21. باب خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ". قَالَ وَأَقْرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ الْحَجَّاجُ، قَالَ وَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا
Narrated By 'Uthman(R.A.) : The Prophet(s.a.w.) said, "The best among you (Muslims) are those who learn the Qur'an and teach it."
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے۔انہوں نے کہا مجھ کو علقمہ بن مرثد حضرمی نے خبر دی کہا میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا انہوں نے ابو عبد الرحمن سلمی سے۔ انہوں نے حضرت عثمانؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا" تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا اور سکھاتا ہے"، سعید بن عبیدہ کہتے ہیں ۔ابو عبد الرحمن سلمی نے حضرت عثمانؓ کی خلافت میں لوگوں کو قرآن پڑھایا۔ حجاج بن یوسف کی حکومت کے زمانہ تک ابو عبد الرحمن کہا کرتے تھے میں جو اس جگہ بیٹھ رہا ہوں( جہاں قرآن پڑھایا کرتا ہوں دوسرا کوئی دھندا نہیں کرتا) تو صرف اس حدیث کی وجہ سے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَفْضَلَكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ "
Narrated By Uthman bin Affan(R.A.) : The Prophet (s.a.w.)said, "The most superior among you (Muslims) are those who learn the Qur'an and teach it."
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے۔انہوں نے علقمہ بن مرثد سے۔ انہوں نے ابو عبدالرحمن سلمی سے ۔انہوں نے حضرت عثمان بن عفانؓ سے۔ انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا "تم میں افضل(بزرگی والا) وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے"
(پڑھے اور پڑھائے)۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا لِي فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ ". فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا. قَالَ " أَعْطِهَا ثَوْبًا ". قَالَ لاَ أَجِدُ. قَالَ " أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". فَاعْتَلَّ لَهُ. فَقَالَ " مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". قَالَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ " فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "
Narrated By Sahl bin Sad : A lady came to the Prophet and declared that she had decided to offer herself to Allah and His Apostle. The Prophet said, "I am not in need of women." A man said (to the Prophet) "Please marry her to me." The Prophet said (to him), "Give her a garment." The man said, "I cannot afford it." The Prophet said, "Give her anything, even if it were an iron ring." The man apologized again. The Prophet then asked him, "What do you know by heart of the Qur'an?" He replied, "I know such-and-such portion of the Qur'an (by heart)." The Prophet said, "Then I marry her to you for that much of the Qur'an which you know by heart."
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن یزید نے، انہوں نے ابو حازم سے، انہوں نے سہل بن سعد سے، انہوں نے کہا ایک عورت (خولہ یا ام شریک یا میمونہ) نبیﷺ کے پاس آئی کہنے لگی میں نے اپنے تئیں اللہ اور رسولﷺ کو بخش دیا (اللہ کے رسولﷺ جس طرح چاہیں مجھ سے فائدہ اٹھائیں) آپؐ نے فرمایا اب مجھ کو تو (زیادہ) عورتوں کی احتیاج نہیں ہے۔ اس پر ایک شخص (نام نامعلوم) کہنے لگا یا رسول اللہﷺ آپ میرا نکاح اس سے کر دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا اچھا کچھ کپڑا (مہر کے طور پر) اس کو دے۔ اس نے کہا کپڑا تو میرے پاس نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا (کوئی چیز تو مہر کے طور پر) دے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ اس نے اس میں بھی عذر کیا (یہ بھی میسر نہیں)۔ آپؐ نے فرمایا اچھا تجھے کچھ قرآن یاد ہے۔ اس نے کہا جی ہاں فلاں فلاں سورتیں مجھے یاد ہیں۔ آپؐ نے فرمایا انہی سورتوں کے بدل میں نے اس عورت کا نکاح تجھ سے کر دیا۔
