- احادیثِ نبوی ﷺ

 

12345Last ›

21. باب مَا عَابَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا عَابَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet never criticized any food (he was invited to) but he used to eat if he liked the food, and leave it if he disliked it.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابوحازم ( سلمان اشجعی سے ) انہوں نے ابوہریرہ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے کسی کھانے کو کبھی برا نہیں کہا اگر جی چاہا تو کھایا جی نہ چاہا تو چھوڑ دیا ( خاموش رہے ) ۔

22. باب النَّفْخِ فِي الشَّعِيرِ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَهْلاً هَلْ رَأَيْتُمْ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّقِيَّ قَالَ لاَ‏.‏ فَقُلْتُ فَهَلْ كُنْتُمْ تَنْخُلُونَ الشَّعِيرَ قَالَ لاَ وَلَكِنْ كُنَّا نَنْفُخُهُ‏

Narrated By Abu Hazim : That he asked Sahl, "Did you use white flour during the lifetime of the Prophet ?" Sahl replied, "No. Hazim asked, "Did you use to sift barley flour?" He said, "No, but we used to blow off the husk (of the barley)."

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم سے ابوغسان(محمد بن مطرف لیثی) نے کہا مجھ سے ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے انہوں نے سہل بن سعد ساعدیؓ سے پوچھا کیا تم نے نبیﷺ کے زمانے میں میدہ (مائدہ) دیکھا تھا انہوں نے کہا نہیں ، میں نے کہا آخر تم جو کو ( پیس کر چھلنی میں ) چھانتے تھے یا نہیں انہوں نے کہا ہم چھلنی میں نہیں چھانتے تھے ( پیس کر ) منہ سے پھونک کر ۔

23. باب مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا، فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَانِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ، فَلَمْ يَكُنْ فِيهِنَّ تَمْرَةٌ أَعْجَبَ إِلَىَّ مِنْهَا، شَدَّتْ فِي مَضَاغِي‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Once the Prophet distributed dates among his companions and gave each one seven dates. He gave me seven dates too, one of which was dry and hard, but none of the other dates was more liked by me than that one, for it prolonged my chewing it.

ہم سے ابوالنعمان ( محمد بن عارم ابوالفضل سدوسی) نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عباس ( بن فروخ ) جریری سے انہوں نے ابوعثمان ( عبدالرحمٰن بن نہدی ) سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے انہوں نے کہا ایسا ہوا ایک دن نبیﷺ نے اپنے اصحاب کو کھجوریں بانٹیں تو ہر شخص کو سات سات کھجوریں دیں ، مجھ کو بھی سات کھجوریں عنایت فرما دیں ان میں ایک کھجور خراب قسم کی بڑی سخت تھی عجیب کھجور تھی اس کا چبانا مجھ کو مشکل ہو گیا ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا لَنَا طَعَامٌ إِلاَّ وَرَقُ الْحُبْلَةِ ـ أَوِ الْحَبَلَةِ ـ حَتَّى يَضَعَ أَحَدُنَا مَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الإِسْلاَمِ، خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي‏

Narrated By Sad : I was one of (the first) seven (who had embraced Islam) with Allah's Apostle and we had nothing to eat then, except the leaves of the Habala or Hubula tree, so that our stool used to be similar to that of sheep. Now the tribe of Bani Asad wants to teach me Islam; I would be a loser and all my efforts would be in vain (if I learn Islam anew from them).

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے وہب بن جریرؓ نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے سعد بن ابی وقاص سے انہوں نے کہا میں نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب ( مسلمان کل سات تھے ) میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ساتواں آدمی تھا ہم کو کھانے کے لیے بھی کیکر کے پھل یا پتے کے سوا اور کچھ میسر نہ ہوتا یہ کھاتے کھاتے ہم لوگوں کا پائخانہ بکری کی سینگنیوں کی طرح ہو گیا تھا یا اب یہ زمانہ ہے کہ بنی اسد کے قبیلے کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلاتے ہیں اگر میں ابھی تک اس حال میں ہوں کہ بنی اسد کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلائیں تب تو میں تباہ ہو گیا میری محنت برباد ہو گئی ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَقُلْتُ هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّقِيَّ فَقَالَ سَهْلٌ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّقِيَّ مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ هَلْ كَانَتْ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنَاخِلُ قَالَ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْخُلاً مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ‏.‏ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ قَالَ كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ‏

