31. باب نِكَاحِ الْمُحْرِمِ
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُحْرِمٌ.
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet got married while he was in the state of Ihram.
ہم سے ما لک بن اسمٰعیل نے بیا ن کیا کہا ہم کو سفیا ن بن عیینہ نے خبر دی کہاہم کو عمرو بن دینار نے کہا ہم سے جا بر بن زید نے بیا ن کیا کہا ہم کو عبد اللہ بن عبا س نے خبر دی انہوں نے کہا نبیﷺ نے (حضرت میمو نہؓ سے) اس وقت نکاح کیا جب کہ آپ احرا م با ندھے تھے۔
32. باب نَهْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ أخِيرًا
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ
Narrated By 'Ali : I said to Ibn 'Abbas, "During the battle of Khaibar the Prophet forbade (Nikah) Al-Mut'a and the eating of donkey's meat."
ہم سے ما لک بن اسمٰعیل نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیا ن بن عیینہ نے انہوں نے زہری سے سنا وہ کہتے تھے مجھ سے امام حسنؓ بن محمد بن علیؓ اور ان کے بھائی عبد اللہ بن محمد بن علی ابو ہا شم نے بیا ن کیا ان دونوں نے اپنے والد اما م حنفیہ سے کہ ان کے والد جنا ب علی المر تضٰیؓ نے ابن
عبا س سے کہا جو متعہ کو حلال کہتے تھے کہ نبیﷺ نے خیبر کی جنگ میں متعہ سے اور پلیر وگدھوں کے گوشت سے منع فر ما یا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَرَخَّصَ فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ
Narrated By Abu Jamra : I heard Ibn Abbas (giving a verdict) when he was asked about the Mut'a with the women, and he permitted it (Nikah-al-Mut'a). On that a freed slave of his said to him, "That is only when it is very badly needed and women are scarce." On that, Ibn 'Abbas said, "Yes."
ہم سے محمد بن بشار نے بیا ن کیا کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے انہوں نےابو حمزہ سے انہوں نے کہا میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے سنا ان سے کسی نے پوچھا عورتوں سے متعہ کر نا کیسا ہے انہوں نے کہا جائز ہے اس پر ان کا ایک غلام (عکر مہ)کہنے لگا متعہ اس حالت میں جائزہوا ہوگا جب مردوں کو سخت ضرورت ہو گی اور عورتوں کی کمی ہوگی یا کچھ ایسا ہی کہا ابن عبا س نے کہا ہاں۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا ".
Narrated By Jabir bin 'Abdullah and Salama bin Al-Akwa' : While we were in an army, Allah's Apostle came to us and said, "You have been allowed to do the Mut'a (marriage), so do it."
ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیا کیا کہا ہم سے سفیا ن بن عیینہ نے کہ عمرو بن دینار نے حسن بن محمد بن علیؓ بن ابی طالب سے روایت کی انہوں نے جا بر بن عبد اللہ انصاری اور سلمہ بن اکوعؓ سے ان دونوں نے کہا ہم ایک لشکر میں تھے اتنے میں رسول اللہﷺکا ایلچی (بلالؓ یا کوئی اور) ہمارے پاس آیا کہنے لگا تم کو متعہ کرنے کی اجازت ہے تو متعہ کر لو۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا ".
Narrated By Jabir bin 'Abdullah and Salama bin Al-Akwa' : While we were in an army, Allah's Apostle came to us and said, "You have been allowed to do the Mut'a (marriage), so do it."
ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیا کیا کہا ہم سے سفیا ن بن عیینہ نے کہ عمرو بن دینار نے حسن بن محمد بن علیؓ بن ابی طالب سے روایت کی انہوں نے جا بر بن عبد اللہ انصاری اور سلمہ بن اکوعؓ سے ان دونوں نے کہا ہم ایک لشکر میں تھے اتنے میں رسول اللہﷺکا ایلچی (بلالؓ یا کوئی اور) ہمارے پاس آیا کہنے لگا تم کو متعہ کرنے کی اجازت ہے تو متعہ کر لو۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ تَوَافَقَا فَعِشْرَةُ مَا بَيْنَهُمَا ثَلاَثُ لَيَالٍ فَإِنْ أَحَبَّا أَنْ يَتَزَايَدَا أَوْ يَتَتَارَكَا تَتَارَكَا ". فَمَا أَدْرِي أَشَىْءٌ كَانَ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَبَيَّنَهُ عَلِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَنْسُوخٌ
Salama bin Al-Akwa' said: Allah's Apostle's said, "If a man and a woman agree (to marry temporarily), their marriage should last for three nights, and if they like to continue, they can do so; and if they want to separate, they can do so." I do not know whether that was only for us or for all the people in general. Abu Abdullah (Al-Bukhari) said: 'Ali made it clear that the Prophet said, "The Mut'a marriage has been cancelled (made unlawful)."
اور ابن ابی ذئب نے کہا مجھ سےایاس بن سلمہ بن اکوع نے بیا ن کیا انہوں نے اپنےوالد سے انہوں نے رسول اللہﷺ سے آپ نے فر ما یا اگر مرداورعورت متعہ کریں اور مدت معین نہ کریں تو (کم سے کم )تین دن تین رات مل کر رہیں اس کے بعد اگر چاہیں تو جدا ہوجائیں چاہیں تو مدت اور بڑھا دیں سلمہ نے کہا اب میں یہ نہیں جانتا کہ آپﷺ نے یہ متعہ کی اجازت خاص ہم کو یعنی صحابہ کو دی تھی یا یہ اجازت عام سب لوگوں کے لیے ہے امام بخاری نے کہا خود حضرت علیؓ نے آپﷺ سے ایسی روایت کی جس سے معلوم ہوتا ہے کی متعہ کی حلت منسوخ ہو گئی ۔
33. باب عَرْضِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِحِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، قَالَ أَنَسٌ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ بِي حَاجَةٌ، فَقَالَتْ بِنْتُ أَنَسٍ مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا وَاسَوْأَتَاهْ وَاسَوْأَتَاهْ. قَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا.
