21. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ}
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ آلَيْتَ شَهْرًا. فَقَالَ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ "
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle took an oath that he would abstain from his wives, and at that time his leg had been sprained (dislocated). So he stayed in the Mashruba (an attic room) of his for 29 days. Then he came down, and they (the people) said, "O Allah's Apostle! You took an oath to abstain from your wives for one month." He said, "The month is of twenty nine days."
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا انہوں نے اپنے بھائی (عبدالحمیدبن ابی اویس)سے انہوں نے سلیمان بن بلال سے انہوں نے حمید طویل سے انہوں نے انس بن مالک سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نے ایلا کیا (ایک مہینے تک اپنی عورتوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی ) آپ کے پاؤں میں موچ آگئی تھی تو آپ انتیس راتوں تک ایک بالا خانے (ماڑی) میں بیٹھے رہے اس کے بعد اتر آئے (عورتوں کے پاس تشریف لے گئے ) انہوں نے کہا یا رسول اللہؑ ! آپ نے تو ایک مہینہ کی قسم کھائی تھی آپ نے فرمایا ہاں مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رضى الله عنهما كَانَ يَقُولُ فِي الإِيلاَءِ الَّذِي سَمَّى اللَّهُ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدَ الأَجَلِ إِلاَّ أَنْ يُمْسِكَ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يَعْزِمَ بِالطَّلاَقِ، كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
Narrated By Nafi : Ibn 'Umar used to say about the Ila (which Allah defined (in the Holy Book), "If the period of Ila expires, then the husband has either to retain his wife in a handsome manner or to divorce her as Allah has ordered."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں اس ایلا میں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے ہر شخص کو مدت گزرنے کے بعد اور کچھ درست نہیں یا تو دستور کے موافق اپنی عورت کو رکھ لے (اس سے صحبت کر لے ) یا طلاق دے دے جیسےاللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔
وَقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يُوقَفُ حَتَّى يُطَلِّقَ، وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلاَقُ حَتَّى يُطَلِّقَ. وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعَائِشَةَ وَاثْنَىْ عَشَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Ibn 'Umar added, "When the period of four months has expired, the husband should be put in prison so that he should divorce his wife, but the divorce does not occur unless the husband himself declares it. This has been mentioned by 'Uthman, 'Ali, Abu Ad-Darda, 'Aisha and twelve other companions of the Prophet."
امام بخاری نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نےکہا جب چار ماہ گزر جائیں تو مرد کو مجبور کریں گے یا تو قسم سے رجوع کرے (عورت سے صحبت کرے)یا طلاق دےدے اور جب تک خاوند طلاق نہ دے عو ر ت پرطلا ق نہیں پڑ تا حضرت عثما نؓ اور حضرت علیؓ اور ابو درداء اور حضرت عا ئشہؓ اور بارہ صحابہؓ سے ایسا ہی منقو ل ہے۔
22. حُكْمِ الْمَفْقُودِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ
وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِذَا فُقِدَ فِي الصَّفِّ عِنْدَ الْقِتَالِ تَرَبَّصُ امْرَأَتُهُ سَنَةً. وَاشْتَرَى ابْنُ مَسْعُودٍ جَارِيَةً وَالْتَمَسَ صَاحِبَهَا سَنَةً فَلَمْ يَجِدْهُ وَفُقِدَ، فَأَخَذَ يُعْطِي الدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَنْ فُلاَنٍ وَعَلَىَّ. وَقَالَ هَكَذَا فَافْعَلُوا بِاللُّقَطَةِ. وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِي الأَسِيرِ يُعْلَمُ مَكَانُهُ لاَ تَتَزَوَّجُ امْرَأَتُهُ، وَلاَ يُقْسَمُ مَالُهُ فَإِذَا انْقَطَعَ خَبَرُهُ فَسُنَّتُهُ سُنَّةُ الْمَفْقُودِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ " خُذْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ". وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ، فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَقَالَ " مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ، تَشْرَبُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ". وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ " اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، وَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَإِلاَّ فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ ". قَالَ سُفْيَانُ فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ـ قَالَ سُفْيَانُ وَلَمْ أَحْفَظْ عَنْهُ شَيْئًا غَيْرَ هَذَا ـ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ فِي أَمْرِ الضَّالَّةِ، هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ نَعَمْ. قَالَ يَحْيَى وَيَقُولُ رَبِيعَةُ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ. قَالَ سُفْيَانُ فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ فَقُلْتُ لَهُ.
