41. باب السُّلْطَانُ وَلِيٌّ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي وَهَبْتُ مِنْ نَفْسِي. فَقَامَتْ طَوِيلاً فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا، إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ. قَالَ " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ تُصْدِقُهَا ". قَالَ مَا عِنْدِي إِلاَّ إِزَارِي. فَقَالَ " إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لاَ إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا ". فَقَالَ مَا أَجِدُ شَيْئًا. فَقَالَ " الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدِ ". فَلَمْ يَجِدْ. فَقَالَ " أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ". قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا. فَقَالَ " زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "
Narrated By Sahl bin Sad : A woman came to Allah's Apostle and said, "I present myself (to you) (for marriage). She stayed for a long while, then a man said, "If you are not in need of her then marry her to me." The Prophet said, "Have you got anything m order to pay her Mahr?" He said, "I have nothing with me except my Izar (waist sheet)." The Prophet said, "If you give her your Izar, you will have no Izar to wear, (so go) and search for something. He said, "I could not find anything." The Prophet said, "Try (to find something), even if it were an iron ring But he was not able to find (even that) The Prophet said (to him). "Do you memorize something of the Qur'an?" "Yes. ' he said, "such Sura and such Sura," naming those Suras The Prophet said, "We have married her to you for what you know of the Qur'an (by heart)."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابو حازم (سلمہ بن دینار) سے انہوں نے سہل بن سعد ساعدی سے انہوں نے کہا ایک عورت رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی کہنے لگی میں نے اپنی جان آپ کو بخش دی اور بڑی دیر تک کھڑی رہی (آپ نے کچھ جواب نہ دیا) اتنے میں ایک مرد کھڑا ہوا کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ کو اس عورت کی ضرورت نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجیئے آپ نے فر ما یا تیرے پاس مہر میں بھی دینے کو کچھ ہے اس نے کہا میرے پاس تو اس تہ بند کے سوا (جو میں باندھے ہوں) اور کچھ نہیں ہے ، آپ نے فر مایا (واہ )تہ بند اس کو دے گاتو کیا تو ننگا بیٹھ رہے گا ارے کوئی چیز تو ڈھونڈ کر لا ۔ اس نے کہا مجھے تو کچھ چیز نہیں ملتی آپ نے فر ما یا ارے کچھ نہیں ملتا تولوہے کی ایک انگوٹھی ہی لے آ یہ بھی اس کو نہ مل سکی آخر آپ نے پوچھا تجھ کو قرآن کچھ یاد ہے وہ بولا جی ہاں فلاں فلاں سورتیں ان کا نا م لیا آپ نے فر ما یا جا ہم نے اس عورت کا نکاح تجھ سے اس قرآن کے بدل کر دیا جو تجھ کو یاد ہے ۔
42. باب لاَ يُنْكِحُ الأَبُ وَغَيْرُهُ الْبِكْرَ وَالثَّيِّبَ إِلاَّ بِرِضَاهَا
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ " أَنْ تَسْكُتَ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "A matron should not be given in marriage except after consulting her; and a virgin should not be given in marriage except after her permission." The people asked, "O Allah's Apostle! How can we know her permission?" He said, "Her silence (indicates her permission)."
ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ابو ہریرہؓ نے بیا ن کیا کہ نبیﷺنے فرمایا، "بیوہ عورت کا اس وقت تک نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے صاف صاف زبان سے اجازت نہ لی جائے اسطرح کنواری لڑکی کا بھی نکاح نہ کیا جائے جب تک وہ اذن نہ دے۔" لوگوں نے عرض کیا، "یا رسول اللہﷺ وہ اذن کیونکر دے گی۔" آپ ﷺ نے فرمایا، "اسکا اذن یہی ہے کہ وہ سن کر چپ ہو جائے۔"
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي. قَالَ " رِضَاهَا صَمْتُهَا ".
Narrated By 'Aisha : I said, "O Allah's Apostle! A virgin feels shy." He said, "Her consent is (expressed by) her silence."
