see nothing, and look at the arrow feathers but see nothing, and finally he suspects to find something in the lower part of the arrow."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے، انہوں نے یحیٰی بن سعید انصاری سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم حارث تیمی سے، انہوں نے ابو سلمٰی بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپؐ نے فرمایا کچھ لوگ تم میں ایسے پیدا ہوں گے کہ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابل اوراپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابل اور اپنے دوسرے نیک اعمال ان کے نیک اعمال کے مطابق حقیر جانو گے۔ قرآن شریف پڑھیں گے مگر زبان سے ۔ قرآن شریف ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا (دل پر کچھ اثر نہیں کرے گا) وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور میں سے پار نکل جاتا ہے (اس میں کچھ لگا نہیں رہتا) بیکاں، پہل گانسی کو دیکھے تو صاف لکڑی کو دیکھے۔ تو صاف پر کو دیکھے۔ تو صاف فار کو دیکھے تو شک ہوتی ہے کچھ لگا یا نہیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلاَ رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ ـ أَوْ خَبِيثٌ ـ وَرِيحُهَا مُرٌّ "
Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "The example of a believer who recites the Qur'an and acts on it, like a citron which tastes nice and smells nice. And the example of a believer who does not recite the Qur'an but acts on it, is like a date which tastes good but has no smell. And the example of a hypocrite who recites the Qur'an is like a Raihana (sweet basil) which smells good but tastes bitter And the example of a hypocrite who does not recite the Qur'an is like a colocynth which tastes bitter and has a bad smell."
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالکؓ سے، انہوں نے ابو موسٰی اشعریؓ سے، انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا جو مومن قرآن پڑھتا ہے اس پر عمل بھی کرتا ہے اس کی مثال ترنج (میٹھے لیمو) کی سی ہے مزہ بھی اچھا بو بھی اچھی۔ اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا (اس کو علم نہیں ہے) مگر اس پر عمل کرتا ہے (نماز روزہ سب فرض ادا کرتا ہے) اس کی مثال کھجور کہ سی ہے مزہ تو اچھا لیکن خوشبو مطلق نہیں۔ اور جو منافق قرآن پڑھتا ہے (اس کے دل میں نور ایمان نہیں) اس کی مثال ریحان کی سی ہے جس میں خوشبو ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا۔ اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا (اتفاق کے ساتھ کمبخت بے علم بھی ہے) اس کی مثال اندرائن کے پھل کی سی ہے بو بھی بری مزہ بھی برا۔
37. باب اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ "
Narrated By Abdullah : The Prophet said, "Recite (and study) the Qur'an as long as you agree about its interpretation, but if you have any difference of opinion (as regards to its interpretation and meaning) then you should stop reciting it (for the time being)."
ہم سے ابو النعمان (محمد بن فضل سدوسی) نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے ابو عمران عبد الملک بن حبیب سے، انہوں نے جندب بن عبداللہ سے، انہوں نے نبیﷺ سے، آپؐ نے فرمایا قرآن اسی وقت تک پڑھو جب تک تمھارے دل ملے جلے ہوں۔ اختلاف اور فساد کی نیت نہ ہو یا جب تک دل لگے۔ شوق سے پڑھتے رہو۔ پھر جب تم میں اختلاف پڑ جائے (تکرار اور فساد کی نیت ہو جائے) تو اٹھ کھڑے ہو (قرآن کا پڑھنا موقوف کر دو)۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ ". تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَأَبَانُ. وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا قَوْلَهُ. وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ، وَجُنْدَبٌ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ
Narrated By Jundub : The Prophet said, "Recite (and study) the Qur'an as long as you agree about its interpretation, but when you have any difference of opinion (as regards its interpretation and meaning) then you should stop reciting it (for the time being)."
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرحمٰن بن مہدی نے، کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے، انہوں نے ابو عمران جونی سے، انہوں نے جندب بن عبداللہ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا قرآن شریف کو جب ہی تک پڑھو جب تک تمھارے دل ملے جلے ہوں (یا لگے رہیں) جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو (قرآن پڑھنا موقوف کرو) سلام کے ساتھ۔ اس حدیث کو حارث بن عبید اور سعید بن زید نے بھی ابو عمران جونی سے روایت کیا اور حماد بن سلمہ اور ابان نے اس کو مرفوع نہیں کیا (بلکہ موقوفا روایت کیا)اور غندر بن جعفر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے ابو عمران سے یوں روایت کی کہ میں نے جندب سے سنا وہ کہتے تھے (یعنی موقوفا روایت کیا)اور عبداللہ بن عون نے اس کو ابو عمران سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے عمرؓ سے ان کا قول روایت کیا۔ مرفوع نہیں کیا۔ اور جندب کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ اکثر لوگوں نے اس کو جندب ہی سے روایت کیا (نہ عمرؓ سے جیسے ابن عون نے روایت کی)۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ آيَةً، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خِلاَفَهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كِلاَكُمَا مُحْسِنٌ فَاقْرَآ ـ أَكْبَرُ عِلْمِي قَالَ ـ فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ "
Narrated By Abdullah : That he heard a man reciting a Qur'anic Verse which he had heard the Prophet reciting in a different way. So he took that man to the Prophet (and told him the story). The Prophet said, "Both of you are reciting in a correct way, so carry on reciting." The Prophet further added, "The nations which were before you were destroyed (by Allah) because they differed."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے عبدالملک بن میسرہ سے، انہوں نے نزال بن سبرہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے ایک شخص (اُبی بن کعبؓ) کو ایک آیت (حم کی) اور طرح پڑھتے سنا جس طرح ابن مسعودؓ نے نبیﷺ سے سنا تھا اس کے خلاف۔ تو انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور نبیﷺ کے پاس لے گئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ دونوں ٹھیک پڑھتے ہو۔ شعبہ نے کہا میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا اللہ کی کتاب میں جھگڑا نہ کرو کیونکہ تم سے پہلی اگلی امتوں کو ایسے ہی جھگڑوں کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے تباہ کر دیا۔