41. باب ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا قَالَ رَجُلٌ أَيْنَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ قَالَ فِي الْجَنَّةِ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ.
It was narrated from 'Amr that he heard Jabir say: "A man said: 'Where will I be, O Messenger of Allah, if I am killed?' He said: 'In Paradise.' He threw down some dates that were in his hand, then he fought until he was killed." According to the Hadith of Suwaid: "A man said to the Prophet (s.a.w) on the day of (the battle of) Uhud.''
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! اگر میں قتل کردیا جاؤں تو میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا ؟ آپﷺنے فرمایا: جنت میں، جو کھجوریں ان کے ہاتھ میں تھیں ان کو اس نے پھینک دیا اور لڑنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا ، اور سوید کی روایت میں یہ ہے کہ اس آدمی نے نبیﷺسے غزوہ احد میں یہ سوال کیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ قَبِيلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا وَأُجِرَ كَثِيرًا.
It was narrated that Al-Bara' said: "A man from Banu Al-Nabit- a tribe of the Ansar - came and said: 'I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah and that you are His slave and Messenger.' Then he went forth and fought until he was killed. The Prophet (s.a.w) said: 'His good deeds were few, but his reward is great."'
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک قبیلہ بنو نبیت سے ایک آدمی نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یقیناً آپﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر میدان میں آگے بڑھے اور لڑنا شروع کردیا یہاں تک کہ وہ قتل کردیا گیا ۔ نبیﷺنے فرمایا: اس آدمی نے عمل کم کیا اور اس کو اجر زیادہ دیا گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ قَالَ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَا إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا دُونَهُ فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ نَعَمْ قَالَ بَخٍ بَخٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ قَالَ فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ.
It was narrated that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent Busaisah as a scout to see what had happened to the caravan of Abu Sufyan. Then he came, and there was no one in the house except myself and the Messenger of Allah (s.a.w)." - He (one of the narrators) said: "I do not know if he mentioned one of his wives too" - "He told him the news, and the Messenger of Allah (s.a.w) went out and spoke to the people. He said: 'We have something to pursue. Whoever has his mount ready, let him ride with us.' Some men started to ask him for permission to go and bring their mounts from the high ground of Al-Madinah, and he said: 'No, only those whose mounts are ready.' The Messenger of Allah (s.a.w) and his Companions set out, and they reached Badr before the idolaters. "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'None of you should go ahead to do anything unless I am ahead of him.' The idolaters drew close and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Get up to Paradise, as wide as the heavens and the earth.' 'Umair bin Al-Humam Al-Ansari said: 'O Messenger of Allah, Paradise as wide as the heavens and the earth?' He said: 'Yes.' He said: 'Good, good.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'What makes you say: "Good, good?" He said: 'Nothing, O Messenger of Allah, except the hope that I will be one of its people.' He said: 'You will be one of its people.' He took some dates out of his bag and started eating them, then he said: 'If I live until I finish eating these dates of mine, that will be a long life.' So he threw aside the dates he had, then he fought them until he was killed.''
