- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First910111213

101. باب إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ قَالَ السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا‏

Narrated By Anas : The tradition, (of the Prophet) is that if someone marries a virgin and he has already a matron wife (with him), then he should stay with the virgin for seven days; and if someone marries a matron (and he has already a virgin wife with him) then he should stay with her for three days.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے بشر بن مفضل نے کہا ہم سے خالد خذاء نے انہوں نے ابو قلابہؓ سے انہوں نے انسؓ سے خالد یا ابو قلابہؓ کہتے ہیں اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ نبیﷺ نے فرمایا مگر انسؓ نے کہا سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص ثیبہ عورت رکھ کرکنواری سے نیا نکاح کرے تو سات دن (برابر) اس کنواری کے پاس رہے اور اگر کنواری عورت رکھ کر ثیبہ سے نیا نکاح کرے تو تین دن رات (برابر) اس کے پاس رہے۔

102. باب إِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَخَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَقَسَمَ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ قَسَمَ‏.‏ قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ وَلَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ إِنَّ أَنَسًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ وَخَالِدٍ قَالَ خَالِدٌ وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.

Narrated By Anas : It is the Prophet's tradition that if someone marries a virgin and he has already a matron wife then he should stay for seven days with her (the virgin) and then by turns; and if someone marries a matron and he has already a virgin wife then he should stay with her (the matron) for three days, and then by turns.

ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے سفیان ثوری سے کہا ہم سے ایوب سختیانی اور خالد خذاء دونوں نے بیان کیا انہوں نے ابو قلابہؓ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا سنت یہ ہے کہ جب مرد ثیبہ عورت رکھ کر کنواری سے نئی شادی کرے تو سات دن رات (برابر) کنواری کے پاس رہے اس کے بعد باری باری رہا کرے اور جب کنواری عورت رکھ کر ثیبہ سے نکاح کرے تو تین دن رات برابر اس کے پاس رہے اس کے بعد باری باری دونوں کےپاس رہا کرے ابو قلابہؓ نے کہا اگر میں چاہوں تو یوں کہہ سکتا ہوں کہ انسؓ نےیہ حدیث مرفوعا آپﷺ سے روایت کی ہے اور عبدالرزاق نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبردی انہوں نے ایوب اور خالد سے، خالد نے کہا اگر میں چاہوں تو حدیث کو نبیﷺ تک رفع کرسکتا ہوں (یوں کہہ سکتا ہوں آپﷺ نے فرمایا۔

103. باب مَنْ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet used to pass by (have sexual relation with) all his wives in one night, and at that time he had nine wives.

ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے انہوں نے قتادہؓ سے ان سے انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ نبیﷺ نے اپنی ساری بی بیوں کے پاس ایک رات میں ہو آتے ان دنوں ان کی نو بی بیاں تھیں (آپ کو حق تعالیٰ نے تیس مردوں کی طاقت دی تھی)۔

104. باب دُخُولِ الرَّجُلِ عَلَى نِسَائِهِ فِي الْيَوْمِ

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ، فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَاحْتَبَسَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَحْتَبِسُ‏.‏

Narrated By 'Aisha : Whenever Allah's Apostle finished his 'Asr prayer, he would enter upon his wives and stay with one of them. One day he went to Hafsa and stayed with her longer than usual.

ہم سے فروہ بن ابی المغرہ نے بیان کیا کہا ہم سے علی بن مسہر نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ جب عصر کی نماز پڑھ چکتے تو اپنی بی بیوں کے پاس تشریف لے جایا کرتےاور کسی کے نزدیک بھی جاتے(مگر صحبت نہ کرتے) ایک بار حضرت حفصہؓ کے پاس گئے اور ان کے پاس بہت ٹھہرے اتنا کبھی نہیں ٹھہرے تھے۔

105. باب إِذَا اسْتَأْذَنَ الرَّجُلُ نِسَاءَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِ بَعْضِهِنَّ، فَأَذِنَّ لَهُ‏.