ہم سے عمرو بن ربیع بن طارق نے بیان کیا کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے ابو عمرو(ذکوان) سے جو حضرت عائشہؓ کے غلام تھے انہوں نے حضرت عا ئشہؓ سے انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ کنواری لڑکی تو شرم کرتی ہے آپ نے فر ما یا اس کی رضا مندی یہی ہے کہ خاموش ہو جائے۔
43. باب إِذَا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهْىَ كَارِهَةٌ فَنِكَاحُهُ مَرْدُودٌ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ، ابْنَىْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا، زَوَّجَهَا وَهْىَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ نِكَاحَهُ
Narrated By Khansa bint Khidam Al-Ansariya : That her father gave her in marriage when she was a matron and she disliked that marriage. So she went to Allah's Apostle and he declared that marriage invalid.
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیا کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عبد الرحمٰن اور مجمع سے جو دونوں یزید بن جاریہ کے بیٹے تھے انہوں نے خنساء بنت خدام سے ان کے باپ نے ان کا نکاح کر دیا وہ ثیبہ تھیں ( خاوند کر چکی تھیں) اس دوسرے نکاح سے ناراض تھیں آخر وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں آپ نے ان کا نکاح ( جو باپ نے کر دیا تھا) فسخ کر ڈالا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَجُلاً يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ. نَحْوَهُ
Narrated By Abdur-Rahman bin Yazid and Majammi bin Yazid : The same Hadith above: A man called Khidam married a daughter of his (to somebody) against her consent.
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم کو یزید بن ہارون نےخبردی کہا ہم کو یحیٰی بن سعید انصاری نے ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا ان سے عبدالرحمٰن بن یزید اور ان کے بھائی مجمع بن یزید نے کہ ایک شخص تھا اس کو خدام خدام کہہ کے پکارتے تھے اس نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا پھر وہی حدیث بیا ن کی ( جو اوپر گزر ی)
44. باب تَزْوِيجِ الْيَتِيمَةِ
لِقَوْلِ اللهِ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا}، إِذَا قَالَ لِلْوَلِيِّ زَوِّجْنِي فُلاَنَةَ. فَمَكِثَ سَاعَةً أَوْ قَالَ مَا مَعَكَ فَقَالَ مَعِي كَذَا وَكَذَا. أَوْ لَبِثَا ثُمَّ قَالَ زَوَّجْتُكَهَا. فَهْوَ جَائِزٌ. فِيهِ سَهْلٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَ لَهَا يَا أُمَّتَاهْ {وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى} إِلَى {مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} قَالَتْ عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا، وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ صَدَاقِهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ. إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ عَائِشَةُ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ} إِلَى {وَتَرْغَبُونَ} فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَجَمَالٍ، رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَالصَّدَاقِ، وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ ـ قَالَتْ ـ فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا، فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا، إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الأَوْفَى مِنَ الصَّدَاقِ.
