31. باب بَيَانِ مَا أَعَدَّهُ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمُجَاهِدِ فِي الْجَنَّةِ مِنَ الدَّرَجَاتِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِىُّ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِىَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ». فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ أَعِدْهَا عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ « وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِى الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ». قَالَ وَمَا هِىَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « الْجِهَادُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ ».
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "O Abu Sa'eed, whoever is content with Allah as his Lord, Islam as his religion and Muhammad (s.a.w) as his Prophet, Paradise is guaranteed for him." Abu Sa'eed wondered at that, and said: "Say it to me again, O Messenger of Allah." He did that, then he said: "And there is something else by means of which a person will be raised one hundred levels in Paradise, and the distance between each two levels is like the distance between heaven and earth." He said: "What is it, O Messenger of Allah?" He said: "Jihad in the cause of Allah, Jihad in the cause of Allah."
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے ابو سعید ! جو آدمی اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوگیا اور اسلام کے دین اور محمد ﷺکے نبی ہونے پر راضی ہوگیا ، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، حضرت ابو سعید کو یہ بات اچھی لگی تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس بات کو دوبارہ دہرائیں ، آپﷺنے دوبارہ اسی طرح فرمایا: پھر فرمایا: ایک بات اور بھی ہے جس کی وجہ سے بندے کے سو درجات بلند ہوتے ہیں اور ہر دو درجوں میں زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! وہ درجہ کس چیز سے ملتا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ ، جہاد فی سبیل اللہ۔
32. باب مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُفِّرَتْ خَطَايَاهُ إِلاَّ الدَّيْنَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى قَتَادَةَ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ « أَنَّ الْجِهَادَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَالإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ ». فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّى خَطَايَاىَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ». ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كَيْفَ قُلْتَ ». قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّى خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلاَّ الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ لِى ذَلِكَ ».
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah (s.a.w) stood up before them and said to them: "Jihad in the cause of Allah and faith in Allah are the best of deeds." A man stood up and said: "O Messenger of Allah, do you think that if I am killed in the cause of Allah, my sins will be expiated?" The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Yes, if you are killed in the cause of Allah and you are patient and seek reward, facing (the enemy) and not turning away." Then the Messenger of Allah (s.a.w) said: "What did you say?" He said: "Do you think that if I am killed in the cause of Allah, my sins will be expiated?" The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Yes, if you are killed in the cause of Allah and you are patient and seek reward, facing (the enemy) and not turning away, except debt, for Jibril, told me that."
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے صحابہ کرام میں کھڑے ہوکر یہ فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا تمام اعمال میں افضل ہے ، ایک آدمی نے کھڑے ہوکر کہا: اے اللہ کے رسو ل ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف ہوجائیں گے ؟، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہاں ! اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کیے جاؤ اس حال میں تم صبر کرنے والے ہو، ثواب کی نیت رکھنے والے ہو، پیٹھ پھیرنے والے نہ ہو، پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے عرض کیا : میں نے کہا تھا: اگر میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف ہوجائیں گے ؟ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: ہاں اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے ہو، اور ثواب کی نیت رکھنے والے ہو، آگے بڑھ کر حملہ کرنے والے ہو، اور پیٹھ پھیرنے والے نہ ہو، تو قرض کے علاوہ تمام باقی گناہ معاف کردیے جائیں گے ، کیونکہ حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھے یہ ابھی بتایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى - يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ.
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: "A man came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: 'Do you think that if I am killed in the cause of Allah...?"' A Hadith like that of Al-Laith (no. 4881 ).
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِى. بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمَقْبُرِىِّ.
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah, from his father, that a man came to the Prophet (s.a.w) when he was on the Minbar and said: "Do you think that if I strike with my sword...?" A Hadith like that of Al-Maqburi (no. 4881).
