21. باب {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ}
وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُرَاهُ فُلاَنًا ". لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ. قَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ كَانَ فُلاَنٌ حَيًّا، لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَىَّ فَقَالَ " نَعَمِ الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَةُ "
Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) that while Allah's Apostle was with her, she heard a voice of a man asking permission to enter the house of Hafsa. 'Aisha added: I said, "O Allah's Apostle! This man is asking permission to enter your house." The Prophet said, "I think he is so-and-so," naming the foster-uncle of Hafsa. 'Aisha said, "If so-and-so," naming her foster uncle, "were living, could he enter upon me?" The Prophet said, "Yes, for foster suckling relations make all those things unlawful which are unlawful through corresponding birth (blood) relations."
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیا ن کیا کہا مجھ سی اما م ما لک نے انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر سے انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمٰن سے ان سے حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ نبیﷺ ان کے پا س تھے کہ اتنے میں انہوں نے ایک مرد کی آواز سنی جو ام المومنین حضرت حفصہؓ کے گھر میں جا نے کی اجا زت ما نگتا ہے میں نے رسول اللہﷺ سے کہہ دیا ایک مرد آپ کے گھر میں جا نے کی اجا زت ما نگ رہا ہے آپ نے فر ما یا میں سمجھتا ہوں یہ فلاں شخص ہے حفصہؓ کے دودھ چچا کا نا م لیا اس وقت حضرت عائشہؓ نے کہا یا رسو ل اللہ ﷺ اپنے دودھ چچا کا نام لیا یگر وہ زندہ ہوتا تو میں اس کے سا منے نکلتی آپ نے فرما یا بے شک جیسے خو ن ملنے سے حر مت ہوتی ہے ویسے ہی دودھ پینے سےہو تی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَلاَ تَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ قَالَ " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ". وَقَالَ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ مِثْلَهُ
Narrated By Ibn 'Abbas : It was said to the Prophet, "Won't you marry the daughter of Hamza?" He said, "She is my foster niece (brother's daughter)."
ہم سے مسدد نے بیا کیا کہا ہم سے یحٰیی بن سعید قطان نے انہوں نے شعبہ سے انہوں نے قتا دہؓ سے انہوں نے جا بر بن زید سے انہوں نے ابن عباسؓ سےانہوں نے کہا نبیﷺ سے کسی نے ( حضرت علیؓ نے ) عر ض کیا آپ حمزہ کی لڑکی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے آپ نے فر ما یا واہ واہ وہ تو میرے دودھ بھا ئی (حمزہ) کی بیٹی ہے بشر بن عمر نے بھی اس حدیث کو شعبہ سے روا یت کیا ہے اس میں یوں ہے میں نے قتادہ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے جا بر بن زید سے سنا ایسی ہی حدیث بیا ن کی۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ " أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ ". فَقُلْتُ نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي ". قُلْتُ فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ " بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ". قُلْتُ نَعَمْ. فَقَالَ " لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ". قَالَ عُرْوَةُ وَثُوَيْبَةُ مَوْلاَةٌ لأَبِي لَهَبٍ كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ قَالَ لَهُ مَاذَا لَقِيتَ قَالَ أَبُو لَهَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ.
Narrated By Um Habiba : (Daughter of Abu Sufyan) I said, "O Allah's Apostle! Marry my sister. the daughter of Abu Sufyan." The Prophet said, "Do you like that?" I replied, "Yes, for even now I am not your only wife and I like that my sister should share the good with me." The Prophet said, "But that is not lawful for me." I said, We have heard that you want to marry the daughter of Abu Salama." He said, "(You mean) the daughter of Um Salama?" I said, "Yes." He said, "Even if she were not my step-daughter, she would be unlawful for me to marry as she is my foster niece. I and Abu Salama were suckled by Thuwaiba. So you should not present to me your daughters or your sisters (in marriage)." Narrated 'Ursa; Thuwaiba was the freed slave girl of Abu Lahb whom he had manumitted, and then she suckled the Prophet. When Abu Lahb died, one of his relatives saw him in a dream in a very bad state and asked him, "What have you encountered?" Abu Lahb said, "I have not found any rest since I left you, except that I have been given water to drink in this (the space between his thumb and other fingers) and that is because of my manumitting Thuwaiba."
