- احادیثِ نبوی ﷺ

 

1234Last ›

11. باب الأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ ظُلْمِ الْوُلاَةِ وَاسْتِئْثَارِهِمْ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَلاَ بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ أَلاَ تَسْتَعْمِلُنِى كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلاَنًا فَقَالَ « إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِى أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِى عَلَى الْحَوْضِ ».

It was narrated from Usaid bin Hudair that a man from among the Ansar took the Messenger of Allah (s.a.w) aside and said: "Will you not appoint me as you appointed so-and-so?" He said: "You will encounter selfishness after I am gone, so be patient until you meet me at the Cistern."

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے رسول اللہﷺسے تنہائی میں عرض کیا : کیا آپ مجھے عامل بناکر نہیں بھیجتے ؟جس طرح آپ نے فلاں آدمی کو عامل بنایا ہے ، آپﷺنے فرمایا: میرے بعد تم کو اپنے اوپر ترجیح کا سامنا ہوگا ، تم اس پر صبر کرنا یہاں تک تمہاری ملاقات مجھ سے حوض کوثر پر ہو۔


وَحَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَلاَ بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

It was narrated that Qatadah said: "I heard Anas narrating from Usaid bin Hudair that a man from among the Ansar took the Messenger of Allah (s.a.w) aside..." a similar report (as no. 4779).

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے رسول اللہﷺسے تنہائی میں عرض کیا اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ خَلاَ بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

Shu'bah narrated it with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4779), but he did not say: "He took the Messenger of Allah (s.a.w) aside."

ایک اور سند سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے ، اس میں راوی نے یہ نہیں کہا: کہ اس نے رسو ل اللہﷺسے تنہائی میں عرض کیا۔

12. باب فِي طَاعَةِ الأُمَرَاءِ وَإِنْ مَنَعُوا الْحُقُوقَ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِىُّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فِى الثَّانِيَةِ أَوْ فِى الثَّالِثَةِ فَجَذَبَهُ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ « اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ».

It was narrated from 'Alqamah bin Wa'il Al-Hadrami that his father said: Salamah bin Yazid Al-Ju'fi asked the Messenger of Akkah (s.a.w): "O Messenger of Allah, what do you think, if there are appointed over us rulers who demand their rights and withhold our rights, what do you command us to do?" He turned away from him, then he asked him again and he turned away from him, then when he asked him the second or third time, Al-Ash'ath bin Qais pulled him aside and he said: "Listen and obey, for on them will be their burden and on you will be your burden."

علقمہ بن وائل حضرمی اپنے والد سے روایت کرتےہیں کہ سلمیٰ بن یزید جعفی نے رسو ل اللہﷺسے پوچھا: اے اللہ کے نبیﷺ!یہ بتلائیں کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مسلط ہوں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتےہیں ؟ آپﷺنے اس سائل سے اعراض کیا، اس نے دوبارہ پوچھا توآپﷺنے پھر اعراض کیا ، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس نے کھینچ لیا، آپﷺنے فرمایا: سنواور اطاعت کرو، کیونکہ ان پر ان کا بوجھ اور تمہارے اوپر تمہارا بوجھ ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ فَجَذَبَهُ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ».

Shu'bah said: "Al-Ash'ath bin Qais pulled him aside and the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Listen and obey, for on them be their burden and on you will be your burden."

ایک اور سند سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اور اس میں ہے ک اشعث بن قیس نے سائل کو کھینچ لیا اور رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: ان کی بات سنو اور اطاعت کرو کیونکہ ان کا بوجھ ان پر اور تمہارا بوجھ تمہارے اوپر ہے۔

13. باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين عند ظهور الفتن ، وفي كل حال وتحريم الخروج من الطاعة ومفارقة الجماعة

حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِى بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِىُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِى جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ « نَعَمْ » فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ « نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ ». قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ « قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِى وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِى تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ ». فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ « نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا ». فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا. قَالَ « نَعَمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ». قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِى ذَلِكَ قَالَ « تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ». فَقُلْتُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ « فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ ».

Hudhaifah bin Al-Yaman said: "The people used to ask the Messenger of Allah (s.a.w) about good things, but I used to ask him about bad things, fearing that I would live to see such things. I said: 'O Messenger of Allah, we were in a state of ignorance (Jahiliyyah) and evil, then Allah sent us this good (i.e., Islam). Will there be any evil after this good?' He said: 'Yes.' I said: 'Will there by any good after that evil?' He said: 'Yes, but it will be tainted.' I said: 'How will it be tainted?' He said: '(There will be) some people who follow an example other than my example and follow a way other than my way. You will approve of some of their deeds and disapprove of others.' "I said: 'Will there be any evil after that good?' He said: 'Yes, there will be people calling at the gates of Hell, and whoever responds to their call, they will throw them into it (the Fire).' I said: 'O Messenger of Allah, describe them to us.' He said: 'They will be from among our people, speaking our language.' I said: 'O Messenger of Allah, what do you command me to do if I live to see such a thing?' He said: 'Adhere to the Jama'ah (group, community, main body) of the Muslims and their Imam (leader).' I asked: 'What if there is no Jama'ah and no leader?' He said: 'Then keep away from all those groups, even if you have to bite (cling) on the roots of a tree until death overtakes you while you are in that state.'"