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں آپ ﷺ منبر پر تھے ، اس نے کہا: مجھے بتلائیے کہ اگر میں اپنی تلوار سے قتل کیا جاؤں ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ - يَعْنِى ابْنَ فَضَالَةَ - عَنْ عَيَّاشٍ - وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِىُّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلاَّ الدَّيْنَ ».
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The martyr will be forgiven for everything, except debt."
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: شہید کے تمام گناہ معاف کریئے جاتے ہیں سوائے قرض کے۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى أَيُّوبَ حَدَّثَنِى عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِىُّ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْقَتْلُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَىْءٍ إِلاَّ الدَّيْنَ ».
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al, As that the Prophet (s.a.w) said: "Being killed in the cause of Allah expiates everything, except debt."
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: اللہ کے راستے میں قتل ہوجانا تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے ماسوائے قرض کے ۔
33. باب فِي بَيَانِ أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَّهُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ (وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ) قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ « أَرْوَاحُهُمْ فِى جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِى إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلاَعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَىَّ شَىْءٍ نَشْتَهِى وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِى أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِى سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى. فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا ».
It was narrated that Masruq said: "We asked 'Abdullah bin Mas'ud about this Verse: 'Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.' He said: 'We also asked about that, and he (the Prophet (s.a.w)) said: "Their souls are in the crops of green birds, which have lamps hanging from the Throne, and they roam freely wherever they want in Paradise, then they return to those lamps. Their Lord looked down upon them and said: 'Do you desire anything?' They said: 'What could we desire, when we can roam freely wherever we want in Paradise?' He (s.a.w) did that with them three times, and when they saw that they would not be left without being asked, they said: 'O Lord, we want You to restore our souls to our bodies so that we may be killed in Your cause again.' When He saw that they had no need, they were left alone."
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی ، لوگ اللہ کے راستے میں مارے جاتے ہیں ان کو مردہ خیال مت کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے بھی اس کو رسول اللہﷺسے دریافت کیا تھا، آپﷺنے فرمایا: ان کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں رہتی ہیں، ان کے لیے عرش میں قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں چرتی پھرتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کا رب ان کی طرف مطلع ہوکر فرماتا ہے ، کیا تم کو کسی چیز کی خواہش ہے ؟ وہ کہتے ہیں : ہمیں کس چیز کی خواہش ہوسکتی ہے ، ہم جہاں چاہیں جنت میں چرتے پھر تے ہیں ، ان سے تین بار اللہ تعالیٰ یہ دریافت کرتے ہیں کہ پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کو سوال کے بغیر نہیں چھوڑا جارہا تو وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے یہاں تک کہ ہم دوبارہ تیری راہ میں قتل کیے جائیں ، پھر جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ ان کو کوئی حاجت نہیں ہے تو پھر ان کو چھوڑ دیا جائے گا۔
34. باب فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ: رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ رَبَّهُ ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that a man came to the Prophet (s.a.w) and said: "Which of the people is best?" He said: "A man who strives in Jihad in the cause of Allah with his wealth and his self." He said: "Then who?" He said: "A believer in a mountain pass who worships Allah his Lord, and spares the people from his evil."
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسو ل اللہﷺکی خدمت میں آیا اور سوال کیا : کہ لوگوں میں سب سے افضل آدمی کون ہے ؟ آپﷺنے فرمایا : جو آدمی اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کرتا ہے ، اس نے پوچھا : اس کے بعد کو ن افضل ہے ؟آپﷺنے فرمایا: وہ مومن جو پہاڑ کی گااٹیوں میں سے کسی گاوٹی میں رہتا ہو، وہ لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے اور اپنے رب کی عبادت کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ يَا رَسُولَ اللهِ! ، قَالَ: مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.
It was narrated that Abu Sa'eed said: "A man said: 'Which of the people is best, O Messenger of Allah?' He said: 'A believer who strives in Jihad with his self and his wealth, in the cause of Allah.' He said: 'Then who?' He said: 'Then a man who withdraws into a mountain pass, worshiping his Lord and sparing the people from his evil."'
