51. بابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَغَفَرَ لَهُ.
وَقَالَ : الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ : الْمَطْعُونُ ، وَالْمَبْطُونُ ، وَالْغَرِقُ ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "While a man was walking on the road, he found a thorny branch on the road, so he removed it. Allah appreciated that and forgave him." And he said: "The martyrs are five: The one who dies of the plague, the one who dies of a stomach disease, the one who drowns, the one who is crushed beneath a falling wall, and the martyr who is killed in the cause of Allah (glorified and exalted is He)."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ایک آدمی جارہا تھا کہ اس نے راستہ میں ایک کانٹے دار شاخ دیکھی تو اس کو راستہ سے ہٹادیا،اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کو قبول فرمایا اور اس کو بخش دیا۔پھر آپ ﷺنے فرمایا: شہداء پانچ ہیں : طاعون کی بیماری سے مرنے والا ،پیٹ کی بیماری میں مرنے والا ،ڈوبنے والا ، کسی چیز کے نیچے دب کر مرنے والا ، اور اللہ عزوجل کی راہ میں شہید ہونے والا۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، قَالَ : إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، قَالُوا : فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ، ؟ قَالَ : مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، قَالَ ابْنُ مِقْسَمٍ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِيكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ : وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Who do you consider to be the martyrs among you?' They said: 'O Messenger of Allah, the one who is killed in the cause of Allah is a martyr.' He said: 'Then the martyrs among my Ummah will be few.' They said: 'Then who are they, O Messenger of Allah?' He said: 'The one who is killed in the cause of Allah is a martyr, the one who dies in the cause of Allah is a martyr, the one who dies of plague is a martyr, and the one who dies of a stomach disease is a martyr."' Ibn Al-Miqsam said: "I bear witness that your father said in this Hadith: 'And the one who drowns is a martyr."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم کن کو شہید کہتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! جو آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے ، آپ ﷺنے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء قلیل تعداد میں ہوں گے ، صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے ، اور جو آدمی اللہ کی راہ میں مرجائے وہ شہید ہے ، اور جو آدمی طاعون میں مرجائے وہ شہید ہے ، اور جو آدمی پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مرجائے وہ شہید ہے ، ابن مقسم نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے والد نے یہ بھی کہا تھا: کہ غرق ہونے والا بھی شہید ہے۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ سُهَيْلٌ : قَالَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، أَشْهَدُ عَلَى أَخِيكَ أَنَّهُ زَادَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَمَنْ غَرِقَ فَهُوَ شَهِيدٌ.
Suhail said: "'Ubaidullah bin Miqsam said: 'I bear witness that your brother added in this Hadith: "The one who drowns is a martyr."
سہیل سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن مقسم نے کہا: میں آپ کے بھائی پر گواہی دیتا ہوں اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ جو غرق ہوجائے وہ شہید ہے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَزَادَ فِيهِ : وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ.
Suhail narrated it with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4942), and in his Hadith he said: "'Ubaidullah bin Miqsam narrated to me from Abu Salih, and he added: 'And the one who drowns is a martyr.'"
یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے ، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ جو آدمی ڈوب جائے وہ شہید ہے ۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : بِمَ مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : بِالطَّاعُونِ ، قَالَتْ : فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
It was narrated that Hafsah hint Sirin said: "Anas bin Malik said to me: 'Of what did Yahya bin Abi 'Amrah die?' I said: 'Of the plague."' She said: He (i.e., Anas) said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "The plague is martyrdom for every Muslim."
حضرت حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں: کہ مجھ سےحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: یحییٰ بن ابی عمرہ کس وجہ سے فوت ہوئے تھے ؟ میں نے کہا: طاعون سے ، انہوں نے کہا: کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: طاعون ہر مسلمان کی شہادت ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، بِمِثْلِهِ.
A similar report (as no. 4944) was narrated from 'Asim, with this chain of narration.
