11. بَابُ جَوَازِ الْخُطْوَةِ وَالْخُطْوَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ فِيْ ذَلِكَ إِذَا كَانَ لِحَاجَةٍ وَ جَوَازِ صَلَاةِ الإِمَامِ عَلَى مَوضِعٍ أَرْفَعَ مِنْ الْمَأْمُومِيْنَ لِلحَاجَةِ كَتَعْلِيْمِهِمِ الصَّلَاةِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَفَرًا جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَدْ تَمَارَوْا فِى الْمِنْبَرِ مِنْ أَىِّ عُودٍ هُوَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّى لأَعْرِفُ مِنْ أَىِّ عُودٍ هُوَ وَمَنْ عَمِلَهُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ - قَالَ - فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ فَحَدِّثْنَا. قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى امْرَأَةٍ قَالَ أَبُو حَازِمٍ إِنَّهُ لَيُسَمِّيهَا يَوْمَئِذٍ « انْظُرِى غُلاَمَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلْ لِى أَعْوَادًا أُكَلِّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا ». فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلاَثَ دَرَجَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ فَهْىَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ. وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَامَ عَلَيْهِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ فِى أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلاَتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ « يَا أُيُّهَا النَّاسُ إِنِّى صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِى وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِى ».
'Abdul-'Aziz bin Abi Hazim narrated from his father, that a group of people came to Sahl bin Sa'd, and they had differed concerning the Minbar (of the Prophet's Mosque) and what kind of wood it was made of. He said: "By Allah, I know what kind of wood it is made of, and who made it, and I saw the Messenger of Allah (s.a.w) the first day he sat on it." I said to him:· "O Abu 'Abbas, tell us." He said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent word to a woman" - and Abu Hazim said: "He named her that day" - saying: "Have your carpenter slave make me something of wood from which I may speak to the people." So he made these three steps, then the Messenger of Allah (s.a.w) ordered that it be placed in this spot. It is made of tamarisk wood from Ghabah. I saw the Messenger of Allah (s.a.w) standing on it and saying the Takbir, and the people behind him said the Takblr, and he was on the Minbar. Then he raised his head (from bowing), then he moved backwards and prostrated at the foot of the Minbar, then he repeated (his actions), until he had finished his prayer. Then he turned to the people and said: 'O people, I only did this so that you could follow me and learn my prayer."'
عبدالعزیز بن ابی حازم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور منبر کے بارے میں آپس میں جھگڑنے لگے کہ وہ کس لکڑی کا تھا؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ کس قسم کی لکڑی کا تھا اور کس نے اسے بنایا تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺکو پہلے دن اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا میں نے اس سے کہا اے ابوالعباس ہمیں بیان کرو۔ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺنے ایک عورت کی طرف اپنا قاصد بھیجا راوی ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس دن اس عورت کا نام لے رہے تھے۔ ”کہ تو اپنے لڑکے کو جو کہ بڑھئی ہے کہہ دے کہ میرے لئے ایک منبر بنا دے کہ جس پر میں بیٹھ کر لوگوں سے بات کرو “چنانچہ اس لڑکے نے تین سیڑھیوں کا ایک منبر بنا دیا پھر رسول اللہ ﷺکے حکم پر وہ منبر اسکی جگہ پر رکھ دیا گیا اور منبر کی لکڑی غابہ کے مقام کی جھاؤ کی لکڑی تھی اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺاس پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی آپ ﷺکی اقتداء میں تکبیر کہی۔اور آپ ﷺمنبر پر تھے پھر آپ ﷺنے رکوع سے سر اٹھایا الٹے پاؤں نیچے اتر کر منبر کی جڑ میں سجدہ کیا پھر آپ ﷺلوٹے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے پھر آپ ﷺلوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگو میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم میری اقتدا کرو اور تم میری طرح نماز پڑھنا سیکھ لو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِىُّ الْقُرَشِىُّ حَدَّثَنِى أَبُو حَازِمٍ أَنَّ رِجَالاً أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى حَازِمٍ قَالَ أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ مِنْبَرُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَسَاقُوا الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِى حَازِمٍ.
It was narrated that Abu Hazim said: "They came to Sahl bin Sa'd and asked him: 'From what was the Minbar of the Prophet (s.a.w) made?"' And they quoted a Hadith like that of Ibn Abi Hazim (no. 1216).
امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح بیان کی ہے۔
12. بَاب كَرَاهَةِ الْاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ
وَحَدَّثَنِى الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ وَأَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُصَلِّىَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا. وَفِى رِوَايَةِ أَبِى بَكْرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) forbade a man to offer prayers with his hands on his waist. According to the report of Abu Bakr he said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade..."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی نماز کی حالت میں کوکھ پر ہاتھ رکھے اور ابوبکر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے منع فرمایا ہے۔
13. بَاب كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِىُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ مُعَيْقِيبٍ قَالَ ذَكَرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- الْمَسْحَ فِى الْمَسْجِدِ - يَعْنِى الْحَصَى - قَالَ « إِنْ كُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَوَاحِدَةً ».
It was narrated from Abu Salamah that Al-Mu'ayqib said: "The Prophet (s.a.w) mentioned smoothing the pebbles in the Masjid and said: 'If you must do that, then do it only once."'
معیقب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سجدہ کی جگہ میں سے کنکریاں صاف کرنے کے بارے میں فرمایا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہی پڑ جائے تو صرف ایک بار کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِى ابْنُ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ مُعَيْقِيبٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْمَسْحِ فِى الصَّلاَةِ فَقَالَ « وَاحِدَةٌ ».
It was narrated from Abu Salamah, from Al-Mu'ayqib, that they asked the Prophet (s.a.w) about smoothing the ground during Salat. He said: "Only once."
معیقب فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے نماز میں کنکریاں صاف کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَقَالَ فِيهِ حَدَّثَنِى مُعَيْقِيبٌ ح
It was narrated by Hisham with this chain, and he said: "Mu'ayqib told me."
امام مسلم نے ایک اور سند سے حضرت معیقیب سے ایسی ہی روایت کی ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِى سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِى مُعَيْقِيبٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فِى الرَّجُلِ يُسَوِّى التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ « إِنْ كُنْتَ فَاعِلاً فَوَاحِدَةً ».
It was narrated that Abu Salamah said: "Mu'ayqib told me that concerning a man who smoothes the ground where he is going to prostrate, the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If you must do that, then do it only once."'
معیقب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدہ والی جگہ سے مٹی برابر کرنے والے ایک آدمی سے فرمایا اگر تمہیں ایسا کرنا ہی پڑ جائے تو ایک مرتبہ کرو۔
14. بَاب النَّهْيِ عَنْ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا والنهي عن بصاق المصلي بين يديه وعن يمينه.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَأَى بُصَاقًا فِى جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ « إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّى فَلاَ يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى ».
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah (s.a.w) saw some sputum on the wall of the Qiblah. He scratched it then he turned to the people and said: "If one of you is in prayers, let him not spit in front of him, for Allah is m front of him when he prays."
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے قبلہ کی طرف دیوار میں تھوک لگا ہوا دیکھا آپ ﷺنے اسے کھرچ دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے چہرے کے سامنے نہ تھوکے کیونکہ اللہ تعالی اس کے چہرے کے سامنے ہوتے ہیں جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِى ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِى ابْنَ عُثْمَانَ ح وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ رَأَى نُخَامَةً فِى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ. إِلاَّ الضَّحَّاكَ فَإِنَّ فِى حَدِيثِهِ نُخَامَةً فِى الْقِبْلَةِ. بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ.
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) saw some sputum in the Qiblah of the Masjid... According to Ad-Dahhak's report: "sputum in the Qiblah." A Hadith similar to that of Malik (no. 1223).
