41. بَاب اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا وَهُوَ التَّغْلِيسُ وَبَيَانِ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِيهَا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لاَ يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ.
It was narrated from 'Aishah that the believing women used to pray Subh with the Prophet (s.a.w), then they would go back, wrapped in their Mirt, and no one would recognize them.
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ مومن عورتیں صبح (فجر) کی نماز نبی ﷺکے ساتھ پڑھا کرتی تھیں پھر اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی (اپنے گھروں کو) واپس لوٹتی تھیں کہ انہیں کوئی بھی نہیں پہچانتا تھا۔(یعنی نماز کے بعد اتنا اندھیرا ہوتا تھا)
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ لَقَدْ كَانَ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ الْفَجْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ وَمَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَغْلِيسِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالصَّلاَةِ.
'Urwah bin Az-Zubair narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), told him: "The believing women used to attend Fajr prayer with the Messenger of Allah (s.a.w), wrapped in their Mirt, then they would go back to their houses and no one would recognize them, because the Messenger of Allah (s.a.w) would pray when it was still dark."
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺکی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ مومن عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی رسول ﷺکے ساتھ فجر کی نماز میں حاضر ہوتی تھیں پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتی تھیں اور چونکہ رسول اللہ ﷺمنہ اندھیرے نماز پڑھتے تھے اس لیے انہیں کوئی پہچانتا نہیں تھا۔
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ الْجَهْضَمِىُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ عَنْ مَالِكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَيُصَلِّى الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ. وَقَالَ الأَنْصَارِىُّ فِى رِوَايَتِهِ مُتَلَفِّفَاتٍ.
It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to pray Subh, then the women would leave, wrapped in their Mirt, and no one would recognize them because it was so dark."
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺصبح کی نماز پڑھتے تھے اور عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی واپس آتی تھیں اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ كَانُوا أَوْ - قَالَ - كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ.
It was narrated that Muhammad bin 'Amr bin Al-Hasan bin 'Ali said: "When Al-Hajjaj came to Al-Madinah, we asked Jabir bin 'Abdullah and he said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) used to pray Zuhr at midday, 'Asr when the sun was still bright, Maghrib when the sun set, and sometimes he would delay 'Isha' and sometimes he would hasten to pray it. If he saw that they had gathered, he would pray early, and if he saw that they were coming late, he would delay it. And they'" - or he said: "'the Prophet (s.a.w) - used to pray Subh when it was still dark."'
حضرت محمد بن عمرو بن حسن بن علی فرماتے ہیں کہ حجاج مدینہ منورہ میں آیا تو ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺظہر کی نماز گرمی کے وقت پڑھتے تھے اور عصر کی نماز جب سورج صاف ہوتا اور مغرب کی نماز جب سورج ڈوب جاتا اور عشاء کی نماز میں کبھی تاخیر فرماتے اور کبھی جلدی پڑھ لیتے جب دیکھتے تھے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں کہ تو جلدی پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر سے آئے ہیں تو دیر فرماتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ قَالَ كَانَ الْحَجَّاجُ يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ.
It was narrated from Sa'd that he heard Muhammad bin 'Amr bin Al-Hasan bin 'Ali say: "Al-Hajjaj used to delay the prayers, and we asked Jabir bin 'Abdullah..." a Hadith similar to that of Ghundar (no. 1460).
حضرت محمد بن عمرو بن حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حجاج نمازوں میں دیر کرتا تھا تو ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا باقی حدیث اسی طرح سے ہے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِى سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ فَقَالَ كَأَنَّمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ - قَالَ - سَمِعْتُ أَبِى يَسْأَلُهُ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ كَانَ لاَ يُبَالِى بَعْضَ تَأْخِيرِهَا - قَالَ يَعْنِى الْعِشَاءَ - إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا. قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَكَانَ يُصَلِّى الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ - قَالَ - وَالْمَغْرِبَ لاَ أَدْرِى أَىَّ حِينٍ ذَكَرَ. قَالَ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَكَانَ يُصَلِّى الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِى يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ. قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ.
It was narrated from Shu'bah who said: "Sayyar bin Salamah informed me: 'I heard my father asking Abu Barzah about the prayer of the Messenger of Allah (s.a.w).'" He said: "I said: 'Did you hear him?' He said: 'It is as if I can hear him now.' He said: 'I heard my father asking him about the prayer of the Messenger of Allah (s.a.w).'" He said: "He did not mind delaying some of them," meaning 'Isha', "until halfway through the night, and he did not like to sleep before 'Isha' nor speak afterwards." Shu'bah said: "Then I met him later on and I asked him, and he said: 'He used to pray Zuhr when the sun passed its zenith, and he prayed 'Asr and a man could go to the farthest part of Al-Madinah and the sun would still be bright.' As for Maghrib, I do not know what time he mentioned. Then I met him after that and I asked him, and he said: 'He used to pray Subh and a man would leave, looking at his companion whom he knew, and he would recognize him. And he used to recite between sixty and one hundred verses in it."'
شعبہ کہتے ہیں کہ سیار بن سلامہ نے مجھے خبردی انہوں نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے حضرت ابو برزہ سے رسول اللہ ﷺکی نماز کے بارے میں سوال کیا ۔شعبہ نے کہا کیا تم نے خود اپنے والد سے سنا تھا؟انہوں نے کہا گویا کہ میں اس وقت اس کو سن رہا ہوں (مطلب یہ کہ اتنا یاد ہے) پھر اس نے کہا کہ میں نےخود سنا میرے والد نے حضرت ابو برزہ سے آپﷺکی نماز کے بارے میں سوال کیا حضرت ابو برزہ نے کہا کہ ر سول اللہ ﷺعشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرنے کی پروا نہیں کرتے تھے اور نماز سے پہلے سونے اور نماز کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند فرماتےتھے ۔شعبہ کہتے ہیں کہ میں سیار کے والد سے پھر ملا اور ان سے اوقات نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ آپﷺسورج ڈھل جانے کے بعد ظہر کی نماز پڑھتے تھے ۔اور عصر اس وقت پڑھتے تھے جب آدمی مدینہ کے آخری حصہ تک چلا جاتا تھا اور سورج باقی رہتا تھا۔سیار کے والد کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ابو برزہ نے مغرب کے وقت کے بارے میں کیا بتایا تھا ؟ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پھر ملاقات کی اور دریافت کیا تو کہا صبح کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ آدمی ساتھ بیٹھے ہوئے شنا سا شخص کو پہچان لیتا تھا اور اس میں آپ ساٹھ سے لیکر سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لاَ يُبَالِى بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَكَانَ لاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا. قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ.
