- احادیثِ نبوی ﷺ

 

12345Last ›

21. باب ذِكْرُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رضى الله عنه

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلاَ رَآنِي إِلاَّ ضَحِكَ‏

Narrated By Jarir bin 'Abdullah : Allah's Apostle has never refused to admit me since I embraced Islam, and whenever he saw me, he would smile.

ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے انہوں نے بیان بن بشیر سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے کہا جریرکہتے تھے جب سے میں مسلمان ہوا (رسول اللہﷺ نے مجھے کبھی( گھر میں آنے سے)نہیں روکا اور جب آپ نے مجھ کو دیکھا تو ہنستے ہوئے (خندہ پیشانی سے ) ۔


وَعَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ يُقَالَ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ، أَوِ الْكَعْبَةُ الشَّأْمِيَّةُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ ـ قَالَ ـ فَكَسَرْنَا، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ، فَأَتَيْنَاهُ، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَدَعَا لَنَا وَلأَحْمَسَ‏

Jarir bin 'Abdullah narrated: There was a house called Dhul-Khalasa in the Pre-Islamic Period and it was also called Al-Ka'ba Al-Yamaniya or Al-Ka'ba Ash-Shamiya. Allah's Apostle said to me, "Will you relieve me from Dhul-Khalasa?" So I left for it with 150 cavalrymen from the tribe of Ahmas and then we destroyed it and killed whoever we found there. Then we came to the Prophet and informed him about it. He invoked good upon us and upon the tribe of Ahmas.

اور قیس نے جریر سے یہ بھی روایت کی کہ جاہلیت کے زمانہ میں ( یمن میں ) ایک گھر تھا ذوالخلصہ اس کو لوگ یمنی کعبہ یا شامی کعبہ بھی کہا کرتے تھے ایک بار رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا جریر تو اس ذی الخلصہ سے ( اس کو توڑ پھوڑ جلا کر ) مجھ کو بے فکر کر سکتا ہے ؟ جریر نے کہا میں یہ سن کر ڈیڑھ سو سوار ( اپنے قبیلے) حمس کے لے کر ذی الخلصہ پر گیا اس کو توڑ پھوڑ ڈالا اور جو وہاں ملا اس کو قتل کیا لوٹ کر جب آیا تو آپ کو خبر کی آپ نے مجھ کو اور احمس کے قبیلے والوں کو دُعا دی ۔

22. باب ذِكْرُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ الْعَبْسِيِّ رضى الله عنه

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ هَزِيمَةً بَيِّنَةً، فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَىْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ، فَاجْتَلَدَتْ أُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ فَنَادَى أَىْ عِبَادَ اللَّهِ، أَبِي أَبِي‏.‏ فَقَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ‏.‏ قَالَ أَبِي فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ‏.

Narrated By 'Aisha : On the day of the battle of Uhud the pagans were defeated completely. Then Satan shouted loudly, "O Allah's slaves! Beware the ones behind you!" So the front files attacked the back ones. Then Hudhaifa looked and saw his father, and said loudly, "O Allah's slaves! My father! My father!" By Allah, they did not stop till they killed him (i.e. Hudaifa's father). Hudhaifa said, "May Allah forgive you!" The sub-narrator said, "By Allah, because of what Hudhaifa said, he remained in a good state till he met Allah (i.e. died)."

مجھ سے اسمٰعیل بن خلیل نے بیان کیا کہا ہم کو سلمہ بن رجاء نے خبر دی انہوں نے ہشام بن عروہ سے روایت کی انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا جب احد کا دن ہوا اور(پہلے پہل ) کافروں کو صاف شکست ہوئی تو ابلیس ملعون نے ( دھوکا دینے کے لیے) یوں پکارا خدا کے بندو اپنے پیچھے والوں کی خبر لو یہ سن کر ( آگے کے) مسلمان پچھلے مسلمانوں پر ہی ٹوٹ پڑے اور انھی سے ( آپس ہی میں ) لڑنے لگے ۔ حذیفہ نے جو نگاہ ڈالی تو اپنے باپ کو دیکھا پکارا خدا کے بندو یہ ( کیا غضب ہے ) میرے والد ہیں میرے والد ہیں حضرت عائشہؓ کہتی ہیں مسلمانوں نے ایک نہ سنی اس کو مار ہی ڈالا حذیفہ نے یوں کہا اللہ تم کو بخشے عروہ نے کہا خدا کی قسم حذیفہ میں اس کلمہ کی بدولت جب تک خدا سے ملے کچھ بھلائی ہی رہی ۔

23. باب ذِكْرُ هِنْدٍ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ رضى الله عنها

وَقَالَ عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ‏.‏ قَالَ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَىَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا قَالَ ‏"‏ لاَ أُرَاهُ إِلاَّ بِالْمَعْرُوفِ ‏"

Narrated By Aisha (R.A.): Hind bint Utba came and said,"O Allah's Messenger (Before I embraced Islam) there was no family on the surface of the earth I wished to see in degradation more tha I did your family, but today there is no family on the surface of earth I wish to see honoured more than I did yours." The Prophet(s.a.w.) said, " I thought similarly, by Him in Whose Hand my soul is!" She further said," O Allah's Messenger ! Abu Sufyan is a miser, so, is it sinful of me to feed my children from his property?" He said, "I do not allow it unless you take for your needs what is just and reasonable."

عبدان نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو یونس نے انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا حضرت عائشہؓ نے کہا ہندہ بن عتبہ کی بیٹی رسول اللہﷺ کے پاس آئی کہنے لگی یا رسول اللہ ساری دنیا میں کسی ڈیرے( یعنی قوم) والوں کا ذلیل و خوار ہونا مجھ کو اتنا پسند نہ تھا جتنا آپ کے ڈیرے والوں کا ( آپ کے تابعداروں کا ) ذلیل ہونا اب آج کے دن ( الٹا ہو گیا ) ساری زمین کے لوگوں میں کسی ڈیرے والوں کا عزت دار ہونا مجھ کو اتنا پسند نہیں ہے جتنا آپ کے ڈیرے والوں کا عزت دار ہونا ہندہ نے یہ بھی عرض کیا یا رسول اللہ ابو سفیان ایک بہت ہی لالچی بخیل آدمی ہے اگر میں اس کا پیسہ لے کر اپنے بال بچوں کا خرچ چلاؤں تو مجھ پر کوئی گناہ تو نہ ہو گا آپ نے فرمایا دستور کے موافق لے لے تو میں سمجھتا ہوں گناہ نہ ہو گا ( زیادہ مت لے ) ۔

24. باب حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ، قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْوَحْىُ فَقُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سُفْرَةٌ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ زَيْدٌ إِنِّي لَسْتُ آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ، وَلاَ آكُلُ إِلاَّ مَا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ‏.‏ وَأَنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرٍو كَانَ يَعِيبُ عَلَى قُرَيْشٍ ذَبَائِحَهُمْ، وَيَقُولُ الشَّاةُ خَلَقَهَا اللَّهُ، وَأَنْزَلَ لَهَا مِنَ السَّمَاءِ الْمَاءَ، وَأَنْبَتَ لَهَا مِنَ الأَرْضِ، ثُمَّ تَذْبَحُونَهَا عَلَى غَيْرِ اسْمِ اللَّهِ إِنْكَارًا لِذَلِكَ وَإِعْظَامًا لَهُ‏.

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : The Prophet met Zaid bin 'Amr bin Nufail in the bottom of (the valley of) Baldah before any Divine Inspiration came to the Prophet. A meal was presented to the Prophet but he refused to eat from it. (Then it was presented to Zaid) who said, "I do not eat anything which you slaughter in the name of your stone idols. I eat none but those things on which Allah's Name has been mentioned at the time of slaughtering." Zaid bin 'Amr used to criticize the way Quraish used to slaughter their animals, and used to say, "Allah has created the sheep and He has sent the water for it from the sky, and He has grown the grass for it from the earth; yet you slaughter it in other than the Name of Allah. He used to say so, for he rejected that practice and considered it as something abominable.

