51. باب الْمَضْمَضَةِ بَعْدَ الطَّعَامِ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ دَعَا بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلاَّ بِسَوِيقٍ، فَأَكَلْنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَتَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا.
Narrated By Suwaid bin An Nu'man : We went out with Allah's Apostle to Khaibar, and when we reached As-Sahba', the Prophet asked for food, and he was offered nothing but Sawiq. We ate, and then Allah's Apostle stood up for the prayer. He rinsed his mouth with water, and we too, rinsed our mouths.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے سنا انہوں نے بشیر بن یسار سے انہوں نے سوید بن نعمان سے انہوں نے کہا ہم جنگ خیبر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے جب صہبا میں پہنچے ( جو خیبر کے قریب ہے ) تو آپ نے کھانا منگوایا لیکن صرف ستو آئے ( اور کوئی کھانا نہ تھا ) ہم نے اسی کو کھایا پھر آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے آپ نے کلی کی ہم نے بھی کلی کی۔
قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ بُشَيْرًا، يَقُولُ حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ ـ قَالَ يَحْيَى وَهْىَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ ـ دَعَا بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلاَّ بِسَوِيقٍ، فَلُكْنَاهُ فَأَكَلْنَا مَعَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. وَقَالَ سُفْيَانُ كَأَنَّكَ تَسْمَعُهُ مِنْ يَحْيَى
Narrated Suwaid; We went out with Allah's Apostle to Khaibar. and when we reached As-Sahba', which (Yahya says) is one day' journey from Khaibar, the Prophet asked for food, and he was offered nothing but Sawiq which we chewed and ate. Then the Prophet asked for water and rinsed his mouth, and we too, rinsed our mouths along with him. He then led us in the Maghrib prayer without performing ablution again.
یحییٰ نے کہا میں نے بشیر سے سنا وہ کہتے تھے ہم سے سوید نے بیان کیا ہم خیبر کی طرف رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے جب صہبا میں پہنچے ( یحییٰ نے کہا صہبا خیبر سے دوپہر کی راہ ہے ) تو آپ نے کھانا منگوایا لیکن فقط ستو آئے ہم نے اسی کو پھانک لیا اور کھایا پھر آپ نے پانی منگوایا کلی کی ہم نے بھی کلی کی اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا سفیان نے علی بن مدینی سے کہا گویا تم نے خود یحییٰ سے ( بلا واسطہ ) سنی ۔
52. باب لَعْقِ الأَصَابِعِ وَمَصِّهَا قَبْلَ أَنْ تُمْسَحَ بِالْمِنْدِيلِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ".
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, 'When you eat, do not wipe your hands till you have licked it, or had it licked by somebody else."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عطاء سے انہوں نے ابن عباسؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا جب تم میں کوئی کھائے تو یاتھ نہ پونچھے جب تک انگلیوں کو چاٹ نہ لے یا کسی دوسرے کو چٹا نہ دے ۔
53. باب الْمِنْدِيلِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَقَالَ لاَ قَدْ كُنَّا زَمَانَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ نَجِدُ مِثْلَ ذَلِكَ مِنَ الطَّعَامِ إِلاَّ قَلِيلاً، فَإِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاهُ لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ، إِلاَّ أَكُفَّنَا وَسَوَاعِدَنَا وَأَقْدَامَنَا، ثُمَّ نُصَلِّي وَلاَ نَتَوَضَّأُ.
Narrated By Said bin Al-Harith : That he asked Jabir bin 'Abdullah about performing ablution after taking a cooked meal. He replied, "It is not essential," and added, "We never used to get such kind of food during the lifetime of the Prophet except rarely; and if at all we got such a dish, we did not have any handkerchiefs to wipe our hands with except the palms of our hands, our forearms and our feet. We would perform the prayer thereafter with-out performing new ablution."
