- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First23456

31. باب الأُدْمِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ، أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَهَا فَتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا، وَلَنَا الْوَلاَءُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ لَوْ شِئْتِ شَرَطْتِيهِ لَهُمْ، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَأُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي أَنْ تَقِرَّ تَحْتَ زَوْجِهَا أَوْ تُفَارِقَهُ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَيْتَ عَائِشَةَ وَعَلَى النَّارِ بُرْمَةٌ تَفُورُ، فَدَعَا بِالْغَدَاءِ فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدْمٍ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ أَرَ لَحْمًا ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنَّهُ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَأَهْدَتْهُ لَنَا‏.‏ فَقَالَ‏"‏ هُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا، وَهَدِيَّةٌ لَنَا ‏"‏‏.‏

Narrated By Qasim bin Muhammad : Three traditions have been established because of Barira: 'Aisha intended to buy her and set her free, but Barira's masters said, "Her wala' will be for us." 'Aisha mentioned that to Allah's Apostle who said, "You could accept their condition if you wished, for the wala is for the one who manumits the slave." Barira was manumitted, then she was given the choice either to stay with her husband or leave him; One day Allah's Apostle entered 'Aisha's house while there was a cooking pot of food boiling on the fire. The Prophet asked for lunch, and he was presented with bread and some extra food from the home-made Udm (e.g. soup). He asked, "Don't I see meat (being cooked)?" They said, "Yes, O Allah's Apostle! But it is the meat that has been given to Barira in charity and she has given it to us as a present." He said, "For Barira it is alms, but for us it is a present."

ہم قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن جعفر ( مدنی ) نے انہوں نے ربیعہ سے انہوں نے قاسم بن محمد ( بن ابی بکرؓ ) سے سنا وہ کہتے تھے بریرہ ( لونڈی ) کی وجہ سے دین کی تین باتیں معلوم ہوئیں حضرت عائشہؓ نے اس کو خریدنا چاہا اور آزاد کرنا تو اس کے مالک کہنے لگے اچھا اس شرط پر ( ہم بیچتے ہیں ) کہ اس کا ترکہ ( ولا ) ہم لیں گے حضرت عائشہؓ نے رسول اللہﷺ سے اس کا ذکر کیا آپﷺ نے فرمایا تو اگر چاہتی ہے تو ولا کی شرط انہی کے لیے کرے کیونکہ ولا تو اسی کو ملے گی جو ( لونڈی غلام ، آزاد کرے قاسم نے کہا دوسری بات یہ ہے کہ بریرہ جب آزاد ہو گئی تو اس کو اختیار ملا اپنے اگلے خاوند ( مغیث) کی بی بی ریے چاہے اس سے الگ ہر جائے تیسری بات یہ ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ حضرت عائشہؓ کے گھر میں آئے دیکھا تو ہانڈی آگ پر چڑھی ابل رہی ہے آپ نے کھانا مانگا تو حضرت عائشہؓ روٹی اور گھر کا کچھ ( باسی ) سالن لے آئیں آپﷺ نے فرمایا واہ میں نے تو خود دیکھا ہے گوشت پک رہا تھا ( ہانڈی میں ) انہوں نے عرض کیا بجا ارشاد ہوا یا رسول اللہ مگر وہ خیرات کا گوشت ہے جو بریرہ کو کسی نے للہ دیا تھا وہ تحفہ کے طور پر ہمارے پاس لےآئی آپﷺ نے فرمایا بریرہ کی لیے یہ گوشت خیرات تھا اور ہمارے لیے تو تحفہ ہے ( ہم اس کو کھا سکتے ہیں ) ۔

32. باب الْحَلْوَى وَالْعَسَلِ

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle used to love sweet edible things and honey.

مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا انہوں نے ابواسامہ سے انہوں نے ہشام بن عروہ سے کہا مجھ کو میرے باپ نے خبر دی انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ میٹھے اور شہد کو پسند کرتے تھے ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنْتُ أَلْزَمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِشِبَعِ بَطْنِي حِينَ لاَ آكُلُ الْخَمِيرَ، وَلاَ أَلْبَسُ الْحَرِيرَ، وَلاَ يَخْدُمُنِي فُلاَنٌ وَلاَ فُلاَنَةُ، وَأُلْصِقُ بَطْنِي بِالْحَصْبَاءِ، وَأَسْتَقْرِئُ الرَّجُلَ الآيَةَ وَهْىَ مَعِي كَىْ يَنْقَلِبَ بِي فَيُطْعِمَنِي، وَخَيْرُ النَّاسِ لِلْمَسَاكِينِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، يَنْقَلِبُ بِنَا فَيُطْعِمُنَا مَا كَانَ فِي بَيْتِهِ، حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُخْرِجُ إِلَيْنَا الْعُكَّةَ لَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ، فَنَشْتَقُّهَا فَنَلْعَقُ مَا فِيهَا‏.

Narrated By Abu Huraira : I used to accompany Allah's Apostle to fill my stomach; and that was when I did not eat baked bread, nor wear silk. Neither a male nor a female slave used to serve me, and I used to bind stones over my belly and ask somebody to recite a Qur'anic Verse for me though I knew it, so that he might take me to his house and feed me. Ja'far bin Abi Talib was very kind to the poor, and he used to take us and feed us with what ever was available in his house, (and if nothing was available), he used to give us the empty (honey or butter) skin which we would tear and lick whatever was in it.

ہم سے عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا کہا مجھ کو محمد بن اسمٰعیل بن ابی فدیک نے انہوں نے ( محمد بن عبدالرحمٰن ) بن ابی ذئب سے انہوں نے ( سعید بن ابو سعید ) مقبری سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے انہوں نے کہا میں نبیﷺ کے ساتھ اسی لئےلگا رہتا تھا کہ پیٹ بھر ( آپ کی طفیل سے کہیں ) کھانا مل جائے یہ وہ زمانہ تھا جب خمیری روٹی ( کھانے کو نہ تھی ) اور نہ ریشمی کپڑا ( پہننے کو ) ملتا تھا نہ کوئی غلام تھا میرے پاس نہ کوئی لونڈی ہی ( اپنا کام آپ کرلیتا ) ( مارے بھوک کے بعضے وقت ) میں اپنا پیٹ کنکریوں سے لگا دیتا اور کسی شخص سے کہتا تم ذرا فلانی آیت تو مجھ کو سناؤ حالاں کہ وہ مجھ کو یاد ہوتی اس سے میری غرض یہ ہوتی کہ وہ مجھ کو ساتھ لے کر اپنے گھر کو لوٹے اور کھانا کھلا دے سب سے زیادہ محتاجوں سے سلوک کرنے والے جعفر بن ابی طالبؓ تھے وہ کیا کرتے ہم لوگوں کو اپنے گھر لے جاتے اور جو کچھ ان کے گھر میں ہوتا وہ کھلاتے کبھی ایسا ہوتا وہ ( اندر سے ) خالی کپی اٹھا لاتے ہم اس کو پھاڑ کر جو کچھ اس میں ہوتا چاٹ لیتے۔

33. باب الدُّبَّاءِ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى مَوْلًى لَهُ خَيَّاطًا، فَأُتِيَ بِدُبَّاءٍ، فَجَعَلَ يَأْكُلُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُهُ‏.

Narrated By Anas : Allah's Apostle went to (the house of) his slave tailor, and he was offered (a dish of) gourd of which he started eating. I have loved to eat gourd since I saw Allah's Apostle eating it.

ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا کہا ہم سے ازہر بن سعد نے انہوں نے عبداللہ بن عون سے انہوں نے ثمامہ بن انس سے انہوں نے اپنے دادا انس بن مالک سے کہ نبیﷺ اپنے ایک غلام کے پاس تشریف لے گئے جس کو آزاد کر دیا تھا وہ درزی کا پیشہ کرتا تھا آپ کے سامنے کدو لایا گیا تو آپ اس کو کھانے لگے انس کہتے ہیں جب سے میں نے آپ کو دیکھا آپ کدو ( اس طرح شوق ) سے کھاتے ہیں تو مجھ کو کدو سے محبت ہوگئی۔

34. باب الرَّجُلِ يَتَكَلَّفُ الطَّعَامَ لإِخْوَانِهِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كَانَ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ فَقَالَ اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ بَلْ أَذِنْتُ لَهُ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بنُ يُوسُفَ:سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بن اِسْمَاعِيلَ يَقُولُ:إِذَا كَانَ القَوْمُ على الماءدة إِلىَ ماءدةٍ أُخْرَى،وَلكِنْ يُنَاوِلُ بَعْضُهُم بَعْضًا في تِلكَ اَلمْاَءدَةِ أَو يَدَعُوا.

Narrated By Abu Mas'ud Al-Ansari : There was a man called Abu Shu'aib, and he had a slave who was a butcher. He said (to his slave), "Prepare a meal to which I may invite Allah's Apostle along with four other men." So he invited Allah's Apostle and four other men, but another man followed them whereupon the Prophet said, "You have invited me as one of five guests, but now another man has followed us. If you wish you can admit him, and if you wish you can refuse him." On that the host said, "But I admit him." Narrated Muhammad bin Isma'il: If guests are sitting at a dining table, they do not have the right to carry food from other tables to theirs, but they can pass on food from their own table to each other; otherwise they should leave it.

ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابووائل سے انہوں نے ابو مسعود انصاری سے انہوں نے کہا انصاری لوگوں میں ایک شخص تھا ابوشعیب اس کا ایک غلام تھا جو قصائی کا پیشہ کرتا تھا ( اس کا نام معلوم نہیں ہوا ) خیر ابوشعیب نے اس غلام سے کہا تو پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دے چار صحابی اور پانچویں رسول اللہﷺ کا ( میں نے دیکھا آپ کے چہرے پر بھوک کا نشان تھا ) پھر اس نے رسول اللہﷺ سمیت پانچ آدمیوں کو دعوت دی لیکن ایک چھٹا شخص بھی ہمارے ساتھ چلا گیا جب نبیﷺ ابوشعیب کے مکان پر پہنچے تو فرمایا ابو شعیب تو نے ہم پانچ آدمیوں کو دعوت دی تھی لیکن یہ ( چھٹا ) شخص بھی ہمارے ساتھ چلا آیا ہے اب تیرا اختیار ہے چاہے اس کو اذن دے چاہے نہ دے ( اس کو لوٹا دے ) ابوشعیب نے کہا میں نے اس کو اذن دیا ۔محمد بن یوسف نے کہا میں نے امام بخاری سے سُنا اگر کئی دسترخوان الگ الگ بچھے ہوں تو ایک دسترخوان والے دوسرے دسترخوان والے کے کوئی کھانا اٹھا کر نہیں دے سکتے البتہ ایک دسترخوان والے آپس میں ایک دوسرے کو دیں یا چھوڑدیں ۔

35. باب مَنْ أَضَافَ رَجُلاً إِلَى طَعَامٍ، وَأَقْبَلَ هُوَ عَلَى عَمَلِهِ

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ النَّضْرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى غُلاَمٍ لَهُ خَيَّاطٍ، فَأَتَاهُ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ وَعَلَيْهِ دُبَّاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أَجْمَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ـ قَالَ ـ فَأَقْبَلَ الْغُلاَمُ عَلَى عَمَلِهِ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ لاَ أَزَالُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ مَا صَنَعَ‏

Narrated By Anas : I was a young boy when I once was walking with Allah's Apostle. Allah's Apostle entered the house of his slave tailor and the latter brought a dish filled with food covered with pieces of gourd. Allah's Apostle started picking and eating the gourd. When I saw that, I started collecting and placing the gourd before him. Then the slave returned to his work. Anas added: I have kept on loving gourd since I saw Allah's Apostle doing what he was doing.

مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا انہوں نے نضر بن شمیل سے سنا کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی کہا مجھ کو ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے انہوں نے اپنے دادا انس بن مالک سے انہوں نے کہا ( رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ) میں چھوکرا ہوا کرتا تھا اور آپ کے ساتھ ( دعوت وغیرہ ) میں چلا جاتا تھا ایک بار ایسا ہوا رسول اللہﷺ اپنے ایک غلام کے پاس گئے جو درزی کا پیشہ کرتا تھا وہ ایک کھانے کا کٹورہ آپﷺ کے سامنے لایا اس میں ثرید تھا اور کدو کے قتلے رکھے ہوئے تھے رسول اللہﷺ کدو کے قتلے ( چاروں طرف کٹورے میں ) ڈھونڈنے لگے اس نے کہا میں یہ حال دیکھ کر سب قتلے ( کٹورے میں سے ) جمع کر کے آپ کے سامنے کرنے لگا اور غلام اپنے کام میں ( سینے پرونے میں ) لگ گیا انس کہتے ہیں جب سے میں نے رسول اللہﷺ کو کدو اس شوق سے کھاتے دیکھا تو مجھ کو کدو پسند ہوگیا آج تک برابر پسند ہے ۔

36. باب الْمَرَقِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَنَّ خَيَّاطًا، دَعَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَىِ الْقَصْعَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمِئِذٍ‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : A tailor invited the Prophet to a meal which he had prepared, and I went along with the Prophet. The tailor presented barley bread and soup containing gourd and cured meat. I saw the Prophet picking the pieces of gourd from around the dish, and since then I have kept on liking gourd.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ سے انہوں نے اپنے چچا انس بن مالکؓ سے کہ ایک درزی نے کھانا تیار کر کے نبیﷺ کو دعوت دی میں بھی آپ کے ساتھ گیا وہاں کھانا کیا تھا جو کی روٹی اور کدو کا شوربا اور سوکھا گوشت ۔ میں نے نبیﷺ کو دیکھا ۔آپ پیالے کے کناروں سے کدو کے قتلے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھا رہے تھے اس روز سے برابر مجھ کو کدو سے محبت ہو گئی ۔

37. باب الْقَدِيدِ

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ يَأْكُلُهَا‏.‏

Narrated By Anas : I saw the Prophet being served with soup and containing gourd and cured meat, and I saw him picking and eating the pieces of gourd.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالک نے انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کو دیکھا آپ کے سامنے شوربا آیا اس میں کدو تھا اور سوکھایا ہوا گوشت آپ کدو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے ۔


حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا فَعَلَهُ إِلاَّ فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ، أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَمَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مَنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلاَثًا‏.‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet did not do that (i.e., forbade the storage of the meat of sacrifices for three days) except (he did so) so that the rich would feed the poor. But later we used to keep even trotters to cook, fifteen days later. The family of Muhammad did not eat wheat bread with meat or soup to their satisfaction for three successive days.

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے انہوں نے اپنے والد ( عابس بن ربیعہ نخعی ) سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا آپ نے جو منع فرمایا تو یہ اس سال منع فرمایا جب لوگ بھوکے تھے آپ کا مطلب یہ تھا کہ مالدار لوگ محتاجوں کو ( گوشت ) کھلا دیں ( جوڑ نہ رکھیں ) اور ہم تو بکری کا پایہ اٹھا رکھتے پندرہ پندرہ دن کے بعد کھاتے رسول اللہﷺ کے گھر والوں نے کبھی تین دن برابر گہیوں کی روٹی اور سالن پیٹ بھر کر نہیں کھایا ۔

