- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First23456

31. بَاب مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاةَ

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever catches up with a Rak'ah of the prayer has caught up with the prayer."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا کہ جس نے نماز میں ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پالی۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ مَعَ الإِمَامِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever catches up with a Rak'ah of prayer with the Imam has caught up with the prayer."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس نے امام کے ساتھ نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز کو پالیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ وَالأَوْزَاعِىِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَيُونُسَ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ وَلَيْسَ فِى حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ « مَعَ الإِمَامِ ». وَفِى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ « فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ كُلَّهَا ».

It was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w). a Hadith similar to that of Yahya (no. 1372), from Malik. But there is no mention in the Hadith of any of them of the words "with the Imam." According to the Hadith of 'Ubaidullah he (the Prophet (s.a.w)) said: "he has caught up with the entire prayer."

کئی اسانید سے بھی ایسی ہی روایات منقول ہیں۔ ایک روایت میں فقد ادرک الصلاۃ کلہا کے الفاظ ہیں۔ اور کسی حدیث میں مع الامام کے الفاظ نہیں ہیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَنِ الأَعْرَجِ حَدَّثُوهُ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever catches up with a Rak'ah of Subh before the sun rises has caught up with Subh. Whoever catches up with a Rak'ah of 'Asr before the sun sets has caught up with 'Asr."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس آدمی نے سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز سے ایک رکعت پالی تو اس نے صبح کی نماز کو پالیا اور جس آدمی نے عصر کی نماز سے ایک رکعت کو پالیا سورج غروب ہونے سے پہلے تو اس نے عصر کی نماز کو پا لیا۔


وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِىِّ قَالَ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ح قَالَ وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ - وَالسِّيَاقُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ». وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِىَ الرَّكْعَةُ.

It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever catches up with a Sajdah of 'Asr before the sun sets, or with a Sajdah of Subh before the sun rises, has caught up with it." And As-Sajdah only means the Rak'ah.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جس آدمی نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک سجدہ کو پالیا یا جس آدمی نے سورج کے نکلنے سے پہلے صبح کی نماز سے ایک سجدہ کو پالیا تو اس نے اس نماز کو پالیا اور سجدہ سے رکعت مراد ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ. بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.

A Hadith similar to that of Malik (no. 1374) was narrated from Abu Hurairah from Zaid bin Aslam.

حضرت ابو ہریرہ سے ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever catches up with one Rak'ah of 'Asr before the sun sets, he has caught it, and whoever catches up with one Rak'ah of Fajr before the sun rises, he has caught it."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جس آدمی نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پالی اور جس آدمی نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پالی۔


وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ مَعْمَرًا بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Mu'tamir said: "I heard Ma'mar (narrate it) with this chain."

ایک اور سند سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔

32. بَاب أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ. فَقَالَ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِى مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِى فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ». يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ.

It was narrated from Ibn Shihab that 'Umar bin 'Abdul-'Aziz delayed 'Asr somewhat, and 'Urwah said to him: "Jibril, peace be upon him, came down and led the Messenger of Allah (s.a.w) in prayer." 'Umar said to him: "Think about what you are saying, O 'Urwah!" He said: "I heard Bashir bin Abi Mas'ud say: 'I heard Abu Mas'ud say: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Jibril came down and led me in prayer, and I prayed with him. Then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him.' And he counted five prayers on his fingers."

ابن شہاب سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز کچھ دیر سے پڑھی تو عروہ نے اس سے کہا کہ حضرت جبرائیل آئے اور انہوں نے امام بن کر رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز پڑھائی تو عمر بن عبد العزیز نے کہا اے عروہ ! کیا کہہ رہے ہو؟انہوں نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے میری امامت کی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی وہ پانچوں نمازوں کو اپنی انگلیوں کے ساتھ شمار کرتے تھے۔


أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ قَالَ « بِهَذَا أُمِرْتُ ». فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ أَوَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقْتَ الصَّلاَةِ فَقَالَ عُرْوَةُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِى مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ.

'Urwah bin Az-Zubair narrated that Al-Mughirah bin Shu'bah delayed the prayer one day, when he was in Al-Kufah. Abu Mas'ud Al-Ansari entered upon him and said: "What is this, O Mughirah? Do you not know that Jibril came down and prayed, and the Messenger of Allah (s.a.w) prayed, then he prayed, and the Messenger of Allah (s.a.w) prayed, then he prayed, and the Messenger of Allah (s.a.w) prayed, then he prayed, and the Messenger of Allah (s.a.w) prayed, then he prayed, and the Messenger of Allah (s.a.w) prayed. Then he (s.a.w) said: 'This is what has been enjoined upon me."' 'Umar said to 'Urwah: "Think about what you are narrating, O 'Urwah! Did Jibril, peace be upon him, teach the Messenger of Allah (s.a.w) the times of the prayers?" 'Urwah said: "That is what Bashir bin Abi Mas'ud used to narrate from his father."

ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن (عصر کی) نماز کافی دیر سے پڑھی حضرت عروہ بن زبیر ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں خبر دی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ میں تھے کہ ایک دن انہوں نے نماز میں دیر کر دی تو حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے مغیرہ یہ کیا کیا؟ کیا تو نہیں جانتا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے نماز پڑھی رسول اللہ ﷺنے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی رسول اللہ ﷺنے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی رسول اللہ ﷺنے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی رسول اللہ نے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی رسول اللہ ﷺنے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ ﷺکو اسی طرح حکم دیا گیا ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عروہ سے فرمایا اے عروہ دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو کہ جبرائیل نے رسول اللہ ﷺکو نمازوں کے اوقات بتائے حضرت عروہ نے کہا کہ بشیر بن ابی مسعود نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح بیان فرمایا ہے۔


قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِى عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِى حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ.

'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) used to pray 'Asr when the (rays of the) sun was in her apartment (during the early time of 'Asr) before it became manifest.

حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھ سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کی زوجہ مطہرہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺاس حال میں عصر کی نماز پڑھتے تھے کہ سورج ان کے صحن میں ہوتا تھا اور سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِى حُجْرَتِى لَمْ يَفِئِ الْفَىْءُ بَعْدُ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ بَعْدُ.

It was narrated from 'Aishah that the Prophet (s.a.w) used to pray 'Asr when the sun was shining into her apartment and the afternoon shadow had not yet appeared. Abu Bakr said: "had not yet become manifest."

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺمیرے حجرہ میں اس حال میں عصر کی نماز پڑھتے تھے کہ سورج چمک رہا ہوتا تھا اور ابھی تک دھوب بلند نہیں ہوتی تھی۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِى حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ فِى حُجْرَتِهَا.

'Urwah bin Az-Zubair narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), told him that the Messenger of Allah (s.a.w) used to pray 'Asr when the (rays of the) sun was in her apartment and the shadow had not appeared in her apartment.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺعصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج (دھوپ) ان کے صحن میں ہوتی تھی اور دیواروں پر اس وقت نہیں چڑھتی تھی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِى حُجْرَتِى.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to pray 'Asr when the sun was shining into my apartment."

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج (دھوپ) میرے حجرہ میں ہوتی تھی۔


حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ».

It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Prophet (s.a.w) said: "When you pray Fajr, its time is until the first part of the sun appears. When you pray Zuhr, its time is until 'Asr comes. When you pray 'Asr, its time is until the sun turns yellow. When you pray Magbrib, its time is until the twilight has disappeared. When you pray 'Isha', its time is until half of the night has passed."

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم فجر کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی ہے جب تک سورج کا اوپر کا کنارہ نہ نکلے پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت عصر تک ہوتاہے۔ پھر جب تم عصر کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے جب تم مغرب کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت شفق کے غروب ہونے تک ہوتا ہے پھر جب تم عشاء کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت آدھی رات تک ہوتا ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى أَيُّوبَ - وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الأَزْدِىُّ وَيُقَالُ الْمَرَاغِىُّ وَالْمَرَاغُ حَىٌّ مِنَ الأَزْدِ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَوَقْتُ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ ».