ہم سے حکم بن نافع نے بیا ن کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو عر وہ بن زبیر نے خبر دی ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے کہا ان سے ام المومنین ام حبیبہ نے بیا ن کیا جو ابو سفیان کی بیٹی تھیں انہوں نے کہا یا رسو ل اللہ میری بہن (درہ یا غرہ یا حمنہ) سے آپ نکاح کر لیجیئے۔ آپ نے فر ما یا تو اس کو پسند کر تی ہے (کہ تیری بہن تیری سو کن بنے ) انہوں نے کہا ہاں میں پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی
بی بی ہوتی تو پسند نہ کر تی پھر میر ی بہن اگر بھلا ئی میں شریک ہو تو میں کیو ں کر نہ چا ہوں گی۔ (غیر لوگو ں سے تو بہن اچھی ہے) آپ نے فر ما یا وہ میر ے لیے حلال نہیں ام حبیبہؓ نے کہا یا رسو ل اللہ لوگ کہتے ہیں آپ ابو سلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے نکاح کر نے وا لے ہیں آپ نے فر مایا(واہ نا معقو ل) اگر وہ میر ی ربیبہ اور میر ی پرورش میں نہ ہوتی (میری بی بی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میر ے لیے حلال نہ ہو تی وہ تو (دوسرے رشتے سے ) میری دودھ بھتیجی ہے مجھ کو اور ابو سلمہ (اس کے باپ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلا یا ہے دیکھو ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح کر نے کے لیے نہ کہو ۔ عروہ راوی نے کہا ثویبہ ابو لہب کی لونڈی تھی ابو لہب نے اس کو آزاد کر دیا تھا (جب اس نے نبیﷺ کے پیدا ہونے کی خبر ابو لہب کو دی تھی)پھر اس نے نبیﷺ کو دودھ پلا یا تھا جب ابو لہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے اس کو خواب میں برے حا ل میں دیکھا پوچھا کیا حا ل ہے کیا گزری وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذرا سا پا نی (پیر کے دن )اس میں مل جا تا ہے ابو لہب نے اس گڑھے کی طر ف اشا رہ کیا جو انگو ٹھے اور کلمے کی انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کر دیا تھا۔
22. باب مَنْ قَالَ لاَ رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ}
وَمَا يُحَرِّمُ مِنْ قَلِيلِ الرَّضَاعِ وَكَثِيرِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَكَأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَتْ إِنَّهُ أَخِي. فَقَالَ " انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ "
Narrated By 'Aisha : That the Prophet entered upon her while a man was sitting with her. Signs of anger seemed to appear on his face as if he disliked that. She said, "Here is my (foster) brother." He said, "Be sure as to who is your foster brother, for foster suckling relationship is established only when milk is the only food of the child."
ہم سے ابو الولید نے بیا ن کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے اشعث سے انہوں نے اپنے با پ (سلیم بن اسود) سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عا ئشہ سے نبیﷺ ان کے پاس تشر یف لے گئے ۔دیکھا تو وہاں ایک مرد بیٹھا ہے یہ دیکھ کر آپ کی چہرہ بدل گیا نا گوا ر گزرا حضرت عا ئشہ نے عر ض کیا یا رسول اللہ وہ میر ادودھ (شریک )بھا ئی ہے آپ نے فر ما یا دیکھو سوچ سمجھ کر کہو کون تمہا را بھا ئی ہے رضا عت وہی معتبر ہے جو(بچپنے میں) بھو ک بند کرے ۔
23. باب لَبَنِ الْفَحْلِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَفْلَحَ، أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ـ وَهْوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ـ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ
Narrated By 'Aisha : That Aflah the brother of Abu Al-Qu'ais, her foster uncle, came, asking permission to enter upon her after the Verse of Al-Hijab (the use of veils by women) was revealed. 'Aisha added: I did not allow him to enter, but when Allah's Apostle came, I told him what I had done, and he ordered me to give him permission.