امام مسلم فرماتے ہیں کہ دیگر اسانید سے اس طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَأَى نُخَامَةً فِى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ أَمَامَهُ وَلَكِنْ يَبْزُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Prophet (s.a.w) saw some sputum in the Qiblah of the Masjid. He scratched it with a pebble then he forbade a man to spit to his right or in front of him, rather he should spit to his left or beneath his left foot.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے مسجد میں قبلہ رخ میں بلغم لگا دیکھا آپ ﷺنے اسے ایک کنکری کے ساتھ کھرچ دیا پھر آپ ﷺنے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی اپنی دائیں طرف یا اپنے سامنے کی طرف تھوکے بلکہ بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے۔
حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ ح قَالَ وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِى كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَأَى نُخَامَةً. بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
Abu Hurairah and Abu Sa'eed narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) saw some sputum... a Hadith similar to that of Ibn 'Uyaynah (no. 1225).
امام مسلم نے ایک اور سند ذکر کرکے فرمایا اس سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَأَى بُصَاقًا فِى جِدَارِ الْقِبْلَةِ أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَامَةً فَحَكَّهُ.
It was narrated from 'Aishah that the Prophet (s.a.w) saw some mucus or sputum or spittle on the wall of the Qiblah, and he scratched it.
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے قبلہ رخ والی دیوار میں تھوک، رینٹ، یا بلغم لگا دیکھا تو آپ ﷺنے اسے کھرچ دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ أَبِى رَافِعٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَأَى نُخَامَةً فِى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ « مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِى وَجْهِهِ فَإِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَقُلْ هَكَذَا ». وَوَصَفَ الْقَاسِمُ فَتَفَلَ فِى ثَوْبِهِ ثُمَّ مَسَحَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) saw some sputum in the Qiblah of the Masjid. He turned to the people and said: "What is the matter with one of you who stands before his Lord and spits in front of him? Would any one of you like to have someone stand before him and spit in his face? If one of you must spit, then let him spit to his left, beneath his foot. If he cannot do that, then let him do like this," and Al-Qasim described how he spat into his garment then rubbed part of it against another part.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں قبلہ میں تھوک دیکھا تو آپ ﷺ نے لوگوں سے متوجہ ہو کر فرمایا تم لوگ کیا کرتے ہو کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے تو پھر وہ اپنے سامنے تھوکتا ہے کیا تم میں سے کوئی آدمی پسند کرتا ہے کہ کوئی آدمی اسکی طرف منہ کر کے اسکے منہ میں تھوک دے جب تم میں سے کسی کو تھوک آئے تو اپنی بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے اور اگر اس طرح نہ کر پائے تو اس طرح کرے راوی قاسم نے اس طرح کر کے بتایا کہ اپنے کپڑے میں تھوکے پھر اسے صاف کر دے۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ أَبِى رَافِعٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ فِى حَدِيثِ هُشَيْمٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَرُدُّ ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ.
A Hadith similar to that of Ibn 'Ulayyah (no. 1228) was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w). The Hadith of Hushaim adds: "Abu Hurairah said: 'It is as if I can see the Messenger of Allah (s.a.w), rubbing part of his garment against another part."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے ابن علیہ کی روایت کی طرح نقل کیا ہے اور اس حدیث میں اتنا زائد ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ اپنے کپڑے کو کھرچ رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِى الصَّلاَةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِى رَبَّهُ فَلاَ يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ ».
It was narrated that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'When one of you is in Salat, he is conversing with his Lord, so he should not spit in front of him or to his right, rather to his left, beneath his foot."'
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے اس لئے نہ تو وہ اپنے سامنے تھوکے اور نہ اپنے دائیں طرف اور لیکن اپنے بائیں طرف اپنے پاؤں کے نیچے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْبُزَاقُ فِى الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا ».
It was narrated that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Spitting in the Masjid is a sin, and its expiation is to bury it (i.e. to put some earth over it)."'
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَأَلْتُ قَتَادَةَ عَنِ التَّفْلِ فِى الْمَسْجِدِ فَقَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « التَّفْلُ فِى الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا ».
Sbu'bah said: "I asked Qatadah about spitting in the Masjid. He said: 'I heard Anas bin Malik say: I heard the Messenger of Allah(s.a.w) say: Spitting in the Masjid is a sin, and its expiation is to bury it."'
شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسجد میں تھوکنے کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِىُّ وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالاَ حَدَّثَنَا مَهْدِىُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِى عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِى الأَسْوَدِ الدِّيلِىِّ عَنْ أَبِى ذَرٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « عُرِضَتْ عَلَىَّ أَعْمَالُ أُمَّتِى حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا فَوَجَدْتُ فِى مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ وَوَجَدْتُ فِى مَسَاوِى أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ تَكُونُ فِى الْمَسْجِدِ لاَ تُدْفَنُ ».
It was narrated from Abu Dharr that the Prophet (s.a.w) said: "The deeds of my Ummah, good and bad, were shown to me. Among their good deeds I saw the removal of harmful things from the road, and among their bad deeds I saw sputum in the Masjid that is not buried."
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا میری امت کے اچھے اور برے اعمال مجھ پر پیش کئے گئے تو میں نے ان کے اچھے اعمال میں سے اچھا عمل راستہ میں سے تکلیف دینے والی چیز کا دور کردینا پایا اور میں نے ان کے برے اعمال میں سے مسجد میں تھوکنا اور اس کا دفن نہ کرنا پایا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَأَيْتُهُ تَنَخَّعَ فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ.
It was narrated from Yazid bin 'Abdullah bin Ash-Shikh-khir that his father said: "I offered prayers with the Messenger of Allah (s.a.w) and I saw him spit and rub it with his sandal."
یزید بن عبداللہ بن شخیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے تھوکا اور پھر اپنے جوتے سے اسے مسل دیا۔
وَحَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنِ الْجُرَيْرِىِّ عَنْ أَبِى الْعَلاَءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَتَنَخَّعَ فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ الْيُسْرَى.
It was narrated from Abu Al-'Ala' Yazid bin 'Abdullah bin Ash-Shikh-khir, from his father, that he offered prayers with the Prophet (s.a.w) and said: "He spat and rubbed it with his left shoe."
یزید بن عبداللہ بن شخیر اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ نے تھوکا پھر اپنے بائیں جوتے سے مسل دیا۔
15. بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلَيْنِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ أَبِى مَسْلَمَةَ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى فِى النَّعْلَيْنِ قَالَ نَعَمْ.
It was narrated that Abu Maslamah Sa'eed bin Yazid said: "I said to Anas bin Malik: 'Did the Messenger of Allah (s.a.w) offered prayers wearing shoes?' He said: 'Yes."'
ابومسلمہ سعید بن یزید فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ جوتے پہن کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا. بِمِثْلِهِ.
Sa'eed bin Yazid Abu Maslamah said: "I asked Anas..." a similar report (as no. 1236).
امام مسلم فرماتے ہیں کہ ایک اور سند سے بھی مذکورہ روایت منقول ہے۔
16. بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ
حَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى فِى خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ وَقَالَ « شَغَلَتْنِى أَعْلاَمُ هَذِهِ فَاذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِى جَهْمٍ وَائْتُونِى بِأَنْبِجَانِيِّهِ ».
It was narrated from 'Aishah that the Prophet (s.a.w) offered Salat in a Khamisah that had markings, and he said: "These markings distracted me. Take it to Abu Jahm and bring me his Anbijani garment."
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش ونگار تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا ان نقش ونگار نے مجھے مشغول کردیا ہے پس جاؤ ابو جہم کو یہ چادر دے دو مجھے اس کی چادر لا دو۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى فِى خَمِيصَةٍ ذَاتِ أَعْلاَمٍ فَنَظَرَ إِلَى عَلَمِهَا فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ « اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْخَمِيصَةِ إِلَى أَبِى جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ وَائْتُونِى بِأَنْبِجَانِيِّهِ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِى آنِفًا فِى صَلاَتِى ».
