- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First10111213

111. باب يَقِلُّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرُ النِّسَاءُ ،

وَقَالَ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَتَرَى الرَّجُلَ الْوَاحِدَ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً، يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ ‏"‏‏

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ غَيْرِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ وَيَكْثُرَ الزِّنَا، وَيَكْثُرَ شُرْبُ الْخَمْرِ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ ‏"

Narrated By Anas : I will narrate to you a Habith I heard from Allah's Apostle and none other than I will tell you of it. I heard Allah's Apostle saying, "From among the portents of the Hour are the following: Religious knowledge will be taken away; General ignorance (in religious matters) will increase; illegal Sexual intercourse will prevail: Drinking of alcoholic drinks will prevail. Men will decrease in number, and women will increase in number, so much so that fifty women will be looked after by one man."

ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیا ن کیا کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے انہوں نے قتادہؓ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا(لوگو) میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جس کو میں نے رسول اللہ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم سے سنا ہے رسول اللہ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم سے سن کر اب تم سے بیان کرنے والا میرے سوا اور کوئی نہیں ہے آپ فرماتے تھے قیامت کی نشانیوں میں یہ ہے(قرآن و حدیث کا)علم اٹھ جانا جہالت پھیل جانا زنا کی کثرت شراب خوری کی کثرت مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کا سنبھالنے والا(خبر گیراں) ایک مرد ہو گا۔

112. باب لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ ذُو مَحْرَمٍ، وَالدُّخُولُ عَلَى الْمُغِيبَةِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ الْحَمْوُ الْمَوْتُ ‏"

Narrated By 'Uqba bin 'Amir : Allah's Apostle said, "Beware of entering upon the ladies." A man from the Ansar said, "Allah's Apostle! What about Al-Hamu the in-laws of the wife (the brothers of her husband or his nephews etc.)?" The Prophet replied: The in-laws of the wife are death itself.

ہم سےقتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے انہوں نے ابو الخیر (مرثد بن عبد اللّٰہ) سے انہوں نے عقبہ بن عامرؓ سے کہ رسول اللہ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو (غیر) عورتوں کے پاس مت جایا کرو ایک انصاری مرد (نام نامعلوم) کہنے لگا یا رسول اللّٰہ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم خاوند کا رشتہ دار (دیور یا جیٹھ)اگر بھاوج پاس جائے آپ نے فرمایا یہ تو ہلاکت ہے۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً وَاكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "No man should stay with a lady in seclusion except in the presence of a Dhu-Muhram." A man stood up and said, "O Allah's Apostle! My wife has gone out intending to perform the Hajj and I have been enrolled (in the army) for such-and-such campaign." The Prophet said, "Return and perform the Hajj with your wife."

ہم سے علی بن عبد ا للّہ مدینی نے بیان کیا ہے ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے عمر و بن دینار نے انہوں نے ابو معبد (نافذ) سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا دیکھو کوئی مرد نامحرم عورت کے ساتھ تنہائی نہ کرے اتنے میں ایک شخص (نا معلوم) کھڑا ہوا کہنے لگا یا رسول ا للّٰہ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم میری عورت حج کے لیے نکلی ہے اور میرا نام فلانی فلانی لڑائی میں لکھا گیا ہے آپؐ نے فرمایا تو لوٹ جا اپنی عورت عورت کو حج کرا۔

113. باب مَا يَجُوزُ أَنْ يَخْلُوَ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَةِ عِنْدَ النَّاسِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَلاَ بِهَا فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ إِنَّكُنَّ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏"‏‏

Narrated By Anas bin Malik : An Ansari woman came to the Prophet and he took her aside and said (to her). "By Allah, you (Ansar) are the most beloved people to me."

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے انہوں نے ہشام سے انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک سے سنا انہوں نے کہا ایک انصاری عورت (نام نا معلوم)نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم پاس آئی آپ نے اس سے تنہائی کی(اس کی باتیں سنیں) پھر فرمایا انصاری عورتو تم سب لوگوں میں مجھ کو زیادہ محبوب ہو۔

114. باب مَا يُنْهَى مِنْ دُخُولِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْمَرْأَةِ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ الْمُخَنَّثُ لأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلاَنَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكُم ‏"‏‏

Narrated By Um Salama : That while the Prophet was with her, there was an effeminate man in the house. The effeminate man said to Um Salama's brother, 'Abdullah bin Abi Umaiyya, "If Allah should make you conquer Ta'if tomorrow, I recommend that you take the daughter of Ghailan (in marriage) for (she is so fat) that she shows four folds of flesh when facing you and eight when she turns her back." Thereupon the Prophet said (to us), "This (effeminate man) should not enter upon you (anymore)."

