71. باب مَنْ أَوْلَمَ بِأَقَلَّ مِنْ شَاةٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ أَوْلَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ
Narrated By Safiyya bint Shaiba : The Prophet gave a banquet with two Mudds of barley on marrying some of his wives. (1 Mudd= 1 3/4 of a kilogram).
ہم سے محمد بن یوسف فر یابی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے منصور بن صفیہؓ سے انہوںنے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے اپنی بعضی بی بیوں کا ولیمہ دو مد جو سے کیا ۔
72. باب حَقِّ إِجَابَةِ الْوَلِيمَةِ وَالدَّعْوَةِ وَمَنْ أَوْلَمَ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَنَحْوَهُ.
وَلَمْ يُوَقِّتِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا وَلاَ يَوْمَيْنِ.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا "
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said, "If anyone of you is invites to a wedding banquet, he must go for it (accept the invitation)."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے نافع سے انہوں نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فر ما یا جب کوئی تم میں سے ولیمہ کی دعوت میں بلایا جائے تو ضرور شریک ہو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فُكُّوا الْعَانِيَ، وَأَجِيبُوا الدَّاعِيَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ ".
Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "Set the captives free, accept the invitation (to a wedding banquet), and visit the patients."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیا ن کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے سفیا ن ثوری سے کہا مجھ سے منصور بن معتمر نے بیان کیاانہوں نے ابو وائل سے انہوں نے ابو موسٰی اشعریؓ سے انہوں نے نبیﷺسے آپ نے فر مایا جو شخص ظلم سے کہیں قید ہو اس کو چھڑاؤ اور دعوت قبول کرو اور بیمار کو پوچھنے کے لیے جاؤ ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَشْعَثِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَالْقَسِّيَّةِ، وَالإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ. تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ وَالشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَشْعَثَ فِي إِفْشَاءِ السَّلاَمِ
Narrated By Al-Bara' bin 'Azib : The Prophet ordered us to do seven (things) and forbade us from seven. He ordered us to visit the patients, to follow the funeral procession, to reply to the sneezer (i.e., say to him, 'Yarhamuka-l-lah (May Allah bestow His Mercy upon you), if he says 'Al-hamdulillah' (Praise be to Allah), to help others to fulfil their oaths, to help the oppressed, to greet (whomever one should meet), and to accept the invitation (to a wedding banquet). He forbade us to wear golden rings, to use silver utensils, to use Mayathir (cushions of silk stuffed with cotton and placed under the rider on the saddle), the Qasiyya (linen clothes containing silk brought from an Egyptian town), the Istibraq (thick silk) and the Dibaj (another kind of silk).
ہم سے حسن بن ربیع نے بیا کیا کہا ہم سے ابو الاحوص (سلام بن سلیم ) نے انہوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے انہوں نے معاویہ بن سوید سے انہوں نے کہا براء بن عازبؓ (صحا بی ) کہتے تھے نبیﷺ نے ہم کو سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فر مایا۔ آپ نے ہمیں حکم دیا بیمار پرسی کرنے کا اور جنازے کے ساتھ چلنے کا اور چھینک کا جواب دینے کا اور مظلوم کی مدد کرنے کا اور قسم پوری کرنے کا اور عام طور سے سب کو جو مسلمان ملے اس کو سلام کرنے کا اور دعوت قبو ل کرنے کا اور ہم کو منع کیا سونے کی انگو ٹھیاں پہننے سے اور چاندی سونے کے برتن استعمال کرنے سے اور ریشمی زین پوشوں سے اور قسی اور استبرق اور دیباج کے پہننے سے یہ سب ریشمی کپڑے ہیں ابو عوانہ اور شیبا نی نے ابو الاحوص کی متابعت کی افشاء سلام میں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُرْسِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهْىَ الْعَرُوسُ، قَالَ سَهْلٌ تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ
Narrated By Sahl bin Sad : Abu Usaid As-Sa'di invited Allah's Apostle to his wedding party and his wife who was the bride, served them on that day. Do you know what drink she gave Allah's Apostle? She had soaked some dates for him (in water) overnight, and when he had finished his meal she gave him that drink (of soaked dates).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے سہل ا بن سعد سے انہوں نے کہا ابو اسید ساعدی نے رسول اللہﷺ کو اپنی شادی میں دعوت دی ان کی جورو ام اسید سلامہ بنت وہب جو دلہن تھی وہی خود کام کاج کرتی تھی سہل نے کہا تم جانتے ہو اس نے رسول اللہﷺ کو اس دعو ت میں کیا پلا یا تھا اس نے رات کو تھوڑی کھجوریں پانی میں بھگو رکھی تھیں صبح کو جب کھا نے سے فارغ ہوئے تو وہی آپ کو پلایا۔
73. باب مَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Abu Huraira : The worst food is that of a wedding banquet to which only the rich are invited while the poor are not invited. And he who refuses an invitation (to a banquet) disobeys Allah and His Apostle.