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا مجھ سے محمد بن فلیح نے کہا مجھ سے میرے والد ( فلیح بن سلیمان ) نے انہوں نے سعید بن حارث سے انہوں نے جابر بن عبداللہ سے پوچھا کیا جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو کرنا چاہیے انہوں نے کہا نہیں بات یہ تھی کہ نبیﷺ کے زمانہ میں آگ کا پکا ہوا کھانا ہم کو کم ملتا ( اکثر کھجور یا دودھ پر اکتفا کرتے اور جب ملتا بھی تو ( اس زمانہ میں ) ہم لوگوں کے پاس توال نہ تھی یہی ہماری ہتھیلیاں تھیں بازو پاؤں وغیرہ (انہیں پر ہاتھ رگڑ لیتے ) پھر نماز پڑھتے وضو نہ کرتے ۔
54. باب مَا يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلاَ مُوَدَّعٍ وَلاَ مُسْتَغْنًى عَنْهُ، رَبَّنَا "
Narrated By Abu Umama : Whenever the dining sheet of the Prophet was taken away (i.e., whenever he finished his meal), he used to say: "Al-hamdu lillah kathiran taiyiban mubarakan fihi ghaira makfiy wala muwada' wala mustaghna'anhu Rabbuna."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے ثور بن یزید سے انہوں نے خالد بن معدان سے انہوں نے ابوامامہ سے کہ نبیﷺ کا دسترخوان جب بڑھایا جاتا تو آپ فرماتے ہمارے پروردگار اللہ کا شکر بہت سا شکر پاکیزہ شکر برکت والا ایسا شکر نہیں جو ایک بار ہو کر رہ جائے ختم ہو جائے پھر اس کی حاجت نہ رہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ ـ وَقَالَ مَرَّةً إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ ـ قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلاَ مَكْفُورٍ ـ وَقَالَ مَرَّةً الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّنَا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلاَ مُوَدَّعٍ ـ وَلاَ مُسْتَغْنًى، رَبَّنَا "
Narrated By Abu Umama : Whenever the Prophet finished his meals (or when his dining sheet was taken away), he used to say. "Praise be to Allah Who has satisfied our needs and quenched our thirst. Your favour cannot by compensated or denied." Once he said, upraise be to You, O our Lord! Your favour cannot be compensated, nor can be left, nor can be dispensed with, O our Lord!"
ہم سے ابوعاصم ( ضحاک بن مخلد ) نے بیان کیا انہوں نے ثور بن یزید سے انہوں نے خلد بن معدان سے انہوں نے ابوامامہ سے کہ نبیﷺ جب کھانے سے فارغ ہوتے ( کبھی راوی نے یوں کہا ) جب آپ کا دسترخوان بڑھایا جاتا تو آپ فرماتے اللہ کا شکر جس نے ہم کو پیٹ بھر کر کھلایا پلایا یہ شکر ایسا نہیں ہے کہ ایک بار کر کے ختم ہو جائے یا پھر ناشکری کی جائے اور کبھی یوں فرماتے پروردگار ہمارے تیرا شکر ہے ایسا شکر نہیں جو ایک بار ہو کر رہ جائے یا چھٹ جائے یا پھر اس کی احتیاج نہ رہے پروردگار ہمارے ۔
55. باب الأَكْلِ مَعَ الْخَادِمِ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ ـ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ، أَوْ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ، فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَعِلاَجَهُ ".
