- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First234

31. باب إِبَاحَةِ أَكْلِ الثُّومِ وَأَنَّهُ يَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ خِطَابِ الْكِبَارِ تَرْكُهُ وَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ ، وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ ، وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا بِفَضْلَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا ، لأَنَّ فِيهَا ثُومًا ، فَسَأَلْتُهُ: أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ: لاَ ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ ، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ.

It was narrated that Abu Ayyub Al-Ansari said: "When food was brought to the Messenger of Allah (s.a.w), he would eat some of it and send the leftovers to me. One day he sent food of which he had not eaten anything, because there was garlic in it. I asked him: 'Is it Haram?' He said: 'No, but I dislike it because of its smell."' He said: "And I dislike that which he disliked."

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسو ل اللہﷺکے پاس کوئی کھانا لایا جاتا تو آپﷺاس میں سے کھالیتے ، اور جو باقی بچتا وہ میرے پاس بھیج دیتے، ایک دن آپﷺنے میرے پاس کھانا بھیجا جس میں سے آپﷺنے بالکل نہیں کھایا ، کیونکہ اس میں (کچا) لہسن تھا ،میں نے آپﷺسے پوچھا : کیا یہ حرام ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: نہیں ، لیکن میں اس کی بدبو کی وجہ سے اس کو ناپسند کرتا ہوں ، میں نے عرض کیا : جو آپ کو ناپسند وہ مجھے ناپسند ہے ۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Shu'bah with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5357).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، وَاللَّفْظُ مِنْهُمَا قَرِيبٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، فِي رِوَايَةِ حَجَّاجٍ: ابْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الأَحْوَلُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّفْلِ ، وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعِلْوِ ، قَالَ : فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً ، فَقَالَ: نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَنَحَّوْا فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : السُّفْلُ أَرْفَقُ ، فَقَالَ : لاَ أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا ، فَتَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ ، وَأَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ ، فَكَانَ يَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَإِذَا جِيءَ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِهِ فَيَتَتَبَّعُ مَوْضِعَ أَصَابِعِهِ ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ ، فَلَمَّا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ لَهُ: لَمْ يَأْكُلْ ، فَفَزِعَ وَصَعِدَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ: أَحَرَامٌ هُوَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ ، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ ، أَوْ مَا كَرِهْتَ. قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى.

It was narrated from Abu Ayyub that the Prophet (s.a.w) came and stayed in his house. The Prophet (s.a.w) stayed on the lower floor and Abu Ayyub was on the top floor. Abu Ayyub got up one night and said: "We are walking above the head of the Messenger of Allah (s.a.w)." So they moved aside and spend the night in a corner. Then he spoke to the Prophet (s.a.w) (about that) and the Prophet (s.a.w) said: "The lower floor is more comfortable." He said: "I will not live on a roof beneath which you are." So the Prophet (s.a.w) moved to the upper floor and Abu Ayyub moved to the lower floor. He used to make food for the Prophet (s.a.w), and when it was brought back to him, he would ask where his fingers had touched it, and he would follow the place where his fingers had been. He made him some food that contained garlic, and when it was brought back to him he asked where his fingers had touched it, and it was said to him: "He did not eat any of it." He got worried and went up to him, and said: "Is it lfaram?" The Prophet (s.a.w) said: "No, but I do not like it." He said: "I dislike what you dislike." He said: "And the Revelation used to come to the Prophet (s.a.w)."

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺان کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے اور نچلی منزل میں رہے ، اور حضرت ابو ایوب اوپر والی منزل میں تھے ، ایک رات حضرت ابو ایوب بیدار ہوئے تو خیال آیا ہم رسو ل اللہ ﷺکے سر کے اوپر چل رہے ہیں ، سو وہ آپ کی جانب سے ایک طرف ہٹ گئے ، اور دوسری جانب سوگئے ، پھر صبح کو نبی ﷺسے یہ واقعہ ذکر کیا ، نبیﷺنے فرمایا: نچلی منزل میں زیادہ سہولت ہے ، حضرت ابو ایوب نے کہا: میں اس چھت کے اوپر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ تشریف فرما ہوں ، تب نبیﷺاوپر کی منزل میں تشریف لے آئے اور حضرت ابو ایوب نچلی منزل میں آگئے ، حضرت ابو ایوب نبیﷺکے لیے کھانا تیار کرتے تھے ، ان کے پاس لایا جاتا تو وہ پوچھے کہ آپﷺنے کس جانب سے کھایا تھا اور کس جگہ آپ کی انگلیاں لگی تھیں ؟ پھر وہ آپ کی انگلیوں کے لگنے کی جگہ سے کھاتے ، ایک دن انہوں نے نبی ﷺکے لیے کھایا تیار کیا جس میں کچا لہسن تھا ، جب وہ کھانا ان کے پاس لوٹایا گیا تو انہوں نے دریافت کیا:اس میں نبی ﷺکی انگلیاں کہاں لگی تھیں ؟ حضرت ابو ایوب کو بتایا گیا کہ نبیﷺنے اس میں سے نہیں کھایا ، حضرت ابو ایوب گھبرا گئے اور اوپر جاکر عرض کیا : کیا یہ حرام ہے ؟ نبیﷺنے فرمایا: نہیں ، لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں ، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: جس کو آپ نا پسند کرتے ہیں اس کو میں بھی ناپسند کرتا ہوں ، حضرت ابو ایوب کہتے ہیں کہ نبی ﷺکے پاس وحی لائی جاتی تھی۔