Narrated By Yazid : (The Maula of Munba'ith) The Prophet was asked regarding the case of a lost sheep. He said, "You should take it, because it is for you, or for your brother, or for the wolf." Then he was asked about a lost camel. He got angry and his face became red and he said (to the questioner), "You have nothing to do with it; it has its feet and its water container with it; it can go on drinking water and eating trees till its owner meets it." And then the Prophet was asked about a Luqata (money found by somebody). He said, "Remember and recognize its tying material and its container, and make public announcement about it for one year. If somebody comes and identifies it (then give it to him), otherwise add it to your property."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انہوں نے یزید سے جو منبعث کا غلام تھا (یہ تابعی ہیں )انہوں نے کہا نبیﷺ سے گمی ہوئی بکری کا حکم پوچھا گیا آپ نے فرمایا اس کو پکڑ لے وہ یا تیری ہو گی یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی (وہ کھا لے گا اگر کوئی نہ پکڑ ے)پھر گمے ہوئے اونٹ کا حکم پوچھا تو آپ ﷺ غصے ہو گئے آپ کے گال سرخ ہو گئے اور فرمانے لگے اُونٹ سے تجھے کیا کام ہے اسکی فکر کیوں کرتا ہے اسکو پھر نے دے اس کا موزہ اسکے پاس اس کا مشکیزہ اس کے پا س پانی پیتا اور درخت چرتا رہتا ہے جب اسکا مالک آتا ہے تو اس کولے لیتا ہے اور نبیﷺ سے پڑی ہوئی چیز کا حکم پو چھا گیا تو فرمایا اسکا سر بندھن اور تھیلا پہچان رکھ اور ایک برس تک لوگوں سے پوچھتارہ اگر کوئی پہچاننے والا آئے اور نہیں تو اپنے مال میں شریک کر ڈال سفیان بن عیینہؒ نےکہا (یحییٰ سے یہ حدیث سننے کے بعد )میں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے ملا اور میں نے ربیعہ سے اور کوئی حدیث نہیں لی میں نے اس سے پوچھا یہ جو یزید کی حدیث گمی ہوئی چیز کے باب میں روایت کی جاتی ہے (یزید تو تابعی ہے) تو کیا وہ زید بن خالد(صحابی)سے مروی ہے انہوں نے کہا ہاں سفیان کہتے ہیں مجھ سے یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ کہا تھا کہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن اس حدیث کو یزید سے انہوں نے زید بن خالد سے موصولا روایت کر تے ہیں اس پر میں ربیعہ سے ملا اور ان سے پوچھا۔
23. باب {الظِّهَارِ}
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} إِلَى قَوْلِهِ {فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا}
24. باب الإِشَارَةِ فِي الطَّلاَقِ وَالأُمُورِ
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُعَذِّبُ اللَّهُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا ". فَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ. وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ أَىْ خُذِ النِّصْفَ. وَقَالَتْ أَسْمَاءُ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْكُسُوفِ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا شَأْنُ النَّاسِ وَهْىَ تُصَلِّي، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى الشَّمْسِ، فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ. وَقَالَ أَنَسٌ أَوْمَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَوْمَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ لاَ حَرَجَ. وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ " آحَدٌ مِنْكُمْ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا ". قَالُوا لاَ. قَالَ " فَكُلُوا "
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَعِيرِهِ، وَكَانَ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ، وَكَبَّرَ.وَقَالَتْ زَيْنَبُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ". وَعَقَدَ تِسْعِينَ.
Narrated By Ibn Abbas : Allah's Apostle performed the Tawaf (around the Ka'ba while riding his camel, and every time he reached the corner (of the Black Stone) he pointed at it with his hand and said, "Allahu Akbar." (Zainab said: The Prophet said, "An opening has been made in the wall of Gog and Magog like this and this," forming the number 90 (with his thumb and index finger).
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عامر عبدالملک بن عمرو نے کہا ہم سے ابرہیم بن طہمان نے انہوں نے خالد حزاء سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺنے اونٹ پر سوار رہ کر طواف کیا جب حجر اسود کے مقابل آتے تو اشارہ کرتے اور اللہ ا کبر کہتے اور حضرت زینبؓ نے کہا (یہ حدیث علامات النبوۃ میں مو صولاًگزر چکی ہے )نبی ﷺ نے فرمایا یا جوج ماجوج کی سد
(آج اتنی) کھل گئی اور انگلیوں کو جوڑ کر نوے کا اشارہ بتلایا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم " فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا، إِلاَّ أَعْطَاهُ ". وَقَالَ بِيَدِهِ، وَوَضَعَ أَنْمَلَتَهُ عَلَى بَطْنِ الْوُسْطَى وَالْخِنْصَرِ. قُلْنَا يُزَهِّدُهَا.