It was narrated from Shu'bah from Sayyar bin Salamah who said: "I heard Abu Barzah say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) did not mind delaying 'Isha' prayer until halfway through the night. He did not like to sleep before it nor speak after it."' Shu'bah said: "Then I met him again, and he said: 'Or until one-third of the way through the night.'"
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺعشاء کی نماز کو آدھی رات تک دیر سے پڑھنے کی کوئی پرواہ نہ فرماتے تھے اور نماز سے پہلے سونے کو اور نماز کے بعد باتیں کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے شعبہ کہتے ہیں کہ پھر میں اس سے ملا تو انہوں نے فرمایا یا تہائی رات تک۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِىُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ أَبِى الْمِنْهَالِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الأَسْلَمِىَّ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَقْرَأُ فِى صَلاَةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ.
It was narrated that Sayyar bin Salamah Abu AI-Minhal said: "I heard Abu Barzah Al-Aslami say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) used to delay 'Isha' until one-third of the night had passed, and he disliked sleeping before it and talking after it. In Fajr he used to recite between sixty and one hundred verses, and he would end when we could recognize one another's faces."'
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺعشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کرتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونے کو اور عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے اور فجر کی نماز میں سو آیات سے لے کر ساٹھ آیات تک پڑھا کرتے تھے اور نماز سے فارغ ہوتے تو ہم ایک دوسرے کو پہچان لیتے تھے۔
42. بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامُ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِى عِمْرَانَ الْجَوْنِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ « كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا ». قَالَ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِى قَالَ « صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ ». وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ عَنْ وَقْتِهَا.
It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'What will you do when there are appointed over you rulers who delay the prayer from its proper time or kill it?' I said: 'What do you command me to do?' He said: 'Offer the prayer on time, then if you are with them when they pray, pray with them, and that will be a voluntary prayer for you."'
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا جب تم پر ایسے حاکم مسلط ہوجائیں جو نماز کو (مستحب) وقت سے مؤخر کرکے پڑھیں یا فرمایا نماز کے (مستحب) وقت کو ختم کرکے پڑھیں تو تم کیا کروگے ؟ میں نے عرض کیا جو آپ ارشاد فرمائیں ! آپﷺنے فرمایا تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لیا کرو پھر اگر ان کے ساتھ نماز پاؤ تو وہ بھی پڑھ لینا کیونکہ وہ تمہارے لیے نفل ہوجائے گی ۔خلف نے عن وقتہا کا لفظ نہیں بیان کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِى عِمْرَانَ الْجَوْنِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِى أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلاَةَ فَصَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً وَإِلاَّ كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاَتَكَ ».
It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah ~ said to me: 'O Abu Dharr, after me there will be rulers who will kill the prayer. Pray on time, for if you pray on time, that will be voluntary, and you will have preserved your prayer."'
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا اے ابوذر !عنقریب میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو مٹا ڈالیں گے تو تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا تو اگر تو نے نماز کو اپنے وقت پر پڑھ لیا تو وہ نماز (جو حاکم کے ساتھ پڑھی گئی) تیرے لئے نفل ہوگی ورنہ تو نے تو اپنی نماز پوری کر ہی لی۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِى عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِى أَوْصَانِى أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ وَأَنْ أُصَلِّىَ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا « فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاَتَكَ وَإِلاَّ كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً ».
It was narrated that Abu Dharr said: "My beloved (i.e., The Prophet (s.a.w)) advised me to listen and obey, even if the one appointed over me is a slave with his hands and feet cut off, and to offer the prayer on time. 'If you catch up with the people but find that they have already prayed, then you will have preserved your prayer, and if you do catch up with them, that will be a voluntary prayer for you."'
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل نے وصیت فرمائی ہے میں سنوں اور فرمانبرداری کروں اگرچہ ہاتھ پاؤں کٹا ہوا غلام ہو اور یہ کہ میں نماز کو اپنے وقت پر پڑھوں اگر تو لوگوں کو پائے کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تو نے اپنی نماز پہلے ہی پوری کرلی ورنہ وہ نماز تیرے لئے نفل ہو جائے گی۔
وَحَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَضَرَبَ فَخِذِى « كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِى قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا ». قَالَ قَالَ مَا تَأْمُرُ قَالَ « صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَأَنْتَ فِى الْمَسْجِدِ فَصَلِّ ».
It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said, striking my thigh: 'What will you do if you are among people who delay the prayer from its proper time?"' He said: "What do you command me to do?" He said: "Offer the prayer on time, then go about your business, and if the Iqamah for prayer is called when you are in the Masjid, then pray."
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا کہ تیرا کیا حال ہوگا جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اپنے وقت سے تاخیر کر کے پڑھیں میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺایسے وقت کے لئے مجھے کیا حکم فرماتے ہیں آپ ﷺنے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے جانا پھر اگر نماز کی اقامت کہی جائے اس حال میں کہ تم مسجد میں ہو تو نماز پڑھ لینا۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلاَةَ فَجَاءَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ وَضَرَبَ فَخِذِى وَقَالَ إِنِّى سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِى فَضَرَبَ فَخِذِى كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ وَقَالَ إِنِّى سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَمَا سَأَلْتَنِى فَضَرَبَ فَخِذِى كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ وَقَالَ « صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلاَ تَقُلْ إِنِّى قَدْ صَلَّيْتُ فَلاَ أُصَلِّى ».
It was narrated that Abu Al-'Aliyah Al-Bara' said: "Ibn Ziyad delayed the prayer, and 'Abdullah bin As-Samit came to me. I brought him a chair and he sat down, then he told me what Ibn Ziyad had done, and bit on his lip (as a sign of displeasure). He struck me on the thigh and said: 'I asked Abu Dharr the same thing as you are asking me, and he struck me on the thigh as I have struck you, and said: I asked the Messenger of Allah (s.a.w) the same thing as you asked me, and he struck me on the thigh as I have struck you, and said: Offer the prayer on time, then if you catch up with the prayer with them, then pray, and do not say, I have already prayed so I will not pray.'"