22. باب الْقِرَاءَةِ عَنْ ظَهْرِ الْقَلْبِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لأَهَبَ لَكَ نَفْسِي فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا. فَقَالَ " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ". فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا. قَالَ " انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ـ قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ ـ فَلَهَا نِصْفُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَىْءٌ ". فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". قَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّهَا قَالَ " أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "
Narrated By Sahl bin Sad : A lady came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! I have come to you to offer myself to you." He raised his eyes and looked at her and then lowered his head. When the lady saw that he did not make any decision, she sat down. On that, a man from his companions got up and said. "O Allah's Apostle! If you are not in need of this woman, then marry her to me." Allah's Apostle said, "Do you have anything to offer her?" He replied. "No, by Allah, O Allah's Apostle!" The Prophet said to him, "Go to your family and see if you can find something.' The man went and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Apostle! I have not found anything." The Prophet said, "Try to find something, even if it is an iron ring.'' He went again and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Apostle, not even an iron ring, but I have this waist sheet of mine." The man had no upper garment, so he intended to give her, half his waist sheet. So Allah's Apostle said, ''What would she do with your waist sheet? If you wear it, she will have nothing of it over her body, and if she wears it, you will have nothing over your body." So that man sat for a long period and then got up, and Allah's Apostle saw him going away, so he ordered somebody to call him. When he came, the Prophet asked him, " How much of the Qur'an do you know?" He replied, "I know such Surat and such Surat and such Surat," and went on counting it, The Prophet asked him, "Can you recite it by heart?" he replied, "Yes." The Prophet said, "Go, I have married this lady to you for the amount of the Qur'an you know by heart."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے ابو حازم (سلمہ بن دینار) سے، انہوں نے سہل بن سعد سے کہ ایک عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی۔ کہنے لگی یا رسول اللہﷺ! میں اس لئے آئی ہوں کہ میں اپنے تئیں آپؐ کو بخش دوں۔ آپؐ جس طرح چاہیں مجھ میں تصرف کیجئے۔آپؐ نے آنکھ اٹھا کر اس کو دیکھا۔ اوپر نیچے پھر سر جھکا لیا (آپؐ کے مزاج میں شرم اور مروّت بیحد تھی) شرم سے کچھ فرما نہ سکے۔ صاف انکار بھی عورت کی دل شکنی کی وجہ سے نہیں کیا۔ جب عورت نے دیکھا آپؐ نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا
(اس کو قبول فرماتے ہیں یا نہیں) تو وہ بیٹھ گئی۔ اتنے میں ایک شخص آپؐ کے اصحاب میں سے کھڑا ہوا (نام نامعلوم) کہنے لگا یا رسول اللہﷺ آپؐ کو اس عورت کی خواہش نہیں ہے تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا تیرے پاس کچھ دینے کو ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ پروردگار کی قسم! میرے پاس تو دینے کو کچھ نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا اپنے عزیزوں کے پاس جا۔ تلاش کر۔ کچھ تو لیکر آ۔ وہ آگیا اور خالی ہاتھ لوٹ آیا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ پروردگار کی قسم ! مجھ کو تو کوئی چیز نہیں ملی (جو میں اس عورت کو مہر کے طور پر دوں)۔ آپؐ نے فرمایا جا دیکھ بھال اور کچھ نہیں تو لوہے کہ ایک انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گیا پھر لوٹ آیا کہنے لگا بخدا یا رسول اللہﷺ ! مجھے تو لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہ مل سکی۔ البتہ یہ تہ بند (جس کو میں باندھے ہوں) میرے پاس ہے میں اس کو مہر کے طور پر دے سکتا ہوں۔ سہلؓ نے کہا اس شخص کے پاس چادر بھی نہ تھی۔ کہنے لگے یہی لنگی آدھی پھاڑ کر اس عورت کو مہر میں دے دیتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا یہ لنگی کیا کام آئے گی اگر تو اس کو پہنے تو عورت ننگی رہے گی۔ عورت اس کو پہنے تو تو ننگا رہے گا۔ یہ سن کر وہ مرد بھی بیٹھ گیا۔ دیر تک خاموش ناامید ہو کر بیٹھ رہا۔ اس کے بعد کھڑا ہوا۔ رسول اللہﷺ نے دیکھا وہ پیٹھ موڑ کر جا رہا ہے۔ آپؐ نے حکم دیا وہ پھر بلایا گیا۔ جب حاضر ہوا تو آپؐ نے پوچھا تجھے کچھ قرآن یاد ہے۔ کہنے لگا جی ہاں فلانی فلانی سورت یاد ہے۔ کئی سورتیں اس نے شمار کیں۔ آپؐ نے فرمایا تو ان کو یاد سے پڑھ سکتا ہے۔ کہنے لگا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا جا میں نے یہ عورت اس قرآن کے بدل تیری نکاح میں دی جو تجھ کو یاد تھا۔
