- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First3456

41. باب الرُّطَبِ وَالتَّمْرِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تَسَّاقَطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا‏}‏

وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet distributed dates among us, and my share was five dates, four of which were good, and one was a Hashafa, and I found the Hashafa the hardest for my teeth.

اور محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا انہوں نے سفیان ثوری سے انہوں نے منصور بن صفیہ سے کہا مجھ کو میری والدہ نے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کی وفات سے پہلے ہم کھجور اور پانی سے سیر ہو گئے تھے۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ يَهُودِيٌّ وَكَانَ يُسْلِفُنِي فِي تَمْرِي إِلَى الْجِدَادِ، وَكَانَتْ لِجَابِرٍ الأَرْضُ الَّتِي بِطَرِيقِ رُومَةَ فَجَلَسَتْ، فَخَلاَ عَامًا فَجَاءَنِي الْيَهُودِيُّ عِنْدَ الْجَدَادِ، وَلَمْ أَجُدَّ مِنْهَا شَيْئًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَنْظِرُهُ إِلَى قَابِلٍ فَيَأْبَى، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لأَصْحَابِهِ ‏"‏ امْشُوا نَسْتَنْظِرْ لِجَابِرٍ مِنَ الْيَهُودِيِّ ‏"‏‏.‏ فَجَاءُونِي فِي نَخْلِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكَلِّمُ الْيَهُودِيَّ فَيَقُولُ أَبَا الْقَاسِمِ لاَ أُنْظِرُهُ‏.‏ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَامَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ فَكَلَّمَهُ فَأَبَى فَقُمْتُ فَجِئْتُ بِقَلِيلِ رُطَبٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ عَرِيشُكَ يَا جَابِرُ ‏"‏‏.‏ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ افْرُشْ لِي فِيهِ ‏"‏‏.‏ فَفَرَشْتُهُ فَدَخَلَ فَرَقَدَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَامَ فِي الرِّطَابِ فِي النَّخْلِ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا جَابِرُ جُدَّ وَاقْضِ ‏"‏‏.‏ فَوَقَفَ فِي الْجَدَادِ فَجَدَدْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ مِنْهُ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَشَّرْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ أَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏‏. عَرْشٌ وَ عَرِيشٌ:بِنَاءٌ.وَقَالَ ابنُ عَبَّاسٍ:مَعْرُوشَاتٍ:مَا يُعَرَّشُ مِنَ الكُرُومِ وَ غَيرِ ذَلِكَ، يُقَالُ:عُرُوشُهَا، أبنِيَتُهَا.قَالَ مُحَمَّدُ بنُ يُوسُفَ:قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ:قَالَ مُحَمَّد بْن اِسْمَاعِيلَ:فَخَلاَ لَيْسَ عِندِى مُقَيَّدًا،ثُمَّ قَالَ:فَجَلَّى لَيْسَ فِيهِ شَكٌّ.

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : There was a Jew in Medina who used to lend me money up to the season of plucking dates. (Jabir had a piece of land which was on the way to Ruma). That year the land was not promising, so the payment of the debt was delayed one year. The Jew came to me at the time of plucking, but gathered nothing from my land. I asked him to give me one year respite, but he refused. This news reached the Prophet whereupon he said to his companions, "Let us go and ask the Jew for respite for Jabir." All of them came to me in my garden, and the Prophet started speaking to the Jew, but he Jew said, "O Abu Qasim! I will not grant him respite." When the Prophet saw the Jew's attitude, he stood up and walked all around the garden and came again and talked to the Jew, but the Jew refused his request. I got up and brought some ripe fresh dates and put it in front of the Prophet. He ate and then said to me, "Where is your hut, O Jabir?" I informed him, and he said, "Spread out a bed for me in it." I spread out a bed, and he entered and slept. When he woke up, I brought some dates to him again and he ate of it and then got up and talked to the Jew again, but the Jew again refused his request. Then the Prophet got up for the second time amidst the palm trees loaded with fresh dates, and said, "O Jabir! Pluck dates to repay your debt." The Jew remained with me while I was plucking the dates, till I paid him all his right, yet there remained extra quantity of dates. So I went out and proceeded till I reached the Prophet and informed him of the good news, whereupon he said, "I testify that I am Allah's Apostle."

