11. باب قَوْلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ "
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، أَخُو عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ ـ رضى الله عنهما ـ بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ، فَقَالَ مَا يُبْكِيكُمْ قَالُوا ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَّا. فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ـ قَالَ ـ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ عَصَبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ ـ قَالَ ـ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَصْعَدْهُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " أُوصِيكُمْ بِالأَنْصَارِ، فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَقَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ".
Narrated By Anas bin Malik : Abu Bakr and Al-'Abbas passed by one of the gatherings of the Ansar who were weeping then. He (i.e. Abu Bakr or Al-'Abbas) asked, "Why are you weeping?" They replied, "We are weeping because we remember the gathering of the Prophet with us." So Abu Bakr went to the Prophet and told him of that. The Prophet came out, tying his head with a piece of the hem of a sheet. He ascended the pulpit which he never ascended after that day. He glorified and praised Allah and then said, "I request you to take care of the Ansar as they are my near companions to whom I confided my private secrets. They have fulfilled their obligations and rights which were enjoined on them but there remains what is for them. So, accept the good of the good-doers amongst them and excuse the wrongdoers amongst them."
مجھ سے ابوعلی محمد بن یحٰی نے بیان کیا ، کہا ہم عبدان کے بھائی شاذان بیان کیا ،کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا،ہمیں شعبہ بن حجاج نے خبر دی،ان سے ہشام بن زید نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا،انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عباسؓ انصار کی مجلس سے گزرے۔دیکھاکہ تمام اہل مجلس رو رہے ہیں؟مجلس والوں نے کہا کہ ابھی ہم رسولﷺ کی مجلس کو یاد کر رہے تھے(یہ رسول اللہﷺ کے مرض وفات کا واقعہ ہے)اس کےبعد نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپؑ کو واقعہ کی اطلاع دی۔بیان کیا کہ اس پر نبیﷺ باہر تشریف لائے، سر مبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپؑ منبر پر تشریف لائےاور اس کے بعد پھرکبھی منبر پر آپؑ تشریف نہ لا سکے۔آپؑ نے اللہ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم وجان ہیں انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں لیکن اس کا بدلہ جو انہیں ملنا چاہئے تھا، وہ ملنا ابھی باقی ہے۔ اس لیے تم لوگ بھی ان کے نیک لوگوں کی نیکی کی قدر کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرتے رہنا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ، مُتَعَطِّفًا بِهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَتَقِلُّ الأَنْصَارُ، حَتَّى يَكُونُوا كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَضُرُّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعُهُ، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ "
Narrated By Ibn 'Abbas : Allah's Apostle (in his fatal illness) came out wrapped in a sheet covering his shoulders and his head was tied with an oily tape of cloth till he sat on the pulpit, and after praising and glorifying Allah, he said, "Then-after, O people! The people will go on increasing, but the Ansar will go on decreasing till they become just like salt in a meal. So whoever amongst you will be the ruler and have the power to harm or benefit others, should accept the good of the good-doers amongst them and excuse the wrong-doers amongst them."
ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا ،انہوں نے کہا ہم سے ابن غسیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے عکرمہ سے سنا،کہا کہ میں نے عبداللہ بن عباسؓ سے سنا ،انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺباہر تشریف لائے آپؑ اپنے دونوں شانوں پر چادر اوڑھے ہوئے تھے اور(سر مبارک پر)ایک سیاہ پٹی(بندھی ہوئی تھی)آپؑ منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالٰی کی حمدوثنا کے بعد فرمایا،امابعد اےلوگو!دوسروں کی تو بہت کثرت ہو جائے گی لیکن انصار کم ہو جائیں گے اور وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے۔پس تم میں سے جو شخص بھی کسی ایسے محکمہ میں حاکم ہو جس کے ذریعہ کسی کو نقصان و نفع پہنچا سکتا ہو تو اسے انصار کے نیکو کاروں کی پزیرائی کرنی چاہئے۔ اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنا چاہئیے۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَالنَّاسُ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ "
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "The Ansar are my near companions to whom I confided my private secrets, People will go on increasing but the Ansar will go on decreasing; so accept the good of the good-doers amongst them and excuse the wrong-doers amongst them."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا،کہا ہم سے غندر نے بیان کیا،کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا،کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا، انصار میرے جسم وجان ہیں۔ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے، لیکن انصار کم رہ جائیں گے۔اس لئے ان کے نیکو کاروں کی پزیرائی کرنا، اور ان کے خطاکاروں سے درگزرکیا کرنا۔
12. باب مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رضى الله عنه
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حُلَّةُ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ " أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ خَيْرٌ مِنْهَا ". أَوْ أَلْيَنُ. رَوَاهُ قَتَادَةُ وَالزُّهْرِيُّ سَمِعَا أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Al-Bara : A silken cloth was given as a present to the Prophet. His companions started touching it and admiring its softness. The Prophet said, "Are you admiring its softness? The handkerchiefs of Sad bin Muadh (in Paradise) are better and softer than it."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا،کہا مجھ سے شعبہ نے بیان کیا،ان سے ابو اسحاق نے کہا کہ میں نے براء بن عازبؓ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ کے پاس ہدیہ میں ایک ریشمی حلہ آیا تو صحابہ اسےچھونے لگے اوراس کی نرمی اور نزاکت پر تعجب کرنے لگے۔ آپؑ نے اس پر فرمایا تمہیں اس کی نرمی پر تعجب ہے سعد بن معاذؓ کے رومال (جنت میں)اس سے کہیں بہتر ہیں یا (آپؑ نے فرمایا کہ)اس سے کہیں زیادہ نرم و نازک ہیں۔ اس حدیث کی روایت قتادہ اور زہری نے بھی کی ہے، انہوں نے انسؓ سے سنا، انہوں نے نبی کریمﷺ سے روایت کیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا فَضْلُ بْنُ مُسَاوِرٍ، خَتَنُ أَبِي عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ". وَعَنِ الأَعْمَشِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ. فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ فَإِنَّ الْبَرَاءَ يَقُولُ اهْتَزَّ السَّرِيرُ. فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَيَّيْنِ ضَغَائِنُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ "
Narrated By Jabir : I heard the Prophet saying, "The Throne (of Allah) shook at the death of Sad bin Muadh." Through another group of narrators, Jabir added, "I heard the Prophet : saying, 'The Throne of the Beneficent shook because of the death of Sad bin Muadh."
مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا ،کہا ہم سے ابوعوانہ کے داماد فضل بن مسادر نے بیان کیا،کہا ہم اعمش نے، ان سے ابو سفیان نےاور ان سے جابرؓ نے بیان کیاکہ میں نے رسولﷺ سے سنا آپؑ نے فرمایا کہ سعد بن معاذؓ کی موت پر عرش ہل گیا اور اعمش سے روایت ہے ان سے ابو صالح نے بیان کیا اور ان سے جابرؓنے نبی کریمﷺ سےاسی طرح روایت کیا۔ایک صاحب نے جابرؓسے کہا کہ براءؓتو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ چارپائی جس پر معاذؓ کی نعش رکھی ہوئی تھی،ہل گئی تھی۔ حضرت جابرؓ نے کہا ان دونوں قبیلوں (اوسوخزرج) کے درمیان (زمانہ جاہلیت میں)دشمنی تھی۔میں نے خود نبی کریمﷺکو یہ فرماتے سنا ہے کہ سعد بن معاذؓ کی موت پر عرش رحمان ہل گیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ أُنَاسًا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا بَلَغَ قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قُومُوا إِلَى خَيْرِكُمْ أَوْ سَيِّدِكُمْ ". فَقَالَ " يَا سَعْدُ، إِنَّ هَؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ". قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ. قَالَ " حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ، أَوْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ "
Narrated By Abu Said Al-Khudri : Some people (i.e. the Jews of Bani bin Quraiza) agreed to accept the verdict of Sad bin Muadh so the Prophet sent for him (i.e. Sad bin Muadh). He came riding a donkey, and when he approached the Mosque, the Prophet said, "Get up for the best amongst you." or said, "Get up for your chief." Then the Prophet said, "O Sad! These people have agreed to accept your verdict." Sad said, "I judge that their warriors should be killed and their children and women should be taken as captives." The Prophet said, "You have given a judgment similar to Allah's Judgment (or the King's judgment)."