حضرت ابوالعالیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کی تو حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس آئے اور میں نے ان کے لئے کرسی ڈالی وہ اس کر سی پر بیٹھے تو میں نے ان سے ابن زیاد کے کام کا ذکر کیا تو انہوں نے اپنے ہونٹ دبائے اور میری ران پر مارا اور فرمایا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تھا جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے اور انہوں نے بھی میری ران پر مارا جس طرح میں نے تیری ران پر مارا اور فرمایا کہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺسے اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے اور آپ نے بھی میری ران پر مارا تھا جیسے میں نے تمہاری ران پر مارا ہے۔پھر آپﷺنے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا اور اگر تو نے نماز ان کے ساتھ پا لی تو پڑھ لینا یہ مت کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لئے اب میں نماز نہیں پڑھتا۔
وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى نَعَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قَالَ « كَيْفَ أَنْتُمْ - أَوْ قَالَ كَيْفَ أَنْتَ - إِذَا بَقِيتَ فِى قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا فَصَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ ».
It was narrated that Abu Dharr said: "He (s.a.w) said: 'What will you do if you stay among people who delay the prayer from its proper time? Offer the prayer on time, then if the Iqamah if called, pray with them. That will be better.'"
حضرت عبد اللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تمہارا کیا حال ہوگا یا فرمایا کہ تیرا کیا حال ہوگا کہ جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو مؤخر کرکے پڑھیں گے۔تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھ لینا ، اگر نماز کھڑی ہو جائے تو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لینا کیونکہ یہ زیادہ بہتر ہے۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - وَهْوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِى الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ نُصَلِّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ - قَالَ - فَضَرَبَ فَخِذِى ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِى وَقَالَ سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَنْ ذَلِكَ فَضَرَبَ فَخِذِى وَقَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ « صَلُّوا الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلاَتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً ». قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذُكِرَ لِى أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ضَرَبَ فَخِذَ أَبِى ذَرٍّ.
It was narrated that Abu Al-'Aliyah Al-Bara' said: "I said to 'Abdullah bin As-Samit: 'We pray behind rulers on Fridays who delay the prayer.' He struck me painfully on the thigh and said: 'I asked Abu Dharr about that and he struck me on the thigh and said: I asked the Messenger of Allah (s.a.w) about that and he said: Offer the prayer on time, and make your prayer with them voluntary."' And 'Abdullah said: "It was said to me that the Messenger of Allah (s.a.w) struck the thigh of Abu Dharr."
حضرت ابوالعالیہ براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ نماز میں تاخیر کرتے ہیں راوی ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری ران پر ایک ہاتھ مارا تو مجھے درد ہونے لگا اور فرمایا کہ میں نے بھی اس بارے میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ میں نے بھی اس بارے میں رسول اللہ ﷺسے پوچھا تھا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل کر دیا کرو ۔راوی نے کہا کہ حضرت عبداللہ نے مجھ سے ذکر کیا کہ نبی ﷺنے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ران پر بھی ہاتھ مارا تھا۔
43. بَاب فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا وَأَنَّهَا فَرضٌ كِفَايَةٌ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Prayer in congregation is twenty-five times better in reward than the prayer of one of you praying alone."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا پچیس گنا اس نماز سے افضل ہے جو تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « تَفْضُلُ صَلاَةٌ فِى الْجَمِيعِ عَلَى صَلاَةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ». قَالَ « وَتَجْتَمِعُ مَلاَئِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةُ النَّهَارِ فِى صَلاَةِ الْفَجْرِ ». قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ (وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا)
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Prayer in congregation is superior to the prayer of a man offered alone by twenty-five degrees." And he said: "The Angels of the night and the Angels of the day meet at Fajr prayer." Abu Hurairah said: "Recite if you wish: '... And recite the Qur'an in the early dawn. Verily, the recitation of the Qur'an in the early dawn is ever witnessed (attended by the Angels in charge of mankind of the day and the night).'"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے رات اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو (قرآن کی یہ آیت) پڑھو! ان قرآن الفجر کان مشہودا۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ قَالَ أَخْبَرَنِى سَعِيدٌ وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ. بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ « بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا ».
Abu Hurairah said: "I heard the Prophet (s.a.w) say...'' a Hadith like that of 'Abdul-A'la from Ma'mar (no. 1473), except that he said: "Twenty-five times better in reward.''
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺسے سنا باقی حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ سَلْمَانَ الأَغَرِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مِنْ صَلاَةِ الْفَذِّ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Prayer in congregation is equivalent to twenty-five prayers offered on one's own."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے والے کی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔
حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِى الْخُوَارِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ إِذْ مَرَّ بِهِمْ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُ زَيْدِ بْنِ زَبَّانٍ مَوْلَى الْجُهَنِيِّينَ فَدَعَاهُ نَافِعٌ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صَلاَةٌ مَعَ الإِمَامِ أَفْضَلُ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلاَةً يُصَلِّيهَا وَحْدَهُ ».
Ibn Juraij said: " 'Umar bin 'Ata' bin Abi Al-Khuwar told me that while he was sitting with Nafi' bin Jubair bin Mutim, Abu 'Abdullah, the in-law of Zaid bin Zabban, the freed slave of the Juhanis, passed by them. Nafi' called him and said: 'I heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'A prayer offered with the Imam is better than twenty-five prayers offered on one's own."'
عمر بن عطاء بن ابی خوار فرماتے ہیں کہ میں نافع بن جبیر بن مطعم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ابوعبد اللہ وہاں سے گزرے حضرت نافع نے انہیں بلایا انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ امام کے ساتھ ایک نماز پڑھنا اکیلے پچیس نمازیں پڑھنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ».
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Prayer in congregation is superior to prayer offered alone by twenty-seven degrees."
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے والے سے ستائیس گنا فضیلت رکھتا ہے۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « صَلاَةُ الرَّجُلِ فِى الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ ».
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "A man's prayer in congregation is twenty-seven times better than his prayer offered alone."
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا فضیلت رکھتا ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ « بِضْعًا وَعِشْرِينَ ». وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِى رِوَايَتِهِ « سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ».
It was narrated from 'Ubaidullah with this chain (a Hadith similar to no. 1478). Ibn Numair said, narrating from his father: "Twenty-odd." Abu Bakr said in his report: "Twenty-seven degrees."
اس سند میں ابنِ نمیر نے بضع و عشرین( بیس اور کچھ زیادہ)اور ابوبکر کی روایت میں ستائیس درجہ ہے۔
نوٹ: بضع و عشرین اسے مراد تئیس سے لیکر انتیس تک ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ رَافِعٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « بِضْعًا وَعِشْرِينَ ».
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "Twenty-odd."