It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) stood and offered Salat in a Khamisah that had markings, and he looked at its markings. When he finished his prayers, he said: 'Take this cloak to Abu Jahm bin Hudhaifah, and bring me his Anbijani garment, for they distracted me just now in my prayers."
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺایک ایسی چادر میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے کہ جس کے اوپر نقش ونگار تھے آپ کی نظر مبارک اس چادر کے نقش ونگار کی طرف پڑ گئی جب آپ ﷺنماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ جاؤ اس چادر کو ابوجہم بن حذیفہ کو دے دو اور ان کی چادر مجھے لا دو کیونکہ اس چادر نے میری نماز میں خلل ڈال دیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَتْ لَهُ خَمِيصَةٌ لَهَا عَلَمٌ فَكَانَ يَتَشَاغَلُ بِهَا فِى الصَّلاَةِ فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ كِسَاءً لَهُ أَنْبِجَانِيًّا.
It was narrated from 'Aishah that the Prophet (s.a.w) had a black garment which had markings, and it used to distract him when he was offering Salat, so he gave it to Abu Jahm and took an Anbijani garment of his.
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺکے پاس نقش ونگار والی ایک چادر تھی جس کی وجہ سے نماز میں آپ ﷺکو خلل محسوس ہوا آپ ﷺنے وہ چادر ابوجہم کو دے دی اور ان کی سادہ چادر ان سے لے لی۔
17. بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ فِي الْحَالِ وَكَرَاهَةِ الصَّلَاةِ مَعَ مُدَافَعَةِ الْحَدَثِ وَنَحْوِهِ
أَخْبَرَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ».
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (s.a.w) said: "If supper is ready and the lqamah is called for prayer, then start with supper."
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایااگر نماز کی اقامت (تکبیر) کے وقت شام کا کھانا تیار ہو تو پہلے کھانا کھالو۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلاَةَ الْمَغْرِبِ وَلاَ تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ ».
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "If supper is served and the time for prayer is due, then start with (supper) before you pray Maghrib, and do not rush to finish your supper."
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی کھڑی ہونے والی ہو تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھالو اور کھانا چھوڑ کر نماز میں جلدی نہ کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَحَفْصٌ وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَنَسٍ.
A Hadith similar to that narrated by Ibn 'Uyaynah (no. 1241), from Az-Zuhri, from Anas was narrated from 'Aishah, from the Prophet (s.a.w).
ایک اور سند سے بھی حضرت انس سے یہی حدیث منقول ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ وَلاَ يَعْجَلَنَّ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ ».
It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If supper is served for one of you, and the Iqamah is called for prayer, let him start with supper, and not hasten until he has finished."
حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب تم میں سے کسی آدمی کے سامنے شام کا کھانا رکھ دیا جائے اور نماز بھی کھڑی ہونے لگی ہو توپہلے شام کا کھانا کھا لو اور جلدی نہ کرو جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو جاؤ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِىُّ حَدَّثَنِى أَنَسٌ - يَعْنِى ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ أَيُّوبَ كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِهِ.
A similar Hadith (as no. 1244) was narrated from Nafi' from Ibn 'Umar, from the Prophet (s.a.w).
ایک اور سند سے بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث منقول ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى عَتِيقٍ قَالَ تَحَدَّثْتُ أَنَا وَالْقَاسِمُ عِنْدَ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - حَدِيثًا وَكَانَ الْقَاسِمُ رَجُلاً لَحَّانَةً وَكَانَ لأُمِّ وَلَدٍ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ مَا لَكَ لاَ تَحَدَّثُ كَمَا يَتَحَدَّثُ ابْنُ أَخِى هَذَا أَمَا إِنِّى قَدْ عَلِمْتُ مِنْ أَيْنَ أُتِيتَ. هَذَا أَدَّبَتْهُ أُمُّهُ وَأَنْتَ أَدَّبَتْكَ أُمُّكَ - قَالَ - فَغَضِبَ الْقَاسِمُ وَأَضَبَّ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَأَى مَائِدَةَ عَائِشَةَ قَدْ أُتِىَ بِهَا قَامَ. قَالَتْ أَيْنَ قَالَ أُصَلِّى. قَالَتِ اجْلِسْ. قَالَ إِنِّى أُصَلِّى. قَالَتِ اجْلِسْ غُدَرُ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ صَلاَةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلاَ وَهُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ ».
It was narrated that Ibn Abi 'Atiq said: "Al-Qasim and I narrated a Hadith in the presence of 'Aishah, may Allah be pleased with her. Al-Qasim was a man who made mistakes in Arabic, and he was the child of an Umm Walad. 'Aishah said to him: 'What is the matter with you, why don't you speak like this son of my brother? I know where that comes from. He was raised by his mother and you were raised by your mother. ' Al-Qasim felt angry and showed some resentment towards her. When he saw that 'Aishah's food had been brought to her, he stood up. She said: 'Where are you going?' He said: 'To offer prayers.' She said: 'Sit down.' He said: 'I am going to offer prayers.' She said: 'Sit down, traitor! I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "There is no prayer when food is ready, or when one is resisting the urge to relieve oneself.''
ابن ابی عتیق فرماتے ہیں کہ میں اور قاسم(حضرت عائشہ کے بھتیجے) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک حدیث بیان کرنے لگے اور قاسم بہت باتیں کرنے والے آدمی تھے اور اس کی ماں ام ولد تھیں حضرت عائشہ ﷺنے اس سے فرمایا کہ تجھے کیا ہوا کہ تم میرے اس بھتیجے کی طرح بات کیوں نہیں کرتے؟ میں جانتی ہوں کہ تو کہاں سے آیا ہے، اسے اس کی ماں نے ادب سکھایا ہے اور تجھے تیری ماں نے ادب سکھایا ہے، یہ سن کر قاسم غصہ میں آگیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر اس کا اظہار بھی کیا، جب قاسم نے دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا دستر خوان لگ رہا ہے تو قاسم اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس سے فرمایا کہاں جا رہے ہو قاسم نے کہا نماز پڑھنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا بیٹھ جاؤ، قاسم نے کہا میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اے بے وفا بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کھانا سامنے ہو اور پیشاب یا پاخانہ کا تقاضا ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِى أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى عَتِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِى الْحَدِيثِ قِصَّةَ الْقَاسِمِ.
A similar report (as no. 1246) was narrated from 'Aishah, but it does not mention the story of Al-Qasim.
ایک اور سند سے بھی حضرت عائشہ کی یہ روایت منقول ہے لیکن اس میں قاسم بن محمد کا قصہ نہیں ہے۔
18. بَاب نَهْيِ مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا مِمَّا لَهُ رَائِحَةٌ كَرِيهَةٌ عَنْ حُضُورِ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَذْهَبَ تِلْكَ الرِّيحُ وَإِخْرَاجِهِ مِنْ الْمَسْجِدِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فِى غَزْوَةِ خَيْبَرَ « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - يَعْنِى الثُّومَ - فَلاَ يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ ». قَالَ زُهَيْرٌ فِى غَزْوَةٍ. وَلَمْ يَذْكُرْ خَيْبَرَ.
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said during the campaign of Khaibar: "Whoever has eaten from this plant - meaning garlic - let him not come to the Masjid." Zuhair said: "During a campaign," and he did not mention Khaibar.
حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خبیر میں فرمایا کہ جس نے اس درخت سے کھایا یعنی لہسن کو کھایا تو وہ مسجد میں نہ آئے راوی زہیر نے غزوہ کا ذکر کیا اور خبیر کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِى قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسَاجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا ». يَعْنِى الثُّومَ.
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever eats from these vegetables, let him not come near our Masajid, until the smell has gone away," referring to garlic.
حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس نے اس ترکاری کو کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی جائے یعنی لہسن کی۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِى ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ الثُّومِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّا وَلاَ يُصَلِّى مَعَنَا ».
It was narrated that 'Abdul-'Aziz, who was the son of Suhaib, said: "Anas, may Allah be pleased with him, was asked about garlic and he said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever eats from this plant, let him not come near us nor pray with us."
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس درخت سے کھایا تو وہ نہ ہمارے قریب آئے اور نہ ہی ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلاَ يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever eats from this plant, let him not come near our Masjid nor annoy us with the smell of garlic."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس نے اس درخت سے کھایا تو وہ نہ ہماری مسجد کے قریب آئے اور نہ ہی لہسن کی بدبو سے ہمیں تکلیف دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِىِّ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ. فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسُ ».
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade eating onions and leeks, but we were overcome by need and we ate some of them. He said: 'Whoever eats from these foul-smelling plants, let him not come near our Masjid, for the Angels are offended by the same things that offend humans."'
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا ہمیں ان کے کھانے کی ضرورت پیش آئی تو ہم نے کھا لیا تو آپ ﷺنے فرمایا جو اس بدبو دار درخت میں سے کھالے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن چیزوں سے انسان کو تکلیف ہوتی ہے۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِى عَطَاءُ بْنُ أَبِى رَبَاحٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ - وَفِى رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِى بَيْتِهِ ». وَأَنَّهُ أُتِىَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ فَقَالَ « قَرِّبُوهَا ». إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا قَالَ « كُلْ فَإِنِّى أُنَاجِى مَنْ لاَ تُنَاجِى ».
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever eats garlic or onions, let him keep away from us, or keep away from our Masjid and stay in his house.' A pot of fresh vegetables was brought to him, and he noticed that it had a smell. He asked about it and he was told what kind of vegetables were on it. He said: 'Take it away,' to one of his Companions. When he saw it (that the Prophet (s.a.w) disliked it) , he did not want to eat it. He (s.a.w) said: 'Eat, for I converse with one with whom you do not converse."'
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس نے پیاز یا لہسن کھایا وہ ہم سے علیحدہ رہے یا ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ایک مرتبہ آپ ﷺکی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں سالن تھا آپ ﷺنے اس میں بدبو محسوس کی آپ ﷺنے اس ترکاری کے بارے میں دریافت کیا آپ کو اس کے بارے میں بتلایا گیا ، آپ نے صحابی کے پاس اس سے بھیجنے کا حکم دیا ۔ اس صحابی نے آپ کی کراہت کی وجہ سے اس سے ناپسند کیا آپ ﷺنے فرمایا تم کھاسکتے ہو کیونکہ میں ان( فرشتوں )سے محو کلام رہتا ہوں جن سے تم محو گفتگو نہیں رہتے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الثُّومِ - وَقَالَ مَرَّةً مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَالْكُرَّاثَ - فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ ».
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever eats from these vegetables" - meaning garlic, and on one occasion he said: "whoever eats garlic, onions or leeks - let him not come near our Masjid, for the Angels are offended by the same things that offend the sons of Adam."
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا کہ جس نے اس لہسن کے درخت میں سے کھایا اور ایک مرتبہ آپ ﷺنے فرمایا کہ جس نے پیاز، لہسن اور گندنا کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے ان چیزوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جن سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالاَ جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - يُرِيدُ الثُّومَ - فَلاَ يَغْشَنَا فِى مَسْجِدِنَا ». وَلَمْ يَذْكُرِ الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ.
Ibn Juraij narrated with this chain that he (s.a.w) said: "Whoever eats from this plant - meaning garlic - let him not come to us in our "Masajid." And he did not mention onions or leeks.
ایک اور سند سے بھی ایسی روایت منقول ہے۔
وَحَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنِ الْجُرَيْرِىِّ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى تِلْكَ الْبَقْلَةِ الثُّومِ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلاً شَدِيدًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الرِّيحَ فَقَالَ « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلاَ يَقْرَبَنَّا فِى الْمَسْجِدِ ». فَقَالَ النَّاسُ حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ. فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ بِى تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لِى وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا ».
It was narrated that Abu Sa'eed said: "As soon as Khaibar was conquered, we found ourselves (the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w)) indulging in eating that vegetable" - meaning garlic - "as the people were hungry. We ate a great deal of it, then we went to the Masjid, and the Messenger of Allah (s.a.w) noticed the smell. He said: 'Whoever eats anything from this offensive plant, let him not come near our Masjid.' The people said: 'It has been forbidden, it has been forbidden.' News of that reached the Prophet (s.a.w) and he said: 'O people, I cannot forbid something that Allah has made permissible for me, but it is a plant whose smell I dislike.'"
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابھی تک ہم واپس نہ لوٹے تھے کہ خیبر فتح ہوگیا اس دن رسول اللہ ﷺکے صحابہ اس لہسن کے پودوں پرٹوٹ پڑے اور لوگ اس دن بھوکے تھے تو ہم نے بہت زیادہ لہسن کھا لیا پھر ہم مسجد کی طرف آئے تو رسول اللہ ﷺنے بدبو محسوس کی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ جس نے اس خبیث درخت سے کچھ کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے لوگ کہنے لگے کہ لہسن حرام ہوگیا تو یہ بات نبی ﷺتک پہنچی تو آپ ﷺنے فرمایا اے لوگو میں اس چیز کو حرام نہیں کرتا جسے اللہ تعالی نے میرے لئے حلال کردیا ہو لیکن یہ لہسن کا درخت ایسا ہے کہ اس کی بدبو مجھے ناپسند ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَرَّ عَلَى زَرَّاعَةِ بَصَلٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَنَزَلَ نَاسٌ مِنْهُمْ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْكُلْ آخَرُونَ فَرُحْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا الْبَصَلَ وَأَخَّرَ الآخَرِينَ حَتَّى ذَهَبَ رِيحُهَا.
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (s.a.w) passed by a field of onions with his Companions, and some of the people went down and ate some, but others did not. We went to him, and he called those who had not eaten the onions and kept the others waiting until the smell had gone away.
حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک مرتبہ اپنے صحابہ کے ساتھ پیاز کے کھیت پر سے گزرے ان میں سے کچھ لوگوں نے کھیت میں سے پیاز کھایا اور کچھ لوگوں نے نہیں کھایا پھر ہم آپ ﷺکی طرف آگئے آپ نے ان لوگوں کو بلا لیا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا اور دوسروں کو نہیں بلایا جب تک کہ اس کی بدبو نہ چلی گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَكَرَ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ إِنِّى رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِى ثَلاَثَ نَقَرَاتٍ وَإِنِّى لاَ أُرَاهُ إِلاَّ حُضُورَ أَجَلِى وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِى أَنْ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَلاَ خِلاَفَتَهُ وَلاَ الَّذِى بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ -صلى الله عليه وسلم- فَإِنْ عَجِلَ بِى أَمْرٌ فَالْخِلاَفَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلاَءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ وَإِنِّى قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا يَطْعَنُونَ فِى هَذَا الأَمْرِ أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِى هَذِهِ عَلَى الإِسْلاَمِ فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ الْكَفَرَةُ الضُّلاَّلُ ثُمَّ إِنِّى لاَ أَدَعُ بَعْدِى شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِى مِنَ الْكَلاَلَةِ مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى شَىْءٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِى الْكَلاَلَةِ وَمَا أَغْلَظَ لِى فِى شَىْءٍ مَا أَغْلَظَ لِى فِيهِ حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِى صَدْرِى فَقَالَ « يَا عُمَرُ أَلاَ تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِى فِى آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ ».