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ‏"‏ أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا ‏"‏‏.‏ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَىَّ فِيهِ فِي بَيْتِي، فَقَبَضَهُ اللَّهُ، وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي‏

Narrated By 'Aisha : That during his fatal ailment, Allah's Apostle, used to ask his wives, "Where shall I stay tomorrow? Where shall I stay tomorrow?" He was looking forward to 'Aisha's turn. So all his wives allowed him to stay where he wished, and he stayed at 'Aisha's house till he died there. 'Aisha added: He died on the day of my usual turn at my house. Allah took him unto Him while his head was between my chest and my neck and his saliva was mixed with my saliva.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویسؓ نے بیان کیا کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے کہ ہشام بن عروہ نے کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی وہ کہتی تھیں رسول اللہﷺ اپنی موت کی بیماری میں (بار بار) پوچھتے تھے کل میں کہاں رہوں گا کل میں کہاں رہوں گا آپ کا مطلب یہ تھا کہ حضرت عائشہؓ کی باری کب آئے گی یہ حال دیکھ کر آپ کی بیویوں نے اجازت دی کہ آپ بیماری میں جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں اس کے بعد آپ حضرت عائشہؓ ہی کے گھر میں رہے وہیں وفات پائی حضرت عائشہؓ کہتی ہیں (اتفاق سے) آپ اسی دن فوت ہوئے جو میری باری کا دن تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح (مبارک) اس حال میں قبض کی کہ آپ کا سرمیری دگدگی اور سینے کے بیچ میں تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان دیکھو کہ اس نے وفات کے وقت میرا اور آپ کا تھوک ملا دیا۔

106. باب حُبِّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَفْضَلَ مِنْ بَعْضٍ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَقَالَ يَا بُنَيَّةِ لاَ يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا ـ يُرِيدُ عَائِشَةَ ـ فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَبَسَّمَ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : That 'Umar entered upon Hafsa and said, "O my daughter! Do not be misled by the manners of her who is proud of her beauty because of the love of Allah's Apostle for her." By 'her' he meant 'Aisha. 'Umar added, "Then I told that to Allah's Apostle and he smiled (on hearing that)."

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے انہوں نے یحیٰی بن سعید انصاری سے انہوں نے عبید بن حنین سے انہوں نے ابن عباسؓ سے سنا انہوں نے حضرت عمرؓ سے وہ حضرت حفصہؓ کے پاس گئے اور کہنے لگے بیٹا تجھ کو یہ عورت دھوکہ نہ دے جو اپنے حسن و جمال اور رسول اللہﷺ کی محبت پر پھولی ہوئی ہے (یعنی حضرت عائشہؓ) حضرت عمرؓ کہتے ہیں جب میں(بالاخانہ پر رسول اللہﷺکے پاس گیااور میں )نے یہ گفتگو بیان کی تو آپ مسکرا دیے۔

107. باب الْمُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يَنَلْ، وَمَا يُنْهَى مِنِ افْتِخَارِ الضَّرَّةِ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَىْ زُورٍ ‏"‏‏

Narrated By Asma : Some lady said, "O Allah's Apostle! My husband has another wife, so it is sinful of me to claim that he has given me what he has not given me (in order to tease her)?" Allah's Apostle said, The one who pretends that he has been given what he has not been given, is just like the (false) one who wears two garments of falsehood."

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے انہوں اسماء بنت ابی بکرؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے دوسری سند امام بخاری نے کہا مجھ سے محمد بن مثنہ نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے مجھ سے فاطمہ بنت منذر بن زبیر نے انہوں نے اسماء بنت ابی بکرؓ سے کی ایک عورت (خود اسماء) نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میری ایک سوکن ہے اگر میں اس کا دل جلانے کو (جھوٹ موٹ) یوں کہوں میرے خاوند نے یہ یہ چیزیں مجھ کو دی ہیں جو اس نے (حقیقت میں) نہیں دیں تو کیا میں گنہ گار ہوں گی آپ نے فرمایا جو شخص اپنے تیئں وہ چیزیں ملنا بیان کرے جو اس کو نہیں ملیں تو اس کی مثال اس شخص کی ہے جو فریب کا جوڑا زیب تن کرے۔

108. باب الْغَيْرَةِ

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، وَمَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin Masud : The Prophet, said, "There is none having a greater sense of Ghira than Allah. And for that He has forbidden the doing of evil actions (illegal sexual intercourse etc.) There is none who likes to be praised more than Allah does."