23. باب اسْتِذْكَارِ الْقُرْآنِ وَتَعَاهُدِهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ "
Narrated By Ibn Umar : Allah's Apostle said, "The example of the person who knows the Qur'an by heart is like the owner of tied camels. If he keeps them tied, he will control them, but if he releases them, they will run away."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمرؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قرآن کریم جس کو یاد ہو یا مصحف میں دیکھ کر تلاوت کرتا ہو اس کی مثال اونٹ والے کی سی ہے جو رسی میں بندھے ہوں۔ اگر مالک ان کی خبر گیری رکھے گا، ان کو دیکھتا رہے گا تو وہ اونٹ محفوظ رہیں گے۔ اگر چھوڑ دے گا تو (رسّی تڑوا کر) کہیں بھی چل دیں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِئْسَ مَا لأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ نُسِّيَ، وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ "حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، مِثْلَهُ. تَابَعَهُ بِشْرٌ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ،. وَتَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ شَقِيقٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Abdullah : The Prophet said, "It is a bad thing that some of you say, 'I have forgotten such-and-such verse of the Qur'an,' for indeed, he has been caused (by Allah) to forget it. So you must keep on reciting the Qur'an because it escapes from the hearts of men faster than camel do."
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابو وائل سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا یوں کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا۔بلکہ یوں کہے کہ بھلا دی گئی اللہ تعالٰی نے بھلا دی اور قرآن شریف کو پڑھتے رہو کیونکہ قرآن شریف آدمی کے سینے سے اونٹوں سے بھی زیادہ جلد نکل جاتا ہے۔
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبد المجید نے، انہوں نے منصور بن معتمر سے ایسی ہی حدیث جو اوپر بیان ہوئی۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس حدیث کو بشر بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن مبارک سے، انہوں نے شعبہ سے روایت کیا، اور محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس حدیث کو ابن جریج نے بھی عبدہ سے، انہوں نے شقیق بن سلمہؓ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے ایسا ہی روایت کیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الإِبِلِ فِي عُقُلِهَا "
Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "Keep on reciting the Qur'an, for, by Him in Whose Hand my life is, Qur'an runs away (is forgotten) faster than camels that are released from their tying ropes."
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے، انہوں نے برید بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے دادا ابو بردہ سے، انہوں نے ابو موسٰی اشعریؓ سے، انہوں نے نبیﷺ سے، آپؐ نے فرمایا کہ قرآن شریف کو ہمیشہ پڑھتے رہو۔ قسم اس پروردگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قرآن شریف اس سے بھی جلد نکل بھاگتا ہے جتنا جلد اونٹ رسّی تڑوا کر بھاگ جاتا ہے۔
24. باب الْقِرَاءَةِ عَلَى الدَّابَّةِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِيَاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهْوَ يَقْرَأُ عَلَى رَاحِلَتِهِ سُورَةَ الْفَتْحِ
Narrated By 'Abdullah bin Mughaffal : I saw Allah's Apostle reciting Surat-al-Fath on his she-camel on the day of the Conquest of Mecca.