یہ حدیث ایک اور سند سے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مروی ہے ۔
52. باب فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} ، أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ، أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ، أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ.
'Uqbah bin 'Amir said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say, on the Minbar: 'And make ready against them all you can of power. Verily, power is shooting, verily power is shooting, verily power is shooting."'
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : کفار کے خلاف زیادہ سے زیادہ قوت حاصل کرو، اور جان لو! قوت صرف تیر اندازی کا نام ہے ، جان لو! قوت صرف تیر اندازی کا نام ہے، جان لو! قوت صرف تیر اندازی کا نام ہے۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرَضُونَ ، وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ ، فَلاَ يَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ.
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Lands will be conquered by you and Allah will suffice you, so no one of you should give up playing with arrows."'
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تم پر زمینیں فتح ہوں گے ، اور تمہارے لیے اللہ کافی ہے ، تو تم میں سے کوئی تیر اندازی کی مشق سے غافل نہ رہے۔
وحَدَّثَنَاهُ دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.
It was narrated that Abu 'Ali Al-Hamdani said: "I heard 'Uqbah bin 'Amir narrate from the Prophet (s.a.w)..." a similar report (as no. 4947).
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی ﷺسے اسی حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ ، قَالَ عُقْبَةُ : لَوْلاَ كَلاَمٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِيهِ ، قَالَ الْحَارِثُ : فَقُلْتُ لاِبْنِ شَمَاسَةَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ قَالَ : مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ، ثُمَّ تَرَكَهُ ، فَلَيْسَ مِنَّا ، أَوْ قَدْ عَصَى.
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Shumasah that Fuqaim Al-Lakhmi said to 'Uqbah bin 'Amir: "You go between these two targets but you are an old man, and it must be difficult for you." 'Uqbah said: "Were it not for some words that I heard from the Messenger of Allah (s.a.w), I would not trouble myself." Al-Harith said: "I said to Ibn Shumasah: 'Why was that?' He said: "He (s.a.w) said: 'Whoever learns archery then abandons it, he is not one of us, or, he has sinned."'
حضرت عبدالرحمن بن شماسہ سے روایت ہے کہ فقیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ آپ بوڑھے ہونے کے باوجود ان دو نشانیوں کے درمیان آتے جاتے ہیں آپ پر یہ دشوار ہوتا ہوگا تو عقبہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں یہ مشقت نہ اٹھاتا ۔ راوی حارث کہتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمن بن شماسہ سے پوچھا: وہ حدیث کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت عقبہ فرماتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے تیراندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے یا اس نے نافرمانی کی۔
53. باب قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ كَذَلِكَ. وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ: وَهُمْ كَذَلِكَ.
It was narrated that Thawban said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'A group of my Ummah will continue to prevail on the basis of the truth, and they will not be harmed by those who oppose them, until the decree of Allah comes to pass when they are like that."' In the Hadith of Qutaibah it does not say: "When they are like that."
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی، اور جو آدمی ان کو رسوا کرنا چاہے گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچاسکے گا، وہ اسی حال پر رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔اور قتیبہ کی حدیث میں "وھم کذلک" کے الفاظ نہیں ہیں۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ح) وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدَةُ ، كِلاَهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ (ح) وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَنْ يَزَالَ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ.
It was narrated that Al-Mughirah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Some people among my Ummah will continue to prevail over the people, until the decree of Allah comes to them while they are still prevailing.'"
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے " میری امت میں سے ایک جماعت لوگوں پر ہمیشہ غالب رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی اور وہ غالب ہی ہوں گے۔"
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: بِمِثْلِ حَدِيثِ مَرْوَانَ سَوَاءً.
Al-Mughirah bin Shu'bah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say..." a Hadith like that of Marwan (no. 4951).
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا، يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ.
It was narrated from Jabir bin Samurah that the Prophet (s.a.w) said: "This religion will continue to abide, and a group among the Muslims will continue to fight for it, until the Hour begins."