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے بسیسہ کو جاسوس بناکر بھیجا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ کی خبر لاسکے،جب وہ واپس آیا تو گھر میں میرے اور رسول اللہﷺکے علاوہ کوئی نہیں تھا – راوی کہتا ہے: مجھے یاد نہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کی ازواج میں سے کسی کا استثناء کیا تھا – حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس جاسوس نے اپنی رپورٹ پیش کی ، پھر رسول اللہﷺباہر نکلے اورفرمایا: ہمیں ایک چیز مطلوب ہے سو جس کے پاس سواری ہے وہ ہمارے ساتھ چلے ، کچھ لوگوں نے مدینہ کی چڑھائی سے اپنی سواریاں لانے کی اجازت طلب کی ، آپﷺنے فرمایا: نہیں ، صرف وہی لوگ ساتھ چلیں گے جن کے پاس سواریاں یہاں موجود ہیں ، پھر رسول اللہ ﷺاور آپﷺکے اصحاب چل پڑے اور مشرکین سے پہلے " بدر " پر پہنچ گئے، ادھر مشرکین بھی پہنچ گئے ، نبی ﷺنے فرمایا: جب تک میں نہ کہوں تم میں سے کوئی آدمی کسی چیز پر پیش قدمی نہ کرے ، جب مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہﷺنے فرمایا: اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہیں۔ حضرت عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جنت کا عرض آسمان او رزمین ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں ، اس نے کہا: آفریں آفریں! رسول اللہﷺنے فرمایا: تمہارے تحسین کلمہ کہنے کی کیا وجہ ہے ؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم ! میں نے یہ کلمہ اس امید سے کہا کہ میں بھی جنت والوں میں ہوجاؤں۔آپﷺنے فرمایا: تم یقیناً جنت والوں میں سے ہو، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر انہیں کھانا شروع کیا ، پھر کہا: اگر میں ان کھجوروں کو ختم کرنے تک زندہ رہا تو یہ زندگی بڑی لمبی ہوجائے گی ، پھر انہوں نے ان کھجوروں کو پھینکا اور لڑائی شروع کی یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ.
It was narrated from Abu Bakr bin 'Abdullah bin Qais, from his father: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The gates of Paradise are beneath the shadows of the swords.' An unkempt man stood up and said: 'O Abu Musa, did you hear the Messenger of Allah (s.a.w) say this?' He said: 'Yes.' He went back to his Companions and said: 'I greet you with peace.' Then he broke the scabbard of his sword and threw it aside, then he walked towards the enemy with his sword and fought with it until he was killed.''
حضرت ابو بکر سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے اس حال میں سنا کہ وہ دشمن کے سامنے تھے اور فرمارہے تھے : کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں ، ایک خستہ حال آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے ابو موسیٰ ! کیا آپ نے رسول اللہﷺسے یہ حدیث خود سنی ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! یہ سن کر وہ آدمی اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا : میں تم کو سلام کہتا ہوں ، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور اپنی تلوار لے کر دشمنوں کی طرف بڑھ کر اس سے مارا شروع کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ نَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَنْ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَاءِ فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَعَرَضُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ فَقَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا قَالَ وَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّى أَنْفَذَهُ فَقَالَ حَرَامٌ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ إِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ قُتِلُوا وَإِنَّهُمْ قَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا.
It was narrated that Anas bin Malik said: "Some people came to the Prophet (s.a.w) and said: 'Send some men with us to teach us the Qur'an and Sunnah.' He sent to them seventy men of the Ansar who were called Al-Qurra', among whom was my maternal uncle Haram. They used to recite Qur'an and study at night and learn, and during the day, they used to bring water to the Masjid and gather firewood and sell it, in order to buy food for Ahl As-Suffah and the poor. The Prophet (s.a.w) sent them to them, and they fell upon them and killed them before they reached that place. They said: 'O Allah, convey from us to our Prophet that we met You when we were pleased with You and You were pleased with us."' A man came to Haram, the maternal uncle of Anas, from behind and stabbed him with a spear that ran him through. Haram said: "I have succeeded, by the Lord of the Ka'bah!" The Messenger of Allah (s.a.w) said to his Companions: "Your brothers have been killed, and they said: 'O Allah, convey from us to our Prophet that we met You when we were pleased with You and You were pleased with us."'
