- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First89101112Last ›

91. باب الْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالأَمِيرُ رَاعٍ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ‏"‏‏.

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "All of you are guardians and are responsible for your wards. The ruler is a guardian and the man is a guardian of his family; the lady is a guardian and is responsible for her husband's house and his offspring; and so all of you are guardians and are responsible for your wards."

ہم سے عبدان نے بیا ن کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو موسٰی بن عقبہ نے انہوں نے نی فع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فر مایا تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور اپنی رعیت کا جواب دار ہے ۔ بادشاہ اپنی رعیت کا حاکم ہے آدمی اپنے گھر والوں کا حاکم ہے عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولاد پر حاکم ہے ، غرض تم میں سے ہر شخص (کچھ نہ کچھ) حکومت رکھتا ہے اور اپنی رعیت کا جوابدار ہے۔

92. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ‏}‏

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ عَلَى شَهْرٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ‏"‏‏.

Narrated By Anas : Allah's Apostle took an oath that he would not visit his wives for one month, and he sat in an upper room belonging to him. Then, on the twenty ninth day he came down. It was said, "O Allah's Apostle! You had taken an oath not to visit your wives for one month." He said, "The (present) month is of twenty-nine days."

ہم سے خالد بن مخلد نے بیا ن کیا کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے کہا مجھ سے حمید طویل نے انہوں نے انس سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے قسم کھا لی کہ ایک مہینے تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا ، پھر ایک بالا خانے میں آپ(اکیلے ) بیٹھ رہے اور انتیس دن کے بعد وہاں سے اتر آئے۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے تو ایک مہینہ علیحدہ رہنے کی قسم کھائی تھی۔ آ پ نے فر مایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔

93. باب هِجْرَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءَهُ فِي غَيْرِ بُيُوتِهِنَّ

وَيُذْكَرُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَفْعُهُ ‏"‏ غَيْرَ أَنْ لاَ تُهْجَرَ إِلاَّ فِي الْبَيْتِ ‏"‏‏.‏ وَالأَوَّلُ أَصَحُّ‏.‏

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَلَفَ لاَ يَدْخُلُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِنَّ أَوْ رَاحَ فَقِيلَ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ حَلَفْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا ‏"‏‏.

Narrated By Um Salama : The Prophet took an oath that he would not enter upon some of his wives for one month. But when twenty nine days had elapsed, he went to them in the morning or evening. It was said to him, "O Allah's Prophet! You had taken an oath that you would not enter upon them for one month." He replied, "The month can be of twenty nine days."

ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا انہوں نے ابن جریج سے (دوسری سند) امام بخاری نے کہا اور مجھ سے محمد بن مقاتل مروزی نے بیان کیا کہا ہم سے عبد اللہ بن مبارک نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہا مجھ سے یحیٰی بن عبد اللہ بن صیفی نے بیان کیا ان سے عکرمہ بن عبد الرحمٰن بن حارث نے ان سے بی بی سلمہ نے انہوں نے کہا نبیﷺ نے قسم کھالی کہ اپنی بعضی بی بیوں کے پاس ایک مہینے تک نہیں جائیں گے پھر انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ صبح یا شام کو ان کے پاس تشریف لے گئے ، انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ آپ نے تو ایک مہینے تک نہ آنے کی قسم کھائی تھی(مہینے کے اندر کیسے آگئے) آپ نے فرمایا مہینہ بھی انتیس دن کابھی ہوتا ہے ۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ أَبِي الضُّحَى فَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ أَصْبَحْنَا يَوْمًا وَنِسَاءُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَبْكِينَ، عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَهْلُهَا، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا هُوَ مَلآنُ مِنَ النَّاسِ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَصَعِدَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي غُرْفَةٍ لَهُ، فَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَنَادَاهُ فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ فَقَالَ ‏"‏ لاَ وَلَكِنْ آلَيْتُ مِنْهُنَّ شَهْرًا ‏"‏‏.‏ فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : One morning we saw the wives of the Prophet weeping, and everyone of them had her family with her, I went to the mosque and found that it was crowded with people. Then 'Umar bin Al-Khattab came and went up to the Prophet who was in his upper room. He greeted him but nobody answered. He greeted again, but nobody answered. Then the gatekeeper called him and he entered upon the Prophet, and asked, "Have you divorced your wives?" The Prophet, said, "No, but I have taken an oath not to go to them for one month." So the Prophet stayed away (from his wives) for twenty nine days and then entered upon them.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے مروان بن معاویہ فزاری نے کہا ہم سے ابو یعفور (عبدالرحمٰن بن عبید کوفی) نے، انہوں نے کہا ہم نے ابوالضحٰی (مسلم بن صبیح) کے پاس (مہینہ کا)ذکر نکالا تو ابو الضحٰےکہنے لگے ہم سے ابنِ عباسؓ نے بیان کیا ایک روز ایسا ہوا صبح کو نبیﷺ کی بی بیاں رو رہی تھیں اور ہر بی بی کے پاس اس کے عزیز و اقربا جمع تھے میں جو مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں ساری مسجد لوگوں سے بھر گئی ہے اتنے میں حضرت عمرؓ آئے نبیﷺ ایک بالا خانے میں تھے حضرت عمرؓ ادھر گئے باہر سے سلام کیا (اندر آنے کی اجازت چاہی) لیکن جواب ہی نہیں ملا پھر سلام کیا تو بھی جواب نہ ملا پھر سلام کیا تو بھی جواب نہ وارد (آخر حضرت عمرؓ لوٹ آئے) پھر (بلالؓ نے) ان کو پکارا تو وہ نبیﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا کیا آپ نے اپنی بی بیوں کو طلاق دے دیا آپ نے فرمایا نہیں (کون کہتا ہے) میں نے صرف قسم کھائی ہے کہ ایک مہینے تک ان کو پاس نہیں جانے کا پھر آپ ﷺ انتیس دن ٹھہرے رہے اس کے بعد اپنی بی بیوں کے پاس تشریف لے گئے۔

94. باب مَا يُكْرَهُ مِنْ ضَرْبِ النِّسَاءِ

وَقَوْلِهِ ‏{‏وَاضْرِبُوهُنَّ‏}‏ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin Zam'a : The Prophet said, "None of you should flog his wife as he flogs a slave and then have sexual intercourse with her in the last part of the day."

ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عبداللہ بن زمعہ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا کوئی تم میں سے اپنی جورو کو غلام لونڈی کی طرح نہ مارے (افسوس ہے کہ صبح کو اس طرح مارے ) اور پھر شام کو اس سے صحبت کرے۔

95. باب لاَ تُطِيعُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا فِي مَعْصِيَةٍ

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ ـ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ـ عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَتَهَا فَتَمَعَّطَ شَعَرُ رَأْسِهَا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ فِي شَعَرِهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ إِنَّهُ قَدْ لُعِنَ الْمُوصِلاَتُ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : An Ansari woman gave her daughter in marriage and the hair of the latter started falling out. The Ansari women came to the Prophet and mentioned that to him and said, "Her (my daughter's) husband suggested that I should let her wear false hair." The Prophet said, "No, (don't do that) for Allah sends His curses upon such ladies who lengthen their hair artificially."

ہم سے خلاد بن یحیٰی نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے انہوں نے حسن بن مسلم سے انہوں نے صفیہ بنت شیبہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا کہ ایک انصاری عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی اس کے سر کے بال گر گئے وہ عورت نبیﷺ کے پاس آئی کہنے لگی ۔یا رسول اللہ لڑکی کا خاوند کہتا ہے کہ میں اس کے بالوں میں دوسرے بالوں کا چوٹلہ (جوڑ) لگا دوں آپ نے فرمایا ہر گز ایسا مت کر بال جوڑنے والیوں پر تو لعنت کی گئی ہے۔