وَإِنِّى إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِى بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّى أُشْهِدُكَ عَلَى أُمَرَاءِ الأَمْصَارِ وَإِنِّى إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ عَلَيْهِمْ لِيَعْدِلُوا عَلَيْهِمْ وَلِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ -صلى الله عليه وسلم- وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ فَيْئَهُمْ وَيَرْفَعُوا إِلَىَّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِهِمْ ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لاَ أَرَاهُمَا إِلاَّ خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلَ وَالثُّومَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ فِى الْمَسْجِدِ أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.
It was narrated from Ma'dan bin Abi Talhah that 'Umar bin Al-Khattab delivered a Khutbah one Friday, and he mentioned the Prophet of Allah (s.a.w) and Abu Bakr. He said: "I saw (in a dream) as if a rooster pecked me three times, I interpret it that my death is near. Some people are asking me to appoint a successor, but Allah will not cause His religion or His Khilafah, nor that with which He sent His Prophet (s.a.w), to be lost. If death comes to me soon, then the Khilafah is to be decided by these six men with whom the Messenger of Allah (s.a.w) was pleased when he died. I know that some people will resent their choice. I have struck them with my own hands in the defense of Islam. If they do that (i.e. resent the Khilafa ), then they are the enemies of Allah, of disbelieving and misguidance. I am not leaving behind me any issue that is more important to me than Kalalah. I did not consult the Messenger of Allah (s.a.w) about any issue more than I consulted him about Kalalah, and he did not get annoyed with me for any issue more than he got annoyed with me for this, until he poked me in the chest with his finger and said: 'O 'Umar, is not Ayat As-Saif, which appears at the end of Surat An-Nisa ', sufficient for you?' If I live, I will issue a decree that will be so clear that those who read the Qur'an and those who do not read it will be able to make decisions concerning it." Then he said: "O Allah, I call you to bear witness over the governors of the regions, for I sent them to be just and to teach the people their religion and the Sunnah of the Prophet (s.a.w), to divide the Fai' justly among them and to refer to me concerning any difficult matter. O people, you eat two plants which I find to be nothing but repugnant, this onion and garlic. I remember the Messenger of Allah (s.a.w), if he noticed their smell coming from a man in the Masjid, he would issue orders that he taken out Aoward (i.e. out of ghe Masjid) Al-Baqi'. Whoever eats them, let him cook them to death (i.e. till there is no more smell in them)."
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمعہ کے دن اپنے خطبہ میں اللہ کے نبی ﷺاور حضرت ابوبکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماریں اور میں اسے یہی خیال کرتا ہوں کہ میری موت قریب ہے کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں اپنا خلیفہ مقرر کر دوں کیونکہ اللہ تعالی اپنے دین اور خلافت اور اس چیز کو جسے دے کر اپنے نبی ﷺکو بھیجا ہے ضائع نہیں کرے گا اگر میری موت جلد ہی آجائے تو خلافت مشورہ کے بعد ان چھ حضرات کے درمیان رہے گی جن سے رسول اللہ ﷺاپنی وفات تک راضی رہے اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ اس معاملہ میں جن کو خود میں نے اپنے ہاتھ سے مارا ہے اسلام پر طعن کریں گے اگر انہوں نے اس طرح کیا تو وہ اللہ تعالی کے دشمن اور کافر گمراہ ہیں اور میں اپنے بعد کسی چیز کو اتنا اہم نہیں سمجھتا جتنا اہم میرے نزدیک کلالہ ہے (کلالہ وہ شخص ہے حو فوت ہوجائے اور اس کے ورثاء میں نہ والدین ہوں اور نہ اولاد ہوں۔)
اور میں نے رسول اللہ ﷺسے کسی چیز کے بارے میں اتنا نہیں پوچھا جتنا کہ کلالہ کے بارے میں پوچھا اور آپ ﷺنے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں فرمائی جتنی کہ اس مسئلہ میں یہاں تک کہ آپ ﷺنے اپنی انگلی مبارک میرے سینے میں ماری پھر فرمایا اے عمر کیا تجھے وہ آیت کافی نہیں جو گرمیوں کے موسم میں سورة النسا کے آخر میں نازل ہوئی (یَستَفتُونَکَ قُلِ اللہ یُفتِیکُم فِی الکَلا لَہ) آپ ﷺسے حکم پوچھتے ہیں فرما دیں کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے، اور اگر میں زندہ رہا تو کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا جس کے متعلق ہر آدمی جس نے قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ تو ان لوگوں پر گواہ رہنا جن کو میں نے شہروں میں بطور حکام مقرر کیا تھا۔ اورمیں نے انہیں اسی لئے بھیجا ہے کہ وہ ان پر انصاف کریں اور ان لوگوں کو دین کی باتیں سکھائیں اور ان کو نبی ﷺکی سنت سکھائیں اور جو مال غنیمت ان کو ملے اسے تقسیم کریں اور جس معاملہ میں کوئی مشکل پیش آئے تو میری طرف رجوع کریں پھر (فرمایا) اے لوگو! تم دو درختوں کو کھاتے ہو۔ میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں، یہ درخت پیاز اور لہسن کے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ان درختوں کی کسی آدمی سے بدبو محسوس کرتے تو حکم فرماتے کہ اسے بقیع کی طرف نکال دیا جائے، تو جو آدمی انہیں کھائے تو خوب انہیں پکا کر ان کی بدبو مار دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى عَرُوبَةَ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلاَهُمَا عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ فِى هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
A similar Hadith (as no. 1258) was narrated from Qatadah with this chain.
قتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح ایک اور روایت منقول ہے۔
19. بَاب النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ حَيْوَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ سَمِعَ رَجُلاً يَنْشُدُ ضَالَّةً فِى الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ لاَ رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا ».
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever hears a man making a lost property announcement in the Masjid, let him say: "May Allah not restore it to you," for the "Masajid were not built for this purpose."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو آدمی مسجد میں کسی آدمی کو اپنی گمشدہ چیز کو بلند آواز کے ساتھ تلاش کرتے ہوئے سنے تو اسے کہنا چاہیے کہ اللہ کرے تیری یہ چیز نہ ملے کیونکہ یہ مسجدیں اس لئے نہیں بنائی گئیں
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ يَقُولُ حَدَّثَنِى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ. بِمِثْلِهِ.
Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say..." a similar report (as no. 1260).
ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالا منقول ہے۔
وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِىُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلاً نَشَدَ فِى الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ. فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ وَجَدْتَ. إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ ».
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that a man made a lost property announcement in the Masjid, saying: "Who has found the red camel?" The Prophet (s.a.w) said: "May you not find it. The Masajid were only built for that for which they were built."
حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ آیک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺنے فرمایا تجھے وہ نہ ملے کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لئے ہوتی ہیں جن کے لئے بنائی گئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِى سِنَانٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا صَلَّى قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ وَجَدْتَ إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ ».
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that when the Prophet (s.a.w) had completed his prayers, a man stood up and said: "Who has found the red camel?" The Prophet (s.a.w) said: "May you not find it. The "Masajid were only built for that for which they were built."
حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺنے نماز پڑھ لی تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ؟تو نبیﷺنے فرمایا وہ تجھے نہ ملے کیونکہ مسجدیں ان کاموں کے لئے ہیں جن کے لئے بنائی گئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِىٌّ بَعْدَ مَا صَلَّى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةَ الْفَجْرِ. فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ. بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا. قَالَ مُسْلِمٌ هُوَ شَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ أَبُو نَعَامَةَ رَوَى عَنْهُ مِسْعَرٌ وَهُشَيْمٌ وَجَرِيرٌ وَغَيْرُهُمْ مِنَ الْكُوفِيِّينَ.
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "A Bedouin came after the Prophet (s.a.w) had completed Fajr (prayers). He stuck his head in at the door of the Masjid..." a similar report (as no. 1263).
حضرت ابن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ایک دیہاتی مسجد کے دروازہ سے اندر داخل ہو ئے ۔آگے حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزر چکی۔
20. بَاب السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّى جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ حَتَّى لاَ يَدْرِى كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When one you stands up for prayers, the Shaitan comes to him and tries to confuse him, until he does not know how many Rak'ah he has prayed. If one of you experiences that, let him prostrate twice while he is sitting."