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہﷺسے بھلائی کے متعلق پوچھتے تھے اور میں آپﷺسےشر کے متعلق سوال کرتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں وہ مجھے پہنچ ہی نہ جائے ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہم زمانہ جاہلیت اور شر میں تھے اللہ ہمارے پاس اس بھلائی کو لے آیا تو کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، میں نے عرض کیا: کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، لیکن اس خیر میں کچھ کدورت ہوگی، میں نے عرض کیا: کیسی کدورت ہوگی؟آپﷺ نے فرمایا:لوگ میری سنت پر نہیں چلیں گے اور میری ہدایت کے خلاف عمل کریں گے ، ان میں اچھی اور بری دونوں باتیں ہوں گی، میں نے عرض کیا: کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی شر ہوگا ؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں ،کچھ لوگ جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے اور لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا وہ اس کو جہنم میں ڈال دیں گے ،میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ!ہمیں ان کی صفت بیان کیجئے ،آپﷺنے فرمایا: وہ ایسی قوم ہوگی ان کا رنگ ہماری طرح ہوگا اور وہ ہماری بولی بولتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺاگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟آپﷺنےفرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑو، میں نے عرض کیا : اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت اور امام نہ ہو؟ آپﷺنےفرمایا: تم ان تمام فرقوں سے علیٰحدہ رہنا خواہ تمہیں زندگی بھر درخت کی جڑیں چبانی پڑیں اور اس حال میں تمہاری موت آئے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ التَّمِيمِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - يَعْنِى ابْنَ سَلاَّمٍ - حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ أَبِى سَلاَّمٍ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ فَجَاءَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَنَحْنُ فِيهِ فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ. قُلْتُ هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ قَالَ « نَعَمْ ». قُلْتُ فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ « نَعَمْ ». قُلْتُ كَيْفَ قَالَ « يَكُونُ بَعْدِى أَئِمَّةٌ لاَ يَهْتَدُونَ بِهُدَاىَ وَلاَ يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِى وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِى جُثْمَانِ إِنْسٍ ». قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ قَالَ « تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلأَمِيرِ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ».

Hudhaifah bin Al-Yaman said: "I said: 'O Messenger of Allah, we were in an evil state, then Allah brought something good, and we are in a [good] state. Will there be any evil after this goodness?' He said: 'Yes.' I said: 'And will there be any goodness after that evil?' He said: 'Yes.' I said: 'And will there be any evil after that goodness?' He said: 'Yes.' I said: 'How?' He said: 'After I am gone, there will be A'immah (leaders) who will not follow my way and will not follow my example. Among them there will be men whose hearts are the hearts of devils in the bodies of men.' I said: 'What should I do, O Messenger of Allah, if I live to see that?' He said: 'Hear and obey the ruler, even if your back is flogged and your wealth is taken; hear and obey."'

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم شر میں تھے ، پھر اللہ تعالیٰ ہمارے پاس اس بھلائی کو لے آیا،کیا اس بھلائی کے بعد شر ہوگا؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں ، میں نے عرض کیا : کیا اس شر کے بعد بھلائی ہوگی ؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں ، میں نے عرض کیا : کیا اس بھلائی کے بعد شر ہوگا ؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، میں نے کہا: وہ کیسے؟آپﷺنے فرمایا: میرے بعد ایسے ائمہ ہوں گے جو میری ہدایت پر عمل نہیں کریں گے ، اور نہ میری سنت پر چلیں گے ، اور عنقریب ان میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کی طرح اورجسم انسانوں کی مانند ہوں گے ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اگر میں ان کو پاؤں تو کیا کروں ؟ آپﷺنےفرمایا: امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا، خواہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں ، اور تمہارا مال چھین لیا جائے ، پھر بھی (ان کی ) بات سننا اور اطاعت کرنا۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - يَعْنِى ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِى قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِى يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلاَ يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلاَ يَفِى لِذِى عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّى وَلَسْتُ مِنْهُ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever rebels against obedience and splits away from the Jama'ah (main body of the Muslims) and dies (in that state) has died a death of Jahiliyyah. Whoever fights for no real cause, getting angry for the sake of tribalism, calling for tribalism, or supporting tribalism, and is killed, dies in a state of Jahiliyyah. Whoever rebels against my Ummah, striking righteous and wicked alike, and does not spare the believers, and does not pay attention to anyone who has a covenant of protection with the Muslims, he is not of me and I am not of him."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جو آدمی (حکمران)کی اطاعت سے نکل جائے اور جماعت کو چھوڑ دے اور اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا، اور جو آدمی اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے تلے جنگ کرے یا کسی عصبیت کی وجہ سے غضب ناک ہو، یا عصبیت کی طرف دعوت دے، یا عصبیت کی خاطر جنگ کرے اور مارا جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا، اور جس آدمی نے میری امت پر خروج کیا اور نیک و بد ہر ایک کو قتل کرے ، کسی مومن کا لحاظ نہیں کیا ، اور نہ کسی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا وہ میرے دین پر نہیں ہے اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔


وَحَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَقَالَ « لاَ يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said..." a Hadith like that of Jarir (no. 4786). And he said: "...and does not spare the believers."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی ہے اور اس میں لا یتحاشیٰ من مؤمنہا کے الفاظ ہیں۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا مَهْدِىُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبَةِ وَيُقَاتِلُ لِلْعَصَبَةِ فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِى وَمَنْ خَرَجَ مِنْ أُمَّتِى عَلَى أُمَّتِى يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لاَ يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلاَ يَفِى بِذِى عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّى ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever rebels against obedience and separates from the main body of Muslims, then dies (in that state), has died a death of Jahiliyyah. Whoever is killed (fighting) for no real cause, getting angry for the sake of tribalism or fighting for tribalism, is not of my Ummah. Whoever of my Ummah rebels against my Ummah, striking righteous and wicked alike, and does not spare the believers and does not pay attention to anyone who has a covenant of protection with the Muslims, he is not of me."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی (حکمران)کی اطاعت سے نکل جائے اور جماعت کو چھوڑ دے پھر اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا، اور جو آدمی اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے تلے مارا جائے ، اور کسی عصبیت کی وجہ سے غضب ناک ہو، اور عصبیت کی خاطر جنگ کرے وہ میری امت میں سے نہیں ہے ، اور جس آدمی نے میری امت میں سے میری امت پر خروج کیا اور نیک و بد ہر ایک کو قتل کرے ، کسی مومن کا لحاظ نہیں کیا ، اور نہ کسی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. أَمَّا ابْنُ الْمُثَنَّى فَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْحَدِيثِ وَأَمَّا ابْنُ بَشَّارٍ فَقَالَ فِى رِوَايَتِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated from Ghailan bin Jarir with this chain of narration (a Hadith similar to no 4788). As for Ibn Al-Muthanna (a sub-narrator), he did not mention the Prophet (s.a.w) in his Hadith. As for Ibn Bash-shar (a sub-narrator), he said in his report: "The Messenger of Allah (s.a.w) said..." like their Hadith.

ایک اور سند سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے صرف فرق یہ ہے کہ ابن مثنی نے اپنی روایت میں رسو ل اللہﷺکا ذکر نہیں کیا، اور ابن بشار نے دوسروں کی روایت کی طرح کہا: کہ رسول اللہﷺنے فرمایا۔


حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْجَعْدِ أَبِى عُثْمَانَ عَنْ أَبِى رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ».

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever sees something from his ruler that he dislikes, let him be patient, for whoever splits away from the Jama'ah (main body of Muslims) by a handspan and dies (in that state), that is a death of Jahiliyyah.'"

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی کو اپنے امیر کی کوئی چیز ناپسندہو تو وہ صبر کرے کیونکہ جو آدمی ایک بالشت برابر بھی جماعت سے الگ ہوگا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔


وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِىُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا فَمَاتَ عَلَيْهِ إِلاَّ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ».

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever dislikes something about his ruler, let him bear it with patience, for there is no one among the people who splits away from the ruler by a handspan and dies in that state, but he has died a death of Jahiliyyah."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی کو اپنے امیر کی کوئی بات ناپسندہو تو وہ اس پر صبر کرے کیونکہ لوگوں میں سے جو بھی بادشاہ کی اطاعت سے ایک بالشت بھی نکلا تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا۔


حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى مِجْلَزٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ».

It was narrated that Jundab bin 'Abdullah Al-Bajali said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever is killed (fighting) for no real cause, calling for tribalism or supporting tribalism, his death is a death of Jahiliyyah."'

حضرت جندب بن عبد اللہ بجلی سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے تلے مارا گیا ، جو عصبیت کی طرف بلاتا تھا ،اور عصبیت کی مدد کرتا تھا، اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عَاصِمٌ - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ - عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ اطْرَحُوا لأَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ إِنِّى لَمْ آتِكَ لأَجْلِسَ أَتَيْتُكَ لأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِىَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَ حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِى عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ».

It was narrated that Nafi' said: "Abdullah bin 'Umar came to 'Abdullah bin Muti', when the incident of Al-Harrah occurred, at the time of Yazid bin Mu'awiyah, and he said: 'Set out a pillow for Abu 'Abdur-Rahman.' He said: 'I have not come to sit with you; I have come to narrate to you a Hadith. I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Whoever withdraws his hand from obedience (i.e., rebels against the ruler) will meet Allah on the Day of Resurrection with no justification for his action, and whoever dies not having sworn an oath of allegiance has died a death of ignorance."

