- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First456

51. بَاب فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِىُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِى الصَّلاَةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى فَأَبْعَدُهُمْ وَالَّذِى يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِى يُصَلِّيهَا ثُمَّ يَنَامُ ». وَفِى رِوَايَةِ أَبِى كُرَيْبٍ « حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِى جَمَاعَةٍ ».

It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The people who will have the greatest reward for prayer will be those who walk the furthest distance to come and pray, then those who walk the next furthest. The one who waits for the prayer until he prays with the Imam will have a greater reward than the one who prays then sleeps." According to the report of Ibn Kuraib: "until he prays it with the Imam in congregation."

حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ لوگوں میں سے نماز کا سب سے بڑا اجر اس آدمی کو ملتا ہے جو سب سے زیادہ دور سے اس کی طرف چل کر آتا ہے پھر جو ان کے بعد میں آنے والا ہو ۔اور وہ آدمی جو امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا انتظار کرے اس کا اجر اس سے زیادہ ہے جو نماز پڑھ کر سوجائے ۔ اور ابوکریب کی روایت میں ہے باجماعت نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِى عُثْمَانَ النَّهْدِىِّ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ لاَ أَعْلَمُ رَجُلاً أَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ صَلاَةٌ - قَالَ - فَقِيلَ لَهُ أَوْ قُلْتُ لَهُ لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِى الظَّلْمَاءِ وَفِى الرَّمْضَاءِ . قَالَ مَا يَسُرُّنِى أَنَّ مَنْزِلِى إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ إِنِّى أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِى مَمْشَاىَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِى إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ ».

It was narrated that Ubayy bin Ka'b said: "There was a man - and I do not know of any man who lived further away from the Masjid than he did - but he never missed a prayer. It was said to him" - or: - "I said - [to him ] : 'Why don't you buy a donkey that you can ride when it is dark or when the sand is too hot?' He said: 'I would not like my house to be next to the Masjid. I want my walking to the Masjid and my returning when I come back to my family, to be recorded for me.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah has gathered all that (reward) for you."'

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص تھا کہ اس کے مکان سے زیادہ کسی کا مکان مسجد سے دور نہ تھا۔ اور اس کی نماز کبھی قضا نہیں ہوتی تھی تو میں نے اس سے کہا کہ اگر تو ایک گدھا خرید لے کہ جس پر تو سوار ہو کر اندھیرے میں اور گرمیوں میں آیا کرے! اس نے کہا کہ میرے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں کہ میرا گھر مسجد کے کونے میں ہو بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کی طرف چل کر جانا لکھا جائے اور واپس جانا جب میں اپنے گھر کی طرف واپس جاؤں ۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ نے یہ سارا ثواب تیرے لئے جمع کردیا ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كِلاَهُمَا عَنِ التَّيْمِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. بِنَحْوِهِ.

A similar report (as no. 1514) was narrated from At-Taimi with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِى عُثْمَانَ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِى الْمَدِينَةِ فَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ الصَّلاَةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - فَتَوَجَّعْنَا لَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلاَنُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنَ الرَّمْضَاءِ وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الأَرْضِ. قَالَ أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِى مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلاً حَتَّى أَتَيْتُ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرْتُهُ - قَالَ - فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ يَرْجُو فِى أَثَرِهِ الأَجْرَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ ».

It was narrated that Ubayy bin Ka'b said: "There was a man among the Ansar whose house was the most remote house in Al-Madinah, but he never missed a prayer with the Messenger of Allah (s.a.w). We felt sorry for him, and I said to him: 'O so-and-so, why don't you buy a donkey to spare you from the burning sand and the reptiles of the land?' He said: 'By Allah, I would not like my house to be beside the house of Muhammad (s.a.w).' I thought that this was too much, so I brought him to the Prophet of Allah (s.a.w) and told him. So he called him and he told him about that, and mentioned that he hoped for reward for his footsteps. The Prophet (s.a.w) said to him: 'You will have that which you seek."'

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی تھا اس کا گھر مدینہ منورہ سے بہت دور تھا اور اس کی کوئی نماز رسول اللہ ﷺکے ساتھ چھوٹتی بھی نہیں تھی حضرت ابی فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کی اس تکلیف کا احساس ہوا تو میں نے اس سے کہا کہ اے فلاں کاش کہ تو ایک گدھا خرید لیتا جو تجھے گرمی اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے بچاتا تو اس آدمی نے کہا اللہ کی قسم میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد ﷺکے قریب ہو حضرت ابی کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی کی یہ بات ناگوار لگی میں اللہ کے نبی ﷺکی خدمت میں آیا اور میں نے آپ ﷺکو اس آدمی کی بات سے آگاہ کیا آپ ﷺنے اس آدمی کو بلایا تو اس نے اسی بات کی طرح آپ ﷺکے سامنے ذکر کیا اور یہ کہ میں اپنے قدموں کے اجر کی امید رکھتا ہوں نبی ﷺنے اس آدمی سے فرمایا کہ تجھے وہی اجر ملے گا جس کی تو نے نیت کی ہے۔


وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عُمَرَ كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِىُّ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِى كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report was narrated from "Asim, with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ بُيُوتَنَا فَنَقْتَرِبَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « إِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً ».

Jabir bin 'Abdullah said: "Our houses were far away from the Masjid and we wanted to sell our houses and move nearer to the Masjid, but the Messenger of Allah (s.a.w) told us not to do that, and said: 'For every step you will rise one degree in status."'

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھر مسجد سے دور تھے تو ہم نے چاہا کہ ہم اپنے گھروں کو بیچ دیں اور مسجد کے قریب گھر لے لیں تو رسول اللہ ﷺنے ہمیں منع فرما دیا اور فرمایا کہ تمہارے لئے ہر قدم کے ساتھ ایک درجہ ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يُحَدِّثُ قَالَ حَدَّثَنِى الْجُرَيْرِىُّ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ لَهُمْ « إِنَّهُ بَلَغَنِى أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ ». قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ. فَقَالَ « يَا بَنِى سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ».

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "Some land around the Masjid became vacant, and Banu Salimah wanted to move to be close to the Masjid. News of that reached the Messenger of Allah (s.a.w) and he said to them: 'I have heard that you want to move near the Masjid.' They said: 'Yes, O Messenger of Allah, we want to do that.' He said: 'O Banu Salimah, stay in your houses, your footsteps will be recorded· stay in your houses, you; footsteps will be recorded."'

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مسجد کے گرد کچھ جگہیں خالی ہوئیں تو بنی سلمہ نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں تو یہ بات رسول اللہ ﷺتک پہنچی آپ ﷺنے ان سے فرمایا کہ مجھے تمہاری یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو انہوں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول ہم نے یہ ارادہ کیا ہے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے بنی سلمہ اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔


حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِىُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ. - قَالَ - وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « يَا بَنِى سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ». فَقَالُوا مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "Banu Salimah wanted to move close to the Masjid, as there was vacant land there. News of that reached the Prophet (s.a.w) and he said: 'O Banu Salimah, stay in your houses, your footsteps will be recorded.' They said: 'We would not be happier if we had moved."'