Narrated By Thabit Al-Banani : I was with Anas while his daughter was present with him. Anas said, "A woman came to Allah's Apostle and presented herself to him, saying, 'O Allah's Apostle, have you any need for me (i.e. would you like to marry me)?' "Thereupon Anas's daughter said, "What a shameless lady she was ! Shame! Shame!" Anas said, "She was better than you; she had a liking for the Prophet so she presented herself for marriage to him."
ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے بیا ن کیاکہا ہم سے مرحوم بن عبد العزیز بصری نے کہا میں نے ثا بت بنا نی سے سنا وہ کہتے تھے میں انس کے پاس بیٹھا تھا ان کے پاس ان کی ایک بیٹی بھی تھی (امینہ یا کوئی اور بیٹی) انسؓ نے بیا ن کیا کہ ایک عورت رسول اللہﷺ کی پاس آئی وہ اپنے تئیں آپﷺ کو پیش کر نا چاہتی تھی کہنے لگی یا رسول اللہ آپ کو میر ی خوا ہش ہے یہ سن کر انسؓ کی بیٹی بو لی(کمبخت) کیا بے شرم عورت تھی ارے تھو ارے تھو انسؓ نے کہا وہ عورت تجھ سے بہتر تھی اس نے تو نبیﷺ کی محبت میں اپنے تئیں خود آپ پر پیش کیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ امْرَأَةً، عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا. فَقَالَ " مَا عِنْدَكَ ". قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ. قَالَ " اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي وَلَهَا نِصْفُهُ ـ قَالَ سَهْلٌ وَمَا لَهُ رِدَاءٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَمَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ ". فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلَسُهُ قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَاهُ أَوْ دُعِي لَهُ فَقَالَ " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". فَقَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُعَدِّدُهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمْلَكْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "
Narrated By Sahl bin Sad : A woman presented herself to the Prophet (for marriage). A man said to him, "O Allah's Apostle! (If you are not in need of her) marry her to me." The Prophet said, "What have you got?" The man said, "I have nothing." The Prophet said (to him), "Go and search for something) even if it were an iron ring." The man went and returned saying, "No, I have not found anything, not even an iron ring; but this is my (Izar) waist sheet, and half of it is for her." He had no Rida' (upper garment). The Prophet said, "What will she do with your waist sheet? If you wear it, she will have nothing over her; and if she wears it, you will have nothing over you." So the man sat down and when he had sat a long time, he got up (to leave). When the Prophet saw him (leaving), he called him back, or the man was called (for him), and he said to the man, "How much of the Qur'an do you know (by heart)?" The man replied I know such Sura and such Sura (by heart)," naming the Suras The Prophet said, "I have married her to you for what you know of the Qur'an."
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم سے ابو غسا ن نے کہا مجھ سے ابو حازم سلمہ بن دینار نے انہوں نے سہلؓ بن سعد سے انہوں نے کہا ایک عورت نے نبیﷺ کے سامنے اپنے تئیں پیش کیا اتنے میں ایک شخص بولا یا رسول اللہﷺ(اگر آپ کو اس کی خواہش نہ ہو )تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجیئے آپ نے پوچھا تیرے پاس کچھ ہے بھی وہ کہنے لگا میرے پاس تو کچھ نہیں ہے آپ نے کہا اپنے لوگوں کے پاس جا کچھ تو لے کر آ کچھ نہ ہو تو لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی وہ گیا اور پھر لوٹ کر آیا کہنے لگا اور کہنے لگا خدا کی قسم مجھ کو تو کچھ بھی نہیں ملا لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی البتہ یہ تی بند میرے پاس ہے اس میں سے آدھا ٹکڑا میں اس کو دے دیتا ہوں سہل کہتے ہیں اس کے پاس چادر بھی (اوڑھنے کو) نہ تھی ( صرف ازار ہی تھی) آپﷺ نے فر ما یا آزار کیا کام آسکتی ہے تو پہنو تو عورت اس میں سے کچھ پہنے سے رہی وہ پہنے تو تو کچھ نہیں پہن سکے گا آخر وہ شخص (مایوس ہو کر) بیٹھ گیا بڑی دیر تک بیٹھ کر اٹھا (چلنے کے لیے تیار ہوا )نبیﷺ نے اس کو (جا تا ) ہوا دیکھ کر خود بلایا یا کسی اور سے بلوایا اور پوچھا بھلا تجھ کو قرآن میں سے کچھ یاد ہے وہ کہنے لگا فلانی فلانی سورت کئی سورتیں اس نے گنیں آپ نے فر ما یا ۔ جا ہم نے ان سورتوں کے بدل میں یہ عورت تیری ملک(نکاح) میں دے دی۔
34. باب عَرْضِ الإِنْسَانِ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ عَلَى أَهْلِ الْخَيْرِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ـ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي. فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ قَدْ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا. قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ زَوَّجْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ. فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا، وَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَىَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا. قَالَ عُمَرُ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ عَلَىَّ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا، فَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبِلْتُهَا.