It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Prophet (s.a.w) said: "The time for Zuhr is so long as 'Asr has not come. The time for 'Asr is so long as the sun has not turned yellow. The time for Maghrib is so long as the twilight has not disappeared. The time for 'Isha' is so long as half of the night has not passed. The time for Fajr is so long as the sun has not risen."

حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا کہ ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ عصر کا وقت نہ آئے اور عصر کا وقت اس وقت تک باقی ہے جب تک سورج زرد نہ ہو اور مغرب کا وقت اس وقت تک باقی ہے جب تک کہ شفق کی تیزی نہ جائے اور عشاء کا وقت آدھی رات تک اور فجر کا وقت اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک کہ سورج نہ نکلے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِىُّ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى بُكَيْرٍ كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِى حَدِيثِهِمَا قَالَ شُعْبَةُ رَفَعَهُ مَرَّةً وَلَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ.

It was narrated from Shu'bah with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِى أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَىْ شَيْطَانٍ ».

It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The time for Zuhr is when the sun passes its zenith and the shadow of a man is equal in length to him, so long as 'Asr has not come. The time of 'Asr is so long as the sun has not turned yellow. The time for the Maghrib prayer is so long as the twilight has not yet disappeared. The time for the 'Isha' prayer is until halfway through the night. The time for the Subh prayer is from dawn, so long as the sun has not yet risen. When the sun rises, then refrain from praying, for it rises between the horns of the Shaittan."

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد ہوتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے کہ آدمی کا سایہ اسکی لمبائی کے برابر ہو جائے جب تک عصر کا وقت نہ آئے۔ اور عصر کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہو ۔اور مغرب کی نماز کا وقت شفق غائب ہونے تک رہتا ہے ۔اور عشاء کی نماز کا وقت بالکل آدھی رات تک رہتا ہے اور صبح کی نماز کا وقت صبح صادق سے سورج نکلنے تک رہتا ہے پھر جب سورج نکلنے لگے تو کچھ دیر کے لئے نماز سے رک جائے کیونکہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ - يَعْنِى ابْنَ طَهْمَانَ - عَنِ الْحَجَّاجِ - وَهُوَ ابْنُ حَجَّاجٍ - عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ « وَقْتُ صَلاَةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ».

It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al-As that he said: "The Messenger of Allah (s.a.w) was asked about the times of prayer. He said: 'The time for the Fajr prayer is so long as the first part of the sun has not risen. The time for the Zuhr prayer is from when the sun passes the middle of the sky, so long as 'Asr has not come. The time for the 'Asr prayer is so long as the sun has not turned yellow and the first part of it has not disappeared. The time for the Maghrib prayer is when the sun sets, so long as the twilight has not disappeared. The time for 'Isha' prayer is until halfway through the night.'"

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺنے فرمایا کہ فجر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج کا اوپر کا کنارہ نہ نکلے اور ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد سے عصر تک رہتاہے۔اور عصر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہوجائے اور اس کے اوپر کا کنارہ غروب نہ ہو جائے اور مغرب کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ شفق غائب نہ ہو جائے اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک رہتا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يَقُولُ لاَ يُسْتَطَاعُ الْعِلْمُ بِرَاحَةِ الْجِسْمِ.

'Abdullah bin Yahya bin Abi Katheer said: "I heard my father say: 'Knowledge cannot be acquired by resting ones body."'

عبداللہ بن یحیی بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ علم آرام طلبی سسے حاصل نہیں ہوتا۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ كِلاَهُمَا عَنِ الأَزْرَقِ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ رَجُلاً سَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ لَهُ « صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ ». يَعْنِى الْيَوْمَيْنِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِى أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِى كَانَ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاَةِ ». فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « وَقْتُ صَلاَتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ ».

It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, from the Prophet (s.a.w) that a man asked him about the times of prayer. He said to him: "Pray with us for these two," meaning these two days. When the sun had passed its zenith, he told Bilal to call the Adhan, then he told him to call the Iqamah for Zuhr. Then he told him to call the Iqamah for 'Asr when the sun was high, white and clear. Then he told him to call the Iqamah for Maghrib when the sun had set. Then he told him to call the Iqamah for 'Isha' when the twilight disappeared. Then he told him to call the Iqamah for Fajr when dawn broke. The next day, he told him to delay the Iqamah for Zuhr until the heat of the day had passed and it had cooled down somewhat. Then he prayed 'Asr when the sun was still high, but later than on the day before. He prayed Maghrib before the twilight disappeared, and he prayed 'Isha' after one-third of the night had passed, and he prayed Fajr when it had grown light. Then he said: "Where is the one who asked about the times of prayer?" The man said: "It was me, O Messenger of Allah." He said: "The times of your prayers are between what you have seen."

حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺسے ایک آدمی نے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا آپ ﷺنے فرمایا کہ تو دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھ چنانچہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ ﷺنے حضرت بلال کو حکم فرمایا انہوں نے اذان دی پھر آپ ﷺنے بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی پھر آپ ﷺنے حکم فرمایا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی کہ سورج ابھی تک بلند اور سفید تھا پھر آپ ﷺنے حکم فرمایا تو انہوں نے سورج کے غروب ہونے کے وقت مغرب کی اقامت کہی پھر آپ ﷺنے حکم فرمایا تو انہوں نے شفق کے غائب ہونے کے وقت میں عشاء کی نماز کی اقامت کہی پھر آپ ﷺنے حکم فرمایا تو انہوں نے طلوع فجر کے وقت میں فجر کی نماز کی اقامت کہی پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ ﷺنے ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کو حکم فرمایا اور خوب ٹھنڈے وقت میں پڑھی اور عصر کی نماز پڑھی کہ سورج ابھی بلند تھا لیکن پہلے دن سے مؤخر کرکے پڑھی ۔اور مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی اور عشاء تہائی رات کے بعد پڑھی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی کہ جب خوب روشنی پھیل گئی پھر فرمایا کہ نماز کے وقت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے تو اس نے عرض کیا میں ہوں اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺنے فرمایا یہ نمازوں کے جو اوقات تم نے دیکھے ہیں انکے درمیان تمہاری نمازوں کے اوقات ہیں۔


وَحَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِىُّ حَدَّثَنَا حَرَمِىُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ « اشْهَدْ مَعَنَا الصَّلاَةَ ». فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ حِينَ وَقَعَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ تُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ - شَكَّ حَرَمِىٌّ - فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ ».

It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that a man came to the Prophet (s.a.w) and asked him about the times of prayer. He said: "Attend the prayer with us." He told Bilal to call the Adhan when it was still dark, and he prayed Subh when dawn broke. Then he told him (to call the Adhan) for Zuhr when the sun passed the middle of the sky. Then he told him (to call the Adhan) for 'Asr when the sun was still high. Then he told him (to call the Adhan) for Maghrib when the sun set. Then he told him (to call the Adhan) for 'Isha' when the twilight disappeared. The following day, he told him (to call the Adhan) for Fajr when it had grown light. Then he told him (to call the Adhan) for Zuhr when it had cooled down a little. Then he told him (to call the Adhan) for 'Asr when the sun was still white and clear, and had not become tinged with yellow. Then he told him (to call the Adhan) for Maghrib before the twilight disappeared. Then he told him (to call the Adhan) for 'Isha' when one-third of the night had gone, or when part of the night had done - Harami was not sure. When morning came he said: "Where is the one who was asking? Between what you have seen is the time."

ضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺکے پاس آیا اور نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھنے لگا آپ نے فرمایا ہمارے ساتھ نمازیں پڑھ کر دیکھ لو پھر آپ ﷺﷺنے حضرت بلال کو حکم فرمایا انہوں نے اندھیرے میں صبح کی اذان دی پھر طلوع فجر کے وقت صبح کی نماز پڑھی پھر آپ ﷺنے حضرت بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے ظہر کی اذان دی کہ جس وقت سورج آسمان کے درمیان سے ڈھل گیا پھر آپ ﷺنے بلال کو عصر کا حکم فرمایا اور سورج ابھی بلند تھا پھر آپ ﷺنے مغرب کا حکم فرمایا جس وقت کہ سورج غروب ہوگیا پھر آپ ﷺنے عشا کا حکم فرمایا جس وقت کہ شفق غائب ہوگیا پھر اگلی صبح کو خوب روشنی پھیل جانے پر فجر کی نماز کا حکم فرمایا پھر آپ نے ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم فرمایا پھر آپ ﷺنے عصر کا حکم فرمایا اور سورج ابھی سفید تھا اس میں زردی کا اثر نہیں ہوا تھا پھر آپ نے شفق کے غائب ہونے سے پہلے مغرب کا حکم فرمایا پھر آپ ﷺنے تہائی رات کے گزر جانے پر عشاء کی اذان کا حکم فرمایا حرمی راوی کو اس میں شک ہے پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ جو وقت تو نے دیکھا اس کا درمیانی وقت نمازوں کا ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ أَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا - قَالَ - فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لاَ يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدِ انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ فَقَالَ « الْوَقْتُ بَيْنَ هَذَيْنِ ».

Abu Bakr bin Abi Musa narrated from his father, from the Messenger of Allah (s.a.w), that someone came to him and asked him about the times of the prayer. He did not give any reply. Then he had the Iqamah called for Fajr when dawn broke and the people could hardly recognize one another (because it was so dark). Then he told him to call the Iqamah for Zuhr when the sun had passed its zenith and one would say that it was midday, although he knew better than them. Then he told him to call the Iqamah for 'Asr when the sun was high. Then he told him to call the Iqamah for Maghrib when the sun set. Then he told him to call the Iqamah for 'Isha' when the twilight disappeared. Then the following day he delayed Fajr until when it was over, one would say that the sun had risen or had almost risen. Then he delayed Zuhr until it was nearly the time when he had prayed 'Asr the day before. Then he delayed 'Asr until when it was over, one would say that the sun had turned red. Then he delayed Maghrib until the twilight was about to disappear. Then he delayed 'Isha' until it was the first third of the night. The next day he called the one who had asked and said: "The times (of prayers) are between each two times."

حضرت ابوبکر بن موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے پاس نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھنے والا آیا آپ ﷺنے اسے اس وقت کوئی جواب نہ دیا اور صبح صادق کے طلوع ہو جانے پر فجر کی نماز پڑھی کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے تھے پھر آپ ﷺنے حکم فرمایا تو ظہر کی نماز سورج کے ڈھل جانے پر پڑھی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ دوپہر ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم تو ان سے زیادہ جاننے والے تھے پھر حکم فرمایا اور عصر کی نماز قائم کی اور سورج ابھی بلند تھا پھر آپ نے حکم فرمایا اور سورج کے غروب پر ہی مغرب کی نماز قائم کی پھر آپ ﷺنے حکم فرمایا اور شفق کے غائب ہونے پر عشاء کی نماز قائم کی اور پھر اگلے دن فجر کی نماز کو مؤخر فرمایا جب اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والے نے کہا کہ سورج نکل گیا یا نکلنے والا ہے اور پھر آپ ﷺنے ظہر کی نماز کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت قریب تھا اور پھر عصر کی نماز میں اتنی تاخیر فرمائی کہ کہنے والے نے کہا کہ سورج زرد ہوگیا ہے اور مغرب کی نماز اتنی دیر سے پڑھی کہ شفق ڈوبنے کو ہوگئی اور عشاء کی نماز اتنی دیر سے پڑھی کہ تہائی رات کا ابتدائی حصہ ہوگیا پھر صبح کے وقت پوچھنے والے کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان میں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ أَبِى مُوسَى سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ سَائِلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ. بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ فِى الْيَوْمِ الثَّانِى.

It was narrated from Abu Bakr bin Abi Musa, from his father, that someone came to the Prophet (s.a.w) and asked him about the times of prayer... a Hadith like that of Ibn Numair (no. 1393), except that he said: "He prayed Maghrib before the twilight disappeared on the second day."

ایک اور سند سے ابو موسیٰ سے ایسی ہی روایت منقول ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺنے مغرب کی نماز دوسرے دن شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی۔

33. بَاب اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'When it is very hot, wait until it cools down somewhat before praying, for intense heat is an exhalation from Hell."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب سخت گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرو کیونکہ سخت گرمی دوزخ کی بھاپ کی وجہ سے ہے۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِى أَبُو سَلَمَةَ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ سَوَاءً.

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah (s.a.w) said... a similar report (as no. 1395).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَسَلْمَانَ الأَغَرِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الْحَارُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ». قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِى أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ». قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِى ابْنُ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِ ذَلِكَ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When it is a hot day, wait until it cools down somewhat before praying, for intense heat is a exhalation from Hell." It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Wait until it cools down somewhat before praying, for intense heat is an exhalation from Hell." A similar report was narrated from Abu Hurairah, from the Messenger of Allah (s.a.w).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جب گرمی ہو تو ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرو کیونکہ سخت گرمی دوزخ کی بھاپ کی وجہ سے ہے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنِ الْعَلاَءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ هَذَا الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "This heat is an exhalation from Hell, so wait until it cools down before praying."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ یہ گرمی دوزخ کی بھاپ کی وجہ سے ہے، تو تم نماز ٹھنڈا کر کے پڑھو۔


حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِى الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ »

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w)," and he mentioned some Ahadith, among which was: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Wait until it cools down somewhat before praying, for intense heat is an exhalation from Hell."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا گرمی میں نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ سخت گرمی دوزخ کی بھاپ کی وجہ سے ہے۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَبْرِدْ أَبْرِدْ ». أَوْ قَالَ « انْتَظِرِ انْتَظِرْ ». وَقَالَ « إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ ». قَالَ أَبُو ذَرٍّ حَتَّى رَأَيْنَا فَىْءَ التُّلُولِ.

It was narrated that Abu Dharr said: "The Mu'adhdhin of the Messenger of Allah (s.a.w) called the Adhan for Zuhr, and the Prophet (s.a.w) said: 'Wait until it cools down, wait until it cools down,' or he said, 'Wait, wait.' And he said: 'Intense heat is an exhalation from Hell, so if it is very hot, wait until it cools down somewhat before praying.'" Abu Dharr said: "So we waited until we could see the shadow of the mounds.''

حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے مؤذن نے ظہر کی اذان دی تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا ٹھنڈا ہونے دو ٹھنڈا ہونے دو یا فرمایا انتظار کرو انتظار کرو اور فرمایا کہ سخت گرمی دوزخ کے بھاپ لینے کے وجہ سے ہے تو جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہاں تک انتظار کیا کہ ٹیلوں کے سائے تک دیکھ لیے۔


وَحَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِى بَعْضًا. فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِى الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِى الصَّيْفِ فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ ».

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The Fire complained to its Lord and said: O Lord, parts of me have consumed other parts. So He gave it permission to breathe out, once in the winter and once in the summer, and that is the intense heat that you experience, and the bitter cold that you experience.'"

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا دوزخ کی آگ نے اپنے رب سے شکایت کی اور اس نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرا بعض حصہ بعض حصہ کو کھا گیا ہے تو اللہ تعالی نے اسے دو سانس لینے کی اجازت عطا فرمائی ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں تو اس وجہ سے تم سخت گرمی پاتے ہو اور سخت سردی پاتے ہو۔


وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ». وَذَكَرَ « أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِى كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِى الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِى الصَّيْفِ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When it is hot, wait for it to cool down somewhat before praying, for the intense heat is an exhalation from Hell." And he mentioned: "The Fire complained to its Lord, so He gave it permission to breathe out twice each year, once in the winter and once in the summer."

ضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ سخت گرمی دوزخ کے سانس لینے کی وجہ سے ہے اور ذکر فرمایا کہ دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی تو اسے ہر سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی گئی ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ قَالَ حَدَّثَنِى يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « قَالَتِ النَّارُ رَبِّ أَكَلَ بَعْضِى بَعْضًا فَأْذَنْ لِى أَتَنَفَّسْ. فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِى الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِى الصَّيْفِ فَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ بَرْدٍ أَوْ زَمْهَرِيرٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ وَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ حَرٍّ أَوْ حَرُورٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The Fire said: 'Lord, parts of me have consumed other parts; give me permission to breathe out.' So He gave it permission to breathe out, once in the winter and once in the summer. What you experience of cold, or intense cold, is the breath of Hell, and what you experience of heat or intense heat is the breath of Hell.''

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ دوزخ نے کہا اے میرے رب میرا بعض حصہ بعض حصہ کو کھا گیا ہے اس لئے مجھے سانس لینے کی اجازت عطا فرمائیں تو اللہ تعالی نے دوزخ کو دو سانس لینے کی اجازت عطا فرما دی ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں اور تم جو سردی پاتے ہو یہ دوزخ کے سانس سے ہے اور اسی طرح تم جو گرمی پاتے ہو یہ بھی جہنم کے سانس لینے سے ہے۔

34. بَاب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَابْنِ مَهْدِىٍّ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ - عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ.

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Prophet (s.a.w) used to pray Zuhr when the sun declined."

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺظہر کی نماز جب سورج ڈھل جاتا تو پڑھتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الصَّلاَةَ فِى الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا.

It was narrated that Khabbab said: "We complained to the Messenger of Allah (s.a.w) about praying on the hot sand, and he did not respond to our complaint."

حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے گرمیوں میں نماز کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے ہماری شکایت کو دور نہیں فرمایا۔


وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَعَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ - قَالَ عَوْنٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا. قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لأَبِى إِسْحَاقَ أَفِى الظُّهْرِ قَالَ نَعَمْ. قُلْتُ أَفِى تَعْجِيلِهَا قَالَ نَعَمْ.

It was narrated that Khabbab said: "We came to the Messenger of Allah (s.a.w) and complained to him about the hot sand and he did not respond to our complaint." Zuhair said: "I said to Abu Ishaq: 'Was that concerning Zuhr?' He said: 'Yes.' I said: 'Was it about praying it earlier?' He said: 'Yes."'

حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور سخت گرمی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے ہماری شکایت کو دور نہیں فرمایا زہیر نے کہا کہ میں نے ابو اسحاق سے کہا کہ کیا ظہر؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے کہا کیا ظہر کو جلدی پڑھیں؟ فرمایا ہاں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنَ الأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "We used to pray (Zuhr) with the Messenger of Allah (s.a.w) when it was intensely hot, and if one of us could not place his forehead firmly on the ground, he would spread out his garment and prostrate on it."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سخت گرمی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھنے کی طاقت نہ رکھتا تو وہ اپنے کپڑے کو بچھا کر اس پر سجدہ کرتا۔

35. بَاب اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِى فَيَأْتِى الْعَوَالِىَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ. وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فَيَأْتِى الْعَوَالِىَ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) used to pray 'Asr when the sun was high and bright, then a person would go to Al-'Awali and reach Al-'Awali when the sun was still high.

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے اس حال میں کہ سورج بلند اور روشن ہوتا اور کوئی عوالی (بالائی بستیوں ) کی طرف جانے والا عوالی پہنچ جاتا تو پھر بھی سورج بلند ہوتا قتیبہ کی روایت میں عوالی جانے کا ذکر نہیں۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً.

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) used to pray 'Asr... a similar report (as no. 1408).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّى الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "We used to pray 'Asr, then a person could go to Quba' and reach them when the sun was still high."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے پھر کوئی قباء کی طرف جانے والا جاتا تو وہاں پہنچ جانے کے بعد بھی سورج بلند ہوتا۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّى الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِى عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "We used to pray 'Asr then a man could go out to Banu 'Amr bin 'Awf and find them praying 'Asr."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے پھر ایک انسان قبیلہ عمرو بن عوف کی طرف جاتا تو ان کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِى دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ. قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ. فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً ».

It was narrated from Al-'Ala bin 'Abdur-Rahman that he entered upon Anas bin Malik in his house in Al-Basrah, when he had finished Zuhr, and his house was beside the Masjid. When we entered upon him he said: 'Have you prayed 'Asr?' We said: 'We have just finished Zuhr.' He said: 'Pray 'Asr.' So we stood up and prayed, and when we had finished he said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: That is the prayer of the hypocrite. He sits watching the sun, then when it is between the horns of the Shaitan, he stands up and pecks out four Rak'ah, in which he remembers Allah only a little."'

حضرت علاء بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میں ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر بصرہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں گئے وہ گھر مسجد کے ایک کونے میں تھا تو جب ہم ان کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی تو ہم نے ان سے کہا کہ ہم ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آئے ہیں انہوں نے فرمایا کہ عصر کی نماز پڑھ لو تو ہم کھڑے ہوئے تو ہم نے نماز پڑھی جب ہم فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ تو منافق کی نماز ہے کہ سورج کو بیٹھے دیکھتا رہتا ہے جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان میں ہوتا ہے تو کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مارنے لگ جاتا ہے اس میں اللہ تعالی کا ذکر نہیں کرتا مگر بہت تھوڑا۔


وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِى مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّى الْعَصْرَ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ الَّتِى صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرُ وَهَذِهِ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله تعالى عليه وسلم الَّتِى كُنَّا نُصَلِّى مَعَهُ.

Abu Umamah bin Sahl said: "We prayed Zuhr with 'Umar bin 'Abdul-'Aziz, then we went out and entered upon Anas bin Malik, and we found him praying 'Asr. I said: 'O uncle, what is the prayer that you have prayed?' He said: ''Asr. This is the prayer of the Messenger of Allah (s.a.w) which we used to pray with him."'

حضرت امامہ بن سہل فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر ہم نکلے یہاں تک کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچ گئے تو ہم نے ان کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا میں نے عرض کیا اے چچا جان یہ آپ نے کونسی نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا عصر کی نماز اور یہ وہ نماز ہے جسے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِىَّ حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِى سَلِمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا. قَالَ « نَعَمْ ». فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قُطِّعَتْ ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ. وَقَالَ الْمُرَادِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فِى هَذَا الْحَدِيثِ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) led us in praying 'Asr, and when he had finished, a man from Banu Salimah came and said: 'O Messenger of Allah, we want to slaughter a camel of ours, and we would like you to be present.' He said, 'Yes.' So he set out, and we set out with him, and we found that the camel had not yet been slaughtered. It was slaughtered, then cut into pieces, and some of it was cooked, then we ate, before the sun set."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب آپ ﷺنماز سے فارغ ہوگئے تو بنی سلمہ کا ایک آدمی آپ ﷺکے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم ایک اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اور ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اس موقع پر آپ ﷺبھی ہمارے ساتھ موجود ہوں آپ ﷺنے فرمایا اچھا چلو اور ہم بھی آپ ﷺکے ساتھ چلے ہم نے دیکھا کہ ابھی تک اونٹ ذبح نہیں ہوا تھا پھر اسے ذبح کیا گیا پھر اس کا گوشت کاٹا گیا پھر اس گوشت کو پکایا گیا پھر ہم نے اس گوشت کو سورج غروب ہونے سے پہلے کھا لیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ عَنْ أَبِى النَّجَاشِىِّ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّى الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ.

Rafi' bin Khadij said: "We used to pray 'Asr with the Messenger of Allah (s.a.w), then a camel would be slaughtered and divided into ten parts, then it would be cooked and we would eat cooked meat, before the sun set."

حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے تھے پھر اونٹ کو ذبح کر کے دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا پھر اس کو پکایا جاتا تو ہم پکا ہوا گوشت سورج کے غروب ہونے سے پہلے کھا لیتے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْدَ الْعَصْرِ. وَلَمْ يَقُلْ كُنَّا نُصَلِّى مَعَهُ.

Al-Awza'i narrated it (the narration of Rafi') with this chain, except that he said: "We used to slaughter a camel after 'Asr at the time of the Messenger of Allah (s.a.w)," and he did not say: "We used to pray with him."

اسی سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں ہم عصر کے بعد اونٹ ذبح کرتے تھے اور یہ نہیں کہا کہ ہم آپ ﷺکے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔

36. بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَفْوِيتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الَّذِى تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The one who misses 'Asr is like the one whose family and wealth were taken from him."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس آدمی سے عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا کہ اس کے گھر والے اور اس کا مال ہلاک ہوگیا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ عَمْرٌو يَبْلُغُ بِهِ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَفَعَهُ.

It was narrated from Salim, from his father (a Hadith similar to no. 1417).

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ فَاتَتْهُ الْعَصْرُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ».

It was narrated from Salim bin 'Abdullah, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever misses 'Asr it is as if his family and wealth were taken from him."

حضرت سالم بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس آدمی کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو گویا کہ اس کے گھر والے اور اس کا مال ہلاک ہوگیا۔

37. بَاب الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا وَشَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ».

It was narrated that 'Ali said: "On the day of (the battle of) Al-Ahzab, the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'May Allah fill their graves and their houses with fire, for they kept us busy and distracted us from the Middle Prayer until the sun set."'

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے احزاب کے دن فرمایا تھا کہ اللہ تعالی ان کی قبروں کو اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے جیسے کہ انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطی (عصر کی نماز) سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Hisham with this chain (a Hadith similar to no. 1420).

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى حَسَّانَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الأَحْزَابِ « شَغَلُونَا عَنْ صَلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ ». شَكَّ شُعْبَةُ فِى الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ.

It was narrated that 'Ali said: "On the day of (the battle of) Al-Ahzab, the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'They distracted us from the Middle Prayer until the sun set. May Allah fill their graves with fire, and their houses,' or 'their bellies"' - Shu'bah was not sure whether he said houses or bellies.

حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے غزوہ احزاب والے دن ارشاد فرمایا کہ کافروں نے ہمیں نماز وسطی سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ۔راوی کو شک ہے شاید یوں فرمایا اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ ». وَلَمْ يَشُكَّ.

It was narrated from Qatadah with this chain, and he said: "Their houses and their graves" - he was not uncertain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت ہے ۔ قتادہ کی روایت میں بغیر شک کے بیوت اور قبور کے الفاظ ہیں۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَلِىٍّ ح وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى سَمِعَ عَلِيًّا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الأَحْزَابِ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ « شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ - أَوْ قَالَ قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ - نَارًا ».

'Ali said: "On the day of (the battle of) Al-Ahzab, when he was sitting at one of the openings in the ditch, the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'They distracted us from the Middle Prayer until the sun set. May Allah fill their graves and their houses' - or 'their graves and their bellies - with fire."'

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے غزوہ احزاب کے دن فرمایا اس حال میں کہ آپ ﷺخندق کے راستوں میں سے ایک راستہ پر تشریف فرما تھے، مشرکوں نے ہمیں نماز وسطی سے روکے رکھا ہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا ہے اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا ان کی قبروں یا ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الأَحْزَابِ « شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى صَلاَةِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ». ثُمَّ صَلاَّهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.

It was narrated that 'Ali said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said on the day of (the battle of) Al-Ahzab: "They distracted us from the Middle Prayer, 'Asr prayer. May Allah fill their houses and their graves with fire." Then he prayed it between the two evening prayers, between Maghrib and 'Isha'.

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے غزوہ احزاب والے دن فرمایا کافروں نے ہمیں صلوۃ وسطی یعنی عصر کی نماز پڑھنے سے روکے رکھا ہے اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھردے پھر آپ نے مغرب اور عشاء کے درمیان عصر کی نماز ادا فرمائی۔


وَحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِىُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِىُّ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ أَوِ اصْفَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى صَلاَةِ الْعَصْرِ مَلأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ». أَوْ قَالَ « حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ».

It was narrated that 'Abdullah said: "The idolators kept the Messenger of Allah (s.a.w) from praying 'Asr until the sun had turned red or yellow. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'They distracted us from the Middle Prayer, 'Asr prayer. May Allah fill their bellies and their graves with fire."'

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺکو عصر کی نماز سے روک دیا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہوگیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ مشرکوں نے ہمیں صلوة وسطی عصر کی نماز سے روک دیا ہے اللہ تعالی ان کے پیٹوں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِى يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِى عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا وَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ فَآذِنِّى (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى) فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَىَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَصَلاَةِ الْعَصْرِ. وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ. قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated that Abu Yunus, the freed slave of 'Aishah, said: "'Aishah told me to write a Mushaf for her, and she said: 'When you reach this verse - Guard strictly (five obligatory) As-Salawat (the prayers) especially the middle Salat... - call me.' When I reached it, I called her, and she dictated to me the words of Allah: 'Guard strictly (five obligatory) As-Salawat (the prayers) especially the middle Salat and 'Asr prayer. And stand before Allah with obedience.' 'Aishah said: 'I heard it from the Messenger of Allah (s.a.w)."'

حضرت ابو یونس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غلام فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حکم فرمایا کہ میں ان کے لئے قرآن لکھوں اور فرماتی ہیں کہ جب تو اس آیت پر پہنچے تو مجھے بتانا (حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطی) تو جب میں اس آیت پر پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہا کو میں نے بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ اس آیت کو اس طرح لکھو حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطی ( وصلاۃ العصر) وقوموا للہ قانتین، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺسے اس آیت کو اسی طریقے سے سنا ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ. فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نَسَخَهَا اللَّهُ فَنَزَلَتْ ( حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى) فَقَالَ رَجُلٌ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقٍ لَهُ هِىَ إِذًا صَلاَةُ الْعَصْرِ. فَقَالَ الْبَرَاءُ قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

It was narrated from Al-Fudail bin Marzuq from Shaqiq bin 'Uqbah, that Al-Bara' bin 'Azib said: "This verse was revealed - 'Guard strictly (five obligatory) prayers and 'Asr prayer...' and we recited it for as long as Allah willed, then Allah abrogated, it and revealed: 'Guard strictly (five obligatory) As-Salawat (the prayers) especially the middle Salat)... A man who was sitting beside Shaqiq said to him: "So it is the 'Asr prayer." Al-Bara' said: "I have told you how it was revealed and how it was abrogated, and Allah knows best."

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی حافظوا علی الصلوات وصلاۃ العصر تو ہم اس آیت کو جب تک اللہ نے چاہا اسی طرح پڑھتے رہے پھر اللہ تعالی نے اسے منسوخ فرما دیا تو اس طرح آیت نازل ہوئی (حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطی) تو ایک آدمی جو کہ حضرت شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اب نماز عصر ہی یہی نماز ہے حضرت براء نے فرمایا کہ میں نے تجھے بتا دیا ہے کہ یہ آیت کیسے نازل ہوئی اور اللہ نے اسے کیسے منسوخ فرما دیا اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔


قَالَ مُسْلِمٌ وَرَوَاهُ الأَشْجَعِىُّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِىِّ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَرَأْنَاهَا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- زَمَانًا. بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.

It was narrated from Al-Bara' bin 'Azib. He said: "We recited it with the Messenger of Allah (s.a.w) for a while." A Hadith like that of Fudail bin Marzuq (no. 1428).

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺکے ساتھ اس آیت کو ایک عرصہ دراز تک اسی طرح پڑھتے رہے باقی حدیث اسی طرح سے ہے جیسے گزری۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ - قَالَ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّىَ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا ». فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ.