32. باب إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْلِ إِيثَارِهِ

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: إِنِّي مَجْهُودٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا عِنْدِي إِلاَّ مَاءٌ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ : لاَ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا عِنْدِي إِلاَّ مَاءٌ ، فَقَالَ : مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ ؟ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَنَا ، يَا رَسُولَ اللهِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ ، فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ: لاَ إِلاَّ قُوتُ صِبْيَانِي ، قَالَ : فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئِ السِّرَاجَ ، وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ ، فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ ، قَالَ: فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: 'I am starving.' He sent word to one of his wives and she said: 'By the One Who has sent you with the truth, I do not have anything but water.' Then he sent word to another of his wives, and she said something similar, until all of them had said that: 'No, by the One Who has sent you with the truth, I do not have anything but water.' He said: 'Who will host this man tonight, and Allah will have mercy on him?' An Ansari man stood up and said: 'I will, O Messenger of Allah.' He took him to his house and said to his wife: 'Do you have anything?' She said: 'No, only the food for my children.' He said: 'Distract them with something, then when our guest comes in, extinguish the lamp and make him think that we are eating. Then when he wants to eat, go to the lamp and extinguish it.' They sat and the guest ate, and the following morning he went to the Prophet (s.a.w), who said: 'Allah is pleased with what you two did for your guest last night."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسو ل اللہﷺکے پاس آیا اور کہا: میں فاقہ سے ہوں ، آپﷺنے اپنی کسی زوجہ کی طرف پیغام بھیجا ہے انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ، پھر آپﷺنے دوسری زوجہ کی طرف پیغام بھیجا ، انہوں نےبھی اسی طرح کہا، یہاں تک کہ سب نے یہی کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپﷺکو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ، بالآخر آپﷺنے فرمایا: جو آدمی اس کو آج رات مہمان بنائے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا ، انصار میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہوکر کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کو میں مہمان بناؤں گا ، وہ آدمی اس مہمان کو اپنے گھر لے گیا اوربیوی سے پوچھا : تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے کہا: صرف بچوں کا کھانا ہے ، اس نے کہا: بچوں کو کسی اور چیز سے بہلادو ، جب ہمارا مہمان آئے گا تو چراغ بجھا دینا اور اس پر یہ ظاہر کرنا کہ کھانا کھار ہے ہیں ۔اور جب وہ کھانا کھانے لگے تو چراغ کے پاس جاکر اس کو بجھادینا، پھر وہ سب بیٹھ گئے او رمہمان نے کھانا کھالیا ، جب صبح کو وہ نبیﷺکے پاس آئے تو نبیﷺنے فرمایا: تم نے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہوا۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلاَّ قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ ، فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ: نَوِّمِي الصِّبْيَةَ ، وَأَطْفِئِ السِّرَاجَ ، وَقَرِّبِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَكِ ، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ}.

It was narrated from Abu Hurairah that an Ansari man had a guest one night, and he did not have anything but food for himself and his children. He said to his wife: "Put the children to sleep and extinguish the lamp, then serve what you have to the guest." He said: "And this Verse was revealed: '...And give them (emigrants) preference over themselves even though they were in need of that.''