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آکر اس پر خلط ملط اور مشتبہ کر دیتا ہے یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے نماز کی کتنی رکعات پڑھی ہیں پس جب تم میں سے کسی کو یہ امر پیش آئے تو بیٹھ کر دو سجدہ(سہو) کرے۔
حَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ - ح قَالَ وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
A similar report (as no. 1265) was narrated (by others) from Az-Zuhri, with this chain.
ایک اور سند سے بھی یہی منقول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا نُودِىَ بِالأَذَانِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ الأَذَانَ فَإِذَا قُضِىَ الأَذَانُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِىَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا. لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِى كَمْ صَلَّى فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ».
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When the Adhan is called, the Shaitan runs away breaking wind, so that he will not hear the Adhan. When the Adhan ends, he comes back. Then when the Iqamah is called, he runs away, then when it is over, he comes back and distracts a man saying, 'Remember such and such, remember such and such,' reminding him of things that he had not remembered, until the man does not know how many Rak'ah he prayed. If one of you does not know how many Rak'ah he has prayed, let him prostrate twice while he is sitting."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتے ہوئے بھاگتا ہے تاکہ وہ اذان نہ سن لے جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھرتکبیر ہوتی ہے تو پھر پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے جب تکبیر پوری ہو جاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور نمازی کو وسوسہ ڈالتا ہے اور اس کی بھولی ہوئی باتوں کو یاد کراتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو یہاں تک کہ نمازی کو یاد نہیں رہتا کہ اس نے نماز میں کتنی رکعات پڑھی ہیں جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں تو وہ بیٹھ کر دو سجدہ (سہو) کرے۔
حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ وَلَّى وَلَهُ ضُرَاطٌ ». فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ « فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When the Iqamah for prayer is called, the Shaitan runs away breaking wind..." and he mentioned a similar report (as no. 1267). And he added: "And he makes him think of pleasant things and things that he wishes for, and he reminds him of needs that he did not remember."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے تکیبر پڑھی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کو گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے بقیہ حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر وہ آکر اسے رغبتیں اور آرزوئیں دلاتاہے اوراس کی وہ ضروریات یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہ تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ثُمَّ سَلَّمَ.
It was narrated that 'Abdullah bin Buhainah, said: "The Messenger of Allah (s.a.w) led us in praying two Rak'ah of one of the prayers, then he stood up without sitting, and the people stood up with him. When he had finished his prayer and we were waiting for him to say the Taslim, he said the Takbir, then he prostrated twice while he was sitting, before saying the Taslim, then he said the Taslim."
عبداللہ بن بحینہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں نماز پڑھائی جس میں دو رکعتیں پڑھا کر بغیر قعدہ کئے کھڑے ہو گئے لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے گئے جب آپ ﷺنے نماز پوری کرلی اور ہم سلام پھیر نے کے انتظار میں تھے کہ آپ ﷺنےاللہ اکبر کہا پھر بیٹھے ہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کئے پھر آپ ﷺنے سلام پھیرا۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِىِّ حَلِيفِ بَنِى عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَامَ فِى صَلاَةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاَتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِى كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِىَ مِنَ الْجُلُوسِ.
It was narrated from 'Abdullah bin Buhainah Al-Asadi, the allies of Banu 'Abdul-Muttalib, that the Messenger of Allah (s.a.w) stood up during Zuhr prayer when he should have sat. When he finished his prayer, he prostrated twice, saying the Takbir with each prostration while he was sitting and before saying the Taslim, and the people prostrated with him, to compensate for the sitting that he had forgotten.
عبداللہ بن بحینہ اسدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺظہر کی نماز میں قعدہ کئے بغیر کھڑے ہوگئے جب آپ ﷺنے نماز پوری کرلی تو آپ ﷺنے آخری قعدہ میں سلام سے پہلے دو سجدے کئے ہر سجدہ میں تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی آپ ﷺکے ساتھ سجدے کئے یہ سجدے اس قعدہ کے بدلے میں تھے جو آپ ﷺبھول گئے تھے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَامَ فِى الشَّفْعِ الَّذِى يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِى صَلاَتِهِ فَمَضَى فِى صَلاَتِهِ فَلَمَّا كَانَ فِى آخِرِ الصَّلاَةِ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ.
It was narrated from 'Abdullah (who is) Ibn Malik (and) Ibn Buhainah that the Messenger of Allah (s.a.w) stood up at the end of two Rak'ah when he should have sat, and continued with his prayer. At the end of the prayer, he prostrated before saying the Taslfm, then he said the Taslim.
حضرت عبداللہ بن مالک بن بحینہ ازدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکا اپنی نماز کی جن دو رکعت کے بعد بیٹھنے کا اراد تھا آپ ﷺکھڑے ہوگئے اس کے بعد آپ ﷺنماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے آپ ﷺنے دو سجدے کئے پھر آپ ﷺنے سلام پھیرا۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى خَلَفٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِى صَلاَتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلاَثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلاَتَهُ وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ ».
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If one of you is unsure when in prayer and does not know how many (Rak'ah) he has prayed, whether it is three or four, let him ignore what is uncertain and proceed on the basis of what is certain. Then let him prostrate twice before saying the Taslim. Then if he has prayed five (Rak'ah ), that will make his prayer even, and if he has prayed it properly with four, it will annoy the Shaitan."'
حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں تین یا چار تو شک کو چھوڑ کر اور جتنی رکعات کا یقین ہو اس کے مطابق نماز پڑھے پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے اور اگر اس نے پانچ رکعات پڑھ لی ہوں تو ان دو سجدوں کے ساتھ اس کی چھ رکعات ہو جائیں گی اور اگر پوری چار رکعات پڑھی ہوں تو یہ دو سجدے شیطان کے لئے ذلت کا سبب بن جائیں گے۔
حَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنِى عَمِّى عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِى دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِى مَعْنَاهُ قَالَ « يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلاَمِ ». كَمَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ.
It was narrated from Zaid bin Aslam with this chain (as no. 1272).
ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث منقول ہے۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ - قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ إِبْرَاهِيمُ زَادَ أَوْ نَقَصَ - فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِى الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ « وَمَا ذَاكَ ». قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا - قَالَ - فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ « إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِى الصَّلاَةِ شَىْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِى وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِى صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ».
It was narrated that 'Alqamah said: "'Abdullah said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) offered Salat'" - Ibrahim said: "and he added or omitted something. - 'When he said the Salam (at the completion of Salat), it was said to him: "O Messenger of Allah , has something new been introduced into the prayer?" He said: "Why is that?" They said: "You did such and such in the prayer." He turned to face the Qiblah, then he prostrated twice and said the Taslim, then he turned to face us and said: "If anything new had been introduced into the prayer I would have told you. But I am human, I forget as you forget. If I forget, then remind me. If one of you is unsure in his prayer, let him work out what is correct and proceed on that basis, then prostrate twice."
حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے نماز پڑھائی راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ کچھ زیادہ کیا یا کم جب آپ ﷺنے سلام پھیرا تو آپ ﷺسے عرض کیا گیا کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا وہ کیا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺنے اس طرح نماز پڑھائی حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے اپنے پاؤں پلٹے اور قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا پھر اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف متوجہ کر کے فرمایا اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتا لیکن میں تمہاری طرح کا انسان ہوں میں بھول بھی سکتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو لہذا جب بھول جایا کروں تو مجھے یاد دلایا کرو۔ اور جب تم میں کسی کو اپنی نماز میں شک ہو تو خوب غور کرے پھر جو درست ہو اس کے مطابق نماز پوری کرے پھر دو سجدے کرکے سلام پھیر دے۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلاَهُمَا عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ « فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ ». وَفِى رِوَايَةِ وَكِيعٍ « فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ».