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے پاس کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے : ہمارے پاس چند لوگوں کو بھیج دیں جو ہمیں قرآن اور سنت سکھائیں ، تو آپﷺنے ان کی طرف ستر انصاری بھیجے جن کو قراء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حضرت حرام بھی ہے ، انصار کے یہ لوگ قرآن پڑھتے تھے ، یہ لوگ رات قرآن مجید کے درس ، تدریس اور تعلیم میں گزارتے اور دن میں مسجد میں پانی لاکر رکھتے اور جنگل سے لکڑیاں لاکر فروخت کرتے اور اس کے بدلے اصحاب صفہ اور فقراء کے لیے کھانا خریدتے ، نبی ﷺنے انہیں کفار کی طرف بھیجا اور کفار نے منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی ان پر حملہ کرکے ان کو قتل کردیا، اس وقت انہوں نے کہا: اے اللہ ! ہماری طرف سےہمارے نبی ﷺکو یہ پیغام پہنچادے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کر لی ہے ، اور ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں ، اورتو ہم سے راضی ہوگیا ہے ، اس سانحہ میں ایک آدمی نے پیچھے سے آکر میرے ماموں کو اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آر پار ہوگیا اور میرے ماموں نے کہا: کعبہ کے رب کی قسم! میں کامیاب ہوگیا ہوں ، ا س وقت رسو ل اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تمہارے بھائی شہید کردیے گئے اور انہوں نے فرمایا: اے اللہ ! ہمارے نبی ﷺ کو یہ پیغام پہنچادے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی ، سو ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہوگیا۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا ، قَالَ : فَشَقَّ عَلَيْهِ ، قَالَ : أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُيِّبْتُ عَنْهُ ، وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَانِي اللَّهُ مَا أَصْنَعُ ، قَالَ : فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا ، قَالَ : فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ : يَا أَبَا عَمْرٍو ، أَيْنَ ؟ فَقَالَ : وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ ، قَالَ : فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ ، قَالَ : فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ ، قَالَ : فَقَالَتْ أُخْتُهُ ، عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ ، فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلاَّ بِبَنَانِهِ ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : {رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً} ، قَالَ : فَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ.
It was narrated that Thabit said: "Anas said: 'My paternal uncle after whom I was named was not present with the Messenger of Allah (s.a.w) at (the battle of) Badr, and he was upset about that. He said: "I have missed the first battle where the Messenger of Allah (s.a.w) was present, but if Allah gives me the opportunity to be at any other battle with the Messenger of Allah (s.a.w). Allah, exalted is He, will see what I will do." He was afraid to say more than that. He was present with the Messenger of Allah (s.a.w) on the day of (the battle of) Uhud. He met Sa'd bin Mu'adh, and Anas said to him: "O Abu 'Amr, where are you going?" He said: "I smell the fragrance of Paradise beside Uhud." He fought them until he was killed, and eighty-odd wounds were counted on his body, inflicted with swords, spears and arrows. [Anas bin Malik] said: "His sister, my paternal aunt Ar-Rubayyi' bint An-Nadir, said: 'I could not recognize my brother except by his finger tips.' Then this Verse was revealed: 'Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah [i.e. they have gone out for Jihad, and showed not their backs to the disbelievers]; of them some have fulfilled their obligations (i.e. have been martyred); and some of them are still waiting, but they have never changed (i.e. they never proved treacherous to their covenant which they concluded with Allah) in the least.' And they thought that it had been revealed concerning him and his companions."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے وہ چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے ، وہ رسول اللہﷺکے ساتھ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے ،اور یہ ان پر بہت شاق گزری تھی، انہوں نے کہا: یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسو ل اللہﷺشامل تھے اور میں نہیں تھا، ہاں اگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ کے ساتھ کوئی معرکہ دکھایا تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو دکھادے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ، وہ ان کلمات کے سوا کوئی اور بات کہنے سے ڈرے ، پھر غزوہ احد میں وہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ حاضر ہوئے ، حضرت سعد بن معاذ ان کے سامنے سے آرہے تھے ، حضرت انس (میرے چچا) نے کہا: اے ابو عمرو! کہاں جارہے ہو؟ انہوں نے کہا: مجھے تو احد پہاڑ سے جنت کی خوشبو آرہی ہے ، پھر وہ کفار کے خلاف لڑائی میں گھس گئے یہاں تک کہ شہید ہوگئے ، ان کی لاش پر تلواروں ، نیزوں ، اور تیروں کے اسی 80 سے زیادہ زخم تھے ، پھر میری پھوپھی حضرت ربیع بنت نضر نے کہا: میں نے اپنے بھائی کی لاش کو صرف ان کے پوروں سے پہچانا تھا ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : مسلمانوں میں سے بعض ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو سچا کر دکھایا ، ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا ، اور ان میں سے کوئی منتظر ہے او ران لوگوں نے کوئی ردو بدل نہیں کیا۔ صحابہ کا یہ خیال تھا کہ یہ آیت حضرت انس اور ان کے اصحاب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
42. باب مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ ، أَنَّ رَجُلاً أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ أَعْلَى ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
It was narrated that 'Amr bin Murrah said: "I heard Abu Wa'il say: 'Abu Musa Al-Ash'ari told us that a Bedouin man came to the Prophet (s.a.w) and said: "O Messenger of Allah, a man may fight for spoils of war, and a man may fight so that he will be remembered, and a man may fight to be seen as brave. Which of them is (fighting) in the cause of Allah?" The Messenger of Allah (s.a.w) said: "The one who fights so that the word of Allah will be supreme is (fighting) in the cause of Allah."