Narrated By 'Ursa bin Az-Zubair : That he asked 'Aisha, saying to her, "O Mother! (In what connection was this Verse revealed):
'If you fear that you shall not be able to deal justly with orphan girls (to the end of the verse) that your right hands possess?" (4.3) 'Aisha said, "O my nephew! It was about the female orphan under the protection of her guardian who was interested in her beauty and wealth and wanted to marry her with a little or reduced Mahr. So such guardians were forbidden to marry female orphans unless they deal with them justly and give their full Mahr; and they were ordered to marry women other than them." 'Aisha added, "(Later) the people asked Allah's Apostle, for instructions, and then Allah revealed: 'They ask your instruction concerning the women... And yet whom you desire to marry.' (4.127) So Allah revealed to them in this Verse that-if a female orphan had wealth and beauty, they desired to marry her and were interested in her noble descent and the reduction of her Mahr; but if she was not desired by them because of her lack in fortune and beauty they left her and married some other woman. So, as they used to leave her when they had no interest in her, they had no right to marry her if they had the desire to do so, unless they deal justly with her and gave her a full amount of Mahr."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے دوسری سند اور ہم سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا انہوں نے زہری سے (یہ روایت موصولًا اوپر گزرچکی ہے) کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی انہوں نے عائشہؓ سے پوچھا اماں اس آیت کا کیا مطلب ہے وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی (اخیر تک) الٰی ماملکت ایمانکم تک۔ انہوں نے کہا میرے بھانجے یہ آیت اس یتیم لڑکی کے باب میں ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ وہ اس کی خوبصورتی اور مالداری پر فریفتہ ہو کر اس سے نکاح کرنا چاہے لیکن مہر کم مقرر کرنا چاہے (یعنی مہر مثل سے کم) تو ایسے نکاح سے ممانعت کی گئی ہے البتہ پورا پورا مہر مقرر کرے تو نکاح کی اجازت ہے۔ خیر جب ایسا نکاح (یعنی مہر میں کمی کر کے) منع ہوا تو یہ حکم دیا گیا کہ اس یتیم لڑکی کو چھوڑ کر دوسری جن عورتوں سے چاہے نکاح کر لے۔ عائشہؓ نے کہا اس آیت کے اترنے کے بعد پھر لوگوں نے رسول اللہﷺ سے یہی مسئلہ پوچھا تب اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری و یستفتونک فی النساء اخیر تک ترغبون تک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یتیم لڑکی خوبصورت دولت مند ہوتی ہے تب تو مہر میں کمی کر کے اس سے نکاح کرنا رشتہ لگانا پسند کرتے ہیں اور جب دولتمندی یا خوبصورتی نہیں رکھتی اس وقت اس کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر لیتے ہیں یہ کیا بات۔ ان کو چاہئیے کہ جیسے مال و دولت اور حسن و جمال نہ ہونے کی صورت میں اس کو چھوڑ دیتے ہیں ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دیں جب وہ مالدار اور خوبصورت ہوں۔ البتہ اگر انصاف سے چلیں اور اس کا پورا مہر مقرر کریں تو خیر نکاح کر لیں۔
45. باب إِذَا قَالَ الْخَاطِبُ لِلْوَلِيِّ زَوِّجْنِي فُلاَنَةَ فَقَالَ:قَدْ زَوَّجْتُكَ بِكَذَا وَكَذَا. جَازَ النِّكَاحُ، وَإِنْ لَمْ يَقُلْ لِلزَّوْجِ أَرَضِيتَ أَوْ قَبِلْتَ؟
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَ " مَا لِي الْيَوْمَ فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ ". فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا. قَالَ " مَا عِنْدَكَ ". قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ. قَالَ " أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ". قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ. قَالَ " فَمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". قَالَ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ " فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "
Narrated By Sahl : A woman came to the Prophet,, and presented herself to him (for marriage). He said, "I am not in need of women these days." Then a man said, "O Allah's Apostle! Marry her to me." The Prophet asked him, "What have you got?" He said, "I have got nothing." The Prophet said, "Give her something, even an iron ring." He said, "I have got nothing." The Prophet asked (him), "How much of the Qur'an do you know (by heart)?" He said, "So much and so much." The Prophet said, "I have married her to you for what you know of the Qur'an."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ابو حازم سے انہوں نے سہل بن سعد ساعدیؓ سے انہوں نے کہا ایک عورت نبیﷺ کے پاس آئی اس نے اپنے تئیں رسول اللہﷺ پر پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا آج کل تو مجھ کو عورتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک شخص بولا یارسول اللہﷺ میرا نکاح اس سے کر دیجئے۔ (آپؐ نے پوچھا تیرے پاس مہر میں کچھ دینے کو ہے) کہنے لگا میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا کچھ تو دے ایک لوہے کی انگوٹھی سہی۔ کہنے لگا میرے پاس تو یہ بھی نہیں۔ آپؐ نے پوچھا اچھا قرآن میں سے تجھ کو کچھ یاد ہے۔ اس نے کہا جی ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ فرمایا جا ہم نے یہ عورت اس قرآن کے عوض جو تجھ کو یاد ہے تیری مِلک (نکاح) میں دے دی۔
46. باب لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَدَعَ
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلاَ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet decreed that one should not try to cancel a bargain already agreed upon between some other persons (by offering a bigger price). And a man should not ask for the hand of a girl who is already engaged to his Muslim brother, unless the first suitor gives her up, or allows him to ask for her hand.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کی کہا ہم سے ابن جریج نے کہا میں نے نافع سے سنا وہ ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا نبیﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے مول تول پر یا اپنے مسلمان بھائی کے پیغام پر پیغام بھیجے۔ البتہ اگر وہ اس پیغام کو چھوڑ دے یا دوسرے پیغام کرنے والے کو اجازت دے تو جائز ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا ".