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ مسجد کے قریب والی جگہوں میں منتقل ہو جائیں راوی نے کہا کہ وہاں کچھ مکان خالی تھے یہ بات نبی ﷺتک پہنچی تو آپ ﷺنے فرمایا اے بنی سلمہ تم اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ اب ہمیں منتقل ہونے کی اتنی خوشی نہ ہوتی۔

52. بَاب الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ

حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِىٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ عَدِىِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِى حَازِمٍ الأَشْجَعِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ تَطَهَّرَ فِى بَيْتِهِ ثُمَّ مَشَى إِلَى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِىَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ كَانَتْ خَطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever purifies himself (i.e., performs Wudu') in his house, then walks to one of the houses of Allah in order to perform one of the duties enjoined by Allah, for every two steps he takes, one will erase a sin and the other will raise him one degree in status."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو آدمی اپنے گھر میں طہارت حاصل کرے پھر وہ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کی طرف چلے تاکہ وہ اللہ تعالی کے فرائض میں سے ایک فریضہ کو پورا کرے تو اس کے قدموں میں سے ایک سے گناہ مٹیں گے اور دوسرے قدم سے اس کا ایک درجہ بلند ہوگا۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرٌ - يَعْنِى ابْنَ مُضَرَ - كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ وَفِى حَدِيثِ بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَىْءٌ ». قَالُوا لاَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَىْءٌ. قَالَ « فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said - according to the Hadith of Bakr, he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say - "What do you think, if there was a river by the door of one of you and he bathed in it five times a day, would any speck of dirt be left on him?" They said: "Not a speck of dirt would be left on him." He said: "That is the likeness of the five prayers, by means of which Allah erases sins."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اور بکر کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺنے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو اور وہ روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گی صحابہ نے عرض کیا کہ اس پر سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا آپ ﷺنے فرمایا کہ یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے کہ اللہ تعالی ان نمازوں کے ذریعہ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ». قَالَ قَالَ الْحَسَنُ وَمَا يُبْقِى ذَلِكَ مِنَ الدَّرَنِ.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The likeness of the five prayers is that of an abundant river flowing by the door of any one of you, in which he bathes five times every day."' Al-Hasan said: "Not a speck of dirt would be left."

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال اس گہری نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروزاے پر بہہ رہی ہو اور وہ روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو،۔راوی حسن بصری کہنے لگا کہ پھر تو اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِى الْجَنَّةِ نُزُلاً كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever goes to the Masjid in the morning or the evening, Allah prepares for him provision in Paradise every time he goes in the morning or evening."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ جو آدمی صبح کے وقت مسجد کی طرف آتا ہے یا شام کے وقت تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں ضیافت تیار رکھتے ہیں کہ وہ صبح آئے یا شام آئے۔

53. بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ نَعَمْ كَثِيرًا كَانَ لاَ يَقُومُ مِنْ مُصَلاَّهُ الَّذِى يُصَلِّى فِيهِ الصُّبْحَ أَوِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِى أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ.

It was narrated that Simak bin Harb said: "I said to Jabir bin Samurah: 'Did you sit with the Messenger of Allah (s.a.w) ?' He said: 'Yes, frequently. He would not get up from the place in which he had prayed Subh' - or: 'Al-Ghadah' - 'until the sun had risen, and when the sun had risen he would get up. They used to chat and talk about matters of the Jahiliyah, and they would laugh but he(s.a.w) smiled."'

سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرة رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کیا آپ رسول اللہ ﷺکے پاس بیٹھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں بہت زیادہ ۔آپ ﷺاپنی جگہ سے کھڑے نہیں ہوتے تھے جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے تھے جب تک کہ سورج نہ نکل آتا پھر جب سورج نکل آتا تو آپ ﷺکھڑے ہو جاتے اور لوگ باتیں کرتے رہتے تھے اور زمانہ جاہلیت کا تذکرہ کرتے اور ہنستے اور آپ ﷺبھی مسکراتے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَكَرِيَّاءَ كِلاَهُمَا عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِى مُصَلاَّهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا.

It was narrated from Jabir bin Samurah that when the Prophet (s.a.w) had prayed Fajr, he would sit in his prayer place until the sun had risen well.

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺجب فجر کی نماز پڑھتے تھے تو اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلاَهُمَا عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَلَمْ يَقُولاَ حَسَنًا.

It was narrated (a similar Hadith as no. 1526) from Simak with this chain, but he did not say, "(the sun had risen) well."

حضرت سماک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔


وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ - حَدَّثَنِى ابْنُ أَبِى ذُبَابٍ فِى رِوَايَةِ هَارُونَ - وَفِى حَدِيثِ الأَنْصَارِىِّ حَدَّثَنِى الْحَارِثُ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَحَبُّ الْبِلاَدِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلاَدِ إِلَى اللَّهِ أَسْوَاقُهَا ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The most beloved land to Allah, may He be exalted, is the Masajid, and the most hated of land to Allah is the marketplaces."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہیں مساجد ہیں ، اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں۔

54. بَاب مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If there are three people, then let one lead them in prayer, and the one who is most entitled to lead them is the one who recites the most (Qur'an)."'

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک امام بنے اور ان میں سے امامت کا مستحق وہ ہے جو ان میں سے زیادہ (قرآن مجیدکا) علم رکھتا ہو۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى عَرُوبَةَ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِى أَبِى كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar Hadith (as no. 1529) was narrated from Qatadah, with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ح وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ جَمِيعًا عَنِ الْجُرَيْرِىِّ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

A similar Hadith (as no. 1529) was narrated from Abu Sa'eed, with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى خَالِدٍ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ كَانُوا فِى الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِى السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِى الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا وَلاَ يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِى سُلْطَانِهِ وَلاَ يَقْعُدْ فِى بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلاَّ بِإِذْنِهِ ». قَالَ الأَشَجُّ فِى رِوَايَتِهِ مَكَانَ سِلْمًا سِنًّا.

It was narrated that Abu Mas'ud Al-Ansari said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The people should be led (in prayers) by the one who has recite the most of the Book of Allah. If they are equal in recitation of the Qur'an, then by the one who has most knowledge of the Sunnah. If they are equal in knowledge of the Sunnah, then by the one who emigrated earlier. If they are equal in terms of emigration, then by the one who accepted Islam earlier. No man should lead another man in prayer in his place of authority, or sit in his place of honor in his house, without his permission."' Al-Ashajj said in his report, instead of the one who accepted Islam first, "the one who is older."

حضرت ابو مسعود انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ لوگوں کا امام وہ آدمی بنے جو اللہ کی کتاب کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو اور اگر قرآن مجید کے جاننے میں سب برابر ہوں تو پھر وہ آدمی امام بنے جو رسول اللہ ﷺکی سنت کا سب سے زیادہ جاننے والا ہو تو اگر سنت کے جاننے میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی جس نے ہجرت پہلے کی ہو تو اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی امام بنے جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو اور کوئی آدمی کسی مقرر شدہ امام کے ہوتے ہوئے امام نہ بنے اور نہ کسی کے گھر میں اس کی مسند پر بیٹھے سوائے اس کی اجازت کے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا الأَشَجُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 1532) was narrated from Al-A'mash with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانُوا فِى الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا وَلاَ تَؤُمَّنَّ الرَّجُلَ فِى أَهْلِهِ وَلاَ فِى سُلْطَانِهِ وَلاَ تَجْلِسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِى بَيْتِهِ إِلاَّ أَنْ يَأْذَنَ لَكَ أَوْ بِإِذْنِهِ ».

It was narrated that Isma'il bin Raja' said: "I heard 'Aws bin Dam'aj say: 'I heard Abu Mas'ud say: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to us: 'The people should be led in prayer by the one who recites the most of the Book of Allah and who has been reciting it for longer. If they are equal in recitation (of the Qur'an), then they should be led by the one who emigrated earlier. If they are equal in terms of emigration, then they should be led by the one who is oldest. Do not lead a man in prayer among his family nor in his place of authority, and do not sit in his place of honor in his house, unless he gives you permission," or "with his permission."

حضرت ابومسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں فرمایا کہ لوگوں کو امام وہ آدمی بنے جو اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ جاننے والا ہو اور سب سے اچھا پڑھتا ہو تو اگر ان کا پڑھنا برابر ہو تو وہ آدمی امام بنے جس نے ان میں سے پہلے ہجرت کی ہو اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی امامت کرے جو ان میں سب سے بڑا ہو اور کوئی آدمی کسی آدمی کے گھر میں امام نہ بنے اور نہ ہی اس کی حکومت میں اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کی عزت کی جگہ پر بیٹھے سوائے اس کے کہ وہ اجازت دیدے۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَحِيمًا رَقِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا فَسَأَلَنَا عَنْ مَنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ « ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ».

It was narrated that Malik bin Al-Huwairith said: "We came to the Messenger of Allah (s.a.w) and we were young men who were close in age, and we stayed with him for twenty nights. The Messenger of Allah (s.a.w) was compassionate and kind, and he thought that we were missing our families, so he asked us about those whom we had left behind, and we told him about our families. He said: 'Go back to your families and stay with them; teach them and exhort them. When the time for prayer is due, let one of you call the Adhan and let the oldest of you lead you in prayer."'

مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سب جوان اور ہم عمر رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آئے اورآپ ﷺکے پاس بیس راتیں ٹھہرے اور رسول اللہ ﷺنہایت مہربان اور نرم دل تھے آپ ﷺکو خیال ہوا کہ ہمیں گھر کی یاد ستارہی ہوگی ۔ آپ ﷺنے ہم سے پوچھا کہ تم اپنے گھروں میں کن عزیزوں کو چھوڑ آئے ہو؟ ہم نے آپ ﷺکو بتلایا توآپ ﷺنے فرمایا اپنے اہل و عیال کے پاس جاؤ اوروہیں ٹھہرو اور انہیں دین سکھاؤ اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جوبڑا ہو وہ امام کرائے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Ayyub with this chain (a similar Hadith as no. 1535).

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ قَالَ لِى أَبُو قِلاَبَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى نَاسٍ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ. وَاقْتَصَّا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.

Malik bin Al-Huwairith Abu Sulaiman said: "I came to the Messenger of Allah (s.a.w) with some other people, and we were young men who were close in age..." and he narrated a Hadith that was similar to that of Ibn 'Ulayyah (no. 1535).

مالک بن حویرث ابو سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺکے پاس آیا اور ہم جوان ہم عمر تھے باقی حدیث اسی طرح ہے جیسے گزری۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِىُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَا وَصَاحِبٌ لِى فَلَمَّا أَرَدْنَا الإِقْفَالَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لَنَا « إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ».

It was narrated that Malik bin AI-Huwairith said: "I came to the Prophet (s.a.w) with a friend of mine, and when we asked permission to go back, he said to us: 'When the time for prayer is due, call the Adhan, then call the Iqamah and let the older of you lead the prayer."'

مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آئے پھر جب ہم نے آپ ﷺکے پاس سے واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺنے ہمیں فرمایا کہ جب نماز کا وقت آئے تو تم اذان دینا اور اقامت کہنا اور تم میں سے جو بڑا ہو اسے اپنا امام بنا لینا۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِى ابْنَ غِيَاثٍ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ الْحَذَّاءُ وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِى الْقِرَاءَةِ.

It was narrated from Hafs, meaning Ibn Ghiyath: "Khalid AI-Hadhdha' narrated it to us with this chain." And he added: "Al-Hadhdha' said: 'And they were similar with (knowledge of) the Qur'an."'

ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے کہ جس میں یہ زیادتی ہے کہ وہ دونوں قراءت میں برابر تھے۔

55. بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ وَالعَيَاذُ بِاللهِ وَاسْتِحْبَابُهُ فِي الصُّبْحِ دَائِمًا وَبَيَانُ أَنَّ مَحَلَّهُ بَعْدَ رَفْعِ الْرَأْسِ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكَعَةِ الْأَخِيْرَةِ وَاسْتِحْبَابُ الْجَهْرِ بِهِ.

حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَاءَةِ وَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ». ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ « اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِى رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِى يُوسُفَ اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ وَرِعْلاً وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ». ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ (لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ ).

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said, when he had finished the recitation in Fajr prayer, he said the Takbir and raised his head: 'Sami' Allahu liman Hamidah, rabbana wa lakal-hamd (Allah hears those who praise Him, our Lord to You be praise).' Then he said, while standing: 'O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid, Salamah bin Hisham, 'Ayyash bin Abi Rabi'ah and the weak and oppressed believers. O Allah, punish Mudar severely and send upon them a famine like that of Yusuf. O Allah! Curse Lihyan, Ri'l, Dhakwan and 'Usayyah, for they have disobeyed Allah and His Messenger." Then we heard that he stopped doing that when the following was revealed: "Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardons) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers"."

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجس وقت فجر کی نماز میں قرات سے فارغ ہوتے اور تکبیر کہتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ( سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد) کہتے ۔پھر کھڑے کھڑے یہ دعا فرماتے اے اللہ ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش ابن ابی ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کافروں سے نجات عطا فرما، اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی سختی نازل فرما اور ان پر بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ کی طرح قحط سالی مسلط فرما اے اللہ قبیلہ لحیان اور رعل اور ذکوان اور عصیہ پر لعنت فرما انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نا فرمانی کی ہے پھر ہمیں یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺنے یہ دعا چھوڑ دی جب یہ آیت نازل ہوئی ( لیس لک من الامر شیء او یتوب علیہم اور یعذبہم فانہم ظالمون)۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى قَوْلِهِ « وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِى يُوسُفَ ». وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

It was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w) as far as the words: "And send upon them a famine like that of Yusuf, (no. 1540)" but he did not mention what comes after that.

ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کسنی یوسف تک روایت کیا ہے اس کے بعد اور کچھ نہیں بیان کیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِى صَلاَةٍ شَهْرًا إِذَا قَالَ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ». يَقُولُ فِى قُنُوتِهِ « اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِى رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِى يُوسُفَ ». قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ فَقُلْتُ أُرَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ - قَالَ - فَقِيلَ وَمَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا؟.

It was narrated from Abu Salamah that Abu Hurairah told them that the Prophet (s.a.w) said Qunut after bowing in prayer for one month. When he had said: "Allah hears those who praise Him," he said in his Qunut: "O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid. O Allah! Save Salamah bin Hisham. O Allah! Save 'Ayyash bin Abi Rabi'ah. O Allah! Save the weak and oppressed believers. O Allah! Punish Mudar severely. O Allah! Send upon them a famine like the famine of Yusuf." Abu Hurairah said: "Then I saw that the Messenger of Allah (s.a.w) had stopped saying this supplication afterwards. I said: 'I see that the Messenger of Allah (s.a.w) has stopped praying against them.' It was said: 'Do you not see that they have come?'"

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے ایک مہینہ تک نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی جب آپ ﷺ(سمع اللہ لمن حمدہ) کہتے ہوئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے اے اللہ ولید بن ولید کو نجات عطا فرمایا اے اللہ سلمہ بن ہشام کو نجات عطا فرما اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما اے اللہ کمزور مسلمانوں کو نجات عطا فرما اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی سختی نازل فرما اے اللہ ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ کے قحط کی طرح کا قحط نازل فرما حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺنے اس کے بعد یہ دعا کرنی چھوڑ دی تو میں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺکو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺنے ان کے لئے یہ دعا چھوڑ دی تو مجھے کہا گیا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جن کے لئے نجات کی دعا کی جاتی تھی وہ تو آگئے ہیں۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِى سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّى الْعِشَاءَ إِذْ قَالَ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ». ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ « اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِى رَبِيعَةَ ». ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الأَوْزَاعِىِّ إِلَى قَوْلِهِ « كَسِنِى يُوسُفَ ». وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

Abu Hurairah narrated that while the Messenger of Allah (s.a.w) was praying 'Isha' he said: "Allah hears those who praise Him." Then he said before he prostrated: "O Allah, save 'Ayyash bin Abi Rabi'ah." Then he mentioned something similar to the Hadith of Al-Awza'i (no. 1542), up to the words: "like the famine of Yusuf," and he did not mention what comes after that.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺعشاء کی نماز پڑھا رہے تھے جب آپ ﷺنے (سمع اللہ لمن حمدہ) کہا پھر آپ ﷺنے سجدہ کرنے سے پہلے یہ دعا کی اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما پھر اس طرح ذکر فرمائی ( کسنی یوسف) تک اور اس کے بعد ذکر نہیں فرمایا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ وَاللَّهِ لأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِى الظُّهْرِ وَالْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَصَلاَةِ الصُّبْحِ وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ.

Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman narrated that he heard Abu Hurairah say: "By Allah, I will lead you in a prayer that is similar to the prayer of the Messenger of Allah (s.a.w)." Abu Hurairah used to say the Qunut during Zuhr, and 'Isha' the later, and Subh, and he would pray for the believers and invoke curses on the disbelievers.