نافع سے روایت ہے کہ یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں جب واقعہ حرا ہوا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ عبد اللہ بن مطیع کے پاس تشریف لائے، تو عبد اللہ بن مطیع نے کہا: ابو عبد الرحمن(ابن عمر رضی اللہ عنہ ) کے لیے غالیچہ بچھاؤ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کے پاس بیٹھنے کے لیے نہیں آیا، میں تو صرف اس لیے آیا ہوں کہ تم کو ایک ایسی حدیث سناؤں جو میں نے خود رسول اللہﷺسے سنی ہے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے (امام کی) اطاعت سے ہاتھ نکال لیا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہوگی اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہیں تھی وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى جَعْفَرٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ. فَذَكَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.

It was narrated from Ibn 'Umar that he came to Ibn Muti' ...and he narrated something similar (as no. 4793) from the Prophet (s.a.w).

نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ عبد اللہ بن مطیع کے پاس گئے اور نبی ﷺسے حدیث روایت کی ۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِىٍّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.

A Hadith like that of Nafi' from Ibn 'Umar was narrated from Ibn 'Umar (no. 4793), from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند سے یہ حدیث اسی طرح مروی حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

14. باب حُكْمِ مَنْ فَرَّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مُجْتَمِعٌ

حَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّهُ سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ وَهْىَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ ».

It was narrated that Ziyad bin 'Ilaqah said: "I heard 'Arfajah say: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "There will be Fitnah and innovations. Whoever wants to divide this Ummah when it is united, strike him with the sword, no matter who he is."'

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب فتنے نمودار ہوں گے ، سنو! جو آدمی اس امت کی جمعیت کو توڑنے کا ارادہ کرے اس کو تلوار سے مار دو خواہ وہ کوئی ہو۔


وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح وَحَدَّثَنِى الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ شَيْبَانَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْخَثْعَمِىُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ح وَحَدَّثَنِى حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ وَرَجُلٌ سَمَّاهُ كُلُّهُمْ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ عَنْ عَرْفَجَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا « فَاقْتُلُوهُ ».

A similar report (as no. 2796) was narrated from 'Arfajah from the Prophet (s.a.w), except that in their Hadith it says: "...kill him".

یہ حدیث چار اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے ۔


وَحَدَّثَنِى عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِى يَعْفُورٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ ».

It was narrated that 'Arfajah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Whoever comes to you, when you are united behind one man, seeking to divide you, kill him."'

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺسے یہ سنا ہے کہ جب تم ایک آدمی کی امامت پر متفق ہو، پھر کوئی آدمی تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے کی کوشش کرے یا تمہاری جماعت میں تفریق کی کوشش کرے تو اسکو قتل کردو۔

15. باب إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ

وَحَدَّثَنِى وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْجُرَيْرِىِّ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الآخَرَ مِنْهُمَا ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If allegiance has been sworn to two caliphs, then kill the second one."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کردو۔

16. باب وُجُوبِ الإِنْكَارِ عَلَى الأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا وَنَحْوِ ذَلِكَ

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِىَ وَتَابَعَ ». قَالُوا أَفَلاَ نُقَاتِلُهُمْ قَالَ « لاَ مَا صَلَّوْا ».

It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "There will be rulers (whose good deeds) you approve of and (whose bad deeds) you object to. Whoever recognizes (their bad deeds as such) will be free of blame, and whoever objects to (their bad deeds) will also be safe, but whoever approves and follows (is blameworthy)." They said: "Should we not fight them?" He said: "No, not so long as they offer prayers."

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حاکم مسلط ہوں گے جو اچھے اور برے کام کریں گے ، تو جس نے برے کاموں کو پہچان لیا وہ بری ہوگیا اور جس نے برے کاموں کو مسترد کیا وہ سلامت رہا ، لیکن جس آدمی نے برے کاموں کو پسند کیا اور ان کی پیروی کی (وہ سلامت نہیں رہے گا) صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپﷺنے فرمایا: نہیں ، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِى غَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِىُّ - حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِىِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « إِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِىَ وَتَابَعَ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نُقَاتِلُهُمْ قَالَ « لاَ مَا صَلَّوْا ». أَىْ مَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأَنْكَرَ بِقَلْبِهِ.

It was narrated from Umm Salamah, the wife of the Prophet (s.a.w), that the Prophet (s.a.w) said: "There will be appointed over you rulers (whose good deeds) you approve of and (whose bad deeds) you object to. Whoever dislikes (their bad deeds) will be free of blame and whoever objects (to them) will also be safe, but whoever approves and follows (is blameworthy)." They said: "Should we not fight them?" He said: "No, not so long as they offer prayers."

نبی ﷺکی زوجہ حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: تم پر ایسے امیر مسلط کیے جائیں گے جن سے تم اچھائیاں بھی دیکھو گے اور برائیاں بھی ، تو جس نے برے کاموں کو ناپسند کیا وہ بری ہوجائے گا ، او رجس نے ان کو مسترد کیا وہ سلامت رہے گا۔ لیکن جس نے ان کو پسند کیا او ران کی اتباع کی (وہ سلامت نہیں رہے گا) صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہﷺ! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ آپﷺنے فرمایا: نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۔ برا جاننے سے مراد : دل سے برا جاننا ، اور مسترد کرنے سے مراد: دل سے مسترد کرنا ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ وَهِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. بِنَحْوِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ ».