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے زینب بنت ام سلمہ سے انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم ان کے گھر میں ان کے پاس تھے ایک زنانہ (ہیئت نامی) بھی وہاں تھا وہ ام سلمہؓ کے بھائی عبد اللّٰہ بن ابی امیہ سے کیا کہنے لگا اگر ا للّٰہ نے کل کے روز طائف فتح کرا دیا تو میں تجھ کو غیلان کی بیٹی (باویہ) بتلاؤں گا سامنے آتی ہے تو چار بٹیں لے کر پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بٹیں لے کر نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا اب یہ زنانہ تم عورتوں پاس نہ آیا کرے۔

115. باب نَظَرِ الْمَرْأَةِ إِلَى الْحَبَشِ وَنَحْوِهِمْ مِنْ غَيْرِ رِيبَةٍ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عِيسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْأَمُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet was screening me with his Rida' (garment covering the upper part of the body) while I was looking at the Ethiopians who were playing in the courtyard of the mosque. (I continued watching) till I was satisfied. So you may deduce from this event how a little girl (who has not reached the age of puberty) who is eager to enjoy amusement should be treated in this respect.

ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیا ن کیا انہوں نے عیسٰی بن یونس سے انہوں نے اوزاعی سے انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہؓ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا میں نے دیکھا نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم اپنی چادر سے مجھ کو چھپائے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں(اپنے ہتھیاروں سے ) کھیل رہے تھے دیکھتے دیکھتے میں خود ہی اکتا جاتی اب تم سمجھ لو ایک کم عمر لڑکی جس کو کھیل تماشے کا بڑا شوق ہو تا ہے کتنی دیر تک دیکھتی رہے گی۔

116. باب خُرُوجِ النِّسَاءِ لِحَوَائِجِهِنَّ

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ لَيْلاً فَرَآهَا عُمَرُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ إِنَّكِ وَاللَّهِ يَا سَوْدَةُ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، وَهْوَ فِي حُجْرَتِي يَتَعَشَّى، وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ فَرُفِعَ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ قَدْ أَذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : Once Sada bint Zam'a went out at night for some need, and 'Umar saw her, and recognizing her, he said (to her), "By Allah, O Sada! You cannot hide yourself from us." So she returned to the Prophet and mentioned that to him while he was sitting in my dwelling taking his supper and holding a bone covered with meat in his hand. Then the Divine Inspiration was revealed to him and when that state was over, he (the Prophet was saying: "O women! You have been allowed by Allah to go out for your needs."

ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا کہا ہم سے علی بن مسہر نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نےاپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا ایسا ہوا ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ ایک رات کو باہر نکلیں حضرت عمرؓ ان کو دیکھ کر کہنے لگے سودہؓ ہم نے تجھ کو پہچان لیا تم اپنے تیئیں چھپا نی سکیں وہ یہ سن کر نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم پس آئیں اور آپ سے بیا کیا جو عمرؓ نے کہا تھا اس وقت آپ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم میری کوٹھری میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے آپ کے ہاتھ میں گوشت کی ہڈی تھی اسی وقت آپ پر وحی اترنے لگی پھر یہ حالت جاتی رہی آپ فرماتے تھے (عورتو) اللّٰہ تعالٰی نے تم کو کام کاج کے لیے باہر نکلنے کی اجازت دی۔

117. باب اسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْمَسْجِدِ وَغَيْرِهِ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلاَ يَمْنَعْهَا ‏"‏‏

Narrated By Salim's father : The Prophet said, "If the wife of anyone of you asks permission to go to the mosque, he should not forbid her."

ہم سے علی بن عبد ا للّٰہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے زہری نے انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے والد عبد اللّٰہ بن عمرؓ سے کہ نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی بی بی مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو اس کو منع نہ کرے۔

118. باب مَا يَحِلُّ مِنَ الدُّخُولِ وَالنَّظَرِ إِلَى النِّسَاءِ فِي الرَّضَاعِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَىَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ ‏"‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ‏.