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں سب سے زیادہ بہتر کو ن ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: مومن جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے ، اور اس نے پوچھا : پھر کون افضل ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: وہ آدمی جو پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں تنہا بیٹھ کر اللہ کو یاد کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، فَقَالَ: وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ، وَلَمْ يَقُلْ: ثُمَّ رَجُلٌ.
It was narrated from Ibn Shihab with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4887). He said: "A man in a mountain pass," and he did not say, "then a man."
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ ہے " و رجل فی شعب" اور " ثم رجل " نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَعْجَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ، رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، يَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ، كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً، أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ، يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ، أَوْ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشَّعَفِ، أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الأَوْدِيَةِ، يُقِيمُ الصَّلاَةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ، لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلاَّ فِي خَيْرٍ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Among the best of lives is that of a man who holds the reins of his horse, (ever ready) to march in the cause of Allah, flying on its back every time he hears the shout at the approach of the enemy, or a cry of alarm, seeking to be killed or to die at places where such can be expected. Or, a man who lives with his sheep at the top of one of these mountains or in the bottom of one of these valleys, establishing regular prayer, paying Zakat and worshiping his Lord till the inevitable (i.e., death) comes to him and there is nothing between him and the people except good (i.e., he is on good terms with everyone)."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: لوگوں کی بہترین زندگی کا طریقہ یہ ہے کہ ایک آدمی اللہ کی راہ میں گھوڑے کی لگام پکڑ کر اس کی پیٹھ پر اڑا جارہا ہو جس طرف دشمن کی آہٹ یا خوف محسوس کرے اسی طرح گھوڑے کا رخ کردے، اور قتل یا موت کی تلاش میں نکل جائے ، یا اس آدمی کی زندگی بہتر ہے جو چند بکریاں لیکر پہاڑ کی کسی چوٹی یا کسی وادی میں نکل جائے ، وہاں نماز پڑھے ، زکاۃ ادا کرے ، او راپنے رب کی عبادت کرے یہاں تک کہ اسی حال میں اس کو موت آئے اور بھلائی کے سوا وہ لوگوں کے کسی معاملہ میں نہ پڑے۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، وَيَعْقُوبُ ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ، وَقَالَ: فِي شِعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ ، خِلاَفَ رِوَايَةِ يَحْيَى.
A similar report (as no. 4889) was narrated from Abu Hazim with this chain of narration. He said: "From Ba'jah bin 'Abdullah bin Badr," and he said: "In one of these mountain passes," unlike the report of Yahya.
ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے ، اور اس میں " من ھذہ الشعاب " کا لفظ ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ بَعْجَةَ ، وَقَالَ: فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ.
A Hadith like that of Abu Hazim (no. 4890) was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w), and he said: "In one of the mountain passes."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے اور اس میں یہ ہے " فی شعب من الشعاب " کے الفاظ ہیں۔
35. باب بَيَانِ الرَّجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ يَدْخُلاَنِ الْجَنَّةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ ، يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاَهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، فَقَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ ، ؟ قَالَ : يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ ، فَيُسْلِمُ ، فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah will laugh at two men, one of whom kills the other, and both of whom will enter Paradise." They said: "How is that, O Messenger of Allah?" He said: "One fights in the cause of Allah and is martyred, then Allah turns in forgiveness to the one who killed him as he becomes Muslim, and he fights in the cause of Allah and is martyred."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے ، کیونکہ ایک آدمی دوسرے کو قتل کرے گا ، اور یہ دونوں جنت میں داخل ہوجائیں گے ، صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسولﷺ! یہ کیسے ہوگا ؟ آپﷺنےفرمایا: ایک آدمی اللہ کے راستے میں لڑے گا پھر اس کو شہید کیا جائے گا،پھر اللہ تعالیٰ اس کے قاتل کو توبہ کی توفیق دے گا ، وہ اسلام قبول کرکے اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرے گا ، اور شہید ہوجائے گا ۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 4892) was narrated from Abu Az-Zinnad with this chain of narration.
ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاَهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ ، ؟ قَالَ: يُقْتَلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الآخَرِ ، فَيَهْدِيهِ إِلَى الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَيُسْتَشْهَدُ.
It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Hurairah narrated from the Messenger of Allah (s.a.w)," - and he mentioned a number of Ahadith, including the following: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah will laugh at two men, one of whom killed the other, both of whom will enter Paradise.' They said: 'How is that, O Messenger of Allah?' He said: 'One fought and entered Paradise, then Allah turned in forgiveness to the other, and guided him to Islam, then he fought in Jihad in the cause of Allah and was martyred."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے ، ان میں ایک آدمی دوسرے کو قتل کرے گا ، اور یہ دونوں جنت میں داخل ہوجائیں گے ، صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسولﷺ! یہ کیسے ہوگا ؟ آپﷺنےفرمایا: یہ آدمی قتل کیا جائے گا ، اور وہ جنت میں داخل ہوگا ، پھر اللہ تعالیٰ اس دوسرے آدمی کو اسلام کی ہدایت دے گا، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا اور شہید کردیا جائے گا۔
36. باب مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ يَجْتَمِعُ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "No disbeliever and his killer will ever be together in Hell.''
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: کافر اور اس کو قتل کرنے والا مسلمان جہنم میں کبھی بھی جمع نہیں رہیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلاَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا الآخَرَ ، قِيلَ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ ، ؟ قَالَ: مُؤْمِنٌ قَتَلَ كَافِرًا ، ثُمَّ سَدَّدَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'No two people will be together in Hell in such a way that one harms the other.' It was said: 'Who are they, O Messenger of Allah?' He said: 'A believer who kills a disbeliever then keeps to the right path."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: دو آدمی جہنم میں اس طرح جمع نہیں ہوں گے کہ ایک آدمی دوسرے کو نقصان پہنچائے ، عرض کیا گیا :اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: مومن جو کسی کافر کو قتل کرنے کے بعد نیکی پر قائم رہے۔
37. باب فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَتَضْعِيفِهَا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ ، فَقَالَ: هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِئَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ.
It was narrated that Abu Mas'ud Al-Ansari said: "A man brought a bridled she-camel and said: 'This is (given) in the cause of Allah.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'On the Day of Resurrection you will have seven hundred she-camels in return; all of which will be bridled."'
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اونٹنی کی مہار پکڑ کر لایا اور کہنے لگا : یہ اللہ کے راستے میں ہے،تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: آپ کو قیامت کے دن اس کے بدلے سات سو اونٹنیاں ملیں گی اور سب کے سب نکیل ڈلی ہوں گیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ (ح) وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Al-A'mash with this chain of narration (a similar Hadith as no. 4987).
یہ حدیث ایک اورسندسے بھی مروی ہے۔
38. باب فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ وَخِلاَفَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي ، فَقَالَ:
مَا عِنْدِي ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ.
It was narrated that Abu Mas'ud Al-Ansari said: "A man came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: 'My mount has died, give me a mount.' He said: 'I do not have anything.' A man said: 'O Messenger of Allah, I will tell him about someone who will give him a mount.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The one who tells another about something good is like the one who does it."'
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبیﷺکی خدمت میں آکر عرض کیا :اے اللہ کے رسولﷺ! میرا جانور ضائع ہوگیا ، آپ مجھے کسی جانور پر سوار کردیجئے ، آپﷺنے فرمایا: میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے ، ایک آدمی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپﷺکو ایسا آدمی بتاتا ہوں جو ان کو سوار کردے گا ، آپﷺنے فرمایا: جو آدمی کسی نیکی کا راستہ بتائے گا ، اس کو بھی نیکی کرنے والے کا اجر ملے گا۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ (ح) وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Al-A'mash with this chain of narration (a similar Hadith as no. 4999).