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مہمان نے رات گزاری ، اس انصاری کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھانا تھا ، اس نے اپنی بیوی سے کہا: بچوں کو سلادو اور چراغ بجھادو ، اور تمہارے پاس جو کھانا ہے وہ مہمان کے آگے رکھ دو، تب یہ آیت نازل ہوئی " جو لوگ محتاج ہونے کے باوجود اپنی ضروریات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں"۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُضِيفَهُ ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَا يُضِيفُهُ ، فَقَالَ: أَلاَ رَجُلٌ يُضِيفُ هَذَا رَحِمَهُ اللَّهُ ؟ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو طَلْحَةَ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَذَكَرَ فِيهِ نُزُولَ الآيَةِ كَمَا ذَكَرَهُ وَكِيعٌ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Messenger of Allah (s.a.w) to be hosted as a guest, but he did not have anything to offer him. He said: 'Won't some man host him, and Allah will have mercy on him?' An-Ansari man who was called Abu Talhah stood up and took him to his house..." and he quoted a Hadith like that of Jarir (no. 5359), and he mentioned the revelation of the Verse as Waki' mentioned it (no. 5360).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہﷺکے پاس بطور مہمان آیا اور آپ کے پاس اس کی مہمانی کے لیے کچھ نہ تھا ، آپﷺنے فرمایا: کیا کوئی آدمی اس کو مہمان بنائے گا ؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا ، انصار میں سے ابو طلحہ نامی آدمی اٹھا اور اس مہمان کو اپنے گھر لے گیا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہےاور اس حدیث میں آیت کی شان نزول ذکر کیا جس طرح وکیع نے اس کو ذکر کیا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِقْدَادِ ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي ، وَقَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ ، فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَقْبَلُنَا ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى أَهْلِهِ ، فَإِذَا ثَلاَثَةُ أَعْنُزٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا ، قَالَ : فَكُنَّا نَحْتَلِبُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا نَصِيبَهُ ، وَنَرْفَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ ، قَالَ : فَيَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ نَائِمًا ، وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ ، قَالَ : ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ، ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُ ، فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ شَرِبْتُ نَصِيبِي ، فَقَالَ: مُحَمَّدٌ يَأْتِي الأَنْصَارَ فَيُتْحِفُونَهُ ، وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَى هَذِهِ الْجُرْعَةِ ، فَأَتَيْتُهَا فَشَرِبْتُهَا ، فَلَمَّا أَنْ وَغَلَتْ فِي بَطْنِي ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ ، قَالَ: نَدَّمَنِي الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ، مَا صَنَعْتَ أَشَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ ، فَيَجِيءُ فَلاَ يَجِدُهُ فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكُ فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ ، وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ إِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى قَدَمَيَّ خَرَجَ رَأْسِي ، وَإِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى رَأْسِي خَرَجَ قَدَمَايَ ، وَجَعَلَ لاَ يَجِيئُنِي النَّوْمُ ، وَأَمَّا صَاحِبَايَ فَنَامَا وَلَمْ يَصْنَعَا مَا صَنَعْتُ ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ عَنْهُ ، فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقُلْتُ : الآنَ يَدْعُو عَلَيَّ فَأَهْلِكُ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ ، أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي ، وَأَسْقِ مَنْ أَسْقَانِي ، قَالَ : فَعَمَدْتُ إِلَى الشَّمْلَةِ فَشَدَدْتُهَا عَلَيَّ ، وَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الأَعْنُزِ أَيُّهَا أَسْمَنُ ، فَأَذْبَحُهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هِيَ حَافِلَةٌ ، وَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ كُلُّهُنَّ ، فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءٍ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ ، قَالَ : فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّى عَلَتْهُ رَغْوَةٌ ، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَشَرِبْتُمْ شَرَابَكُمُ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اشْرَبْ ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اشْرَبْ ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَنِي ، فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَوِيَ وَأَصَبْتُ دَعْوَتَهُ ، ضَحِكْتُ حَتَّى أُلْقِيتُ إِلَى الأَرْضِ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِحْدَى سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَانَ مِنْ أَمْرِي كَذَا وَكَذَا وَفَعَلْتُ كَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذِهِ إِلاَّ رَحْمَةٌ مِنَ اللهِ ، أَفَلاَ كُنْتَ آذَنْتَنِي فَنُوقِظَ صَاحِبَيْنَا فَيُصِيبَانِ مِنْهَا ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أُبَالِي إِذَا أَصَبْتَهَا وَأَصَبْتُهَا مَعَكَ مَنْ أَصَابَهَا مِنَ النَّاسِ.

It was narrated that Al-Miqdad said: "I came with two companions of mine, and our hearing and sight had been affected by hunger. We presented ourselves to the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w), but none of them could host us. We came to the Prophet (s.a.w) and he took us to his family. There were three goats there and the Prophet (s.a.w) said: 'Milk them and we will share the milk.' We used to milk them and each one of us would drink his share, and we would set aside the Prophet's share for him. He would come at night and would say Salam in such a manner that would not wake one who was sleeping, but one who was awake would hear it. Then he would go to the Masjid and pray, then he would come to his drink and drink it. One night the Shaitan came to me when I had drunk my share and said: 'Mulhammad has gone to the Ansar and they are offering him hospitality, and he will have with them something that will leave him in no need of this draught (of milk).' So I went and drank it, and when it had penetrated deeply into my stomach and I realized that it was too late, the Shaitan made me regret it and he said: 'Woe to you, what have you done? Have you drunk the drink of Muhammad (s.a.w)? He will come and will not find it, then he will pray against you and you will be doomed, and you will be a loser in this world and in the Hereafter.' I had a sheet over me; if I covered my feet with it my head was exposed, and if I covered my head with it my feet were exposed. I could not sleep, but my two companions had gone to sleep and they had not done what I had done. The Prophet (s.a.w) came and said Salam as he usually did, then he went to the Masjid and prayed. Then he came to his drink and uncovered it, and he did not find anything in it. He looked up at the sky and I said: 'Now he is praying against me and I am doomed.' But he said: 'O Allah, feed those who have fed me and give drink to those who have given me to drink.' I wrapped the blanket tightly around me and I took a knife and went to the goats, to see which of them was the fattest so that I could slaughter it for the Messenger of Allah (s.a.w), but its udder was full of milk, and they all had udders full of milk. I went to a vessel that belonged to the family of Muhammad (s.a.w), that they used for milking, and I milked (the goat) into it until it filled with foam, and I brought it to the Messenger of Allah (s.a.w). He said: 'Did you have your drinks . tonight?' I said: 'O Messenger of Allah, drink.' He drank and handed it back to me. I said: 'O Messenger of Allah, drink.' He drank then handed it back to me. When I realized that the Prophet (s.a.w) had drunk his fill and I had earned the blessing (of his supplication), I laughed so much that I fell to the ground. The Prophet (s.a.w) said: 'Have you been up to no good, O Miqdad?' I said: 'O Messenger of Allah, what happened is such-and-such and I did such-and-such.' The Prophet (s.a.w) said: 'This is nothing but a mercy from Allah, Glorified and Exalted is He. Why didn't you tell me so that we could have woken our two companions and they could have had some?' I said: 'By the One Who has sent you with the truth, if you get your share, and I get some with you, I would not care whoever else gets some."'

