21. باب جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ، قَالَ أَنَسٌ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ. قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مُنْذُ يَوْمَئِذٍ.
Anas bin Malik said: "A tailor invited the Messenger of Allah (s.a.w) to a meal that he had made." Anas bin Malik said: "I went with the Messenger of Allah (s.a.w) to that meal, and he offered to the Messenger of Allah (s.a.w) some barley bread and some soup containing squash and strips of meat." Anas said: "I saw the Messenger of Allah (s.a.w) looking for the squash on all sides of the dish." He said: "I have not stopped liking squash since that day."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے کی دعوت دی، اور کچھ کھانا تیار کیا ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس دعوت میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ گیا ، اس نے رسول اللہﷺکے سامنے جو کی روٹی اور شوربہ رکھا ، اس میں کدو او رگوشت تھا ، حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺپیالہ میں سے کدو تلاش کررہے تھے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اسی دن سے کدو کو پسند کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْ ذَلِكَ الدُّبَّاءِ وَيُعْجِبُهُ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلاَ أَطْعَمُهُ. قَالَ : فَقَالَ أَنَسٌ : فَمَا زِلْتُ بَعْدُ يُعْجِبُنِي الدُّبَّاءُ.
It was narrated from Thabit that Anas said: "A man invited the Messenger of Allah (s.a.w), and I went with him. He brought some soup containing squash, and the Messenger of Allah (s.a.w) started to eat that squash and he liked it. When I saw that, I started to pass it to him and not eat it myself." And Anas said: "Since that time I have not stopped liking squash."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسو ل اللہ ﷺکو دعوت دی ، میں بھی آپﷺکے ساتھ گیا ، آپﷺکے لیے شوربے والا کدو لایا گیا ، رسول اللہﷺاس میں سے کدو کھارہے تھے ، کدو آپﷺکو پسند تھا ، جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے کدو آپﷺکے لیے رکھے اور خود نہیں کھائے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن کے بعد مجھے کدو بے حد پسند ہے۔
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلاً خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَزَادَ، قَالَ ثَابِتٌ: فَسَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ بَعْدُ أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُصْنَعَ فِيهِ دُبَّاءٌ إِلاَّ صُنِعَ.
It was narrated from Anas bin Malik that a man who was a tailor invited the Messenger of Allah (s.a.w). And he (the narrator) added: "Thabit said: 'I heard Anas say: "No food was made for me after that in which squash could be added, but it was added."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے رسول اللہﷺکو دعوت دی، ثابت کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دعوت کے بعد جب میں سالن پکواتا تو اگر ممکن ہوتا تو اس میں کدو ضرور ڈلواتا۔
22. باب اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الضَّيْفِ لأَهْلِ الطَّعَامِ وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الضَّيْفِ الصَّالِحِ وَإِجَابَتِهِ إِلَى ذَلِكَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي ، قَالَ : فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً ، فَأَكَلَ مِنْهَا ، ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ ، وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ، قَالَ شُعْبَةُ : هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الإِصْبَعَيْنِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ ، قَالَ : فَقَالَ أَبِي : وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ، ادْعُ اللَّهَ لَنَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ ، بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ.
It was narrated that 'Abdullah bin Busr said: "The Messenger of Allah (s.a.w) came to my father and we offered him some food and some Watbah. Then some dates were brought and he started eating them, putting the stones between his fingers and holding his forefinger and middle finger together" - Shu'bah said: "I think we learn from this that one may hold the date stones between two fingers, In sha Allah" - "Then some drink was brought and he drank it, then he passed it to the one who was on his right. My father said, taking hold of the reins of his riding-animal: 'Pray to Allah for us.' He said: 'Allahumma Barik lahum fi ma razaqtuhum, faghfirlahum farhamhum (O Allah, bless them in that which You have provided for them, and forgive them and have mercy on them.)"'
حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺمیرے والد کے پاس تشریف لائے ، ہم نے رسول اللہﷺکی خدمت میں کھانا ، پنیر اور برنی کھجور کاحلوہ پیش کیا ، آپﷺنے اس میں سے کچھ کھایا، پھر آپ کے پاس کھجوریں لائی گئیں ، آپﷺکھجوریں کھاتے او ردو انگلیوں کے درمیان گھٹلیاں ڈالتے اور شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو جمع کرتے ، شعبہ کہتے ہیں کہ میرا یہی خیا ل ہے اور اس حدیث میں ہے : ان شاء اللہ گھٹلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنا ، پھر آپ ﷺکے پاس ایک مشروب لایا گیا ، آپﷺنے اس کو پی کر دائیں طرف والے کو دیا ، پھر میرے والد نے آپﷺکی سواری کی لگام پکڑ کر کہا: ہمارے لیے اللہ سے دعا کیجئے گا ، آپﷺنے فرمایا:اے اللہ ! جو کچھ ان کودیا ہے اس میں برکت فرما، ان کی بخشش فرما او ران پر رحم فرما۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ (ح) وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَشُكَّا فِي إِلْقَاءِ النَّوَى بَيْنَ الإِصْبَعَيْنِ.
It was narrated from Shu'bah with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5328), but he did not express any doubt about holding the date stones between his fingers.
یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے اس میں گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنے کے بارے میں شعبہ کے شک کا ذکر نہیں ہے۔
23. باب أَكْلِ الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلاَلِيُّ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ.
It was narrated that 'Abdullah bin Ja'far said: "I saw the Messenger of Allah (s.a.w) eating cucumbers with fresh dates.''
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو دیکھا آپ کھجور کے ساتھ ککڑی کھارہے تھے۔
24. باب اسْتِحْبَابِ تَوَاضُعِ الآكِلِ وَصِفَةِ قُعُودِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، كِلاَهُمَا عَنْ حَفْصٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا.
Anas bin Malik said: "I saw the Messenger of Allah (s.a.w) (Muqi'yan) sitting and eating dates."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکو اقعاء کی صورت میں کھجوریں کھاتے ہوئے دیکھا۔ (اقعاء کا معنی یہ ہے کہ دونوں گھٹنے کھڑے کرکے سرین پر بیٹھا جائے۔)
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُهُ وَهُوَ مُحْتَفِزٌ ، يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلاً ذَرِيعًا.
وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ : أَكْلاً حَثِيثًا.
It was narrated that Anas said: "Some dates were brought to the Messenger of Allah (s.a.w), and the Prophet (s.a.w) started to distributing them while sitting, eating some of them quickly."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺکی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں ، نبی ﷺان کو تقسیم کرنے لگے ، آپ اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جیسے کوئی آدمی جلدی میں بیٹھتا ہے او رجلدی جلدی کھارہے تھے۔
25. باب نَهْيِ الآكِلِ مَعَ جَمَاعَةٍ عَنْ قِرَانِ تَمْرَتَيْنِ وَنَحْوِهِمَا فِي لُقْمَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَصْحَابِهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَبَلَةَ بْنَ سُحَيْمٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ ، وَكُنَّا نَأْكُلُ فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ ، فَيَقُولُ: لاَ تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الإِقْرَانِ ، إِلاَّ أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ. قَالَ شُعْبَةُ: لاَ أُرَى هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلاَّ مِنْ كَلِمَةِ ابْنِ عُمَرَ يَعْنِي الاِسْتِئْذَانَ -.
Jabalah bin Suhaim said: "Ibn Az-Zubair used to provide us with dates, as the people had been stricken with famine at that time. We were eating and Ibn 'Umar passed by us while we were eating, and he said: 'Do not eat two together, for the Messenger of Allah (s.a.w) forbade eating two together, unless a man asks his brother for permission."' Shu'bah (a narrator) said: "I think that these are the words of Ibn 'Umar," i.e. about asking permission.
جبلہ بن سحیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھجوریں کھلاتے تھے ، اس وقت لوگ قحط سالی میں مبتلا تھے ، اور جس وقت ہم کھجوریں کھا رہے ہوتے ، اور حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کا ہم سے گزر ہوتا تو فرماتے : دو دو کھجوریں ملاکر مت کھاؤ،کیونکہ رسو ل اللہ ﷺنے اس طرح ملاکر کھانے سے منع کیا ہے ،البتہ اگر کوئی اپنے بھائی سے اجازت لے تو کوئی حرج نہیں ۔ راوی شعبہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اجازت لینے کا قول حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کا ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا قَوْلُ شُعْبَةَ ، وَلاَ قَوْلُهُ: وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ.