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں تمہیں رسول اللہ ﷺکی نماز کی طرح نماز پڑھاؤں گا پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظہر اور عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے اور مومنوں کے لئے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلاَثِينَ صَبَاحًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَلِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ أَنَسٌ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِى الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِىَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) supplicated against those who had killed the people of Bi'r Ma'unah every morning for thirty days. He supplicated against Ri'l, Dhakwan, Lihyan and 'Usayyah who had disobeyed Allah and His Messenger." Anas said: "Allah the Most High revealed about those who had been killed at Bi'r Ma'unah and we recited it until it was subsequently abrogated. It said: 'Convey to our people that we have met our Lord and He is pleased with us and we are pleased with Him."'

حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ان لوگوں پر تیس دن تک صبح کے وقت بد دعا فرمائی کہ جنہوں نے بئر معونہ والوں کو شہید کردیا تھا خاص طور پر رعل اور ذکوان اور لحیان اور عصیہ والوں کے خلاف بد دعا فرمائی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺکی نا فرمانی کی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ان لوگوں کے بارے میں جو بئر معونہ میں شہید کر دییے گئے قرآن نازل فرمایا ہم اس حصے کو پڑھتے بھی رہے پھر بعد میں اسے منسوخ کردیا گیا، ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوئے۔


وَحَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا.

It was narrated that Muhammad said: "I said to Anas: 'Did the Messenger of Allah (s.a.w) say the Qunut in the Subh prayer?' He said: 'Yes, for a short while, after bowing.'"

محمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺنے صبح کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! کچھ عرصہ تک رکوع کے بعد۔


وَحَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ مُعَاذٍ - حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِى صَلاَةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَيَقُولُ « عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ».

It was narrated from Anas bin Malik: "The Messenger of Allah (s.a.w) said the Qunut for a month, after bowing in the Subh prayer, supplicating against Ri'l and Dhakwan, and saying: "Usayyah disobeyed Allah and His Messenger."'

حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ایک مہینہ صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی جس میں آپ ﷺرعل اور ذکوان کے خلاف بد دعا فرماتے اور فرماتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کی ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِى صَلاَةِ الْفَجْرِ يَدْعُو عَلَى بَنِى عُصَيَّةَ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) said the Qunut for one month, after bowing in the Fajr prayer, supplicating against Banu 'Usayyah.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ایک مہینہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی جس میں بنی عصیہ کے خلاف بد دعا فرمائی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ. قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ. فَقَالَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ.

It was narrated from "Asim from Anas; he said: "I asked him about Qunut, is it before bowing or after bowing?" He (Anas) said: "Before bowing." I said: "Some people are saying that the Messenger of Allah (s.a.w) said the Qunut after bowing." He said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said the Qunut for a month, supplicating against people who had killed some of his Companions, who were known as Al-Qurra' (the reciters)."

عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد تو انہوں نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے رکوع کے بعد قنوت پڑھی ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ان لوگوں کے خلاف بد دعا فرمائی جنہوں نے صحابہ کرام میں سے ان لوگوں کو شہید کردیا تھا کہ جن کو قراء کہا جاتا تھا۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى قَتَلَتِهِمْ.

It was narrated that "Asim said: "I heard Anas say: 'I never saw the Messenger of Allah (s.a.w) grieve so much at the loss of a party as he grieved at the loss of the seventy [who were] killed at Bi'r Ma'unah, who were known as Al-Qurra' (the reciters). He continued to pray against their killers for a month."'

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو کسی لشکر کے لئے اتناپر یشان ہوتا نہیں دیکھا جتنا کہ ان ستر صحابہ کی وجہ سے پر یشان ہوئے کہ جنہیں بئر معونہ میں شہید کردیا گیا جن کو قراء کے نام سے پکارا جاتا تھا آپ ﷺنے ایک مہینہ ان شہداء کے قاتلوں کے خلاف بد دعا فرماتے رہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَابْنُ فُضَيْلٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا الْحَدِيثِ. يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.

This Hadith was narrated from "Asim, from Anas, from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے اور بعض راویوں نے بعض کی روایت پر کچھ اضافہ کیا ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلاً وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (s.a.w) said the Qunut for a month, cursing Ri'l, Dhakwan and 'Usayyah, who had disobeyed Allah and His Messenger.

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺایک مہینہ قنوت پڑھتے رہے جس میں آپ ﷺرعل ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیجتے رہے کہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺکی نافرمانی کی۔


وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِهِ.

A similar report (as no. 1552) was narrated from Anas from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ.

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) said the Qunut for a month, supplicaing against some of the 'Arab tribes, then he stopped doing that.

حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ قنوت پڑھی جس میں عرب کے کئی قبیلوں کے خلاف بددعا فرماتے رہے پھر اسے چھوڑ دیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى لَيْلَى قَالَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقْنُتُ فِى الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ.

Al-Bara' bin 'Azib narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) used to say Qunut in Subh, and Maghrib.

حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺفجر اور مغرب کی نمازوں میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْفَجْرِ وَالْمَغْرِبِ.

It was narrated that Al-Bara' said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said Qunut in Fajr and Maghrib."

حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺفجر اور مغرب کی نمازوں میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِىُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنِ اللَّيْثِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِى أَنَسٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِىٍّ عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ الْغِفَارِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى صَلاَةٍ « اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِى لِحْيَانَ وَرِعْلاً وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ».

It was narrated that Khufaf bin Ima' Al-Ghifari said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said while in Salat: 'O Allah, curse Banu Lihyan, Ri'l, Dhakwan and 'Usayyah, for they have disobeyed Allah and His Messenger. May Allah forgive Ghifar and may Allah grant protection to Aslam."'

حضرت خفاف بن ایما غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے نماز میں فرمایا اے اللہ بنی لحیان اور رعل اور ذکوان اور عصیہ پر لعنت فرما کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺکی نافرمانی کی ہے اور قبیلہ غفار کی مغفرت فرما اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطا فرما۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِى مُحَمَّدٌ - وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو - عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ خُفَافُ بْنُ إِيمَاءٍ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ « غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِى لِحْيَانَ وَالْعَنْ رِعْلاً وَذَكْوَانَ ». ثُمَّ وَقَعَ سَاجِدًا. قَالَ خُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ.

It was narrated that Al-Harith bin Khufaf said: "Khufaf bin Ima' said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) bowed, then he raised his head and said: "May Allah forgive Ghifar and may Allah grant protection to Aslam. 'Usayyah have disobeyed Allah and His Messenger. O Allah, curse Banu Lihyan and curse Ri'l and Dhakwan." Then he prostrated.' Khufat said: 'Cursing the disbelievers was prescribed as a result of that.'"

حضرت خفاف بن ایماء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے رکوع فرمایا پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو فرمایا کہ اللہ تعالی قبیلہ غفار کی مغفرت فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطا فرمائے اور عصیہ نے اللہ اور اسکے رسول اللہ ﷺکی نافرمانی کی ہے اے اللہ بنی لحیان پر لعنت فرما اور رعل اور ذکوان پر لعنت فرما پھر آپ ﷺسجدہ میں چلے گئے حضرت خفاف نے فرمایا کہ کافروں پر اسی وجہ سے لعنت کی جاتی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ وَأَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِىِّ بْنِ الأَسْقَعِ عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ. بِمِثْلِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ.

A similar report (as no. 1558) was narrated from Khufaf bin Ima', except that he did not say: "Cursing the disbelievers was prescribed as a result of that.''

حضرت خفاف بن ایما رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے لیکن اس میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ کافروں پر لعنت اسی وجہ سے کی جاتی ہے۔

56. بَاب قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا

حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَارَ لَيْلَهُ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلاَلٍ « اكْلأْ لَنَا اللَّيْلَ ». فَصَلَّى بِلاَلٌ مَا قُدِّرَ لَهُ وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابُهُ فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلاَلٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْ بِلاَلاً عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلاَ بِلاَلٌ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَىْ بِلاَلُ ». فَقَالَ بِلاَلٌ أَخَذَ بِنَفْسِى الَّذِى أَخَذَ - بِأَبِى أَنْتَ وَأُمِّى يَا رَسُولَ اللَّهِ - بِنَفْسِكَ قَالَ « اقْتَادُوا ». فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ « مَنْ نَسِىَ الصَّلاَةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ (أَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِى) ». قَالَ يُونُسُ وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا لِلذِّكْرَى.