حضرت مقداد بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے دونوں ساتھی آئے ، بھوک اور مشقت کی وجہ سے ہماری سماعت اور بصارت جاتی رہی تھی ، ہم خود کو رسو ل اللہ ﷺکے صحابہ پر پیش کرتے لیکن ان میں سے کوئی ہمیں قبول نہیں کررہا تھا ، پھر ہم نبیﷺکے پاس آئے ، آپﷺہمیں اپنے گھر لے گئے ، وہاں پر تین بکریاں تھیں ، نبیﷺنے فرمایا: ہمارے سامنے ان کا دودھ نکالو، ہم ان کا دودھ نکالتے اور ہر آدمی اپنا حصہ پی لیتا ، اور نبی ﷺکا حصہ اٹھاکر رکھ دیتے ، آپﷺرات کو تشریف لاتے تو اس طرح سلام کرتے جس سے سونے والا بیدار نہیں ہوتا ، او ر جاگنے والا سن لیتا ، پھر آپﷺمسجد میں جاکر نماز پڑھتے ،پھر آتے اور اپنے حصے کا دودھ پیتے ، ایک رات شیطان میرے پاس آیا ، میں اس وقت اپنے حصے کا دودھ پی چکا تھا ، اس نے کہا: محمد ﷺانصار کے پاس جاتے ہیں اور وہ ان کو ان کی ضروریات کے مطابق ہدیے اور تحفے دیتے ہیں ، اور یہ جو دو چار گھونٹ دودھ پڑا ہے ، اس کی آپ ﷺکو کیا حاجت ہوگی ، سو میں نے جاکر اس دودھ کو پی لیا او رجب وہ دودھ میرے پیٹ میں سما گیا اور میں نے جان لیا اب اس کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے تو شیطان نے مجھے شرمندہ کرنا شروع کردیا اور کہا: تم پر افسوس ہے ! یہ تم نے کیا کیا ؟ تم نے محمد ﷺکے حصے کا دودھ پی لیا ، اب جب وہ آئیں گے او ران کو دودھ نہیں ملے گا تو وہ تم پر بددعا کریں گے ، پھر تم ہلاک ہوجاؤ گے ، تمہاری دنیا اور آخرت دونوں برباد ہوجائیں گی ، میرے پاس ایک چادر تھی ، میں اگر اس کو پیروں پر ڈالتا تو سر کھل جاتا اور اگر سر پر ڈالتا تو پاؤں کھل جاتے ، مجھے نیند نہیں آرہی تھی، اور میرے دونوں ساتھی سورہے تھے ، انہوں نے وہ کام نہیں کیا جو میں نے کیا تھا ، بالآخر نبی ﷺتشریف لائے اور معمول کے مطابق سلام کیا ، او رمسجد میں جاکر نماز پڑھی ، پھر آپﷺدودھ کے پاس آئے برتن کھولا تو اس میں کچھ بھی نہ تھا ، پھر آپﷺنے آسمان کی طرح سر اٹھایا ، میں نے دل میں سوچا اب آپ ﷺ میرے لیے بد دعا کریں گے اور میں ہلاک ہوجاؤں گا ، آپﷺنے فرمایا: اے اللہ ! جو مجھے کھلائے ا س کو کھلا اور جو مجھے پلائے ا سکو پلا ، یہ سن کر میں نے چادر کو مضبوط باندھا اور چھری لیکر چلا کہ جو موٹی سی بکری ہو اس کو رسو ل اللہﷺکے لیے ذبح کروں ، میں نے دیکھا اس کے تھن دودھ سے بھر ے ہوئے ہیں بلکہ سب بکریوں کےتھن بھر ے ہوئے ہیں ، میں نے محمد ﷺکے گھر والوں کے برتنوں میں سے وہ برتن لیا جس میں وہ دودھ دوہتے تھے ، پھر میں نے ا س میں دودھ دوہا یہاں تک کہ وہ جھاگ سے بھر گیا ، پھر میں رسو ل اللہﷺکی خدمت میں آیا ، آپﷺنے فرمایا: تم نے رات کو اپنے حصہ کا دودھ پی لیا تھا ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ!آپ پی لیجئے آپﷺنے دودھ پی لیا ، پھر مجھے دیا ، میں نے کہا: اے اللہ کے رسو لﷺ! آپ ﷺ پی لیجئے آپﷺنے پی کر پھر مجھے دیا ، جب میں نے جان لیا کہ رسو ل اللہﷺسیر ہوگئے ہیں اور میں نے آپﷺکی دعا کو پالیا ہے تومیں کھلکھلاکر ہنس پڑا اور ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگیا ، نبی ﷺنے فرمایا: اے مقداد! یہ تمہاری ایک بری خصلت ہے ، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!میرے ساتھ یہ معاملہ ہوا اور میں نے ایسے ایسے کیا ، نبیﷺنے فرمایا: یہ دودھ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت تھا ، تم نے مجھے اس وقت کیوں نہیں بتایا ؟ میں تمہارے دو ساتھیوں کو بھی جگادیتا اور وہ بھی اس رحمت سے حصہ لے لیتے ، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپﷺکو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، جب یہ دودھ آپﷺنے پی لیا اور آپ کے بعد میں نے بھی پی لیا تو اب مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی او راس دودھ کو پیئے یا نہ پیئے ۔


وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Sulaiman bin Al-Mughirah narrated it with this chain of narrators (a similar Hadith as no. 5362).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، جَمِيعًا عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، وَحَدَّثَ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثِينَ وَمِئَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ ؟ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ ، أَوْ نَحْوُهُ ، فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ ؟ ، أَوْ قَالَ : أَمْ هِبَةٌ ؟ فَقَالَ : لاَ بَلْ بَيْعٌ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً ، فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى ، قَالَ : وَايْمُ اللهِ ، مَا مِنَ الثَّلاَثِينَ وَمِئَةٍ إِلاَّ حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا ، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ. قَالَ: وَجَعَلَ قَصْعَتَيْنِ فَأَكَلْنَا مِنْهُمَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا ، وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ ، فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ ، أَوْ كَمَا قَالَ.