It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said..." a similar report (as no. 4801 ), except that he said: "Whoever objects to (their bad deeds) will be free of blame, and whoever dislikes (their bad deeds) will also be safe."

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ جس نے انکار کیا وہ بری ہوگیا ، اور جس نے ناپسند کیا وہ سلامت رہا۔


وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ هِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلاَّ قَوْلَهُ « وَلَكِنْ مَنْ رَضِىَ وَتَابَعَ ». لَمْ يَذْكُرْهُ.

It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said..." a similar report (as no. 4801 ), except for the words: "...but whoever accepts and follows" which he (the sub-narrator) did not mention.

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں ولکن من رضی و تابع۔

17. باب خِيَارِ الأَئِمَّةِ وَشِرَارِهِمْ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ ». قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ « لاَ مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلاَةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلاَتِكُمْ شَيْئًا تَكْرَهُونَهُ فَاكْرَهُوا عَمَلَهُ وَلاَ تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ».

It was narrated from 'Awf bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The best of your rulers are those whom you love and they love you, who invoke blessings upon you and you invoke blessings upon them. The worst of your rulers are those whom you hate and they hate you, and you invoke curses upon them and they invoke curses upon you." It was said: "O Messenger of Allah, should we not fight them with the sword?" He said: "No, not so long as they establish prayer among you. But if you see something in your rulers that you dislike, then hate their deeds, but do not withdraw your hand from obedience to them."

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تمہارے بہترین امام وہ ہیں جن سے تم محبت کرو، او روہ تم سے محبت کریں ، اور وہ تمہارے حق میں دعا کریں ،اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو، اور وہ تم سے بغض رکھیں ، تم ان پر لعنت کرو، اور وہ تم پر لعنت کریں ،آپﷺسے عرض کیا گیا : یارسول اللہﷺ! کیا ہم ان کو تلوار کے ذریعے معزول نہ کریں؟ آپﷺنے فرمایا: نہیں ، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں ، اور جب تم اپنے حکمرانوں کی کوئی برائی دیکھو تو ان کے عمل کو برا جانو، اور ان کی اطاعت سےہاتھ نہ کھینچو۔


حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ - يَعْنِى ابْنَ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَخْبَرَنِى مَوْلَى بَنِى فَزَارَةَ - وَهُوَ رُزَيْقُ بْنُ حَيَّانَ - أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ قَرَظَةَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِىِّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الأَشْجَعِىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ ». قَالُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ « لاَ مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلاَةَ لاَ مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلاَةَ أَلاَ مَنْ وَلِىَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِى شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِى مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ». قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَقُلْتُ - يَعْنِى لِرُزَيْقٍ - حِينَ حَدَّثَنِى بِهَذَا الْحَدِيثِ آللَّهِ يَا أَبَا الْمِقْدَامِ لَحَدَّثَكَ بِهَذَا أَوْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ إِى وَاللَّهِ الَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَسَمِعْتُهُ مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

'Awf bin Malik Al-Ashja'i said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'The best of your rulers are those whom you love and they love you, upon whom you invoke blessings and they invoke blessings upon you. The worst of your rulers are those whom you hate and they hate you, and you invoke curses upon them and they invoke curses upon you.' They said: 'O Messenger of Allah, in that case, should we not fight them?' He said: 'No, not so long as they establish prayer among you. No, not so long as they establish prayer among you. But whoever is under the authority of a ruler and sees him do something that he dislikes of disobedience towards Allah, let him hate his disobedient action, but he should not withdraw his hand from obedience to him (i.e., he should not rebel against him)."'

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تمہارے بہترین امام وہ ہیں جن سے تم محبت کرو، او روہ تم سے محبت کریں ، اور تم ان کے حق میں دعا کرو،اور وہ تمہارے لیے دعا کریں ، اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو، اور وہ تم سے بغض رکھیں ، اور تم ان پر لعنت کرو، اور وہ تم پر لعنت کریں ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :کیا ہم ایسے مواقع پر ان کو تلوار سے معزول نہ کریں ؟آپﷺنے فرمایا: نہیں ، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں ، نہیں ، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں ،جان لو! جن لوگوں پر کسی آدی کو حاکم بنایا گیا ، پھر وہ لوگ اس حاکم کو اللہ کی کسی معصیت میں مبتلا دیکھیں تو وہ اللہ کی اس معصیت کو برا جانیں اور اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچیں ۔ ابن جابر بیان کرتے ہیں کہ جب رزیق بن حیان نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی تو میں نے کہا: ابو مقدام ! میں تم کو اللہ کی قسم دے کر یہ سوال کرتاہوں ، آیا تم کو یہ حدیث کسی نے بیان کی ، یا تم نے مسلم بن قرظہ سے یہ حدیث خود سنی ہے ، جنہوں نے اس کو عوف سے سنا اوروہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ، یہ سن کر رزیق گھٹنوں کے بل گر گئے اور قبلہ کی طرف منہ کرکے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، میں نے مسلم بن قرظہ سے یہ حدیث سنی اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک سے اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺسے یہ حدیث سنی ہے ۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ رُزَيْقٌ مَوْلَى بَنِى فَزَارَةَ.قَالَ مُسْلِمٌ وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

Ibn Jabir narrated it with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4805).