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیس اور کچھ۔
وَحَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَدَ نَاسًا فِى بَعْضِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ « لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلاً يُصَلِّى بِالنَّاسِ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا فَآمُرَ بِهِمْ فَيُحَرِّقُوا عَلَيْهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ بُيُوتَهُمْ وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا لَشَهِدَهَا ». يَعْنِى صَلاَةَ الْعِشَاءِ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) noticed that some people were not present at some prayers, and he said: "I was thinking of ordering a man to lead the prayer, then I would go to the men who have stayed away from it (the prayer), and order that their houses be burned down around them with bundles of firewood. If one of them knew that he would find a meaty bone, he would attend it." Meaning 'Isha' prayer.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے لوگوں کو بعض نمازوں میں موجود نہیں پایا تو فرمایا کہ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر ان آدمیوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ گئے ہیں پھر میں لکڑیاں جمع کروا کے ان کے گھروں کو جلا ڈالنے کا حکم دوں اور اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہو جائے کہ انہیں گوشت سے پر ہڈی ملے گی تو وہ اس نماز یعنی عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ أَثْقَلَ صَلاَةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاَةُ الْعِشَاءِ وَصَلاَةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيُصَلِّىَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِى بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The most burdensome prayers for the hypocrites are the 'Isha' prayer and the Fajr prayer. If they knew what there is in them, they would come even if they had to crawl. I was thinking of ordering the Iqamah for prayer, then I would tell a man to lead the people in prayer, and I would set out with men carrying bundles of firewood, and go to people who do not attend the prayer and bum their houses down around them."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ منافقوں پر سب سے زیادہ بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے اور اگر وہ جان لیں کہ ان نمازوں میں کتنا اجر ہے تو یہ ان نمازوں کو پڑھنے کے لئے ضرور آئیں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے اور میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں نماز کا حکم دوں پھر وہ قائم کی جائے پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چلوں کہ لکڑیوں کے ڈھیر ان کے ساتھ ہوں ان لوگوں کی طرف جو (جان بوجھ کر) نماز میں حاضر نہیں ہوتے ان کے گھروں کو آگ کے ساتھ جلا ڈالوں۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِى أَنْ يَسْتَعِدُّوا لِى بِحُزَمٍ مِنْ حَطَبٍ ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً يُصَلِّى بِالنَّاسِ ثُمَّ تُحَرَّقُ بُيُوتٌ عَلَى مَنْ فِيهَا ».
It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w)," - and he mentioned a number of Ahadith, including the following: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I was thinking of ordering my young men to prepare bundles of firewood for me, then I would order a man to lead the people in prayer, then I would bum down the houses with their occupants."'
حضرت ہمام بن منبہ ان چند چیزوں میں سے نقل فرماتے ہیں جو کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے نقل فرمائی ہیں ان احادیث میں یہ حدیث ذکر فرمائی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں اپنے جوانوں کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر ان گھروں پر آگ لگا دوں جن میں وہ ہیں۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ وَكِيعٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِنَحْوِهِ.
A similar report (as no. 1483) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت حضرت ابو ہریرہ سے منقول ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى الأَحْوَصِ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ « لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلاً يُصَلِّى بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ ».
It was narrated from 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) said concerning some people who stayed away from Friday prayer: "I was thinking of ordering a man to lead the people in prayer, then I would burn down the houses of men who stay away from Friday prayer, with them inside."
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ایسے لوگوں کے لئے فرمایا کہ جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ایسے آدمیوں کے گھروں پر آگ لگا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
44. بَاب يَجِبُ إِتْيَانُ الْمَسْجِدِ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ كُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَجِبْ
It was narrated that Abu Hurairah said: "A blind man came to the Prophet (s.a.w) and said: 'O Messenger of Allah, I do not have any guide to take me to the Masjid.' And he asked the Messenger of Allah (s.a.w) to grant him a dispensation allowing him to offer prayers in his house, and he allowed him that. When he turned to leave, he called him back and said: 'Can you hear the call to prayer?' He said: 'Yes.' He said: 'Then answer it."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺکی خدمت میں ایک نابینا آدمی آیا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرا کوئی ایسا رہبر نہیں ہے جو مجھے مسجد کی طرف لے کر آئے اس نے رسول اللہ ﷺسے یہ اس لئے پوچھا تاکہ اسے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مل جائے آپ ﷺنے اسے اجازت دے دی جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ ﷺنے اسے بلایا اور فرمایا کیا تو نماز کے لئے اذان کی آواز سنتا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺنے فرمایا کہ پھر تیرے لئے ضروری ہے کہ مسجد میں آکر نماز پڑھ۔
45. بَاب صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِى زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِى الأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلاَةِ إِلاَّ مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ أَوْ مَرِيضٌ إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِى بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِىَ الصَّلاَةَ - وَقَالَ - إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلاَةَ فِى الْمَسْجِدِ الَّذِى يُؤَذَّنُ فِيهِ.
It was narrated that Abu Al-Ahwas said: "'Abdullah said: 'I remember when no one stayed away from the prayer except a hypocrite who was known for his hypocrisy, or one who was sick. But even a sick person would walk between two men and come to prayer. The Messenger of Allah (s.a.w) taught us the Sunnah of guidance, and one of the Sunnah of guidance is praying in the Masjid in which the Adhan is called."'
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سمجھتے تھے کہ جماعت چھوڑنے والا شخص یا تو منافق ہوتا تھا جس کا نفاق معروف ہو یا پھر بیمار،بلکہ بیمار بھی دو شخصوں کے کاندھوں کا سہارا لیکر مسجد میں نماز پڑھنے آتا تھا۔اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں سنن ہدیٰ کی تعلیم دی ہے اور سنن ہدیٰ میں یہ ہےکہ جس مسجد میں اذان ہوتی ہو اس میں آکر جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ عَنْ أَبِى الْعُمَيْسِ عَنْ عَلِىِّ بْنِ الأَقْمَرِ عَنْ أَبِى الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّى هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِى بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلاَّ مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِى الصَّفِّ.
It was narrated that 'Abdullah said: "Whoever would like to meet Allah, may He be exalted, tomorrow as a Muslim, let him preserve these prayers where the call is made for them. For indeed Allah has prescribed the Sunnah of guidance to your Prophet (s.a.w) and they (the prayers) are among the Sunnah of guidance. If you pray in your houses like this one who stays away from the Masjid, prays
in his house, you will have forsaken the Sunnah of your Prophet, and if you forsake the Sunnah of your Prophet you will go astray. There is no man who purifies himself and purifies himself well, then he goes to one of these Masajid, but Allah will record one good deed for him for every step he takes, and will raise him in status one degree thereby, and will erase one bad deed thereby. I remember when no one would stay away but a hypocrite whose hypocrisy was known, and a man would come staggering between two others in order to stand in the row."