یہ حدیث دو اورسندوں سے اسی طرح مروی ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْغَزْوَ وَلَيْسَ مَعِي مَا أَتَجَهَّزُ ، قَالَ: ائْتِ فُلاَنًا ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ ، فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ ، وَيَقُولُ : أَعْطِنِي الَّذِي تَجَهَّزْتَ بِهِ ، قَالَ : يَا فُلاَنَةُ ، أَعْطِيهِ الَّذِي تَجَهَّزْتُ بِهِ ، وَلاَ تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا ، فَوَاللَّهِ ، لاَ تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا ، فَيُبَارَكَ لَكِ فِيهِ.
It was narrated from Anas bin Malik that a young man of Aslam said: "O Messenger of Allah, I want to go out to fight but I do not have the means to equip myself." He said: "Go to so-and-so, for he has equipped himself but has fallen sick." He went to him and said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sends greetings of Salam to you, and he said to give me that with which you had equipped yourself." He said: "O so-and-so (to his wife), give him that with which I had equipped myself, and do not withhold anything from him, for by Allah, if you withhold anything it will not be blessed for you."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کے ایک جوان نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ!میں جہاد کا ارادہ کرتا ہوں لیکن میرے پاس جہاد کا سامان نہیں ہے ، آپﷺنے فرمایا: فلان آدمی کے پاس جاؤ اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہوگیا ،وہ آدمی اس کے پاس گیا اور کہا: رسول اللہﷺنے آپ کو سلام کہا ہے ، اور فرمایا: کہ آپ مجھے وہ سامان دے دیں جو آپ نے (جہاد) کے لیے تیار کیا ہے اور اس میں سے کوئی چیز اپنے پاس مت رکھو۔ اس نے کہا: اے فلانی ! اس کو وہ تمام چیزیں دو جو میں نے تیار کی ہیں اور اس میں سے کوئی چیز مت روکو، اللہ کی قسم ! اگر تم نے اس میں کوئی بھی چیز اپنے پاس رکھی تو اس میں برکت نہیں ہوگی۔
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، وقَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَقَدْ غَزَا ، وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ ، فَقَدْ غَزَا.
It was narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhani that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever equips a warrior in the cause of Allah, has participated in the battle, and whoever looks after his family has participated in the battle."
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کو سامان مہیا کیا اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر کی اچھی طرح دیکھ بھال کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا ، فَقَدْ غَزَا ، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ ، فَقَدْ غَزَا.
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said: "The Prophet of Allah (s.a.w) said: 'Whoever equips a warrior in the cause of Allah, has participated in the battle, and whoever looks after a warrior's family has participated in the battle."'
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جس نے کسی مجاہد کے لیے سامان مہیا کیا اس نے بھی جہاد کیا، اور جس نے مجاہد کے گھر کی دیکھ بھال کی ا س نے بھی جہاد کیا۔
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لَحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ ، فَقَالَ : لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا ، وَالأَجْرُ بَيْنَهُمَا.
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (s.a.w) sent a troop to Banu Lihyan, from Hudhail, and said: "Let one man out of every two join the expedition, and the reward will be shared between them both."
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ہذیل کی ایک شاخ بنو لحیان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا اور فرمایا: ہر دو مردوں میں سے ایک مرد نکلے اور ثواب دونوں کوملے گا۔
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ بَعَثَ بَعْثًا بِمِثْلِهِ.
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) sent out a troop... a similar report (as no. 4904).
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک لشكر روانہ کیا : اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
A similar report (as no. 4904) was narrated from Yahya with this chain of narrators.
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ.
It was narrated from Yazid bin Abi Sa'eed, the freed slave of Al-Mahri, from his father, from Abu Sa'eed Al-Khudri, that the Messenger of Allah (s.a.w) sent a troop to Banu Lihyan and said: "Let one man out of every two go out," then he said to those who stayed behind: "Whichever of you stays behind and looks after the family and property of the one who goes out, will have half of the reward of the one who goes out."
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی نکلے اور فرمایا: تم میں سے جو آدمی بھی جانے والے کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کے لیے اور اس کے مال کی نگہبانی کے لیے بیٹھے گا اس کو جہاد پر جانے والے آدمی کا آدھا اجر ملے گا۔
39. بابُ حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ وَإِثْمِ مَنْ خَانَهُمْ فِيهِنَّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنْ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ فَمَا ظَنُّكُمْ ؟.