ہم سے عبد اللہ بن یو سف نے بیا ن کیا کہا ہم کو اما م ما لک نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ بن زبیر سےانہوں نے حضرت عائشہ سے انہوں نے افلح جو ابو القعیس کا بھا ئی اور حضرت عائشہ کا دودھ چچا تھا ان سے اندر آنے کی اجا زت ما نگنے لگا یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب حجاب (پر دے) کا حکم اتر چکا تھا حضرت عا ئشہؓ کہتی ہیں میں نے اس کو اجا زت نہ دی جب رسول اللہﷺ تشر یف لائے تو میں نے آپ سے بیا ن کیا آپ نے فر ما یا نہیں اس کو آنے دے (وہ تیرا رضاعی چچا ہے)۔
24. باب شَهَادَةِ الْمُرْضِعَةِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ أَرْضَعْتُكُمَا. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ فُلاَنَةَ بِنْتَ فُلاَنٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ لِي إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا. وَهْىَ كَاذِبَةٌ فَأَعْرَضَ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، قُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ. قَالَ " كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا، دَعْهَا عَنْكَ " وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِي أَيُّوبَ
Narrated By 'Uqba bin Al-Harith : I married a woman and then a black lady came to us and said, "I have suckled you both (you and your wife)." So I came to the Prophet and said, "I married so-and-so and then a black lady came to us and said to me, 'I have suckled both of you.' But I think she is a liar." The Prophet turned his face away from me and I moved to face his face, and said, "She is a liar." The Prophet said, "How (can you keep her as your wife) when that lady has said that she has suckled both of you? So abandon (i.e., divorce) her (your wife)."
ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے اسماعیل بن ابرا ہیم نے کہا ہم کو ایو ب سختیانی نے انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے انہوں نے کہا مجھ سے عبید بن ابی مریم نے بیا ن کیا انہوں نے عقبہ بن حا رث سے عبد اللہ بن ابی ملیکہ نے کہا میں نے یہ حدیث خود عقبہ سے بھی سنی تھی (بے واسطہ عبید کے )مگر واسطے سے جو حدیث میں نے سنی ہے وہ مجھ کو خوب یاد ہے خیر عقبہ نے کہا میں نے ایک عورت (ام یحیٰی بنت ابی وہاب) سے نکاح کیا اتنے میں ایک کالی عورت (نام معلو م نہیں) آئی کہنے لگی (واہ اچھا نکاح ہوا) میں نے تم دونوں کو دودھ
پلا یا ہے (تم بہن بھا ئی ہو)عقبہ نے کہا میں یہ سن کر آپﷺ کے پاس حا ضر ہوا آپ سے بیا ن کیا کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کیا اب فلانی کالی عورت(جب نکاح ہو چکا تو) کہتی ہے میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے وہ جھوٹی ہے آپ نے میری طرف سے منہ پھیر لیا آپ کو عقبہ کا یہ کہنا کہ وہ جھوٹی ہے نا گوار گذرا خیر میں اس طرف گیا جدھر آپ کا منہ تھا اور یہی عرض کیا وہ عورت جھوٹی ہے آپ نے فر ما یا بھلا تو اس عورت کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے جب ایک عورت یوں کہتی ہے میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس عورت کو چھوڑ بھی دے اسمٰعیل بن علیہ راوی نے اپنے کلمے کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اس طرح اشارہ کیا جیسے ایوب سختیا نی نے اس حدیث کو روایت کرتے وقت اشارہ کیا تھا۔
25. باب مَا يَحِلُّ مِنَ النِّسَاءِ وَمَا يَحْرُمُ وَقَوْلِهِ تَعَالَى:
{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ }إِلَى{عَلِيمًا حَكِيمًا}الآية. وَقَالَ أَنَسٌ :{وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ} ذَوَاتُ الأَزْوَاجِ الْحَرَائِرُ حَرَامٌ{ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} لاَ يَرَى بَأْسًا أَنْ يَنْزِعَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ مِنْ عَبْدِهِ. وَقَالَ {وَلاَ تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ}. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا زَادَ عَلَى أَرْبَعٍ فَهْوَ حَرَامٌ، كَأُمِّهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ
وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ. ثُمَّ قَرَأَ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ} الآيَةَ. وَجَمَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ ابْنَةِ عَلِيٍّ وَامْرَأَةِ عَلِيٍّ. وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لاَ بَأْسَ بِهِ. وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ. وَجَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَيْنَ ابْنَتَىْ عَمٍّ فِي لَيْلَةٍ، وَكَرِهَهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ لِلْقَطِيعَةِ، وَلَيْسَ فِيهِ تَحْرِيمٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ} وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ. وَيُرْوَى عَنْ يَحْيَى الْكِنْدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَأَبِي جَعْفَرٍ، فِيمَنْ يَلْعَبُ بِالصَّبِيِّ إِنْ أَدْخَلَهُ فِيهِ، فَلاَ يَتَزَوَّجَنَّ أُمَّهُ، وَيَحْيَى هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ، لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ. وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا زَنَى بِهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ. وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي نَصْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَرَّمَهُ. وَأَبُو نَصْرٍ هَذَا لَمْ يُعْرَفْ بِسَمَاعِهِ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَيُرْوَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالْحَسَنِ وَبَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَحْرُمُ عَلَيْهِ. وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لاَ تَحْرُمُ حَتَّى يُلْزِقَ بِالأَرْضِ يَعْنِي يُجَامِعَ. وَجَوَّزَهُ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ وَالزُّهْرِيُّ. وَقَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عَلِيٌّ لاَ تَحْرُمُ. وَهَذَا مُرْسَلٌ.
Ibn Abbas further said, "Seven types of marraiages are unlaful because of blood relations, and seven because of marriage relations." Then Ibn Abbas recited the Verse: "Forbidden to you(for marraige) are your mothers..."(V.4:33)
'Abdullah bin Ja'far married the daughter and wife of Ali at the same time(they were step-daughter and mother). Ibn Sirin said, "There is no harm in that." But Al-Hasan Al-Basri disapproved of it at first, but then said that there was no harm in it. Al-Hasan bin Al-Hasan bin Ali married two of his cousins in one night. Ja'far bin Zaid disapproved of that because it would bring about hatred (between the two cousins), but it is not unlawful, as Allah said, "Lawful to you are all others [beyond those(mentioned)]."(V.4:24)
Ibn Abbas said," If somebody commits illegal sexual intercourse with his wife's sister., his wife does not become unlawful for him".
And narrated Abu Ja'far, "If a person commits homosexuality with a boy, then the mother of that boy is unlawful for him to marry."
Narrated Ibn Abbas, "If one commits illegal sexual intercourse with his mother-in-law , then his married relation to his wife does not become lawful." Abu Nasr is reported to have said that Ibn Abbas in the above case, regarded his marital relation to his wife unlawful, but Abu Nasr is not known well for hearing Hadith from Ibn Abbas.
Imran bin Husain, Jabir bin Zaid, Al-Hasan and some other Iraqis, are reported to have judged that his marital relations to his wife would be lawful. In the above case Abu Huraira said, "The marital relation to one's wife does not become unlawful except if one has had sexual intercourse(with her mother)." Ibn Al-Musaiyab,'Urwa and Az-Zuhri allow such a person to keep his wife.'Ali said," His marital relations to his wife does not become unlawful."