Narrated By Abu Hazim : I asked Sahl bin Sad, "Did Allah's Apostle ever eat white flour?" Sahl said, "Allah's Apostle never saw white flour since Allah sent him as an Apostle till He took him unto Him." I asked, "Did the people have (use) sieves during the lifetime of Allah's Apostle?" Sahl said, "Allah's Apostle never saw (used) a sieve since Allah sent him as an Apostle until He took him unto Him," I said, "How could you eat barley un-sifted?" he said, "We used to grind it and then blow off its husk, and after the husk flew away, we used to prepare the dough (bake) and eat it."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے یعقوب نے انہوں نے ابوحازم سے کہا میں نے سہل بن سعدؓ سے پوچھا کیا رسول اللہﷺ نے میدہ کھایا انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے تو جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر بنایا اپنی وفات تک میدہ دیکھا تک نہیں ۔میں نے پوچھا کیا رسول اللہﷺ کے زمانے میں تمہارے پاس چھنیاں تھیں انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے تو جب سے اللہ نے آپ کو پیغمبر بنایا تو اپنے وفات تک چھلنی دیکھی تک نہیں ۔ میں نے کہا پھر تم جب چھلنی نہ تھی تو جو کی روٹی کیسے کھاتے تھے ( اس کا بھوسا کیسے الگ کرتے تھے ) انہوں نے کہا جو کو پیس کر ہم منہ سے پھونکتے تھے جو اڑ جاتا وہ اڑ جاتا ( موٹا بھوسہ ) اور جو رہ جاتا ( یعنی آٹا اور باریک بھوسہ ) اس کو گوندھ کر ( روٹی پکاتے ) پھر کھاتے ۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنَ الْخُبْزِ الشَّعِيرِ‏

Narrated By Abu Huraira : That he passed by a group of people in front of whom there was a roasted sheep. They invited him but he refused to eat and said, "Allah's Apostle left this world without satisfying his hunger even with barley bread."

مجھ سے اسحٰق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا کہا انہوں نے سعید مقبری سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے وہ کچھ لوگوں پر سے گزرے جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی تھی ۔ انہوں نے ابوہریرہؓ کو بھی کھانے کو بلایا ۔ لیکن ابوہریرہؓ نے انکار کیا کہنے لگے رسول اللہﷺ تو دنیا سے تشریف لے گئے اور جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خِوَانٍ، وَلاَ فِي سُكْرُجَةٍ، وَلاَ خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ‏.‏ قُلْتُ لِقَتَادَةَ عَلَى مَا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet never took his meals at a dining table, nor in small plates, and he never ate thin well-baked bread. (The sub-narrator asked Qatada, "Over what did they use to take their meals?" Qatada said, "On leather dining sheets."

ہم سےعبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے کہا مجھ سے میرے والد نے انہوں نے یونسں ابی انصرات سے انہوں نے قتادہؓ سے انہوں نے انس بن مالک سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا اور نہ طشتری میں (اچار وغیرہ رکھ کر ) اور نہ کبھی مانڈے کھائے (باریک چپاتیاں) یونس نے کہا میں نے قتادہؓ سے پوچھا پھر کاہے پر کھاتے تھے انہوں نے کہا دستر خوان پر ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، حَتَّى قُبِضَ‏.‏

Narrated By 'Aisha : The family of Muhammad had not eaten wheat bread to their satisfaction for three consecutive days since his arrival at Medina till he died.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے انہوں نے منصور سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے اسود بن یزید سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کے گھر والوں نے جب سے آپ مدینہ تشریف لائے تین دن تک برابر گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے ۔

24. باب التَّلْبِينَةِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ، إِلاَّ أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) that whenever one of her relatives died, the women assembled and then dispersed (returned to their houses) except her relatives and close friends. She would order that a pot of Talbina be cooked. Then Tharid (a dish prepared from meat and bread) would be prepared and the Talbina would be poured on it. 'Aisha would say (to the women),"Eat of it, for I heard Allah's Apostle saying, 'The Talbina soothes the heart of the patient and relieves him from some of his sadness.'"