It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abi Bakr said: "We were one hundred and thirty men with the Prophet (s.a.w) and the Prophet (s.a.w) said: 'Does any one among you have any food?' One man had a Sa' of foodstuff or the like, so he made some dough. Then a man, a tall Mushrik (idolater) with disheveled hair, came along with some sheep that he was driving. The Prophet (s.a.w) said: 'Will you sell one or give it as a gift?' He said: 'No, I will sell it.' So he bought a sheep from him, and it was slaughtered and prepared . The Messenger of Allah (s.a.w) ordered that its liver be grilled. By Allah, there was no one among those one hundred and thirty who was not given his share of that liver by the Messenger of Allah (s.a.w). If he was present, he gave it to him, and if he was absent he set it aside for him. And he set out two large bowls from which we all ate our fill, and there was some left over, which I loaded onto a camel."

حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے ساتھ ہم ایک سو تیس آدمی تھے ، نبی ﷺنے فرمایا: تم میں سے کسی آدمی کے پاس کھانا ہے ؟ ایک آدمی کے پاس ایک صاع آٹا تھا یا اس جیسا ، اس آٹے کو گوندھا گیا ،پھر ایک پراگندہ بالوں والا ، لمبے قد والا مشرک آیا ،جو اپنی بکریوں کو چرارہا تھا ، نبی ﷺنے فرمایا: یہ بکریاں فروخت کروگے یا یونہی بطور عطیہ یا ہبہ دو گے ؟ اس نے کہا: نہیں ، بلکہ میں یہ فروخت کروں گا ، آپﷺنے اس سے ایک بکری خرید لی ، اس کا گوشت تیار کیا گیا ، رسول اللہﷺنے اس کی کلیجی بھوننے کا حکم دیا ، حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہﷺنے ان ایک سو تیس آدمیوں میں سے ہر آدمی کو اس کلیجی سے ایک حصہ دیا ، جو آدمی موجود تھا اس کو حصہ دے دیا او رجو موجود نہیں تھا اس کا حصہ رکھ لیا گیا ، آپﷺنے وہ گوشت دو پیالوں میں ڈالا اور ہم سب نے اس میں سے کھایا اور سیر ہوگئے ، ان پیالوں میں کھانا پھر بھی بچ گیا ، میں نے اس کو اونٹ پر رکھ لیا یا جس طرح راوی نے بیان کیا۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَالَ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ ، كَانُوا نَاسًا فُقَرَاءَ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مَرَّةً: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَلاَثَةٍ ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ ، بِسَادِسٍ ، أَوْ كَمَا قَالَ : وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلاَثَةٍ ، وَانْطَلَقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ بِثَلاَثَةٍ ، قَالَ : فَهُوَ وَأَنَا وَأَبِي وَأُمِّي ، وَلاَ أَدْرِي هَلْ قَالَ : وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَلَبِثَ حَتَّى نَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ ، أَو قَالَتْ : ضَيْفِكَ ؟ قَالَ : أَوَ مَا عَشَّيْتِهِمْ ؟ قَالَتْ : أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ ، قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ ، قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ ، وَقَالَ: يَا غُنْثَرُ ، فَجَدَّعَ وَسَبَّ ، وَقَالَ : كُلُوا لاَ هَنِيئًا ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لاَ أَطْعَمُهُ أَبَدًا ، قَالَ: فَايْمُ اللهِ ، مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلاَّ رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا ، قَالَ: حَتَّى شَبِعْنَا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ ، أَوْ أَكْثَرُ ، قَالَ لاِمْرَأَتِهِ : يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا ؟ قَالَتْ : لاَ وَقُرَّةِ عَيْنِي ، لَهِيَ الآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلاَثِ مِرَارٍ ، قَالَ : فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ ، ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً ، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ ، قَالَ: وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ ، فَمَضَى الأَجَلُ فَعَرَّفْنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ ، إِلاَّ أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ ، أَوْ كَمَا قَالَ.