اور اما م احمد بن حنبل نے مجھ سے کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطا ن نے بیا ن کیا انہوں نے سفیا ن ثوری سے کہا مجھ سے حبیب بن ابی ثا بت نے
بیا ن کیا انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عبا سؓ سے انہو ں نے کہا خو ن کی رو سے تم پر سات رشتے حرا م ہو ئے اور شا دی کی وجہ سے سات رشتے (سسرا لی) پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی حر مت علیکم امھا تکم اخیر تک اور عبد اللہ بن جعفر بن ابی طا لب نے حضرت علی کی
صا حب زادی (حضرت زینب ) اور حضرت علی کی بی بی لیلٰی بنت مسعو د دو نو ں سے نکاح کیا اور دو نوں کو جمع کیا اور ابن سیرین نے کہا اما م حسبن بصر ی نے ایک بار تو اس کو مکروہ کہا پھر کہنے لگے اس میں کو ئی قبا حت نہیں ہے اور اما م حسن بن حسن بن علی بن ابی طا لب نے اپنے دونوں چچاؤ ں کی بیٹیوں کو ایک رات میں بیا ہ لیا اور جا بر بن زید تابعی نے اس کو مکروہ جا نا اس خیا ل سے کہ بہنو ں میں جلا پا پیدا نہ ہو مگر یہ حرا م نہیں ہے کیونکہ اللہ نے فر ما یا کہ ان کے سوا اور سب عورتیں تم کو حلا ل ہیں اور عکرمہ نے ابن عبا سؓ سے روا یت کیا اگر کسی نے اپنی سالی سے زنا کی تو اس کی جورو (سا لی کی بہن)اس پر حرا م نہ ہو گی اور یحٰیی بن قیس کندی سے روایت ہے انہو ں نے شعبی اور ابو جعفر سے انہوں نے کہا اگر کوئی شخص (لونڈے بازی س) لواطت کرے اور لونڈے کے دخو ل کر دے تو اب اس کی ما ں سے نکاح نہ کرے اور یحٰیی راوی مشہور شخص نہیں ہے اور نہ کسی اور نے اس کے سا تھ ہو کر یہ روایت کی اور عکرمہ نے ابن عبا س سے یہ روایت کی اگر کسی نے اپنی (خوش دامن ) سے زنا کی تو اس کی جورو اس پر حرام نہ ہو گی ابو نصر نے ابن عبا سؓ سے یوں روایت کی کہ حرام ہو جائے گی اور اس راوی ابو نصر کا حال معلو م نہیں کہ اس نے ابن عبا سںؓ سے سنا ہے یا نہیں (لیکن ابو زرعہ نے اس کو ثقہ کہا ہے) اور عمران بن حصین اور جا بر بن زیدؓ اور حسن بصری اور بعضے عرا ق والوں
(ثوری اور ابو حنیفہ )کا یہی قول ہے کہ حرام ہو جا ئے گی اور ابو ہریرہؓ نے کہا حرام نہ ہو گی جب تک اس کی ماں (اپنی خوش دامن ) کو زمین سے نہ لگا دے (اس سے جماع نہ کرے) اور سعید بن مسیب اور عروہ اور زہری نے اس کو جائز رکھا ہے اور زہری نے کہا کہ حضرت علیؓ نے فر ما یا اس کی جورو اس پر حرام نہ ہو گی اور اس کی روایت منقطع ہے۔
26. باب {وَرَبَائِبُكُمُ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللاَّتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ}
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الدُّخُولُ وَالْمَسِيسُ وَاللِّمَاسُ هُوَ الْجِمَاعُ. وَمَنْ قَالَ بَنَاتُ وَلَدِهَا مِنْ بَنَاتِهِ فِي التَّحْرِيمِ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لأُمِّ حَبِيبَةَ " لاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ ". وَكَذَلِكَ حَلاَئِلُ وَلَدِ الأَبْنَاءِ هُنَّ حَلاَئِلُ الأَبْنَاءِ، وَهَلْ تُسَمَّى الرَّبِيبَةَ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ فِي حَجْرِهِ، وَدَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَبِيبَةً لَهُ إِلَى مَنْ يَكْفُلُهَا، وَسَمَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ابْنَ ابْنَتِهِ ابْنًا
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ " فَأَفْعَلُ مَاذَا ". قُلْتُ تَنْكِحُ. قَالَ " أَتُحِبِّينَ ". قُلْتُ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِيكَ أُخْتِي. قَالَ " إِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي ". قُلْتُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ. قَالَ " ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ". وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ
Narrated By Um Habiba : I said, "O Allah's Apostle! Do you like to have (my sister) the daughter of Abu Sufyan?" The Prophet said, "What shall I do (with her)?" I said, "Marry her." He said, "Do you like that?" I said, "(Yes), for even now I am not your only wife, so I like that my sister should share you with me." He said, "She is not lawful for me (to marry)." I said, "We have heard that you want to marry." He said, "The daughter of Um Salama?" I said, "Yes." He said, "Even if she were not my stepdaughter, she should be unlawful for me to marry, for Thuwaiba suckled me and her father (Abu Salama). So you should neither present your daughters, nor your sisters, to me."