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : 'Umar bin Al-Khattab said, "When Hafsa bint 'Umar became a widow after the death of (her husband) Khunais bin Hudhafa As-Sahmi who had been one of the companions of the Prophet, and he died at Medina. I went to 'Uthman bin 'Affan and presented Hafsa (for marriage) to him. He said, "I will think it over.' I waited for a few days, then he met me and said, 'It seems that it is not possible for me to marry at present.'" 'Umar further said, "I met Abu Bakr As-Siddique and said to him, 'If you wish, I will marry my daughter Hafsa to you." Abu Bakr kept quiet and did not say anything to me in reply. I became more angry with him than with 'Uthman. I waited for a few days and then Allah's Apostle asked for her hand, and I gave her in marriage to him. Afterwards I met Abu Bakr who said, 'Perhaps you became angry with me when you presented Hafsa to me and I did not give you a reply?' I said, 'Yes.' Abu Bakr said, 'Nothing stopped me to respond to your offer except that I knew that Allah's Apostle had mentioned her, and I never wanted to let out the secret of Allah's Apostle. And if Allah's Apostle had refused her, I would have accepted her.'"
ہم سے عبد العزیز بن عبد اللہ اویسی نے بیا ن کیا کہا ہم سے ابرا ہیم بن سعد سے ، انہوں نے سعد سے انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی انہوں نے اپنے والد عبد اللہ بن عمرؓ سے سنا وہ بیا ن کرتے تھے کہ ام المومنین حفصہ بیوہ
ہو گئیں ان کے خاوند خنیس بن حذافہ سہمی جو رسول اللہﷺ کے اصحاب میں سے تھے مدینہ میں گزر گئے (جنگ احد میں زخمی تھے) تو حضرت عمرؓ نے کہا میں عثمانؓ بن عفا ن کے پاس گیا اور ان سے کہا تم حفصہ سے نکاح کر لو انہوں نے کہا میں سوچ کر کہوں گا کئی راتوں تک میں ٹھہرا رہاپھر جو عثمان مجھ سے ملے توکہنے لگے میری رائے یہ ٹھہری ابھی میں نکاح نہ کروں آخر میں ابو بکر کے پاس گیاان سے کہا تم منظور کرو تو میں حفصہؓ سے تمہارا نکاح کر دیتا ہوں یہ سن کر ابو بکر خا موش ہو رہے انہوں نے کوئی جواب ہی نہ دیا (نہ لانہ نعم) اور مجھ کو عثمان سے بھی زیا دہ غصہ ان پر آیا خیر مین چند راتیں اور ٹھہرے رہا اس کے بعد رسول اللہﷺ نے حفصہؓ کا پیا م بھیجا میں نے حفصہ کا نکاح آپﷺ سے کر دیا پھر جو ابو بکر مجھ سے ملے کہنے لگے میں سمجھتا ہوں جب تم نے حفصہؓ سے نکاح کر لینے کے لیے مجھ سے کہا تھا اور میں نے کچھ جواب نہیں دیا تھا تو تم کو نا گوار گزرا ہو گا میں نے کہا بے شک مجھ کو ناگوار تو گزرا تھا ابو بکر نے کہا دیکھو میں نے تم کو اس وجہ سے جوا ب نہیں دیا تھا کہ مجھ کو معلوم ہو گیا تھا رسول اللہﷺ نے حفصہؓ کا ذکر کیا تھا (آپ کی خواہش ان سے نکاح کر لینے کی معلوم ہوتی تھی ) اور مجھ سے یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ میں رسول اللہﷺ کا راز فا ش کر دیتا (تم سے یہ کہتا کہ آپﷺ کا خیا ل حفصہؓ سے نکاح کر نے کا معلوم ہوتا ہے) البتہ اگر آپﷺ حفصہؓ سے نکاح کر نے کا ارادہ چھوڑ دیتے تو بے شک میں حفصہؓ کواپنے نکاح میں لے آتا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ نَاكِحٌ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَوْ لَمْ أَنْكِحْ أُمَّ سَلَمَةَ مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّ أَبَاهَا أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ "
Narrated By Zainab bint Salama : Um Habiba said to Allah's Apostle "We have heard that you want to marry Durra bint Abu-Salama." Allah's Apostle said, "Can she be married along with Um Salama (her mother)? Even if I have not married Um Salama, she would not be lawful for me to marry, for her father is my foster brother."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیا ن کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے انہوں نے عراک بن مالک سے ان کو زینب بنت ابی سلمہؓ نے خبر دی کہام حبیبہ نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا ۔ ہم لوگ تو یہ با تیں کر رہے تھے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہؓ سے نکاح کرنے والے ہیں آپ نے فر ما یا ام سلمہؓ(اس کی ماں) پر اگر میں نے ام سلمہؓ سے نکاح نہ کیا ہوتا (اور درہ میری ربیبہ نہ ہوتی ) تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی کیونکہ درہ کا باپ (ابو سلمہ) میرا دودھ بھائی ہے۔
35. باب قَوْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ:
{وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ} الآيَةَ إِلَى قَوْلِهِ {غَفُورٌ حَلِيمٌ}
{أَكْنَنْتُمْ} أَضْمَرْتُمْ، وَكُلُّ شَىْءٍ صُنْتَهُ فَهْوَ مَكْنُونٌ
وَقَالَ لِي طَلْقٌ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {فِيمَا عَرَّضْتُمْ} يَقُولُ إِنِّي أُرِيدُ التَّزْوِيجَ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ تَيَسَّرَ لِي امْرَأَةٌ صَالِحَةٌ. وَقَالَ الْقَاسِمُ يَقُولُ إِنَّكِ عَلَىَّ كَرِيمَةٌ، وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللَّهَ لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا. أَوْ نَحْوَ هَذَا. وَقَالَ عَطَاءٌ يُعَرِّضُ وَلاَ يَبُوحُ يَقُولُ إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي، وَأَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ نَافِقَةٌ. وَتَقُولُ هِيَ قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ. وَلاَ تَعِدُ شَيْئًا وَلاَ يُوَاعِدُ وَلِيُّهَا بِغَيْرِ عِلْمِهَا، وَإِنْ وَاعَدَتْ رَجُلاً فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا. وَقَالَ الْحَسَنُ {لاَ تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} الزِّنَا. وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {الْكِتَابُ أَجَلَهُ} تَنْقَضِي الْعِدَّةُ.