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے ، اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک آدمی مال غنیمت کے لیے لڑتا ہے ، اور ایک آدمی شہرت کے لیے لڑتا ہے ، اور ایک آدمی اپنی شجاعت دکھانے کے لیے لڑتا ہے ، ان میں سے کون فی سبیل اللہ لڑتا ہے؟ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لئے لڑتا ہے وہی اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً ، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً ، أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah (s.a.w) was asked about a man who fights to display his courage, one who fights for the sake of tribalism, and one who fights to show off - which of them is (fighting) in the cause of Allah? The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The one who fights so that the word of Allah will be supreme is (fighting) in the cause of Allah."'
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی شجاعت کے لیے لڑتا ہے ، ایک آدمی تعصب کے لیے لڑتا ہے ، اور ایک آدمی شہرت کے لیے لڑتا ہے ، ان میں سے اللہ کی راہ میں لڑنے والا کون ہے ؟ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑے ، وہ حقیقت میں اللہ کے لیے لڑنے والا ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، الرَّجُلُ يُقَاتِلُ مِنَّا شَجَاعَةً فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah (s.a.w) came to us and we said: 'O Messenger of Allah, a man among us may fight to display his courage...' and he mentioned a similar report (as no. 4920)."
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم رسول اللہﷺکے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک آدمی ہم میں بہادری کے لیے لڑتا ہے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يُقَاتِلُ غَضَبًا ، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ، وَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا ، فَقَالَ : مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
It was narrated from Abu Musa Al-Ash'ari that a man asked the Messenger of Allah (s.a.w) about fighting in the cause of Allah, glorified and exalted is He. He said: "A man may fight out of anger, or for the sake of his tribe." He raised his head to look at him - and he only raised his head because the man was standing - and said: "The one who fights so that the word of Allah will be supreme is (fighting) in the cause of Allah."
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺسے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے متعلق سوال کیا اور کہا: ایک آدمی غضب کی وجہ سے جنگ کرتا ہے اور ایک آدمی تعصب کی وجہ سے جنگ کرتا ہے ، آپﷺنے اس آدمی کی طرف سر اٹھاکر دیکھا ، آپﷺنے صرف اس لیے سر اٹھاکر دیکھا کہ وہ آدمی کھڑا تھا، آپﷺنے فرمایا: جو آدمی اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے جنگ کرتا ہے وہی حقیقت میں اللہ کی راہ میں جنگ کرتا ہے۔
43. بابُ مَنَ قَاتَلَ لِلرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ اسْتَحَقَّ النَّارَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ : أَيُّهَا الشَّيْخُ ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ : قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لأَنْ يُقَالَ : جَرِيءٌ ، فَقَدْ قِيلَ ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ ، وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ : تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ ، وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ : عَالِمٌ ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ : هُوَ قَارِئٌ ، فَقَدْ قِيلَ ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ : مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلاَّ أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ : هُوَ جَوَادٌ ، فَقَدْ قِيلَ ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ.