مجھ سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے کہا ہم سے موسٰی بن عقبہ نے کہا ہم سے سالم بن عبداللہ بن عمرؓ نے انہوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمرؓ) سے کہ نبیﷺ زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح میں ملے ابھی آپ پر وحی اترنا شروع نہیں ہوا تھا آپ کے سامنے کھانے کا دسترخوان چنا گیا ۔ زید نے وہ کھانا کھانے سے انکار کیا ۔ پھر کہنے لگا میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاو٘ں گا جن کو تم تھانوں پر کاٹتے ہو میں اسی جانور کا گوشت کھاو٘ں گا جو اللہ کے نام پر کاٹا جائے اور زیدقریش کے لوگوں پر اپنے جانوروں کے کاٹنے کا عیب دھرتا تھا کہتا تھا ( عجیب بات ہے) بکری کو تو اللہ نے پیدا کیا آسمان سے پانی بھی اسی نے برسایا ( جس کو بکری پیتی ہے) چارہ بھی زمین سے اسی نے اگایا( جس کو بکری کھاتی ہے) پھر تم لوگ اس کو اوروں کے نام پر کاٹتے ہو ان مشرکوں کے کام پر انکار کرتا تھا اور اس کو بڑا گناہ خیال کرتا تھا ۔


قَالَ مُوسَى حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ تُحُدِّثَ بِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ، يَسْأَلُ عَنِ الدِّينِ وَيَتْبَعُهُ فَلَقِيَ عَالِمًا مِنَ الْيَهُودِ، فَسَأَلَهُ عَنْ دِينِهِمْ، فَقَالَ إِنِّي لَعَلِّي أَنْ أَدِينَ دِينَكُمْ، فَأَخْبِرْنِي‏.‏ فَقَالَ لاَ تَكُونُ عَلَى دِينِنَا حَتَّى تَأْخُذَ بِنَصِيبِكَ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ مَا أَفِرُّ إِلاَّ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ، وَلاَ أَحْمِلُ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ شَيْئًا أَبَدًا، وَأَنَّى أَسْتَطِيعُهُ فَهَلْ تَدُلُّنِي عَلَى غَيْرِهِ قَالَ مَا أَعْلَمُهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَنِيفًا‏.‏ قَالَ زَيْدٌ وَمَا الْحَنِيفُ قَالَ دِينُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَكُنْ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلاَ يَعْبُدُ إِلاَّ اللَّهَ‏.‏ فَخَرَجَ زَيْدٌ فَلَقِيَ عَالِمًا مِنَ النَّصَارَى، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَقَالَ لَنْ تَكُونَ عَلَى دِينِنَا حَتَّى تَأْخُذَ بِنَصِيبِكَ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ‏.‏ قَالَ مَا أَفِرُّ إِلاَّ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ، وَلاَ أَحْمِلُ مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ وَلاَ مِنْ غَضَبِهِ شَيْئًا أَبَدًا، وَأَنَّى أَسْتَطِيعُ فَهَلْ تَدُلُّنِي عَلَى غَيْرِهِ قَالَ مَا أَعْلَمُهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَنِيفًا‏.‏ قَالَ وَمَا الْحَنِيفُ قَالَ دِينُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَكُنْ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلاَ يَعْبُدُ إِلاَّ اللَّهَ‏.‏ فَلَمَّا رَأَى زَيْدٌ قَوْلَهُمْ فِي إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ خَرَجَ، فَلَمَّا بَرَزَ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ‏.

Narrated Ibn 'Umar: Zaid bin 'Amr bin Nufail went to Sham, inquiring about a true religion to follow. He met a Jewish religious scholar and asked him about their religion. He said, "I intend to embrace your religion, so tell me some thing about it." The Jew said, "You will not embrace our religion unless you receive your share of Allah's Anger." Zaid said, "'I do not run except from Allah's Anger, and I will never bear a bit of it if I have the power to avoid it. Can you tell me of some other religion?" He said, "I do not know any other religion except the Hanif." Zaid enquired, "What is Hanif?" He said, "Hanif is the religion of (the prophet) Abraham who was neither a Jew nor a Christian, and he used to worship None but Allah (Alone)" Then Zaid went out and met a Christian religious scholar and told him the same as before. The Christian said, "You will not embrace our religion unless you get a share of Allah's Curse." Zaid replied, "I do not run except from Allah's Curse, and I will never bear any of Allah's Curse and His Anger if I have the power to avoid them. Will you tell me of some other religion?" He replied, "I do not know any other religion except Hanif." Zaid enquired, "What is Hanif?" He replied, Hanif is the religion of (the prophet) Abraham who was neither a Jew nor a Christian and he used to worship None but Allah (Alone)" When Zaid heard their Statement about (the religion of) Abraham, he left that place, and when he came out, he raised both his hands and said, "O Allah! I make You my Witness that I am on the religion of Abraham."

موسٰی بن عقبہ نے کہا مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا میں سمجھتا ہوں انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے نقل کیا کہ زید بن عمرو بن نفیل دین حق کی تلاش میں مکہ سے شام کے ملک کو گئے وہاں یہود کے ایک عالم سے ملے ( نام نا معلوم) اس سے کہنے لگے مجھے اپنا دین بتلا شاید میں تیرا دین اختیار کر لوں ۔ اس نے کہا اگر تو ہمارا دین اختیار کر لے گا تو اللہ کے غضب میں سے اپنا حصہ لے گا ( یعنی خدا کے غضب مٰیں گرفتار ہو گا) زید نے کہا واہ میں تو خدا کے غضب سے بھاگ کر آیا ہوں ( اس سے بچنا چاہتا ہوں ) پھر خدا کے غضب کو تو مٰیں اپنے اوپر کبھی نہیں لوں گا نہ مجھ کو اس کے اٹھانے کی طاقت ہے اچھا اور کوئی دین تو مجھ کو بتلا سکتا ہے اس نے کہا میں نہیں جانتا ( کوئی دین سچا ہو) ہو تو حنیف دین ہو زید نے کہا حنیف دین کیا ہے اس نے کہا حض ابراہیمؑ کا دین جو نہ یہودی تھے نہ نصرانی اکیلے اللہ کی پرستش کرتے تھے ۔ خیر زید وہاں سے چلے ایک نصرانی پادری سے ملے اس سے بھی یہی گفتگو کی اس نے کہا تو ہمارے دین میں آئے گا تو اللہ کی لعنت میں سے ایک حصّہ ملے گا زید نے کہا ( واہ) میں تو خدا کی لعنت سے بھاگنا ( بچنا) چاہتا ہوں مجھ سے نہ خدا کی لعنت اٹھ سکے گی نہ اس کا غضب اٹھ سکے گا بھلا مجھ میں اتنی طاقت کہاں سے آئی اچھا تو اور کوئی( سچا) دین مجھ کو بتلا سکتا ہے پادری نے کہا میں نہیں جانتا اگر ہو تو حنیف دین (سچا دین ) ہو زید نے کہا وہ کیا ۔ کہنے لگا ابراہیمؑ کا دین جو نہ یہودی تھے نہ نصرانی اکیلے اللہ کو پوجتے تھے جب زید نے یہودیوں اور نصرانیوں کا یہ قول حضرت ابراہیمؑ کے باب میں سنا اور وہاں سے نکلے تو اپنے دونوں ہاتھ ( آسمان کی طرف) اٹھائے کہنے لگے یا اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں ابراہیمؑ کے دین پر ہوں ۔


وَقَالَ اللَّيْثُ كَتَبَ إِلَىَّ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَائِمًا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ يَقُولُ يَا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ، وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي، وَكَانَ يُحْيِي الْمَوْءُودَةَ، يَقُولُ لِلرَّجُلِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْتُلَ ابْنَتَهُ لاَ تَقْتُلْهَا، أَنَا أَكْفِيكَهَا مَئُونَتَهَا‏.‏ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا تَرَعْرَعَتْ قَالَ لأَبِيهَا إِنْ شِئْتَ دَفَعْتُهَا إِلَيْكَ، وَإِنْ شِئْتَ كَفَيْتُكَ مَئُونَتَهَا‏

Narrated Asma bint Abi Bakr: I saw Zaid bin Amr bin Nufail standing with his back against the Ka'ba and saying, "O people of Quraish! By Allah, none amongst you is on the religion of Abraham except me." He used to preserve the lives of little girls: If somebody wanted to kill his daughter he would say to him, "Do not kill her for I will feed her on your behalf." So he would take her, and when she grew up nicely, he would say to her father, "Now if you want her, I will give her to you, and if you wish, I will feed her on your behalf."

اور لیث بن سعد نے کہا مجھ کو ہشام نے اپنے باپ کی یہ روایت اسماء بنت ابی بکرؓ سے لکھ بھیجی وہ کہتی تھیں میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو دیکھا کھڑے ہوئے کعبے سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئےکہہ رہے تھے قریش کے لوگو خدا کی قسم تم میں سے ابراہیم کے دین پر میرے سوا اور کوئی نہیں ہے اور زید بیٹیوں کو زندہ نہیں گاڑتے تھے وہ اس شخص سے جو اپنی بیٹی کو مارنا چاہتا یوں کہتے تو اس کو مت مار ( مجھ کو دے ڈال ) میں پال لوں گا پھر اس کو لے کر پالتے جب وہ بڑی ہو جاتی تو اس کے باپ سے کہتے اگر تو چاہے کہ اپنی بیٹی لے لے تو میں دے دوں گا اور اگر تیری مرضی ہو تو میں اس کے سب کام پورے کر دوں گا ۔

25. باب بُنْيَانُ الْكَعْبَةِ

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعَبَّاسٌ يَنْقُلاَنِ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ يَقِيكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَخَرَّ إِلَى الأَرْضِ، وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ ‏"‏ إِزَارِي إِزَارِي ‏"‏‏.‏ فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : When the Ka'ba was rebuilt, the Prophet and 'Abbas went to carry stones. 'Abbas said to the Prophet "(Take off and) put your waist sheet over your neck so that the stones may not hurt you." (But as soon as he took off his waist sheet) he fell unconscious on the ground with both his eyes towards the sky. When he came to his senses, he said, "My waist sheet! My waist sheet!" Then he tied his waist sheet (round his waist).

مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیاکہا ہم سے عبدالرزاق نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی کہا مجھ کو عمرو بن دینار نے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا انہوں نے کہا جب کعبہ بنایا گیا ( یعنی قریش نے اس کی مرمت کی ) تو نبیﷺ اور آپ کے چچا حضرت عباسؓ دونوں پتھر ڈھو رہے تھے عباسؓ نے کہا ( میرے بھتیجے) تم ایسا کرو اپنا تہ بند الٹ کر اپنی گردن میں ڈال لو تو پتھر کی تکلیف تم کو نہ پہنچے گی ( آپﷺ نے ایسا ہی کیا ) اسی وقت ( بیہوش ہو کر) زمین پر گرے اور آنکھیں آسمان کو لگ گئیں ہوش آیا تو ( اپنے چچا سے ) فرمانے لگے میرا تہ بند دے دو انہوں نے آپ کا تہ بند خوب مضبوط باندھ دیا ۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالاَ لَمْ يَكُنْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَوْلَ الْبَيْتِ حَائِطٌ، كَانُوا يُصَلُّونَ حَوْلَ الْبَيْتِ، حَتَّى كَانَ عُمَرُ، فَبَنَى حَوْلَهُ حَائِطًا ـ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ـ جَدْرُهُ قَصِيرٌ، فَبَنَاهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ‏.

Narrated By 'Amr bin Dinar and 'Ubaidullah bin Abi Yazid : In the lifetime of the Prophet there was no wall around the Ka'ba and the people used to pray around the Ka'ba till 'Umar became the Caliph and he built the wall around it. 'Ubaidullah further said, "Its wall was low, so Ibn Az-Zubair built it."

ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عمرو بن دینار اور عبید اللہ بن ابی یزید سے ان دونوں نے کہا نبیﷺ کے زمانے میں کعبے کے گرد احاطہ کی دیوار نہ تھی لوگ کعبے کے گرد نماز پڑھا کرتے حضرت عمرؓ نے ( اپنی خلافت کے زمانے میں ) اس کے گرد دیوار بنوادی عبیداللہ نے کہا کعبے کی دیواریں پست تھیں عبداللہ بن زبیر نے ان کو بلند کیا ۔

26. باب أَيَّامِ الْجَاهِلِيَّةِ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ لاَ يَصُومُهُ

Narrated By 'Aisha : 'Ashura' (i.e. the tenth of Muharram) was a day on which the tribe of Quraish used to fast in the Pre-Islamic period of ignorance. The Prophet also used to fast on this day. So when he migrated to Medina, he fasted on it and ordered (the Muslims) to fast on it. When the fasting of Ramadan was enjoined, it became optional for the people to fast or not to fast on the day of Ashura.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے کہ ہشام نے کہا مجھ سے میرے والد ( عروہ) نے حضرت عائشہؓ سے نقل کیا انہوں نے کہا عاشورے کا روزہ قریش لوگ جاہلیت کے زمانے میں بھی رکھا کرتے تھے اور نبیﷺ بھی رکھتے تھے جب آپؐ مدینہ میں تشریف لائےتو صحابہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دیا جب رمضان کے روزے ( ۲ہجری میں ) فرض ہوئے تو آپ نے فرمایا اب جس کا جی چاہے عاشورے کا روزہ رکھے جس کا چاہے نہ رکھے۔


حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنَ الْفُجُورِ فِي الأَرْضِ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَا الدَّبَرْ، وَعَفَا الأَثَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ‏.‏ قَالَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ رَابِعَةً مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَىُّ الْحِلِّ قَالَ ‏"‏ الْحِلُّ كُلُّهُ ‏"

Narrated By Ibn 'Abbas : The people used to consider the performance of 'Umra in the months of Hajj an evil deed on the earth, and they used to call the month of Muharram as Safar and used to say, "When (the wounds over) the backs (of the camels) have healed and the foot-marks (of the camels) have vanished (after coming from Hajj), then 'Umra becomes legal for the one who wants to perform 'Umra." Allah's Apostle and his companions reached Mecca assuming Ihram for Hajj on the fourth of Dhul-Hijja. The Prophet ordered his companions to perform 'Umra (with that Ihram instead of Hajj). They asked, "O Allah's Apostle! What kind of finishing of Ihram?" The Prophet said, "Finish the Ihram completely."

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے کہا ہم سے عبداللہ بن طاو٘س نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا جاہلیت کے لوگوں کا یہ اعتقاد تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا گناہ میں داخل اور جاہلیت کے زمانے محرم کو صفر کہا کرتے ان کے یہاں یہ مثل تھی جب اونٹ کی پیٹھ اچھی ہو جائےاور حاجیوں کے پاو٘ں کے نشان ( رستے پر سے) مٹ جائیں تو اب عمرہ کرنے والے کا عمرہ کرنا درست ہوا ابن عباسؓ نے کہا نبیﷺ اور آپکے صحابہ ( حجۃ الوداع میں ) چوتھی ذی الحجہ کو مکہ میں پہنچے سب حج کا احرام باندھے ہوئے تھے آپ نے اپنے صحابہ کو یہ حکم دیا کہ حج کو عمرہ کر ڈالیں ( طواف اور سعی کر کے احرام کھول دیں ) لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسا کرنے سے ہم کو کونسی بات درست ہو جائے گی آپ نے فرمایا سب باتیں درست ہو جائیں گی ۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ كَانَ عَمْرٌو يَقُولُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ سَيْلٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَسَا مَا بَيْنَ الْجَبَلَيْنِ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَيَقُولُ إِنَّ هَذَا لَحَدِيثٌ لَهُ شَأْنٌ‏

Narrated By Sa'id bin Al-Musaiyab's grand-father : In the Pre-Islamic period of ignorance a flood of rain came and filled the valley in between the two mountains (around the Ka'ba).

ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے کہا عمرو بن دینار کہتے تھے ہم سے سعید بن مسیب نے اپنے والد مسیب سے نقل کیا انہوں نے سعید کے دادا ( حزن) سے کہ جاہلیت کےزمانہ میں ایک بار بہیا آئی ایسی کہ مکہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان پانی ہی پانی ہو گیا سفیان بن عیینہ نے کہا عمرو بن دینار کہتے تھے اس حدیث کا ایک بڑا قصّہ ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ، فَرَآهَا لاَ تَكَلَّمُ، فَقَالَ مَا لَهَا لاَ تَكَلَّمُ قَالُوا حَجَّتْ مُصْمِتَةً‏.‏ قَالَ لَهَا تَكَلَّمِي، فَإِنَّ هَذَا لاَ يَحِلُّ، هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ‏.‏ فَتَكَلَّمَتْ، فَقَالَتْ مَنْ أَنْتَ قَالَ امْرُؤٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ‏.‏ قَالَتْ أَىُّ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ مِنْ قُرَيْشٍ‏.‏ قَالَتْ مِنْ أَىِّ قُرَيْشٍ أَنْتَ قَالَ إِنَّكِ لَسَئُولٌ أَنَا أَبُو بَكْرٍ‏.‏ قَالَتْ مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ‏.‏ قَالَتْ وَمَا الأَئِمَّةُ قَالَ أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُءُوسٌ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ فَيُطِيعُونَهُمْ قَالَتْ بَلَى‏.‏ قَالَ فَهُمْ أُولَئِكَ عَلَى النَّاسِ‏

Narrated By Qais bin Abi Hazim : Abu Bakr went to a lady from the Ahmas tribe called Zainab bint Al-Muhajir and found that she refused to speak. He asked, "Why does she not speak." The people said, "She has intended to perform Hajj without speaking." He said to her, "Speak, for it is illegal not to speak, as it is an action of the Pre-Islamic period of ignorance. So she spoke and said, "Who are you?" He said, "A man from the Emigrants." She asked, "Which Emigrants?" He replied, "From Quraish." She asked, "From what branch of Quraish are you?" He said, "You ask too many questions; I am Abu Bakr." She said, "How long shall we enjoy this good order (i.e. Islamic religion) which Allah has brought after the period of ignorance?" He said, "You will enjoy it as long as your Imams keep on abiding by its rules and regulations." She asked, "What are the Imams?" He said, "Were there not heads and chiefs of your nation who used to order the people and they used to obey them?" She said, "Yes." He said, "So they (i.e. the Imams) are those whom I meant."

ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے انہوں نے بیان ابو بشر سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے کہا ابوبکر صدیقؓ احمس قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئےجس کا نام زینب بنت مہاجر تھا دیکھا تو وہ بات نہیں کرتی پوچھا سبب کیا بات کیوں نہیں کرتی لوگوں نے کہا اس نےخاموش حج کی منت مانی ہے انہوں نے اس سے کہا ارے یہ چپ چپاتے حج کرنا جاہلیت کی رسم ہے اس نے بات کرنا شروع کی اور ابوبکرؓ سے پوچھا تم کون ہو انہوں نے کہا میں مہاجرین میں سے ایک آدمی ہوں اس نے کہا کون سے مہاجرین میں سے ابوبکرؓ نے کہا قریش کے مہاجرین میں سے اس نے کہا کون سے قریش میں سے ابوبکرؓ نے کہا بھئی تو بڑی پوچھنے والی عورت ہے میں ابوبکر ہوں تب اس نے پوچھا ہم اس اچھے طریق ( اسلام کے دین) پر جس کو اللہ جاہلیت کے بعد لایا کب تک ( عمدگی کے ساتھ )قائم رہیں گے انہوں نے کہا جب تک تمہارے امام ( حاکم ) سیدھے رہیں گے اس نے کہا امام سے کیا مراد ہے ابوبکر نے کہا تیری قوم میں سردار اور شریف لوگ نہیں ہیں جو لوگوں کو کسی بات کا حکم کریں تو وہ مان لیں اس نے کہا کیوں نہیں ابوبکرؓ نے کہا امام سے یہی مراد ہے۔


حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ لِبَعْضِ الْعَرَبِ، وَكَانَ لَهَا حِفْشٌ فِي الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَكَانَتْ تَأْتِينَا فَتَحَدَّثُ عِنْدَنَا فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ حَدِيثِهَا قَالَتْ وَيَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيبِ رَبِّنَا أَلاَ إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي فَلَمَّا أَكْثَرَتْ قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ وَمَا يَوْمُ الْوِشَاحِ قَالَتْ خَرَجَتْ جُوَيْرِيَةٌ لِبَعْضِ أَهْلِي، وَعَلَيْهَا وِشَاحٌ مِنْ أَدَمٍ فَسَقَطَ مِنْهَا، فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِ الْحُدَيَّا وَهْىَ تَحْسِبُهُ لَحْمًا، فَأَخَذَتْ فَاتَّهَمُونِي بِهِ فَعَذَّبُونِي، حَتَّى بَلَغَ مِنْ أَمْرِي أَنَّهُمْ طَلَبُوا فِي قُبُلِي، فَبَيْنَا هُمْ حَوْلِي وَأَنَا فِي كَرْبِي إِذْ أَقْبَلَتِ الْحُدَيَّا حَتَّى وَازَتْ بِرُءُوسِنَا ثُمَّ أَلْقَتْهُ، فَأَخَذُوهُ فَقُلْتُ لَهُمْ هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ وَأَنَا مِنْهُ بَرِيئَةٌ‏

Narrated By 'Aisha : A black lady slave of some of the 'Arabs embraced Islam and she had a hut in the mosque. She used to visit us and talk to us, and when she finished her talk, she used to say: "The day of the scarf was one of our Lord's wonders: Verily! He has delivered me from the land of Kufr." When she said the above verse many times, I (i.e. 'Aisha) asked her, "What was the day of the scarf?" She replied, "Once the daughter of some of my masters went out and she was wearing a leather scarf (round her neck) and the leather scarf fell from her and a kite descended and picked it up, mistaking it for a piece of meat. They (i.e. my masters) accused me of stealing it and they tortured me to such an extent that they even looked for it in my private parts. So, while they all were around me, and I was in my great distress, suddenly the kite came over our heads and threw the scarf, and they took it. I said to them 'This is what you accused me of stealing, though I was innocent."

مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی انہوں نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد ( عروہ) سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا کسی عرب کی ایک کالی لونڈی ( نام نا معلوم) مسلمان ہو گئی اس کی جھونپڑی مسجد ہی میں تھی وہ ہمارے پاس آکر باتیں کیا کرتی جب باتوں سے فارغ ہوتی تو یہ شعر پڑھتی کمر بند کا دن خدا کے عجائب میں سے اسی نے چھڑایا مجھے کُفر کے ملک سے جب اس نے یہ شعر کئی بار پڑھاتو میں نے پوچھا ارے کمر بند کا دن اس سے کیا مطلب اس نے کہا ہوا یہ کہ میرے لوگوں میں ایک چھوکری( جو نئی نویلی دُلہن تھی) نکلی وہ لال چمڑے کا کمر بند باندھے تھی اتفاق سے وہ کمر بند گر گیا چیل اتری اس کو گوشت سمجھ کر لے گئی لوگوں نے مجھ پر اس کی چوری کی تہمت لگائی اور پھر مار پیٹ شروع کی یہاں تک انہوں نے مجھ کو تکلیف دی کہ میری شرم گاہ بھی ٹٹولی ( کہیں اس میں نہ رکھ لی ہو ) خیر وہ اسی حال میں میرے گرد جمع تھے اور میں عذاب میں مبتلا اتنے میں چیل سیدھی ہمارے سروں پر آن پہنچیاور اس ہار کو پھینکا ان لوگوں نے اٹھا لیا میں نے کہا تم اس کی چوری مجھ پر لگاتے تھے اور میں بے گناہ تھی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلاَ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلاَ يَحْلِفْ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏"‏‏.‏ فَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏‏

Narrated By 'Umar : The Prophet said, "If anybody has to take an oath, he should swear only by Allah." The people of Quraish used to swear by their fathers, but the Prophet said, "Do not swear by your fathers."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا سن رکھو جو کوئی قسم کھانا چاہے وہ اللہ کے سوا اور کسی کی قسم نہ کھائےقریش کے لوگ اپنے باپ دادا کی قسم کھایا کرتے تھے اس لیے آپ نے فرمایااپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَىِ الْجَنَازَةِ وَلاَ يَقُومُ لَهَا، وَيُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُومُونَ لَهَا، يَقُولُونَ إِذَا رَأَوْهَا كُنْتِ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ‏.‏ مَرَّتَيْنِ‏

Narrated By 'Abdur-Rahman bin Al-Qasim : Al-Qasim used to walk in front of the funeral procession. He used not to get up for the funeral procession (in case it passed by him). And he narrated from 'Aisha that she said, "The people of the Pre-Islamic period of ignorance used to stand up for the funeral procession. When they saw it they used to say twice: 'You were noble in your family. What are you now?"

ہم سے یحیٰی بن سلیمان نے بیان کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہا مجھ کو عمروبن حارث نے خبر دی ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا کہ قاسم بن محمد( ان کے والد) جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور جنازہ دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے اور حضرت عائشہؓ سے نقل کرتے کہ جاہلیت کے لوگ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جاتے اور کہتے کہ تو جیسا اپنے گھر والوں میں تھا اب ویسا ہی ( کسی پرندے کے بھیس میں ) ہے دو دفعہ کہتے۔


حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لاَ يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ‏

Narrated By 'Umar : The pagans used not to leave Jam' (i.e. Muzdalifa) till the sun had risen on Thabir mountain. The Prophet contradicted them by leaving (Muzdalifa) before the sun rose.

ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے عمروبن میمون سے حضرت عمرؓ نے کہا مشرک لوگ مزدلفہ سے( منیٰ کو) اس وقت تک نہ لوٹتے جب تک ثبیر ( پہاڑ) پر سورج کی روشنی نہ پڑتی نبیﷺ نے ان کے خلاف کیا اور سورج نکلنے سے پہلےمزدلفہ سے لوٹے۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَكُمْ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏{‏وَكَأْسًا دِهَاقًا‏}‏ قَالَ مَلأَى مُتَتَابِعَةً‏?

Narrated By Husain : That Ikrima said, "Kasan Dihaqa means glass full (of something) followed successively with other full glasses."

مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا کہا میں نے ابو اسامہ سے پوچھا کیا تم سے یحیٰی ابن مہلب نے یہ کہا ہے کہ ہم سے حصین نے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے کہا ( سورہ نباء میں ) جو کاساً دہاقا ہے اس کے معنی بھرا ہوا گلاس پے در پے ۔


قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، فِي الْجَاهِلِيَّةِ اسْقِنَا كَأْسًا دِهَاقًا‏

Ibn 'Abbas said, "In the Pre-Islamic period of ignorance I heard my father saying, "Provide us with Kasan Dihaqa."

( ابو اسامہ نے کہا ہاں) اور ( اسی اسناد سے) عکرمہ سے منقول ہے انہوں نے کہا ابن عباسؓ نے کہا میں نے اپنے والد (حضرت عباسؓ) سے سنا وہ جاہلیت کے زمانہ میں ( اپنے غلام ساقی سے ) یوں کہتے ہم کو کاساً دہاقاپلا ( یعنی بھرپور گلاس)۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The most true words said by a poet was the words of Labid." He said, Verily, Everything except Allah is perishable and Umaiya bin As-Salt was about to be a Muslim (but he did not embrace Islam).