Narrated By Abu Huraira : Abul Qasim (the Prophet) said, "There is an hour (or a moment) of particular significance on Friday. If it happens that a Muslim is offering a prayer and invoking Allah for some good at that very moment, Allah will grant him his request." (The sub-narrator placed the top of his finger on the palm of the other hand between the middle finger and the little one.)
ہم سے مسددبن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ہم سے سلمہ بن علقمہ نے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا حضرت ابوالقاسم نبیﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی آتی ہے اس میں جو مسلمان کھڑا رہ کر نماز پڑھتا ہو اور اللہ تعالیٰ سے کوئی بھلائی کی بات مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو دے گا آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور انگلیوں کی پوریں بیچ کی انگلی اور چھنگلیا انگلی پر اندر کی طرف رکھیں ہم اس کا مطلب یہ سمجھے کہ وہ گھڑی تھوڑ ی دیر رہتی ہے ۔
قَالَ:وَقَالَ الأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا وَرَضَخَ رَأْسَهَا، فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ فِي آخِرِ رَمَقٍ، وَقَدْ أُصْمِتَتْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ ". لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، قَالَ فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ أَنْ لاَ، فَقَالَ " فَفُلاَنٌ ". لِقَاتِلِهَا فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
Narrated By Anas bin Malik : During the lifetime of Allah's Apostle a Jew attacked a girl and took some silver ornaments she was wearing and crushed her head. Her relative brought her to the Prophet while she was in her last breaths, and she was unable to speak. Allah's Apostle asked her, "Who has hit you? So-and so?", mentioning somebody other than her murderer. She moved her head, indicating denial. The Prophet mentioned another person other than the murderer, and she again moved her head indicating denial. Then he asked, "Was it so-and-so?", mentioning the name of her killer. She nodded, agreeing. Then Allah's Apostle; ordered that the head of that Jew be crushed between two stones.
اور عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا انہوں نے شعبہ بن حجاج سے انہوں نے ہشام بن زید سے انہوں نے (اپنے دادا) انسؓ بن مالکؓ سے انہوں نے کہا ایک یہودی نے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں ایک چھوکری پر ستم کیا اس کا زیور اتار لیا اور اس کا پتھر سے کچل ڈالا اس چھوکری کے لوگ اس کو رسول اللہﷺ کے پاس لے کر آئے اس میں ایک رمق جان باقی تھی (مرنے کے قریب تھی) اور زبان بند ہو گئی تھی رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا تجھ کو کس نے مارا فلانے یہودی نے تو نہیں مارا (جس نےمارا تھا اس کا نام نہیں کسی اور کا نام لیا )تو اس نے اشارے سے کہا نہیں پھر آپؑ نے کسی اور کا نام لیا غیر قاتل کا تو اس نے اشارے سے کہا نہیں پھر آپؐ نے اس یہودی کا نام لیا جس نے مارا تھا اس نے اشارے سے کہا ہاں (یعنی وہی میرا قاتل ہے) اس وقت آپ نے حکم دیا اس یہودی کا سر دو پتھروں میں کچلا گیا۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْفِتْنَةُ مِنْ هَا هُنَا ". وَأَشَارَ إِلَى الْمَشْرِقِ
Narrated By Ibn 'Umar : I heard the Prophet saying, "Afflictions will emerge from here," pointing towards the East.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ کوفی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے ( اخیر زمانہ میں ) فتنہ( اور فساد )ادھر سے اٹھے گا آپ نے پورب کی طرف اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ. ثُمَّ قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا. ثُمَّ قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ ". فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ "
Narrated By 'Abdullah bin Abi A'ufa : We were with Allah's Apostle on a journey, and when the sun set, he said to a man, "Get down and prepare a drink of Sawiq for me." The man said, "O Allah's Apostle! Will you wait till it is evening?" Allah's Apostle again said, "Get down and prepare a drink of Sawiq." The man said, "O Allah's Apostle! Will you wait till it is evening, for it is still daytime. " The Prophet again said, "Get down and prepare a drink of Sawiq." So the third time the man got down and prepared a drink of Sawiq for him. Allah's Apostle drank thereof and pointed with his hand towards the East, saying, "When you see the night falling from this side, then a fasting person should break his fast."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے انہوں نے ابو اسحٰق شیبانی سے انہوں نے عبداللہ بن اوفی سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر (غزوہ فتح )میں تھے جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے ایک شخص (بلالؓ) سے فرمایا اتر ستو گھول وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ شام تو ہونے دیجیے آپ نے فرمایا اتر ستو گھول وہ کہنے لگا یا رسول اللہﷺ شام تو ہونے دیجیے ابھی تو دن ہے