'Abdur-Rahman bin Abi Bakr narrated that the people of As-Suffah were poor people, and on one occasion the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever has enough food for two people, let him take three with him, and whoever has enough food for four people, let him take a fifth or a sixth with him," or words to that effect. Abu Bakr took three people with him and the Prophet of Allah (s.a.w) took ten. Abu Bakr took three" and he (the narrator) said: "That was me and my father and my mother" - and I do not know if he said: - "and my wife and a servant whom we shared with the household of Abu Bakr." "Abu Bakr ate dinner with the Prophet (s.a.w), then he stayed until 'Isha' prayer was offered, then he went back and stayed until the Messenger of Allah (s.a.w) became drowsy, and he came after as much of the night had passed as Allah willed. His wife said to him: "What kept you away from your guests?" Or she said: "Your guest." He said: "Have you not given them dinner?" She said: "They refused (to eat) until you came." They brought the food to them, but they insisted on not eating. I went and hid myself, and he said: "O ignorant fellow!" And he reprimanded me and berated me. He said: "Eat, but you may not enjoy it." And he said: "By Allah, I will never eat it. By Allah, we did not take any morsel but there appeared beneath it more of it, until we had eaten our fill and there was more of it than before." Abu Bakr looked at it and saw that it was as it had been before or more than that. He said to his wife: "O sister of Banu Firas, what is this?" She said: "No, O apple of my eye, now it is three times more than it was before." Abu Bakr ate some of it and said: "That was from the Shaitan" - meaning his oath. Then he ate a morsel of it and took it to the Messenger of Allah (s.a.w), and the Messenger of Allah (s.a.w) found it in the morning." He said: "There was a treaty between us and some people which came to an end, and we were divided into twelve groups, each of which was headed by a man, and Allah knows best how many were with each man. But the Prophet (s.a.w) sent a leader with each group, and all of them ate from it."

حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب صفہ فقراء لوگ تھے ، ایک دفعہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے کو لے جائے اور جس کے پاس چار کا کھانا ہوتو وہ پانچویں کو لے جائے یا چھٹے کو بھی لے جائے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تین آدمیوں کو لے آئے ، اور رسول اللہﷺدس آدمیوں کو لے آئے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تین کو لائے تھے ، حضرت عبد الرحمن نے کہا: میں ، میرے والد اور میری والدہ تھی ، راوی کہتے ہیں : مجھے یاد نہیں شاید انہوں نے کہا تھا : اور میری بیوی تھی اور ایک خادم تھا جو میرے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر مشترک تھا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ شام کا کھانا رسول اللہﷺکے ساتھ کھاتے تھے ، پھر آپ ﷺکے پاس ٹھہرتے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھ لی جاتی ، پھر واپس لوٹتے ، پھر آپ کے پاس ٹھہرتے یہاں تک کہ رسول اللہﷺکو نیند آجاتی پھر جب رات کا اتنا حصہ گزر گیا جتنا اللہ کو منظور تھا تب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گھر آئے ، حضرت ابو بکر سے ان کی بیوی نے کہا: آپﷺ اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر کہاں رہ گئے تھے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے ان کو کھانا نہیں کھلایا ؟ بیوی نے کہا: انہوں نے آپ کے بغیر کھانے سے انکار کردیا ، ان کے سامنے کھانا پیش کیا گیا مگر وہ نہیں مانے ، حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں : میں بھاگ کر چھپ گیا ۔ حضرت ابو بکر نے کہا: او جاہل ! اللہ تیری ناک کاٹ ڈالے اور مجھے برا بھلا کہنے لگے : اور مہمانوں سے کہا: کھانا کھاؤ ، اللہ کرے تمہارے لیے یہ کھانا خوش گوار نہ ہو، اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اب کبھی بھی نہیں کھاؤں گا ۔ حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ہم جو لقمہ بھی اٹھاتے تھے ، نیچے سے اور نکل آتا تھا اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ ہوجاتا تھا ،یہاں تک کہ ہم سیر ہوگئے اور وہ کھانا پہلے سے زیادہ ہوگیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب کھانے کودیکھا تو وہ پہلے جتنا بلکہ اس سے زیادہ تھا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا: اے بنو فراس کی بہن! یہ کہا ہے ؟ انہوں نے کہا: میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم ! یہ کھانا تو پہلے سے تین گنا زیادہ ہے ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کھانے میں سے کھایا اور کہا: ان کا وہ قسم کھانا محض شیطانی فعل تھا ، پھر رسول اللہ ﷺکے پاس وہ کھانا لے گئے ، آپﷺکے پاس صبح تک وہ کھانا رہا ، ان دنوں ہمارا ایک قوم سے معاہد ہ تھا اور اب وہ مدت ختم ہوچکی تھی ، رسول اللہ ﷺنے ہمارے بارہ افسر مقرر کیے اور ہر افسر کے ساتھ ایک جماعت تھی ، اللہ جانے ان کی کتنی تعداد تھی ، آپﷺنے وہ کھانا ان کے پاس بھیج دیا اور ان سب نے وہ کھانا کھایا۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا ، قَالَ : وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ ، وَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ ، قَالَ : فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ ، قَالَ : فَأَبَوْا ، فَقَالُوا : حَتَّى يَجِيءَ أَبُو مَنْزِلِنَا فَيَطْعَمَ مَعَنَا ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُمْ : إِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ ، وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًى ، قَالَ : فَأَبَوْا ، فَلَمَّا جَاءَ لَمْ يَبْدَأْ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : أَفَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ ، قَالَ : قَالُوا : لاَ وَاللَّهِ مَا فَرَغْنَا ، قَالَ : أَلَمْ آمُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : فَتَنَحَّيْتُ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا غُنْثَرُ ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِلاَّ جِئْتَ ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ ، مَا لِي ذَنْبٌ ، هَؤُلاَءِ أَضْيَافُكَ فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّى تَجِيءَ ، قَالَ : فَقَالَ : مَا لَكُمْ ، أَنْ لاَ تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَوَاللَّهِ ، لاَ أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَقَالُوا: فَوَاللَّهِ ، لاَ نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ كَالشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ ، وَيْلَكُمْ ، مَا لَكُمْ أَنْ لاَ تَقْبَلُوا عَنَّا قِرَاكُمْ ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ : أَمَّا الأُولَى فَمِنَ الشَّيْطَانِ هَلُمُّوا قِرَاكُمْ ، قَالَ: فَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَسَمَّى ، فَأَكَلَ وَأَكَلُوا ، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، بَرُّوا وَحَنِثْتُ ، قَالَ: فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ: بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَخْيَرُهُمْ. قَالَ: وَلَمْ تَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ.