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو آدمی یہ چاہتا ہو کہ وہ کل اسلام کی حالت میں اللہ تعالی سے ملاقات کرے۔ اس پر لازم ہے کہ جس جگہ اذان دی جاتی ہے وہاں ان نمازوں کی حفاظت کرے ، اللہ تعالی نے تمہارے نبی ﷺکے لئے ہدایت کے طریقے متعین کر دئیے ہیں اور یہ نمازیں بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اور اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم نے اپنے نبی ﷺکے طریقے کو چھوڑ دیا ہے اور اگر تم اپنے نبی ﷺکے طریقے کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور جو کوئی اچھے طریقے سے وضو کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کی طرف جائے تو اللہ تعالی اس کے لئے اس کے ہر قدم پر جو وہ رکھتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کے ایک درجے کو بلند کرتا اور اس کے ایک گناہ کو مٹا دیتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ منافق کے سوا کوئی بھی نماز سے پیچھے نہیں رہتا تھا کہ جس کا نفاق ظاہر ہو جاتا اور ایک آدمی جسے دو آدمیوں کے سہارے لایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے صف میں کھڑا کردیا جاتا۔
46. بَاب النَّهْيِ عَنْ الْخُرُوجِ مِنْ الْمَسْجِدِ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِى الشَّعْثَاءِ قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِى الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِى هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِى فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated that Abu Ash-Sha'tha' said: "We were sitting in the Masjid with Abu Hurairah when the Mu'adhdhin called the Adhan. A man stood up and walked out of the Masjid, and Abu Hurairah followed him with his gaze until he exited the Masjid. Abu Hurairah said: 'This man has disobeyed Abu Al-Qasim (s.a.w)."'
حضرت ابوشعثاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو مؤذن نے اذان دی تو ایک آدمی کھڑا ہو اور مسجد سے جانے لگا حضرت ابوہریرہ اپنی نگاہ سے اس کا پیچھا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اس آدمی نے حضرت ابوالقاسم ﷺکی نافرمانی کی ہے۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ الْمَكِّىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ - عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِى الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَرَأَى رَجُلاً يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ خَارِجًا بَعْدَ الأَذَانِ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated from Ash'ath bin Abi Ash-Sha'tha' Al-Muharibi that his father said: "I heard Abu Hurairah say, when he saw a man leaving the Masjid after the Adhan: 'This man has disobeyed Abu Al-Qasim (s.a.w)."'
حضرت اشعث بن ابی شعثا ء محاربی اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا اور انہوں نے ایک آدمی کو اذان کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ اس نے ابوالقاسم ﷺکی نافرمانی کی ہے۔
47. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى عَمْرَةَ قَالَ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَسْجِدَ بَعْدَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ فَقَعَدَ وَحْدَهُ فَقَعَدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِى جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِى جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ ».
'Abdur-Rahman bin Abi 'Amrah said: " 'Uthman bin 'Affan entered the Masjid after Maghrib and sat alone . I sat with him and he said: 'O son of my brother, I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Whoever prays 'Isha' in congregation, it is as if he spent half the night in prayer, and whoever prays Subh in congregation, it is as if he spent the whole night in prayer."
حضرت عبدالرحمن بن ابی عمرۃرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں داخل ہوئے اور اکیلے بیٹھ گئے تو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بھتیجے میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس آدمی نے صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا کہ اس نے ساری رات قیام کیا۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِىُّ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى سَهْلٍ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 1491) was narrated from Abu Sahl 'Uthman bin Hakim, with this chain.
حضرت عثمان بن حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح سے نقل کی گئی ہے۔
وَحَدَّثَنِى نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ الْجَهْضَمِىُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِى ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِى ذِمَّةِ اللَّهِ فَلاَ يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَىْءٍ فَيُدْرِكَهُ فَيَكُبَّهُ فِى نَارِ جَهَنَّمَ ».
It was narrated that Anas bin Sirin said: "I heard Jundab bin 'Abdullah say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever prays Subh, then he is under the protection of Allah, but anyone who falls short with regard to the rights of Allah, then Allah will seize him and will throw him into the Fire of Hell."
حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی پناہ اور ذمہ داری میں ہے۔ اور جس شخص نے اللہ کی ذمہ داری میں خلل ڈالا اللہ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔
وَحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا الْقَسْرِىَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ صَلَّى صَلاَةَ الصُّبْحِ فَهْوَ فِى ذِمَّةِ اللَّهِ فَلاَ يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَىْءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَىْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِى نَارِ جَهَنَّمَ ».
It was narrated that Anas bin Sirin said: "I heard Jundab Al-Qasri say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: Whoever prays the Subh prayer, then he is under the protection of Allah, so do not fall short with regard to the rights of Allah, for anyone who does that, Allah will seize him and will throw him on his face into the Fire of Hell."
حضرت انس بن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جندب قسری سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کے ذمہ میں آگیا ۔کوئی اللہ کی ذمہ داری میں خلل نہ ڈالے۔ تو جو آدمی اللہ کی ذمہ داری کو کسی چیز سے طلب کرے گا تو اللہ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ هَارُونَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا وَلَمْ يَذْكُرْ « فَيَكُبَّهُ فِى نَارِ جَهَنَّمَ ».
This was narrated from Jundab bin Sufyan from the Prophet (s.a.w), but he did not say: "And throw him in the Fire of Hell."
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ﷺسے اسی طرح یہ حدیث نقل کی ہے لیکن اس میں اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈالے جانے کا ذکر نہیں ہے۔
48. بَاب الرُّخْصَةِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْ الْجَمَاعَةِ بِعُذْرٍ
حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِىَّ حَدَّثَهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِى وَأَنَا أُصَلِّى لِقَوْمِى وَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِى الَّذِى بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِىَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّىَ لَهُمْ وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِى فَتُصَلِّى فِى مُصَلًّى. فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى. قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ». قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ « أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّىَ مِنْ بَيْتِكِ ». قَالَ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَكَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ - قَالَ - وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ - قَالَ - فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّى اجْتَمَعَ فِى الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ مُنَافِقٌ لاَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ أَلاَ تَرَاهُ قَدْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ». قَالَ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ. قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. يَبْتَغِى بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ». قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِىَّ - وَهُوَ أَحَدُ بَنِى سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ - عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ.