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے والد نے کہا ہم سے اعمش نے انہوں نے شقیق بن سلمہ سے انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے نبیﷺسے روایت کی آپ نے فرمایا اللہ سے بڑھ کر کسی کو غیرت نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے بے حیائی کے کاموں کو حرام کر دیا ہے اور اللہ سےبڑھ کر اور کسی کی تعریف کرنا پسند نہیں آئی۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَرَى عَبْدَهُ أَوْ أَمَتَهُ تَزْنِي يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle said, "O followers of Muhammad! There is none, who has a greater sense of Ghira (self-respect) than Allah, so He has forbidden that His slave commits illegal sexual intercourse or His slave girl commits illegal sexual intercourse. O followers of Muhammad! If you but knew what I know, you would laugh less and weep more!"

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالکؒ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نےحضرت عائشہؓ سےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ٘محمدؐ کی امت کے لوگو! اللہ سے بڑھ کر کسی میں غیرت نہیں ہے اس کو بڑی غیرت آتی ہے جب وہ اپنے غلام یا لونڈی کو حرام کاری کرتے دیکھتا ہے محمدؐ کی امت کے لوگو! اگر تم وہ باتیں جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور اکثر روتے رہتے۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ، أَسْمَاءَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ شَىْءَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ ‏"‏‏.

Narrated By Asma' : I heard Allah's Apostle saying, "There is nothing (none) having a greater sense of Ghira (self-respect) than Allah."

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ہمام بن یحیٰی نے انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیرسے انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے ان سے عروہ بن زبیرؓ نے بیان کیا انہوں نے اپنی والدہ اسماء بنت ابی بکرؓ سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے اللہ سے بڑھ کرغیرت وار کوئی نہیں ہے ۔


وَعَنْ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ ‏"

Narrated By Abu Huraira : The Prophet; said, "Allah has a sense of Ghira, and Allah's sense of Ghira is provoked when a believer does something which Allah has prohibited."

اور (اسی سند سے) یحیٰی بن ابی کثیر سے روایت ہے ان سے ابو سلمہؓ نے بیان کیا ان سے ابو ہریرہؓ نے انہوں نے نبیﷺ سے یہی حدیث سنی۔ ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی نے انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلمہؓ سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے سنا انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ غیرت کرتا ہے اور اس کو غیرت اس پر آتی ہے کہ مومن حرام کاری کرے۔


حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ، وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مِنْ مَالٍ، وَلاَ مَمْلُوكٍ، وَلاَ شَىْءٍ غَيْرَ نَاضِحٍ، وَغَيْرَ فَرَسِهِ، فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ، وَكَانَ يَخْبِزُ جَارَاتٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَأْسِي، وَهْىَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَىْ فَرْسَخٍ، فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِخْ إِخْ ‏"‏‏.‏ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ، وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي قَدِ اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَى، فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ فَقُلْتُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لأَرْكَبَ، فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَىَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ‏.‏ قَالَتْ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَىَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ يَكْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي‏

Narrated By Asma' bint Abu Bakr : When Az-Zubair married me, he had no real property or any slave or anything else except a camel which drew water from the well, and his horse. I used to feed his horse with fodder and drew water and sew the bucket for drawing it, and prepare the dough, but I did not know how to bake bread. So our Ansari neighbours used to bake bread for me, and they were honourable ladies. I used to carry the date stones on my head from Zubair's land given to him by Allah's Apostle and this land was two third Farsakh (about two miles) from my house. One day, while I was coming with the date stones on my head, I met Allah's Apostle along with some Ansari people. He called me and then, (directing his camel to kneel down) said, "Ikh! Ikh!" so as to make me ride behind him (on his camel). I felt shy to travel with the men and remembered Az-Zubair and his sense of Ghira, as he was one of those people who had the greatest sense of Ghira. Allah's Apostle noticed that I felt shy, so he proceeded. I came to Az-Zubair and said, "I met Allah's Apostle while I was carrying a load of date stones on my head, and he had some companions with him. He made his camel kneel down so that I might ride, but I felt shy in his presence and remembered your sense of Ghira (See the glossary). On that Az-Zubair said, "By Allah, your carrying the date stones (and you being seen by the Prophet in such a state) is more shameful to me than your riding with him." (I continued serving in this way) till Abu Bakr sent me a servant to look after the horse, whereupon I felt as if he had set me free.