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل بن خالد سے انہوں نے ابن شہاب زہری سے انہوں نے عقیل بن خالد سے انہوں نے ابن شہاب زہری سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ ام المومنین سے ان کی عادت تھی جب ان کے عزیزوں میں کوئی مر جاتا اور عورتیں جمع ہوتیں پھر چلی جاتیں گھر والے رہ جاتے اور خاص خاص لوگ تو وہ حکم دیتیں تلبینہکی ایک ہانڈی پکائی جاتی پھر ثرید بنا کر تلبینہ اس پر ڈال دیا جاتا حضرت عائشہؓ عورتوں سے کہتیں یہ کھاؤ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے تلبینہ سے بیمار کے دل کو تسکین ہوتی ہے اس کا غم کسی قدر غلط ہوتا ہے۔

25. باب الثَّرِيدِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Musa Al-Ash'ari : The Prophet said, "Many men reached perfection but none among the women reached perfection except Mary, the daughter of ' Imran, and Asia, Pharoah's wife. And the superiority of 'Aisha to other women is like the superiority of Tharid to other kinds of food.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر بن محمد جعفر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں عمرو بن مرہ جملی سے انہوں نے مرہ ہمدانی سے انہوں نے ابوموسیٰ اشعری سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا مردوں میں تو بہت کامل لوگ گزرے ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمرانؓ اور آسیہؓ فرعون کی جورو کے سوا اور کوئی کامل نہیں گزری اور عائشہؓ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ‏"

Narrated By Anas : The Prophet said, "The superiority of 'Aisha to other women is like the superiority of Tharid to other kinds of food."

ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے انہوں نے ابوطوالہ ( عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن حزم انصاری ) سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا عائشہؓ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی دوسرے کھانوں پر ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ أَبَا حَاتِمٍ الأَشْهَلَ بْنَ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى غُلاَمٍ لَهُ خَيَّاطٍ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ قَصْعَةً فِيهَا ثَرِيدٌ ـ قَالَ ـ وَأَقْبَلَ عَلَى عَمَلِهِ ـ قَالَ ـ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ ـ قَالَ ـ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ـ قَالَ ـ فَمَا زِلْتُ بَعْدُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ‏

Narrated By Anas : I went along with the Prophet to the house of a young tailor of his. The tailor presented a dish of Tharid to the Prophet and resumed his work. The Prophet started picking the pieces of gourd and I too, started picking them and putting it before him. Since then I have always loved (to eat) gourd.

ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا انہوں نے ابو حاتم اشہل بن حاتم سے سنا کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا انہوں نے ثمامہ بن انسؓ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا میں نبیﷺ کے ساتھ آپ کے ایک غلام کے پاس گیا جو درزی کا پیشہ کرتا تھا اس نے ایک ثرید کا کٹورہ آپ کے سامنے رکھا ( کھانے کے لیے ) اور اپنے کام میں ( سینے پرونے ) میں مشغول ہو گیا نبیﷺ اس کٹورے میں ( چاروں طرف ) کدو کے قتلے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے تھے انسؓ کہتے ہیں میں نے یہ حال دیکھ کر کیا کیا کٹورے میں سے کدو کے قتلے سب چن چن کر آپ کے سامنے رکھے انسؓ کہتے ہیں اس دن سے برابر مجھ کو کدو پسند ہے ۔

26. باب شَاةٍ مَسْمُوطَةٍ وَالْكَتِفِ وَالْجَنْبِ

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ، وَلاَ رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ‏.‏

Narrated By Qatada : We used to visit Anas bin Malik while his baker was standing (and baking). Anas would say, "Eat! I do not know that the Prophet had ever seen well-baked bread till he met Allah, nor had he ever seen a roasted sheep with his own eyes."

ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے کہا ہم انس بن مالک کے پاس جاتے ان کا نانبائی سامنے کھڑا ہوتا ( اس کا نام معلوم نہیں ہوا ) انسؓ ( لوگوں سے کہتے ) کھائو میں تو نہیں جانتا کہ نبیﷺ نے کبھی وفات تک پتلی چپاتی دیکھی بھی ہو اور نہ کبھی سموچی دم پخت بکری دیکھی ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَقَامَ فَطَرَحَ السِّكِّينَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.

Narrated By 'Amr bin Umaiyay Ad-Damri : I saw Allah's Apostle cutting part of the shoulder of mutton with a knife. He ate of it and then was called for prayer whereupon he got up and put down the knife and offered the prayer without performing new ablution.

ہم سےمحمد بن مقاتل نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو معمر نے انہوں نے زہری سے انہوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپﷺ نے بکری کے دست کا گوشت ( چھری سے ) کاٹ کر کھایا پھر نماز کے لیے بلائے گئے تو چھری ڈال دی اور نماز پڑھائی وضو نہیں کیا ۔

27. باب مَا كَانَ السَّلَفُ يَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِهِمْ وَأَسْفَارِهِمْ مِنَ الطَّعَامِ وَاللَّحْمِ وَغَيْرِهِ،

وَقَالَتْ عَائِشَةُ وَأَسْمَاءُ صَنَعْنَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ سُفْرَةً‏

حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ قَالَتْ مَا فَعَلَهُ إِلاَّ فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ‏.‏ قِيلَ مَا اضْطَرَّكُمْ إِلَيْهِ فَضَحِكَتْ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ بِهَذَا‏

Narrated By 'Abis : I asked 'Aisha "Did the Prophet forbid eating the meat of sacrifices offered on 'Id-ul-Adha for more than three days" She said, "The Prophet did not do this except in the year when the people were hungry, so he wanted the rich to feed the poor. But later we used to store even a trotter of a sheep to eat it fifteen days later." She was asked, "What compelled you to do so?" She smiled and said, "The family of Muhammad did not eat to their satisfaction white bread with meat soup for three successive days till he met Allah."

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے انہوں نے اپنے والد ( عابس بن ربیعہ ) سے انہوں نے کہا میں نے حضرۃ عائشہؓ سے پوچھا کیا قربانی کا گوشت نبیﷺ نے تین دن سے زیادہ تک کھانے سے منع کیا ہے انہوں نے کہا آپ نے اُس سال ایسا کرنے سے منع کیا تھا جب لوگ محتاج تھے ( ان کو کھانا میسر نہ ہوتا ) آپ کا مطلب ایسا حکم دینے سے یہ تھا کہ مالدار لوگ محتاجوں کو ( یہ گوشت ) کھلادیں ( جوڑ نہ رکھیں )اور ہم بکری کے پائے اٹھا رکھتے پندرہ پندرہ دن بعد اس کو کھاتے عابس نے کہا ۔کیوں ایسی کیا ضرورت تھی یہ سن کر حضرت عائشہؓ ہنسں دیں پھر کہنے لگیں حضرت محمد ﷺ کے گھروالوں کو کبھی برابر تین دن تک گہیوں کی روٹی سالن کھانے کو نہیں ملا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی امام بخاری نے کہا محمد بن کثیر نے اس حدیث میں یوں کہا ہے کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عابس نے ۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْىِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ تَابَعَهُ مُحَمَّدٌ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَقَالَ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ لاَ‏.‏

Narrated By Jabir : We used to carry the meat of the Hadis (sacrificed animals) to Medina during the life-time of the Prophet.

