- احادیثِ نبوی ﷺ

 

1234Last ›

11. باب الطَّلاَقِ فِي الإِغْلاَقِ وَالْكُرْهِ وَالسَّكْرَانِ وَالْمَجْنُونِ وَأَمْرِهِمَا، وَالْغَلَطِ وَالنِّسْيَانِ فِي الطَّلاَقِ وَالشِّرْكِ وَغَيْرِهِ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الأ

وَتَلاَ الشَّعْبِيُّ ‏{‏لاَ تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا‏}‏ وَمَا لاَ يَجُوزُ مَنْ إِقْرَارِ الْمُوَسْوِسِ‏.‏ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلَّذِي أَقَرَّ عَلَى نَفْسِهِ ‏"‏ أَبِكَ جُنُونٌ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ عَلِيٌّ بَقَرَ حَمْزَةُ خَوَاصِرَ شَارِفَىَّ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَلُومُ حَمْزَةَ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ ثَمِلَ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ حَمْزَةُ هَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لأَبِي فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَدْ ثَمِلَ، فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، وَقَالَ عُثْمَانُ لَيْسَ لِمَجْنُونٍ وَلاَ لِسَكْرَانَ طَلاَقٌ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ طَلاَقُ السَّكْرَانِ وَالْمُسْتَكْرَهِ لَيْسَ بِجَائِزٍ‏.‏ وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ لاَ يَجُوزُ طَلاَقُ الْمُوَسْوِسِ‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ إِذَا بَدَا بِالطَّلاَقِ فَلَهُ شَرْطُهُ‏.‏ وَقَالَ نَافِعٌ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ إِنْ خَرَجَتْ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنْ خَرَجَتْ فَقَدْ بُتَّتْ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ تَخْرُجْ فَلَيْسَ بِشَىْءٍ‏.‏ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِيمَنْ قَالَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا فَامْرَأَتِي طَالِقٌ ثَلاَثًا يُسْئَلُ عَمَّا قَالَ، وَعَقَدَ عَلَيْهِ قَلْبُهُ، حِينَ حَلَفَ بِتِلْكَ الْيَمِينِ، فَإِنْ سَمَّى أَجَلاً أَرَادَهُ وَعَقَدَ عَلَيْهِ قَلْبُهُ حِينَ حَلَفَ، جُعِلَ ذَلِكَ فِي دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ‏.‏ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنْ قَالَ لاَ حَاجَةَ لِي فِيكِ‏.‏ نِيَّتُهُ، وَطَلاَقُ كُلِّ قَوْمٍ بِلِسَانِهِمْ‏.‏ وَقَالَ قَتَادَةُ إِذَا قَالَ إِذَا حَمَلْتِ فَأَنْتِ طَالِقٌ‏.‏ ثَلاَثًا، يَغْشَاهَا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ مَرَّةً، فَإِنِ اسْتَبَانَ حَمْلُهَا فَقَدْ بَانَتْ‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ إِذَا قَالَ الْحَقِي بِأَهْلِكِ‏.‏ نِيَّتُهُ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الطَّلاَقُ عَنْ وَطَرٍ، وَالْعَتَاقُ مَا أُرِيدَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ إِنْ قَالَ مَا أَنْتِ بِامْرَأَتِي‏.‏ نِيَّتُهُ، وَإِنْ نَوَى طَلاَقًا فَهْوَ مَا نَوَى‏.‏ وَقَالَ عَلِيٌّ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الْقَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يُدْرِكَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ‏.‏ وَقَالَ عَلِيٌّ وَكُلُّ الطَّلاَقِ جَائِزٌ إِلاَّ طَلاَقَ الْمَعْتُوهِ‏

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ إِذَا طَلَّقَ فِي نَفْسِهِ فَلَيْسَ بِشَىْءٍ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah has forgiven my followers the evil thoughts that occur to their minds, as long as such thoughts are not put into action or uttered." And Qatada said, "If someone divorces his wife just in his mind, such an unuttered divorce has no effect.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے کہا ہم سے قتادہ نے انہوں نے زرارہ بن اوفی سے انہوں نے ابو ہریرہ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا میری امت اپنے دل میں جو بات کرے (وسوسہ کرے)، تو اللہ نے اس کومعاف کردیاہے جب تک(ہاتھ پاوٗں سے)کام نہ کرے یا(زبان سے وہ)بات نہ نکالے قتادہ نے کہا اگر اپنی عورت کو دل میں طلاق دے (زبان سے نہ کہے )تو وہ کچھ نہیں (طلاق نہیں پڑےگا)


حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ زَنَى‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّهِ الَّذِي أَعْرَضَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَدَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ بِكَ جُنُونٌ هَلْ أُحْصِنْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أُدْرِكَ بِالْحَرَّةِ فَقُتِلَ‏

Narrated By Jabir : A man from the tribe of Bani Aslam came to the Prophet while he was in the mosque and said, "I have committed illegal sexual intercourse." The Prophet turned his face to the other side. The man turned towards the side towards which the Prophet had turned his face, and gave four witnesses against himself. On that the Prophet called him and said, "Are you insane?" (He added), "Are you married?" The man said, 'Yes." On that the Prophet ordered him to be stoned to the death in the Musalla (a praying place). When the stones hit him with their sharp edges and he fled, but he was caught at Al-Harra and then killed.

ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے خبردی انہوں نے یونس سے انہوں نے ابن شہاب سے کہامجھ کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے انہوں نے کہا اسلم قبیلے کا ایک شخص (ماغر نامی)مسجد میں نبیﷺ کے پاس آیااور کہنے لگا میں نے زنا کی آپ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا (آپ کا مطلب یہ تھا کہ چلا جائےیا خاموش رہے )لیکن وہ اُدھر گیا جدھر آپ نے منہ پھیرا تھا اورچار بار زنا کااقرار کیا آپ نے اس کو بلایااور فرمایاکہیں تو دیوانہ تو نہیں ہے(خٰیر اگر دیوانہ نہیں ہےتو)یہ بتلا تیرا نکاح ہو چکا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں ہو چکا ہے(یعنی محصن ہوں)اس وقت آپ نے حکم دیا وہ عید گاہ میں سنگسار کیا جائے جب پتھروں سے مار پڑنے لگی تو وہ بھاگا لیکن لوگوں نے اس کو حرہ میں پکڑپایا وہاں (پتھروں سے مار ڈالا گیا)۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الأَخِرَ قَدْ زَنَى ـ يَعْنِي نَفْسَهُ ـ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الأَخِرَ قَدْ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى لَهُ الرَّابِعَةَ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ بِكَ جُنُونٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ‏

Narrated By Abu Huraira : A man from Bani Aslam came to Allah's Apostle while he was in the mosque and called (the Prophet) saying, "O Allah's Apostle! I have committed illegal sexual intercourse." On that the Prophet turned his face from him to the other side, whereupon the man moved to the side towards which the Prophet had turned his face, and said, "O Allah's Apostle! I have committed illegal sexual intercourse." The Prophet turned his face (from him) to the other side whereupon the man moved to the side towards which the Prophet had turned his face, and repeated his statement. The Prophet turned his face (from him) to the other side again. The man moved again (and repeated his statement) for the fourth time. So when the man had given witness four times against himself, the Prophet called him and said, "Are you insane?" He replied, "No." The Prophet then said (to his companions), "Go and stone him to death." The man was a married one.

ہم سے ابو الیمان(حاکم بن نافع) نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نےخبر دی انہوں نےزہری سے سے کہا مجھ کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے کہ ابو ہریرہؓ نے کہااسلم قبیلے کا ایک شخص(ماعز ) مسجد میں نبیﷺکے پاس آیا اورپکار کر کہنے لگا یارسول اللہ!اس کمبخت نے زنا کی آپؑ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا لیکن وہ اُدھر گیا جدھر آپؑ نےمنہ پھیرا تھا اور پھر یہی کہنے لگا یا رسول اللہ اس کم بخت نے زنا کی آپؑ نے اس طرف سے بھی منہ پھیر لیا لیکن وہ اُدھر گیا جدھر آپ نے منہ پھیرا تھااور پھر یہی کہنے لگا آپ نے اُدھر سے بھی منہ پھیر لیا لیکن وہ چوتھی بارپھر اُدھر بھی گیا جب چار بار وہ زنا کا اقرار کر چکا آپ نے اس کو پاس بلایا اور پوچھا ارے تو دیوانہ تو نہیں ہے وہ کہنے لگا نہیں (میں دیوانہ نہیں ہوں اچھا سیاناہوں)تب آپﷺ نے صحابہ کو یہ حکم دیا لیو اس کو لے جاو سنگسار کرو یہ شخص محصن تھا (اس کا نکاح ہو چکاتھا )۔


وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ حَتَّى مَاتَ‏

Jabir bin 'Abdullah Al-Ansari said: I was one of those who stoned him. We stoned him at the Musalla ('Id praying place) in Medina. When the stones hit him with their sharp edges, he fled, but we caught him at Al-Harra and stoned him till he died.

اور اسی سند سے زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا مجھ سے ایک شخص (ابو سلمہ یا کسی اور) نے بیان کیا جس نے جابرؓ سے سنا تھا وہ کہتے تھے میں ان لوگوں میں شریک تھا جنہوں نے اسکو سنگسار کیا ہم نے اس کو مدینہ کی عید گاہ میں سنگسار کیا جب پتھروں کی چوٹ اس کو لگی تو بھاگالیکن حرہ میں ہم نے اس کو پکڑ لیا ۔ وہاں اتنے پتھر مارے کہ وہ مر گیا۔

12. باب الْخُلْعِ وَكَيْفَ الطَّلاَقُ فِيهِ

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏الظَّالِمُونَ‏}‏ وَأَجَازَ عُمَرُ الْخُلْعَ دُونَ السُّلْطَانِ، وَأَجَازَ عُثْمَانُ الْخُلْعَ دُونَ عِقَاصِ رَأْسِهَا‏.‏ وَقَالَ طَاوُسٌ ‏{‏إِلاَّ أَنْ يَخَافَا أَنْ لاَ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ‏}‏ فِيمَا افْتَرَضَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْعِشْرَةِ وَالصُّحْبَةِ، وَلَمْ يَقُلْ قَوْلَ السُّفَهَاءِ لاَ يَحِلُّ‏.‏ حَتَّى تَقُولَ لاَ أَغْتَسِلُ لَكَ مِنْ جَنَابَةٍ‏

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏.‏ أَنَّ امْرَأَةَ، ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتُبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلاَ دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلاَمِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً ‏"‏‏قَالَ أَبُو: عَبْدِ اللهِ: لا يُتَابَعُ فِيْهِ عَنِ ابنِ عَبَّاسٍ.

Narrated By Ibn 'Abbas : The wife of Thabit bin Qais came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! I do not blame Thabit for defects in his character or his religion, but I, being a Muslim, dislike to behave in un-Islamic manner (if I remain with him)." On that Allah's Apostle said (to her), "Will you give back the garden which your husband has given you (as Mahr)?" She said, "Yes." Then the Prophet said to Thabit, "O Thabit! Accept your garden, and divorce her once."

ہم سے ازہر بن جمیل نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الوہاب ثقفی نے کہا ہم سے خالد حذاء نے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے اانہوں نے کہا ثابت بن قیس کی جورو (جمیلہ بنت اُبی)نبیﷺ کے پاس آئی کہنے لگی یا رسول اللہﷺ!ثابت بن قیس کی دینداری اور اخلاق کا میں کچھ عیب نہیں کرتی مگر میں یہ نہیں چاہتی کہ مسلمان ہو کر خاوند کی ناشکری کے گناہ میں مبتلا ہوں رسول اللہﷺ نے فرمایا،اچھا ثابت نے جو باغ تجھ کو(مہر میں )دیا ہے وہ تو اس کو پھیر دیتی ہے اس نے کہا جی ہاں پھیر دیتی ہوں ،اس وقت آپ نے (ثابت سے)فرمایا اپنا باغ واپس لےلے اور ایک طلاق اس کو دے دے۔


حَدَّثَنى إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ، بِهَذَا، وَقَالَ ‏"‏ تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ فَرَدَّتْهَا وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا‏.‏ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَطَلِّقْهَا‏

Narrated By 'Ikrima : The sister of 'Abdullah bin Ubai narrated as above with the addition that the Prophet said to Thabit's wife, "Will you return his garden?" She said, "Yes," and returned it, and (then) the Prophet ordered Thabit to divorce her.