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نےکہا مجھ کو والد(عروہ) نے خبر دی انہوں نے کہا اسماء بنت ابی بکرؓ سے انہوں نے کہا جب زبیر بن عوام نے (مکہ میں) مجھ سے نکاح کیا اس وقت وہ بالکل محتاج تھے نہ روپیہ نہ پیسہ تھا نہ غلام نہ لونڈی اور نہ کوئی جائیداد بس ایک پانی لانے کا اونٹ اور ایک گھوڑا ان کے پاس تھا میں ان کے گھوڑے کا دانہ چارہ اس کی خدمت کیا کرتی پانی بھی لاتی پانی کاڈول بھی خود سی لیتی آٹا بھی آپ ہی گوندھتی مجھ کو روٹی پکانا اچھی طرح نہیں آتا تھا میری ہمسائی انصاری عورتیں میری روٹی پکا دیا کرتی تھیں انصاری عورتیں بھی کیا (ایماندار) سچی عورتیں تھیں میں کیا کرتی رسول اللہﷺ نے جو زمین مقطع کے طور پر زبیر کو دی تھی اس میں گھٹلیاں چننے جایا کرتی تھی گٹھلیاں وہاں سے اپنے سر پر لاد کر لایا کرتی وہ زمین میرے مکان سے دو میل کے فاصلےپر تھی (ایک کوس) ایک روز ایسا ہوا میں وہاں سے گٹھلیاں سر پر لادے آرہی تھی اتنے میں رسول اللہﷺ (راستے میں) مجھ کو ملے آپؐ کے ساتھ اور بھی کئی انصاری لوگ تھے آپؐ نے مجھ کو بلایا اور اونٹ کو (جس پر سوار تھے) اخ اخ کرنے لگے آپ کا مطلب یہ تھا کہ مجھ کو اپنے پیچھے سوار کر لیں مجھ کو شرم آئی کہ میں مردوں کے ساتھ کیوں کر چلوں اور زبیر کی غیرت کا خیال آیا وہ بڑی غیرت والے آدمی تھے رسول اللہﷺ پہچان گئے کہ مجھ کو شرم آئی اور آپ آگے بڑھ گئے (مجھ کو چھوڑ دیاسوار نہیں کیا)جب میں گھر آئی میں نے اپنے خاوند زبیرؓ سے یہ قصہ بیان کیا کہ رسول اللہﷺ مجھ کو رستے میں مجھ کو ملے تھے میں سر پر گھٹلیاں لادے تھی آپ کے ساتھ اور کئی اصحاب بھی تھے آپ نے اونٹ کو بٹھلایا کہ میں سوار ہو جاؤں لیکن مجھ کو شرم آئی تمہاری غیرت کا خیال آیا زبیر کہنے لگے مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لادے باہر نکلی اگر آپﷺ کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی (کیوں کہ اسماء آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں)اسماء کہتی ہیں اس کے بعد ابو بکرؓ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا وہ گھوڑے کے سب کام کرنے لگا اور میں بے فکر ہوئی۔ گویا ابو بکرؓ نے (غلام بھیج کر) مجھ کو آزاد کر دیا۔


حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ، فَجَمَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِلَقَ الصَّحْفَةِ، ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ ‏"‏ غَارَتْ أُمُّكُمْ ‏"‏، ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّى أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا، فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا، وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كُسِرَتْ‏ فِيْهِ.

Narrated By Anas : While the Prophet was in the house of one of his wives, one of the mothers of the believers sent a meal in a dish. The wife at whose house the Prophet was, struck the hand of the servant, causing the dish to fall and break. The Prophet gathered the broken pieces of the dish and then started collecting on them the food which had been in the dish and said, "Your mother (my wife) felt jealous." Then he detained the servant till a (sound) dish was brought from the wife at whose house he was. He gave the sound dish to the wife whose dish had been broken and kept the broken one at the house where it had been broken.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیا ن کیا کہا ہم سے اسما عیل بن علیہ نے انہو ں نے حمید طویل سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا کہ نبیﷺ اپنی ایک بی بی (حضرت عا ئشہؓ) کے پا س تھے اتنے میں ایک دوسری بی بی (حضرت زینب یاحضرت صفیہؓ) نے کھا نے کا ایک کٹو رہ آپ کو بھیجا ان بی بی نے جن کے گھر میں نبیﷺ تھے (یعنی حضرت عا ئشہؓ نے غصے ہوکر ) خد مت گا ر کے ہا تھ پر جو کٹو رہ لا یا تھا ایک ما ر لگا ئی اس کے ہا تھ سے کٹو رہ گر پڑا ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا نبیﷺ اس کٹورہ کے ٹکڑوں کو جو ڑنے اور کھا نا جس میں تھا وہ اکٹھا کرنے لگے (ان لو گو ں سے جو اس وقت مو جو دتھے ) فر ما نے لگے تمہاری ماں کو غیرت آ لگی پھر آپ نے اس خد مت گار کو رو کا اور جس بی بی نے کٹورہ تو ڑاتھا اس کے گھر میں ثا بت کٹو را لا کر اس خدمت گار کے حوا لے کیا اور ٹو ٹا کٹورا اس بی بی کے گھر میں رہنے دیا جس نے وہ کٹور اتو ڑاتھا ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ـ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ ـ فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ‏.‏ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلاَّ عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ‏؟