It was narrated that Sulaiman bin Yasar said: "The people dispersed from around Abu Hurairah, and Natil, who was from the people of Ash-Sham, said: 'O Shaikh! Tell me a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (s.a.w).' He said: 'Yes. I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "The first of the people concerning whom judgement will be passed on the Day of Resurrection will be a man who was martyred. He will be brought and [Allah] will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: 'What did you do with them?' He will say: 'I fought for Your sake until I was martyred.' He will say: 'You are lying, rather you fought so that it would be said he is brave, and it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face and thrown into the Fire. "And a man who acquired knowledge and taught it, and read Qur'an, will be brought and (Allah] will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: 'What did you do with them?' He will say: 'I acquired knowledge and taught it, and I read Qur'an for Your sake.' He will say: 'You are lying. You acquired knowledge and taught it so that it would be said, he is a scholar, and you read Qur'an so that it would be said, he is a reciter, and it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face and thrown into the Fire. And a man whom Allah made rich, and to whom He granted all kinds of wealth will be brought, and [Allah] will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: 'What did you do with them?' He will say: 'I did not leave any way in which You love wealth to be spent but I spent it for Your sake.' He will say: 'You are lying, rather you did that that so that it would be said, he is generous, and it was said.' Then he will be ordered to be dragged on his face and thrown into the Fire."
حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لوگ دور ہو گئے تو ان سے اہل شام میں سے ناتل نامی آدمی نے کہا اے شیخ! آپ ہمیں ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا: تم نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا، اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ کہا، بلکہ تم نے اس لیے لڑائی کی تاکہ تو بہادر کہلائے ، سو تجھے بہادر کہا گیا ،پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا: تم نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم حاصل کیا پھر اسے دوسرں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قرآن مجید پڑھا، اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ کہا، تم نے علم اس لئے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو یہ کہا جا چکا ہے پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہوگا جس پر اللہ نے وسعت کی تھی اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا تھا اسے بھی لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا اللہ فرمائے گا: تم نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا ہے ؟ وہ کہے گا: میں نے ہر اس راستہ میں خرچ کیا جس راستہ میں مال خرچ کرنا تجھے پسند ہے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم جھوٹ بولتے ہو ، تم نے یہ کام اس لیے کیا تھا کہ تجھے سخی کہا جائے ، سو تجھ کو سخی کہا گیا ، پھر اس کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : تَفَرَّجَ النَّاسُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِىُّ: وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ.
It was narrated from Abu Hurairah that Natil Ash-Shami said to him... and he narrated a Hadith like that of Khalid bin Al-Harith (no. 4923).
حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لوگ ہٹ گئے تو شام کے ایک ناتل نامی آدمی نے کہا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
44. باب بَيَانِ قَدْرِ ثَوَابِ مَنْ غَزَا فَغَنِمَ وَمَنْ لَمْ يَغْنَمْ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ فَيُصِيبُونَ الْغَنِيمَةَ، إِلاَّ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الآخِرَةِ ، وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ، وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً ، تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ.
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "There is no troop that fights in the cause of Allah and acquires spoils of war, but they have received two thirds of their reward in advance, and one third remains for them. If they did not acquire any spoils of war, then they will have their reward in full."
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو لشکر اللہ کی راہ میں جہاد کےلیے جاتا ہے ، اور مال غنیمت حاصل کرتا ہے اسے آخرت کے ثواب کا دو تہائی حصلہ مل جاتا ہے،اور اس کا صرف ایک تہائی حصہ ثواب رہ جاتا ہے ، اور اگر ان کو مال غنیمت نہ ملے تو ان کا مکمل اجر ہوتا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ غَازِيَةٍ ، أَوْ سَرِيَّةٍ ، تَغْزُو فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ ، إِلاَّ كَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أُجُورِهِمْ ، وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ ، أَوْ سَرِيَّةٍ ، تُخْفِقُ وَتُصَابُ ، إِلاَّ تَمَّ أُجُورُهُمْ.