Ibn 'Abbas said, "Hint your intention of marrying' is made by saying (to the widow) for example: "I want to marry, and I wish that Allah will make a righteous lady available for me.' " Al-Qasim said: One may say to the widow: 'I hold all respect for you, and I am interested in you; Allah will bring you much good, or something similar 'Ata said: One should hint his intention, and should not declare it openly. One may say: 'I have some need. Have good tidings. Praise be to Allah; you are fit to remarry.' She (the widow) may say in reply: I am listening to what you say,' but she should not make a promise. Her guardian should not make a promise (to somebody to get her married to him) without her knowledge. But if, while still in the Iddat period, she makes a promise to marry somebody, and he ultimately marries her, they are not to be separated by divorce (i.e., the marriage is valid).
( امام بخاری نے کہا) مجھ سے طلق بن غنا م نے ذکر کیا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیا ن کیا انہوں نے منصور بن معتمر سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے فیما عرضتم بہ من خطبۃالنساء کی تفسیر میں کہا کہ (تعریض یہ ہے ) مرد عورت سے کہے ( جو عدت میں ہو) میرا بھی ارادہ نکاح کرنے کا ہے یا میری آرزو یہ ہے کوئی اچھی عورت مل جائے تو نکا ح کر لوں قاسم بن محمد نے کہا (تعریض یہ ہے ) یوں کہے تم تو اچھی عورت ہو یا میں تم کو بہت پسند کر تا ہوں یا یوں کہے اللہ تمہا رے لیے اچھا کر نے وا لا ہے یا کوئی اور کلمہ اسی طرح کا اور عطاء بن ابی رباح نے کہا اشا رے کنا یہ میں پیغام دے (یہ تعریض ہے ) صا ف صاف نہ کہے (کہ مجھ سے نکاح کر لینا) مثلا یوں کہے مجھ کو بھی عورتوں کی
حا جت ہے یا تم خوش ہو جاؤ اللہ کے فضل سے تمہا رے بیس چا ہنے و الے ہیں عورت یوں کہے اچھا میں سنتی ہوں جو تم کہتے ہو۔ اور صا ف
صا ف نکاح کرنے کا وعدہ نہ کرے اسی طرح عورت کا والی بھی بے عورت کو خبرکئے کسی سے نکاح کا وعدہ نہ کرے اس پر بھی اگر عورت نے عدت کے اندر کسی سے نکاح کا وعدہ کر لیا اور عدت کے بعد اسی سے نکاح پڑھ لیا تو(نکاح صحیح ہو گیا) اس کا توڑنا ضروری نہیں اور امام حسن بصری نے کہا لا توا عدو ھن سرا سے مرا د ہے کہ (عدت کے اندر) عورت سے چھپ کر بد کا ری نہ کرو۔ اور ابن عبا سؓ سے منقو ل ہے حتٰی یبلغ الکتا ب اجلہ سے مراد یہ ہے کہ عدت گزر جائے۔
36. باب النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ قَبْلَ التَّزْوِيجِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ لِي هَذِهِ امْرَأَتُكَ. فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ، فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَقُلْتُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ "
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle said (to me), "You were shown to me in a dream. An angel brought you to me, wrapped in a piece of silken cloth, and said to me, 'This is your wife.' I removed the piece of cloth from your face, and there you were. I said to myself. 'If it is from Allah, then it will surely be.'"
ہم سے مسدد نے بیا ن کیا کہا ہم سے حما د بن زید نے انہوں نے ہشام بن عر وہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیرؓ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے مجھ سے فر ما یا میں نے (نکاح سے پہلے) تجھ کو خواب میں دیکھ لیا تھا ایک فرشتہ ریشمی کپڑے میں لپیت کر تجھ کو لا یا اور کہنے لگا یہ آپ کی بی بی ہے میں نے کپڑا تیرے منہ پر سے اٹھا یا ۔(یہیں سے باب کا مطلب نکلتا ہے) کیا دیکھتا ہوں کہ تو ہے میں نے اپنے دل میں سوچا اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ اس کو ضرور پو را کرے گا (میرا تیرا نکاح ہو گا)۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لأَهَبَ لَكَ نَفْسِي. فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا. فَقَالَ " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ". قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا. قَالَ " انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ـ قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ ـ فَلَهَا نِصْفُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَىْءٌ ". فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلَسُهُ ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". قَالَ مَعِي سُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا. عَدَّدَهَا. قَالَ " أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "
Narrated By Sahl bin Sad : A woman came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! I have come to you to present myself to you (for marriage)." Allah's Apostle glanced at her. He looked at her carefully and fixed his glance on her and then lowered his head. When the lady saw that he did not say anything, she sat down. A man from his companions got up and said, "O Allah's Apostle! If you are not in need of her, then marry her to me." The Prophet said, "Have you got anything to offer." The man said, 'No, by Allah, O Allah's Apostle!" The Prophet said (to him), "Go to your family and try to find something." So the man went and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Apostle! I have not found anything." The Prophet said, "Go again and look for something, even if it were an iron