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The sanctity of the wives of the Mujahidin for those who stay behind is like the sanctity of their own mothers. There is no man among those who stay behind who looks after the family of one of the Mujahidin and then betrays him with regard to them, but he will be made to stand on the Day of Resurrection, and he (the Mujahid) will take as much of his good deeds as he wishes; so what do you think?'"
حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: گھروں میں بیٹھنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی عزت ان کی ماؤں کی عزت کی طرح ہے اور بیٹھنے والوں میں سے جو مجاہدین کے گھر کی دیکھ بھال کرے پھر اس میں خیانت کرے تو اس کو قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کے عمل میں سے جو چاہے گا لے لے گا، اب تمہارا کیا خیال ہے؟
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "The Prophet (s.a.w) said..." a Hadith like that of Ath-Thawri (no. 4908).
حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَعْنَبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَقَالَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَمَا ظَنُّكُمْ ؟.
It was narrated from 'Alqamah bin Marthad with this chain of narration (a similar Hadith as no. 4908), and he said: "The Messenger of Allah (s.a.w) turned to us and said: 'What do you think?"'
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس میں یہ ہے کہ مجاہد سے کہا جائے گا کہ تم اس کی نیکیوں میں سے جو چاہو لے لو، پھر رسول اللہﷺنے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اب تمہارا کیا خیا ل ہے؟
40. باب سُقُوطِ فَرْضِ الْجِهَادِ عَنِ الْمَعْذُورِينَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ يَقُولُا فِي هَذِهِ الْآيَةِ{ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ }وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ يَكْتُبُهَا فَشَكَا إِلَيْهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ فَنَزَلَتْ{ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ } قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ{ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ }بِمِثْلِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي رِوَايَتِهِ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.
It was narrated from Abu Ishaq that he heard Al-Bara' say concerning the Verse: "Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled (by injury or are blind or lame), and those who strive hard and fight in the Cause of Allah." The Messenger of Allah (s.a.w) ordered Zaid to bring a shoulder blade and he wrote it down. Ibn Umm Maktum complained to him about his being blind, and it was revealed: "Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled (by injury or are blind or lame), and those who strive hard and fight in the Cause of Allah. Shu'bah said: "Sa'd bin Ibrahim told me, from a man, from Zaid bin Thabit, concerning this Verse: 'Not equal are those of the believers who sit (at home)...;' a Hadith like that of Al-Bara'. And Ibn Bash-shar said in his report: "Sa'd bin Ibrahim, from his father, from a man, from Zaid bin Thabit."
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت کریمہ : " گھر بیٹھنے والے مسلمان اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مسلمان برابر نہیں ہیں " کی تفسیر میں حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺنے حضرت زید بن ثابت کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک شانہ کی ہڈی لیکر آئیں اور اس پر یہ آیت لکھ دیں ، اس وقت حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنی نابینائی کی شکایت کی ، تب اس آیت کے بعد "غیر اولی الضرر" "معذوروں کے علاوہ "یہ الفاظ نازل ہوئے ، ایک اورسند کے ساتھ حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے بھی اس آیت کی تفسیر میں اسی کی مثل مروی ہے ، حضرت زید بن ثابت سے ایک اور سند سے بھی یہی روایت ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ { لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ }كَلَّمَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَنَزَلَتْ{ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ }.
It was narrated that Al-Bara' said: "When the Verse: 'Not equal are those of the believers who sit (at home)..., was revealed, Ibn Umm Maktum spoke to him, then the words: '...except those who are disabled (by injury or are blind or lame)...' were revealed.
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " گھر بیٹھنے والے مسلمان (جہاد کرنے والے مسلمانوں) کے برابر نہیں ہیں " تو حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے آپﷺ سے بات کی ، تب جاکر غیر اولی الضرر کے الفاظ نازل ہوئے ،، یعنی معذوروں کے علاوہ۔