ہم سے حجاج بن منھال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا مجھ کو ابو ایاس نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن مغفل سے سنا وہ کہتے تھے جس دن مکہ فتح ہوا میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپؐ اپنی اونٹنی پر سوار سورۃ انّا فتحنا لک فتحا مّبینا پڑھ رہے تھے۔
25. باب تَعْلِيمِ الصِّبْيَانِ الْقُرْآنَ
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ، قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ
Narrated By Said bid Jubair : Those Suras which you people call the Mufassal, are the Muhkam. And Ibn 'Abbas said, "Allah's Apostle died when I was a boy of ten years, and I had learnt the Muhkam (of the Qur'an).
مجھ سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے، انہوں نے ابو البشر سے، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے، انہوں نے کہا قرآن کے جس حصہ کو تم مفصّل کہتے ہو (یعنی سورہ حجرات سے اخیر تک) وہ محکم ہے۔ سعید بن جبیرؓ نے کہا ابن عباسؓ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے جب وفات پائی اس وقت میں دس برس کا تھا اور محکم پڑھ چکا تھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ وَمَا الْمُحْكَمُ قَالَ الْمُفَصَّلُ
Narrated By Said bin Jubair : Ibn 'Abbas said, "I have learnt all the Muhkam Suras during the life time of Allah's Apostle." I said to him, 'What is meant by the Muhkam?" He replied, "The Mufassal."
ہم یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ھشیم نے، کہا ہم کو ابو البشر نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا میں نے محکم کو رسول اللہﷺ کے زمانے میں یاد کر لیا تھا۔ ابو البشر نے کہا میں نے سعید بن جبیرؓ سے پوچھا محکم کیا ہیں انہوں نے کہا مفصّل۔
26. باب نِسْيَانِ الْقُرْآنِ وَهَلْ يَقُولُ نَسِيتُ آيَةَ كَذَا وَكَذَا
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {سَنُقْرِئُكَ فَلاَ تَنْسَى * إِلاَّ مَا شَاءَ اللَّهُ}
حَدَّثَنَا رَبِيعُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَقْرَأُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ " يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً مِنْ سُورَةِ كَذَا "حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ هِشَامٍ، وَقَالَ، أَسْقَطْتُهُنَّ مِنْ سُورَةِ كَذَا. تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ
Narrated By 'Aisha : The Prophet heard a man reciting the Qur'an in the mosque and said, "May Allah bestow His Mercy on him, as he has reminded me of such-and-such Verses of such a Surah."
Narrated By Hisham : (The same Hadith, adding): which I missed (modifying the Verses).
ہم سے ربیع بن یحیٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ بن قدامہ نے، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے ایک شخص (عبداللہ بن یزید انصاری) کی آواز سنی جو مسجد میں قراءت کر رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے اس نے مجھ کو فلاں فلاں آیتیں یاد دلائیں۔
ہم سے محمد بن عبیداللہ بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسٰی بن یونس نے، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے یہی حدیث اس میں اتنا زیادہ ہے جن کو میں فلانی سورت میں بھول گیا تھا۔ محمد بن عبیداللہ کے ساتھ اس حدیث کو علی بن مسہر اور عبدہ نے بھی ہشام سے روایت کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يَقْرَأُ فِي سُورَةٍ بِاللَّيْلِ فَقَالَ " يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا "
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle heard a man reciting the Qur'an at night, and said, "May Allah bestow His Mercy on him, as he has reminded me of such-and-such Verses of such-and-such Suras, which I was caused to forget."
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ایک شخص عبداللہ بن یزید انصاری کو رات کو ایک سورت پڑھتے سنا تو فرمایا اللہ اس پر رحم کرے اس نے مجھ کو فلانی فلانی آیت فلاں فلاں سورت کی یاد دلا دی جس کو میں بھلا دیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا لأَحَدِهِمْ يَقُولُ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ. بَلْ هُوَ نُسِّيَ "
Narrated By Abdullah : The Prophet said, "Why does anyone of the people say, 'I have forgotten such-and-such Verses (of the Qur'an)?' He, in fact, is caused (by Allah) to forget."