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا،ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سےحضرت ابو سید خدریؓ نے بیان کیا کہ ایک قوم(یہود بنی قریظہ)نے سعد بن معاذؓ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دئیے تو انہیں بلانے کے لئے آدمی بھیجا گیا اوروہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔جب اس جگہ کے قریب پنچے جسے (نبی کریمﷺ نے ایام جنگ میں)نماز پڑھنے کے لئے منتخب کیا ہوا تھاتو آپﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے سب سے بہتر شخص کے لئے یا (آپؑ نے یہ فرمایا)اپنے سردار کو لینے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔پھر آپؑ نے فرمایااے سعد!انہوں نے تم کو ثالث مان کر ہتھیارڈال دئے ہیں۔حضرت سعدؓ نے کہا پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جولوگ جنگ کرنے والے ہیں انہیں ختم کر دیا جائےاور ان کی عورتوں،بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا جائے۔نبیﷺنے فرمایاتم نے اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا یا(آپؑ نے یہ فرمایا)فرشتے کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
13. باب مَنْقَبَةُ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ رضى الله عنهما
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلَيْنِ، خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ، وَإِذَا نُورٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى تَفَرَّقَا، فَتَفَرَّقَ النُّورُ مَعَهُمَا. وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَرَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ. قَالَ حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Anas : Two men left the Prophet on a very dark night. Suddenly a light came in front of them, and when they separated, the light also separated along with them.
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ،کہا ہم سے حبان نے بیان نے کیا ،کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، انہیں قتادہ نے خبر دی اور انہیں حضرت انس ؓ نے کہ نبی کریمﷺکی مجلس سے اٹھ کر دو صحابی ایک تاریک رات میں (اپنے گھر کی طرف )جانے لگے تو ایک غیبی نور ان کے آگے آگے چل رہا تھا، پھر جب وہ جدا ہوئے تو انکے ساتھ ساتھ وہ نور بھی الگ الگ ہوگیا اور معمر نے ثابت سے بیان کیا اور ان سے حضرت انس ؓ نے کہ اسید بن حضیرؓ اور ایک دوسرے انصاری صحابی (کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی )اور حماد نے بیان کیا۔ انہیں ثابت نے خبر دی اور انہیں حضرت انس ؓ نے کہ اسید بن حضیرؓ اور عباد بن بشرؓ کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی۔یہ نبی کریمﷺ کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔
14. باب مَنَاقِبُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضى الله عنه
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَىٍّ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ "
Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : I heard the Prophet saying, "Learn the recitation of Qur'an from four persons: Ibn Mas'ud, Salim, the freed slave of Abu Hudhaifa, Ubai and Muadh bin Jabal."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ،انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا،ان سے عمرو نے،ان سے ابراہیم نے،ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریمﷺ سے سنا آپؑ نے فرمایا قرآن چار (حضرات صحابہ) عبداللہ بن مسعود، ابو حزیفہ کے غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبلؓ سے سیکھو۔
15. باب مَنْقَبَةُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رضى الله عنه
وَقَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلاً صَالِحًا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ". فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ـ وَكَانَ ذَا قِدَمٍ فِي الإِسْلاَمِ ـ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا. فَقِيلَ لَهُ قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى نَاسٍ كَثِيرٍ
Narrated By Abu Usaid : Allah's Apostle said, "The best of the Ansar's houses are those of Bani An-Najjar, then those of Bani 'Abdul Ash-hal, then those of Bani Al-Harith bin Al-Khazraj, then those of Bani Saida; but there is goodness in all the houses of the Ansar." Sad bin Ubada who was one of those who embraced Islam early, said, "I see that Allah's Apostle is giving others superiority above us." Some people said to him, "But he has given you superiority above many other people."