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that on the day of Al-Khandaq (i.e., the battle of Al-Ahzab), 'Umar bin Al-Khattab started cursing the disbelievers of the Quraish and said: "O Messenger of Allah, by Allah I could not pray 'Asr until the sun was about to set." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "By Allah, I have not prayed either." We went down to Buthan, and the Messenger of Allah (s.a.w) performed Wudu' and so did we. Then the Messenger of Allah (s.a.w) prayed 'Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ خندق والے دن قریش کے کافروں کو سب وشتم کرنے لگے اور عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم عصر کی نماز ابھی تک نہیں پڑھی اور سورج غروب ہونے کے قریب ہے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر میں نے بھی عصر کی نماز پڑھی ہو، پھر ہم بطحان کی طرف اترے رسول اللہ ﷺنے وضو فرمایا اور ہم نے بھی وضو کیا پھر رسول اللہ ﷺنے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھائی پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِىِّ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ فِى هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 1430) was narrated from Yahya bin Abi Kathir, with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے۔

38. بَاب فَضْلِ صَلَاتَيْ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلاَئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِى صَلاَةِ الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِى فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The Angels of the night and the day come to you in succession, and they meet at the Fajr prayer and at the 'Asr prayer. Then those who stayed among you ascend and their Lord asks them, although He knows best about them, 'How did you leave My slaves?' and they say: 'We left them while they were praying, and we came to them while they were praying."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ رات اور دن کے فرشتے تمہارے پاس آتے ہیں اور فجر کی نماز میں اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہوتے ہیں پھر یہ اوپر چڑھ جاتے ہیں پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا تو فرشتے کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو نماز کی حالت میں چھوڑا اور ہم ان کے پاس سے آئے تو اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَالْمَلاَئِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ ». بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِى الزِّنَادِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "The Angels come to you in succession," a Hadith like that of Abu Az-Zinad (no. 1432).

ایک اور سند سے بھی حضرت ابو ہریرہ سے ایسی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِىُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِى حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ « أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لاَ تُضَامُّونَ فِى رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ». يَعْنِى الْعَصْرَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ قَرَأَ جَرِيرٌ (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ).

Qais bin Abi Hazim said: "I heard Jarir bin 'Abdullah say: 'We were sitting with the Messenger of Allah (s.a.w) when he looked at the moon while it was full, and he said: "You will see your Lord as you are seeing this moon, and you will not crowd one another in order to see Him. If you can, do not let yourselves be distracted from praying before the sun rises and before it sets," meaning Fajr and 'Asr. Then Jarir recited: "And glorify the praises of your Lord before the rising of the sun, and before its setting."

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا کہ بلاشبہ تم اپنے رب کو اس طرح سے دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اسے دیکھنے میں تم کسی قسم کی دقت محسوس نہیں کرتے پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج کے نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے کی نمازوں یعنی عصر اور فجر کی نمازوں کو قضاء نہ کرنا پھر حضرت جریر نے یہ آیت پڑھی وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبہا۔سورج کے نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی پاکی حمد کے ساتھ بیان کرو۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ وَوَكِيعٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « أَمَا إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ ». وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ. وَلَمْ يَقُلْ جَرِيرٌ.

'Abdullah bin Numair, Abu Usamah and Waki' narrated with this chain and said: "(The Prophet (s.a.w) said: You will be presented to your Lord and you will see Him as you see this moon." And he said: "Then he recited," and he did not mention Jarir.

اس سند کے ساتھ ایک روایت میں اس طرح ہے کہ تمہیں عنقریب اپنے رب کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اپنے رب کو اسطرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو پھر آپ ﷺنے پڑھا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ - عَنِ ابْنِ أَبِى خَالِدٍ وَمِسْعَرٍ وَالْبَخْتَرِىِّ بْنِ الْمُخْتَارِ سَمِعُوهُ مِنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ». يَعْنِى الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ نَعَمْ. قَالَ الرَّجُلُ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّى سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِى.

It was narrated from Ibn Abi Khalid, Mis'ar and Al-Bakhtari bin Al-Mukhtar, that they heard from Abu Bakr bin 'Umarah bin Ruwaibah, that his father said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'No one will enter the Fire who prays before the sun rises and before it sets."' Meaning Fajr and 'Asr. A man from among the people of Al-Basrah said to him: "Did you hear it from the Messenger of Allah (s.a.w)?" He said: "Yes." The man said: "And I bear witness that I heard it from the Messenger of Allah (s.a.w). My ears heard it and my heart understood it."

حضرت ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ آدمی ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی یعنی فجر اور عصر کی نماز۔ بصرہ کے ایک آدمی نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ﷺسے سنی ہے انہوں نے فرمایا ہاں، تو اس آدمی نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی یہ بات رسول اللہ ﷺسے سنی ہے میرے کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔


وَحَدَّثَنِى يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ». وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ. قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُهُ بِالْمَكَانِ الَّذِى سَمِعْتَهُ مِنْهُ.

It was narrated from Ibn 'Umarah bin Ruwaibah that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'No one will enter the Fire who prays before the sun rises and before it sets."' With him there was a man from among the people of Al-Basrah who said: "Did you hear this from the Prophet (s.a.w)?" He said: "Yes, I bear witness to that." He said: "And I bear witness that I heard the Prophet (s.a.w) say it in the same place where you heard it from him."

حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ وہ آدمی دوزخ میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی اور ان کے پاس بصرہ کا ایک آدمی تھا اس نے پوچھا کیا آپ نے نبی ﷺسے یہ حدیث سنی ہے ؟حضرت عمارہ نے کہا ہاں ! میں اس پر گواہ ہوں ۔یہ سن کر وہ شخص بولا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو اس جگہ یہ فرماتے ہوئے سنا جہاں سے میں سن سکتا تھا۔


وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنِى أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِىُّ عَنْ أَبِى بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ».

It was narrated from Abu Bakr, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever prays at the two cool times (Fajr and 'Asr), he will enter Paradise."

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس آدمی نے دو ٹھنڈی نمازیں (فجراور عصر) پڑھیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِىِّ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَنَسَبَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالاَ ابْنُ أَبِى مُوسَى.

Hammam narrated it with this chain, and said that Abu Bakr was Ibn Abi Musa.

ایک اور سند سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔

39. بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ.

It was narrated from Salamah bin Al-Akwa' that the Messenger of Allah (s.a.w) used to pray Maghrib when the sun set and had disappeared below the horizon.

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺمغرب کی نماز اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج غروب ہوتا (اور اتنا غروب ہوتا) کہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى أَبُو النَّجَاشِىِّ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّى الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ.

Rafi' bin Khadij said: "We used to pray Maghrib with the Messenger of Allah (s.a.w), and one of us would leave, and he would be able to see as far as he could shoot an arrow."

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مغرب کی نماز رسول اللہ ﷺکے ساتھ پڑھا کرتے تھے تو ہم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہوتا تو وہ اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِىُّ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى أَبُو النَّجَاشِىِّ حَدَّثَنِى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّى الْمَغْرِبَ. بِنَحْوِهِ.

Rafi' bin Khadij said: "We used to pray Maghrib... " a similar Hadith (as no. 1441).

ایک اور سند سے بھی یہی حدیث رافع بن خدیج سے منقول ہے۔

40. بَاب وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا

وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِىُّ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِى بِصَلاَةِ الْعِشَاءِ وَهِىَ الَّتِى تُدْعَى الْعَتَمَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ « مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ». وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ فِى النَّاسِ. زَادَ حَرْمَلَةُ فِى رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَذُكِرَ لِى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الصَّلاَةِ ». وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.