Narrated By 'Aisha : My foster uncle came and asked permission (to enter) but I refused to admit him till I asked Allah's Apostle about that. He said, "He is your uncle, so allow him to come in." I said, "O Allah's Apostle! I have been suckled by a woman and not by a man." Allah's Apostle said, "He is your uncle, so let him enter upon you." And that happened after the order of Al-Hijab (compulsory veiling) was revealed. All things which become unlawful because of blood relations are unlawful because of the corresponding foster suckling relations.

ہم سے عبد ا للّٰہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں کہا میرا رضاعی چچا(افلح) آیا اس نے مجھ سے(اندر آنے کی) اجازت مانگی میں نے اس کو اجازت نہ دی۔میں نے کہا میں رسول اللہ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں پھر آپ تشریف لائے تو میں نے آ پ سے پوچھا آپ نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے اس کو آنے دے میں نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ (گو وہ چچا ہوا) مگر مجھ کو عورت نے دودھ پلایا تھا مروہ نے تھوڑے پلایا تھا آپ نے فرمایا نہیں وہ تیرا چچا ہے تیرے پاس آسکتا ہے حضرت عائشہؓ نے کہا یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حجاب (پردے) کا حکم اتر چکا تھا حضرت عائشہؓ نے کہا جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہی دودھ کی وجہ سے حرام ہو جاتے ہیں۔

119. باب لاَ تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا، كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ‏"

Narrated By 'Abdullah bin Mas'ud : The Prophet said, "A woman should not look at or touch another woman to describe her to her husband in such a way as if he was actually looking at her."

ہم سے محمد بن یو سف فریابی(یا بیکندی) نے بیان کیا کہا ہم سےسفیان (ثوری یا ابن عیینہ) نے انہوں نے منصور بن معتبر سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے عبد اللّٰہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت دوسری عورت سے نہ چمٹے پھر اس حال اپنے خاوند سے نیان کرے جیسے وہ اس عورت کو دیکھ رہا ہے(ایسا نہ کوئی فتنہ پیدا ہو)


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah : The Prophet said, "A woman should not look at or touch another woman to describe her to her husband in such a way as if he was actually looking at her."

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے والد نے کہا ہم سے اعمش نے کہا مجھ سے شقیق نے کہا میں نے عبد ا للّٰہ بن مسعودؓ سے سنا نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت دوسری عورت سے اپنا بدن نہ لگائے پھر اپنے خاوند سے اس حال سے اس کا حال بیان کرے گویا وہ اس عورت کو دیکھ رہا ہے۔

120. باب قَوْلِ الرَّجُلِ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى نِسَائِي

حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ‏"‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِمِائَةِ امْرَأَةٍ، تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ غُلاَمًا، يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ، فَأَطَافَ بِهِنَّ، وَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ أَرْجَى لِحَاجَتِهِ ‏"

Narrated By Abu Huraira : (The Prophet) Solomon son of (the Prophet) David said, "Tonight I will go round (i.e. have sexual relations with) one hundred women (my wives) everyone of whom will deliver a male child who will fight in Allah's Cause." On that an Angel said to him, "Say: 'If Allah will.' " But Solomon did not say it and forgot to say it. Then he had sexual relations with them but none of them delivered any child except one who delivered a half person. The Prophet said, "If Solomon had said: 'If Allah will,' Allah would have fulfilled his (above) desire and that saying would have made him more hopeful."

مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہوں نے عبد اللّٰہ بن طاؤس سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابو ہریرہ سے انہوں نے کہا سلیمان پیغمبر (علیہ السلام) نے کہا میں آج رات اپنی سو بی بیوں کے پاس ہو آؤں گا اور ہر ایک بی بی ایک ایک لڑکا جنے گی تو سو لڑکے ایسے پیدا ہوں گے جو اللّٰہ کی راہ میں جہاد کریں گے فرشتے نے ان سےکہا انشاء اللّٰہ کہو مگر انہوں نے نہیں کہا بھول گئے آخر رات کو اپنی سب بی بیوں کے پاس گئے ان میں کوئی عورت نہ نہ جنی (کسی کو حمل نہ رہا) ایک عورت صرف جنی وہ بھی ادھورا بچہ (آدھا دھڑندارد) نبی صلی ا للّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر سلیمان علیہ السلام انشاء اللّٰہ کہتے تو انکی مراد بر آتی اور ان کا کام نکل آنے کی امید زیادہ ہوتی۔

‹ First10111213