96. باب ‏{‏وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا‏}‏

حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ ‏{‏وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا‏}‏ قَالَتْ هِيَ الْمَرْأَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، لاَ يَسْتَكْثِرُ مِنْهَا فَيُرِيدُ طَلاَقَهَا، وَيَتَزَوَّجُ غَيْرَهَا، تَقُولُ لَهُ أَمْسِكْنِي وَلاَ تُطَلِّقْنِي، ثُمَّ تَزَوَّجْ غَيْرِي، فَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنَ النَّفَقَةِ عَلَىَّ وَالْقِسْمَةِ لِي، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَصَّالَحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ‏}‏

Narrated By 'Aisha : Regarding the Verse: 'If a wife fears cruelty or desertion on her husband's part...') (4.128) It concerns the woman whose husband does not want to keep her with him any longer, but wants to divorce her and marry some other lady, so she says to him: 'Keep me and do not divorce me, and then marry another woman, and you may neither spend on me, nor sleep with me.' This is indicated by the Statement of Allah: 'There is no blame on them if they arrange an amicable settlement between them both, and (such) settlement is better." (4.128)

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہا ہم سے ابو معاویہ(محمد بن حازم) نے انہوں نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیرؓ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا وان امرأۃ خافت من بعلھا نشوزًا او اعراضًا کا یہ مطلب ہے کہ ایک عورت ایسی ہو جس سے مراد اچھی طرح صحبت نہیں رکھتا اور مرد اس کو طلاق دینا اور دوسری عورت سے شادی کرنا چاہے پھر عورت یہ کہے تو مجھ کو اپنی زوجیت میں رہنے دے طلاق نہ دے اور جس سے چاہے شادی کر لے میں تجھ کو نان نفقہ و روٹی کپڑا معاف کرتی ہوں باری بھی چھوڑ دیتی ہوں (اور خاوند اس پر راضی ہو جائے اس کو رہنے دے تویہ درست ہے) اللہ تعالیٰ کے اس قول فلا جناح علھما ان یصالحا بینھما صلحا والصلح خیر کا یہی مطلب ہے ۔

97. باب الْعَزْلِ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

Narrated By Jabir : We used to practice coitus interrupt us during the lifetime of Allah's Apostle.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے ابن جریج سے انہوں نےعطاء بن ابی رباح سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے انہوں نے کہا ہم لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں عزل کرتے رہتے تھے (آپ نے منع نہیں فرمایا)۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعَ جَابِرًا، رضى الله عنه قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ‏

Narrated By Jabir : We used to practice coitus interrupt us while the Qur'an was being revealed.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہ عمرو بن دینار نے کہا مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا انہوں نے جابر سے سنا وہ کہتے تھے کہ قرآن (جس زمانے میں) اترتا رہتا ہم (اس وقت) عزل کیا کرتے تھے ۔


وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ‏.‏

Jabir added: We used to practice coitus interrupt us during the lifetime of Allah's Apostle while the Qur'an was being Revealed.

اور عمر و بن دینار سے انہوں نے عطاء سے انہوں نے جابرؓ سے یوں بھی روایت کیا کہ جابر کہتے تھے ہم رسول اللہﷺ کے زمانے میں جب کہ قرآن اترتا رہتا عزل کیا کرتے تھے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا فَكُنَّا نَعْزِلُ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَوَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ قَالَهَا ثَلاَثًا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : We got female captives in the war booty and we used to do coitus interruptus with them. So we asked Allah's Apostle about it and he said, "Do you really do that?" repeating the question thrice, "There is no soul that is destined to exist but will come into existence, till the Day of Resurrection."

ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے انہوں نے امام مالکؒ سے انہوں نے زہری سے انہوں نے عبداللہ بن محریز سے انہوں نےابو سعید خدریؓ انہوں نے کہا ہم نے (غزوہ بن مصطلق میں) عورتوں کو قید کیا اور لونڈیاں بنیں ہم ان سے عزل کیا کرتے تھے آخرہم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، عزل کرنا کیسا ہے آپ نے فرمایا کیا تم ایسا کرتے ہو تین بار یہی فرمایا (ایسا کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے کیو نکہ) جو جان قیامت تک (کبھی) دنیا میں آنے والی ہے وہ ضرور آئے گی۔