ہم سے اسحاق نے بیان کیا،انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا،انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا کہ حضرت ابو اسیدؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا، انصار کا بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے۔پھر بنو عبدالاشہل کا،پھر بنو عبدالحارث کا، پھر بنو ساعدہ کا اور خیر انصار کے تمام گھرانوں میں ہے،۔حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا اور وہ اسلام قبول کرنے میں بڑی قدامت رکھتے تھے کہ میرا خیال ہے، نبیﷺ نے ہم پر دوسروں کو فضیلت دے دی ہے۔ ان سے کہا گیا کہ نبیﷺ نے تم کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔(اعتراض کی کیا بات ہے)
16. باب مَنَاقِبُ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ رضى الله عنه
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ ذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ ذَاكَ رَجُلٌ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ فَبَدَأَ بِهِ ـ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ "
Narrated By Masruq : 'Abdullah bin Masud was mentioned before Abdullah bin 'Amr who said, "That is a man I still love, as I heard the Prophet saying 'Learn the recitation of Qur'an from four from 'Abdullah bin Mas'ud... he started with him... Salim, the freed slave of Abu Hudaifa, Mu'adh bin Jabal and Ubai bin Ka'b."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا،کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے عمرو بن مرہ نے ،ان سے ابراہیم نے ،ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرؓ کی مجلس میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں بہت بیٹھ گئی جب سے میں نے رسول کریمﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو۔عبداللہ بن مسعودؓ سےنبیﷺ نے انہیں کے نام سے ابتدا کی، اور ابو حزیفہؓ کے غلام سالم سے، معاذ بن جبلؓ سے اور ابی بن کعبؓ سے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأُبَىٍّ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} ". قَالَ وَسَمَّانِي قَالَ " نَعَمْ " فَبَكَى
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said to Ubai, "Allah has ordered me to recite to you: 'Those who disbelieve (Surat-al-Bayina 98).' " Ubai said, "Has He mentioned my name?" The Prophet said, "Yes." On hearing this, Ubai started weeping.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبہ سے سنا،انہوں نے قتادہ سے سنا اور ان سے حضرت انس بن مالک ؓنے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا،اللہ تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو سورہ"لم یکن الذین کفروا"سناؤں حضرت ابی بن کعب ؓبولے کیا اللہ تعالٰی نے میرا نام لیا ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا کہ ہاں، اس پر حضرت ابی بن کعب ؓ فرط مسرت سے رونے لگے۔
17. باب مَنَاقِبُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضى الله عنه
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةٌ، كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَىٌّ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو زَيْدٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ. قُلْتُ لأَنَسِ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي
Narrated By Qatada : Anas said, "The Qur'an was collected in the lifetime of the Prophet by four (men), all of whom were from the Ansar: Ubai, Muadh bin Jabal, Abu Zaid and Zaid bin Thabit." I asked Anas, "Who is Abu Zaid?" He said, "One of my uncles."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا،کہا ہم سے یحٰییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالکؓ نے کہ نبی کریمﷺ کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا قرآن مجید جمع کرنے والے تھے، ابی بن کعب، معاذ بن جبل،ابو زید اور زید بن ثابتؓ،میں نے پوچھا،ابو زید کون ہیں؟انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں۔
18. باب مَنَاقِبُ أَبِي طَلْحَةَ رضى الله عنه
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُجَوِّبٌ بِهِ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلاً رَامِيًا شَدِيدَ الْقِدِّ، يَكْسِرُ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ فَيَقُولُ انْشُرْهَا لأَبِي طَلْحَةَ. فَأَشْرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لاَ تُشْرِفْ يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ. وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ، أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا، تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلآنِهَا، ثُمَّ تَجِيآنِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَىْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ، وَإِمَّا ثَلاَثًا
Narrated By Anas : On the day of the battle of Uhud, the people ran away, leaving the Prophet , but Abu- Talha was shielding the Prophet with his shield in front of him. Abu Talha was a strong, experienced archer who used to keep his arrow bow strong and well stretched. On that day he broke two or three arrow bows. If any man passed by carrying a quiver full of arrows, the Prophet would say to him, "Empty it in front of Abu Talha." When the Prophet stated looking at the enemy by raising his head, Abu Talha said, "O Allah's Prophet! Let my parents be sacrificed for your sake! Please don't raise your head and make it visible, lest an arrow of the enemy should hit you. Let my neck and chest be wounded instead of yours." (On that day) I saw 'Aisha, the daughter of Abu Bakr and Um Sulaim both lifting their dresses up so that I was able to see the ornaments of their legs, and they were carrying the water skins of their arms to pour the water into the mouths of the thirsty people and then go back and fill them and come to pour the water into the mouths of the people again. (On that day) Abu Talha's sword fell from his hand twice or thrice.