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Beware of suspicion (about others), as suspicion is the falsest talk, and do not spy upon each other, and do not listen to the evil talk of the people about others' affairs, and do not have enmity with one another, but be brothers.
ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے کہا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں آپؐ نے فرمایا دیکھو مسلمان بھائی کے ساتھ بدگمانی سے بچے رہو۔ بدگمانی بڑا جھوٹ ہے۔ اور خوا مخواہ چھپی ہوئی باتوں کی ٹوہ نہ لگاؤ۔ کوئی آہستہ بات کرے تو کان سننے کے لئے نہ لگاؤ اور ایک دوسرے سے بیر نہ رکھو بلکہ بھائی بھائی بنے رہو (اس کی بھلائی چاہو)۔
"وَلاَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلى خِطْبَةِ أَخِيْهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكُ"
And none should ask for the hand of a girl who is already engaged to his (Muslim) brother, but one should wait till the first suitor marries her or leaves her."
اور کوئی مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے جب تک اس کا فیصلہ نہ ہو جائے یا تو نکاح کر لے یا پیغام توڑ دے۔
47. باب تَفْسِيرِ تَرْكِ الْخِطْبَةِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ قَالَ عُمَرُ لَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ. فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلاَّ أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا. تَابَعَهُ يُونُسُ وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ
Narrated By Abdullah bin Umar : "When Hafsa became a widow," Umar said, "I met Abu Bakr and said to him, 'If you wish I will marry Hafsa bint 'Umar to you.' I waited for a few days then Allah's Apostle asked for her hand. Later Abu Bakr met me and said, 'Nothing stopped me from returning to you concerning your offer except that I knew that Allah's Apostle had mentioned (his wish to marry) her, and I could never let out the secret of Allah's Apostle. If he had left her, I would have accepted her.'"
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے جب (ہمشیر یعنی) حفصہؓ بیوہ ہو گئیں تو عمرؓ کہتے تھے میں ابو بکرؓ سے ملا۔ ان سے کہا اگر تم منظور کرو تو میں حفصہؓ کا نکاح تم سے کر دیتا ہوں۔ لیکن ابوبکرؓ نے کچھ جواب نہ دیا۔ میں کئی راتوں تک منتظر رہا۔ آخر رسول اللہﷺ نے حفصہؓ کا پیغام بھیجا۔ اس کے بعد ابوبکرؓ مجھ سے ملے۔ کہنے لگے میں نے جو تمھاری بات کا جواب نہ دیا اس کی وجہ اور کچھ نہیں یہی تھی کہ مجھ کو یہ بات معلوم ہو گئی تھی کہ رسول اللہﷺ حفصہؓ کا ذکر کرتے تھے۔ آپؐ کا ارادہ حفصہؓ کو پیغام بھیجنے کا معلوم ہوتا تھا اور یہ تو میں نہیں کر سکتا تھا رسول اللہﷺ کا راز تم پر کھول دیتا۔ البتہ اگر رسول اللہﷺ حفصہؓ کو چھوڑ دیتے تو بیشک میں حفصہؓ کو قبول کر لیتا۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یونس بن یزید اور موسٰی بن عقبہ اور محمد بن عبداللہ بن ابی عتیق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
48. باب الْخُطْبَةِ
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلاَنِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا "
Narrated By Ibn 'Umar : Two men came from the east and delivered speeches, and the Prophet said, "Some eloquent speech has the in fluency of magic (e.g., some people refuse to do something and then a good eloquent speaker addresses them and then they agree to do that very thing after his speech)."