آُ پ نے فرمایانہیں اتر ستو گھول آخر انھوں نے تیسری بار کے فرمانے میں اتر کر ستو گھولا رسول اللہﷺ نے پیا اپنے ہاتھ سے پورب کی طرف اشارہ کیا فرمایا جب تم دیکھو پورب کی طرف سے رات کی تاریکی نمودار ہو تو روزے کے افطار کا وقت آن پہنچا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ نِدَاءُ بِلاَلٍ ـ أَوْ قَالَ أَذَانُهُ ـ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي أَوْ قَالَ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ ". وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ كَأَنَّهُ يَعْنِي الصُّبْحَ أَوِ الْفَجْرَ، وَأَظْهَرَ يَزِيدُ يَدَيْهِ ثُمَّ مَدَّ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى
Narrated By 'Abdullah bin Mas'ud : The Prophet said, "The call (or the Adhan) of Bila should not stop you from taking the Suhur-meals for Bilal calls (or pronounces the Adhan) so that the one who is offering the night prayer should take a rest, and he does not indicate the daybreak or dawn." The narrator, Yazid, described (how dawn breaks) by stretching out his hands and then separating them wide apart.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے انہوں نے سلیمان تیمی سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے لوگوں سے فرمایا دیکھو بلالؓ کی آذان سن کر کہیں تم سحری کھانے سے باز نہ رہنا بلال تو (رات رہے سے ) اس لیے آذان دیتے ہیں کہ جو شخص تم میں (تہجدکی نماز میں)کھڑا ہو وہ لوٹ جائے اور صبح یا فجر کی روشنی وہ نہیں ہے جو اس طرح لنبی ظاہر ہوتی ہے ۔ یزید راوی نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر بتلائے (یہ صبح کاذب ہے)پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے جدا کرکے دائیں بائیں کھینچا (یہ صبح صادق ہے) ۔
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلاَ يُنْفِقُ شَيْئًا إِلاَّ مَادَّتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلاَ يُرِيدُ يُنْفِقُ إِلاَّ لَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا، فَهْوَ يُوسِعُهَا فَلاَ تَتَّسِعُ ". وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَى حَلْقِهِ
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, The example of a miser and a generous person is like that of two persons wearing iron cloaks from the breast upto the neck When the generous person spends, the iron cloak enlarges and spread over his skin so much so that it covers his fingertips and obliterates his tracks. As for the miser, as soon as he thinks of spending every ring of the iron cloak sticks to its place (against his body) and he tries to expand it, but it does not expand. The Prophet pointed with his hand towards his throat.
اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز سے انہوں نے کہا میں نے ابو ہریرہؓ سے سنا رسول اللہﷺ نے فرمایا بخیل کی (جو کچھ نہیں خرچتا)اور سخی(جو خرچ کرتا ہے) کی مثال ان دو شخصوں کی سی ہے جو لوہے کے کرتے (زرہیں)چھاتی سے لے کر ہنسلی تک پہنے ہوں خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو اس کا کرتہ کھینچ کر اور لمبا چوڑا ہو جاتا ہے اور اتنا کشادہ کہ پاؤں کی انگلیوں تک کو ڈھانپ لیتا ہے اور رستہ چلنے میں اس کے قدم کے نشان مٹاتا جاتا ہے (اتنا نیچا ہو جاتا ہے )اور بخیل جب کچھ خرچ کرنے کا قصد کرتا ہے تو کرتے کاایک ایک حلقہ اپنی جگہ سمٹ کراور تنگ ہوجاتا ہے وہ چاہتا ہے ذرا ڈھیلا ہو لیکن ڈھیلا نہیں ہوتا آخر وہ انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔
25. باب اللِّعَانِ
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {مِنَ الصَّادِقِينَ}، فَإِذَا قَذَفَ الأَخْرَسُ امْرَأَتَهُ بِكِتَابَةٍ أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ بِإِيمَاءٍ مَعْرُوفٍ، فَهْوَ كَالْمُتَكَلِّمِ، لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَجَازَ الإِشَارَةَ فِي الْفَرَائِضِ، وَهْوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى {فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا}. وَقَالَ الضَّحَّاكُ {إِلاَّ رَمْزًا} إِشَارَةً. وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لاَ حَدَّ وَلاَ لِعَانَ. ثُمَّ زَعَمَ أَنَّ الطَّلاَقَ بِكِتَابٍ أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ إِيمَاءٍ جَائِزٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الطَّلاَقِ وَالْقَذْفِ فَرْقٌ، فَإِنْ قَالَ الْقَذْفُ لاَ يَكُونُ إِلاَّ بِكَلاَمٍ. قِيلَ لَهُ كَذَلِكَ الطَّلاَقُ لاَ يَجُوزُ إِلاَّ بِكَلاَمٍ، وَإِلاَّ بَطَلَ الطَّلاَقُ وَالْقَذْفُ، وَكَذَلِكَ الْعِتْقُ، وَكَذَلِكَ الأَصَمُّ يُلاَعِنُ. وَقَالَ الشَّعْبِيُّ وَقَتَادَةُ إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ. فَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ، تَبِينُ مِنْهُ بِإِشَارَتِهِ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ الأَخْرَسُ إِذَا كَتَبَ الطَّلاَقَ بِيَدِهِ لَزِمَهُ. وَقَالَ حَمَّادٌ الأَخْرَسُ وَالأَصَمُّ إِنْ قَالَ بِرَأْسِهِ جَازَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ ". قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ ". ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ، فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ "
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle said, "Shall I tell you of the best families among the Ansar?" They (the people) said, "Yes, O Allah's Apostle!" The Prophet said, "The best are Banu- An-Najjar, and after them are Banu 'Abdil Ash-hal, and after them are Banu Al-Harith bin Al-Khazraj, and after them are Banu Sa'ida." The Prophet then moved his hand by closing his fingers and then opening them like one throwing something, and then said, "Anyhow, there is good in all the families of the Ansar."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے امام لیث بن سعید نے انہوں نے یحیٰی بن سعید انصاری سے انہوں نے انس بن مالک سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا میں تم کو انصار کا عمدے سے عمدہ گھرانہ نہ بتلاؤں لوگوں نے کہا بتلائیے یا رسول اللہﷺ آپ نے فرمایا بنی نجار کا گھرانہ پھر جو ان کے قریب رہتے ہیں بنی عبد الاشہل پھر جو ان کے قریب رہتے ہیں بنی حارث بن خزرج پھر جو ان سے قریب ہیں بنی ساعدہ بن (بن کعب بن خزرج)پھر آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا انگلیوں کو بند کرلیا پھر کھولا جیسے کوئی چیز پھینکتا ہے پھر فرمایا یا انصار کے سب گھرانے عمدہ ہی عمدہ ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ سَمِعْتُهُ مِنْ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ أَوْ كَهَاتَيْنِ ". وَقَرَنَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
Narrated By Sahl bin Sad As-Sa'idi : (A companion of Allah's Apostle) Allah's Apostle, holding out his middle and index fingers, said, "My advent and the Hour's are like this (or like these)," namely, the period between his era and the Hour is like the distance between those two fingers, i.e., very short.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہ ابو حازم (سلمہ بن دینار )نے کہا میں نے سہیل بن سعد ساعدیؓ سے سنا جو رسول اللہﷺ کے صحابی تھے وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اور قیامت دونوں اس طرح نزدیک نزدیک ہیں جیسے یہ انگلی اس انگلی سے آپ نے کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو جوڑ کر بتلایا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". يَعْنِي ثَلاَثِينَ، ثُمَّ قَالَ " وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ". يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَقُولُ، مَرَّةً ثَلاَثِينَ وَمَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet (holding out his ten fingers thrice), said, "The month is thus and thus and thus," namely thirty days. Then (holding out his ten fingers twice and then nine fingers), he said, "It may be thus and thus and thus," namely twenty nine days. He meant once thirty days and once twenty nine days.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے کہا میں نے ابن عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نے فرمایا مہینہ اتنے دن کا ہوتا ہے اوراتنے دن کا اور اتنے دن کا ( یعنی تیس دن کا دسوں انگلیوں سے تین بار اشارہ کیا) اور کبھی اتنے دن کا ہوتا ہے اور اتنے دن کا اور اتنے دن کا (یعنی انتیس دن کا اخیر میں انگوٹھا بند کرلیا)۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ وَأَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ " الإِيمَانُ هَا هُنَا ـ مَرَّتَيْنِ ـ أَلاَ وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ "
Narrated By Abu Masud : The Prophet pointed with his hand towards Yemen and said twice, "Faith is there," and then pointed towards the East, and said, "Verily, sternness and mercilessness are the qualities of those who are busy with their camels and pay no attention to their religion, where the two sides of the head of Satan will appear," namely, the tribes of Rabl'a and Muqar.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے ابو مسعود انصاریؓ سے (نبیﷺ نے حدیث بیان کی )آپ نے اپنے ہاتھوں سے یمن کی طرف اشارہ کیا فرمایا ایمان یہاں ہے دو بار یہی فرمایا دیکھو خبردار ہو جاؤ سخت دلی اور اکھڑا پن ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کے پیچھے چلاتے رہتے ہیں وہیں سے شیطان کی دونوں چوٹیاں نمودار ہوں گی یعنی ربیعہ اور مضر کے ملکوں سے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا ". وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