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس دین کی خاطر قیامت تک لڑے گی۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
Jabir bin 'Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'A group among my Ummah will continue to fight for the truth, prevailing until the Day of Resurrection."'
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق کی خاطر لڑے گی ، وہ لوگوں پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللهِ ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ ، أَوْ خَالَفَهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ.
'Umair bin Hani' said: "I heard Mu'awiyah on the Minbar saying: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "A group among my Ummah will continue to live by the command of Allah, and they will not be harmed by those who forsake them or oppose them, until the decree of Allah comes when they are still prevailing over the people."
عمیر بن ہانی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی ، جو آدمی بھی ان کو رسوا کرنا چاہے گا یا ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچاسکے گا ، وہ قیامت تک لوگوں پر غالب رہیں گے۔
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، وَهُوَ ابْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، ذَكَرَ حَدِيثًا رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِنْبَرِهِ حَدِيثًا غَيْرَهُ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَلاَ تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ ، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
Yazid bin Al-Asamm said: "I heard Mu'awiyah bin Abi Sufyan mention a Hadith that he narrated from the Prophet (s.a.w), and I did not hear him narrate any other lfadith from the Prophet (s.a.w) on his Minbar. He said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: "If Allah intends good for a person, He causes him to acquire a deep understanding of Islam. A group of Muslims will continue to fight in defense of the truth and to prevail over those who oppose them, until the Day of Resurrection."
یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ا یک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا جو میں نے کسی اور سے منبر پر نہیں سنی کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرمادیتا ہے ، مسلمانوں کا ایک جماعت ہمیشہ حق کی خاطر لڑےگی اور اپنے مخالفین پر قیامت تک غالب رہے گی۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيُّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ ، وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ ، هُمْ شَرٌّ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، لاَ يَدْعُونَ اللَّهَ بِشَيْءٍ إِلَّا رَدَّهُ عَلَيْهِمْ. فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، فَقَالَ لَهُ مَسْلَمَةُ : يَا عُقْبَةُ ، اسْمَعْ مَا يَقُولُ عَبْدُ اللهِ ، فَقَالَ عُقْبَةُ : هُوَ أَعْلَمُ ، وَأَمَّا أَنَا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لاَ تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَمْرِ اللهِ ، قَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ ، حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : أَجَلْ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا كَرِيحِ الْمِسْكِ مَسُّهَا مَسُّ الْحَرِيرِ ، فَلاَ تَتْرُكُ نَفْسًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنَ الإِيمَانِ إِلاَّ قَبَضَتْهُ ، ثُمَّ يَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ عَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ.
'Abdur-Rahman bin Shumasah Al-Mahri said: "I was with Maslamah bin Mukhallad, and 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As was also with him. 'Abdullah said: 'The Hour will not come except upon the worst of people, who are worse than the people of the Jahiliyyah. They will not ask Allah for anything but He will refuse their request.' While they were like that, 'Uqbah bin 'Amir came, and Maslamah said to him: 'O 'Uqbah, listen to what 'Abdullah is saying.' He said: 'He knows best; as for me, I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "A group of my Ummah will continue to fight to establish the command of Allah, continuing to defeat their enemies and not being harmed by those who oppose them until the Hour comes upon them when they are like that.'" 'Abdullah said: 'Yes, then Allah will send a wind like the fragrance of musk and with a touch like that of silk, and it will not leave any soul in whose heart is a grain of faith, but it will take it. Then the worst of people will be left, upon whom the Hour will come.'"