ہم سے عبد اللہ بن زبیر حمیدی نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیرؓ سے انہوں نے زینب بنت ابی سلمہؓ سے انہوں نے ام حبیبہ سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا ۔کیا آپ ابو سفیان کی بیٹی
( غرہ یا درہ یا حمنہ ) کو چاہتے ہیں آپ نے فر ما یا کیوں میں کیا کروں میں نے کہا نکاح کر لیجیئے اور کیا ۔ آپ نے فر ما یا تو اس کو پسند کرے گی میں نے عرض کیا کیا میں ایک اکیلی تھوڑی آپ کے پاس ہوں؟(کوئی سوکن نہیں) پھر اگر میری بہن آپ کی زوجیت میں میرے ساتھ شریک ہو تو غیروں سے اچھا ہے آم نے فر ما یا وہ میرے لیے حلال نہیں مین نے کہا میں نے سنا ہے آپﷺ (زینب ) بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے وا لے ہیں آپ نے فر ما یا واہ واہ وہ تو اگر میر ی ربیبہ نہ ہوتی جب بھی میر ے لیے حلال نہ ہوتی مجھ کو اور ابو سلمہ اس کے باپ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے (وہ میری بھتیجی ہوئی) دیکھو (آئندہ سے ) اپنی بیٹیاں اور اپنی بہنیں مجھ پر پیش نہ کرنا لیث بن سعد نے بھی اس حدیث کو ہشام سے روایت کیا اس میں ابو سلمہ کی بیٹی کا نام درہ مذکور ہے (اور اگلی روایت میں زینب) ۔
27. باب {وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الأُخْتَيْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ}
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ. قَالَ " وَتُحِبِّينَ ". قُلْتُ نَعَمْ، لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. قَالَ " بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ". فَقُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لاَبْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ "
Narrated By Um Habiba : I said, "O Allah's Apostle! Marry my sister, the daughter of Abu Sufyan." He said, "Do you like that?" I said, "Yes, for even now I am not your only wife; and the most beloved person to share the good with me is my sister." The Prophet said, "But that is not lawful for me (i.e., to be married to two sisters at a time.)" I said, "O Allah's Apostle! By Allah, we have heard that you want to marry Durra, the daughter of Abu Salama." He said, "You mean the daughter of Um Salama?" I said, "Yes." He said, "By Allah ! Even if she were not my stepdaughter, she would not be lawful for me to marry, for she is my foster niece, for Thuwaiba has suckled me and Abu Salama; so you should neither present your daughters, nor your sisters to me."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے ان کو عروہ بن زبیر نے خبر دی ان کو زینب بنت ابی سلمہ نے ان کو ام المو منین ام حبیبہؓ نے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺآپ میری بہن ابو سفیا ن کی بیٹی سے نکاح کر لیجیئے آپ نے فر ما یا کیا تو اس کو پسند کرے گی میں نے کہابےشک میں کچھ اکیلی تھوڑی آپ کے پاس ہوں(یہا ں تو ما شااللہ آٹھ سو کنیں مو جو د ہیں ) پھر اگر میری بہن کا بھلا ہو تو غیروں سے تو اس کی بھلائی مجھ کو اچھی معلوم ہوتی ہے آپ نے فر ما یا وہ تو میر ے لیے حلال نہیں ہے ( کیونکہ ایک بہن میرے نکاح میں ہے) میں نے کہا خدا کی قسم یا رسو ل اللہ ہم تو یہ مذکور کر رہے تھے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں آپ نے فر ما یا (سچ) ام سلمہ سے خدا کی قسم وہ تواگر میری پرورش میں نہ ہوتی
(میری ربیبہ نہ ہوتی ) جب بھی میرے لیے حلا ل نہ ہوتی وہ تو رضاعت کے رشتے سے میری بھتیجی ہے مجھ کو اور ابو سلمہ (اس کے باپ) دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے تو ایسا مت کیا کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح کر لینے کے لیے نہ کہا کرو۔
28. باب لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، سَمِعَ جَابِرًا، رضى الله عنه قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا. وَقَالَ دَاوُدُ وَابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
Narrated By Jabir : Allah's Apostle forbade that a woman should be married to man along with her paternal or maternal aunt.