98. باب الْقُرْعَةِ بَيْنَ النِّسَاءِ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ أَلاَ تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ تَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ، فَقَالَتْ بَلَى فَرَكِبَتْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا ثُمَّ سَارَ حَتَّى نَزَلُوا وَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ رِجْلَيْهَا بَيْنَ الإِذْخِرِ وَتَقُولُ يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَىَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي، وَلاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا‏

Narrated By al-Qasim : 'Aisha said that whenever the Prophet intended to go on a journey, he drew lots among his wives (so as to take one of them along with him). During one of his journeys the lot fell on 'Aisha and Hafsa. When night fell the Prophet would ride beside 'Aisha and talk with her. One night Hafsa said to 'Aisha, "Won't you ride my camel tonight and I ride yours, so that you may see (me) and I see (you) (in new situation)?" 'Aisha said, "Yes, (I agree.)" So 'Aisha rode, and then the Prophet came towards 'Aisha's camel on which Hafsa was riding. He greeted Hafsa and then proceeded (beside her) till they dismounted (on the way). 'Aisha missed him, and so, when they dismounted, she put her legs in the Idhkhir and said, "O Lord (Allah)! Send a scorpion or a snake to bite me for I am not to blame him (the Prophet).

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن مخزومی نے کہا مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے انہوں نے قاسم بن محمد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ نبیﷺ جب سفر کو تشریف لے جاتے تو اپنی بی بیوں پر قرعہ ڈالتے ایک بار ایسا ہوا کہ قرعہ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ دونوں کے نام نکلا (آپ دونوں کو ساتھ لے گئے) آپ کا معمول تھا کہ رات کو سفر پر چلتے چلتے حضرت عائشہؓ سے باتیں کیاکرتے حضرت حفصہؓ (کو اس پر رشک آیا) انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہاایسا کرو آج رات تم میرے اونٹ پر سوارہو لو میں تمہارے اونٹ پر سوار ہوتی ہوں دیکھو بڑا تماشا ہو گا جو تم نے نہیں دیکھا وہ تم دیکھو گی اور جو میں نے نہیں دیکھا وہ میں دیکھوں گی حضرت عائشہؓ نے قبول کر لیا وہ ان کے اونٹ اور یہ ان کے اونٹ پر سوار ہوگئیں رات کو نبیﷺ حضرت عائشہؓ کے اونٹ کے پاس آئے مگر اس پر حضرت حفصہؓ سوار تھیں آپ نے ان کو سلام کیا پھر چلنے لگے حضرت عائشہؓ کے پاس نہیں گئے (صبح کو منزل میں) اترے تو حضرت عائشہؓ نے دونوں پاؤں اذخر گھاس میں ڈالے (جس میں اکثر سانپ اوربچھو رہا کرتے ہیں اور اپنے تئیں کوسنے لگیں) کہنے لگی یا اللہ بچھو یا سانپ مجھ کو کاٹ کھائے تو اچھا ہے حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں آپﷺ سے تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی۔

99. باب الْمَرْأَةِ تَهَبُ يَوْمَهَا مِنْ زَوْجِهَا لِضَرَّتِهَا وَكَيْفَ يُقْسِمُ ذَلِكَ ؟

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، وَهَبَتْ، يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِهَا وَيَوْمِ سَوْدَةَ‏

Narrated By 'Aisha : Sada bint Zam'a gave up her turn to me ('Aisha), and so the Prophet used to give me ('Aisha) both my day and the day of Sauda.

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے انہوں نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ ام المومنین سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہؓ کو بخش دیا تھا(یہ سمجھ کر کہ آپﷺ سب بی بیوں سے زیادہ ان کو چاہتے ہیں ) تو نبیﷺ حضرت عائشہؓ کے پاس (دو دن) ان کی اور حضرت سودہؓ کی باری میں رہتے۔

100. باب الْعَدْلِ بَيْنَ النِّسَاءِ

‏{‏وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏وَاسِعًا حَكِيمًا‏}‏

 

‹ First89101112Last ›