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا شاعروں کی باتوں میں سب سے زیادہ سچا لبید( بن ربیعہ بن عامر) کا یہ مصرعہ ہے۔ جو خدا کے ماسوا ہے وہ فنا ہو جائے گا اور امیہ بن ابی الصلت ( جاہلیت کا ایک شاعر ) مسلمان ہونے کے قریب تھا۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ لأَبِي بَكْرٍ غُلاَمٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهِ، فَجَاءَ يَوْمًا بِشَىْءٍ فَأَكَلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الْغُلاَمُ تَدْرِي مَا هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا هُوَ قَالَ كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا أُحْسِنُ الْكِهَانَةَ، إِلاَّ أَنِّي خَدَعْتُهُ، فَلَقِيَنِي فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ، فَهَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ‏.‏ فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَىْءٍ فِي بَطْنِهِ‏

Narrated By 'Aisha : Abu Bakr had a slave who used to give him some of his earnings. Abu Bakr used to eat from it. One day he brought something and Abu Bakr ate from it. The slave said to him, "Do you know what this is?" Abu Bakr then enquired, "What is it?" The slave said, "Once, in the pre-Islamic period of ignorance I foretold somebody's future though I did not know this knowledge of foretelling but I, cheated him, and when he met me, he gave me something for that service, and that is what you have eaten from." Then Abu Bakr put his hand in his mouth and vomited whatever was present in his stomach.

ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے بھائی ( عبدالحمید) نے انہوں نے سلیمان بن بلال سے انہوں نے یحیٰی بن سعید انصاری سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے انہوں نے قاسم بن محمد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا ابوبکر صدیقؓ کا ایک غلام تھا ( نام نا معلوم ) جو اپنی کمائی ان کو لا کر دیا کرتا ابو بکر اس کی کمائی کھاتے ایک دن وہ کوئی چیز لایا ابو بکرؓ نے اس کو کھایا غلام کہنے لگا تم جانتے ہو یہ کاہے کی کمائی تھی ۔ انہوں نے پوچھا کیوں کاہے کی ۔ غلام نے کہا میں نے جاہلیت کے زمانے میں ایک شخص سے کہانت کی تھی حالانکہ میں اس علم کو اچھی طرح نہیں جانتا میں نے اس سے دغابازی کی وہی شخص ( آج) مجھ کو ملا ۔ اس نے کچھ مجھ کو دیا یہ وہی کمائی تھی ۔ ابو بکرؓ نے یہ سنتے ہی منہ میں انگلی ڈالیاور جو کچھ پیٹ میں گیا تھا وہ سب نکال ڈالا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَايَعُونَ لُحُومَ الْجَزُورِ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ، قَالَ وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ تَحْمِلَ الَّتِي نُتِجَتْ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ‏

Narrated By Ibn 'Umar : In the Pre-Islamic period of ignorance the people used to bargain with the meat of camels on the principle of Habal-al-Habala which meant the sale of a she-camel that would be born by a she-camel that had not yet been born. The Prophet forbade them such a transaction.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے عبیداللہ عمری سے کہا مجھ کو نافع نے خبر دی انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا جاہلیت کے لوگ اونٹ کے گوشت حبل الحبلہ کے وعدے پر بیچا کرتے تھے ابن عمرؓ نے کہا حبل الحبلہ یہ کہ اونٹنی جنے پھر اس کی بیٹی حاملہ ہو وہ جنے نبیﷺ نے اس سے منع فرمایا۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، قَالَ غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَيُحَدِّثُنَا عَنِ الأَنْصَارِ،، وَكَانَ، يَقُولُ لِي فَعَلَ قَوْمُكَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَفَعَلَ قَوْمُكَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا‏

Narrated By Ghailan bin Jarir : We used to visit Anas bin Malik and he used to talk to us about the Ansar, and used to say to me: "Your people did so-and-so on such-and-such a day, and your people did so-and-so on such-and-such a day."

ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا کہا ہم سے مہدی بن میمون نے کہا ہم سے غیلان بن جریر نے انہوں نے کہا ہم انس بن مالک کے پاس جایا کرتے وہ انصاریوں کے حالات ہم سے بیان کیا کرتے کہتے تیری قوم نے فلاں دن ایسا ایسا کیا اور تیری قوم نے فلاں دن ایسا ایسا کیا ۔

27. باب الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا قَطَنٌ أَبُو الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ قَسَامَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَفِينَا بَنِي هَاشِمٍ، كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اسْتَأْجَرَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ فَخِذٍ أُخْرَى، فَانْطَلَقَ مَعَهُ فِي إِبِلِهِ، فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ فَقَالَ أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي، لاَ تَنْفِرُ الإِبِلُ‏.‏ فَأَعْطَاهُ عِقَالاً، فَشَدَّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ، فَلَمَّا نَزَلُوا عُقِلَتِ الإِبِلُ إِلاَّ بَعِيرًا وَاحِدًا، فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ مَا شَأْنُ هَذَا الْبَعِيرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الإِبِلِ قَالَ لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ‏.‏ قَالَ فَأَيْنَ عِقَالُهُ قَالَ فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيهَا أَجَلُهُ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ قَالَ مَا أَشْهَدُ، وَرُبَّمَا شَهِدْتُهُ‏.‏ قَالَ هَلْ أَنْتَ مُبْلِغٌ عَنِّي رِسَالَةً مَرَّةً مِنَ الدَّهْرِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ فَكُنْتَ إِذَا أَنْتَ شَهِدْتَ الْمَوْسِمَ فَنَادِ يَا آلَ قُرَيْشٍ‏.‏ فَإِذَا أَجَابُوكَ، فَنَادِ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ‏.‏ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَسَلْ عَنْ أَبِي طَالِبٍ، فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلاَنًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ، وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ، فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ مَا فَعَلَ صَاحِبُنَا قَالَ مَرِضَ، فَأَحْسَنْتُ الْقِيَامَ عَلَيْهِ، فَوَلِيتُ دَفْنَهُ‏.‏ قَالَ قَدْ كَانَ أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ‏.‏ فَمَكُثَ حِينًا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي أَوْصَى إِلَيْهِ أَنْ يُبْلِغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ فَقَالَ يَا آلَ قُرَيْشٍ‏.‏ قَالُوا هَذِهِ قُرَيْشٌ‏.‏ قَالَ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ‏.‏ قَالُوا هَذِهِ بَنُو هَاشِمٍ‏.‏ قَالَ أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ قَالُوا هَذَا أَبُو طَالِبٍ‏.‏ قَالَ أَمَرَنِي فُلاَنٌ أَنْ أُبْلِغَكَ رِسَالَةً أَنَّ فُلاَنًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ‏.‏ فَأَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى ثَلاَثٍ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا، وَإِنْ شِئْتَ حَلَفَ خَمْسُونَ مِنْ قَوْمِكَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ بِهِ فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالُوا نَحْلِفُ‏.‏ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ‏.‏ فَقَالَتْ يَا أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيزَ ابْنِي هَذَا بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ وَلاَ تَصْبُرْ يَمِينَهُ حَيْثُ تُصْبَرُ الأَيْمَانُ‏.‏ فَفَعَلَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا طَالِبٍ، أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلاً أَنْ يَحْلِفُوا مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الإِبِلِ، يُصِيبُ كُلَّ رَجُلٍ بَعِيرَانِ، هَذَانِ بَعِيرَانِ فَاقْبَلْهُمَا عَنِّي وَلاَ تَصْبُرْ يَمِينِي حَيْثُ تُصْبِرُ الأَيْمَانُ‏.‏ فَقَبِلَهُمَا، وَجَاءَ ثَمَانِيةٌ وَأَرْبَعُونَ فَحَلَفُوا‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا حَالَ الْحَوْلُ وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَأَرْبَعِينَ عَيْنٌ تَطْرِفُ

Narrated By Ibn 'Abbas : The first event of Qasama in the Pre-Islamic period of ignorance was practiced by us (i.e. Banu Hashim). A man from Banu Hashim was employed by a Quraishi man from another branch-family. The (Hashimi) labourer set out with the Quraishi driving his camels. There passed by him another man from Banu Hashim. The leather rope of the latter's bag had broken so he said to the labourer, "Will you help me by giving me a rope in order to tie the handle of my bag lest the camels should run away from me?" The labourer gave him a rope and the latter tied his bag with it. When the caravan halted, all the camels' legs were tied with their fetters except one camel. The employer asked the labourer, "Why, from among all the camels has this camel not been fettered?" He replied, "There is no fetter for it." The Quraishi asked, "Where is its fetter?" and hit the labourer with a stick that caused his death (later on Just before his death) a man from Yemen passed by him. The labourer asked (him), "Will you go for the pilgrimage?" He replied, "I do not think I will attend it, but perhaps I will attend it." The (Hashimi) labourer said, "Will you please convey a message for me once in your life?" The other man said, "yes." The labourer wrote: 'When you attend the pilgrimage, call the family of Quraish, and if they respond to you, call the family of Banu Hashim, and if they respond to you, ask about Abu Talib and tell him that so-and-so has killed me for a fetter." Then the labourer expired. When the employer reached (Mecca), Abu Talib visited him and asked, "What has happened to our companion?" He said, "He became ill and I looked after him nicely (but he died) and I buried him." Then Abu Talib said, "The deceased deserved this from you." After some time, the messenger whom the labourer has asked to convey the message, reached during the pilgrimage season. He called, "O the family of Quraish!" The people replied, "This is Quraish." Then he called, "O the family of Banu Hashim!" Again the people replied, "This is Banu Hashim." He asked, "Who is Abu Talib?" The people replied, "This is Abu Talib." He said, "'So-and-so has asked me to convey a message to you that so-and-so has killed him for a fetter (of a camel)." Then Abu Talib went to the (Quraishi) killer and said to him, "Choose one of three alternatives: (i) If you wish, give us one-hundred camels because you have murdered our companion, (ii) or if you wish, fifty of your men should take an oath that you have not murdered our companion, and if you do not accept this, (iii) we will kill you in Qisas." The killer went to his people and they said, "We will take an oath." Then a woman from Banu Hashim who was married to one of them (i.e. the Quraishis) and had given birth to a child from him, came to Abu Talib and said, "O Abu Talib! I wish that my son from among the fifty men, should be excused from this oath, and that he should not take the oath where the oath-taking is carried on." Abu Talib excused him. Then another man from them came (to Abu Talib) and said, "O Abu Talib! You want fifty persons to take an oath instead of giving a hundred camels, and that means each man has to give two camels (in case he does not take an oath). So there are two camels I would like you to accept from me and excuse me from taking an oath where the oaths are taken. Abu Talib accepted them from him. Then 48 men came and took the oath. Ibn 'Abbas further said:) By Him in Whose Hand my life is, before the end of that year, none of those 48 persons remained alive.