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ،کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انسؓ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقعہ پر جب صحابہ نبی کریمﷺ کے قریب سے ادھر ُادھر چلنے لگے تو ابوطلحہؓ اس وقت اپنی ڈھال سے نبیﷺ کی حفاظت کر رہے تھے حضرت ابو طلحہ بڑے تیر انداز تھے اور خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے ۔چنانچہ اس دن دو یا تین کمانیں انہوں نے تور دی تھیں۔اس وقت اگر کوئی مسلمان ترکش لئے ہوئے گزرتا تو نبیﷺ فرماتے کہ اس کے تیر ابو طلحہ کو دے دو۔ نبیﷺحالات معلوم کرنے کے یئے اچک کر دیکھنے لگتے تو ابو طلحہؓ عرض کرتے یا نبی اللہ!آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔اچک کر ملاحظہ نہ فرمائیں،کہیں کوئی تیر آپؑ کو نہ لگ جائے۔میرا سینہ آپؑ کا ڈھال بنا رہا اور میں نے عائشہ بنت ابی بکرؓاور ام سلیم(ابو طلحہ کی بیوی)کو دیکھا کہ اپنا ُازار اٹھائے ہوئے(غازیوں کی مدد میں)بڑی تیزی کے ساتھ مشغول تھیں(اس خدمت میں ان کو انہماک و استغراق کی وجہ سے کپڑو ں تک کا ہوش نہ تھا یہاں تک کہ) میں ان کی پنڈلیوں کے زیور دیکھ سکتا تھا انتہائی جلدی کے ساتھ مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لئے جاتی تھیںاور مسلمانوں کو پلا کر واپس آتی تھیں اور پھر انہیں بھر کر لے جاتیں اوران کا پانی مسلمانوں کو پلاتیں اور ابو طلحہ کے ہاتھ سے اس دن دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ چھوٹ کر گر پڑی تھی۔
19. باب مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ رضى الله عنه
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. إِلاَّ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ قَالَ وَفِيهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ} الآيَةَ. قَالَ لاَ أَدْرِي قَالَ مَالِكٌ الآيَةَ أَوْ فِي الْحَدِيثِ.
Narrated By Sad bin Abi Waqqas : I have never heard the Prophet saying about anybody walking on the earth that he is from the people of Paradise except 'Abdullah bin Salam. The following Verse was revealed concerning him: "And a witness from the children of Israel testifies that this Qur'an is true" (46.10)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا،انہوں نے کہا کہ میں نےامام بن مالک سے سنا ،وہ عمر بن عبیداللہ کے مولٰی ابو نضر سے بیان کرتھے تھے، وہ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور ان سے ان کے والد(حضرت سعد بن ابی وقاصؓ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریمﷺ سے عبداللہ بن سلامؓ کے سوا اور کسی کے متعلق نہیں سنا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں ،بیان کیا کہ آیت(وشھد شاھد من بنی اسرآئیل)(الاحقاف:۱۰)انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی(راوی حدیث عبداللہ بن یوسف نے) بیان کیا کہ آیت کے نزول کے متعلق مالک کا قول ہے یا حدیث میں اسی طرح تھا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى وَجْهِهِ أَثَرُ الْخُشُوعِ، فَقَالُوا هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزَ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ، وَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّكَ حِينَ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ قَالُوا هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. قَالَ وَاللَّهِ مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لاَ يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، وَرَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ ـ ذَكَرَ مِنْ سَعَتِهَا وَخُضْرَتِهَا ـ وَسْطَهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ، أَسْفَلُهُ فِي الأَرْضِ وَأَعْلاَهُ فِي السَّمَاءِ، فِي أَعْلاَهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لَهُ ارْقَهْ. قُلْتُ لاَ أَسْتَطِيعُ. فَأَتَانِي مِنْصَفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي، فَرَقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلاَهَا، فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقِيلَ لَهُ اسْتَمْسِكْ. فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تِلْكَ الرَّوْضَةُ الإِسْلاَمُ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الإِسْلاَمِ، وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى، فَأَنْتَ عَلَى الإِسْلاَمِ حَتَّى تَمُوتَ ". وَذَاكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ.وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ، عَنِ ابْنِ سَلاَمٍ، قَالَ وَصِيفٌ مَكَانَ مِنْصَفٌ.