38. باب مَنْ نَاوَلَ أَوْ قَدَّمَ إِلَى صَاحِبِهِ عَلَى الْمَائِدَةِ شَيْئًا،

قَالَ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لاَ بَأْسَ أَنْ يُنَاوِلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَلاَ يُنَاوِلُ مِنْ هَذِهِ الْمَائِدَةِ إِلَى مَائِدَةٍ أُخْرَى‏

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ـ قَالَ أَنَسٌ ـ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ـ قَالَ أَنَسٌ ـ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوْلِ الصَّحْفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ‏.‏ وَقَالَ ثُمَامَةُ عَنْ أَنَسٍ، فَجَعَلْتُ أَجْمَعُ الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْهِ‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin Ja'far bin Abi Talib : I saw Allah's Apostle eating fresh dates with snake cucumber.

ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالک سے سنا وہ کہتے تھے ایک درزی نے کھانا تیار کرکے رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی انس کہتے ہیں میں بھی رسول اللہﷺ کے ساتھ گیا اس نے جو کی روٹی اور شوربا کدو کا اور سوکھا گوشت سامنے رکھا انس نے کہا میں نے دیکھا رسول اللہﷺ کٹورے کے کناروں سے کدو کے قتلےڈھونڈ ڈھونڈ کر لے رہے ہیں اس روز سے کدو مجھ کو پسند آگیا برابر اب تک پسند ہے ثمامہ کی روایت میں انسؓ سے یہ بھی ہے میں کدو کے قتلے آپﷺ کے سامنے اکٹھے کرنے لگا ۔

39. باب الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ‏

Narrated By Abu 'Uthman : I was a guest of Abu Huraira for seven days. Abu Huraira, his wife and his slave used to get up and remain awake for one-third of the night by turns. Each would offer the night prayer and then awaken the other. I heard Abu Huraira saying, "Allah's Apostle distributed dates among his companions and my share was seven dates, one of which was a Hashafa (a date which dried on the tree before it was fully ripe).

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم ابن سعد نے انہوں نے اپنے والد ( سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف ) سے انہوں نے عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب سے وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپ تر کھجور اور ککڑی ملا کر کھا رہے تھے ۔

40. باب

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا، فَكَانَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ يَعْتَقِبُونَ اللَّيْلَ أَثْلاَثًا، يُصَلِّي هَذَا، ثُمَّ يُوقِظُ هَذَا‏.‏ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنِ أَصْحَابِهِ تَمْرًا، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ‏. و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَنَا تَمْرًا فَأَصَابَنِي مِنْهُ خَمْسٌ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ وَحَشَفَةٌ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّهُنَّ لِضِرْسِي‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet distributed dates among us, and my share was five dates, four of which were good, and one was a Hashafa, and I found the Hashafa the hardest for my teeth.

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عباس بن فروخ جریری سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے کہا میں ابو ہریرہؓ کے پاس سات راتوں تک مہمان رہا وہ اور ان کی بیوی (بسرہ بنت غزوان ) اور ان کا غلام ( اس کا نام معلوم نہیں ہوا ) رات کو باری باری بیدار رہتے ہر ایک تہائی رات تک جاگتا رہتا نماز پڑھا کرتا پھر دوسرے کو جگا دیتا اور میں نے ابوہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے اپنے اصحابؓ کو کھجوریں تقسیم کیں تو میرے حصے میں بھی سات کھجوریں آئیں ان میں ایک خراب ( سخت ) کھجور تھی ۔ ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا کہا ہم سے اسمعیل بن زکریا نے انہوں نے عاصم احول سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے ہم لوگوں کو کھجوریں تقسیم کیں میرے حصے میں پانچ کھجور یں آئیں ان میں بھی ایک خراب ردی کھجور تھی وہ ردی ایسی سخت تھی کہ میرے دانتوں کو اس کا چبانا دشوار ہوگیا۔

‹ First23456