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابو وائل سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا یوں کہنا بری بات ہے کہ میں فلانی آیت بھول گیا فلانی آیت بھول گیا۔ بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ وہ بھلا دیا گیا۔
27. باب مَنْ لَمْ يَرَ بَأْسًا أَنْ يَقُولَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَسُورَةُ كَذَا وَكَذَا
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَ بِهِمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ "
Narrated By Abu Mas'ud Al-Ansari : The Prophet said, "If one recites the last two Verses of Surat-al-Baqara at night, it is sufficient for him (for that night)."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، انہوں نے کہا مجھ سے ابراہیم نخعی نے، انہوں نے علقمہ بن قیس اور عبدالرحمٰن بن یزید سے، ان دونوں نے ابو مسعود انصاری سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا سورۃ البقرۃ کی دو آیتیں (اٰمن الرسول سے اخیر تک) جو کوئی ان کو پڑھ لے اس کو کافی ہو جائیں گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلاَةِ فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَبَبْتُهُ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ قَالَ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَقُلْتُ لَهُ كَذَبْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقُودُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَإِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ. فَقَالَ " يَا هِشَامُ اقْرَأْهَا ". فَقَرَأَهَا الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا أُنْزِلَتْ ". ثُمَّ قَالَ " اقْرَأْ يَا عُمَرُ ". فَقَرَأْتُهَا الَّتِي أَقْرَأَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا أُنْزِلَتْ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ "
Narrated By Umar bin Khattab : I heard Hisham bin Hakim bin Hizam reciting Surat-al-Furqan during the lifetime of Allah's Apostle, and I listened to his recitation and noticed that he recited it in several ways which Allah's Apostle had not taught me. So I was on the point of attacking him in the prayer, but I waited till he finished his prayer, and then I seized him by the collar and said, "Who taught you this Surah which I have heard you reciting?" He replied, "Allah's Apostle taught it to me." I said, "You are telling a lie; By Allah! Allah's Apostle taught me (in a different way) this very Surah which I have heard you reciting." So I took him, leading him to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! I heard this person reciting Surat-al-Furqan in a way that you did not teach me, and you have taught me Surat-al-Furqan." The Prophet said, "O Hisham, recite!" So he recited in the same way as I heard him recite it before. On that Allah's Apostle said, "It was revealed to be recited in this way." Then Allah's Apostle said, "Recite, O 'Umar!" So I recited it as he had taught me. Allah's Apostle then said, "It was revealed to be recited in this way." Allah" Apostle added, "The Qur'an has been revealed to be recited in several different ways, so recite of it that which is easier for you."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبد قاری سے، ان دونوں نے عمر بن خطابؓ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو رسول اللہﷺ کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں نے جو کان لگا کر ان کی قراءت کو سنا تو معلوم ہوا وہ اس کو ایسی قراءتوں سے پڑھتے ہیں جو رسول اللہﷺ نے مجھ کو نہیں پڑھائی تھیں۔ قریب تھا کہ میں نماز ہی میں ان پر حملہ کر بیٹھوں مگر میں خاموش رہا۔جب انہوں نے سلام پھیرا تو چادر ان کے گلے میں لپیٹی (ایسا نہ ہو کہ وہ چلدیں) اور میں نے پوچھا تم کو یہ سورت جو ابھی میں نے تم سے پڑھتے سنی کس نے پڑھائی۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے پڑھائی اور کس نے۔ میں نے کہا تم جھوٹ کہتے ہو خدا کی قسم! جناب رسول اللہﷺ نے تو خود مجھ کو یہ سورت پڑھائی ہے (اور تم اس کے خلاف پڑھتے ہو۔ پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ تم کو اور طرح پڑھائی اور مجھ کو اور طرح)۔ آخر میں ان کو کھینچتا ہوا رسول اللہﷺ کے پاس لایا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! ہشام کو میں نے سنا وہ سورت فرقان کو ایسی قراءتوں سے پڑھتا ہے جو آپؐ نے مجھ کو نہیں پڑھائیں۔ اور یہ سورت تو خود مجھ کو آپؐ نے پڑھائی ہے۔ آپؐ نے ہشام سے فرمایا اچھا پڑھ۔ تو انہوں نے پڑھا اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے ان کو پڑھتے سنا تھا۔ آپؐ نے فرمایا (صحیح ہے) یہ سورت اسی طرح اتری ہے۔ پھر آپؐ نے مجھ سے فرمایا عمرؓ اب تو پڑھ۔ میں نے اسی طرح پڑھا جس طرح آپؐ نے مجھ کو سکھلائی تھی۔ آپؐ نے فرمایا (صحیح ہے) یہ سورت اس طرح اتری ہے۔ پھر فرمایا دیکھو قرآن شریف سات قراءتوں پر اترا ہے جو تم آسانی سے پڑھ سکو پڑھو۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ " يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً، أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا "
Narrated By 'Aisha : The Prophet heard a reciter reciting, the Qur'an in the mosque at night. The Prophet said, "May Allah bestow His Mercy on him, as he has remind ed me of such-and-such Verses of such and-such Suras, which I missed!"
ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہؓ سے،انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے رات کو مسجد میں ایک قرآن شریف پڑھنے والے کی آواز سنی تو فرمانے لگے اللہ تعالٰی اس پر رحم کرے اس نے مجھ کو کئی آیتیں یاد دلا دیں جو میں فلانی سورت کی بھول گیا تھا۔
28. باب التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَاءَةِ
وَقَوْلِهِ تَعَالَى {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلاً} وَقَوْلِهِ {وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ} وَمَا يُكْرَهُ أَنْ يُهَذَّ كَهَذِّ الشِّعْرِ. {يُفْرَقُ} يُفَصَّلُ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {فَرَقْنَاهُ} فَصَّلْنَاهُ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ. فَقَالَ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ وَإِنِّي لأَحْفَظُ الْقُرَنَاءَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم
Narrated By Abu Wail : We went to 'Abdullah in the morning and a man said, "Yesterday I recited all the Mufassal Suras." On that 'Abdullah said, "That is very quick, and we have the (Prophet's) recitation, and I remember very well the recitation of those Suras which the Prophet used to recite, and they were eighteen Suras from the Mufassal, and two Suras from the Suras that start with Ha Mim.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا ہم سے واصب احدب نے، انہوں نے ابو وائل سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے۔ ابو وائل نے کہا ایک دن ہم صبح سویرے عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس گئے۔ لوگوں میں ایک شخص (نہیک بن سنان) کہنے لگا میں نے تو گزشتہ رات کو سارا مفصّل (سورہ حجرات سے اخیر قرآن تک) پڑھ ڈالا۔ ابن مسعود نے کہا ہاں فر فر جیسے شعر پڑھتا ہے۔ دیکھو ہم لوگ نبیﷺ کی قراءت (یا قاریوں کی قراءت) سن چکے ہیں۔ اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو نبیﷺ (نماز میں ملا کر پڑھا کرتے)۔ یہ مفصل کی اٹھارہ سورتیں تھیں اور دو سورتیں حم۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ فِي قَوْلِهِ {لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْىِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الآيَةَ الَّتِي فِي {لاَ أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} {لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ * فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ {ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ. قَالَ وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ
Narrated By Ibn Abbas : Regarding His (Allah's) Statement: 'Move not your tongue concerning (the Qur'an) to make haste therewith.' (75.16) And whenever Gabriel descended to Allah's Apostle with the Divine Inspiration, Allah's Apostle used to move his tongue and lips, and that used to be hard for him, and one could easily recognize that he was being inspired Divinely. So Allah revealed the Verse which occurs in the Surah starting with "I do swear by the Day of Resurrection.' (75.1) i.e. 'Move not your tongue concerning (the Qur'an) to make haste then with. It is for Us to collect it (in your mind) (O Muhammad) an give you the ability to recite it 'by heart.' (75.16-17) which means: It is for us to collect it (in your mind) and give you the ability to recite it by heart. And when We have recited it to you (O Muhammad) through Gabriel then follow you its recital. (75.18) means: 'When We reveal it (the Qur'an) to you, Listen to it.' for then: It is for Us to explain it and make it clear to you' (75.19) i.e. It is up to Us to explain it through your tongue. So, when Gabriel came to him, Allah's Apostle would listen to him attentively, and as soon as Gabriel left, he would recite the Revelations, as Allah had promised him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبد الحمید نے، انہوں نے ابو موسٰی بن ابی عائشہؓ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے اس آیت لَا تَحَرِّک لِسَانک لتعجل بہ کی تفسیر میں کہا کہ رسول اللہﷺ پر وحی اترتے وقت بہت سختی ہوتی۔ جب جبریلؑ وحی لاتے تو آپؐ ہونٹ ہلاتے رہتے۔ یہ سختی لوگوں کو معلوم ہو جاتی۔ اس وقت اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری جو سورۃ قیامہ میں ہے لَا تَحَرِّک لِسَانک لتعجل بہ یعنی قرآن شریف تیرے دل پر جما دینا اور پڑھا دینا ہمارا کام ہے۔ جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو اس وقت جیسے ہم نے پڑھا تو بھی پڑھ۔ وحی اترتے وقت ستا رہ۔ پھر اس کا بیان کر دینا ہمارے ذمہ ہے۔یعنی تیری زبان میں اس کا سمجھا دینا۔ ابن عباسؓ نے کہا ان آیتوں کے اترنے کے بعد جبریلؑ آپؐ کے پاس وحی لیکر آتے تو آپؐ سر جھکا لیتے۔ جب جبریلؑ چلے جاتے تو اللہ تعالٰی نے جیسا وعدہ کیا تھاکہ تیرے دل میں جما دینا اور پڑھا دینا ہمارا کام ہے۔ آپؐ اسی کے موافق پڑھ دیتے۔
29. باب مَدِّ الْقِرَاءَةِ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ يَمُدُّ مَدًّا
Narrated By Qatada : I asked Anas bin Malik about the recitation of the Prophet. He said, "He used to pray long (certain sounds) very much.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے، کہا ہم سے قتادہ نے، انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک سے پوچھا رسول اللہﷺ کیوں کر قراءت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا مد کے ساتھ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ كَانَتْ مَدًّا. ثُمَّ قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، يَمُدُّ بِبِسْمِ اللَّهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ
Narrated By Qatada : Anas was asked, "How was the recitation (of the Qur'an) of the Prophet?' He replied, "It was characterized by the prolongation of certain sounds." He then recited: In the Name of Allah, the Most Beneficent, the Most Merciful prolonging the pronunciation of 'In the Name of Allah, 'the most Beneficent,' and 'the Most Merciful.
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے کہا انسؓ سے پوچھا گیا نبیﷺ کیوں کر قراءت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا آپؐ مد کے ساتھ قراءت کرتے تھے (یعنی حرفوں کو بڑھا کر جہاں بڑھانا چاہئیے) پھر انہوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم پڑھی۔ بسم اللہ کو بڑھایا۔ رحمٰن کو بڑھایا اور رحیم کو بڑھایا۔
30. باب التَّرْجِيعِ
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ وَهْوَ عَلَى نَاقَتِهِ ـ أَوْ جَمَلِهِ ـ وَهْىَ تَسِيرُ بِهِ وَهْوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ أَوْ مِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ قِرَاءَةً لَيِّنَةً يَقْرَأُ وَهْوَ يُرَجِّعُ
Narrated By 'Abdullah bin Mughaffal : I saw the Prophet reciting (Qur'an) while he was riding on his she camel or camel which was moving, carrying him. He was reciting Surat Fath or part of Surat Fath very softly and in an Attractive vibrating tone.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے ابو ایاس نے، انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن مغفل سے سنا، انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کو دیکھا آپؐ اپنی اونٹنی یا اونٹ پر سوار ہو کر سورۃ انا فتحنا یا اس سورت میں سے کچھ پڑھ رہے تھے۔ اونٹنی آپؐ کو لیکر چل رہی تھی۔ آپؐ نرمی کے ساتھ قراءت کر رہے تھے اور آواز کو دہراتے تھے۔