Narrated By .Abu Huraira : The Prophet said, "When your servant brings your food to you, if you do not ask him to join you, then at least ask him to take one or two handfuls, for he has suffered from its heat (while cooking it) and has taken pains to cook it nicely."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے محمد بن زیاد سے انہوں نے کہا میں نے ابوہریرہ سے سنا انہوں نے رسول اللہﷺ سے آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خدمت گار کھانا ( پکا کر ) لائے تو اگر اس کو اپنے ساتھ ( کھانے کو ) نہ بٹھلائے ( جو بہتر ہے ) تو خیر یہی کرے کہ ایک نوالہ یا دو نوالے یا ایک لقمہ یا دو لقمے اس کو دیدے کیونکہ اسی نے چولہہ کی گرمی وغیرہ برداشت کی ہے اور محنت اٹھا کر کوٹ پیس کر کھانا تیار کیا ہے ۔
56. باب الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ مِثْلُ الصَّائِمِ الصَّابِرِ
فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
57. باب الرَّجُلِ يُدْعَى إِلَى طَعَامٍ فَيَقُولُ وَهَذَا مَعِي
وَقَالَ أَنَسٌ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مُسْلِمٍ لاَ يُتَّهَمُ فَكُلْ مِنْ طَعَامِهِ، وَاشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي أَصْحَابِهِ، فَعَرَفَ الْجُوعَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَ إِلَى غُلاَمِهِ اللَّحَّامِ فَقَالَ اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً، لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ. فَصَنَعَ لَهُ طُعَيِّمًا، ثُمَّ أَتَاهُ فَدَعَاهُ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا شُعَيْبٍ إِنَّ رَجُلاً تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ ". قَالَ لاَ بَلْ أَذِنْتُ لَهُ.
Narrated By Abu Mas'ud Al-Ansari : There was an Ansari man nicknamed, Abu Shu'aib, who had a slave who was a butcher. He came to the Prophet while he was sitting with his companions and noticed the signs of hunger on the face of the Prophet. So he went to his butcher slave and said, "Prepare for me a meal sufficient for five persons so that I may invite the Prophet along with four other men." He had the meal prepared for him and invited him. A (sixth) man followed them. The Prophet said, "O Abu Shu'aib! Another man has followed us. If you wish, you may invite him; and if you wish, you may refuse him." Abu Shu'aib said, "No, I will admit him."
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ نے کہا ہم سے اعمش نے کہا ہم سے شفیق بن سلمہ نے کہا ہم سے ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری نے انہوں نے کہا انصار میں سے ایک شخص تھا ابوشعیبؓ اس کا ایک غلام تھا قصائی یہ ابوشعیب نبیﷺ کےپاس آیا آپﷺ اپنے اصحابؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اس نے آپ کے چہپرے پر بھوک کا نشان پایا تو وہ اپنے قصائی غلام کے پاس گیا اس سے بولا تو اتنا کھانا مجھ کو تیار کر دے جو پانچ آدمی کو کافی ہو میں نبیﷺ کو دعوت دوں گا آپ سمیت پانچ آدمیوں کو اس نے یہ مختصر سا کھانا تیار کیا اور شعیبؓ نے نبیﷺ کو ( مع اور چار آدمیوں کے ) دعوت دی لیکن ان کے ساتھ ایک اور ( چھٹا ) شخص بھی ہو لیا نبیﷺ نے فرمایا ابوشعیب ایک شخص ( بن بلائے ) ہمارے ساتھ چلا آیا ہے اب تو چاہے اس کو اذن دے چاہے واپس کر دے اس نے کہا نہیں میں نے اذن دیا ۔
58. باب إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ فَلاَ يَعْجَلْ عَنْ عَشَائِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،. وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
Narrated By 'Amr bin Umaiyya : That he saw Allah's Apostle cutting a piece of mutton from its shoulder part he was carrying in his hand. When he was called for prayer, he put it down and the knife with which he was cutting it. Then he stood up and offered the prayer without performing new ablution.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم سے شعیب نے انہوں نے زہری سے ۔ دوسری سند اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یونس نے بیان کیا ۔ انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو جعفر بن عمرو بن امیہ نے خبر دی ان کو ان کے والد عمرو بن امیہ ضمریؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ بکری کے دست میں سے کاٹ کاٹ کر گوشت کھا رہے تھے اتنے میں نماز کے لیے بلائے گئے تو دست اور چھری جس سے کاٹ رہے تھے دونوں کو ڈال دیا پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی وضو نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ". وَعَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ.
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, If supper is served and the Iqama for (Isha) prayer is proclaimed, start with you supper first."