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عُیینہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے انہوں نے کہا ہم تو نبیﷺ کے زمانے میں جو قربانیاں مکہ میں لے جاتے ان کا گوشت رکھ کر مدینہ تک آتے عبداللہ بن محمد کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن سلام نے بھی سفیان بن عیینہ سے روایت کیا ہے اور ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے پوچھا کیا آپ نے یوں کہا ہے ہم مدینہ تک آتے انہوں نے کہا نہیں ۔

28. باب الْحَيْسِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي طَلْحَةَ ‏"‏ الْتَمِسْ غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي ‏"‏‏.‏ فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ، يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُلَّمَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ‏"‏‏.‏ فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ، وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ قَدْ حَازَهَا، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّي وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالاً فَأَكَلُوا، وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ ‏"‏ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ ‏"

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle said to Abu Talha, "Seek one of your boys to serve me." Abu Talha mounted me behind him (on his riding animal) and took me (to the Prophet). So I used to serve Allah's Apostle whenever he dismounted (to stay somewhere). I used to hear him saying very often, "O Allah! I seek refuge with You from, having worries sadness, helplessness, laziness, miserliness, cowardice, from being heavily in debt and from being overpowered by other persons unjustly." I kept on serving till we -returned from the battle of Khaibar. The Prophet then brought Safiyya bint Huyai whom he had won from the war booty. I saw him folding up a gown or a garment for her to sit on behind him (on his she-camel). When he reached As-Sahba', he prepared Hais and placed it on a dining sheet. Then he sent me to invite men, who (came and) ate; and that was his and Safiyya's wedding banquet. Then the Prophet proceeded, and when he saw (noticed) the mountain of Uhud, he said, "This mountain loves us, and we love it." When we approached Medina, he said, "O Allah! I make the area between its two mountains a sanctuary as Abraham has made Mecca a sanctuary. O Allah! Bless their Mudd and Sa (special kinds of measure)."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے انہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے جو مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام تھے انہوں نے انس بن مالکؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے ابوطلحہؓ سے ( جو میری والدہ ام سلیم کے شوہر تھے ) فرمایا اپنے لڑکوں میں سے ایک لڑکا ہماری خدمت کے لیے تلاش کرو ابوطلحہ مجھ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کر لے گئے ( اور آپﷺ کی خدمت میں دے دیا ) میں رسول اللہﷺ کی خدمت کرتا ، جب آپ ( منزل میں ) اترتے میں نے سنا آپ اکثر یہ دعا کرتے یا اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر اور غم سے اور ماندگی اور سستی ( کاہلی ایدی پنے ) سے بخیلی اور نامردی سے قرضداری کے بوجھ اور قرض خواہوں کے تقاضوں ( یا دشمنوں کے غلبے ) سے خیر میں ( سفر میں برابر ) آپ کی خدمت کرتا رہا یہاں تک کہ ہم لوگ ( خیبر سے ) مدینہ میں آئے آپ صفیہؓ کو لے کر آئے جن کو جنگ خیبر میں پکڑ لیا تھا میں ( راستے میں ) دیکھتا تھا آپ ان کے لیے اپنے پیچھے ( اونٹ پر ) ایک گول گردہ چادر یا کمل سے بنا دیتے جب ہن صہبا میں پہنچے ( خیبر سے ایک منزل پر ) تو آپ نے ایک چمڑے کے دسترخوان پر حیس تیار کیا اور مجھ کو ( دعوت دینے کے لیے ) بھیجا میں نے کئی لوگوں کو دعوت دی انہوں نے بھی حیس کھایا اور یہی صفیہ کا ولیمہ تھا پھر آپ ( مدینہ میں ) آئے جب احد پہاڑ دکھلائی دیا تو فرمایا ہم اس پہاڑ سے محبت رکھتے ہیں اور یہ پیاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے جب مدینہ کا شہر دکھلائی دینے لگا تو فرمایا اللہ میں مدینہ کو حرم کرتا ہوں دونوں پہاڑیوں کے درمیان جیسے ابراہیم پیغمبر نے مکہ کو حرم کیا تھا یا اللہ مدینہ والوں کے مد اور صاع میں برکت دے ۔

29. باب الأَكْلِ فِي إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَاسْتَسْقَى فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ‏.‏ فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ‏.‏ كَأَنَّهُ يَقُولُ لَمْ أَفْعَلْ هَذَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلاَ الدِّيبَاجَ وَلاَ تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلاَ تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdur-Rahman bin Abi Laila : We were sitting in the company of Hudhaifa who asked for water and a Magian brought him water. But when he placed the cup in his hand, he threw it at him and said, "Had I not forbidden him to do so more than once or twice?" He wanted to say, "I would not have done so," adding, "but I heard the Prophet saying, "Do not wear silk or Dibaja, and do not drink in silver or golden vessels, and do not eat in plates of such metals, for such things are for the unbelievers in this worldly life and for us in the Hereafter."