It was narrated from Ibn Shihab that Mahmud bin Ar-Rabi' Al-Ansari told him that 'Itban bin Malik - who was one of the Companions of the Prophet (s.a.w) and had been present at (the battle of) Badr, and was one of the Ansar - came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: "O Messenger of Allah, I have lost my eyesight, and I lead my people in prayer, but when it rains, the valley between them and I gets flooded, and I cannot get to their Masjid to lead them in prayer. O Messenger of Allah, I would like you to come and pray in a place that I may take as a prayer place." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "I will do that, if Allah wills." 'Itban said: "The next day, when the sun was fully up, the Messenger of Allah (s.a.w) and Abu Bakr As-Siddiq went to him. The Messenger of Allah (s.a.w) asked for permission to enter and permission was given to him, and he did not sit, rather he said: 'Where in your house would you like me to pray?' I pointed to a corner of the house, and the Messenger of Allah (s.a.w) stood and said the Takbir, and we stood behind him. He prayed two Rak'ah then said the Salam. Then we asked him to stay and eat some Khazir that we had made for him. Men from the surrounding houses came to us, until a large number of men had gathered in the house. One of them said: 'Where is Malik bin Ad-Dukhshun?' One of them said: 'He is a hypocrite who does not love Allah and His Messenger.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not say that. Do you not see that he has said La ilaha illallah, seeking thereby the Face of Allah?' They said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'But we see that he is sincere towards the hypocrites.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah has forbidden to the Fire everyone who says La ilaha illallah seeking thereby the Face of Allah.'" Ibn Shihab said: "Then I asked Al-Husain bin Muhammad Al-Ansari, who is one of Banu Salim, and one of their leaders, about the Hadith of Mahmud bin Ar-Rabi', and he confirmed it to be true.
حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی ﷺکے صحابہ میں سے وہ صحابی ہیں جو انصار میں سے غزوہ بدر میں شریک ہوئے وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول میری بینائی ختم ہوگئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور جب بارش ہوتی ہے تو میرے اور ان کے درمیان ایک نالہ ہے جو بہتا ہے جس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں ان کو نماز پڑھانے کے لئے نہیں آسکتا اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اے اللہ کے رسول آپ ﷺمیرے گھر میں تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں تاکہ میں اس جگہ میں اپنی نماز پڑھنے کی جگہ بنالوں تو رسول اللہ ﷺفرمایا میں اسی طرح کروں گا اگر اللہ نے چاہا۔ تو عتبان کہتے ہیں کہ اگلے دن رسول اللہ ﷺاور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ دن چڑھتے ہی میرے ہاں تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺنے اجازت طلب فرمائی اور میں نے آپ ﷺکو اجازت دی آپ ﷺگھر میں داخل ہوئے ابھی آپ ﷺبیٹھے نہیں تھے اور فرمایا کہ تو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیرے گھر میں نماز پڑھیں عتبان کہتے ہیں کہ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ ﷺکھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور ہم بھی آپ ﷺکے پیچھے کھڑے ہوئے آپ ﷺنے دو رکعتیں نماز کی پڑھائیں پھر آپ ﷺنے سلام پھیر دیا عتبان کہتے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺکے لئے حریرہ بنایا ہوا تھا ہم نے آپ ﷺکو روکا کہ آپ ﷺکو وہ حریرہ کھلائیں اور ہمارے اردگرد کے لوگ بھی آگئے یہاں تک کہ گھر میں کچھ لوگوں کا ایک اجتماع ہوگیا ۔ان لوگوں میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ مالک بن دخشن کہاں ہے؟ ان میں سے کسی نے (جذبات میں آکر) کہہ دیا کہ وہ تو منافق ہے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺسے محبت نہیں کرتا ۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اسے اس طرح نہ کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے لا الہ الا اللہ کہا ہے وہ اس سے صرف اللہ کی رضا چاہتا ہے۔ عتبان کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ پھر ایک شخص نے کہا ہم اسکی تو جہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں کے ساتھ دیکھتے ہیں تب رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو آدمی اللہ کی رضا کی خاطر لا الہ الا اللہ کہے اللہ نے اس پر دوزخ کی آگ کو حرام کردیا ہے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت حصیں بن محمد انصاری جو قبیلہ بنو سالم کے سردار ہیں سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جو محمود بن ربیع نے بیان کی ہے تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ قَالَ حَدَّثَنِى مَحْمُودُ بْنُ رَبِيعٍ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ أَوِ الدُّخَيْشِنِ وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ قَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِىُّ فَقَالَ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ مَا قُلْتَ - قَالَ - فَحَلَفْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَى عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ - قَالَ - فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ. قَالَ الزُّهْرِىُّ ثُمَّ نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ نُرَى أَنَّ الأَمْرَ انْتَهَى إِلَيْهَا فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لاَ يَغْتَرَّ فَلاَ يَغْتَرَّ.
It was narrated that 'Itban bin Malik said: "I came to the Messenger of Allah (s.a.w)..." and he quoted a Hadith like that of Yunus (no. 1496), except that he said: "A man said: 'Where is Malik bin Ad-Dukhshun' or 'Ad-Dukhaishin?"' And he added in his Hadith: "Mahmud said: 'I narrated this Hadith to a group of people among whom was Abu Ayyub Al-Ansari, and he said: I do not think that the Messenger of Allah (s.a.w) said what you said. He said: 'I swore that if I went back to 'Itban I would ask him. So I went back to him and I found him an old man who had lost his eyesight, and he was the Imam of his people. I sat beside him and asked him about this Hadith, and he narrated it to me as he had narrated it the first time.'"