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔

18. باب اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِىَ سَمُرَةٌ. وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَلاَ نَفِرَّ. وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ.

It was narrated that Jabir said: "On the day of Al-Hudaibiyah we were fourteen hundred, and we swore allegiance to him (s.a.w) while 'Umar was holding his hand beneath the tree, which was an acacia. And we swore allegiance, pledging not to flee (from battle) but we did not swear to fight to the death."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ، ہم نے رسو ل اللہ ﷺکے ہاتھ پر بیعت کی تھی اس حال میں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپﷺکا ہاتھ سمرہ درخت کے نیچے تھامے ہوئے تھے ، ہم نے آپﷺکےہاتھ پر فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی موت کی نہیں کی تھی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ.

It was narrated that Jabir said: "We did not swear allegiance to the Messenger of Allah (s.a.w) pledging to fight to the death, but we swore that we would not flee."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے ، ہم نے رسو ل اللہ ﷺ (کے ہاتھ پر ) موت کی بیعت نہیں کی تھی ، بلکہ ہم نے نہ بھاگنے پر بیعت کی تھی۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ كُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِىَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ غَيْرَ جَدِّ ابْنِ قَيْسٍ الأَنْصَارِىِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ.

It was narrated from Ibn Juraij: "Abu Az-Zubair told me that he heard Jabir being asked: 'How many (persons) were they on the day of Al-Hudaibiyah?' He said: 'We were fourteen hundred, and we swore allegiance to him (s.a.w) while 'Umar was holding his hand beneath the tree, which was an acacia. We swore allegiance to him, except for J add bin Qais Al-Ansari, who hid beneath the belly of his camel."'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ حدیبیہ کےدن (صحابہ کی ) کتنی تعداد تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہم چودہ سو تھے ، ہم نے اس حال میں آپﷺسے بیعت کی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمرہ درخت کے نیچے آپﷺکے ہاتھ تھامے ہوئے تھے ، ہم نے آپﷺسے بیعت کی تھی لیکن جد بن قیس انصاری نے آپﷺسے بیعت نہیں کی ، وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔


وَحَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَعْوَرُ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِذِى الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ لاَ وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ إِلاَّ الشَّجَرَةَ الَّتِى بِالْحُدَيْبِيَةِ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَعَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ.

Abu Az-Zubair told me that he heard Jabir being asked: "Did the Prophet (s.a.w) accept the oath of allegiance in Dhul-Hulaifah?" He said: "No, but he offered prayers there. And he did not receive the oath of allegiance beside any tree except the tree that was in Al-Hudaibiyah." Ibn Juraij said: "Abu Az-Zubair told me that he heard Jabir bin 'Abdullah say: 'The Prophet (s.a.w) prayed (offered supplication) over the well of Al-Hudaibiyah."'

ابو الزبیر کہتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا : کیا نبی ﷺنے ذو الحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ آپﷺنے وہاں نماز پڑھی تھی، اور حدیبیہ کے درخت کے علاوہ آپﷺنے کسی درخت کے نیچے بیعت نہیں لی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ انہیں ابو الزبیر نے یہ بتایا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺنے حدیبیہ کے کنوئیں پر دعا کی تھی۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِىُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالَ سَعِيدٌ وَإِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْضِ ». وَقَالَ جَابِرٌ لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ.

It was narrated that Jabir said: "On the day of Al-Hudaibiyah we were fourteen hundred. The Prophet (s.a.w) said to us: 'Today you are the best of people on earth."' Jabir said: "If I could see, I would show you the spot where the tree was (under which the Prophet (s.a.w) took the oath)."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، نبی ﷺنے ہم سے فرمایا: اس وقت تم تمام روئے زمین کے بہترین افراد ہو، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میری بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَقَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ.

It was narrated that Salim bin Abi Al-Ja'd said: "I asked Jabir bin 'Abdullah about the 'companions of the tree.' He said: 'If we had been one hundred thousand, it (the water in the well) would have sufficed us, but we were fifteen hundred.'"

سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ (پانی ) کافی ہوجاتا لیکن ہم پندرہ سو تھے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى الطَّحَّانَ - كِلاَهُمَا يَقُولُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.

It was narrated that Jabir said: "If we had been one hundred thousand, it (the water in the well) would have sufficed us, but we were fifteen hundred.''

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو (پانی) ہمیں کافی ہوجاتا لیکن ہم پندرہ سو تھے۔


وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ حَدَّثَنِى سَالِمُ بْنُ أَبِى الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ.

It was narrated from Al-A'mash: "Salim bin Abi Al-Ja'd narrated: 'I said to Jabir: "How many were you that day?" He said: "Fourteen hundred."

حضرت سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : تم لوگ اس دن کتنے تھے ؟ انہوں نے کہا: چودہ سو تھے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو - يَعْنِى ابْنَ مُرَّةَ - حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى أَوْفَى قَالَ كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلاَثَمِائَةٍ وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمُنَ الْمُهَاجِرِينَ.