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا ہم سے سیف بن ابی سلیمان نے کہا میں نے مجاہد سے سنا وہ کہتے تھے مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا ہم لوگ حذیفہ بن یمان صحابی پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں انہوں نے پینے کا پانی مانگا ایک پارسی پانی لایا حذیفہ کے ہاتھ میں دیا انہوں نے ہاتھ میں لیتے ہی وہ گلاس اس پارسی پر پھینک مارا اور کہنے لگے اگر میں کئی بار منع نہ کر چکا ہوتا تو میں یہ گلاس اس کے منہ پر نہ مارتا بات یہ ہے میں نے نبیﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے حریر اور دیبا ( ریشمی کپڑے )نہ پہنو نہ سونے چاندی کے برتن میں پانی پیو نہ سونے چاندی کی رکابیوں میں کھانا کھاؤ کیوں کہ سونےچاندی کے برتن دنیا میں کافروں کے لیے ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں ۔

30. باب ذِكْرِ الطَّعَامِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لاَ رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ‏"‏‏

Narrated By Abu Musa Al-Ash'ari : Allah's Apostle said, "The example of a Believer who recites the Qur'an, is that of a citron which smells good and tastes good; And the example of a Believer who does not recite the Qur'an, is that of a date which has no smell but tastes sweet; and the example of a hypocrite who recites the Qur'an, is that of an aromatic plant which smells good but tastes bitter; and the example of a hypocrite who does not recite the Qur'an, is that of a colocynth plant which has no smell and is bitter in taste."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ وضاح یشکری نے انہوں نے قتادہ بن وعامہ سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے ابوموسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا جو مومن قرآن پڑھتا ہے ( اس پر عمل کرتا ہے ) اس کی مثال ترنج ( میٹھے لیموں بتی ) کی سی ہے بوبھی اچھی لطیف مزہ بھی عمدہ شیریں اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا ( اس کے احکامات پر عمل نہیں کرتا ) اس کی مثال ، کجھور کی سی ہے خوشبو تو اس میں نہیں مگر مزہ میٹھا ہے اور جو منافق ہے ( زبان سے ) قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحان کی سی ہے جس میں جوشبو ہے مگر مزہ کڑوا اور جو منافق ۔ ( نفاق کے ساتھ کمبخت )قرآن بھی نہیں پڑھتا ( وہ سب سے بدتر ) اس کی مثال اندرائن کے پھل کی سی ہے خوشبو بھی نہیں ( بلکہ بدبو ) اور مزہ بھی کڑوا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ‏"

Narrated By Anas : The Prophet said, "The superiority of 'Aisha to other ladies is like the superiority of Tharid to other kinds of food."

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے خالد ( بن عبداللہ طحان ) نے کہا ہم سے ( ابوطوالہ) عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپﷺ نے فرمایا عائشہؓ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ ‏"‏‏.

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Travelling is a kind of torture, as it prevents one from sleeping and eating! So when one has finished his job, he should return quickly to his family."

ہم سے ابونعیم ( فضل بن دکین ) نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالکؒ نے انہوں نے سمی سے انہوں نے ابو صالح ( ذکوان روغن فروش ) سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا سفر کیا ہے ایک طرح کا عذاب ہے نہ سفر میں سونا اچھی طرح ملتا نہ کھانا پھر جب کوئی تم سے اپنا مطلب ( جو سفر سے رکھتا ہو ) پورا کر لے تو جلدی سے گھر چلا آئے ۔

12345Last ›