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آیا پھر آگے حدیث اسی طرح بیان کی سوائے اسکے کہ اس حدیث میں ہے کہ ایک نے کہا کہ مالک بن دخشن یا دخشین کہاں ہے محمود کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث چند آدمیوں سے بیان کی۔ ان میں حضرت ابوایوب انصاری تھے انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال نہیں کہ رسول اللہ ﷺنے یہ فرمایا ہو جو تو نے کہا ہے محمود راوی نے کہا کہ پھر میں نے قسم کھائی کہ میں عتبان کی طرف جا کر ان سے پوچھوں گا ۔سو میں ان کے پاس گیا اور ان کو بہت بوڑھا پایا کہ ان کی بینائی جاتی رہی تھیں۔اور وہ اس وقت بھی اپنی قوم کے امام تھے میں ان کے پہلو میں جاکر بیٹھ گیا او ران سے یہی حدیث دریافت کی تو انہوں نے مجھے ویسی ہی حدیث بیان کی جیسے پہلی بیان کی تھی ۔
امام زہری کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد بہت سی چیزیں فرض ہوئیں اور احکام نازل ہوئے اور دین مکمل ہوگیا تو جو اس کی استطاعت رکھتا ہے کہ دھوکہ نہ کھائے تو وہ دھوکہ نہ کھائے۔ (کہ فرائض ادا کیے بغیر محض کلمہ پڑھنے سے جنت میں چلا جائے گا؟)
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ قَالَ حَدَّثَنِى الزُّهْرِىُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ إِنِّى لأَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ دَلْوٍ فِى دَارِنَا. قَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثَنِى عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَصَرِى قَدْ سَاءَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ.
It was narrated that Mahmud bin Ar-Rabi' said: "I remember the Messenger of Allah (s.a.w) spitting out some water from a bucket that was in our house.'' Mahmud said: '"Itban bin Malik told me: 'I said: "'O Messenger of Allah, my eyesight is bad..." and he quoted the Hadith as far as the words: "He led us in praying two Rak'ah. Then we asked the Messenger of Allah (s.a.w) to stay and eat some Jashishah that we had made for him." And he did not mention the additional material quoted by Yunus and Ma'mar.
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺکا وہ کُلی کرنا یاد ہے کہ جو کلی آپ ﷺنے ہمارے گھر کے ڈول سے کی تھی حضرت محمود فرماتے ہیں کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے بیان فرمایا کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺمیری بینائی کمزور ہوگئی ہے پھر آگے ایسی حدیث بیان فرمائی جو ابھی گزری یہاں تک کہ آپ ﷺنے ہمیں دو رکعتیں نماز پڑھائیں اور ہم نے رسول اللہ ﷺکو جشیشہ کھلانے کے لئے روک لیا جو ہم نے آپ ﷺکے لئے بنایا تھا اور اس کے بعد حدیث میں یونس اور معمر کی زیادتی کا ذکر نہیں ہے۔
49. بَاب جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ وَغَيْرِهَا مِنْ الطَّاهِرَاتِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ « قُومُوا فَأُصَلِّىَ لَكُمْ ». قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ.
It was narrated from Anas bin Malik that his grandmother Mulaikah invited the Messenger of Allah (s.a.w) to eat some food that she had made. He ate some of it, then he said: "Get up and I will lead you in prayer." Anas bin Malik said: "I went to a Hasir of ours that had turned black from long use, and sprinkled it with water, then the Messenger of Allah (s.a.w) stood on it, and the orphan and I stood behind him, and the old lady behind us, and the Messenger of Allah (s.a.w) led us in praying two Rak'ah, then he left."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺکو کھانے پر بلایا۔ تو آپ ﷺنے اس کھانے میں سے کھایا پھر فرمایا کھڑے ہو جاؤ میں تمہارے لئے نماز پڑھوں حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میں ایک چٹائی لے کر کھڑا ہوگیا جو کثرت استعمال کی وجہ سے سیاہ ہوگئی تھی میں نے اس پر پانی چھڑکا پھر اس پر رسول اللہ ﷺکھڑے ہوئے میں نے اور ایک بچے نے آپ ﷺکے پیچھےصف باندھی اور بڑھیا ملیکہ بھی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئی پھر ہمیں رسول اللہ ﷺنے دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ ﷺتشریف لے گئے۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَأَبُو الرَّبِيعِ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ شَيْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِى التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا فَرُبَّمَا تَحْضُرُ الصَّلاَةُ وَهْوَ فِى بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِى تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ ثُمَّ يُنْضَحُ ثُمَّ يَؤُمُّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّى بِنَا وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ.
It was narrated from Abu At-Tayyah, from Anas bin Malik who said: "The Messenger of Allah (s.a.w) had the best behavior of the people. Sometimes the time for prayer would come when he was in our house, so he would order that the mat beneath him be swept, then water sprinkled on it, then the Messenger of Allah (s.a.w) would lead the prayer; we would stand behind him and he would lead us in prayer." He said: "And their mat was made of palm leaves."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺلوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے بعض مرتبہ آپ ﷺہمارے گھر میں ہوتے تھے تو نماز کا وقت آجاتا تو اس چٹائی کو اٹھانے کا حکم فرماتے جس چٹائی پر آپ ﷺتشریف فرما تھے پھر اسے صاف کیا جاتا پھر اسے پانی سے دھویا جاتا اور پھر رسول اللہ ﷺامام بنتے اور ہم آپ ﷺکے پیچھے کھڑے ہوتےتو آپ ﷺنمازپڑھاتے ۔ اورآپ ﷺکی چٹائی کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلاَّ أَنَا وَأُمِّى وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِى فَقَالَ « قُومُوا فَلأُصَلِّىَ بِكُمْ ». فِى غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ فَصَلَّى بِنَا. فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ قَالَ جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ. ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَقَالَتْ أُمِّى يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ. قَالَ فَدَعَا لِى بِكُلِّ خَيْرٍ وَكَانَ فِى آخِرِ مَا دَعَا لِى بِهِ أَنْ قَالَ « اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ».
It was narrated from Thabit, from Anas who said: "The Prophet (s.a.w) entered upon us, and there was no one there but myself, my mother and Umm Haram, my maternal aunt. He said: 'Get up and I will lead you in prayer.' And that was not at the time for (prescribed) prayer. So he led us in prayer." - A man said to Thabit: "Where did he make Anas stand?" He said: "He made him stand on his right." - "Then he supplicated for us, the members of the household asking for the best for us in this world and in the Hereafter. My mother said: 'O Messenger of Allah, your little servant, pray to Allah for him.' He prayed for all good things for me, and at the end of his supplication for me he said: 'O Allah, increase his wealth and his children, and bless them for him."'
حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺہمارے گھر داخل ہوئے جبکہ گھر میں میں اور میری والدہ اور ام حرام میری خالہ تھیں آپ ﷺنے فرمایا کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں اور وہ وقت کسی نماز کا بھی نہیں تھا۔ پھر آپﷺنے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا کہ آپ ﷺنے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا انہوں نے کہا کہ آپ ﷺنے انہیں اپنی دائیں طرف کھڑا کیا پھر آپ ﷺنے ہمارے گھر والوں کے لئے ہر طرح کی دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا فرمائی میری والدہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول انس آپ ﷺکا ایک چھوٹا سا خادم ہے اس کے لئے آپ دعا فرمائیں! آپ ﷺنے میرے لئے ہر طرح کی بھلائی کی دعا فرمائی اور دعا کے آخر میں جو میرے لئے تھی اس کے ساتھ یہ فرمایا اے اللہ ان کے مال اور ان کی اولاد میں کثرت اور ان کے لئے اس میں برکت عطا فرما۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ سَمِعَ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى بِهِ وَبِأُمِّهِ أَوْ خَالَتِهِ. قَالَ فَأَقَامَنِى عَنْ يَمِينِهِ وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا.
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) led him and his mother, or maternal aunt in prayer. He said: "He made me stand on his right, and he made the woman stand behind us."
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے انہیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی اور ارشاد فرمایا کہ مجھے آپ ﷺنے دائیں طرف کھڑا کیا اور خاتون کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِى ابْنَ مَهْدِىٍّ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Shu'bah with this chain.
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ حَدَّثَتْنِى مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى وَأَنَا حِذَاءَهُ وَرُبَّمَا أَصَابَنِى ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ وَكَانَ يُصَلِّى عَلَى خُمْرَةٍ.
It was narrated that 'Abdullah bin Shaddad said: "Maimunah, the wife of the Prophet (s.a.w) told me: 'The Messenger of Allah (s.a.w) used to pray with me while I was opposite him, and sometimes his garment would touch me when he prostrated. And he used to pray on a Khumrah (small mat)."'
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم ﷺکی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺمیرے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے اور بعض مرتبہ آپ ﷺکے کپڑے میرے ساتھ لگتے تھے جب سجدہ کرتے۔ اور آپ ﷺچٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنِى سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِىُّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَوَجَدَهُ يُصَلِّى عَلَى حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ.
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that he entered upon the Messenger of Allah (s.a.w) and found him praying on a Hasir, upon which he was prostrating.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺکو ایک چٹائی پر نماز پڑھتے ہوئے پایا جس پر آپ ﷺسجدہ فرما رہے تھے۔
50. بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فِيْ جَمَاعَةٍ وَ فَضْلِ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَكَثْرَةِ الْخَطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَ فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَيْهَا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صَلاَةُ الرَّجُلِ فِى جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ فِى بَيْتِهِ وَصَلاَتِهِ فِى سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلاَّ رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِى الصَّلاَةِ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ هِىَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلاَئِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِى مَجْلِسِهِ الَّذِى صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'A man's prayer in congregation is more valuable than his prayer in his house or his marketplace by twenty-odd degrees. That is because if one of you performs Wudu' and performs it well, then he comes to the Masjid, with no other motive or purpose than to pray, then he does not take any step but he will be raised one degree in status thereby, and one sin will be erased thereby, until he enters the Masjid. When he enters the Masjid, he is in a state of prayer so long as the prayer is what is keeping him there, and the Angels send Salat upon any one of you so long as he remains in the place where he prayed, saying: 'O Allah, have mercy on him; O Allah, forgive him; O Allah, accept his repentance.' So long as he does not offend anyone or commit Hadath."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اس کا اپنے گھر میں نماز پڑھنے پر بیس سے کچھ زیادہ درجہ فضیلت رکھتا ہے اور یہ اس لئے کہ تم میں سے کوئی جب وضو کرتا اور خوب اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد میں آتا ہے اسے نماز کے علاوہ کسی نے نہیں اٹھایا اور نہ ہی نماز کے علاوہ اس کا کسی چیز کا ارادہ ہے تو کوئی قدم نہیں اٹھاتا مگر اللہ تعالی اس کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے تو وہ نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھتی ہے اور فرشتے تم میں سے ہر ایک کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی اسی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے جس میں اس نے نماز پڑھی ہے کہتے رہتے ہیں اے اللہ اس پر رحم فرما اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما جب کہ وہ بے وضو نہ ہو۔ (وہ فرشتے دعا ہی کرتے رہتے ہیں)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنْ شُعْبَةَ كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ فِى هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
A similar report (as no. 1506) was narrated from Al-A'mash with this chain.
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِىِّ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُصَلِّى عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِى مَجْلِسِهِ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ وَأَحَدُكُمْ فِى صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The Angels send Salat upon any one of you so long as he remains in his spot, saying: "O Allah, forgive him; O Allah, have mercy on him," so long as he does not commit Hadath. And one of you is in a state of prayer so long as the prayer is keeping him there."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب تک تم میں سے کوئی اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ آدمی بے وضو نہ ہو اور تم میں سے ہر ایک نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ اسے نماز روکے رکھتی ہے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِى رَافِعٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَزَالُ الْعَبْدُ فِى صَلاَةٍ مَا كَانَ فِى مُصَلاَّهُ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ وَتَقُولُ الْمَلاَئِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ. حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ ». قُلْتُ مَا يُحْدِثُ قَالَ يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ.
It was narrated from Abu Rafi', from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "A person is in a state of prayer so long as he is in his prayer place waiting for the prayer, and the Angels say: 'O Allah, forgive him; O Allah, have mercy on him,' until he leaves or commits Hadath." I (Abu Rafi') said: "What does 'commit Hadath' mean?'' He said: "Breaking wind, either silently or loudly."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ بندہ نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ وہ اپنی نماز کی جگہ نماز کے انتظار میں رہے اور فرشتے کہتے ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس پر رحم فرما یہاں تک کہ وہ واپس چلا جائے یا اسے حدث لاحق ہو جائے میں نے عرض کیا کہ حدث کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہوا خارج کر دے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِى صَلاَةٍ مَا دَامَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ لاَ يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ الصَّلاَةُ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "One of you is still in a state of prayer so long as the prayer is keeping him there, and nothing is keeping him from going back to his family except the prayer."
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ آدمی نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھتی ہے گھر جانے میں نماز کے علاوہ اور کوئی چیز اسے نہیں روکتی۔
حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَحَدُكُمْ مَا قَعَدَ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فِى صَلاَةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ تَدْعُو لَهُ الْمَلاَئِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "If one of you sits waiting for the prayer, he is in a state of prayer so long as he does not commit Hadath, and the Angels pray for him, saying: 'O Allah, forgive him; O Allah, have mercy on him."'
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے تو وہ نماز ہی کے حکم میں ہوتا ہے اور جب تک کہ وہ بے وضو نہ ہو تو فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس پر رحم فرما۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِ هَذَا.
A similar report (as no. 1511) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