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'There is no troop or expedition that fights and acquires spoils of war but they have received two thirds of their reward in advance, and there is no troop or expedition that returns empty handed and wounded but they will receive their reward in full."'
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس غزوہ یا لشکر کے لوگ جہاد کریں اور مال غنیمت حاصل کرکے سلامتی سے واپس لوٹیں تو وہ اپنے ثواب کا دو تہائی حصہ دنیا میں ہی حاصل کرلیتے ہیں ، اور جس غزوہ یا لشکر کے لوگ خالی ہاتھ واپس لوٹیں اور نقصان اٹھائیں تو ان کو آخرت میں پورا ثواب ملے گا۔
45. باب قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ» وَأَنَّهُ يَدْخُلُ فِيهِ الْغَزْوُ وَغَيْرُهُ مِنَ الأَعْمَالِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.
It was narrated that 'Umar bin Al-Khattab said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Deeds are but with intentions and each man will have but that which he intended. If a man's emigration was in the cause of Allah and His Messenger, then his emigration was in the cause of Allah and His Messenger, but if his migration was to achieve some worldly aim or to take some woman in marriage, his emigration was for that for which he emigrated.'"
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اعمال کا دارمدار نیت پر ہے ، ہر آدمی کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ،سو جس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہی معتبر ہے ، اور جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت ایسی چیز کی طرف معتبر ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ زَيْدٍ (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ (ح) وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ (ح) وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ. وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
A similar Hadith (as no. 4927) was narrated from Yahya bin Sa'eed, with the chain of narration of Malik. In the Hadith of Sufyan (it says): "I heard 'Umar bin Al-Khattab on the Minbar narrating from the Prophet (s.a.w).''
یہ حدیث چھ اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے،بعض سندوں سے یہ روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہوکر نبیﷺسے یہ حدیث روایت کی۔
46. باب اسْتِحْبَابِ طَلَبِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ طَلَبَ الشّهَادَةَ صَادِقًا ، أُعْطِيَهَا ، وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ.
It was narrated that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever sincerely seeks martyrdom, (its reward) will be given to him, even if he does not achieve it."'
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی صدق دل سے شہادت کا طلبگار ہو اس کو شہادت کا ثواب دیا جاتا ہے خواہ وہ شہید نہ ہوا ہو۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: أَخْبَرَنَا ، وقَالَ حَرْمَلَةُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ ، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ: بِصِدْقٍ.
Sahl bin Abi Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from his father, from his grandfather, that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever sincerely asks Allah for martyrdom, Allah will cause him to attain the status of the martyrs, even if he dies in his bed."
سہل بن حنیف اپنے والد سے روایت کرتےہیں کہ نبیﷺنے فرمایا : جو آدمی صدق دل سے شہادت کا سوال کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو شہداء کے مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے ، خواہ وہ اپنے بستر پر فوت ہوا ہو، ابو الطاہر نے اپنی روایت میں صدق کا ذکر نہیں کیا۔
47. باب ذَمِّ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الأَنْطَاكِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وُهَيْبٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ ، وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ. قَالَ ابْنُ سَهْمٍ : قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : فَنُرَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever dies without having fought (in Jihad) or having thought of fighting, has died as a type of hypocrite."' Ibn Sahm said: "'Abdullah bin Al-Mubarak said: 'We think that that applied at the time of the Messenger of Allah (s.a.w)."'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی فوت ہوگیا اس حال میں کہ اس نے جہاد نہیں کیا تھا اور نہ ہی جہاد کی خواہش کی تھی ،اس کی موت نفاق کے ایک شعبہ پر ہوگی ، عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں یہ حکم رسول اللہﷺکے زمانہ کےساتھ خاص تھا۔
48. بابُ ثَوَابِ مَنْ حَبَسَهُ عَنِ الْغَزْوِ مَرَضٌ أَوْ عُذْرٌ آخَرُ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى غَزَاةٍ فَقَالَ « إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالاً مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلاَّ كَانُوا مَعَكُمْ حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ ».