ہم سے ابو معمر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث نے کہا ہم سے قطن ابوالہیثم نے کہا ہم سے ابو یزید مدنی نے انہوں نے عکرمہ سےانہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا پہلی قسامت جو جاہلیت میں ہوئی ہم ہاشم لوگوں میں ہوئی بنی ہاشم کے ایک شخص ( عمرو بن علقمہ) کو قریش کے دوسرے خاندان والے ( خداش بن عبداللہ عامری)نے نوکر رکھا اب یہ نوکر اپنے صاحب کے ساتھاس کے اونٹ کو لے کر ( شام کی طرف ) چلا وہاں ایک دوسرا ہاشمی شخص ( نام نا معلوم) اس پر سے گزرا جس کے تھیلوں کی رسی ٹوٹ گئی تھی اس نے اس نوکر سے التجا کی ( ارے بھائی) میری مدد کر اونٹ باندھنے کی ایک رسی مجھ کو دے ڈال میں اپنا تھیلا اس سے باندھوں تیرے اونٹ کو اگر رسی نہ ہو گی تو وہ بھاگ تھوڑے جائے گا ۔ اس نے ایک رسی اس کو دے دی جس سے اس نے اپنے تھیلے باندھے جب منزل پر اترے تو سب اونٹ باندھے گئے مگر ایک اونٹ یونہی رہا ۔ صاحب نے پوچھا ارے سب اونٹوں کو باندھا اس کو کیوں نہیں باندھا نوکر نے کہا اس کی رسی نہیں ہے ۔ صاحب نے کہا اس کی رسی کہاں گئی ( اور غصے میں آکر ) ایک لکڑی اس پر پھینک ماری ۔ اس کی موت آن پہنچی ( وہ مرنے کے قریب ہو گیا ) اس وقت ایک یمن والا شخص ( نام نا معلوم) ادھر سے گزرا یہ نوکر( جو مر رہا تھا ) اس سے پوچھنے لگا کیا تو ( ہر سال) حج کو جایا کرتا ہے اس نے کہا نہیں لیکن کبھی کبھی جاتا بھی ہوں نوکر نے کہا ( ( اگر تو جائے) تو میرا پیغام پہنچا دے گا ۔ جب کبھی تو جائے ۔ اس نے کہا اچھا پہنچا دوں گا ۔ نوکر نے کہا تو حج کے موسم پر ( مکہ میں ) جائے تو پہلے یوں آواز دے قریش کے لوگوجب وہ جواب دیں تو یوں پکار بنی ہاشم کے لوگو جب وہ جواب دیں تو ان سے پوچھ ابو طالب کہاں ہیں جب ابو طالب ملیں تو ان سے یہ کہہ دے کہ فلاں شخص نے مجھ کو ایک رسی کے بدل مار ڈالا یہ کہہ کر وہ نوکر مر گیا اب اس کا صاحب جب مکہ میں پہنچا تو ابو طالب اس کے پاس آئے پوچھنے لگے ہماری قوم والا کدھر گیا اس نے کہا وہ ( رستے میں ) بیمار ہو گیا تھا ۔ میں نے اچھی طرح اس کی خدمت کی ( لیکن قضا سے مر گیا ) میں نے اس کو گاڑ دیا ۔ ابو طالب نے کہا اس کے لیے تیری طرف سے یہی ہونا چاہئیے تھا اور ایک مدت تک ابو طالب خاموش رہے ۔ اتفاق سے یمن کا وہ شخص جس کو اس نوکر نے پیغام پہنچانے کی وصیت کی تھی حج کے موسم پر آن پہنچا اور اس نے آواز دی قریش کے لوگو ۔ لوگوں نے بتلادیا یہ قریش کے لوگ ہیں ۔ پھر اس نے پکارا بنی ہاشم کے لوگو ۔ لوگوں نے بتلادیا یہ بنی ہاشم ہیں ۔ پھر اس نے پکارا ابو طالب کہاں ہیں ۔ لوگوں نے بتلادیا ابو طالب یہ ہیں ۔ تب اس نے یوں کہا ابو طالب فلاں شخص نے میرے ہاتھ آپ کو پیغام بھیجا ہےکہ فلاں شخص نے ایک رسّی کے بدل مجھ کو مار ڈالا ۔ یہ سنتے ہی ابو طالب اس شخص کے پاس ( جو قاتل تھا ) پہنچے اور اس سے کہا اب ہماری طرف سے تو تین باتوں میں سے کوئی بات اختیار کر لے یا تو دیت کے سو اونٹ ادا کر کیونکہ تو نے ہمارے آدمی کا خون کیا یا تیری قوم کے پچاس آدمی یوں قسم کھائیں کہ تو نے اس کو نہیں مارا۔ اگر یہ دونوں باتیں تو نہ مانے تو ہم تجھ کو قتل کریں گے ۔ قاتل یہ سن کر اپنی قوم والوں کے پاس آیا ۔ انہوں نے کہا ہم قسمیں کھائیں گے ۔اتنے میں بنی ہاشم کی ایک عورت جس نے قاتل کی قوم والوں ( بنی عامر ) میں سے ایک شخص سے نکاح کیا تھا ۔ اس کا ایک لڑکا بھی ( لطیف نامی ) اس سے پیدا ہوا تھا ابو طالب کے پاس آئی کہنے لگی ابوطالب میں یہ چاہتی ہوں کہ ان پچاس لوگوں میں جن سے قسمیں لی جائیں گی اس لڑکے کی قسم معاف کر دو جہاں پر قسمیں دلائی جاتی ہیں وہاں اس کو قسم کھانے پر مجبور نہ کرو ِ ابوطالب نے اس کی درخواست منطور کرلی پھر ان میں کا ایک اور شخص ( نام نا معلوم ) آیا کہنے لگا ابو طالب تمہاری تو یہی غرض تھی نا کہ سو اونٹ کے بدل پچاس آدمی قسم کھائیں ۔ تو ہر شخص پر اس حساب سے دودو اونٹ ہوئے تم میری طرف سے یہ دو اونٹ لے لو اور مجھ کو اس مقام پر قسم کھانے سے معاف رکھو جہاں پر قسمیں کھلائی جاتی ہیں ابو طالب نے اس کا کہنا بھی مان لیا اب باقی رہے اڑتالیس آدمی ِ وہ آئے انہوں نے قسم کھائی ابن عباسؓ کہتے ہیں اس پروردگار کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ایک سال بھی نہیں گزرنے پایا کہ ان اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں رہا جو آنکھ ہلاتا۔


حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِّلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا، قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فِي دُخُولِهِمْ فِي الإِسْلاَمِ‏

Narrated By 'Aisha : Allah caused the day of Buath to take place before Allah's Apostle was sent (as an Apostle) so that when Allah's Apostle reached Medina, those people had already divided (in different groups) and their chiefs had been killed or wounded. So Allah made that day precede Allah's Apostle so that they (i.e. the Ansar) might embrace Islam.

مجھ سے عبید بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا بعاث کا دن ایسا دن تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبرﷺکے ( مدینے میں ) آنے سے پہلے گزار دیا تو آپ جب ( مدینہ ) تشریف لائے اس وقت انصار کی جماعت میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی اسکے سردار مارے جا چکے تھے کچھ زخمی پڑے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اپنے پیغمبر کے آگے کر دیا تاکہ انصار اسلام لائیں۔


وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّ كُرَيْبًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَيْسَ السَّعْىُ بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سُنَّةً، إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْعَوْنَهَا وَيَقُولُونَ لاَ نُجِيزُ الْبَطْحَاءَ إِلاَّ شَدًّا

Narrated Ibn 'Abbas: To run along the valley between two green pillars of Safa and Marwa (mountains) was not Sunna, but the people in the Pre-Islamic period of ignorance used to run along it, and used to say: "We do not cross this rain stream except running strongly."