ring." He went and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Apostle! I could not find even an iron ring, but this is my Izar (waist sheet).' He had no Rida (upper garment). He added, "I give half of it to her." Allah's Apostle said "What will she do with your Izar? If you wear it, she will have nothing over herself thereof (will be naked); and if she wears it, then you will have nothing over yourself thereof ' So the man sat for a long period and then got up (to leave). When Allah's Apostle saw him leaving, he ordered that he e called back. When he came, the Prophet asked (him), "How much of the Qur'an do you know (by heart)?" The man replied, I know such Sura and such Sura and such Sura," naming the suras. The Prophet said, "Can you recite it by heart?" He said, 'Yes." The Prophet said, "Go I let you marry her for what you know of the Qur'an (as her Mahr).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے یعقو ب بن عبد الرحمٰن نےانہوں نے ابو حازم(سلمہ بن دینار)سے انہوں نے سہل بن سعد ساعدیؓ سے انہوں نے کہا ایک عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی کنے لگی یا رسول اللہ میں اس لیے آئی ہوں کہ اپنے تئیں آپ کو بخش دوں رسول اللہﷺ نے اوپر تلے (سر سے پیر تک) اس کو خو ب دیکھا (یہیں سے تر جمہ باب نکلتا ہے) پھر آپ نے اپنا سر جھکا لیا جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے با رے میں کوئی حکم نہیں دیا تو وہ بیٹھ گئی اتنے میں آپ کے اصحا ب میں سے ایک شخص کھڑا ہوا کہنے لگا ۔ یا رسول اللہ آپ کو یہ عورت پسند نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجیئے آپ نے فرما یا تیرے پاس مہر میں دینے کوکچھ ہے بھی۔ وہ کہنے لگے خدا کی قسم یا رسول اللہ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے آپ نے فر ما یا تو اپنے عزیزوں کے پاس جا دیکھ تو سہی شا ید کچھ مل جا ئے وہ گیا اور لوٹ کر آیا ۔ کہنے لگا خدا کی قسم یا رسول اللہ مجھ کو تو کوئی چیز نہیں ملی آپ نے فر ما یا پھر دیکھ کچھ تو لے کر آ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی وہ پھر گیا اور لوٹ کر آیا کہنے لگا یا رسول اللہ خدا کی قسم لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں مل سکی البتہ میری یہ تہ بند حا ضر ہےسہل کہتے ہیں اس (بے چارے غریب) کے پاس چادر بھی (اوڑھنے کو) نہ تھی خیر وہ کہنے لگا اسی تہ بند کا آدھا ٹکڑا یہ عورت (بطور رہن ) لے سکتی ہے رسول اللہﷺ نے فر ما یا بھلا اس تہ بند سے کیا ہو سکتا ہے اگر تو اس کو پہنے تو عورت اس کو پہن نہیں سکتی عورت پہنے تو پھرتیرے پاس کچھ نہیں رہتا (ننگا پھر نے سے رہا) یہ سن کر وہ شخص (بے چارو ما یوس ہو کر) بیٹھ گیا بڑی دیر تک بیٹھا رہا اس کے بعد اٹھ کر چلا آپﷺ نے دیکھ لیا وہ پیٹھ موڑ کر چلتا ہوا آپ نے حکم دیا لوگ اس کو بلا لائے جب وہ حا ضر ہوا تو آپ نے فر ما یا اچھا یہ تو کہہ تجھ کو قرآن شریف کی کون کون سے سورتیں یاد ہیں وہ کہنے لگا فلاں فلاں سورتیں مجھ کو یاد ہیں کئی سورتیں اس نے شما ر کیں آپ نے فر ما یا تو ان کو یاد سے پڑھ سکتا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فر ما یا جا میں نے یہ عورت ان سورتوں کے بدل تیرے نکاح میں دے دی۔
37. باب مَنْ قَالَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ،
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} فَدَخَلَ فِيهِ الثَّيِّبُ وَكَذَلِكَ الْبِكْرُ. وَقَالَ {وَلاَ تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا} وَقَالَ {وَأَنْكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ}
قَالَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ،. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النِّكَاحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ، يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ أَوِ ابْنَتَهُ، فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمْثِهَا أَرْسِلِي إِلَى فُلاَنٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ. وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا، وَلاَ يَمَسُّهَا أَبَدًا، حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ نِكَاحَ الاِسْتِبْضَاعِ، وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ مَا دُونَ الْعَشَرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا. فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ، وَمَرَّ عَلَيْهَا لَيَالِيَ بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا، أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا تَقُولُ لَهُمْ قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ، وَقَدْ وَلَدْتُ فَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلاَنُ. تُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ بِاسْمِهِ، فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا، لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ بِهِ الرَّجُلُ. وَنِكَاحُ الرَّابِعِ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لاَ تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُونُ عَلَمًا فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ وَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جُمِعُوا لَهَا وَدَعَوْا لَهُمُ الْقَافَةَ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ فَالْتَاطَ بِهِ، وَدُعِيَ ابْنَهُ لاَ يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ كُلَّهُ، إِلاَّ نِكَاحَ النَّاسِ الْيَوْمَ.