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم سے ابو غسان ( مح٘مد بن مطرف ) نے کہا مجھ سے ابو حازم ( سلمیٰ بن دینار ) نے انہوں نے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے انہوں نے کہا مدینہ میں ایک یہودی تھا ( شاید اس کا نام ابو الشحم ہو ) وہ میرے باغ کی کھجوریں اترنے تک مجھ کو قرض دیا کرتا میرے پاس وہ زمین تھی جو بیئررومہ کے رستہ پر واقع ہے ایک سال خالی گزرا اس زمین میں کھجور پیدا نہ ہوئی میوہ کٹنے کے وقت وہ یہودی ( حسب معمول اپنا قرض وصول کرنے آیا ) لیکن میں کاٹتا کیا وہاں تھا کیا ؟ آخر میں اس سے سال آئندہ تک کی مہلت مانگنے لگا لیکن اس نے نہ مانا ( کہا میرا قرض ابھی دو تمہارا وعدہ ہو گیا ) یہ خبر نبیﷺ کو پہنچی ( کہ یہودی جابرؓ کو اس طرح مجبور کر رہا ہے ) آپ نے اپنے اصحابؓ کو فرمایا چلو ہم یہودی سے کہیں جابر کو مہلت دے ( اتنا جبر نہ کر ) آپ مع اصحابؓ میرے باغ پر تشریف لائے اور یہودی سے گفتگو کرنے لگے وہ کہنے لگا ابوالقاسم میں تو جابرؓ کو مہلت دینے کا نہیں ( تمہاری سفارش نہیں سننے کا ) جب آپ نے اس یہودی کی یہ ( بیہودی ) گفتگو سنی تو آپ کھڑے ہوئے اور کھجور کے درختوں میں ایک چکر لگایا پھر اس یہودی سے آن کر فرمایا مہلت دے اس نے نہ مانا آخر جابر کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور باغ میں سے تھوڑی تازہ کھجور لا کر آپ کے سامنے رکھی آپ نے تناول فرمایا اس کے بعد پوچھا ۔ جابر اس باغ میں تیرا منڈوہ کہاں ہے ( جس میں تو بیٹھتا ہے آرام کرتا ہے ) میں نے عرض کیا وہ ہے آپ نے فرمایا جا وہاں میرے لیے بچھونا کر میں نے بچھونا بچھایا آپ جا کر اس میں سورہے پھر بیدار ہوئے تو میں اور ایک مٹھی بھر کھجور لے کر آیا آپﷺ نے وہ بھی کھائی پھر کھڑے ہوئے اور یہودی کو سمجھایا لیکن اس ( خبیث نے ) نہ ماننا تھا نہ مانا آخر آپ ( مجبور ہو کر ) دوسری بار ان درختوں کے تلے کھڑے ہوئے اور مجھ سے فرمایا جابرؓ تو کھجور کاٹنا شروع کر اور یہودی کا قرضہ ادا کر دے میں نے کھجور کاٹنا شروع کی آپ وہیں کھڑے رہے اور یہودی کا سارا قرضہ ادا کر دیا کچھ کھجور بچ رہی میں لوٹ کر آپ کے پاس آیا آپ کو یہ خوشخبری سنائی کہ یہودی کا سارا قرضہ چک گیا بلکہ کھجور بچ رہی ، آپ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں امام بخاری نے کہا ( حدیث میں جو عریش کا لفظ ہے تو ) عروش اور عریش چھت کو کہتے ہیں اور ابن عباس نے کہا ( جیسے سورۃ انعام کی تفسیر میں گزرا ) معروشات یعنی ٹٹیوں پر انگور وغیرہ چڑھائے ہوئے دوسری آیت میں ( سورہ بقرہ میں خاویۃ علی عروشھا یعنی اپنی چھتوں پر گرے ہوئے۔

42. باب أَكْلِ الْجُمَّارِ

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جُلُوسٌ إِذْ أُتِيَ بِجُمَّارِ نَخْلَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لَمَا بَرَكَتُهُ كَبَرَكَةِ الْمُسْلِمِ ‏"‏‏.‏ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي النَّخْلَةَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا عَاشِرُ عَشَرَةٍ أَنَا أَحْدَثُهُمْ فَسَكَتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"

Narrated By 'Abdullah bin Umar : While we were sitting with the Prophet a spadix of palm tree was brought to him. The Prophet said, "There is a tree among the trees which is as blessed as a Muslim" I thought that it was the date palm tree and intended to say, "It is the date-palm tree, O Allah's Apostle!" but I looked behind to see that I was the tenth and youngest of ten men present there, so I kept quiet' Then the Prophet said, "It is the date-palm tree."

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سےوالد نے کہا ہم سے اعمش نے کہا مجھ سے مجاہد نے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا ایسا ہوا ہم ایک مرتبہ نبیﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں کھجور کا گا بھہ کوئی لے کر آیا نبیﷺ نے فرمایا دیکھو درختوں میں ایک درخت مسلمان آدمی کی طرح برکت دار ہے میرے دل میں آیا وہ کھجور کا درخت ہے میں نے ارادہ کیا کہ کہوں یا رسُول اللہﷺ وہ کھجور کا درخت ہے پھر کیا دیکھتا ہوں دس آدمی جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے ان سب میں میں کم عمر ہوں آخر آپ نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے ۔

43. باب الْعَجْوَةِ

حَدَّثَنَا جُمْعَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ تَصَبَّحَ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرُّهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ سُمٌّ وَلاَ سِحْرٌ ‏"

Narrated By Sad : Allah's Apostle said, "He who eats seven 'Ajwa dates every morning, will not be affected by poison or magic on the day he eats them."