عبداللہ بن وہب نے کہا ہم کو عمرو بن حارث نے خبر دی انہوں نے بکیر بن اشج سے روایت کی ان سے کریب نے بیان کیا جو ابن عباسؓ کا غلام تھا کہ ابن عباسؓ کہتے تھے صفا مروہ کے درمیان نالے کے اندر زور سے دوڑنا سنت نہیں ہے ۔ یہ تو جاہلیت والے کیا کرتے تھے کہتے تھے ہم اس پتھریلی جگہ سے دوڑ کر ہی پار ہوں گے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا مُطَرِّفٌ، سَمِعْتُ أَبَا السَّفَرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا مِنِّي مَا أَقُولُ لَكُمْ، وَأَسْمِعُونِي مَا تَقُولُونَ، وَلاَ تَذْهَبُوا فَتَقُولُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَلْيَطُفْ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ، وَلاَ تَقُولُوا الْحَطِيمُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ يَحْلِفُ فَيُلْقِي سَوْطَهُ أَوْ نَعْلَهُ أَوْ قَوْسَهُ

Narrated By Abu As-Safar : I heard Ibn 'Abbas saying, "O people! Listen to what I say to you, and let me hear whatever you say, and don't go (without understanding), and start saying, 'Ibn 'Abbas said so-and-so, Ibn 'Abbas said so-and-so, Ibn 'Abbas said so-and-so.' He who wants to perform the Tawaf around the Ka'ba should go behind Al-Hijr (i.e. a portion of the Ka'ba left out unroofed) and do not call it Al-Hatim, for in the pre-Islamic period of ignorance if any man took an oath, he used to throw his whip, shoes or bow in it.

ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم کو مطرف نے خبر دی کہا میں نے ابو السفر ( سعید بن یحمد ) سے سنا وہ کہتے تھے میں نے ابن عباسؓ سے سنا وہ کہتے تھے لوگو میں جو کہوں وہ تم سنو اور مجھ کو اپنا کہنا سناو٘(کہ میں سمجھ لوں تم نے میری بات یاد کر لی ) کہیں ایسا نہ ہو باہر جا کر تم یہ کہو ابن عباسؓ نے ایسا کہا دیکھو جو کوئی بیت اللہ کا طواف کرے وہ حجر کے پیچھے سے ( یعنی حطیم کے پرے سے ) حجر کو حطیم نہ کہو یہ جاہلیت کا نام ہے اس وقت کے لوگ ان میں جب کوئی کسی بات کی قسم کھاتا تو اپنا کوڑا یا جوتا یا کمان وہاں پھینک دیتا ۔


حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ رَأَيْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قِرْدَةً اجْتَمَعَ عَلَيْهَا قِرَدَةٌ قَدْ زَنَتْ، فَرَجَمُوهَا فَرَجَمْتُهَا مَعَهُمْ‏

Narrated By 'Amr bin Maimun : During the Pre-Islamic period of ignorance I saw a she-monkey surrounded by a number of monkeys. They were all stoning it, because it had committed illegal sexual intercourse. I too, stoned it along with them.

ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی انہوں نے حصین سے انہوں نے عمرو بن میمون سے انہوں نے کہا میں نے جایلیت کے زمانہ میں ایک بندریا دیکھی جس پر بہت سے بندر جمع ہوئے تھے اس بندریا نے زنا کی تھی تو بندروں نے اس کو سنگسار کیا میں بھی اس سنگسار کرنے میں بندروں کے ساتھ شریک ہوا۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خِلاَلٌ مِنْ خِلاَلِ الْجَاهِلِيَّةِ الطَّعْنُ فِي الأَنْسَابِ وَالنِّيَاحَةُ، وَنَسِيَ الثَّالِثَةَ، قَالَ سُفْيَانُ وَيَقُولُونَ إِنَّهَا الاِسْتِسْقَاءُ بِالأَنْوَاءِ

Narrated By Sufyan : 'Ubaidullah said: "I heard Ibn 'Abbas saying, "Following are some traits of the people of the pre-Islamic period of ignorance (i) to defame the ancestry of other families, (ii) and to wail over the dead." 'Ubaidullah forgot the third trait. Sufyan said, "They say it (i.e. the third trait) was to believe that rain was caused by the influence of stars (i.e. if a special star appears it will rain)."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عبیداللہ ابن ابی یزید سے انہوں نے ابن عباسؓ سے سنا انہوں نے کہا جاہلیت کی خصلتوں میں سے یہ خصلتیں ہیں کسی کے نسب پر ( بن جانے بوجھے )طعنہ مارنا میت پر نوحہ کرنا ( عبیداللہ اس حدیث کا راوی ) تیسری بات بھول گیا سفیان نے کہا لوگ کہتے تھے تیسری بات ستاروں کو بارش کی علّت سمجھنا۔

28. باب مَبْعَثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ قُصَىِّ بْنِ كِلاَبِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَىِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ‏

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ، فَمَكَثَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ سَنَةً، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ، فَهَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَكَثَ بِهَا عَشْرَ سِنِينَ، ثُمَّ تُوُفِّيَ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Ibn 'Abbas : Allah's Apostle was inspired Divinely at the age of forty. Then he stayed in Mecca for thirteen years, and then was ordered to migrate, and he migrated to Medina and stayed there for ten years and then died.

ہم سے احمد بن ابی رجاءنے بیان کیا کہا ہم کو نضر بن شمیل نےخبر دی انہوں نے ہشام بن حسان بصری سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ پر جب وحی اتری اسوقت آپؐ کی عمر چالیس برس کی تھی پھر تیرہ برس آپ مکہ میں اور رہے بعد اس کے آپ کو ہجرت کا حکم ہوا آپ مدینہ میں ہجرت کر گئے وہاں دس برس رہے ۔ پھر آپ کی وفات ہوئی۔

29. باب مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ، وَإِسْمَاعِيلُ، قَالاَ سَمِعْنَا قَيْسًا، يَقُولُ سَمِعْتُ خَبَّابًا، يَقُولُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً، وَهْوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً فَقُلْتُ أَلاَ تَدْعُو اللَّهَ فَقَعَدَ وَهْوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ لَيُمْشَطُ بِمِشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عِظَامِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ، مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ مَا يَخَافُ إِلاَّ اللَّهَ ‏"‏‏.‏ زَادَ بَيَانٌ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ‏.

Narrated By Khabbaba : I came to the Prophet while he was leaning against his sheet cloak in the shade of the Ka'ba. We were suffering greatly from the pagans in those days. i said (to him). "Will you invoke Allah (to help us)?" He sat down with a red face and said, "(A believer among) those who were before you used to be combed with iron combs so that nothing of his flesh or nerves would remain on his bones; yet that would never make him desert his religion. A saw might be put over the parting of his head which would be split into two parts, yet all that would never make him abandon his religion. Allah will surely complete this religion (i.e. Islam) so that a traveller from Sana to Hadra-maut will not be afraid of anybody except Allah." (The sub-narrator, Baiyan added, "Or the wolf, lest it should harm his sheep.")

ہم سے حمیدی ( عبداللہ بن زبیر مکی ) نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے بیان بن بشر اور اسمٰعیل بن ابی خالد نے ان دونوں نے کہا ہم نے قیس بن ابی حازم سے سنا وہ کہتے تھے میں نے خباب بن ارت(صحابی) سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ کے پاس میں آیا آپ کعبے کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے میں نے آپ سے عرض کیا آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے یہ سنتے ہی آپ ( تکیہ چھوڑ کر سیدھے ) بیٹھ گئے آپ کا چہرہ ( غصے سے ) سرخ ہو گیا آپ نے فرمایا تم سے پہلے تو ایسے لوگ ( پیغمبر) گزر چکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور آرہ ان کے بیچا بیچ سر پر ( مانگ پر ) رکھ کر چلایا جاتا دو ٹکڑے کر دئیے جاتے مگر اپنے ( سچے) دین سے نہ پھرتے اور اللہ تعالیٰ ( ایک دن) اس کام کو ضرور پورا کرے گا یہاں تک کہ ایک شخص صنعا سے ( جو یمن میں ہے) سوار ہو کر حضر موت تک چلا جائے گا اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہ ہو گا ۔ بیان کی روایت میں اتنا زیادہ ہے یا ڈر ہو گا تو بھیڑئیے کا اپنی بکری پر ۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّجْمَ، فَسَجَدَ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ إِلاَّ سَجَدَ، إِلاَّ رَجُلٌ رَأَيْتُهُ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًا فَرَفَعَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ وَقَالَ هَذَا يَكْفِينِي‏.‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا بِاللَّهِ‏

Narrated By 'Abdullah : The Prophet recited Surat An-Najam and prostrated, and there was nobody who did not prostrate then except a man whom I saw taking a handful of pebbles, lifting it, and prostrating on it. He then said, "This is sufficient for me." No doubt I saw him killed as a disbeliever afterwards.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابو اسحٰق سے انہوں نے اسود بن یزید سے انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے سورہ نجم پڑھی اور سجدہ کیا جتنے لوگ وہاں تھے سب نے سجدہ کیا کوئی باقی نہ رہا مگر ایک آدمی کو میں نے دیکھا اس نے کیا کیا کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھائی ( اس کو ہاتھ میں لے کر ) اس پر سجدہ کیا کہنے لگا مجھ کو یہ بس کرتا ہے ابن مسعودؓ کہتے ہیں میں نے اس شخص کو اس کے بعد دیکھا وہ کفر کی حالت میں مارا گیا ۔


حَدَّثَناَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ـ أَوْ أُبَىَّ بْنَ خَلَفٍ ‏"‏‏.‏ شُعْبَةُ الشَّاكُّ ـ فَرَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَىٍّ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ، فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ‏

Narrated By 'Abdullah : While the Prophet was prostrating, surrounded by some of Quraish, 'Uqba bin Abi Mu'ait brought the intestines (i.e. abdominal contents) of a camel and put them over the back of the Prophet. The Prophet did not raise his head, (till) Fatima, came and took it off his back and cursed the one who had done the harm. The Prophet said, "O Allah! Destroy the chiefs of Quraish, Abu Jahl bin Hisham, 'Utba bin Rabi'al, Shaba bin Rabi'a, Umaiya bin Khalaf or Ubai bin Khalaf." (The sub-narrator Shu'ba, is not sure of the last name.) I saw these people killed on the day of Badr battle and thrown in the well except Umaiya or Ubai whose body parts were mutilated but he was not thrown in the well.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے عمرو بن میمون سے انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا ایک بار ایسا ہوا نبیﷺ کعبے کے پاس نماز پڑھ رہے تھے آپ کے گرد قریش کے چند (کافر ) لوگ بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اُ وجھڑی ( بچہ دان ) لے کر آیا اور آپ کی پیٹھ پر رکھ دی آپ نے اپنا سر نہیں اٹھایا یہاں تک کہ حضرت فاطمہؓ ( آپ کی صاحبزادی) آئیں اور آپ کی پیٹھ پر سے وہ اٹھالی اور جس نے یہ حرکت کی اس کے لیے بد دعا کرنے لگیں ۔ خیر نبیﷺ نے ( جب نماز سے فارغ ہوئے تو ) فرمایا یااللہ قریش کے گروہ سے سمجھ ۔ ابو جہل بن ہشام اور عتبہ بن ابی ربیعہ اور امیہ بن خلف یا ابی بن خلف سے یہ شک شعبہ کو ہوئی کہ ابی فرمایا یا امیہ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں میں نے ان لوگوں کو دیکھا ۔ یہ سب بدر کے دن مارے گئے اور ان کی لاشیں ایک کنویں میں پھینک دی گئیں ایک امیہ یا ابی کی لاش رہ گئی اس کے بند بند جدا ہو گئے تھے اس لیے کنویں میں نہیں ڈالی گئی۔


حَدَّثَنِى عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَوْ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى قَالَ سَلِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ، مَا أَمْرُهُمَا ‏{‏وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ ‏}‏ ‏{‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا‏}‏ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَمَّا أُنْزِلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ قَالَ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ فَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَقَدْ أَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ‏}‏ الآيَةَ فَهَذِهِ لأُولَئِكَ وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ الإِسْلاَمَ وَشَرَائِعَهُ، ثُمَّ قَتَلَ فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ‏.‏ فَذَكَرْتُهُ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ إِلاَّ مَنْ نَدِمَ‏.‏

Narrated By Said bin Jubair : 'AbdurRahman bin Abza said, "Ask Ibn 'Abbas about these two Qur'anic Verses: 'Nor kill such life as Allah has made sacred, Except for just cause.' (25.168) "And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell. (4.93) So I asked Ibn 'Abbas who said, "When the Verse that is in Sura-al-Furqan was revealed, the pagans of Mecca said, 'But we have slain such life as Allah has made sacred, and we have invoked other gods along with Allah, and we have also committed fornication.' So Allah revealed: 'Except those who repent, believe, and do good. (25.70) So this Verse was concerned with those people. As for the Verse in Surat-an-Nisa (4-93), it means that if a man, after understanding Islam and its laws and obligations, murders somebody, then his punishment is to dwell in the (Hell) Fire forever." Then I mentioned this to Mujahid who said, "Except the one who regrets (one's crime)."

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے جریر نے انہوں نے منصور سے کہا مجھ سے سعید بن جبیر نے یا حکم بن عتبہ نے سعید بن جبیر سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا عبدالرحمٰن بن ابزی ( صحابی ) نے مجھ سے یہ کہا ابن عباسؓ سے ( سورہ فرقان کی ) اس آیت ولا تقتلو النفس التی حرم اللہ الا باالحق اور ( سورہ نساء کی) اس آیت و من یقتل مومنا متعمدا کو پوچھو میں نے پوچھا تو انہوں نے کہاجب سورہ فرقان کی آیت اتری تو مکہ کے مشرک کہنے لگے ہم نے تو جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا تھا اس کو مارا( یعنی خون ناحق کیا ) اور اللہ کے ساتھ دوسرے دیوتا کو بھی پوجا اور بے شرمی کے کام بھی کئیے اس وقت اللہ تعالیٰ نے ( سورہ فرقان میں ) یہ اتارا الامن تاب و اٰمن و عمل صالحا اخیر تک تو یہ آیت انھی کافروں کے حق میں ہی رہی وہ آیت جو سورہ نساء میں ہے وہ اس شخص کے باب میں ہے جو ( مسلمان ہو کر ) اسلام اور شریعت کے احکام جان کر بھی مسلمان کا ناحق خون کرے اس کی سزا جہنم ہے عبد الرحمٰن بن ابزی نے کہا میں نے ابن عباس کا یہ قول مجاہد سے بیان کیا تو انہوں نے کہا دوسری آیت بھی اسی شخص کے حق میں ہے جو نادم نہ ہو ( یعنی توبہ نہ کرے)۔


حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ، شَىْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي حِجْرِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى أَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَدَفَعَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏{‏أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ‏}‏ الآيَةَ‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو‏.‏ وَقَالَ عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قِيلَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ‏

Narrated By 'Urwa bin Az-Zubair : I asked Ibn Amr bin Al-As, "Tell me of the worst thing which the pagans did to the Prophet." He said, "While the Prophet was praying in the Hijr of the Ka'ba; 'Uqba bin Abi Mu'ait came and put his garment around the Prophet's neck and throttled him violently. Abu Bakr came and caught him by his shoulder and pushed him away from the Prophet and said, "Do you want to kill a man just because he says, 'My Lord is Allah?' "

ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا کہا ہم سے ولید بن مسلم نے کہا مجھ سے اوزاعی نے کہا مجھ سے یحیٰی بن ابی کثیر نے انہوں نے محمد بن ابراہیم تیمی سے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے پوچھا مجھ کو بتلاو٘ جو مشرکوں نے سخت ایزا نبیﷺ کو دی ہو انہوں نے کہا نبیﷺ حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں عقبہ بن ابی معیط ( ملعون ) آیا اور اس نے اپنا کپڑا آپ کی گردن میں ڈال کر آپ کا گلا زور سے گھونٹا ۔ ابوبکر صدیقؓ آن پہنچےاور انہوں نے اس کا مونڈھا پکڑ کر اس کو دھکیل دیا نبیﷺ سے الگ کیا اور کہنے لگے تم ایک شخص کو یہ کہنے پر مار ڈالتے ہومیرا مالک خدا ہے خیر آیت تک (جو سورہ مومن میں ہے ) ۔ عیاش بن ولید کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے بھی یحیٰی بن عروہ سے روایت کیا ۔مجھ سے یحیٰی بن عروہ نے بیان کیا انہوں نے عروہ سے روایت کیا اس میں یوں ہے ۔ میں نے عبداللہ بن عمرو سے کہا اور عبدہ نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد (عروہ ) سے یہ روایت کی اس میں یوں ہے کہ عمرو بن عاص سے کہا گیا ۔ اور محمد بن عمرو نے بھی اس کو ابو سلمہ سے روایت کیا اس میں یوں ہے مجھ سے عمرو بن عاص نے بیان کیا ۔

30. باب إِسْلاَمُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضى الله عنه

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ الآمُلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا مَعَهُ إِلاَّ خَمْسَةُ أَعْبُدٍ وَامْرَأَتَانِ، وَأَبُو بَكْرٍ‏

Narrated By 'Ammar bin Yasir : I saw Allah's Apostle , and the only converts (to Islam) with him, were five slaves, two women and Abu Bakr.

مجھ سے عبداللہ بن آملی نے بیان کیا کہا مجھ سے یحیٰے بن معین نے کہا ہم سے اسمٰعیل بن مجالد نے انہوں نے بیان احمسی سے انہوں نے وبرہ سے انہوں نے ہمام بن حارث سے انہوں نےکہا عمار بن یاسر نے کہا میں نےرسول اللہﷺ کو اس وقت دیکھا ہے جب آپ کے ساتھ کوئی نہ تھا صرف پانچ غلام اور دو عورتیں اور ابوبکر صدیقؓ تھے ۔

12345Last ›