Narrated By Qais bin Ubad : While I was sitting in the Mosque of Medina, there entered a man (Abdullah bin Salam) with signs of solemnity over his face. The people said, "He is one of the people of Paradise." He prayed two light Rakat and then left. I followed him and said, "When you entered the Mosque, the people said, 'He is one of the people of Paradise.' " He said, "By Allah, one ought not say what he does not know; and I will tell you why. In the lifetime of the Prophet I had a dream which I narrated to him. I saw as if I were in a garden." He then described its extension and greenery. He added: In its centre there was an iron pillar whose lower end was fixed in the earth and the upper end was in the sky, and at its upper end there was a (ring-shaped) hand-hold. I was told to climb it. I said, "I can't." "Then a servant came to me and lifted my clothes from behind and I climbed till I reached the top (of the pillar). Then I got hold of the hand-hold, and I was told to hold it tightly, then I woke up and (the effect of) the hand-hold was in my hand. I narrated al I that to the Prophet who said, 'The garden is Islam, and the hand-hold is the Most Truth-worthy Hand-Hold. So you will remain as a Muslim till you die." The narrator added: "The man was 'Abdullah bin Salam."
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا کہاہم سےازھر سمان نے انہوں نے عبداللہ بن عون سے انھوں نے محمد بن سیرین سے انھوں نے قیس بن عباد سے انھوں نے کہا میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا تھا اتنے میں ایک شخص آ ئے (عبد اللہ بن سلام )ان کے چہرے سے خدا پرستی نما یاں تھی لو گوں نے کہا یہ بہشت والوں میں سے ہے انہوں نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں پھر مسجد سے نکل گئےمیں بھی انکےپیچھے چلا ان سے پوچھا جب تم مسجد میں آئے تھے تو لوگ کہنے لگے یہ بہشت والوں میں سے ہے انہوں نے کہا خدا کی قسم کسی آدمی کو وہ بات نہ کہناچاہے جو اس کو نہ معلوم ہو اور میں تجھ سےبیان کرتا ہوں کہ لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں (میں بہشتی ہوں ) ہوا یہ کہ میں نے نبیﷺکے زمانے میں ایک خواب دیکھا جو آپ سے بیان کیا وہ خواب یہ تھا جیسے میں ایک باغ میں ھوں اس کی کشادگی اور سرسبزی کی تعریف کی اس کے بیچا بیچ ایک لوہے کا ستون ہے جس کا پایہ زمین میں اور سر اًسمان میں اوپر کی طرف ایک کنڈا لگا ہے خواب میں مجھ سےکہا گیا اس پر چڑھ جا میں نےکہا مجھ سے نہیں ہو سکتا پھر ایک خدمت گار آیا اس نے کیا کیا پیچھے کی طرف سے میرے کپڑے اٹھا دیے آخر میں چڑھ گیا اور اس کی چوٹی پر پہنچ کر وہ کنڈا میں نے تھام لیا مجھ سے کہا گیا اس کو مظبوط تھامے رہ تو جب تک میں نیند سے اٹھا یہ کنڈا تھامے رہا میں یہ خواب نبیﷺ سے بیان کیا اًپ نے یوں تعبیر دی کہ باغ سے دین اسلام مراد ہے اور ستون سے اسلام کا ستون (یعنی کلمہ شہادت یا اسلام کے پانچوں ارکان)اور وہ کنڈا عروۃ الوثقیٰ ہے اور تو مرنے تک اسلام پر قائم رہے گا اور یہ شخص عبد اللہ بن سلام تھے امام بخاری نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا کہا ہم سے معاذ عنبری نے کہا ہم سے عبد اللہ بن عون نے انہوں نے محمد سے کہا ہم سے قیس بن عباد نے انہوں نے عبد اللہ بن سلام سے پھر یہی حدیث نقل کی اس میں بجائے مصنف کے وصیف ہے یعنی چھوکرا یا چھوکری
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَلاَ تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا، وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ، إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ، أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ، فَلاَ تَأْخُذْهُ، فَإِنَّهُ رِبًا. وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ الْبَيْتَ
Narrated By Abu Burda : When I came to Medina. I met Abdullah bin Salam. He said, "Will you come to me so that I may serve you with Sawiq (i.e. powdered barley) and dates, and let you enter a (blessed) house that in which the Prophet entered?" Then he added, "You are In a country where the practice of Riba (i.e. usury) is prevalent; so if somebody owe you something and he sends you a present of a load of chopped straw or a load of barley or a load of provender then do not take it, as it is Riba."