'Abdullah bin Abi Awfa said: "The 'companions of the tree' were thirteen hundred, and (the people from the tribe of) Aslam were one-eighth of the Muhajirin.''

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب شجرہ تیرہ سو تھے ،اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 4815) was narrated from Shu'bah with this chain of narration.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَعْرَجِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِى يَوْمَ الشَّجَرَةِ وَالنَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُبَايِعُ النَّاسَ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسِهِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ.

It was narrated that Ma'qil bin Yasar said: "I remember the Day of the Tree, when the Prophet (s.a.w) received the people's oath of allegiance, and I was holding one of its branches away from his head, and we were fourteen hundred." He said: "We did not swear to fight to the death, but we swore not to flee."

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے درخت کے دن ( بیعت رضوان کے دن ) دیکھا کہ نبی ﷺلوگوں سے بیعت لے رہے ہیں ، اور میں درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ ﷺکے سر انور سے ہٹارہا تھا، ہم اس وقت چودہ سو تھے ، انہوں نے کہا: ہم نے آپﷺسے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، بلکہ نہ بھاگنے پر بیعت کی تھی۔


وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Yunus with this chain of narration (a similar Hadith as no. 4817).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ أَبِى مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَ الشَّجَرَةِ. قَالَ فَانْطَلَقْنَا فِى قَابِلٍ حَاجِّينَ فَخَفِىَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا فَإِنْ كَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ.

It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said: "My father was one of those who swore allegiance to the Messenger of Allah (s.a.w) beside the tree. He said: 'We set out the following year, intending to perform Hajj, but the location (of the tree) was hidden from us. If you think you can find it, then know better."'

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میرے والد بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہﷺسے بیعت کی تھی، انہوں نے کہا: جب ہم اگلے سال حج کے لیے چل پڑے تو ہمیں وہ جگہ نہیں ملی ، اگر تم کو وہ جگہ معلوم ہو جائے تو تم زیادہ جانتے ہو۔


وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ وَقَرَأْتُهُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِىٍّ عَنْ أَبِى أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ.

It was narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab, from his father, that they were with the Messenger of Allah (s.a.w) in the Year of the Tree. He said: "But they forgot its location the following year."

سعید بن مسیب کہتے ہیں اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ درخت کے سال(بیعت رضوان کے سال) رسول اللہﷺکے ساتھ تھے ، پھرآئندہ سال اس درخت کو بھول گئے ۔


وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا.

It was narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab that his father said: "I saw the tree, then I went there after that and I could not locate it."

سعید بن مسیب کہتے ہیں اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے (بیت رضوان کے) درخت کو دیکھا، پھر میں بعد میں اس درخت کے پاس گیا تو اس درخت کو نہیں پہچان سکا۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ.

It was narrated that Yazid bin Abi 'Ubaid, the freed slave of Salamah bin Al-Akwa', said: "I said to Salamah: 'On what basis did you swear allegiance to the Messenger of Allah (s.a.w) on the day of Al-Hudaibiyah?' He said: 'To fight to the death."'

یزید بن ابی عبید جو سلمہ بن اکوع کے مولیٰ ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگوں نے حدیبیہ کے دن رسول اللہﷺکے ہاتھ پر کس چیز کی بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 4822) was narrated from Salamah.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِىُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ هَذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ فَقَالَ عَلَى مَاذَا قَالَ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لاَ أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated that 'Abdullah bin Zaid said: "Someone came to him and said: 'Ibn Hanzalah is making the people swear allegiance to him.' He said: 'On what basis?' He said: 'That they will fight to the death.' He said: 'Allegiance is not to be sworn on that basis to anyone after the Messenger of Allah (s.a.w)."'

حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی آدمی آیا ، اور کہنے لگا: ابن حنظلہ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں ؟انہوں نے پوچھا : کس چیز پر ؟ اس نے کہا: موت پر، انہوں نے کہا: میں رسو ل اللہﷺکے بعد کسی آدمی کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کروں گا۔

19. باب تَحْرِيمِ رُجُوعِ الْمُهَاجِرِ إِلَى اسْتِيطَانِ وَطَنِهِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ فَقَالَ يَا ابْنَ الأَكْوَعِ ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ قَالَ لاَ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَذِنَ لِى فِى الْبَدْوِ.

It was narrated from Salamah bin Al-Akwa' that he entered upon Al-Hajjaj and he said: "O Ibn Al-Akwa', have you turned upon your heels and gone to live in the desert?" He said: "No, but the Messenger of Allah (s.a.w) gave me permission to live in the desert."

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجاج کے پاس تشریف لائے ، اس نے کہا: اے ابن الاکوع ! کیا تم دوبارہ اپنی پچھلی روش کے مطابق جنگلوں میں رہنے لگے ؟ انہوں نے کہا: نہیں ، مجھے رسول اللہﷺنے جنگلوں میں رہنے کی اجازت دی تھی۔

20. باب الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ وَبَيَانِ مَعْنَى: «لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ».