It was narrated from Abu Hurairah that when the Messenger of Allah (s.a.w) returned from the campaign of Khaibar, he traveled for a night, then when he became drowsy he stopped to rest at the end of the night. He said to Bilal: "Stand guard for us tonight." Bilal pray as much as was decreed for him, and the Messenger of Allah (s.a.w) and his Companions slept. When it was nearly dawn, Bilal leaned against his camel, facing the east so that he could see the dawn when it came, but sleep overcame him while he was leaning against his camel. Neither the Messenger of Allah (s.a.w) nor Bilal nor any of his Companions woke up until the sun shone on them. The Messenger of Allah (s.a.w) was the first of them to wake up. The Messenger of Allah (s.a.w) was startled and said: "O Bilal!" Bilal said: "O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you. The same thing overtook me as overtook you (sleep)." He said: "Lead your mounts on." So they led their mounts on for some distance, then the Messenger of Allah (s.a.w) performed Wudu' and ordered Bilal to call the Iqamah for prayer, and he led them in praying Subh. When he had finished praying he said: "Whoever forgets a prayer, let him offer it when he remembers it, for Allah says, "...And perform As-Salat for My remembrance". Yunus said: "Ibn Shihab used to recite it: 'For remembrance."'

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجس وقت غزوہ خیبر سے واپس ہوئے تو ایک رات چلتے رہے یہاں تک کہ جب آپ ﷺکو نیند کا غلبہ ہوا تو رات کے آخری حصہ میں اترے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم آج رات پہرہ دو تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھنی شروع کر دی جتنی نماز اس سے پڑھی جا سکی اور رسول اللہ ﷺاور آپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سو گئے پھر جب فجر کا وقت قریب ہوا تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبح طلوع ہونے والی جگہ کی طرف اپنا رخ کر کے اپنی اونٹنی سے ٹیک لگائی تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بھی نیند کا غلبہ ہوگیا پھر نہ تو رسول اللہ ﷺبیدار ہوئے اور نہ ہی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کوئی بیدار ہوا یہاں تک کہ دھوپ ان پر آگئی تو رسول اللہ ﷺان میں سب سے پہلے بیدار ہوئے تو رسول اللہ ﷺنے دھوپ دیکھی تو گھبرا گئے اور فرمایا اے بلال! تو حضرت بلال نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ ﷺپر قربان میرے نفس کو بھی اسی نے روک لیا جس نے آپ کے نفس مبارک کو روک لیا پھر آپ ﷺنے فرمایا یہاں سے کوچ کرو پھر کچھ دور چلے پھر رسول اللہ ﷺنے وضو فرمایا اور حضرت بلال کو حکم فرمایا پھر انہوں نے نماز کی اقامت کہی تو آپ ﷺنے ان کو صبح کی نماز پڑھائی جب نماز پوری ہوگئی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ جو آدمی نماز پڑھنی بھول جائے تو جب اسے یاد آجائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس نماز کو پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا اقم الصلاۃ لذِکریٰ میری یاد کے لئے نماز قائم کر پس راوی کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس لفظ کو للذکرَیٰ پڑھا کرتے تھے یعنی یاد کے لئے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى - قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ عَرَّسْنَا مَعَ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ ». قَالَ فَفَعَلْنَا ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ - وَقَالَ يَعْقُوبُ ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ - ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "We stopped to rest at the end of the night with the Prophet of Allah (s.a.w), and we did not wake up until the sun had risen. The Prophet (s.a.w) said: 'Let each man take the head of his mount, for this is a place where the Shaitan was present with us.' We did that, then he called for water and performed Wudu', then he prayed two prostrations, then the Iqamah for prayer was called and he prayed Al-Ghadah (Fajr).''

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺکے ساتھ رات کے آخری حصہ میں اترے اور ہم میں سے کوئی بھی بیدار نہیں ہوا یہاں تک کہ سورج نکل آیا پھر رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ہر آدمی اپنی سواری کی لگام پکڑے کیونکہ اس جگہ میں شیطان آگیا ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے ایسے ہی کیا پھر آپ ﷺنے پانی منگوایا اور وضو فرمایا اور دو رکعت نماز سنت پڑھی پھر نماز کی اقامت کہی گئی پھر آپ ﷺنے صبح کی فرض نماز پڑھائی۔


وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ الْمُغِيرَةِ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا ». فَانْطَلَقَ النَّاسُ لاَ يَلْوِى أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ - قَالَ أَبُو قَتَادَةَ - فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَسِيرُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ - قَالَ - فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَمَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ - قَالَ - ثُمَّ سَارَ حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ مَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ - قَالَ - فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ - قَالَ - ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ مَالَ مَيْلَةً هِىَ أَشَدُّ مِنَ الْمَيْلَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ حَتَّى كَادَ يَنْجَفِلُ فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ « مَنْ هَذَا ». قُلْتُ أَبُو قَتَادَةَ. قَالَ « مَتَى كَانَ هَذَا مَسِيرَكَ مِنِّى ». قُلْتُ مَا زَالَ هَذَا مَسِيرِى مُنْذُ اللَّيْلَةِ. قَالَ « حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ ». ثُمَّ قَالَ « هَلْ تَرَانَا نَخْفَى عَلَى النَّاسِ ». ثُمَّ قَالَ « هَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ ». قُلْتُ هَذَا رَاكِبٌ. ثُمَّ قُلْتُ هَذَا رَاكِبٌ آخَرُ. حَتَّى اجْتَمَعْنَا فَكُنَّا سَبْعَةَ رَكْبٍ - قَالَ - فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ « احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلاَتَنَا ». فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَالشَّمْسُ فِى ظَهْرِهِ - قَالَ - فَقُمْنَا فَزِعِينَ ثُمَّ قَالَ « ارْكَبُوا ». فَرَكِبْنَا فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ كَانَتْ مَعِى فِيهَا شَىْءٌ مِنْ مَاءٍ - قَالَ - فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ - قَالَ - وَبَقِىَ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ لأَبِى قَتَادَةَ « احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ». ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ بِالصَّلاَةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ - قَالَ - وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَرَكِبْنَا مَعَهُ - قَالَ - فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِى صَلاَتِنَا ثُمَّ قَالَ « أَمَا لَكُمْ فِىَّ أُسْوَةٌ ». ثُمَّ قَالَ « أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ فِى النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاَةَ حَتَّى يَجِىءَ وَقْتُ الصَّلاَةِ الأُخْرَى فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا ». ثُمَّ قَالَ « مَا تَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوا ». قَالَ ثُمَّ قَالَ « أَصْبَحَ النَّاسُ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْدَكُمْ لَمْ يَكُنْ لِيُخَلِّفَكُمْ. وَقَالَ النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَإِنْ يُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا ». قَالَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ وَحَمِىَ كُلُّ شَىْءٍ وَهُمْ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا عَطِشْنَا. فَقَالَ « لاَ هُلْكَ عَلَيْكُمْ ». ثُمَّ قَالَ « أَطْلِقُوا لِى غُمَرِى ». قَالَ وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصُبُّ وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِى الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَحْسِنُوا الْمَلأَ كُلُّكُمْ سَيَرْوَى ». قَالَ فَفَعَلُوا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ حَتَّى مَا بَقِىَ غَيْرِى وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - ثُمَّ صَبَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ لِى « اشْرَبْ ». فَقُلْتُ لاَ أَشْرَبُ حَتَّى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « إِنَّ سَاقِىَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا ». قَالَ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً. قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ إِنِّى لأُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِى مَسْجِدِ الْجَامِعِ إِذْ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّى أَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ. قَالَ قُلْتُ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ. فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنَ الأَنْصَارِ. قَالَ حَدِّثْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِحَدِيثِكُمْ. قَالَ فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ فَقَالَ عِمْرَانُ لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ.