ہم سے سلیمان بن حزب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے سعید بن ابی بردہ سے انہوں نے اپنے والد (عامر بن ابی موسیٰ) سے انہوں نے کہا میں مدینہ میں آیا اور عبداللہ بن سلام سے ملا انہوں نے کہا میرے ساتھ چلو تم کو ستو اور کھجور کھلاؤں اور ایسے گھر میں لے چلوں (جہاں نبی گئےتھے ) تم ایسے ملک (عراق) میں رہتے ہو جہاں سود (بیاج) علانیہ کھاتے ہیں (خیال رکھو ) جب کسی پر تمھارا قرض ہو پھر وہ تم کو گھاس کا یا جو کا یا چارے کا ایک گٹھہ تحفہ کے طور بھیجے تو بھی مت لو وہ بیاج میں داخل ہے اور نضر بن شمیل اور ابو داود طیالسی اور وہب بن جریر نے شعبہ سے اس حدیث میں گھر کا ذکر نہیں کیا ۔
20. باب تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَدِيجَةَ، وَفَضْلُهَا ـ رضى الله عنها
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ.
وَحَدَّثَنِي صَدَقَةُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنهم ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ "
Narrated By 'Ali : The Prophet said, "The best of the world's women is Mary (at her lifetime), and the best of the world's women is Khadija (at her lifetime)."
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت علی سے سنا وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ۔
دوسری سند۔امام بخاری نے کہا مجھ سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا انہوں نے حضرت علیؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا ( اپنے اپنے زمانہ میں ) ساری دنیا کی عورتوں میں مریم افضل تھیں اسی طرح خدیجہؓ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَأَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيُهْدِي فِي خَلاَئِلِهَا مِنْهَا مَا يَسَعُهُنَّ
Narrated By 'Aisha : I did not feel jealous of any of the wives of the Prophet as much as I did of Khadija (although) she died before he married me, for I often heard him mentioning her, and Allah had told him to give her the good tidings that she would have a palace of Qasab (i.e. pipes of precious stones and pearls in Paradise), and whenever he slaughtered a sheep, he would send her women-friends a good share of it.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے کہا ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے یہ حدیث نقل کر کے مجھ کو لکھ کر بھیجی حضرت عائشہؓ نے کہا نبیﷺ کی کسی بی بی پر مجھے اتنی رشک نہیں آئی جتنی خدیجہؓ پر آئی حالانکہ وہ میرے نکاح سے پہلے مر چکی تھیں رشک کی وجہ یہ تھی کہ میں اکثر آپؐ کو ان کا ذکر کرتے سنتی اور اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ خدیجہؓ کو ( بہشت میں )ایک موتی کے محل کی خوشخبری دیں اور آپؐ بکری کاٹتے اور ان کی دوست عورتوں کو اتنا گوشت بھیجتے جو ان کو بس ہو جاتا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، مِنْ كَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاهَا. قَالَتْ وَتَزَوَّجَنِي بَعْدَهَا بِثَلاَثِ سِنِينَ، وَأَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ
Narrated By 'Aisha : I did not feel jealous of any woman as much as I did of Khadija because Allah's Apostle used to mention her very often. He married me after three years of her death, and his Lord (or Gabriel) ordered him to give her the good news of having a palace of Qasab in Paradise.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا مجھ کو آپﷺ کی کسی بی بی پر اتنی رشک نہیں ہوئی جتنی خدیجہؓ پر ہوئی کیونکہ رسول اللہﷺ ان کا بہت ذکر کیا کرتے تھے حضرت عائشہؓ کہتی تھیں خدیجہؓ کے مرنے کے تین برس بعد رسول اللہﷺ نے مجھ سے نکاح کیا اور اللہ نے یا جبریلؑ نے آپ کو یہ حکم دیا کہ خدیجہؓ کو بہشت میں ایک موتی کے محل کی خوشخبری دی۔
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَسَنٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَمَا رَأَيْتُهَا، وَلَكِنْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ ذِكْرَهَا، وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ، ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً، ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ، فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلاَّ خَدِيجَةُ. فَيَقُولُ إِنَّهَا كَانَتْ وَكَانَتْ، وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ
Narrated By 'Aisha : I did not feel jealous of any of the wives of the Prophet as much as I did of Khadija though I did not see her, but the Prophet used to mention her very often, and when ever he slaughtered a sheep, he would cut its parts and send them to the women friends of Khadija. When I sometimes said to him, "(You treat Khadija in such a way) as if there is no woman on earth except Khadija," he would say, "Khadija was such-and-such, and from her I had children."