It was narrated that Jabir said: "We were with the Prophet (s.a.w) on a campaign and he said: 'In Al-Madinah there are men and you have not covered any distance or crossed any valley but they were with you, but they were held back by sickness."'
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺکےساتھ ایک غزوہ میں تھے تو آپﷺنے فرمایا: یقینا مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جس جگہ سے گزرتے ہو یا جس وادی کو طے کرتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں ، ان کو مرض نے روکا ہے ۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ح) وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: إِلاَّ شَرِكُوكُمْ فِي الأَجْرِ.
It was narrated from Al-A'mash with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4932), except that in the Hadith of Waki' (it says): "But they shared the reward with you."
یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اجر میں شریک ہوتے ہیں۔
49. بابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَأَطْعَمَتْهُ ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ، يَشُكُّ أَيَّهُمَا ، قَالَ : قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَدَعَا لَهَا ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ ، فَنَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ ، كَمَا قَالَ فِي الأُولَى ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ. فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ ، فَهَلَكَتْ.
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) used to enter upon Umm Haram bint Milhan and she would give him food. Umm Haram was married to 'Ubadah bin As-Samit. The Messenger of Allah (s.a.w) entered upon her one day and she gave him some food, then she sat and checked his head for lice, and the Messenger of Allah (s.a.w) slept, then he woke up smiling. She said: "I said: 'Why are you smiling, O Messenger of Allah?' He said: 'Some people of my Ummah were shown to me, on a campaign in the cause of Allah, riding on the surface of this sea, kings on throne, or like kings on thrones."' - There is some uncertainty as to which he said. - She said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them.' He prayed for her, then he lay down his head and slept, then he woke up smiling." She said: "I said: 'Why are you smiling O Messenger of Allah?' He said: 'Some people of my Ummah have been shown to me, on a campaign in the cause of Allah,' as he had said the first time. She said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them.' He said: 'You will be one of the first ones.'" Umm Haram bint Milhan traveled by sea at the time of Mu'awiyah, then when she came ashore, she was riding her mount and she was thrown and died.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ام حرام بنت ملحان کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور وہ آپ ﷺ کو کھانا پیش کرتی تھیں اور ام حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں ایک دن رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے کھانا پیش کیا، پھر آپ ﷺ کے سر مبارک میں جوئیں دیکھنے لگیں (آپﷺ کا سر مبارک جوؤں سے پاک تھا) تو رسول اللہ ﷺ سو گئے پھر آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ مجاہدین دکھائے گئے جو اللہ کے راستے میں سمندر میں بادشاہوں کے تختوں کی طرح سواری پر سوار ہوکر جارہے تھے ، حضرت ام حرام کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے کر دے تو آپ ﷺ نے اس کے لئے دعا کی پھر آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے، پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ مجھے اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے جیسا کہ پہلی دفعہ فرمایا تھا، وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے پہلے گروہ میں سے ہو، پھر ام حرام بنت ملحان حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں سمندر میں سوار ہوگئیں جب وہ سمندر سے نکلیں تو اپنے جانور سے گر کر انتقال ہوگئیں۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ ، وَهِيَ خَالَةُ أَنَسٍ ، قَالَتْ : أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ عِنْدَنَا ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ ، فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، ؟ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ : أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ، فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : فَإِنَّكِ مِنْهُمْ ، قَالَتْ : ثُمَّ نَامَ ، فَاسْتَيْقَظَ أَيْضًا وَهُوَ يَضْحَكُ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ ، فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ. قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدُ ، فَغَزَا فِي الْبَحْرِ فَحَمَلَهَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَنْ جَاءَتْ قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ فَرَكِبَتْهَا فَصَرَعَتْهَا ، فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا.