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب بن خالد نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے ابوقلابہ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے رکھا جائے ادھر نماز کی تکبیر ( یعنی مغرب کی نماز کی ) ہو تو پہلے کھانا کھا لو ۔ ( اور اسی سند سے ) ایوب سختیانی سے روایت ہے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے پھر ایسی ہی حدیث نقل کی۔
وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تَعَشَّى مَرَّةً وَهْوَ يَسْمَعُ قِرَاءَةَ الإِمَامِ
Narrated By Nafi : Once Ibn Umar was taking his supper while he was listening to the recitation of (Qur'an by) the Imam (in the Isha prayer).
اور ( اسی سند سے ) ایوب سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے روایت کی کہ ایک بار ابن عمرؓ شام کا کھانا کھایا کیے اور امام کی قراءت سن رہے تھے ( وہ نماز پڑھ رہا تھا )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَحَضَرَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ". قَالَ وُهَيْبٌ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ :" إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ "
Narrated By 'Aisha : The Prophet said, "If the Iqama for (Isha) prayer is proclaimed and supper is served, take your supper first."
۔ ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ سے انہوں نے کہا نبیﷺ سے آپﷺ نے فرمایا جب نماز کی تکبیر ہو ادھر کھانا ( سامنے ) لایا جائے تو پہلے کھانا کھا لو ۔ وہیب اور یحییٰ بن سعید کی روایتوں میں ہشام سے بجائے حضر العشاء کے وضع العشاء ہے ( مطلب ایک ہے )
59. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا}
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسًا، قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ، بِالْحِجَابِ كَانَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى بَلَغَ باب حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ باب حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ
Narrated By Anas : I know (about) the Hijab (the order of veiling of women) more than anybody else. Ubai bin Ka'b used to ask me about it. Allah's Apostle became the bridegroom of Zainab bint Jahsh whom he married at Medina. After the sun had risen high in the sky, the Prophet invited the people to a meal. Allah's Apostle remained sitting and some people remained sitting with him after the other guests had left. Then Allah's Apostle got up and went away, and I too, followed him till he reached the door of 'Aisha's room. Then he thought that the people must have left the place by then, so he returned and I also returned with him. Behold, the people were still sitting at their places. So he went back again for the second time, and I went along with him too. When we reached the door of 'Aisha's room, he returned and I also returned with him to see that the people had left. Thereupon the Prophet hung a curtain between me and him and the Verse regarding the order for (veiling of women) Hijab was revealed.
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے کہا مجھ سے میرے والد نے انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے ابن شہاب سے کہ انسؓ بن مالک کہتے تھے میں سب لوگوں سے زیادہ پردے کے حال سے واقف ہُوں ابی ابن کعبؓ ( حالانکہ بڑے درجے کے صحابی تھے لیکن ) مجھ سے پردے کا حال دریافت کرتے تھے ہوا یہ تھا کہ رسول اللہﷺ نوشاہ تھے آپﷺ نے مدینہ میں حضرت زینبؓ سے نکاح کیا تھا اور لوگوں کو کھانے کی دعوت اس وقت دی جب دن چڑھ آیا تھا تو جب لوگ کھانا کھا کر چلے گئے رسول اللہﷺ ( حضرت زینبؓ کے حجرے میں ) بیٹھے رہے اور آپ کے ساتھ اور بھی کئی آدمی ( باتیں کرتے ہوئے ) بیٹھے رہے آپ اٹھ کر وہاں سے چلے میں بھی آپ کے ساتھ گیا حضرت عائشہؓ کے حجرے پر پہنچ کر آپ نے خیال کیا کہ اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے لوٹ کر آئے میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ کر آیا ۔دیکھا تو وہ لوگ وہیں اپنی جگہ پر بیٹھے ہیں ( یا اللہ ) پھر آپ واپس تشریف لے گئے حضرت عائشہؓ کے حجرے پر پہنچے تو لوٹ کر آئے میں آپ کے ساتھ لوٹ کر آیا ۔اس وقت دیکھا تو وہ لوگ چلے گئے تھے پھر آپ نے میرے اور اپنے چچا میں پردہ ڈال لیا اور پردے کا حکم اترا ۔