It was narrated from Mansur with this chain (a Hadith as no. 1274) And in the report of Ibn Bashr is: "Let him try to work out what is correct."
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے صرف تھوڑی بہت تبدیلی ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ مَنْصُورٌ « فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ ».
Mansur narrated it with this chain (no. 1274). Mansur said: "Let him try to work out what is correct."
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے جس میں یہ ہے کہ جب شبہ پیدا ہوتو غور کرے (نماز کی )درستگی کے لیے یہی مناسب ہے۔
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ».
It was narrated from Mansur with this chain (no. 1274). He said: "Let him work out what is correct."
ایک اور سند کے ساتھ بھی کچھ تغیر سے یہ حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ »
It was narrated from Mansur with this chain (no. 1274). He said: "Let him try to work out what is closest to that which is correct."
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے جس میں یہ ہے جو صحیح ہو ، اس کے بارے میں غور کرے ، یہی چیز درستگی کے زیادہ قریب ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « فَلْيَتَحَرَّ الَّذِى يُرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ ».
It was narrated from Mansur with this chain (no. 1274). He said: "Let him try to work out what he thinks is correct."
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے جس میں ہے جو صحیح ہو ، اس کے بارے میں غور کرے۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ هَؤُلاَءِ وَقَالَ « فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ».
It was narrated from Mansur with this chain (no. 1274). He said: "Let him try to work out what is correct."
ایک سند کے ساتھ ہے” صحیح امر تلاش کرے“۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِى الصَّلاَةِ قَالَ « وَمَا ذَاكَ ». قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
It was narrated from 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) prayed Zuhr with five Rak'ah, and when he said the Taslim, it was said to him: "Has something been added to the prayer?" He said: "Why is that?" They said: "You prayed five (Rak'ah)." So he prostrated twice.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ظہر کی نماز پانچ رکعات پڑھا دیں جب آپ ﷺنے سلام پھیرا تو آپ ﷺسے عرض کیا گیا کہ کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا وہ کیسے ؟عرض کیا گیا کہ آپ ﷺنے پانچ رکعات پڑھ دیں پس آپ ﷺنے دو سجدے کئے۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا.
It was narrated from 'Alqamah that he led them in prayer and prayed five (Rak'ah).
حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے پانچ رکعت نماز پڑھادیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا. قَالَ كَلاَّ مَا فَعَلْتُ. قَالُوا بَلَى - قَالَ - وَكُنْتُ فِى نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلاَمٌ فَقُلْتُ بَلَى قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا. قَالَ لِى وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ ذَاكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَمْسًا فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ « مَا شَأْنُكُمْ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ زِيدَ فِى الصَّلاَةِ قَالَ « لاَ ». قَالُوا فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَانْفَتَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ « إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ». وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِى حَدِيثِهِ « فَإِذَا نَسِىَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ».
It was narrated that Ibrahim bin Suwaid said: "'Alqamah led us in prayer and prayed five (Rak'ah). When he said the Taslim, the people said: 'O Abu Shibl, you prayed five (Rak'ah).' He said: 'No, I did not.' They said: 'Yes you did."' He (the narrator) said: "I was at the edge of the crowd and I was still a boy, but I said: 'Yes you did, you prayed five (Rak'ah).' He said to me: 'You too, O one-eyed, you also say that?' I said: 'Yes.' So he went and prostrated twice, then he said the Taslim. Then he said: "Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) led us in prayer and prayed five (Rak'ah), and when he finished, the people whispered amongst themselves. He said: 'What is the matter with you?' They said: 'O Messenger of Allah, has something been added to the prayer?' He said: 'No.' They said: 'But you prayed five (Rak'ah).' He went and prostrated twice, then he said the Taslim, [then] he said: 'I am human like you, I forget as you forget."' Ibn Numair added in his report: "If any one of you forgets, let him prostrate twice.''
حضرت ابراہیم بن سوید سے روایت ہے کہ علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ظہر کی نماز پانچ رکعات پڑھا دیں جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابوشبل(علقمہ کی کنیبت) آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دیں انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں۔ میں نے اس طرح نہیں کیا لوگوں نے کہا آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ میں ایک کونے میں تھا اور میں اس وقت تھا بھی کم سن میں نے بھی کہا کہ آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں۔ وہ کہنے لگے اے کانے تو بھی اسی طرح کہتا ہے میں نے کہا ہاں، یہ سن کر وہ لوٹے اور پھر دو سجدے کئے اور پھر سلام پھیرا اور پھر کہا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے پانچ رکعتیں پڑھائیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کردیا آپ ﷺنے پوچھا کیا بات ہے لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے آپ ﷺنے فرمایا ہرگز نہیں لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺنے پانچ رکعتیں پڑھادی ہیں آپ ﷺنے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا میں تمہاری طرح انسان ہوں میں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو ابن نمیر کی حدیث میں یہ زیادہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرے۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِىُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِىُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَمْسًا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِى الصَّلاَةِ قَالَ « وَمَا ذَاكَ ». قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا. قَالَ « إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ». ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ.
It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) led us in prayer and prayed five (Rak'ah). We said: 'O Messenger of Allah, has something been added to the prayer?' He said: 'Why is that?' They said: 'You prayed five (Rak'ah).' He said: 'I am human like you. I remember as you remember and I forget as you forget.' Then he did the two prostrations of As-Sahw (forgetfulness).
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں نماز کی پانچ رکعتیں پڑھادیں ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا نماز میں زیادتی ہوگئی؟ ہے آپ ﷺنے فرمایا وہ کیسے؟ ہم نے عرض کیا کہ آپ ﷺنے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں آپ ﷺنے فرمایا کہ میں تمہاری طرح کا انسان ہوں میں بھی اسی طرح یاد کرتا ہوں جس طرح تم یاد کرتے ہو اور میں بھی بھول جاتا ہوں جس طرح کہ تم بھول جاتے ہو پھر آپ ﷺنے بھولنے کے دو سجدے کیے۔
وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَزَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَالْوَهْمُ مِنِّى - فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِى الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ « إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِىَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ». ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) offered Salat, and he added or omitted something" - Ibrahim (a narrator) said: "I am not sure." "It was said: 'O Messenger of Allah, has something been added to the prayer?' He said: 'I am human like you, and I forget as you forget. If one of you forgets something, let him prostrate twice while he is sitting.' Then the Messenger of Allah (s.a.w) turned around and prostrated twice.
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ زیادتی یا کچھ کمی کے ساتھ نماز پڑھائی( راوی ابراہیم کہتے ہیں کہ یہ وہم میری طرف سے ہے) آپ ﷺسے عرض کیا گیا، اے اللہ کے رسول کیا نماز میں زیادتی ہوگئی ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں میں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو جب تم میں سے کوئی آدمی بھول جائے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے پھر رسول اللہ ﷺقبلہ رخ ہوئے پھر دو سجدے کئے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلاَمِ وَالْكَلاَمِ.
It was narrated from 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) did the two prostrations of As-Sahw (forgetfulness) after saying the Salam and talking (to the congregation).
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سلام پھیرنے اور گفتگو کرنے کے بعد دو سجدے (سہو)کئے۔
وَحَدَّثَنِى الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِىٍّ الْجُعْفِىُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَايْمُ اللَّهِ مَا جَاءَ ذَاكَ إِلاَّ مِنْ قِبَلِى - قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِى الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ « لاَ ». قَالَ فَقُلْنَا لَهُ الَّذِى صَنَعَ فَقَالَ « إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ». قَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
It was narrated that 'Abdullah said: "We offered prayers with the Messenger of Allah (s.a.w) and he either added or omitted something. We said: 'O Messenger of Allah, has something (new) been introduced into the prayer?' He said: 'No.' We told him what he had done and he said: 'If a man adds or omits something, let him prostrate twice.' Then he prostrated twice."