It was narrated from Thabit, from 'Abdullah bin Rabah, from Abu Qatadah, who said: "The Messenger of Allah (s.a.w) addressed us and said: 'You will travel all evening and all night, and you will come to some water tomorrow, if Allah wills.' The people set off without paying heed to one another." Abu Qatadah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) traveled until halfway through the night, and I was by his side. Then the Messenger of Allah (s.a.w) became drowsy and leaned to one side on his mount. I came to him and supported him without waking him up, until he sat upright on his mount. Then he traveled on until most of the night had passed, and he leaned to one side on his mount. I supported him without waking him up, until he sat upright on his mount. Then he traveled on until it was nearly dawn, and he leaned again, more so than on the two previous occasions, until he was about to fall. I came to him and supported him, and he raised his head and said: 'Who is this?' I said: 'Abu Qatadah.' He said: 'How long have you been traveling with me like this?' I said: 'I have been traveling like this all night.' He said: 'May Allah take care of you as you have taken care of His Prophet.' Then he said: 'Do you think that we are hidden from the people?' Then he said: 'Do you see anyone?' I said: 'Here is a rider.' Then I said: 'Here is another rider, until more gathered and we were seven riders in all.' The Messenger of Allah (s.a.w) turned off the road and lay down his head, then he said: 'Guard our prayer for us.' The first one to wake up was the Messenger of Allah (s.a.w), when the sun was on his back. We woke up, startled, then he said: 'Ride on.' So we rode on and traveled until the sun had risen, then he stopped and called for the water vessel I had with me, in which there was a little water. He performed Wudu' from it, using less water than usual. A little water was left in it, and he said to Abu Qatadah, 'Guard your water vessel for us, for you will see something happen with it.' Then Bilal called the Adhan and the Messenger of Allah (s.a.w) prayed two Rak'ah, then he prayed Al-Ghadah (Fajr), and did (in prayer) as he did every day . The Messenger of Allah (s.a.w) rode on and we rode with him, and we began to whisper to one another, saying: 'What expiation is there for what we have done by neglecting our prayer?' Then he said: 'Do you not have an example in me?' Then he said: 'There is no negligence in sleep, rather negligence is the fault of one who does not pray until the time for the next prayer is due. Whoever does that, let him pray when he remembers it, and if it is the following day, then let him pray at the time of the prayer (that he missed).' Then he said: 'What do you think the people have done?"' Then he said: "In the morning the people saw that their Prophet (s.a.w) was not there. Abu Bakr and 'Umar said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) is behind you; he would not leave you behind.' But the people said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) is ahead of you. If you had obeyed Abu Bakr and 'Umar, you would have been on the right path.'" "We reached the people when the sun had risen fully and everything was hot, and they were saying: 'O Messenger of Allah, we are dying, we are thirsty.' He said: 'You will not die.' Then he said: 'Bring me my small cup.' He called for the vessel of water, and the Messenger of Allah (s.a.w) started pouring it, and Abu Qatadah gave them to drink. As soon as the people saw what was in the vessel they fell upon it, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Behave properly, for you will all have enough.' So they did that. The Messenger of Allah (s.a.w) began to pour and I gave it to them to drink, until there was no one left but myself and the Messenger of Allah (s.a.w). Then the Messenger of Allah (s.a.w) poured some for me and said: 'Drink.' I said: 'I will not drink until you drink, O Messenger of Allah.' He said: 'The one who pours water is the last of them to drink.' So I drank and the Messenger of Allah (s.a.w) drank, then the people reached the oasis having drunk their fill of water." He said: "'Abdullah bin Rabah said: 'I will narrate this Hadith in the Jami' Masjid' and 'Imran bin Husain said: 'Watch what you are narrating, O young man, for I was one of the riders that night.' I said: 'Then you know more about the Hadith.' He said: 'Who are you?' I said: 'One of the Ansar.' He said: 'Then narrate it, for you know more about your Ahadith.'" He said: "So I narrated it to the people, and 'Imran said: 'I was present that night and I did not think that anyone remembered it as I remember it."'