ہم سے اسحٰق بن شاہین واسطی نے بیان کیا کہا ہم سے خالد طحان نے انہوں نے خالد حذاء سے انہوں نے عکرمہ سے کہ عبداللہ بن ابی (منافق)کی بہن جمیلہ جو ابی کی بیٹی تھی نبیﷺ کے پاس آئی پھر یہی قصہ بیان کیا (جو اوپر گزرا)اس میں یوں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا تو ثابت کا باغ پھیر دے گی وہ کہنے لگی جی ہاں آخر اس نے باغ پھیر دیا اور آپ نے ثابت کو حکم دیا کہ اس کو طلاق دے دے اور ابراہیم بن طہمان نے خالد حذاء سے انہوں نے عکرمہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے (مرسلًا) یوں روایت کی ہے کہ نبیﷺ نے ثابت سے فرمایا اس کو طلاق دے دے۔


وَعَنِ أَيُّوبَ ابْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَعْتُبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ، وَلَكِنِّي لاَ أُطِيقُهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ‏.

Narrated Ibn 'Abbas: The wife of Thabit bin Qais came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! I do not blame Thabit for any defects in his character or his religion, but I cannot endure to live with him." On that Allah's Apostle said, "Will you return his garden to him?" She said, "Yes."

ایوب سختیانی عکرمہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے (مسنداً) بھی روایت کیا ہے اس میں یوں ہے کہ ثابت بن قیس کی جورو نبیﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میں کچھ ثابت کی دینداری اور اخلاق پر ناراض نہیں ہوں مگر میں اس کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی۔ نبیﷺ نے فرمایا تو اس کا باغ پھیر دیتی ہے وہ بولی جی ہاں !


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ، إِلاَّ أَنِّي أَخَافُ الْكُفْرَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ نَعَمْ‏.‏ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ، وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا‏.

Narrated By Ibn 'Abbas : The wife of Thabit bin Qais bin Shammas came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! I do not blame Thabit for any defects in his character or his religion, but I am afraid that I (being a Muslim) may become unthankful for Allah's Blessings." On that, Allah's Apostle said (to her), 'Will you return his garden to him?" She said, "Yes." So she returned his garden to him and the Prophet told him to divorce her.

ہم سے محمد بن عبداللہ بن مبارک مخرمی نے بیان کیا کہا ہم سےابو نوح قراد(عبدالرحمٰن بن غزوان)نے کہا ہم سے جریر بن حازم نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے عکرمہؓ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا ثابتؓ بن قیس بن شماس کی عورت نبیﷺ کے پاس آئی کہنے لگی یا رسول اللہؑ میں ثابت کی دینداری اور خصلت سے ناراض نہیں ہوں لیکن میں ڈرتی ہوں کہیں خاوند کی ناشکری میں نہ پھنس جاؤں آپ نے فرمایا تو اس کا باغ پھیر دیتی ہے وہ کہنے لگی ہاں آخر وہ باغ اس نے ثابت کو پھیر دیا آپؐ نے ثابت کو حکم دیا انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ‏

Narrated By 'Ikrima : That Jamila... Then he related the whole Hadith

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن یزید نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں عکرمہؓ سے یہی قصہ نقل کیا(مرسلاً!)

13. باب الشِّقَاقِ،وَهَلْ يُشِيرُ بِالْخُلْعِ عِنْدَ الضَّرُورَةِ؟

وَقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا }‏

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يَنْكِحَ عَلِيٌّ ابْنَتَهُمْ، فَلاَ آذَنُ ‏"‏‏

Narrated By Al-Miswar bin Makhrama Az-Zuhri : I heard the Prophet saying, "Banu Al-Mughira have asked my leave to let 'Ali marry their daughter, but I give no leave to this effect."