مجھ سے عمر بن محمد بن حسن نے بیان کیا کہا ہم سے والد نے کہا ہم سے حفص بن غیاث نے انہوں نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا میں نےنبیﷺ کی کسی بی بی پر اتنی رشک نہیں کی جتنی خدیجہؓ پر کی حالانکہ میں نے ان کو دیکھا تک نہیں مگر وجہ یہ تھی کہ نبیﷺ ان کا ذکر بہت کیا کرتے تھے اور کبھی بکری کاٹتے اس کے پارچے بنا کر خدیجہؓ کی دوست عورتوں کو بھیج دیتے میں کبھی آپ سے یوں کہتی شاید خدیجہؓ کے سوا اور دنیا میں کوئی عورت تھوڑے تھی تو آپ فرماتے خدیجہؓ میں یہ یہ صفتیں تھیں اور میری اولاد انھی کے پیٹ سے ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ بَشَّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَدِيجَةَ قَالَ نَعَمْ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ
Narrated By Ismail : I asked 'Abdullah bin Abi Aufa, "Did the Prophet give glad tidings to Khadija?" He said, "Yes, of a palace of Qasab (in Paradise) where there will be neither any noise nor any fatigue."
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی
( صحابیؓ )سے پوچھا کیا نبیﷺ نے خدیجہؓ کو خوشخبری دی انہوں نے کہا ہاں نبیﷺ نے ان کو بہشت میں ایک ایسے موتی محل کی بشارت دی جس میں نہ شور ہو گا نہ غم۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ
Narrated By Abu Huraira : Gabriel came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! This is Khadija coming to you with a dish having meat soup (or some food or drink). When she reaches you, greet her on behalf of her Lord (i.e. Allah) and on my behalf, and give her the glad tidings of having a Qasab palace in Paradise wherein there will be neither any noise nor any fatigue (trouble)."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن فضیل نے انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے انہوں نے زرعہ سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے انہوں نے کہا جبرئیل نبیﷺ کے پاس آئے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ خدیجہؓ آپ کے پاس سالن کا یا کھانے کا ایک برتن لا رہی ہیں جب وہ لے کر آئیں تو پروردگار کی طرف سے اور میری طرف سے ان کو سلام کہو اور ان کو بہشت میں ایک گھر کی خوشخبری دوجو خولدار موتی کا ہو گا نہ اس میں غل اور شور ہو گا نہ کوئی رنج ۔
وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاعَ لِذَلِكَ، فَقَالَ " اللَّهُمَّ هَالَةَ ". قَالَتْ فَغِرْتُ فَقُلْتُ مَا تَذْكُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ، هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ، قَدْ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا
Narrated 'Aisha: Once Hala bint Khuwailid, Khadija's sister, asked the permission of the Prophet to enter. On that, the Prophet remembered the way Khadija used to ask permission, and that upset him. He said, "O Allah! Hala!" So I became jealous and said, "What makes you remember an old woman amongst the old women of Quraish an old woman (with a teeth-less mouth) of red gums who died long ago, and in whose place Allah has given you somebody better than her?"
اور اسمٰعیل بن خلیل نے کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی انہوں نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا ہالہ بنت خویلد نے جو حضرت خدیجہؓ کی بہن تھیں رسول اللہﷺ سے ( اندر آنے کی ) اجازت مانگی ۔ آپؐ کو خدیجہؓ کا اجازت مانگنا یاد آیا ۔ اور گھبرا کر فرمانے لگے یا اللہ کیا یہ ہالہ ہیں ۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں مجھے رشک آئی میں نے کہا کیا آپ ایک قریش کی بڈھی کو یاد کرتے ہیں جس کے ( دانت گر کر صرف) سرخ سرخ مسوڑھے رہ گئے تھے ( نہ منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت) اللہ نے اس کے بدل آپ کو اس سے اچھی عورت ( جوان اور کنواری) عنایت فرمائی۔