Narrated By Sahl : Allah's Apostle said, "I and the one who looks after an orphan will be like this in Paradise," showing his middle and index fingers and separating them.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا کہا ہم کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے خبر دی انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے سہیل بن سعد ساعدیؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا دونوں بہشت میں اس طرح برابر برابر رہیں گے اور آپ نے بیچ کی انگلی اور کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان کو تھوڑا سا کھولا۔
26. باب إِذَا عَرَّضَ بِنَفْىِ الْوَلَدِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ أَسْوَدُ. فَقَالَ " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " مَا أَلْوَانُهَا ". قَالَ حُمْرٌ. قَالَ " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ". قَالَ نَعَمْ. قَالَ " فَأَنَّى ذَلِكَ ". قَالَ لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ. قَالَ " فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ "
Narrated By Abu Huraira : A man came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! A black child has been born for me." The Prophet asked him, "Have you got camels?" The man said, "Yes." The Prophet asked him, "What colour are they?" The man replied, "Red." The Prophet said, "Is there a grey one among them?' The man replied, "Yes." The Prophet said, "Whence comes that?" He said, "May be it is because of heredity." The Prophet said, "May be your latest son has this colour because of heredity."
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالک نے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے ابو ہریرہ سے انہوں نے کہا ایک شخص (ضمضم بن قتادہ اعرابی جو فزارہ قبیلے کا تھا) نبیﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہﷺ میرا ایک لڑکا پیدا ہواہے جو کالے رنگ کا ہے (اور میں تو گورا ہوں )آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ ہیں وہ کہنے لگا ہاں ہیں آپ نے فرمایا ان کا رنگ کیا ہے اس نے کہا سرخ آپ نے فرمایا ان اُونٹوں میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے اس نے کہا جی ہاں ہے آپ نےفرمایا پھر یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا کہنے لگا شاید مادہ کی کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہے آپ نے فرمایا تو تیرے بیٹے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہوگا۔
27. باب إِحْلاَفِ الْمُلاَعِنِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَأَحْلَفَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا
Narrated By 'Abdullah : An Ansari man accused his wife (of committing illegal sexual intercourse). The Prophet made both of them takes the oath of Lian, and separated them from each other (by divorce).
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ نے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ ایک انصاری مرد (عویمر) نے اپنی عورت پر زنا کا الزام لگایا نبیﷺ نے عورت اور مرد دونوں کو قسمیں دلائیں پھر دونوں کو جدا کردیا۔
28. باب يَبْدَأُ الرَّجُلُ بِالتَّلاَعُنِ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَجَاءَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ". ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ.
Narrated By Ibn 'Abbas : Hilal bin Umaiyya accused his wife of illegal sexual intercourse and came to the Prophet to bear witness (against her), (taking the oath of Lian). The Prophet was saying, "Allah knows that either of you is a liar. Will anyone of you repent (to Allah)?" Then the lady got up and gave her witness.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی عدی نے انہوں نے ہشام بن حسان سے کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا انہون نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا ہلال بن امیہ نے اپنی عورت (خولہ بنت عاصم )پر (شریک بن سحماءسے) زنا کرانے کا الزام لگایا پھر ہلال آیا اس نے پانچ گواہیاں دیں اور نبیﷺ یہ فرمارہے تھے اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں کون جھوٹا ہے پھر جو کوئی جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے (یا نہیں )اس کے بعد اس کی جورو کھڑی ہوئی اس نے بھی گواہیاں دیں۔
29. باب اللِّعَانِ وَمَنْ طَلَّقَ بَعْدَ اللِّعَانِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ. فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا. فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا. فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ". قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا. فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ.