ہم سے جمعہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے مروان بن معاویہ فزاری نے کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم نے خبر دی کہا ہم کو عامر بن سعد نے انہوں نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص ) سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا جو کوئی صبح کے وقت سات کھجوریں کھا لے اس دن کوئی زہر یا جادو اس پر اثر نہ کرے گا ۔

44. باب الْقِرَانِ فِي التَّمْرِ

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، قَالَ أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَرَزَقَنَا تَمْرًا، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَأْكُلُ وَيَقُولُ لاَ تُقَارِنُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْقِرَانِ‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ إِلاَّ أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ الإِذْنُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ‏.

Narrated By Jabala bin Suhaim : At the time of Ibn Az-Zubair, we were struck with famine, and he provided us with dates for our food. 'Abdullah bin 'Umar used to pass by us while we were eating, and say, "Do not eat two dates together at a time, for the Prophet forbade the taking of two dates together at a time (in a gathering)." Ibn 'Umar used to add, "Unless one takes the permission of one's companions."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے حیلہ بن سحیم نے انہوں نے کہا ابن زبیرؓ کی خلافت میں ایک سال ہم پر قحط آیا وہ ہم کو کھانے کے لیے کھجور دیا کرتے تھے تو عبداللہ بن عمر ہمارے سامنے سے گزرتے ہم کھجوریں کھاتے ہوتے وہ کہتے دیکھو دو دو کھجوریں ملا کر نہ کھاو اس لیے کہ نبیﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے شعبہ نے کہا اس حدیث کے بعد عبداللہ بن عمرؓ یوں کہتے البتہ دو دو کھجوریں ملا کر اس وقت کھا سکتا ہے جب اپنے بھائی سے ( جو ساتھ کھا رہا ہو ) اجازت لے لے ۔

45. باب الْقِثَّاءِ

حَدَّثَنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin Ja'far : I saw the Prophet eating fresh dates with snake cucumbers.

ہم سے اسمٰعیل بن عبداللہ نے بیان کیا کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے اپنے والد ( سعد بن ابراہیم ) سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا وہ کہتے تھے میں نے نبیﷺ کو دیکھا آپ تازہ کھجور اور ککڑی ملا کر کھاتے ۔

46. باب بَرَكَةِ النَّخْلِ

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ تَكُونُ مِثْلَ الْمُسْلِمِ، وَهْىَ النَّخْلَةُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "There is a tree among the trees which is similar to a Muslim (in goodness), and that is the date palm tree."

۔ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے انہوں نے زبید بن حارث سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے سنا انہوں نے نبیﷺ سے آپ فرماتے تھے درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان آدمی کی طرح ( برکت والا ) ہے وہ کھجور کا درخت ہے ۔

47. باب جَمْعِ اللَّوْنَيْنِ أَوِ الطَّعَامَيْنِ بِمَرَّةٍ

حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ‏

Narrated By 'Abdullah bin Ja'far : I saw Allah's Apostle eating fresh dates with snake cucumbers.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو ابراہیم بن سعد نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عبداللہ بن جعفرؓ سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپ تازہ کھجور اور ککڑی ملا کر کھا رہے تھے ۔

48. باب مَنْ أَدْخَلَ الضِّيفَانَ عَشَرَةً عَشَرَةً وَالْجُلُوسِ عَلَى الطَّعَامِ عَشَرَةً عَشَرَةً

حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ،‏.‏ وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ،‏.‏ وَعَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، أُمَّهُ عَمَدَتْ إِلَى مُدٍّ مِنْ شَعِيرٍ، جَشَّتْهُ وَجَعَلَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً، وَعَصَرَتْ عُكَّةً عِنْدَهَا، ثُمَّ بَعَثَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَهْوَ فِي أَصْحَابِهِ فَدَعَوْتُهُ قَالَ ‏"‏ وَمَنْ مَعِي ‏"‏‏.‏ فَجِئْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ يَقُولُ، وَمَنْ مَعِي، فَخَرَجَ إِلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ صَنَعَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَدَخَلَ فَجِيءَ بِهِ وَقَالَ ‏"‏ أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشَرَةً ‏"‏‏.‏ فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشَرَةً ‏"‏‏.‏ فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشَرَةً ‏"‏‏.‏ حَتَّى عَدَّ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَىْءٌ‏.