'Urwah bin Az-Zubair narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), said: "One night the Messenger of Allah (s.a.w)delayed the 'Isha' prayer, the one that is called 'Al-'Atamah,' until it was very dark. The Messenger of Allah (s.a.w_ did not come out until 'Umar bin Al-Khattab said: 'The women and children have fallen asleep.' Then the Messenger of Allah (s.a.w) came out, and he said to the people in the Masjid when he came out to them: 'None of the people of earth are waiting for it except you.' That was before Islam had spread among the people." Harmalah added in his report: Ibn Shihab said: "It was said to me that the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'And you should not try to compel the Messenger of Allah (s.a.w) to pray. That was when 'Umar bin Al-Khattab called out."'

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی ﷺکی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺنے عشاء کی نماز میں تاخیر کی اور اس کو عتمہ پکارا جاتا ہے رسول اللہ ﷺنہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ عورتیں اور بچے سو گئے تو رسول اللہ ﷺتشریف لائے جس وقت آپ ﷺتشریف لا رہے تھے تو مسجد والوں سے فرمایا کہ تمہارے علاوہ زمین والوں میں سے کوئی بھی اس کا انتظار نہیں کر رہا، اور یہ لوگوں میں اسلام کے پھیلنے سے پہلے کی بات ہے ۔حرملہ نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے اور اس میں اس طرح ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے جس وقت چلا کر رسول اللہ ﷺکو نماز کی طرف متوجہ کیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ تمہارے لئے یہ مناسب نہیں کہ تم رسول اللہ ﷺسے نماز کا کہو۔


وَحَدَّثَنِى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِىِّ وَذُكِرَ لِى. وَمَا بَعْدَهُ.

A similar report (as no. 1443) with this chain, but he did not mention what Az-Zuhri said: "It was said to me that..." etc.

ایک اور روایت میں بھی ایسا ہی ہے۔


حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِى الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ « إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِى ». وَفِى حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ « لَوْلاَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِى ».

It was narrated that 'Aishah said: "One night the Messenger of Allah (s.a.w) delayed 'Isha' until most of the night had gone and the people in the Masjid had fallen asleep. Then he came out and said: 'This would be the time for it, were it not that I would cause hardship on my Ummah.'" In the narration of 'Abdur-Razzaq: "Were it not that it was difficult on my Ummah."

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات نبی ﷺنے عشاء کی نماز میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا اکثر حصہ گذر گیا اور یہاں تک کہ مسجد والے بھی سو گئے پھر آپ ﷺتشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا:کہ اگر میری امت پر مشقت کا خیال نہ ہوتا تو عشاء کی نماز کا یہی وقت ہوتا ۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلاَ نَدْرِى أَشَىْءٌ شَغَلَهُ فِى أَهْلِهِ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ « إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلاَةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلاَ أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِى لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ». ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَصَلَّى.

It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said: "One night we remained waiting for the Messenger of Allah (s.a.w) to pray 'Isha', and he came out to us when one-third or more of the night had passed. We did not know if some family matter had detained him or something else. When he came out, he said: 'You are waiting for a prayer for which the people of no other religion are waiting. Were it not that it would be too burdensome for my Ummah, I would have prayed it with you at this hour.' Then he told the Mu'adhadhin to call the Iqamah, and he prayed."

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم عشاء کی نماز کے لئے رسول اللہ ﷺکا انتظار کرتے رہے تو آپ ﷺتہائی رات کے وقت یا اس کے بعد ہماری طرف تشریف لائے ہمیں نہیں معلوم کہ آپ ﷺاپنے گھر میں کسی کام میں مصروف تھے یا اس کے علاوہ کوئی اور وجہ تھی۔تو نکلتے ہوئے آپ ﷺنے فرمایا کہ تم اس نماز کا انتظار کر رہے ہو جس کا انتظار تمہارے سوا کسی اور دین کو ماننے والا نہیں کرتا۔اور اگر میری امت پر بوجھ نہ ہوتا تو میں اسی وقت نماز پڑھتا۔ پھر آپ نے مؤذن کو حکم فرمایا تو اس نے نماز کی اقامت کہی اور آپ ﷺنے نماز پڑھائی۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِى الْمَسْجِدِ ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ قَالَ « لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اللَّيْلَةَ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ غَيْرُكُمْ ».

'Abdullah bin 'Umar narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) was distracted one night and delayed 'Isha' until we fell asleep in the Masjid then woke up, then we fell asleep, then woke up. Then the Messenger of Allah (s.a.w) came out to us and said: "There is no one on earth tonight who is waiting for the prayer other than you."

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺایک رات اپنے کسی کام میں مصروف تھے تو آپ ﷺنے عشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے پھر ہم جاگے پھر ہم سو گئے پھر ہم جاگے پھر رسول اللہ ﷺہماری طرف تشریف لائے پھر فرمایا کہ زمین والوں میں سے تمہارے علاوہ رات کو نماز کا انتظار کرنے والا اور کوئی نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ. أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ « إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِى صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ ». قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى بِالْخِنْصَرِ.

It was narrated from Thabit that they asked Anas about the ring of the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: "One night the Messenger of Allah (s.a.w) delayed 'Isha' until the middle of the night, or when almost half of the night had gone. Then he came and said: 'The people have prayed and gone to sleep, but you are still in a state of prayer so long as you are waiting for the prayer.' Anas said: 'It is as if I can see the brightness of his silver ring, and he raised the little finger of his left hand."'

حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ ﷺکی انگوٹھی کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے ایک رات عشاء کی نماز میں آدھی رات تک یا آدھی رات کے قریب تک تاخیر کر دی پھر آپ ﷺتشریف لائے اور فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم نماز میں ہو جب تک تم نماز کے انتظار میں ہو، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں کے سامنے اب بھی یہ منظر ہے گویا کہ میں آپ کی چاندی کی انگوٹھی کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے اشارہ کرکے کہا انگوٹھی اسی انگلی میں تھی۔


وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَيْلَةً حَتَّى كَانَ قَرِيبٌ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ فِى يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "We waited for the Messenger of Allah (s.a.w) one night until it was nearly halfway through the night. Then he came and prayed, then he turned to face us, and it is as if I can see the brightness of his silver ring on his hand."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم نے رسول اللہ ﷺکا انتظار کیا یہاں تک کہ آدھی رات کے قریب ہوگئی پھر آپ ﷺتشریف لائے اور نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ چاندی کی انگوٹھی آپ کے دست مبارک میں چمک رہی ہے۔


وَحَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِىُّ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ.

It was narrated by Qurrah with this chain (a similar Hadith as no. 1449), but he did not mention the phrase, "then he turned to face us."

ایک اورسند سے بھی ایسی ہی روایت ہے لیکن اس میں ہماری طرف متوجہ ہونے کا ذکر نہیں۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِىُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِى الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِى فِى السَّفِينَةِ نُزُولاً فِى بَقِيعِ بُطْحَانَ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْمَدِينَةِ فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ قَالَ أَبُو مُوسَى فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَا وَأَصْحَابِى وَلَهُ بَعْضُ الشُّغُلِ فِى أَمْرِهِ حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلاَةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ « عَلَى رِسْلِكُمْ أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّى هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ ». أَوْ قَالَ « مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ ». لاَ نَدْرِى أَىَّ الْكَلِمَتَيْنِ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated that Abu Musa said: "My companions and I - who came with me in the ship - were staying in the valley of Buthan, and the Messenger of Allah (s.a.w) was in Al-Madinah. Every night it would be the turn of a group of them to go to the Messenger of Allah (s.a.w) at the time of 'Isha' prayer." Abu Musa said: "My companions and I went to the Messenger of Allah (s.a.w), but something kept him busy until he prayed while it was very dark, almost halfway through the night. Then the Messenger of Allah (s.a.w) came out and led them in prayer, and when he had finished his prayer he said to those who were present: 'Wait! I will tell you something and give you glad tidings. It is Allah's blessing to you that no one else among the people is praying at this hour except you."' Abu Musa said: "We went back rejoicing at what we had heard from the Messenger of Allah (s.a.w)."

حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے وہ ساتھی جو میرے ساتھ کشتی میں تھے بقیع کی پتھریلی زمین میں اترے اور رسول اللہ ﷺمدینہ میں تھے اور ہم میں سے ایک جماعت کے لوگ ہر رات عشاء کی نماز کے وقت رسول اللہ ﷺکی خدمت میں باری باری حاضر ہوتے تھے، حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺاپنے کسی کام میں مصروف تھے یہاں تک کہ نماز میں تاخیر ہوگئی اور آدھی رات کے بعد تک ہوگئی پھر رسول اللہ ﷺتشریف لائے اور سب کو نماز پڑھائی پھر جب نماز پوری ہوگئی تو جو لوگ اس وقت موجود تھے ان سے فرمایا کہ ذرا ٹھہرو میں تمہیں بتاتا ہوں اور تمہیں خوشخبری ہو کہ تمہارے اوپر اللہ کا یہ احسان ہے کہ لوگوں میں سے اس وقت تمہارے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں پڑھ سکا یا یہ فرمایا کہ اس وقت تمہارے علاوہ کسی نے نماز نہیں پڑھی (راوی نے کہا) کہ ہم نہیں جانتے کہ کون سا کلمہ فرمایا حضرت ابوموسی فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ سے یہ خوشخبری سنی تو خوشی خوشی واپس لوٹے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَىُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّىَ الْعِشَاءَ الَّتِى يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِمَامًا وَخِلْوًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَعْتَمَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ - قَالَ - حَتَّى رَقَدَ نَاسٌ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ الصَّلاَةَ. فَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ قَالَ « لَوْلاَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِى لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ ». قَالَ فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِى عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ ثُمَّ صَبَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِى الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لاَ يُقَصِّرُ وَلاَ يَبْطِشُ بِشَىْءٍ إِلاَّ كَذَلِكَ. قُلْتُ لِعَطَاءٍ كَمْ ذُكِرَ لَكَ أَخَّرَهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- لَيْلَتَئِذٍ قَالَ لاَ أَدْرِى. قَالَ عَطَاءٌ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أُصَلِّيَهَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤَخَّرَةً كَمَا صَلاَّهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- لَيْلَتَئِذٍ فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ خِلْوًا أَوْ عَلَى النَّاسِ فِى الْجَمَاعَةِ وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ فَصَلِّهَا وَسَطًا لاَ مُعَجَّلَةً وَلاَ مُؤَخَّرَةً.

Ibn Juraij said: "I said to 'Ata': 'Which time do you like most to pray 'Isha' - which the people call Al-'Atamah - as an Imam or alone?' He said: 'I heard Ibn 'Abbas say: "The Prophet of Allah (s.a.w) prayed 'Isha' one night when it was very dark, when the people had fallen asleep and woken up, and fallen asleep again and woken up. Then 'Umar bin Al-Khattab stood up and said. 'The prayer."' 'Ata' said: 'Ibn 'Abbas said: "Then the Prophet of Allah (s.a.w) came out, and it is as if I can see him now, with his head dripping water, placing his hand on the side of his head and saying: 'Were it not that it would be too difficult for my Ummah, I would have commanded them to pray it like this (at this time)."' I asked 'Ata' how the Messenger of Allah (s.a.w) placed his hand on his head as Ibn 'Abbas had said. 'Ata' spread his fingers a little and placed the ends of his fingers on the side of his head, then he moved them like this until his thumb was touching the side of his ear that is next to the face, then over the edge of the ear and the end of his beard, but he did not hold on to anything, except like this. I said to 'Ata': "How long did he delay ('Isha') that night?" He said: "I do not know." Ata' said: "I like most to pray 'Isha' late, whether as an Imam or alone, as the Prophet (s.a.w) prayed it on that night. If that is too hard for you, whether you are praying alone or as an Imam leading the people in congregation, then pray it at the middle hour, neither too early nor too late."

حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کہا تمہارے نزدیک عشا کی نماز پڑھنے کے لئے کونسا وقت زیادہ بہتر ہے؟ وہ وقت کہ جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں، امام کے ساتھ پڑھے یا اکیلا؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی ﷺنے عشاء کی نماز میں دیر فرما دی یہاں تک کہ لوگ سو گئے پھر جاگے پھر سو گئے اور پھر جاگے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا، نماز! عطا کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی ﷺتشریف لائے گویا کہ میں اب بھی ان کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ ﷺکے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا آپ ﷺنے فرمایا کہ اگر میری امت پر کوئی دقت نہ ہوتی تو میں اسے اسی وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ نبی ﷺنے اپنے سر پر ہاتھ کیسے رکھا ہوا تھا جیسا کہ اسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا، عطاء نے اپنی انگلیاں کچھ کھولیں پھر اپنی انگلیوں کے کنارے اپنے سر پر رکھے پھر ان کو سر سے جھکایا اور پھیرا یہاں تک کہ آپ کا انگوٹھا کان کے اس کنارے کی طرف پہنچا جو کنارہ منہ کی طرف ہے پھر آپ ﷺکا انگوٹھا کنپٹی تک اور داڑھی کے کنارے تک ہاتھ نہ کسی کو پکڑتا تھا اورنہ ہی ہاتھ کسی چیز کو چھوتا تھا میں نے عطا سے کہا کہ کیا آپ کو اس کا بھی ذکر کیا کہ نبی ﷺنے رات کی نماز میں کتنی دیر فرمائی کہنے لگے کہ میں نہیں جانتا۔ عطاء کہنے لگے کہ میں اس چیز کو پسند کرتا ہوں چاہے امام کے ساتھ نماز پڑھوں یا اکیلا نماز پڑھوں دیر کر کے جس طرح کہ نبی ﷺنے اس رات دیر کرکے نماز پڑھائی۔ اگر تم پرگراں گزرے یا تم امام ہو اور لوگوں کو اتنی دیر گراں گزرے تو متوسط وقت میں نماز پڑھ لیا کرو نہ جلدی نہ دیر سے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُؤَخِّرُ صَلاَةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ.

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to delay 'Isha' prayer."

حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺعشاء کی نماز تاخیر سے پڑھا کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلاَتِكُمْ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلاَتِكُمْ شَيْئًا وَكَانَ يُخِفُّ الصَّلاَةَ. وَفِى رِوَايَةِ أَبِى كَامِلٍ يُخَفِّفُ.

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to offer the (other) prayers as you do, but he used to delay 'Isha' later than you do, and he used to make his prayers brief."

حضرت جابر بن سمرۃرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺتمہاری نمازوں (کے اوقات) کی طرح نماز پڑھا کرتے تھے اور عشاء کی نماز تمہاری نماز سے کچھ تاخیر کر کے پڑھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں تخفیف فرمایا کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِى لَبِيدٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ أَلاَ إِنَّهَا الْعِشَاءُ وَهُمْ يُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ ».

It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Do not let the Bedouins overpower you with regard to the name of your prayer. It is 'Isha', but they delay milking their camels until it is very dark."

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ تمہاری نمازوں کے نام پر دیہاتی غالب نہ آجائیں (کیونکہ دیہاتی عشاء کو عتمہ کہتے ہیں اور عتمہ اندھیرا چھا جانے کو کہتے ہیں)۔ سنو!یہ نماز عشاء ہے اور وہ اس وقت دیرکرکے اونٹوں کا دودھ دوہتے ہیں اس لیے عتمہ کہتے ہیں۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى لَبِيدٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمُ الْعِشَاءِ فَإِنَّهَا فِى كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ وَإِنَّهَا تُعْتِمُ بِحِلاَبِ الإِبِلِ ».

It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not let the Bedouins overpower you with regard to the name of your 'Isha' prayer, for it is 'Isha' in the Book of Allah, but they delay the milking of their camels until it is very dark."

حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ دیہاتی تمہاری عشاء کی نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں کیونکہ وہ اللہ کی کتاب میں عشاء ہے اور دیہاتی دیر سے اونٹوں کا دودھ دوہتے ہیں۔(اس لیے عتمہ کہتے ہیں)

‹ First23456