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیاکہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے انہو ں نے ابو ہریرہؓ سے وہ کہتے تھے برا کھانا ( بعضے روایتوںمیں یوں ہے کہ آپﷺ نے فرما یا بڑا ولیمہ ) وہ ولیمہ جس میں کھانے کے لیے مالدار لوگ تو بلائے جائیں اور محتاج لوگوں کو نہ کھلایا جائے اور جو شخص دعوت میں بلا عذر شریک نہ ہو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافر ما نی کی ۔
74. باب مَنْ أَجَابَ إِلَى كُرَاعٍ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَىَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "If I am invited to a meal of trotters I will accept it; and if I am given a trotter as a present I will accept it."
ہم سے عبدان نے بیا ن کیا انہوں نے ابو حمزہ سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابو حازم سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فر ما یا اگر مجھ کو کوئی بکری کا کھر کھانے میں دے جب بھی جاؤں اور اگر کوئی بکری کا کھر مجھ کو تحفہ بھیجے تو بھی میں قبول کر لوں۔
75. باب إِجَابَةِ الدَّاعِي فِي الْعُرْسِ وَغَيْرِهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا ". قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ وَغَيْرِ الْعُرْسِ وَهْوَ صَائِمٌ.
Narrated By Nafi' : Abdullah bin 'Umar said, "Allah's Apostle said, 'Accept the marriage invitation if you are invited to it.' " Ibn 'Umar used to accept the invitation whether to a wedding banquet or to any other party, even when he was fasting.
ہم سے علی بن عبداللہ بن ا براہیم بغدادی نے بیا ن کیا کہا ہم سے حجاج ابن محمد اعور نے کہ ابن جریج نے کہا مجھ کوموسٰی بن عقبہ نے خبر دی انہوں نے نافع سے انہوں نے کہا میں نے عبد اللہ ابن عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فر ما یا ولیمہ کی دعوت میں جب تم بلائے جاو ءتو اس کو قبو ل کرو نا فع نے کہا عبد اللہ بن عمرؓ کا یہ قا عدہ تھا ہر دعوت میں جاتے شادی کی ہوتی یا کسی اور بات کی گو روزہ دار ہوتے ۔
76. باب ذَهَابِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ إِلَى الْعُرْسِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَبْصَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِسَاءً وَصِبْيَانًا مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ مُمْتَنًّا فَقَالَ " اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ "
Narrated By Anas bin Malik : Once the Prophet saw some women and children coming from a wedding party. He got up energetically and happily and said, "By Allah! You (i.e., the Ansar) are the most beloved of all people to me."
ہم سے عبدالرحمٰن ابن مبا رک نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الوارث بن سعید نے کہا ہم سے عبد العزیز بن صہیب نے انہوں نے انسؓ بن مالک سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے(انصار کے) عورتوں اور بچوں کو دیکھا وہ ایک شادی میں سے لوٹے آرہے تھے آپ خوشی کے مارے جلدی سے کھڑے ہوگئے فر مایا اللہ تو گواہ رہ تم لوگ سب لوگوں سے زیادہ مجھ کو محبوب ہو۔
77. باب هَلْ يَرْجِعُ إِذَا رَأَى مُنْكَرًا فِي الدَّعْوَةِ
وَرَأَى ابْنُ مَسْعُودٍ صُورَةً فِي الْبَيْتِ فَرَجَعَ. وَدَعَا ابْنُ عُمَرَ أَبَا أَيُّوبَ فَرَأَى فِي الْبَيْتِ سِتْرًا عَلَى الْجِدَارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ غَلَبَنَا عَلَيْهِ النِّسَاءُ، فَقَالَ مَنْ كُنْتُ أَخْشَى عَلَيْهِ، فَلَمْ أَكُنْ أَخْشَى عَلَيْكَ، وَاللَّهِ لاَ أَطْعَمُ لَكُمْ طَعَامًا، فَرَجَعَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، مَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ هَذِهِ النِّمْرِقَةِ ". قَالَتْ فَقُلْتُ اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ". وَقَالَ " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ "
Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) I bought a cushion having on it pictures (of animals). When Allah's Apostle saw it, he stood at the door and did not enter. I noticed the sign of disapproval on his face and said, "O Allah's Apostle! I repent to Allah and His Apostle. What sin have I committed?' Allah's Apostle said. "What is this cushion?" I said, "I have bought it for you so that you may sit on it and recline on it." Allah's Apostle said, "The makers of these pictures will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them, 'Give life to what you have created (i.e., these pictures).' " The Prophet added, "The Angels of (Mercy) do not enter a house in which there are pictures (of animals)."