Narrated Urwa bin Az-Zubair: Aishah, the wife of the Prophet (pbuh) told him that there were four types of marriage during the Pre-Islamic Period of Ignorance. One type was similar to that of the present day, i.e., a man used to ask somebody else for the hand of a girl under his guardianship or for his daughter’s hand, and give her Mahr and then marry her. The second type was that a man would say to his wife after she had become clean from her period, “Send for so-and-so and have sexual relations with him.” Her husband would then keep away from her and would never sleep with her till she got pregnant from the other man with whom she was sleeping. When her pregnancy became evident, her husband would then sleep with her if he wished. Her husband did so (i.e., let his wife sleep with some other man) so that he might have a child of noble breed. Such marriage was called Al-Istibda. Another type of marriage was that a group of less than ten men would assemble and enter upon a woman, and all of them would have sexual relation with her. If she became pregnant and delivered a child and some days had passed after her delivery, she would send for all of them and none of them would refuse to come, and when they all gathered before her, she would say to them, “You (all) know what you have done, and now I have given birth to a child. So, it is your child, O so-and-so!” naming whoever she liked, and her child would follow him and he could not refuse to take him. The fourth type of marriage was that many people would enter upon a lady and she would never refuse anyone who came to her. Those were the prostitutes who used to fix flags at their doors as signs, and he who wished, could have sexual intercourse with them. If anyone of them got pregnant and delivered a child, then all those men would be gathered for her and they would call the Qaif (persons skilled in recognising the likeness of a child to his father) to them and would let the child follow the man (whom they recognised as his father) and she would let him adhere to him and be called his son. The man could not refuse all that. But when Muhammad (pbuh) was sent with the Truth, he (pbuh) abolished all the types of marriages observed in the Pre-Islamic Period of Ignorance except the type of marriage the people recognise today.
ہم سے یحیٰی بن سلیما ن نے بیا ن کیا کہا ہم سے عبد اللہ بن وہب نے انہوں نے یونس سے دوسری سند امام بخاری نے کہا اور ہم سے احمد بن صا لح نے بیا کیا کہا ہم سے عنبسہ بن خا لد نے کہا ہم سے یونس نے انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی ان کو حضرت عائشہ ؓ ام المو منیں نے کہ جاہلیت کے زما نہ میں عرب لوگ چار طرح پر نکاح کیا کرتے تھے ایک تو اس طرح جس طرح آج کل لوگ کیا کر تے ہیں ایک مرد دوسرے مرد کو نکاح کا پیغام بھیجتا وہ اپنی رشتہ دار عورت ( مثلا بہن بھتیجی بھانجی وغیرہ) یا بیٹی کا مہر ٹھہرا کر نکاح کر دیتا دوسرے یہ کے شوہر اپنی بی بی سے جب وہ حیض سے پاک ہوتی تو وہ یوں کہتا تو فلا نے مرد کو بلا بھیج اس سے لپٹ جا ( جماع کرا لے) جب وہ عورت ایسا کرتی تو اس کا خاوند اس وقت تک اس سے الگ رہتا جب تک اس کا حمل غیر مردوے سے نما یا ں نہ ہو جاتا جب حمل نما یاں ہو جاتا تو اس کا خاوند بھی اگر چاہتا اس سے صحبت کر تا یہ امر خاوند اس لیے کر تا کہ بچہ شریف اور عمدہ پیدا ہو ( فر ضی باپ کی ناموری کا باعث ہو) ایسے نکاح کو استبضا ع کا نکاح کہا کرتے تیسرا نکاح یہ تھا کی کئی آدمی مل کر لیکن دس سے کم عورت کو رکھتے سب کے سب اس سے صحبت کیا کرتے جب اس کو پیٹ رہ جا تا اور وہ جنتی تو کئی راتیں گزرنے پر ان سب مردوں کو بلا بھیجتی ان سب کو آنا پڑتا ( کیا مجال کوئی نہ آئے) یہ عورت ان سب سے کہتی تم جانتے ہو جو تم نے کیا اب میرے بچہ پیدا ہوا ہے وہ تم لوگوں میں فلاں شخص کا ہے جس شخص کا وہ چاہتی ان میں سے نام لے لیتی و ہ بچہ اسی کا ہو جاتا اس کو انکا ر کی مجا ل نہ ہوتی ( کیو نکہ قومی رسم یوں ہی ٹھہری ہوئی تھی ) چوتھا نکاح یہ تھا ایک عورت کے پاس بہت سے آدمی آتے جاتے رہتے وہ ہر ایک سے صحبت کرا تی کسی سے انکا ر نہ کرتی یعنی رنڈی (کنچنی) اس کے دروا زے پر ( پہچا ن کے لیے) ایک جھنڈا لگا دیتے جس مرد کا دل چا ہتا اس سے صحبت کرتا اگر اس کو پیٹ رہ جا تا اور وہ جنتی تو جتنے مرد اس کے پاس گئے تھے سب قیا فہ شناس کو بھیجتے قیا فہ شناس
(اپنے علم کی رو سے) جس مرد کو اس بچہ کا باپ بتا تا وہ بچہ اسی مرد کا بیٹا ہو جا تا اس کا باپ ہوی کہلا تا اس کو انکا ر کی مجا ل نہ ہوتی جب اللہ تعا لٰی نے حضرت محمد ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو آپ نے جا ہلیت کے سب نکاح موقوف کر دیئے ایک یہی نکاح باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، {وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِي لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ}. قَالَتْ هَذَا فِي الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ شَرِيكَتَهُ فِي مَالِهِ، وَهْوَ أَوْلَى بِهَا، فَيَرْغَبُ أَنْ يَنْكِحَهَا، فَيَعْضُلَهَا لِمَالِهَا، وَلاَ يُنْكِحَهَا غَيْرَهُ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَشْرَكَهُ أَحَدٌ فِي مَالِهَا.
Narrated By 'Aisha : (As regards the Verse): 'And about what is recited unto you in the Book, concerning orphan girls to whom you give not the prescribed portions and yet, whom you desire to marry.' (4.127) This Verse is about the female orphan who is under the guardianship of a man with whom she shares her property and he has more right over her (than anybody else) but does not like to marry her, so he prevents her, from marrying somebody else, lest he should share the property with him.