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں خطاب فرمایا اور اس میں فرمایا کہ تم دو پہر سے لے کر ساری رات چلتے رہو گے اور اگر اللہ نے چاہا تو کل صبح پانی پر پہنچو گے تو لوگ چلے اور ان میں کوئی کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺہمارے ساتھ چلتے رہے یہاں تک کہ آدھی رات ہوگئی اور میں آپ ﷺکے پہلو میں تھا ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺاونگھنے لگے آپ ﷺاپنی سواری پر سے جھکے تو میں نے آپ ﷺکو جگائے بغیر سہارا دے دیا یہاں تک کہ آپ ﷺاپنی سواری پر سیدھے ہو گئے پھر چلے یہاں تک کہ جب رات بہت زیادہ ہوگئی تو آپ ﷺپھر اپنی سواری پر جھکے تو میں نے آپ ﷺکو جگائے بغیر سیدھا کیا یہاں تک کہ آپ ﷺاپنی سواری پر سیدھے ہو گئے پھر چلے یہاں تک کہ جب سحر کا وقت ہوگیا پھر ایک بار اور پہلے دونوں بار سے زیادہ مرتبہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ ﷺگر پڑیں میں پھر آیا اور آپ ﷺکو سہارا دیا تو آپ ﷺنے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا یہ کون ہے میں نے عرض کیا ابوقتادہ آپ ﷺنے فرمایا تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو میں نے عرض کیا کہ میں رات سے اسی طرح آپ ﷺکے ساتھ چل رہا ہوں آپ ﷺنے فرمایا اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اللہ کے نبی ﷺکی حفاظت کی ہے پھر آپ نے فرمایا کیا تو دیکھتا ہے کہ ہم لوگوں سے پوشیدہ ہیں پھر فرمایا کیا تو کسی کو دیکھ رہا ہے میں نے عرض کیا یہ ایک سوار ہے یہاں تک کہ سات سوار جمع ہو گئے پھر رسول اللہ ﷺراستہ سے ایک طرف ہو گئے اور اپنا سر مبارک رکھا پھر فرمایا تم ہماری نمازوں کا خیال رکھنا تو رسول اللہ ﷺسب سے پہلے بیدار ہوئے اور سورج آپ ﷺکی پشت پر تھا پھر ہم بھی گھبرائے ہوئے اٹھے آپ ﷺنے فرمایا سوار ہو جاؤ تو ہم سوار ہو گئے پھر ہم چلے یہاں تک کہ جب سورج بلند ہوگیا آپ ﷺاترے پھر آپ ﷺنے وضو کا برتن منگوایا جو کہ میرے پاس تھا اور اس میں تھوڑا سا پانی تھا پھر آپ ﷺنے اس سے وضو فرمایا جو کہ دوسرے وضو سے کم تھا اور اس میں سے کچھ پانی باقی بچ گیا پھر آپ نے ابوقتادہ سے فرمایا کہ ہمارے اس وضو کے پانی کے برتن کی حفاظت کرو کیونکہ اس سے عنقریب ایک عجیب خبر ظاہر ہوگی پھر حضرت بلال نے اذان دی پھر رسول اللہ ﷺنے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ ﷺنے صبح کی نماز اسی طرح پڑھی جس طرح آپ ﷺروزانہ پڑھتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺسوار ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺکے ساتھ سوار ہوئے پھر ہم میں سے ہر ایک آہستہ آہستہ یہ کہہ رہا تھا کہ ہماری اس غلطی کا کفارہ کیا ہوگا جو ہم نے نماز میں کی کہ ہم بیدار نہیں ہوئے پھر آپ ﷺنے فرمایا کیا تمہارے لیے میری زندگی میں نمونہ نہیں۔ پھر فرمایا کہ سونے میں کوئی تفریط نہیں ہے بلکہ تفریط تو یہ ہے کہ ایک نماز نہ پڑھے یہاں تک دوسری نماز کا وقت آجائے تو اگر کسی سے اس طرح ہو جائے تو اسے چاہیے کہ جس وقت بھی وہ بیدار ہوجائے نماز پڑھ لے اور جب اگلا دن آجائے تو وہ نماز اس کے وقت پر پڑھے پھر فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ لوگوں نے ایسا کیا ہوگا پھر آپ ﷺنے خود ہی فرمایا کہ جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے اپنے نبی ﷺکو نہ پایا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺتمہارے پیچھے ہوں گے، آپ کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ آپ ﷺتمہیں پیچھے چھوڑ جائیں اور لوگوں نے کہا رسول اللہ ﷺتمہارے آگے ہوں گے اور وہ لوگ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات مان لیتے تو وہ ہدایت پا لیتے انہوں نے کہا کہ پھر ہم ان لوگوں کی طرف اس وقت پہنچے جس وقت دن چڑھ چکا تھا اور ہر چیز گرم ہوگئی اور وہ سارے لوگ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ہمیں تو پیاس نے ہلاک کردیا آپ ﷺنے فرمایا تم ہلاک نہیں ہوئے پھر فرمایا میرا چھوٹا پیالہ لاؤ پھر آپ ﷺنے پانی کا برتن منگوایا تو رسول اللہ ﷺپانی انڈیلنے لگے اور حضرت ابوقتادہ لوگوں کو پانی پلانے لگے تو جب لوگوں نے دیکھا کہ پانی تو صرف ایک ہی برتن میں ہے تو وہ اس پر ٹوٹ پڑے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ سکون سے رہو تم سب کے سب سیراب ہو جاؤ گے پھر لوگ سکون واطمینان سے پانی پینے لگے رسول اللہ ﷺپانی انڈیلتے رہے اور میں ان لوگوں کو پلاتا رہا یہاں تک کہ میرے اور رسول اللہ ﷺکے علاوہ کوئی بھی باقی نہ رہا راوی نے کہا کہ پھر رسول اللہ نے پانی ڈالا اور مجھ سے فرمایا پیو میں نے عرض کیا میں نہیں پیوں گا جب تک کہ اے اللہ کے رسول ﷺنہیں پئیں گے آپ ﷺنے فرمایا قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے تو پھر میں نے پیا اور رسول اللہ ﷺنے پیا راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن رباح نے کہا کہ میں جامع مسجد میں اس حدیث کو بیان کرتا ہوں عمران بن حصین کہنے لگے اے جوان ذرا غور کرو کیا بیان کر رہے ہو کیونکہ اس رات میں بھی ایک سوار تھا میں نے کہا کہ آپ تو حدیث کو زیادہ جانتے ہوں گے انہوں نے کہا کہ تو کس قبیلہ سے ہے میں نے کہا انصار سے انہوں نے کہا حدیث بیان کرو تم اپنی حدیثوں کو اچھی طرح جانتے ہو پھر میں نے قوم سے حدیث بیان کی عمران کہنے لگے کہ اس رات میں بھی موجود تھا مگر مجھے نہیں معلوم کہ جس طرح تمہیں یاد ہے کسی اور کو بھی یاد ہوگا۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِىُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ الْعُطَارِدِىُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِىَّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى مَسِيرٍ لَهُ فَأَدْلَجْنَا لَيْلَتَنَا حَتَّى إِذَا كَانَ فِى وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسْنَا فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ - قَالَ - فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَّا أَبُو بَكْرٍ وَكُنَّا لاَ نُوقِظُ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ مَنَامِهِ إِذَا نَامَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَقَامَ عِنْدَ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ قَالَ « ارْتَحِلُوا ». فَسَارَ بِنَا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا فُلاَنُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّىَ مَعَنَا ». قَالَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ أَصَابَتْنِى جَنَابَةٌ. فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ فَصَلَّى ثُمَّ عَجَّلَنِى فِى رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ نَطْلُبُ الْمَاءَ وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا. فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ فَقُلْنَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ قَالَتْ أَيْهَاهْ أَيْهَاهْ لاَ مَاءَ لَكُمْ. قُلْنَا فَكَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ. قَالَتْ مَسِيرَةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ. قُلْنَا انْطَلِقِى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَتْ وَمَا رَسُولُ اللَّهِ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا حَتَّى انْطَلَقْنَا بِهَا فَاسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهَا فَأَخْبَرَتْهُ مِثْلَ الَّذِى أَخْبَرَتْنَا وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا مُوتِمَةٌ لَهَا صِبْيَانٌ أَيْتَامٌ فَأَمَرَ بِرَاوِيَتِهَا فَأُنِيخَتْ فَمَجَّ فِى الْعَزْلاَوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ ثُمَّ بَعَثَ بِرَاوِيَتِهَا فَشَرِبْنَا وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلاً عِطَاشٌ حَتَّى رَوِينَا وَمَلأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهِىَ تَكَادُ تَنْضَرِجُ مِنَ الْمَاءِ - يَعْنِى الْمَزَادَتَيْنِ - ثُمَّ قَالَ « هَاتُوا مَا كَانَ عِنْدَكُمْ ». فَجَمَعْنَا لَهَا مِنْ كِسَرٍ وَتَمْرٍ وَصَرَّ لَهَا صُرَّةً فَقَالَ لَهَا « اذْهَبِى فَأَطْعِمِى هَذَا عِيَالَكِ وَاعْلَمِى أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ ». فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا قَالَتْ لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ الْبَشَرِ أَوْ إِنَّهُ لَنَبِىٌّ كَمَا زَعَمَ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ذَيْتَ وَذَيْتَ. فَهَدَى اللَّهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا.

It was narrated that 'Imran bin Husain said: "I was with the Prophet of Allah (s.a.w) on a journey. We traveled all night, then when it was nearly dawn, we stopped to rest. Sleep overtook us, until the sun shone. The first one of us to wake up was Abu Bakr, and we used not to wake the Prophet of Allah (s.a.w) from his sleep until he woke up himself. Then 'Umar woke up, and he stood by the Prophet of Allah (s.a.w) and started to say the Takbir, raising his voice, until the Messenger of Allah (s.a.w) woke up. When he lifted his head and saw that the sun had risen, he said: 'Ride on,' and he traveled on with us until the sun had turned white. Then he dismounted and led us in praying Al-Ghadah (Fajr). One man kept away from the people and did not pray with us. When the Messenger of Allah (s.a.w) had finished he said: 'What kept you from praying with us?' He said: 'O Prophet of Allah, I have become Junub.' The Messenger of Allah (s.a.w) told him to perform Tayammum with clean earth, and he prayed. Then he urged me to go on ahead with other riders to look for water, for we had become very thirsty. While we were travelling, we saw a woman with her feet dangling between two large water bags. We said to her: 'Where is the water?' She said: 'Too far, too far, you will not have water.' We said: 'How far is it between your family and the water?' She said: 'The distance of one day and one night.' We said: 'Go to the Messenger of Allah (s.a.w).' She said: 'Who is the Messenger of Allah (s.a.w)?' We brought her to the Messenger of Allah (s.a.w) and he asked her, and she told him what she had told us. And she told him that she was a widow with two orphan children. He ordered that her camel be made to kneel, then he spat into the two water bags, then he made her camel stand up. We drank until we had had our fill. We were forty thirsty men, and we all filled our vessels and water skins, and we made our companion (who had become Junub) perform Ghusl. But we did not give our camels any water to drink, and the two water bags were so full that they were about to burst. Then he said: 'Bring whatever you have.' So we gathered bits of bread and dates for her, and made a bundle of food for her. He said: 'Go and feed this to your children, and realize that we have not caused any loss to your water.' When she went to her people she said: 'I have met the greatest magician among mankind, or else he is a Prophet as he says,' and she told them what had happened. Allah guided those people through that woman; she accepted Islam and so did they."