It was narrated from Shu'bah with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5333). Their Hadith does not mention the words of Shu'bah or the comment that the people had been stricken with famine at that time.
یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے ، ان دونوں حدیثوں میں شعبہ کا قول نہیں ہے اور نہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں لوگ قحط میں مبتلا تھے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ.
It was narrated that Jabalah bin Suhaim said: "I heard Ibn 'Umar say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) forbade a man to eat two dates at once unless he asked permission from his companions."'
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنے ساتھیوں سے اجازت لیے بغیر دو دو کھجوروں کو ملاکر کھائے۔
26. باب فِي ادِّخَارِ التَّمْرِ وَنَحْوِهِ مِنَ الأَقْوَاتِ لِلْعِيَالِ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمُ التَّمْرُ.
It was narrated from 'Aishah that the Prophet (s.a.w) said: "No household will go hungry if they have dates."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: وہ گھروالے بھوکے نہیں ہوں گے جن کے پاس کھجوریں ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلاَءَ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَائِشَةُ ، بَيْتٌ لاَ تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ ، يَا عَائِشَةُ ، بَيْتٌ لاَ تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ ، أَوْ جَاعَ أَهْلُهُ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا.
It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O 'Aishah, a house in which there are no dates, its people will go hungry. O 'Aishah, a house in which there are no dates, its people will go hungry."' He said it two or three times.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ لوگ بھوکے ہیں ، اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ لوگ بھوکے ہیں، آپﷺنے یہ کلمات دو یا تین مرتبہ دہرائے۔
27. باب فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِمَّا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا حِينَ يُصْبِحُ ، لَمْ يَضُرَّهُ سُمٌّ حَتَّى يُمْسِيَ.
It was narrated from 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever eats seven dates from the area between the two lava fields in the morning, no poison will harm him until evening comes."
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے مدینے کے دو پتھریلے کناروں کے درمیان صبح کو سات کھجوریں کھائیں اس کو شام تک کوئی زہر نقصان نہیں پہنچائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً ، لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ ، وَلاَ سِحْرٌ.
'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas said: "I heard Sa'd say: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Whoever eats seven 'Ajwah dates in the morning, he will not be harmed by any poison or witchcraft that day."
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے صبح کو مدینہ منورہ کی سات عجوہ کھجوریں کھالیں اس دن اس کو نہ زہر نقصان پہنچاسکے گا، اور نہ ہی جادو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ (ح) وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، كِلاَهُمَا عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَلاَ يَقُولاَنِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
A similar report (as no. 5339) was narrated from Hashim bin Hashim with this chain from the Prophet (s.a.w)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے ، لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ میں نے نبیﷺسے سنا ہے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً ، أَوْ إِنَّهَا تِرْيَاقٌ ، أَوَّلَ الْبُكْرَةِ.
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "In the 'Ajwah dates of Al-'Aliyah (villages to the east of Al-Madinah) there is healing," or "they are an antidote first thing in the morning."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: (مدینہ کے ) بالائی حصہ کی عجوہ کھجوروں میں شفاء ہے ، یا صبح کو ان کا استعمال تریاق ہے۔
28. باب فَضْلِ الْكَمْأَةِ وَمُدَاوَاةِ الْعَيْنِ بِهَا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ (ح) وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعَمْرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ.
It was narrated that Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail said: "I heard the Prophet (s.a.w) say: 'Truffles are a kind of manna, and their juice is a healing for the eyes."'
حضرت عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کھمبی من (بنو اسرائیل والا من) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے ۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ.
Sa'eed bin Zaid said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Truffles are a kind of manna, and their juice is a healing for the eyes."'
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: کھنبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ شُعْبَةُ: لَمَّا حَدَّثَنِي بِهِ الْحَكَمُ لَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ.