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری (یا سفیان بن عیینہ) نے، انہوں نے زید بن اسلم سے کہا میں نے ابن عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے پورب کی طرف سے دو مرد آئے۔ وہ مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے ایک فصیح و بلیغ خطبہ سنایا ۔نبیﷺ نے فرمایا بعضی تقریر جادو کی طرح اثر کرتی ہے۔
49. باب ضَرْبِ الدُّفِّ فِي النِّكَاحِ وَالْوَلِيمَةِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، قَالَ قَالَتِ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ. جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَىَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ. فَقَالَ " دَعِي هَذِهِ، وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ ".
Narrated By Ar-Rabi' : (The daughter of Muawwidh bin Afra) After the consummation of my marriage, the Prophet came and sat on my bed as far from me as you are sitting now, and our little girls started beating the tambourines and reciting elegiac verses mourning my father who had been killed in the battle of Badr. One of them said, "Among us is a Prophet who knows what will happen tomorrow." On that the Prophet said, "Leave this (saying) and keep on saying the verses which you had been saying before."
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے بشر بن مفضل نے کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے انہوں نے کہا ربیع جو معوذ بن عفراء کی بیٹی تھی وہ کہتی تھی جب میرا جلوہ ہوا (خاوند کے سامنے گئی تھی اس نے مجھ سے صحبت کی) اس کے دوسرے روز صبح کو نبیﷺ تشریف لائے اور میرے بچھونے پر بیٹھ گئے جیسے تو اے خالد اس وقت بیٹھا ہے۔ اور ہماری چند چھوکریاں اس وقت باجا بجا رہی تھیں۔ ہمارے بزرگوں کا ذکر کر رہی تھیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے تھے۔ اتنے میں ایک چھوکری یہ مصرعہ گانے لگی ایک نبی ہم میں ہیں جو جانتے ہیں( کل کی ہونے والی بات)۔ آپؐ نے فرمایا یہ مت گا ؤ جو تو پہلے گا رہی تھی وہ گاؤ۔
50. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً}
وَكَثْرَةِ الْمَهْرِ، وَأَدْنَى مَا يَجُوزُ مِنَ الصَّدَاقِ، وَقَوْلِهِ تَعَالَى {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا} وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ {أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ} وَقَالَ سَهْلٌ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ "
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ، فَرَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَشَاشَةَ الْعُرْسِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ. وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ.
Narrated By Anas : Abdur Rahman bin 'Auf married a woman and gave her gold equal to the weight of a date stone (as Mahr). When the Prophet noticed the signs of cheerfulness of the marriage (on his face) and asked him about it, he said, "I have married a woman and gave (her) gold equal to a date stone in weight (as Mahr)."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب سے، انہوں نے انسؓ سے کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ایک عورت سے نکاح کیا۔ اس کا مہر کھجور کی گٹھلی برابر مقرر کیا۔ نبیﷺ نے دیکھا تو عبدالرحمٰنؓ پر شادی کی خوشی معلوم ہوئی۔ آپؐ نے حال پوچھا عبدالرحمٰنؓ نے عرض کیا میں نے اایک عورت سے گٹھلی برابر پر نکاح کیا۔ اور شعبہ نے (اسی سند سے) قتادہ سے روایت کی، انہوں نے انسؓ سے کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ایک عورت سے گٹھلی برابر سونے پر نکاح کیا۔