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِى عُثْمَانَ النَّهْدِىِّ حَدَّثَنِى مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِىُّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ « إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ مَضَتْ لأَهْلِهَا وَلَكِنْ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ ».

Mujashi' bin Mas'ud As-Sulami said: "I came to the Prophet (s.a.w) to swear allegiance and pledge to emigrate, but he said: 'The time for emigration is over. Rather (pledge) to adhere to Islam, to engage in Jihad and to do good."'

حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نبیﷺکی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو آپﷺنے فرمایا: ہجرت والوں کی ہجرت ختم ہوچکی ہے ، البتہ اسلام ، جہاد، او رخیر پر بیعت کرو۔


وَحَدَّثَنِى سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِى عُثْمَانَ قَالَ أَخْبَرَنِى مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِىُّ قَالَ جِئْتُ بِأَخِى أَبِى مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ. قَالَ « قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ بِأَهْلِهَا ». قُلْتُ فَبِأَىِّ شَىْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ « عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ ». قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ فَقَالَ صَدَقَ.

Mujashi' bin Mas'ud As-Sulami said: "I brought my brother, Abu Ma'bad, to the Messenger of Allah (s.a.w) after the conquest (of Makkah) and said: 'O Messenger of Allah, accept his pledge to emigrate.' He said: 'The time for emigration is over.' I said: Then on what basis will you accept his oath of allegiance?' He said: 'To adhere to Islam, to engage in Jihad and to do good.'"

حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی ابو معبد کو لیکر نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! ان سے ہجرت پر بیعت لیجئے ، آپﷺنے فرمایا: اہل ہجرت کی ہجرت ختم ہوچکی ہے ، میں نے عرض کیا : پھر آپﷺکس پر بیعت لیں گے ؟ آپﷺنے فرمایا: اسلام ، جہاد، اور خیر پر بیعت لوں گا۔ ابو عثمان کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابو معبد سے ہوئی تو میں نے ان کو حضرت مجاشع کی حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ فَلَقِيتُ أَخَاهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا مَعْبَدٍ.

It was narrated from 'Asim with this chain of narration (a similar Hadith as 4827). He said: "I met his brother, and he said: 'Mujashi' spoke the truth.' And he did not mention Abu Ma'bad.''

یہ حدیث ایک اور سندسے بھی اسی طرح مروی ہے ،اس میں یہ ہے کہ میری ملاقات مجاشع کے بھائی سے ہوئی تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا اور انہوں نے ابو معبد کا ذکر نہیں کیا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالاَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ « لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ».

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said on the day of the conquest of Makkah: 'There is no Hijrah (emigration) any more; rather there is Jihad and good intentions, and when you are asked to mobilize, then do so."'

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اب ہجرت نہیں ہے ،البتہ جہاد اور نیت ہے او رجب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو چلے جاؤ۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ - يَعْنِى ابْنَ مُهَلْهِلٍ - ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ كُلُّهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 4829) was narrated from Mansur with this chain of narration.

یہ حدیث تین اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى حُسَيْنٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ « لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ».

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) was asked about Hijrah (emigration). He said: 'There is no emigration after the conquest, but there is Jihad and good intentions, and if you are asked to mobilize, then do so.'"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺسے ہجرت کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپﷺنے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے ، البتہ جہاد اورنیت ہے اور جب تمہیں جہاد پر نکلے کے لیے کہا جائے تو فورا نکل پڑو۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِىُّ حَدَّثَنِى عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِىُّ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنِى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِىُّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ « وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ لَشَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ». قَالَ نَعَمْ. قَالَ « فَهَلْ تُؤْتِى صَدَقَتَهَا ». قَالَ نَعَمْ. قَالَ « فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ».

Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that a Bedouin asked the Messenger of Allah (s.a.w) about emigration. He said: "Woe to you! Emigration is very difficult. Do you have camels?" He said: "Yes." He said: "Do you pay Zakat on them?" He said: "Yes." He said: "Then do good deeds even if you live beyond the sea, for Allah will never leave any of your good deeds unrewarded."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسو ل اللہﷺسے ہجرت کے بارے میں سوال کیا ، آپﷺنے فرمایا: تیری بربادی! ہجرت تو بہت مشکل چیز ہے ، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں ! آپﷺنے فرمایا: کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں ! آپﷺنے فرمایا: سمندر کے پار عمل کرتے رہو، اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ہرگز رائیگان نہیں کرے گا۔


وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ». وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ قَالَ « فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ». قَالَ نَعَمْ.

A similar report (as no. 4832) narrated from Al-Awza'i with this chain of narration, except that he said: "Surely, Allah will never leave any of your good deeds unrewarded." And he added in the Hadith: "Do you milk them on the day that they come to the water?" He said: "Yes."

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ تمہارے عمل میں سے اللہ تعالیٰ کسی چیز کو رائیگان نہیں کرے گا ، اور یہ اضافہ ہے کہ اونٹنیاں پانی پینے کے لیے جس دن آتی ہیں تو کیا تم ان کا دودھ دوہنے کی اجازت دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں!

1234Last ›