It was narrated from Sa'eed bin Zaid, from the Prophet (s.a.w). Shu'bah (a narrator) said: "When Al-Hakam narrated it to me, I did not find it strange because of the (the previous versions of the) Hadith of 'Abdul-Malik (no. 5342)."
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: ۔۔۔ شعبہ کہتے ہیں کہ جب مجھ سے حکم نے یہ روایت بیان کی تو میں نے عبد الملک کی روایت کی وجہ سے اس کا انکار نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ.
It was narrated that Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Truffles are a kind of manna, which Allah sent down to the Children of Israel, and their juice is a healing for the eyes."'
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: کھنبی اس من سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اتارا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ.
It was narrated from 'Amr bin Huraith, from Sa'eed bin Zaid, that the Prophet (s.a.w) said: "Truffles are a kind of manna that Allah sent down to Musa, and their juice is a healing for the eyes."
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: کھنبی اس من سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ.
Sa'eed bin Zaid said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Truffles are a kind of manna that Allah sent down to the Children of Israel, and their juice is a healing for the eyes."'
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کھنبی اس من سے ہے جس کو اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل پر اتارا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : فَلَقِيتُ عَبْدَ الْمَلِكِ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ.
It was narrated that Sa'eed bin Zaid said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Truffles are a kind of manna, and their juice is a healing for the eyes.'"
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کھنبی من سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔
29. باب فَضِيلَةِ الأَسْوَدِ مِنَ الْكَبَاثِ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، وَنَحْنُ نَجْنِي الْكَبَاثَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ مِنْهُ ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَأَنَّكَ رَعَيْتَ الْغَنَمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ رَعَاهَا ، أَوْ نَحْوَ هَذَا مِنَ الْقَوْلِ.
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "We were with the Prophet (s.a.w) in Marr Az-Zahran and we were picking the fruit of the arak tree. The Prophet (s.a.w) said: 'You should choose the black ones.' We said: 'O Messenger of Allah, it is as if you once tended sheep.' He said: 'Yes. Was there any Prophet who did not tend sheep?' or words to that effect.''
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مر الظہران میں رسو ل اللہ ﷺکے ساتھ تھے او رہم پیلو چن رہے تھے ، رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: سیاہ پیلو چن لو، ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ایسا لگتا ہے جیسے آپﷺنے بکریاں چرائی ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں ، یا اس جیسی بات آپﷺنے کی۔
30. باب فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: نِعْمَ الأُدُمُ ، أَوِ الإِدَامُ ، الْخَلُّ.
It was narrated from 'Aishah that the Prophet (s.a.w) said: "What an excellent condiment is vinegar."
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: سرکہ کتنا ہی اچھا سالن ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُوسَى بْنُ قُرَيْشِ بْنِ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : نِعْمَ الأُدُمُ وَلَمْ يَشُكَّ.
Sulaiman bin Bilal narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5350).
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس میں الادم کا لفظ بغیر شک کے ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الأُدُمَ ، فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلاَّ خَلٌّ ، فَدَعَا بِهِ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ ، وَيَقُولُ: نِعْمَ الأُدُمُ الْخَلُّ ، نِعْمَ الأُدُمُ الْخَلُّ.
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) asked his family for condiments and they said: "We do not have anything but vinegar." He called for it and he started eating it, saying: "What an excellent condiment vinegar is, what an excellent condiment vinegar is."
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا ، انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے ، آپﷺ نے سرکہ منگا کر روٹی کھانا شروع کردی، اور آپﷺفرماتے جاتے ہیں : سرکہ کتنا ہی اچھا سالن ہے، سرکہ کتنا ہی اچھا سالن ہے۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ ، فَقَالَ: مَا مِنْ أُدُمٍ ؟ فَقَالُوا: لاَ إِلاَّ شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ ، قَالَ : فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الأُدُمُ. قَالَ جَابِرٌ: فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وقَالَ طَلْحَةُ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ جَابِرٍ.
Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) took me by the hand one day and (led me) to his house, and some pieces of bread were brought to him. He said: 'Is there any condiment?' They said: 'No, except a little vinegar.' He said: 'Vinegar is an excellent condiment."' Jabir said: "I have not stopped liking vinegar since I heard that from the Prophet of Allah (s.a.w)." Talhah said: "I have not stopped liking vinegar since I heard that from Jabir."