Narrated By Anas : My mother, Um Sulaim, took a Mudd of barley grain, ground it and made porridge from it, and pressed (over it), a butter skin she had with her. Then she sent me to the Prophet, and I reached him while he was sitting with his companions. I invited him, whereupon he said, "And those who are with me?' I returned and said, "He says, 'And those who are with me?" Abu Talha went out to him and said, "O Allah's Apostle! It is just a meal prepared by Um Sulaim." The Prophet entered and the food was brought to him. He said, "Let ten persons enter upon me." Those ten entered and ate their fill. Again he said, 'Let ten (more) enter upon me." Those ten entered and ate their fill. Then he said, "Let ten (more) enter upon me." He called forty persons in all Then Allah's Apostle ate and got up. I started looking (at the food) to see if it decreased or not.

ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ابوعثمان جعد بن دینار یشکری سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے دوسری سند اور حماد بن زید نے اس حدیث کو ہشام بن حسان ازدی سے اس نے محمد بن سیرین سے اس نے انس سے بھی روایت کیا ہے تیسری سند اور حماد نے اس کو ابو ربیعہ سے سُنا اس نے انسؓ سے بھی روایت کیا ہے کہ ام سلیم ان کی ماں نے ایک مُدجَو لئیے ان کو موٹا موٹا پیس کر آش بنایا اس پر گھی کی کپی جو ان کے پاس تھی ۔ نچوڑ دی پھر مجھ کو نبیﷺ کے پاس بھیجا ( آپ کو بلانے کے لیے ) میں جو پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کئی اور صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہیں ۔ میں نے آپ کو دعوت دی آپﷺ نے پوچھا اور میرے ساتھ جو لوگ ہیں ان کی بھی دعوت ہے یا نہیں میں لوٹ کر والدہ کے پاس آیا ان سے یہ کہا آپ یہ فرماتے ہیں میں بھی آؤں اور کیا میرے ساتھ جو لوگ ہیں وہ بھی آئیں یہ سن کر ابوطلحہ نبیﷺ کے پاس گیا اور آپ سے عرض کیا یارسول اللہﷺ وہاں تو تھوڑا سا کھانا ہے جو ام سلیمؓ نے تیار کیا ہے نبیﷺ تشریف لائے اور وہ کھانا سامنے لایا گیا آپ نے فرمایا دس آدمیوں کو اندر بلا لے وہ اندر آئے اور پیٹ بھر کھا کر چلتے ہوئے پھر فرمایا اور دس آدمیوں کو بلا لے اسی طرح چالیس۴۰ آدمیوں کا شمار کیا اس کے بعد نبیﷺ پھر آپ اٹھے انسؓ کہتے ہیں میں کھانے کو دیکھنے لگا دیکھوں کھانا کچھ کم ہوا ہے یا نہیں ؟

49. باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الثُّومِ وَالْبُقُولِ

فِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ قِيلَ لأَنَسٍ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الثُّومِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ أَكَلَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ‏"‏‏

Narrated By 'Abdul 'Aziz : It was said to Anas "What did you hear the Prophet saying about garlic?" Anas replied, "Whoever has eaten (garlic) should not approach our mosque."

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید صنائی نے انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب سے انہوں نے کہا انسؓ سے پوچھا گیا تم نے لہسن کے باب میں نبیﷺ سے کیا سنا ہے انہوں نے کہا آپ نے فرمایا جو شخص ( لہسن ) کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ زَعَمَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً فَلْيَعْتَزِلْنَا، أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا ‏"

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet said, "Whoever has eaten garlic or onion should keep away from us (or should keep away from our mosque)."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے ابوصفوان عبداللہ ابن سعید نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے کہا مُجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا جو شخص لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا یوں فرمایا ( ابن شہاب کو شک ہے ) ہماری مسجد سے الگ رہے ۔

50. باب الْكَبَاثِ وَهْوَ ثَمَرُ الأَرَاكِ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ ‏"‏ عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ مِنْهُ، فَإِنَّهُ أَيْطَبُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ رَعَاهَا ‏"‏‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : We were with Allah's Apostle collecting Al-Kabath at Mar-Az-Zahran. The Prophet said, "Collect the black ones, for they are better." Somebody said, (O Allah's Apostle!) Have you ever shepherded sheep?" He said, "There has been no prophet but has shepherded them."

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے انہوں نے یونس بن یزید ایلی سے انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی کہا مجھ کو جابر بن عبداللہ انصاری نے انہوں نے کہا ہم مرالظہر ان میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے ( جو ایک مقام ہے مکہ سے ایک منزل پر ) پیلُو کے پھل چن رہے تھے آپ نے فرمایا کالے کالے دیکھ کر چنو وہ خوش مزہ ہوتے ہیں ۔ لوگوں نے کہا ( یا جابرؓ نے کہا ) یا رسول اللہﷺ کیا آپ نے بکریاں بھی چرائی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں ۔ کوئی پیغمبر ایسا گزرا ہے جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں ۔

‹ First3456