ہم سے ابوالید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیاکہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے مسور بن مخرمہؓ سے انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ سے سنا آ پ فرماتے تھے ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علیؓ سے کر دیں تو میں تو اجازت نہیں دیتا۔

14. باب لاَ يَكُونُ بَيْعُ الأَمَةِ طَلاَقًا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ، إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا‏.‏ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏‏.‏ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لاَ تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏‏.

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) Three traditions were established concerning situations in which Barra was involved: When she was manumitted, she was given the option to keep her husband or leave him; Allah's Apostle said, "The wala is for the one who manumits, Once Allah's Apostle entered the house while some meat was being cooked in a pot, but only bread and some soup of the house were placed before, him. He said, "Don't I see the pot containing meat?" They said, "Yes, but that meat was given to Barira in charity (by someone), and you do not eat what it given in charity. "The Prophet said "That meat is alms for her, but for us it is a present."

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے انہوں نے قا سم بن محمد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ ام المومنین سے انہوں نے کہا بریرہؓ کی وجہ سے شریعت کے مسئلے تین معلوم ہو گئے ایک تو یہ کہ وہ آزاد ہو ئی تو اس کو اختیار دیا گیا (اپنے خاوند کے پاس رہے یااس سے جدا ہوئے) دوسرے نبیﷺ نے فرمایا ولاء اسی کو ملے گی جو لونڈی غلام آزاد کرے تیسرے ایک بار ایسا ہوا کہ رسول اللہﷺ(میرے حجرے میں )تشریف لائے دیکھا تو ہانڈی میں گوشت ابل رہا ہے پھر آپ کے سامنے (کھانے کے لئے )روٹی رکھی گئی اور گھر میں کچھ سالن آپ نے فرمایا ہائیں میں نے خود دیکھا ہانڈی میں گوشت ابل رہا ہے لوگوں نے عرض کیا بجا ارشاد ہوا مگر وہ گوشت بریرہ کو صدقہ کے طور پر ملا ہے آپ صدقہ کی چیز تو نہیں کھاتے آپ نے فرمایا صدقہ بریرہ کے لیے تھا اور ہمارے لیے تو بریرہ کی طرف سےتحفہ ہوگا ۔

15. باب خِيَارِ الأَمَةِ تَحْتَ الْعَبْدِ

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَأَيْتُهُ عَبْدًا يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ‏.

Narrated By Ibn 'Abbas : I saw him as a slave, (namely, Barira's husband).

ہم سے ابو الولید نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے عکرمہؓ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا میں نے بریرہؓ کے خاوند (مغیث)کو دیکھا تھا وہ غلام تھا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلاَنٍ ـ يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ ـ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، يَبْكِي عَلَيْهَا‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : That was Mughith, the slave of Bani so-and-so, i.e., Barira's husband as if I am now looking at him following her (Barira) along the streets of Medina.

ہم سے عبدالاعلی بن حماد نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب بن خالد نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے کہا مغیث بریرہ کا خاوند فلاں لوگوں کا غلام تھا (بنی مغیرہ کا)گویا میں اس کو دیکھ رہا ہوں وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ کے پیچھے پیچھے روتا جاتا تھا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ، عَبْدًا لِبَنِي فُلاَنٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ وَرَاءَهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : Barira's husband was a black slave called Mughith, the slave of Bani so-and-so as if I am seeing him now, walking behind her along the streets of Medina.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوہاب نے انہوں نے ایوب سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا بریرہ کا خاوند ایک کالا غلام تھا مغیث نامی جو فلاں لوگوں کا غلام تھا جیسے میں اس کو اس وقت دیکھ رہا ہوں بریرہ کے پیچھے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں چکر لگا رہاتھا۔

16. باب شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي زَوْجِ بَرِيرَةَ

حَدَّثَنى مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ، بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي، وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبَّاسٍ ‏"‏ يَا عَبَّاسُ أَلاَ تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ رَاجَعْتِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ لاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ‏.

Narrated By Ibn 'Abbas : Barira's husband was a slave called Mughith, as if I am seeing him now, going behind Barira and weeping with his tears flowing down his beard. The Prophet said to 'Abbas, "O 'Abbas ! are you not astonished at the love of Mughith for Barira and the hatred of Barira for Mughith?" The Prophet then said to Barira, "Why don't you return to him?" She said, "O Allah's Apostle! Do you order me to do so?" He said, "No, I only intercede for him." She said, "I am not in need of him."

مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا کہا ہم کو عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے خبر دی کہا ہم سے خالد حزاء نے بیان کیا انہوں نے عکرمہؓ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا بریرہ کا خاوند غلام تھا اس کا نام مغٰث تھا گویا میں اس وقت دیکھ رہا ہوں وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے روتا ہوا گھوم رہاتھا اس کے آنسو داڑھی پر بہہ رہے تھے (وہ چاہتا تھا بریرہ میرے پاس رہے )نبیﷺ نے یہ حال دیکھ کر حضرت عباسؓ سے فرمایا عباس تم کو تعجب نہیں آتا دیکھ کر مغیث کو بریرہ سے کیسی محبت ہے اور بریرہ کو اس سے کیسی نفرت ہے پھر آپ نے بریرہ سے فرمایا تو مغیث کے پاس رہ جائے تو اچھا ہے بریرہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ اس کا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا حکم نہیں بلکہ میں سفارش کے طور پر کہتا ہوں بریرہ نے کہا مجھ کو مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔

17. باب

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ، فَأَبَى مَوَالِيهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلاَءَ، فَذَكَرَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏‏.‏ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَقِيلَ إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ ‏"‏ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَزَادَ فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا‏

Narrated By Al-Aswad : 'Aisha intended to buy Barira, but her masters stipulated that her wala wound be for them. 'Aisha mentioned that to the Prophet who said (to 'Aisha), "Buy and manumit her, for the wala is for the one who manumits." Once some me; was brought to the Prophet and was said, "This meat was given in charity to Barira. " The Prophet said, "It an object of charity for Barira and present for us." Narrated By Adam : Shu'ba relate the same Hadith and added: Barira was given the option regarding her husband.

ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی انہوں نے حکم سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے اسود سے انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو اس کے مالکوں نے کہا ہم اس شرط پر بیچیں گے کہ بریرہ کا ترکہ ہم لیں گے حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا تو خرید کر کے آزاد کردے ترکہ تو اسی کو ملے گا جو لونڈی غلام آزاد کرے اور ایک بار ایسا ہوا نبیﷺ کے پاس گوشت لے کر آئے لوگوں نے کہا یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو خیرات ملا تھا آپ نہ کھائیے آپ نے فرمایا وہ بریرہ کو خیرات ملا تھا (ہمارے لئے خیرات تھوڑی ہے)بلکہ تحفہ ہے۔

18. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَلاَ تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ‏}‏

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ نِكَاحِ النَّصْرَانِيَّةِ، وَالْيَهُودِيَّةِ، قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْمُشْرِكَاتِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلاَ أَعْلَمُ مِنَ الإِشْرَاكِ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنْ أَنْ تَقُولَ الْمَرْأَةُ رَبُّهَا عِيسَى، وَهْوَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ

Narrated By Nafi' : Whenever Ibn 'Umar was asked about marrying a Christian lady or a Jewess, he would say: "Allah has made it unlawful for the believers to marry ladies who ascribe partners in worship to Allah, and I do not know of a greater thing, as regards to ascribing partners in worship, etc. to Allah, than that a lady should say that Jesus is her Lord although he is just one of Allah's slaves."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمرؓ سے جب پوچھتے نصرانی یا یہودی عورت سے نکاح درست ہے یا نہیں تو وہ کہتے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر مشرک عورتوں سے نکاح کرنا حرام کیا ۔اور اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہو گی کہ کوئی عورت اپنا خداوند حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہے حا لانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک مقبول بندے ہیں ۔

19. باب نِكَاحِ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكَاتِ وَعِدَّتِهِنَّ