ہم سے یحیٰی بن موسٰی بیکندی نے بیا ن کیا کہا ہم سے وکیع نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا یہ آیت جو ( سورہ نساء میں ہے) اما یتلی علیکم فی الکتاب فی یتا می النساء اللا تی لا تو تو نھن ما کتب لھن و ترغبون ان تنکحو ھن اس یتیم لڑکی کے باب میں ہے جو ایک مرد کی پرورش میں ہو وہ خود بھی اس سے نکاح نہ کرے اور دوسرے مرد سے بھی نکاح نہ کرنے دے اس خیال سے کہ اس کاخاوند مال و دولت میں اس کا ساجھے بنے گا (اپنی جارو کے حصے کا دعویدار ہوگا) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنِ ابْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ـ فَقَالَ عُمَرُ لَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ. فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي. فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا. قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ.
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : When Hafsa, 'Umar's daughter became a widow because of the death of her (husband) Ibn Hudhafa As-Sahmi who was one of the companion of the Prophet and the one of the Badr warriors and died at Medina, 'Umar said, "I met 'Uthman bin 'Affan and gave him an offer, saying, 'If you wish, I will marry Hafsa to you.' He said. 'I will think it over' I waited for a few days, then he met me and said, 'I have made up my mind not to marry at present' "Umar added, "Then I met Abu Bakr and said to him, 'If you wish, I will marry Hafsa to you.'"
ہم سے عبداللہ بن یوسف مسندی نے بیا ن کیا کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی کہا ہم سے زہر ی نے بیا ن کیا کہا مجھ کو سالم نے خبر دی ان کو ان کے والد عبد اللہ بن عمرؓ نے کہ ان کے والد حضرت عمرؓ کہتے تھے جب ام المومنین حفصہؓ بیوہ ہو گئیں اور ان کےخاوند حنیس بن حذافہ سہمی جو نبیﷺ کے صحابہؓ میں اور جنگ بدر میں شریک تھے مدینہ میں گزر گئےتو میں عثمان بن عفانؓ سے ملا اور حفصہؓ کو ان پر پیش کیا میں نے کہا اگر تم چاہو تو میں حفصہؓ کا نکاح تم سے کر دیتا ہوں وہ کہنے لگے میں سوچ کر جواب دوں گا اس پر میں کئی راتوں تک ٹھہرا رہا پھر جو مجھ سے ملے تو کہنے لگے میری رائے یہ ٹھہری کہ میں ان دنوں کا نکاح نہ کر وں اس کے بعد میں ابو بکرصدیقؓ سے ملا ان سے کہا اگر تم چاہتے ہوتو میں حفصہؓ کا نکاح تم سے کر دیتا ہوں (اخیر حدیث تک جو اوپر گزر چکی ہے)۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} قَالَ حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ قَالَ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ، فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لاَ وَاللَّهِ لاَ تَعُودُ إِلَيْكَ أَبَدًا، وَكَانَ رَجُلاً لاَ بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنَّ تَرْجِعَ إِلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ {فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ} فَقُلْتُ الآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ
Narrated By Al-Hasan : Concerning the Verse: 'Do not prevent them' (2.232) Ma'qil bin Yasar told me that it was revealed in his connection. He said, "I married my sister to a man and he divorced her, and when her days of 'Idda (three menstrual periods) were over, the man came again and asked for her hand, but I said to him, 'I married her to you and made her your bed (your wife) and favoured you with her, but you divorced her. Now you come to ask for her hand again? No, by Allah, she will never go back to you (again)!' That man was not a bad man and his wife wanted to go back to him. So Allah revealed this Verse: 'Do not prevent them.' (2.232) So I said, 'Now I will do it (let her go back to him), O Allah's Apostle." So he married her to him again.
ہم سے احمد بن ابی عمرو نے بیا ن کیا کہا مجھ سے میرے والد (حفص بن عبداللہ)نے کہا مجھ سے ابرا ہیم بن طہمان نے انہوں نے یونس سے انہوں نے حسن بصریؑ سے انہوں نے کہا اس آیت فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن کی تفسیر میں میں نے معقل بن یسار سے سنا وہ کہتے تھے یہ آیت میرے باب میں اتری ہے ہوا یہ کہ میری ایک بہن تھی (جمیل یا لیلی یا فاطمہ) میں نے اس کی شادی ایک شخص سے کر دی تھی اس نے اس کو طلاق دے دی جب اس کی عد ت گزر گئی تو اب پھر آیا اس کوو نکاح کا پیغا م دینے لگا میں نے اس سے (یعنی ابو البداح سے) کہا ابے میں نےاپنی بہن سے تیری شادی کی اس کو تیرا بچھونا بنا یا جھ کوعزت دی اس کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ اس کو طلاق دے دیا اب پھر کاہے کو اس کو پیغام دینے کو آیا ہے خدا کی قسم اب تہ وہ تیرے پاس کبھی لوٹ کر آنے والی نہیں ابو البداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور میری بہن چا یتی تھی کہ پھر اس کی بی بی بن جائے ( مگر میں نے منظور نہیں کیا) اس وقت اللہ تعا لٰی نے یہ آیت اتا ری فلا تعضلوھن میں نے کہا اب تا جب خدا کا حکم اتر آیا یا رسول اللہ تو میں ضرور بجا لاؤں گا پھر معقل نے اپنی بہن کا ( دوبارہ ) نکاح اس سے کر دیا۔
38. باب إِذَا كَانَ الْوَلِيُّ هُوَ الْخَاطِبَ
وَخَطَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ امْرَأَةً هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا فَأَمَرَ رَجُلاً فَزَوَّجَهُ. وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ لأُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ قَارِظٍ أَتَجْعَلِينَ أَمْرَكِ إِلَىَّ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ قَدْ تَزَوَّجْتُكِ. وَقَالَ عَطَاءٌ لِيُشْهِدْ أَنِّي قَدْ نَكَحْتُكِ أَوْ لِيَأْمُرْ رَجُلاً مِنْ عَشِيرَتِهَا. وَقَالَ سَهْلٌ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَهَبُ لَكَ نَفْسِي فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فِي قَوْلِهِ {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ، قَالَتْ هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ، قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، فَيَحْبِسُهَا، فَنَهَاهُمُ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ.