It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abi Bakr said: "Some guests came to stay with us and my father used to go and talk to the Messenger of Allah (s.a.w) at night. He set out and said: 'O 'Abdur-Rahman, serve food to the guests.' When evening came, we brought food to them but they refused to eat and said: 'Not until the head of the household comes and eats with us.' I said to them: 'He is a strict man and if you do not do it, I am afraid that I will be in trouble with him.' But they refused. When he came, the first thing he did was to ask: 'Did you serve your guests?' They said: 'No, by Allah, we did not.' He said: 'Did I not tell 'Abdur-Rahman (to do that)?' I hid from him, and he said: 'O 'Abdur-Rahman!' I hid from him, but he said: 'O ignorant lad, I adjure you, if you can hear my voice, to come here.' So I came and I said: 'By Allah, it is no fault of mine. They are your guests, ask them. I brought them some food but they refused to eat until you come.' He said: 'What is the matter with you? Will you not accept our hospitality?' Abu Bakr said: 'By Allah, I will not eat tonight.' They said: 'By Allah, we will not eat until you eat.' He said: 'I have never seen a worse night than tonight. Woe to you, what is the matter with you? Why do you not accept our hospitality?' Then he said: 'What I did at first was from the Shaitan. Bring the food.' So the food was brought, and he said the Name of Allah and ate, and they ate. When morning came he went to the Prophet (s.a.w) and said: 'O Messenger of Allah, they fulfilled their oath but I broke mine.' He said: 'Rather you are the most sincere of them and you are the best of them.'" He said: "And I did not hear of any expiation."

حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے گھر مہمان تشریف لائے اور میرے والد رات کو رسو ل اللہﷺکے پاس بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے تھے ، وہ چلے گئے اور مجھے فرمایا: اے عبد الرحمن ! تم اپنے مہمانوں کا خیال رکھنا، جب شام ہوئی تو ہم نے ان کو کھانا پیش کیا ، انہوں نے کہا: جب تک گھر والا ہمارے ساتھ کھانا نہ کھائے (اتنی دیر تک ہم نہیں کھائیں گے) میں نے کہا: وہ بہت سخت مزاج آدمی ہیں ، اگر تم نے کھانا نہیں کھایا تو مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ڈانٹ پلائیں گے۔لیکن انہوں نے نہیں مانا ، جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے سب سے پہلے مہمانوں کے متعلق پوچھا : کیا تم مہمانوں کی مہمان نوازی سے فارغ ہوچکے ہو، گھر والوں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم ! نہیں فارغ ہوئے ،حضرت ابو بکر نے کہا: کیا میں نے عبد الرحمن کو حکم نہیں دیا تھا ؟ وہ کہتے ہیں میں ایک طرف ہٹ گیا ، انہوں نے آواز دی ، اے عبد الرحمن! میں کھسک گیا ، پھر انہوں نے کہا: اے بیوقوف! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر تم آواز سن رہے ہو تو آجاؤ ، حضرت عبد الرحمن نے کہا: میں آیا،میں نے کہا: میرا کوئی قصور نہیں ہے ، یہ آپ کے مہمان ہیں آپ ان سے پوچھ لیں ، میں نے کھانا پیش کیا تو انہوں نے بغیر آپ کے کھانے سے انکار کیا ،حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان سے مخاطب ہوکر کہنے لگے : کیا بات ہے تم نے ہمارا پیش کردہ کھانا قبول کیوں نہیں کیا ؟ عبد الرحمن کہتا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا ، مہمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم بھی آپ کے بغیر کھانا نہیں کھائیں گے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج سے بری رات میں نے کبھی نہیں دیکھی ، تم پر افسوس ہے کہ تم نے ہماری دعوت قبول کیوں نہیں کی ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا قسم کھانا شیطانی فعل ہے ، چلو کھانا لاؤ ، حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں کہ پھر کھانا لایا گیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا ، صبح کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺکے پاس آئے ، اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مہمانوں کی قسم تو پوری ہوگئی اور میری قسم پوری نہیں ہوئی ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پورا قصہ سنایا ، آپﷺنے فرمایا: نہیں تمہاری قسم سب سے زیادہ پوری ہوئی اور تم سب سے افضل ہو ، حضرت عبد الرحمن نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس قسم کا کفارہ دیا تھا یا نہیں۔

33. باب فَضِيلَةِ الْمُوَاسَاةِ فِي الطَّعَامِ الْقَلِيلِ وَأَنَّ طَعَامَ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلاَثَةَ وَنَحْوِ ذَلِكَ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَعَامُ الاِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلاَثَةِ ، وَطَعَامُ الثَّلاَثَةِ كَافِي الأَرْبَعَةِ.

It was narrated from Abu Hurairah that he said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The food of two is sufficient for three, and the food of three is sufficient for four."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ (ح) وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ ، وَطَعَامُ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ ، وَطَعَامُ الأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ. وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ يَذْكُرْ سَمِعْتُ.