عبد الرحمن بن شماسہ مہری سے روایت ہے کہ میں مسلمہ بن مخلد کے پاس بیٹھا ہوا تھا او ران کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے ، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: قیامت صرف بدترین مخلوق پر قائم ہوگی ، وہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں سے بھی بدترین ہوں گے ، وہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کی بھی دعا کریں گے اللہ تعالیٰ اس کو رد کردے گا ، اسی گفتگو کے دوران حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے ، تو مسلمہ نے کہا: اے عقبہ ! سنیئے عبد اللہ کیا کہہ رہے ہیں: حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ زیادہ جانتے ہیں لیکن میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم کی خاطر جنگ کرے گی ، اور قیامت تک اپنے دشمنوں پر غالب رہے گی اور دشمنوں کی مخالفت ان کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں ، پھر اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس کی خوشبو کستوری کی طرح ہوگی اور چھونے میں ریشم کی طرح ہوگی ، اور جس کے دل میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ ہوا اس ایمان کو قبض کرلے گی ، پھر بدترین لوگ رہ جائیں گے او رانہیں لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَزَالُ أَهْلُ الْغَرْبِ ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ.
It was narrated that Sa'd bin Abi Waqqas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The people of the Gharb will continue to prevail on the basis of the truth until the Hour begins.'"
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: " اہل غرب (مغرب والے) ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی"۔
نوٹ: اھل الغرب: اس لفظ کے معنی میں اختلاف ہے ، اور صحیح یہی ہے کہ اس سے مراد شام والے ہیں کیونکہ شام مدینہ منورہ کے مغرب میں واقع ہے۔
54. بابُ مُرَاعَاةِ مَصْلَحَةِ الدَّوَابِّ فِي السَّيْرِ وَالنَّهْيِ عَنِ التَّعْرِيسِ فِي الطَّرِيقِ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ ، فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الأَرْضِ ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ ، فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ ، فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If you are traveling in fertile land, then give the camels their share of the land; if you are traveling in arid land, then hasten to pass through it. And if you make a halt at the end of the night, avoid (camping in) the road, for it is the abode of the vermin of the night."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ہریالی کے موسم میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حصہ زمین سے دو،اور جب تم خشک سالی کے موسم میں سفر کرو تو زمین سے جلدی گزرو اور جب تم اخیر شب میں قیام کرو تو راستے میں ٹھہرنے سے اجتناب کرو کیونکہ وہ جگہ رات میں حشرات الارض کی آماجگاہ ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ ، فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الأَرْضِ ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ ، فَبَادِرُوا بِهَا نِقْيَهَا ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ ، فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ ، فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ ، وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "If you are traveling in fertile land, then give the camels their share of the land, and if you are traveling in arid land, then hasten to cross it. And if you make a halt at the end of the night, avoid (camping in) the road, for it is the pathway of wild animals and the abode of the vermin of the night."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ہریالی کے موسم میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حصہ زمین سے دو،اور جب تم خشک سالی کے موسم میں سفر کرو تو تیز چلو، اور جب تم اخیر شب میں قیام کرو تو راستے میں ٹھہرنے سے پرہیز کرو کیونکہ وہ جگہ رات میں جانوروں اور حشرات الارض کی آماجگاہ ہوتی ہے۔
55. باب السَّفَرِ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ الْمُسَافِرِ إِلَى أَهْلِهِ بَعْدَ قَضَاءِ شُغْلِهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ، وَمَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ (ح) وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ ، حَدَّثَكَ سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ ، فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ ، قَالَ: نَعَمْ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Travel is a kind of torment. It deprives one of you of his sleep, food and drink. When one of you has completed his business, let him hasten back to his family."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے کیونکہ وہ تمہیں سونے ، کھانے ، پینے سے روک دیتا ہے ، اور جب تم سے کوئی اپنا کام پورا کرلے تو اپنے گھر واپس آنے میں جلدی کرے۔
56. باب كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلاً لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لاَ يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلاً ، وَكَانَ يَأْتِيهِمْ غُدْوَةً ، أَوْ عَشِيَّةً.
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) did not come to his family at night; he used to come to them in the morning or afternoon.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس رات کے وقت نہیں آتےتھے بلکہ آپﷺ ان کے پاس صبح یا شام تشریف لاتے تھے۔
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ لاَ يَدْخُلُ.