Narrated By 'Aisha : (Regarding His Statement): 'They ask your instruction concerning the women. Say: Allah instructs you about them...' (4.127) It is about the female orphan who is under the guardianship of a man with whom she shares her property and he does not want to marry her and dislikes that someone else should marry her, lest he should share the property with him, so he prevents her from marrying. So Allah forbade such a guardian to do so (i.e. to prevent her from marrying).
ہم سے محمد بن سلام نے بیا ن کیا کہا ہم کو ابو معاویہؓ نے خبر دی کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ۔انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیرؓ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا یہ آیت ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن اس یتیم لڑکی کے باب میں اتری ہے جو ایک مرد کی پر ورش میں ہو اور مال و دولت میں اس کی حصہ دار ہو وہ خود( کسی وجہ سے ) اس سے نکاح نہ کرنا چاہے اور دوسرے مرد سے بھی نکاح نہ کرنے دے اس ڈر سے کہ وہ اس کے مال کا دعویدار بنے گا اور اسی طرح اس کو پڑا رہنے دے (شادی نہ کرنے دے ) تو اس سے اللہ تعا لٰی نے منع فر ما یا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جُلُوسًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَّضَ فِيهَا النَّظَرَ وَرَفَعَهُ فَلَمْ يُرِدْهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " أَعِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ". قَالَ مَا عِنْدِي مِنْ شَىْءٍ. قَالَ " وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". قَالَ وَلاَ خَاتَمًا مِنَ حَدِيدٍ وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ، وَآخُذُ النِّصْفَ. قَالَ " لاَ، هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "
Narrated By Sahl bin Sad : While we were sitting in the company of the Prophet a woman came to him and presented herself (for marriage) to him. The Prophet looked at her, lowering his eyes and raising them, but did not give a reply. One of his companions said, "Marry her to me O Allah's Apostle!" The Prophet asked (him), "Have you got anything?" He said, "I have got nothing." The Prophet said, "Not even an iron ring?" He Sad, "Not even an iron ring, but I will tear my garment into two halves and give her one half and keep the other half." The Prophet; said, "No. Do you know some of the Qur'an (by heart)?" He said, "Yes." The Prophet said, "Go, I have agreed to marry her to you with what you know of the Qur'an (as her Mahr)."
ہم سے احمد بن مقدام نے بیا ن کیا کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے کہا ہم سے ابہ حازم(سلمہ بن دینارنے) کہا ہم سے سہل بن سعد ساعدیؓ نے انہوں نے کہا ہم لوگ نبیﷺکے پاس بیٹھے تھے اتنے میں ایک عورت آئی جو اپنے تئیں آپﷺ کی خدمت میں گزارتی تھی آپ نے اوپر تلے اس کو سب دیکھا آپ کو وہ عورت پسند نہ آئی تب آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ مجھ سے اس کا نکاح کر دیجیئے آپ نے فر ما یا تیرے پاس ( مہر میں دینے کو)کچھ ہے وہ بولا میرے پاس تو کچھ نہیں ہے آپ نے پوچھا کیا لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں دے سکتتا اس نے کہا نہیں یہ بھی نہیں ہو سکتی البتہ میری چادر ( جس کو میں باندھے ہوئے ہوں فر مائیے) تو آدھی اس کو ( مہر میں ) دے دیتا ہوں۔آدھی میں رکھتا ہوں آپ نے فر ما یا نہیں ( چادر میں سے بھلا کیا دے گا) تجھ کو قرآن یاد ہے وہ بولا جی ہاں یاد ہے آپ نے فر ما یا جا میں نے اس عورت کو اس قرآن کو بدل تیرے نکاح میں دے دیا۔
39. باب إِنْكَاحِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ الصِّغَارَ،
لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى {وَاللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ} فَجَعَلَ عِدَّتَهَا ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ قَبْلَ الْبُلُوغِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهْىَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ وَهْىَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا.
Narrated By 'Aisha : That the Prophet married her when she was six years old and he consummated his marriage when she was nine years old, and then she remained with him for nine years (i.e., till his death).
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا جب نبیﷺ نے ان سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ برس تھی اور جب ان سے صحبت کی اس وقت ان کی عمر نو بر س تھی اور وہ نو برس آپ کے پاس رہیں۔
40. باب تَزْوِيجِ الأَبِ ابْنَتَهُ مِنَ الإِمَامِ
وَقَالَ عُمَرُ خَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ حَفْصَةَ فَأَنْكَحْتُهُ
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهْىَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهْىَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ. قَالَ هِشَامٌ وَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ.
Narrated By 'Aisha : That the Prophet married her when she was six years old and he consummated his marriage when she was nine years old. Hisham said: I have been informed that 'Aisha remained with the Prophet for nine years (i.e. till his death)."
ہم سے معلٰی بن اسد نے بیا ن کیا کہا ہم سے وہیب نے انہوں نے ہشا م بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرتعائشہؓ سے کہ نبیﷺ نے جب ان سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ برس تھی اور جب ان سے صحبت کی اس وقت ان کی عمر نو بر س تھی ہشا م نے کہا مجھ کو یہ خبر دی گئی کہ حضرت عائشہؓ آپﷺ کے پاس صرف نو برس تک رہیں۔