It was narrated from Anas bin Malik that Umm Haram, who was the maternal aunt of Anas, said: "The Prophet (s.a.w) came to us one day and took a nap in our house, then he woke up smiling. I said: 'Why are you smiling, O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you?' He said: 'I have been shown some people of my Ummah riding on the surface of this sea, like kings on thrones.' I said: 'Pray to Allah to make me one of them.' He said: 'You will be one of them.'" She said: "Then he slept, then he woke again, smiling. I asked him (about that) and he said something similar. I said: 'Pray to Allah to make me one of them.' He said: 'You will be one of the first.'" He said: "'Ubadah bin As-Samit married her after that, and he went on a campaign by sea and took her with him. When she arrived, a mule was brought for her and she rode it, but she fell down and broke her neck.''
حضرت انس کی خالہ حضرت ام حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اورقیلولہ فرمایا پھر آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے میری امت میں سے ایک قوم دکھائی گئی جو بادشاہوں کے تختوں جیسے تختوں پر سمندر میں سواری کر رہے تھے میں نے عرض کیا: اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم انہیں میں سے ہو، وہ کہتی ہیں آپ ﷺ پھر سو گئے اور اسی طرح بیدار ہوئے کہ آپ ﷺ ہنس رہے تھے میں نے آپ ﷺ سے پوچھا، تو آپﷺنے پہلے کی طرح جواب دیا،میں نے عرض کیا: آپ ﷺ اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے،آپﷺ نے فرمایا: تم پہلے گروہ میں سے ہو ،پھر اس کے بعد ام حرام رضی اللہ عنہا سے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نکاح کرلیا، انہوں نے سمندر کے راستہ جہاد کیا اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ لے گئے ، جب وہ واپس لوٹیں تو ان کے پاس ایک خچر لایا گیا ، وہ اس پر سوار ہوئیں لیکن خچر نے ان کو گرادیا جس سے ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: نَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ ، يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الأَخْضَرِ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
It was narrated from Anas bin Malik from his maternal aunt Umm' Haram bint Milhan, that she said: "One day the Messenger of Allah (s.a.w) fell asleep near me, then he woke up smiling." She said: "I said: 'O Messenger of Allah, why are you smiling?' He said: 'Some people of my Ummah were shown to me, riding on the surface of this green sea.'" Then he mentioned a Hadith like that of Hammad bin Zaid (no. 4935).
حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے قریب سوگئے پھر آپﷺ بیدار ہوئے تو مسکرارہے تھے ، وہ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟ آپﷺنے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ مجھے دکھائے گئے جو اس سبز سمندر پر سوار ہوکر جارہے تھے ۔ اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنْتَ مِلْحَانَ ، خَالَةَ أَنَسٍ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عِنْدَهَا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ.
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abdur-Rahman that he heard Anas bin Malik say: "The Messenger of Allah (s.a.w) came to Bint Milhan, the maternal aunt of Anas, and lay down his head (to sleep) in her house..." and he quoted a Hadith like that of Ishaq bin Abi Talhah and Muhammad bin Yahya bin Habban (no. 4934, 4935).
عبد اللہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺان کی خالہ بنت ملحان کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس سر رکھ کر سوگئے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
50. باب فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ ، وَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ ، وَأَمِنَ الْفَتَّانَ.
It was narrated that Salman said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Guarding the frontier in the cause of Allah for one day and night is better than fasting and praying Qiyam for a month, and if he dies, the reward for his righteous deeds that he used to do will continue, and he will receive provision, and he will be safe from the trial of the grave."'
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک دن اور ایک رات بارڈر پر پہرہ دینا ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے ، اور اگر وہ مرگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا ، اور اس کا رزق جاری کیا جائے گا ، اور اس کو قبر کے فتنوں سے محفوظ کیا جائے گا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى.
A Hadith like that of Al-Laith from Ayyub bin Musa (no. 4938) was narrated from Salman Al-Khair, from the Messenger of Allah (s.a.w).
حضرت سلمان خیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت کی ہے۔