Jabir bin 'Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'The food of one is sufficient for two, and the food of two is sufficient for four, and the food of four is sufficient for eight."'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لیے کافی ہے ، اور دو کا کھانا چار کےلیے کافی ہے ، اور چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کے لیے کافی ہوتا ہے ، اور راوی اسحاق کی روایت میں سماع کا لفظ نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ...بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.

A Hadith like that of Ibn Juraij (no. 5368) was narrated from the Prophet (s.a.w).

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ سے ابن جریج والی حدیث کی طرح بیان کیا ہے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ ، وَطَعَامُ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ.

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The food of one is sufficient for two, and the food of two is sufficient for four."'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لیے کافی ہے ، اور دو کا کھانا چار کےلیے کافی ہے ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : طَعَامُ الرَّجُلِ يَكْفِي رَجُلَيْنِ ، وَطَعَامُ رَجُلَيْنِ يَكْفِي أَرْبَعَةً ، وَطَعَامُ أَرْبَعَةٍ يَكْفِي ثَمَانِيَةً.

It was narrated from Jabir that the Prophet (s.a.w) said: "The food of one man is sufficient for two men, and the food of two men is sufficient for four, and the food of four is sufficient for eight."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لیے کافی ہوتاہے ، اور دو کا کھانا چار کےلیے کافی ہوتا ہے ، اور چار کا کھانا آٹھ کے لیےکافی ہوتا ہے ۔

34. باب الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "The Kafir (disbeliever) eats in seven intestines and the believer eats in one intestine."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ فرمایا: کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے ، اور مومن ایک آنت سے کھاتا ہے ۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 5372) was narrated from Ibn 'Umar, from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ نےنبی ﷺسے مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت کی ہے۔


وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعًا ، قَالَ: رَأَى ابْنُ عُمَرَ مِسْكِينًا فَجَعَلَ يَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَيَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ: فَجَعَلَ يَأْكُلُ أَكْلاً كَثِيرًا ، قَالَ: فَقَالَ: لاَ يُدْخَلَنَّ هَذَا عَلَيَّ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ.

Nafi' said: "Ibn 'Umar saw a poor man, and he put some food in front of him, and put more, and he started to eat a great deal. He said: 'Do not let this man enter upon me, for I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "The disbeliever eats in seven intestines."

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسکین کو دیکھا ، ان کے سامنے انہوں نے کھانا رکھا ، وہ بہت زیادہ کھانا شروع ہوگیا ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ آدمی میرے پاس نہ آئے ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا: کہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ.

It was narrated from Jabir and Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The believer eats in one intestine and the disbeliever eats in seven intestines."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔


وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عُمَرَ.

A similar report (as no. 5375) was narrated from Jabir, but he did not mention Ibn 'Umar.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اسی طرح روایت کی ہے ، اس میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ.

It was narrated from Abu Musa that the Prophet (s.a.w) said: "The believer eats in one intestine and the disbeliever eats in seven intestines."

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.

A similar Hadith was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ ، فَشَرِبَ حِلاَبَهَا ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ، حَتَّى شَرِبَ حِلاَبَ سَبْعِ شِيَاهٍ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ ، فَشَرِبَ حِلاَبَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى ، فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) hosted a guest who was a disbeliever. The Messenger of Allah (s.a.w) ordered that a sheep be milked for him and he drank it, then another, and he drank it, then another, and he drank it, until he had drunk the milk of seven sheep. Then the next morning he became Muslim, and the Messenger of Allah (s.a.w) ordered that a sheep be milked for him and he drank it, then he ordered that another be milked but he did not finish it. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "The believer eats in one intestine and the disbeliever eats in seven intestines."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺکے پاس ایک مہمان آیا وہ کافر تھا، رسول اللہﷺنے ان کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، اس نے وہ دودھ پی لیا ، پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، اس نے وہ پی لیا ، پھر آپﷺنے ایک اور بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، اس نے وہ بھی پی لیا،یہاں تک کہ اس نے اسی طرح سات بکریوں کا دودھ پی لیا ، پھر صبح کو وہ اسلام لے آیا ، رسول اللہﷺنے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، اس نے وہ پی لیا، رسول اللہﷺنے دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، وہ اس کا سارا دودھ پی نہ سکا،رسول اللہﷺنے فرمایا: مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔

35. باب لاَ يَعِيبُ الطَّعَامَ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَا عَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ ، كَانَ إِذَا اشْتَهَى شَيْئًا أَكَلَهُ ، وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) never criticized any food. If he liked something he would eat, it and if he disliked it he would leave it."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا ، اگر آپﷺکو کوئی چیز پسند آتی تو اس کو کھالیتے اور اگر نا پسند ہوتی تو اس کو چھوڑ دیتے۔


وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Sulaiman Al-A'mash narrated a similar report (as no . 5380) with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report was narrated from Sufyan, from Al-A'mash, with this chain of narrators.

یہ حدیث بھی ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "I never saw the Messenger of Allah (s.a.w) criticize any food. If he liked it he ate it and if he did not like it he remained silent."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو کسی کھانے میں عیب نکالتے نہیں دیکھا ، اگر آپ ﷺکو کوئی کھانا اچھا لگتا تو آپ اس کو کھالیتے ، اور اگر اچھا نہ لگتا تو اس کو چھوڑ دیتے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 5383) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اسی طرح روایت کی ہے۔

‹ First234