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺمیرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے ، آپﷺکے سامنے روٹی کے ٹکڑے لائے گئے ، آپﷺنے پوچھا: کوئی سالن ہے ؟ انہوں نے کہا: تھوڑا سا سرکہ ہے ، آپﷺنے فرمایا: سرکہ کتنا ہی اچھا سالن ہے ، حضرت جابر بن عبد ا للہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن سے میں نے رسو ل اللہﷺسے یہ سنا ہے میں سرکہ سے محبت کرتا ہوں او رحضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جس دن سے میں نے حضرت جابر سے یہ حدیث سنی ہے میں بھی سرکہ کو پسند کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ ...بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَى قَوْلِهِ : فَنِعْمَ الأُدُمُ الْخَلُّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
Jabir bin 'Abdullah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) took him by the hand and (led him) to his house... a Hadith like that of Ibn 'Ulayyah (no. 5353), up to the words; "What an excellent condiment vinegar is" and he did not mention what came after that.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺمیرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے ، یہ بھی مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، اس میں یہ ذکر ہے کہ سرکہ کتنا ہی اچھا سالن ہے اور اس کے بعد کا حصہ نہیں ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي دَارِي ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ ، فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي ، فَدَخَلْتُ الْحِجَابَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ: هَلْ مِنْ غَدَاءٍ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَأُتِيَ بِثَلاَثَةِ أَقْرِصَةٍ ، فَوُضِعْنَ عَلَى نَبِيٍّ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْصًا ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَأَخَذَ قُرْصًا آخَرَ ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيَّ ، ثُمَّ أَخَذَ الثَّالِثَ ، فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ ، فَجَعَلَ نِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَنِصْفَهُ بَيْنَ يَدَيَّ ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ مِنْ أُدُمٍ ؟ قَالُوا: لاَ إِلاَّ شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ ، قَالَ: هَاتُوهُ ، فَنِعْمَ الأُدُمُ هُوَ.
Jabir bin 'Abdullah said: "I was sitting in a house and the Messenger of Allah (s.a.w) passed by me. He gestured to me so I stood up, and he took hold of my hand and we set off until we came to the apartment of one of his wives. He went in, then he gave me permission to enter, and I entered beyond the curtain. He said: 'Is there anything for breakfast?' They said: 'Yes.' Three loaves of bread were brought to him, which they put on a tray of palm leaves. The Messenger of Allah (s.a.w) took one loaf and put it in front of him,' and he took another loaf and put it in front of me, then he took the third loaf and broke it in two, putting one half in front of him and one in front of me. Then he said: 'Is there any condiment?' They said: 'No, except a little vinegar.' He said: 'Bring it, what an excellent condiment it is.'"
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو رسول اللہﷺمیرےپاس سے گزرے ،آپﷺنے میری طرف اشارہ کیا ، میں اٹھ کر آپﷺکے پاس آیا ، آپﷺنے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم چل پڑے ، یہاں تک کہ آپﷺ ازواج مطہرات کے حجروں میں سے کسی کے حجرے پر آئے ، آپ وہاں داخل ہوگئے اور مجھے بھی آنے کی اجازت دی ، ازواج مطہرات نے پردہ کرلیا ، آپﷺنے فرمایا: کچھ کھانے کو ہے ، گھر والوں نے کہا: ہے ، اور تین روٹیاں لائی گئیں اور ان کو نبیﷺکے سامنے رکھ دیا گیا ، رسول اللہﷺنے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھی ، پھر آپﷺنے تیسری روٹی کے دو ٹکڑے کیے ، آدھی میرے سامنے رکھی اور آدھی اپنے سامنے رکھ لی ، پھر آپﷺنے پوچھا: کچھ سالن بھی ہے ؟ گھر والوں نے کہا: سرکہ کے سوا اور کچھ نہیں ہے ، آپﷺنے فرمایا: لے آؤ ، وہ کتنا ہی اچھا سالن ہے ۔