Narrated By Sahl bin Sad As-Sa'idi : 'Uwaimir Al-Ajlani came to 'Asim bin Ad Al-Ansari and said to him, "O 'Asim! Suppose a man saw another man with his wife, would he kill him whereupon you would kill him; or what should he do? Please, O 'Asim, ask about this on my behalf." 'Asim asked Allah's Apostle about it. Allah's Apostle, disliked that question and considered it disgraceful. What 'Asim heard from Allah's Apostle was hard on him. When 'Asim returned to his family, 'Uwaimir came to him and said, "O 'Asim! What did Allah's Apostle. say to you?" 'Asim said to 'Uwaimir, "You never bring me any good. Allah's Apostle disliked the problem which I asked him about." 'Uwaimir said, "By Allah, I will not give up this matter until I ask the Prophet about it." So 'Uwaimir proceeded till he came to Allah's Apostle in the midst of people, and said, "O Allah's Apostle! If a man sees another man with his wife, would he kill him, whereupon you would kill him, or what should he do?" Allah's Apostle said, "Allah has revealed some decree as regards you and your wives case. Go and bring her." So they carried out the process of Lian while I was present among the people with Allah's Apostle. When they had finished their Lian, 'Uwaimir said, "O Allah's Apostle! If I should now keep her with me as a wife, then I have told a lie." So he divorced her thrice before Allah's Apostle ordered him. (Ibn Shihab said: So divorce was the tradition for all those who were involved in a case of Lian.)
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے ابن شہاب سے ان سے سہل بن سعد ساعدیؓ نے بیان کیا کہ عویمر عجلانیؓ عاصم صحابی کے پاس آیا کہنے لگا عاصم بتلاوٗ تو اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ غیر مردوے کو (برا کام کرتے ) دیکھے توکیا کرے اس کو مار ڈالے تو تم لوگ اس کو بھی (قصاص میں ) مار ڈالوگے اگر نہ مارے تو پھر کیا کرے (صبر تو کر نہیں سکتا)۔عاصم تم ایسا کرو میرے لئے یہ مسئلہ رسول اللہﷺ سے پوچھو عاصم نے رسول اللہﷺ سے پوچھا آپ کو ایسے سوالات کرنا ناگوار گزرا آپ نے ایسے سوالوں پر عیب کیا (کیوں کہ ان میں مسلمانوں کی توہین ہے) عاصم پر رسول اللہﷺ کی ناراضی بہت سخت گزری جب وہ لوٹ کر اپنے گھر آئے تو عویمر ان کے پاس آیا کہنے لگا کہو عاصم! رسول اللہﷺ نے کیا فرمایا عاصم نے کہا وہ اچھے رہے (صلاح نہ شد بلا شد)تم سے مجھ کو بھلائی نہیں پہنچی (برائی پہنچی)رسول اللہﷺ کو یہ مسئلہ جو تم نے پوچھا اسکا پوچھنا ناگوار گزرا عویمر نے کہا۔خدا کی قسم میں تو باز نہیں آنے کا رسول اللہﷺ سے ضرور پوچھوں گا خیر عویمر اسوقت آیا جب رسول اللہﷺ علانیہ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے اور کہنے لگا یارسول اللہؑ بتلائیے اگر کوئی شخص غیر مردوے کو اپنی بی بی کے ساتھ (برا کام کرتے) دیکھے توکیا کرے اگر مار ڈالے تو آپ اسکو بھی مار ڈالیں گے پھر کیا کرے آپ نے فرمایا اللہ تعٰالیٰ نے تیرے اور تیری جورو کے باب میں اپنا حکم اتارا اب جا کر اپنی جورو کو بلا لا۔سہل کہتے ہیں پھر میاں بی بی دونوں نے لعان کیا۔ میں اس وقت اور لوگوں کے ساتھ رسول اللہﷺ کے پاس موجود تھا جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر کہنے لگا یارسول اللہ ﷺااگر اب میں اس عورت کو (اپنی زوجیت میں رکھوں )تو جیسے میں نے اس پر جھوٹ باندھا عویمر نے اس کو تین طلاق دے دیں ابھی رسول اللہﷺ نے اس حکم کو ہی نہیں دیا تھا ابن شہاب نے کہا پھر لعان کرنے والوں کا یہی دستور ہو گیا۔
30. باب التَّلاَعُنِ فِي الْمَسْجِدِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بِن جَعْفَر، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْمُلاَعَنَةِ، وَعَنِ السُّنَّةِ، فِيهَا عَنْ حَدِيثِ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَكَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ ". قَالَ فَتَلاَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا. فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلاَعُنِ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلاَعِنَيْنِ ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلاً، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى لأُمِّهِ، قَالَ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلاَ أُرَاهَا إِلاَّ قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا ". فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ
Narrated By Ibn Juraij : Ibn Shihab informed me of Lian and the tradition related to it, referring to the narration of Sahl bin Sad, the brother of Bani Sa'idi He said, "An Ansari man came to Allah's Apostle and said, 'O Allah's Apostle! If a man saw another man with his wife, should he kill him, or what should he do?' So Allah revealed concerning his affair what is mentioned in the Holy Qur'an about the affair of those involved in a case of Lian. The Prophet said, 'Allah has given His verdict regarding you and your wife.' So they carried out Lian in the mosque while I was present there. When they had finished, the man said, "O Allah's Apostle! If I should now keep her with me as a wife then I have told a lie about her. Then he divorced her thrice before Allah's Apostle ordered him, when they had finished the Lian process. So he divorced her in front of the Prophet." Ibn Shihab added, "After their case, it became a tradition that a couple involved in a case of Lian should be separated by divorce. That lady was pregnant then, and later on her son was called by his mother's name. The tradition concerning their inheritance was that she would be his heir and he would inherit of her property the share Allah had prescribed for him." Ibn Shihab said that Sahl bin Sad As'Saidi said that the Prophet said (in the above narration), "If that lady delivers a small red child like a lizard, then the lady has spoken the truth and the man was a liar, but if she delivers a child with black eyes and huge lips, then her husband has spoken the truth." Then she delivered it in the shape one would dislike (as it proved her guilty).
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا کہا ہم کو عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی کہا ہم کو ابن جریج نے کہا مجھ کو ابن شہاب نے لعان کے طریقہ سے خبر دی اور سہل بن سعد ساعدی کی حدیث بیان کی انہوں نے کہا ایک انصاری مرد(عویمر عجلانی ) رسول اللہﷺ کے پاس آیا کہنے لگا یا رسول اللہﷺ بتلائیے اگر کوئی شخص ایک غیر مردوے کو اپنی بی بی کے ساتھ (برا کام کرتے ہوئے) پائے تو کیا کرے کیا اس کو مار ڈالے یا کیا کرے اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں لعان کا حکم اتارا نبیﷺ نے اس شخص سے فرمایا اب اللہ تعالیٰ نے تیرا اور تیری جورو کا فیصلہ کیا۔ سہل نے کہا پھر جورو خاوند دونوں نے مسجد میں لعان کیا میں اس وقت موجود تھا ۔جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر کہنے لگا یا رسول اللہﷺ ! اگر اب میں اس عورت کو رکھوں تو جیسے میں نے اس پر جھوٹ باندھا پھر عویمر نے اس کو تین طلاق دے دئیے ابھی نبیﷺ نے اس کو حکم ہی نہیں دیا تھا اس نے لعان سے فارغ ہو تے ہی تین طلاق دے دئیے ۔پھر آپ کے سامنے ہی اس سے جدا ہوگیا سہل نے یا ابن شہاب نے کہا لعان کرنے والوں میں لعان سے جدائی ہونے لگی ابن جریج نے کہا ابن شہاب کہتے تھے اس کے بعد یہی دستور ہوگیا کہ جہاں میاں بی بی نے لعان کیا دونوں میں جدائی ہو گئی اگر عورت پیٹ سے ہوتی اس کا جو بچہ پیدا ہوتا وہ اپنی ماں کا بیٹا کہلاتاپھر لعان کرنے والی عورت میں یہ قاعدہ بھی جاری ہوا کہ وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حصوں کے موافق اپنے بچہ کی وارث ہو گی اور بچہ اس کا وارث ہوگا ابن جریج نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے سہل بن سعد ساعدیؓ سے اسی حدیث میں کہ نبیﷺ نے (لعان ہو جانے کے بعد) فرمایا دیکھتے رہو اگر بچہ لال لال پست قد بامنی کی طرح پیدا ہو تب میں گمان کروں گا کہ عورت سچی ہے اور مرد نے اس پر جھو ٹی تہمت با ندھی اور اگر سانولے رنگ کا بڑی آنکھ والا بڑے چوتڑوں والا پیدا ھو تو میں گمان کروں گا کہ مرد سچا ہے (عورت جھوٹی ہے) جب بچہ پیدا ہوا تو بری شکل کا ( یعنی اس مرد کی صورت پر جس سے بدنام ہوئی تھی )