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے نافع سے انہوں نے قا سم بن محمد بن ابی بکر سے انہوں نے اپنی پھوپھی حضرت عائشہؓ سے انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر مورتیں بنی ہوئی تھیں نبیﷺ نے جب اس گدے کو گھر کے اندر دیکھا تو آپ دروازے پر ہی کھڑے رہ گئے اندر تشریف نہیں لائے میں آپ کے چہرے پر نا راضگی پہچان گئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں نے کوئی تقصیر کی ہے تو میں اس سے اللہ اور اس کے رسول کے آگے توبہ کرتی ہوں (خطا معاف کیجیئے) آپﷺ نے فر مایا یہ گدا کیسا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اس کو آپ ہی کے لیے خریدا ہے آپ اس پر بیٹھیں تکیہ لگا ئیں آپ نے فر مایا جن لوگوں نے اس پریہ مورتیاں بنائیں ہیں ان کو قیا مت کے دن عذاب ہو گا ان سے کہا جائے گا جو مورتیں تم نے بنا ئی ہیں ان میں جان بھی ڈالو اور آپ نے یہ بھی فرما یا جس گھر میں مور تیں ہوتی ہیں اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
78. باب قِيَامِ الْمَرْأَةِ عَلَى الرِّجَالِ فِي الْعُرْسِ وَخِدْمَتِهِمْ بِالنَّفْسِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ لَمَّا عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ، فَمَا صَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا وَلاَ قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ إِلاَّ امْرَأَتُهُ أُمُّ أُسَيْدٍ، بَلَّتْ تَمَرَاتٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ لَهُ فَسَقَتْهُ، تُتْحِفُهُ بِذَلِكَ
Narrated By Sahl : When Abu Usaid As-Sa'idi got married, he invited the Prophet and his companions. None prepared the food for them and brought it to them but his wife. She soaked some dates in water in a stone pot overnight, and when the Prophet had finished his food, she provided him with that drink (of soaked dates).
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیا ن کیا کہا ہم سے ابو غسان محمد بن مطرف نے کہا مجھ سے ابو حازم سلمہ بن دینار نے سہل بن سعد ساعدیؓ سے انہوں نے کہا جب ابو اسید ساعدیؓ نے شادی کی تو نبیﷺ اور آپ کے اصحاب کو دعوت دی کھانا بھی ام اسیدان کی دلہن نے پکایا اور مردوں کے سامنے بھی انہوں نے چنا اور رات کو انہوں نے کیا کیا تھا تھوڑی سی کھجوریں ایک کٹورے میں بھگو دی تھیں جب نبیﷺ کھانےسے فارغ ہوئے تو وی شربت تحفہ کے طور پر یا خاص آپ کو پلایا۔
79. باب النَّقِيعِ وَالشَّرَابِ الَّذِي لاَ يُسْكِرُ فِي الْعُرْسِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهْىَ الْعَرُوسُ، فَقَالَتْ أَوْ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا أَنْقَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ
Narrated By Sahl bin Sad : Abu Usaid As-Sa'idi invited the Prophet to his wedding party and his wife served him on that day, and she was the bride. She said (or Sahl said), "Do you know what she soaked for Allah's Apostle? She soaked some dates for him (in water) in a drinking bowl overnight."
ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیا ن کیا کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے ابو حازم سلمہ بن دینار سے انہوں نے کہا میں نے سہل بن سعد ساعدیؓ سے سنا وہ کہتے تھے ابو اسید ساعدی نے اپنی شادی میں نبیﷺکو دعوت دی ان کی جورو ام اسید جو دلہن تھیں اس دن سارے کام کاج اپنے ہاتھ سے کر رہی تھیں یہ دلہن کہتی تھیں یا سہل کہتے تھے تم جانتے ہو میں نے رسول اللہﷺ کے لیے کیا شربت تیار کیا تھا میں نے رات کو تھوڑی سی کھجوریں آپ کے لیے ایک کٹورے میں بھگورکھی تھیں۔
80. باب الْمُدَارَاةِ مَعَ النِّسَاءِ
وَقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ "
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ، إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا، وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ ".
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The woman is like a rib; if you try to straighten her, she will break. So if you want to get benefit from her, do so while she still has some crookedness."
ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ اویسی نی بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے ابو الزناد سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فر ما یا عورت تو پسلی کی طرح ٹیڑھی پیدا ہوئی ہے اگر تو اس کو ایک دم زور سے سیدھا کرنا چاہے تو ٹوٹ جائے گی اور جو اس سے کا م لے تو فائدہ اٹھا تا رہے گا گو وہ ٹیڑ ھی رہے۔