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺکے ساتھ ایک سفر میں چلا تو ایک رات ہم چلتے رہے یہاں تک کہ رات صبح کے قریب ہوگئی تو ہم اترے ہماری آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی تو سب سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہوئے اور ہم اللہ کے نبی ﷺکو جب آپ ﷺسورہے ہوں نہیں جگایا کرتے تھے جب تک کہ آپ ﷺخود بیدار نہ ہوں پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہوئے تو نبی ﷺکے پاس کھڑے ہو کر اپنی بلند آواز کے ساتھ تکبیر پڑھنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺبھی بیدار ہو گئے پھر جب آپ ﷺنے سر اٹھایا اور سورج کو دیکھا کہ وہ نکلا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا یہاں سے نکل چلو ہمارے ساتھ آپ ﷺبھی چلے یہاں تک کہ سورج سفید ہوگیا تو آپ ﷺنے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی لوگوں میں سے ایک آدمی علیحدہ رہا اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی جب رسول اللہ ﷺنماز سے فارغ ہوئے تو اس آدمی سے فرمایا اے فلاں ہمارے ساتھ پڑھنے سے تجھے کس چیز نے روکا اس نے کہا اے اللہ کے نبی مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے تو رسول اللہ ﷺنے اسے حکم فرمایا اور اس نے مٹی کے ساتھ تیمم کیا پھر نماز پڑھی پھر آپ نے مجھے جلدی سے چند سواروں کے ساتھ آگے بھیجا تاکہ ہم پانی تلاش کریں اور ہم بہت سخت پیاسے ہو گئے ہم چلتے رہے کہ ہم نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ ایک سواری پر اپنے دونوں پاؤں لٹکائے ہوئے جارہی ہے دو مشکیزے اس کے پاس ہیں ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ہے اس عورت نے کہا کہ پانی بہت دور ہے پانی بہت دور ہے پانی تمہیں نہیں مل سکتا ہم نے کہا کہ تیرے گھر والوں سے کتنی دور ہے اس عورت نے کہا کہ ایک دن اور ایک رات کا چلنا ہے ہم نے کہا رسول اللہ ﷺکی طرف چل اس عورت نے کہا کہ رسول اللہ ﷺکیا ہیں؟ تو ہم اس عورت کو مجبور کر کے آپ ﷺکی طرف لے آئے تو رسول اللہ ﷺنے اس سے حالات وغیرہ پوچھے تو اس نے آپ ﷺکو اسی طرح بتائے جس طرح ہمیں بتائے کہ وہ عورت یتیموں والی ہے اور اس کے پاس بہت سے یتیم بچے ہیں آپ ﷺنے اس کے اونٹ بٹھلا نے کا حکم فرمایا پھر اسے بٹھلا دیا گیا آپ ﷺنے مشکیزوں کے اوپر والے حصوں سے کلی کی پھر اونٹ کو کھڑا کردیا گیا پھر ہم نے پانی پیا اور ہم چالیس آدمی پیاسے تھے یہاں تک کہ ہم سیراب ہو گئے اور ہمارے پاس مشکیزے برتن وغیرہ جو تھے وہ سب بھر لیے اور ہمارے جس ساتھی کو غسل کی حاجت تھی اسے غسل بھی کر وایا سوائے اس کے کہ ہم نے کسی اونٹ کو پانی نہیں پلایا اور اس کے مشیکزے اسی طرح پانی سے بھرے پڑے تھے پھر آپ ﷺنے فرمایا کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے لاؤ تو ہم نے بہت سارے ٹکڑوں اور کھجوروں کو جمع کیا اور آپ ﷺنے اس کی ایک پوٹلی باندھی اور اس عورت سے فرمایا کہ اس کو لے جاؤ اور اپنے بچوں کو کھلاؤ اور اس بات کو جان لے کہ ہم نے تیرے پانی میں سے کچھ بھی کم نہیں کیا تو جب وہ عورت اپنے گھر آئی تو کہنے لگی کہ میں سب سے بڑے جادوگر انسان سے ملاقات کر کے آئی ہوں یا وہ نبی ہے جس طرح کہ وہ خیال کرتا ہے اور آپ ﷺکا سارا معجزہ بیان کیا تو اللہ نے اس ایک عورت کی وجہ سے ساری بستی کے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائی وہ خود بھی اسلام لے آئی اور بستی والے بھی اسلام لے آئے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِى جَمِيلَةَ الأَعْرَابِىُّ عَنْ أَبِى رَجَاءٍ الْعُطَارِدِىِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَفَرٍ فَسَرَيْنَا لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قُبَيْلَ الصُّبْحِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ الَّتِى لاَ وَقْعَةَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلاَّ حَرُّ الشَّمْسِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَلْمِ بْنِ زَرِيرٍ وَزَادَ وَنَقَصَ. وَقَالَ فِى الْحَدِيثِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ أَجْوَفَ جَلِيدًا فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِشِدَّةِ صَوْتِهِ بِالتَّكْبِيرِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِى أَصَابَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ ضَيْرَ ارْتَحِلُوا ». وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ.

It was narrated that 'Imran bin Husain said: "We were with the Messenger of Allah (s.a.w) on a journey. And we traveled for a night, until at the end of the night, just before dawn, we lay down to rest and there is nothing sweeter to the traveler than that rest. Nothing woke us but the heat of the sun...'' and he quoted a Hadith similar to that of Salm bin Zarir (no. 1563), but he added some things and omitted others. And he said in the Hadith: "When 'Umar bin Al-Khattab, who was a strong man with a loud voice, woke up and saw what had happened to the people, he raised his voice in saying the Takbir, until the Messenger of Allah (s.a.w) wake up because of his loud voice. When the Messenger of Allah (s.a.w) was awake they complained to him about what had happened to them, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'It does not matter, ride on,"' and he quoted the Hadith.

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک سفر میں تھے یہاں تک کہ رات کے آخری حصہ میں صبح کے قریب ہم لیٹ گئے اور اس وقت کسی آدمی کو بھی آرام کرنے سے زیادہ کوئی چیز اچھی نہیں لگتی تھی پھر ہمیں دھوپ کی گرمی کے علاوہ کسی چیز نے نہیں جگایا اور یہ حدیث سلم بن زریر کی حدیث کی طرح بیان کی گئی ہے اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جاگے اور انہوں نے لوگوں کا حال دیکھا اور وہ بلند آواز والے اور طاقت والے تھے تو انہوں نے بلند آواز سے تکبیر کہنا شروع کر دی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺبھی بیدار ہو گئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شدت آواز کی وجہ سے جب رسول اللہ ﷺبیدار ہوئے تو لوگوں نے آپ ﷺکو اپنا حال سنانا شروع کر دیا آپ ﷺنے فرمایا کوئی بات نہیں چلو۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا كَانَ فِى سَفَرٍ فَعَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ.

It was narrated that Abu Qatadah said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) was traveling, if he stopped to rest during the night, he would lie down on his right side, and if he stopped just before dawn, he would stretch out his forearm and rest his head on his hand."

حضرت ابوقتادہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺدوران سفر رات کے وقت پڑاؤ کرتے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹتے اور اگر صبح صادق سے کچھ دیر پہلے پڑاؤ کرتے تو اپنے بازو کو کھڑا کرتے اور ہتھیلی پراپنا چہرہ رکھتے تھے۔


حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ نَسِىَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلاَّ ذَلِكَ ». قَالَ قَتَادَةُ وَأَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِى.

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever forgets a prayer, let him offer it as soon as he remembers, for there is no expiation for it other than that." Qatadah said: "And perform As-Salat for My remembrance"

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو آدمی نماز پڑھنا بھول جائے تو جس وقت یاد آجائے اس وقت پڑھ لے یہی اس کا کفارہ ہے۔حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (واقم الصلاۃ لذکری) والی آیت پڑھی۔


وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَلَمْ يَذْكُرْ « لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلاَّ ذَلِكَ ».

It was narrated from Anas from the Prophet (s.a.w) (a similar Hadith as no. 1566), but he did not mention, "There is no expiation for it other than that."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک روایت حسب سابق منقول ہے مگر اس میں کفارہ کا تذکرہ نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ نَسِىَ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا ».

It was narrated that Anas bin Malik said: "The Prophet of Allah (s.a.w) said: 'Whoever forgets a prayer or sleeps and misses it, the expiation is to offer the prayer when he remembers it."'

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا سوجائے اس کا یہی کفارہ ہے کہ جب یاد آجائے پڑھ لے۔


وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ الْجَهْضَمِىُّ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلاَةِ أَوْ غَفَلَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِى ».

It was narrated that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If one of you sleeps and misses a prayer, or forgets it, let him offer the prayer when he remembers, for Allah says: ...and perform As-Salat for My remembrance.'"

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا جب نیند کی وجہ سے کسی شخص کی نماز رہ جائے یا غفلت سے نماز قضاء ہوجائے تو اسے یاد آنے پر نماز پڑھ لینا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری یاد کے لیے نماز پڑھو۔

‹ First456