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺنے نماز میں کچھ زیادتی کی یا کمی کی ابراہیم کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم یہ شبہ مجھے ہوا حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا نہیں، پھر ہم نے عرض کیا کہ آپ ﷺنے اس طرح کیا ہے، آپ نے فرمایا کہ جب کسی آدمی سے نماز میں کچھ زیادتی ہو یا کمی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ دو سجدے کرے پھر آپ ﷺنے دو سجدے کئے۔
حَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِىِّ إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا وَفِى الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَا أَنْ يَتَكَلَّمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ قُصِرَتِ الصَّلاَةُ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ فَنَظَرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَمِينًا وَشِمَالاً فَقَالَ « مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ». قَالُوا صَدَقَ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ. فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ. قَالَ وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ وَسَلَّمَ.
It was narrated from Muhammad bin Sirin, that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) led us in one of the afternoon prayers, either Zuhr or 'Asr, and he said the Taslim after two Rak'ah. Then he went to a date-palm trunk in the Qiblah of the Masjid and leaned against it, looking angry. Among the people were Abu Bakr and 'Umar, but they were too afraid to speak. The people left quickly, saying that the prayer had been shortened. Then Dhul-Yadain stood up and said: 'O Messenger of Allah, has the prayer been shortened or did you forget?' The Prophet (s.a.w) looked to his right and his left, then he said: 'What did Dhul-Yadain say?' They said: 'He is right, you only prayed two Rak'ah.' So he prayed two more Rak'ah and said the Taslim, then he said the Takbir and prostrated, then he said the Takbir and sat up, then he said the Takbir and prostrated, then he said Takbir and sat up." He said: "I was informed from 'Imran bin Husain that he said: "Then he said the Taslim (instead "and satup")."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں ظہر کی یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا پھر ایک لکڑی کی طرف آئے جو مسجد میں قبلہ رخ لگی ہوئی تھی اس پر ٹیک لگا کر غصہ کی حالت میں کھڑے ہوگئے جماعت میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے یہ دونوں حضرات اس بات سے ڈرے کہ آپ ﷺسے بات کریں اور جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم کر دی گئی تو ذوالیدین کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ ﷺبھول گئے ہیں نبی ﷺدائیں اور بائیں طرف دیکھ کر فرمانے لگے کہ ذوالیدین کیا کہتا ہے صحابہ نے عرض کیا کہ یہ سچ کہتا ہے آپ ﷺنے صرف دو رکعات ہی پڑھائی ہیں پھر آپ ﷺنے دو رکعات اور پڑھائیں اور سلام پھیرا پھر تکبیر کہی پھر سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھایا پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھایا راوی محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ عمران بن حصین کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ انہوں نے کہا اور سلام پھیرا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِىِّ. بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) led us in one of the afternoon prayers..." a Hadith like that of Sufyan (no. 1288).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی باقی حدیث سفیان کی حدیث کی طرح ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِى أَحْمَدَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِى رَكْعَتَيْنِ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ ». فَقَالَ قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى النَّاسِ فَقَالَ « أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ». فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا بَقِىَ مِنَ الصَّلاَةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ.
It was narrated that Abu Sufyan, the freed slave of Ibn Abi Ahmad, said: "I heard Abu Hurairah say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) led us in praying 'Asr, then he said the Taslim after two Rak'ah. Dhul-Yadain stood up and said: "Has the prayer been shortened, O Messenger of Allah, or did you forget?" The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Neither." He said: "One of them has happened, O Messenger of Allah." The Messenger of Allah (s.a.w) turned to the people and said: "Is Dhul-Yadain telling the truth?" They said: "Yes, O Messenger of Allah." The Messenger of Allah (s.a.w) completed what was left of the prayer, then he prostrated twice while he was sitting, after saying the Taslim."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو آپ ﷺنے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرا تو ذوالیدین کھڑے ہو کر کہنے لگے اے اللہ کے رسول کیا نماز کم کر دی گئی یا آپ ﷺبھول گئے؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اس میں سے کوئی بات بھی نہیں ۔اس نے عرض کیا کہ کچھ تو ہوا ہے پھر رسول اللہ ﷺلوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے صحابہ نے عرض کیا ہاں اے اللہ کے رسول! پھر رسول اللہ ﷺنے باقی نماز پوری فرمائی پھر آخری قعدہ میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔
وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِىٌّ - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ ثُمَّ سَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِى سُلَيْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) prayed two Rak'ah of Zuhr, then he said the Taslim. A man from Banu Sulaim came to him and said: "O Messenger of Allah, has the prayer been shortened or did you forget?" ...and he quoted the same Hadith (as no. 1290).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں ظہر کی نماز کی دو رکعات پڑھائیں پھر آپ ﷺنے سلام پھیر دیا بنوسلیم کے ایک آدمی نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺکیا نماز میں کمی ہوگئی ہے یا آپ ﷺبھول گئے ہیں باقی حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزر چکی۔
وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّى مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةَ الظُّهْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى سُلَيْمٍ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: "While I was praying Zuhr with the Prophet (s.a.w), the Messenger of Allah (s.a.w) said the Taslim after two Rak'ah. A man from Banu Sulaim stood up..." and he quoted the same Hadith (no. 1290).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی رسول اللہ ﷺنے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تو بنوسلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا باقی حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزر چکی۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَبِى الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِى ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِى يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ. وَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ فَقَالَ « أَصَدَقَ هَذَا ». قَالُوا نَعَمْ. فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ.
It was narrated from 'Imran bin Husain that the Messenger of Allah (s.a.w) prayed Asr and said the Taslim after three Rak'ah, then he went into his house. A man called Al-Khirbaq, who had long arms, stood up and said: "O Messenger of Allah!" And he told him what he had done. He (s.a.w) came out looking angry, dragging his Rida', and when he reached the people he said: "Is this one telling the truth?" They said: "Yes." So he prayed one Rak'ah, then he said the Taslim, then he prostrated twice, then he said the Taslim.
حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے عصر کی نماز پڑھائی تو آپ ﷺنے تین رکعات کے بعد سلام پھیر دیا پھر اپنے گھر تشریف لے جانے لگے تو آپ ﷺکی طرف ایک آدمی کھڑا ہوا جسے خرباق کہا جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بھی لمبے تھے اس نے کہا اے اللہ کے رسول! پھر آپ ﷺنے جو کیا وہ آپ ﷺکو اس نے یاد دلا دیا آپ ﷺغصہ میں اپنی چادر کھینچتےہوئے نکلے اور لوگوں تک پہنچ گئے پھر آپ ﷺنے فرمایا کیا یہ سچ کہتا ہے لوگوں نے کہا کہ ہاں پھر آپ ﷺنے ایک رکعت پڑھائی پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - وَهُوَ الْحَذَّاءُ - عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَبِى الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَخَرَجَ مُغْضَبًا فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِى كَانَ تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ثُمَّ سَلَّمَ.
It was narrated that 'Imran bin Husain said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said the Taslim after three Rak'ah of Asr, then (after Taslim) he stood up and entered the apartment. A man with large arms stood up and said: 'Has the prayer been shortened, O Messenger of Allah?' He came out looking angry, then he prayed the Rak'ah that he had omitted, then he said the Taslim, then he did the two prostrations of forgetfulness, then he said the Taslim."
حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے عصر کی تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا پھر آپ ﷺکھڑے ہوئے اور اپنے حجرہ مبارک میں تشریف لے گئے اتنے میں ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول کیا نماز کم کر دی گئی ہے آپ ﷺغصہ میں نکلے اور جو رکعت چھوٹ گئی تھی وہ پڑھائی پھر سلام پھیرا دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