Narrated By Jabir : The Prophet, said, "I entered Paradise and saw a palace and asked whose palace is this? They (the Angels) said, "This palace belongs to 'Umar bin Al-Khattab.' I intended to enter it, and nothing stopped me except my knowledge about your sense of Ghira (self-respect (O Umar)." 'Umar said, "O Allah's Apostle! Let my father and mother be sacrificed for you! O Allah's Prophet! How dare I think of my Ghira (self-respect) being offended by you?"

ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیما ن نے انھوں عبیداللہ بن عمر عمری سے انھوں٘ محمد بن منکدر سے انھوں نے جا بر بن عبداللہ انصا ری سے انھو ں نے نبیﷺ سے آپؑ نے فر ما یا مجھ کو( یہ خواب آیا) میں بہشت میں ( یا بہشت پر ) یا وہا ں میں ایک (عا لی شا ن ) محل دیکھا میں نے (جبریل سے ) پوچھا یہ محل کس کا ہے انھوں نے کہا عمر بن خطابؓ میں نے چا ہا اس محل کے اندر جاوں پھر تمہا ری غیرت کا خیا ل کر کے عمر مین وہاں نہیں گیا یہ سن کر حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول ا للہﷺ میرے ما ں با پ پر صدقے کیا میں آپ سے غیرت کروں گا ۔


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جُلُوسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالَ هَذَا لِعُمَرَ‏.‏ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا ‏"‏‏.‏ فَبَكَى عُمَرُ وَهْوَ فِي الْمَجْلِسِ ثُمَّ قَالَ أَوَعَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ‏

Narrated By Abu Huraira : While we were sitting with Allah's Apostle, (he) Allah's Apostle said, "While I was sleeping, I saw a woman performing ablution beside a palace. I asked, "Whose palace is this?' It was said, 'This palace belongs to 'Umar.' Then I remembered his sense of Ghira and returned." On that 'Umar started weeping in that gathering and said, "O Allah's Apostle! How dare I think of my self-respect being offended by you?"

ہم سے عبدا ن نے بیا ن کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبا رک نے خبر دی انھوں نے یونس سے انھوں نے زہری سے کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی انھوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا ایک با ر ایسا ہوا ہم سب رسول اللہﷺ کے پا س بیٹھے تھے اتنے میں آپؑ نے فرما یا میں نے سوتے میں خوا ب دیکھا جیسے میں بہشت میں گیا ہوں وہا ں ایک عو رت ایک محل کے کنا رے وضو کر رہی تھی میں نے پو چھا یہ محل کس کا ہے انہوں نے کہا عمرؓ کا ۔عمر کا نام سنتے ہی مجھ کو ان کی غیرت (اور حمیت) کا خیا ل آیا میں پیٹھ مو ڑ کر چلتا ہوا جب حضرت عمر نے یہ سنا جو اسی مجلس میں مو جو د تھے تو رو دیے پھر کہنے لگے بھلا میں آپؑ پر غیرت کروں گا ۔

109. باب غَيْرَةِ النِّسَاءِ وَوَجْدِهِنَّ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ عَلَىَّ غَضْبَى ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لاَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى قُلْتِ لاَ وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَهْجُرُ إِلاَّ اسْمَكَ‏

Narrated By 'Aisha : That Allah's Apostle said to her, "I you are pleased with me or angry with me." I said, "Whence do you know that?" He said, "When you are pleased with me, you say, 'No, by the Lord of Muhammad,' but when you are angry with me, then you say, 'No, by the Lord of Abraham.' " Thereupon I said, "Yes (you are right), but by Allah, O Allah's Apostle, I leave nothing but your name."