حَدَّثَنى إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ، عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْمُؤْمِنِينَ، كَانُوا مُشْرِكِي أَهْلِ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ، وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لاَ يُقَاتِلُهُمْ وَلاَ يُقَاتِلُونَهُ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، فَإِذَا طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْكِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ، وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِينَ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ مِثْلَ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ أَهْلِ الْعَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا، وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The pagans were of two kinds as regards their relationship to the Prophet and the Believers. Some of them were those with whom the Prophet was at war and used to fight against, and they used to fight him; the others were those with whom the Prophet made a treaty, and neither did the Prophet fight them, nor did they fight him. If a lady from the first group of pagans emigrated towards the Muslims, her hand would not be asked in marriage unless she got the menses and then became clean. When she became clean, it would be lawful for her to get married, and if her husband emigrated too before she got married, then she would be returned to him. If any slave or female slave emigrated from them to the Muslims, then they would be considered free persons (not slaves) and they would have the same rights as given to other emigrants. The narrator then mentioned about the pagans involved with the Muslims in a treaty, the same as occurs in Mujahid's narration. If a male slave or a female slave emigrated from such pagans as had made a treaty with the Muslims, they would not be returned, but their prices would be paid (to the pagans).

مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے انہوں نے ابن جریج سے (انہوں نے کئ حدیثیں بیان کیں) اور کہا کہ عطاء خراسانی ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا نبی ﷺ سے دو طرح کے مشرکوں کو سابقہ تھا ایک تو ان مشرکوں کو جن سے لڑائی تھی اان سے تو نبیﷺ لڑتے اور وہ نبیﷺ سے لڑتے دوسرے ان مشرکوں کو جن سے عہدو پیمان ہو اتھا نہ وہ نبیﷺ سے لڑتے اور نہ نبیﷺ ان سے لڑتے اور جن مشرکوں سے لڑائی تھی ان کی اگر کوئی عورت بھاگ کر دارالسلام میں چلی آتی تو جب تک اس کو (تین ) حیض نہ آلیتے کوئی نکاح کا پیغام اس کو نہ دیتا البتہ جب حیض سے پاک ہو لیتی اس وقت اس کو نکاح کرنا درست ہوتا اگر ابھی اس عورت نے (کسی مسلمان سے)نکاح نہ کیا ہو اتنے میں اس کا خاوند بھی (مسلمان ہو کر)آجاتا تو وہ اسی کی عورت رہتی اور اگر ان مشرکوں کا جن سے لڑائی نہ تھی کوئی لونڈی غلام بھاگ آتا تو وہ آزاد سمجھا جاتا اور دوسرے (آزاد) مہاجرین کے برابر ہوتا پھر عطا نے ان مشرکوں کا حال جن سے عہدو پیمان تھا مجاہد کی طرح بیان کیا یعنی اگر ان مشرکوں کا کوئی غلام لونڈی بھاگ آتا تو وہ پھر مشرکوں کے حوالے نہ کیا جاتا مگر ان کی قیمت ان مشرکوں کو دی جاتی ۔


وَقَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، كَانَتْ قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ أُمُّ الْحَكَمِ ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِهْرِيِّ فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ الثَّقَفِيُّ‏.

Narrated Ibn 'Abbas: Qariba, the daughter of Abi Umaiyya, was the wife of 'Umar bin Al-Khattab. 'Umar divorced her and then Mu'awiyya bin Abi Sufyan married her. Similarly, Um Al-Hakam, the daughter of Abi Sufyan was the wife of 'Iyad bin Ghanm Al-Fihri. He divorced her and then 'Abdullah bin 'Uthman Al-Thaqafi married her.

اور (اسی اسناد سے) عطاء نے ابن عباسؓ سے روایت کی کہ قریبہ ابو امیہ کی بیٹی (جو ام المومنین ام سلمہؓ کی بہن تھی)حضرت عمرؓ کے نکاح میں تھی انہوں نے اس کوطلاق دے دیا تو معاویہ بن ابی سفیان نے ان سے نکاح کر لیا اور ام الحکم ابو سفیان کی بیٹی عیاض بن غنم کے نکاح میں تھی انہوں نے اسکو طلاق دےدیا تو عبداللہ بن عثمان ثقفی نے اس سے نکاح کر لیا۔

20. باب إِذَا أَسْلَمَتِ الْمُشْرِكَةُ أَوِ النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الذِّمِّيِّ أَوِ الْحَرْبِيِّ‏

وَقَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذَا أَسْلَمَتِ النَّصْرَانِيَّةُ قَبْلَ زَوْجِهَا بِسَاعَةٍ حَرُمَتْ عَلَيْهِ‏.‏ وَقَالَ دَاوُدُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ سُئِلَ عَطَاءٌ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ أَسْلَمَتْ ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُهَا فِي الْعِدَّةِ أَهِيَ امْرَأَتُهُ قَالَ لاَ، إِلاَّ أَنْ تَشَاءَ هِيَ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ وَصَدَاقٍ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِذَا أَسْلَمَ فِي الْعِدَّةِ يَتَزَوَّجُهَا‏.‏ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏لاَ هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلاَ هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ‏}‏ .وَقَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَةُ فِي مَجُوسِيَّيْنِ أَسْلَمَا هُمَا عَلَى نِكَاحِهِمَا، وَإِذَا سَبَقَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَأَبَى الآخَرُ بَانَتْ، لاَ سَبِيلَ لَهُ عَلَيْهَا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قُلْتُ لِعَطَاءٍ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ جَاءَتْ إِلَى الْمُسْلِمِينَ أَيُعَاوَضُ زَوْجُهَا مِنْهَا، لِقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَآتُوهُمْ مَا أَنْفَقُوا‏}‏ قَالَ لاَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ بَيْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ أَهْلِ الْعَهْدِ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ هَذَا كُلُّهُ فِي صُلْحٍ بَيْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ قُرَيْشٍ‏.‏

حَدَّثَنَا يحْيَ بنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،‏.‏ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَمْتَحِنُهُنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ ‏"‏، لاَ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، غَيْرَ أَنَّهُ بَايَعَهُنَّ بِالْكَلاَمِ، وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النِّسَاءِ إِلاَّ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ ‏"‏ قَدْ بَايَعْتُكُنَّ ‏"‏‏.‏ كَلاَمًا‏.‏

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) When believing women came to the Prophet as emigrants, he used to test them in accordance with the order of Allah. 'O you who believe! When believing women come to you as emigrants, examine them...' (60.10) So if anyone of those believing women accepted the above mentioned conditions, she accepted the conditions of faith. When they agreed on those conditions and confessed that with their tongues, Allah's Apostle would say to them, "Go, I have accepted your oath of allegiance (for Islam). By Allah, and hand of Allah's Apostle never touched the hand of any woman, but he only used to take their pledge of allegiance orally. By Allah, Allah's Apostle did not take the pledge of allegiance of the women except in accordance with what Allah had ordered him. When he accepted their pledge of allegiance he would say to them, "I have accepted your oath of allegiance."

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے اور ابراہیم بن منذر نے یوں کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہا مجھ سے یونس نے کہ ابن شہاب نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیرؓ نے خبر دی کہ حضرت عائشہؓ ام المومنین نے کہا کافروں کی جو عورتیں مسلمان ہو کر نبیﷺ کے پاس (مدینہ میں )چلی آتی تھیں آپ ان کو جانچتے تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے (سورہٗ ممتحنہ میں )فرمایا مسلمانو جب کافر عورتیں مسلمان ہو کراپنا ملک چھوڑ کر تمہارے پاس آجائیں تو ان کو جانچو اخیر آیت تک حضرت عائشہؓ کہتی ہیں پھر جو عورت ان شرطوں (جو آیت میں مذکور ہیں ) کو قبول کرتی وہ امتحان میں پوری اترتی جب وہ ان شرطوں میں پورا کرنے کا اقرار کر لیتی تو رسول اللہﷺ ان سے فرماتے اچھا اب جاؤ میں نے تم سے بیعت لے لی۔ خدا کی قسم نبیﷺ کا ہاتھ کسی عورت سے کبھی چھوا بھی نہیں (مصافحہ کرنا تو کجا) بس زبان سے ان سے بیعت لیتے خدا کی قسم رسول اللہﷺ نے عورتوں سے ان باتوں کا عہد جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا بس اسی طرح سے لیا کہ زبان سے ان سے اقرار کرالیااس کے بعد آپ بھی زبان سے فرما دیتے میں نے تم سے بیعت لے لی۔

1234Last ›