ہم سے عبدان نے بیا ن کیا کہا ہم کو عبد اللہ بن مبا رک نے خبر دی کہا ہم کو عاصم نے خبر دی شعبی سے انہوں نے جابر سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے اس سے منع فر ما یا کہ کوئی عورت اپنی پھوپھی یا اپنی خا لہ کے اوپر نکاح کرے اور داود بن ابی ہند اور ابن عون نے اس حدیث کو شعبی سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے روایت کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "A woman and her paternal aunt should not be married to the same man; and similarly, a woman and her maternal aunt should not be married to the same man."
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام ما لک نے خبر دی انہوں نے ابو الزنا د سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فر ما یا کہ کوئی آدمی ایک عورت اور اس کی پھو پھی یا ایک عورت اور اس کی خا لہ کو اپنے نکاح میں جمع نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْمَرْأَةُ وَخَالَتُهَا. فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ
Narrated By Abu Huraira : The Prophet forbade that a woman should be married to a man along with her paternal aunt or with her maternal aunt (at the same time).
ہم سے عبدان نے بیا ن کیا کہا ہم کو عبد اللہ بن مبا رک نے خبر دی کہا ہم کو یو نس نے انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے قبیصہ بن ذویب نے
بیا ن کیا انہوں نے ابو ہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبی ﷺ نے اس سے منع کیا کہ کوئی اپنی جورو پر اس کی پھوپھی یا خا لہ کو بیاہ کر لائے زہری نے کہا باپ کی خا لہ کا بھی یہی حکم ہے اس طرح با پ کی پھو پھی کا بھی ۔
لأَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ
'Urwa told me that 'Aisha said, "What is unlawful because of blood relations, is also unlawful because of the corresponding foster suckling relations."
کیونکہ عروہ نے مجھ سے بیا ن کیا انہوں نے حضرت عا ئشہؓ سے انہوں نے کہا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام سمجھو جو خو ن کی وجہ سے حرا م ہوتے ہیں۔
29. باب الشِّغَارِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ
Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle forbade Ash-Shighar, which means that somebody marries his daughter to somebody else, and the latter marries his daughter to the former without paying Mahr.
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام ما لک نے خبر دی انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر سے کہا کہ رسول اللہﷺ نے شغار سے منع فر ما یا شغا ر کیا ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی (یا بہن) دوسرے کو بیا ہ دے ۔اس شرط پر کہ وہ اپنی بیٹی (یا بہن) اس کو بیاہ دے بس اور کچھ مہر نہ ٹھہرائے۔
30. باب هَلْ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لأَحَدٍ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ مِنَ اللاَّئِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلرَّجُلِ فَلَمَّا نَزَلَتْ {تُرْجِئُ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ} قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلاَّ يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ. رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَعَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ
Narrated By Hisham's father : Khaula bint Hakim was one of those ladies who presented themselves to the Prophet for marriage. 'Aisha said, "Doesn't a lady feel ashamed for presenting herself to a man?" But when the Verse: "(O Muhammad) You may postpone (the turn of) any of them (your wives) that you please,' (33.51) was revealed, " 'Aisha said, 'O Allah's Apostle! I do not see, but, that your Lord hurries in pleasing you.'"
ہم سے محمد بن سلا م نے بیا ن کیا کہا ہم سے محمد بن فضیل نے کہا ہم سے ہشا م بن عروہ نے کہا انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا خولہ بنت حکیم ان عورتوں میں سے تھی جنہوں نے اپنے تئیں نبیﷺ کو بخش دیا تھا۔ حضرت عا ئشہؓ کہنے لگیں ارے اس عورت کو شرم نہیں آتی کہ اپنی جا ن مرد کو بخشتی ہے پھر جب یہ آیت اتری اے پیغمبر تو اپنی جس بی بی کو چاہے پیچھے چھو ڑ دے تو کہنے لگیں یا رسول اللہ اب میں سمجھی اللہ تعا لٰی جلد جلد آپ کی خو شی پو ری کرتا ہے اس حدیث کو ابو سعید (محمد بن مسلم) مودب اور محمد بن بشر اور عبدہ بن سلیمان نے بھی ہشا م سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے ایک نے دوسرے سے کچھ زیا دہ مضمون نقل کیا ہے۔