ہم سے عبید بن اسما عیل نے بیا ن کیا کہا مجھ سے ابو اسا مہ نےانھوں نے ہشا م بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں حضرت عائشہ سے انھوں نے کہا رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرما یا میں پہچا ن لیتا ہوں تو اس وقت مجھ سے خو ش ہے اور اس وقت مجھ پر غصہ ہے میں نے پو چھا آپﷺ کیسے پہچا ن لیتے ہیں آپ نے فر ما یاتو مجھ پرخو ش ہو تی ہے تو با ت چیت میں یوں قسم کھا تی ہے محمدﷺ کے رب کی قسم اور جب تو مجھ پر غصےہو تی ہے تو (میرا نا م نہیں لیتی ) یوں قسم کھا تی ہے ابرا ہیمؑ کے رب کی قسم میں نے کہا بیشک آ پ سچ کہتے ہیں یا رسولﷺ میں (غصے میں )صرف آپ کا نا م زبا ن سے نہیں لیتی ۔


حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا وَثَنَائِهِ عَلَيْهَا، وَقَدْ أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ لَهَا فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ‏

Narrated By 'Aisha : I never felt so jealous of any wife of Allah's Apostle as I did of Khadija because Allah's Apostle used to remember and praise her too often and because it was revealed to Allah's Apostle that he should give her (Khadija) the glad tidings of her having a palace of Qasab in Paradise.

مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا ہم سے نضر بن شمیل نے انھوں نے ہشا م بن عروہ سے کہا مجھ کو میرے وا لد نے خبر دی انہو ں نے حضرت عا ئشہؓ سے انھوں نے کہا مجھ کو رسول اللہﷺ کی کسی بی بی اتنی رشک نہیں آئی جتنی ام المومنین خدیجہؓ پر آتی رسول اللہﷺ ان کا بہت تز کرہ کر تے اور ان کی بہت تعریفکیا کر تے تھے رسول اللہﷺ پر وحی آئی پھر خدیجہؓ کو بہشت کے گھر کی خو ش خبری دیں جو خو لدا ر مو تی کا ہے۔

110. باب ذَبِّ الرَّجُلِ عَنِ ابْنَتِهِ، فِي الْغَيْرَةِ وَالإِنْصَافِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهْوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏"‏ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلاَ آذَنُ، ثُمَّ لاَ آذَنُ، ثُمَّ لاَ آذَنُ، إِلاَّ أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي، يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ‏"‏‏

Narrated By Al-Miswar bin Makhrama : I heard Allah's Apostle who was on the pulpit, saying, "Banu Hisham bin Al-Mughira have requested me to allow them to marry their daughter to Ali bin Abu Talib, but I don't give permission, and will not give permission unless 'Ali bin Abi Talib divorces my daughter in order to marry their daughter, because Fatima is a part of my body, and I hate what she hates to see, and what hurts her, hurts me."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیا ن کیا کہا ہم سے لیث بن سعدنے انھو ں نے ابن ابی ملیکہ سے انھوں نے مسور بن مخرمہؓ سے انھوں نے کہا میں نے منبر پر رسول اللہ ﷺ کی زبا ن سے سنا آپ فر ما تے تھے کہ ہشا م بن مغیرہ ( جو ابو جہل کا با پ تھا) اس کی اولا د نے ( جو مسلما ن ہو گئی تھی ) مجھ سے یہ اجا زت ما نگی کہ وہ اپنی لڑکی کا نکا ح علی بن ابی طا لبؓ سے کر دیں تو میں تو اجا زت نہیں دیتا ہر گز اجا زت نہیں دوں گا ہا ں یہ ہو سکتا ہے کے ابو طا لب کا بیٹا میری بچی کو طلا ق دے دے اور ان کی بیٹی سے نکاح کر لے با ت یہ ہے کہ فاطمہ(میرے جگر کا ) ایک ٹکڑا ہے جو اس کو برا لگے مجھ کو بھی برا لگتا اور جس چیز سے اس کو تکلیف ہو مجھ کو بھی اس سے تکلیف ہو تی ہے۔

‹ First910111213