A similar report (as no. 4962) was narrated from Anas bin Malik, from the Prophet (s.a.w), but he said: "He did not enter upon..."
ایک اور سند سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں " لا يطرق " کی جگہ " لا یدخل " ہے۔
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ (ح) وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ ، فَقَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلاً ، أَيْ عِشَاءً ، كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ.
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "We were with the Messenger of Allah (s.a.w) on a campaign, and when we came to Al-Madinah, we want to enter (the city) and he said: 'Slow down so that we will enter at night, i.e., in the evening, so that the disheveled one may comb her hair and the one whose husband has been away may remove her pubes."'
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے شہر میں داخل ہونا شروع کیا تو آپﷺ نے فرمایا ٹھہرجاؤ یہاں تک کہ ہم رات یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں گے تاکہ جس عورت کے بال بکھرے ہوئے ہیں وہ اپنے بالوں میں کنگھی کر لے اور جس عورت کا خاوند غائب تھا وہ اپنے زیر ناف بال صاف کرلے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلاً ، فَلاَ يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا ، حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ، وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ.
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If one of you comes at night, let him not enter upon his family at night, until the one whose husband has been away has removed her pubes and the one who is disheveled has combed her hair."'
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے شہر میں داخل ہونا شروع کیا تو آپﷺ نے فرمایا ٹھہرجاؤ یہاں تک کہ ہم رات یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں گے تاکہ جس عورت کے بال بکھرے ہوئے ہیں وہ اپنے بالوں میں کنگھی کر لے اور جس عورت کا خاوند غائب تھا وہ اپنے زیر ناف بال صاف کرلے۔
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
Shu'bah narrated, Sayyar narrated a similar Hadith (as no. 4965) with this chain of narration.
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَطَالَ الرَّجُلُ الْغَيْبَةَ، أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا.
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade a man, if he had been away for a long time, to come to his family at night."
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی گھر سے طویل المدت غیرحاضر رہنے کے بعد اچانک رات کو اپنے گھر آجائے۔
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
Shu'bah narrated it with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4967).
یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے ۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلاً يَتَخَوَّنُهُمْ ، أَوْ يَطْلُبُ عَثَرَاتِهِمْ.
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade a man to come to his family at night, doubting their fidelity and seeking out their lapses."
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی رات کو گھر آئے اور گھر کے حالات کا تجسس کرے ، یا گھر والوں کی کمزوریوں کو تلاش کرے۔
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : قَالَ سُفْيَانُ : لاَ أَدْرِي هَذَا فِي الْحَدِيثِ أَمْ لاَ ، يَعْنِي أَنْ يَتَخَوَّنَهُمْ ، أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ.
Sufyan narrated with this chain of narration that 'Abdur-Rahman said: "Sufyan said: 'I do not know whether this is part of the Hadith or not,' i.e., (the words) 'doubting their fidelity and seeking out their lapses."'
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے ، اس میں راوی عبد الرحمن نے کہا: سفیان نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ الفاظ حدیث میں موجود ہیں یا نہیں " گھر کے حالات کا تجسس کرے یا گھر والوں کی کمزوریوں کو تلاش کرنے شروع کردے"۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ (ح) وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالاَ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَرَاهَةِ الطُّرُوقِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : يَتَخَوَّنُهُمْ ، أَوْ يَلْتَمِسُ عَثَرَاتِهِمْ.
It was narrated from Jabir, from the Prophet (s.a.w), that it is disliked to come at night, but he did riot say, "doubting their fidelity and seeking out their lapses."
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺسے اچانک رات کو گھر آنے کی کراہت نقل کرتے ہیں اور اس حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں گھر کے حالات کا تجسس کرے اور گھر والوں کی کمزوریاں ڈھونڈنا شروع کرے۔