- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First23456

31. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ ‏"‏

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ التَّلاَعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلاَّ لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلاً آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ بَيِّنْ ‏"‏‏.‏ فَجَاءَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ، فَلاَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا‏.‏ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الإِسْلاَمِ السُّوءَ قَالَ أَبُو صَالِحٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ خَدِلاً‏

Narrated By Al-Qasim bin Muhammad : Ibn 'Abbas; said, "Once Lian was mentioned before the Prophet whereupon 'Asim bin Adi said something and went away. Then a man from his tribe came to him, complaining that he had found a man width his wife. 'Asim said, 'I have not been put to task except for my statement (about Lian).' 'Asim took the man to the Prophet and the man told him of the state in which he had found his wife. The man was pale, thin, and of lank hair, while the other man whom he claimed he had seen with his wife, was brown, fat and had much flesh on his calves. The Prophet invoked, saying, 'O Allah! Reveal the truth.' So that lady delivered a child resembling the man whom her husband had mentioned he had found her with. The Prophet then made them carry out Lian." Then a man from that gathering asked Ibn 'Abbas, "Was she the same lady regarding which the Prophet had said, 'If I were to stone to death someone without witness, I would have stoned this lady'?" Ibn 'Abbas said, "No, that was another lady who, though being a Muslim, used to arouse suspicion by her outright misbehaviour."

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا کہا مجھ سے امام لیث بن سعد نے انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے انہوں نے قاسم بن محمد سے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے کہا نبیﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ ہوا کہ مرد اپنی عورت پر زنا کاری کا الزام لگائے تو عاصم بن عدی نے ایک (غرور کی )بات کہی یہ کہہ کر عصمؓ چلے گئے تو ان کی قوم کا ایک آدمی (عویمرؓ) ان کے پاس آیا اور یہی شکوہ کرنے لگا اس نے اپنی جورو کے ساتھ غیر مردوے کو (برا کام کرتے ہوئے ) پایا عاصم نے کہا یہ میرے منہ سے جو (بڑی)بات (غرور کی)نکلی تھی اس کی سزا ہے خیر عاصمؓ اس شخص کو نبیﷺ کے پاس گئے اور اس کی عورت (خولہ) کا جو حال گزرا تھا وہ بیان کیا یہ شخص (یعنی عو یمر عورت کا خاوند) زرد رنگ کادبلا پتلا سیدھے بال والا آدمی تھا اور جس سے تہمت لگاتا تھا وہ موٹی پنڈلیوں والا پرُ گوشت آدمی تھا نبی ﷺ نے دعا کی یا اللہ! تو اصل حقیقت ہم پر کھول دے اس عورت کا بچہ پیدا ہوا تو اسی شخص کے مشابہ جس سے تہمت لگا ئی تھی آخر آپ نے جورو خصم کو لعان کرنے کا حکم دیا یہ حدیث سن کر ایک شخص پو چھنے لگا کیا یہ عورت وہی عورت تھی جس کے حق میں نبیﷺ نے یوں فرمایا تھا اگر میں بن گواہوں کے کسی کو سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا ۔ ابن عباس نے کہا وہ ایک اور عورت تھی جس کی بدکاری اسلام کے زمانے میں کھل گئ تھی ابو صالح اور عبداللہ بن یوسف نے اس حدیث میں بجائے خَدَلاً کے خَدِلاً(بکسردال) روایت کیا ہے ۔ (لیکن معنی وہی ہے)

32. باب صَدَاقِ الْمُلاَعَنَةِ

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ فَرَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ، وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏‏.‏ فَأَبَيَا‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبُ ‏"‏‏.‏ فَأَبَيَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏ فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ إِنَّ فِي الْحَدِيثِ شَيْئًا لاَ أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ مَالِي قَالَ قِيلَ لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهْوَ أَبْعَدُ مِنْكَ‏

Narrated By Said bin Jubair : I asked Ibn 'Umar, "(What is the verdict if) a man accuses his wife of illegal sexual intercourse?" Ibn 'Umar said, "The Prophet separated (by divorce) the couple of Bani Al-Ajlan, and said, (to them), 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. He again said, 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. So he separated them by divorce." (Aiyub, a sub-narrator said: 'Amr bin Dinar said to me, "There is something else in this Hadith which you have not mentioned. It goes thus: The man said, 'What about my money (i.e. the Mahr that I have given to my wife)?' It was said, 'You have no right to restore any money, for if you have spoken the truth (as regards the accusation), you have also consummated your marriage with her; and if you have told a lie, you are less rightful to have your money back.'")

مجھ سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا کہا ہم کو اسمٰعیل بن عُلَیہّ نے خبر دی انہوں نے ایوب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھا اگر کوئی مرد اپنی عورت کو زنا کی تہمت لگائے (تو اس کا کیا حکم ہے) انہوں نے کہا نبیﷺ نے بنی عجلان کے مرد اور عورت میں جدائی ڈال دی اور فرمایا اللہ تعالیٰ جانتا ہے ایک تم دونوں میں سے جھوٹا ہے تو وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں ان دونوں نے توبہ سے انکار کیا (اپنے تیئں سچا کہے گئے)اور آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم دونوں میں ایک جھوٹا ہے تو کیا کوئی توبہ کرتا ہے ان دونوں نے نہ مانا پھر آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جانتا ہے ایک تم دونوں میں جھوٹا ہے سو کوئی توبہ بھی کرتا ہے یا نہیں سو کسی نے نہ مانا آخر آپؑ نے ان دونوں کو جدا کر دیا ۔ایوب سختیانی کہتے ہیں عمرو بن دینار نے کہا اس حدیث میں ایک بات اور بھی تھی جس کو تم نہیں نقل کرتے وہ یہ ہے کہ جس مرد نے لعان کیا تھا اس نے (لعان کے بعد ) یہ کہا میں نے جو مہر کا روپیہ دیا وہ کدھر جائے گا تو اس سے کہا گیا اب وہ روپیہ تجھ کو کیسے مل سکتا ہے دو حال سے خالی نہیں یا تو تو سچا ہے جب بھی تو اس عورت سے صحبت کر چکا ہے اگر تو جھوٹا ہے تب تو تجھ کو اور بھی مہر نہ ملنا چاہئیے۔

33. باب قَوْلِ الإِمَامِ لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ،، فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏"‏ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ مَالِي قَالَ ‏"‏ لاَ مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهْوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو‏.‏ وَقَالَ أَيُّوبُ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ لاَعَنَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ ـ وَفَرَّقَ سُفْيَانُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ـ فَرَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ، وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو وَأَيُّوبَ كَمَا أَخْبَرْتُكَ‏

Narrated By Said bin Jubair : I asked Ibn 'Umar about those who were involved in a case of Lien. He said, "The Prophet said to those who were involved in a case of Lien, 'Your accounts are with Allah. One of you two is a liar, and you (the husband) have no right over her (she is divorced)." The man said, 'What about my property (Mahr) ?' The Prophet said, 'You have no right to get back your property. If you have told the truth about her then your property was for the consummation of your marriage with her; and if you told a lie about her, then you are less rightful to get your property back.' " Sufyan, a sub-narrator said: I learned the Hadith from 'Amr. Narrated Aiyub: I heard Sa'id bin Jubair saying, "I asked Ibn 'Umar, 'If a man (accuses his wife for an illegal sexual intercourse and) carries out the process of Lian (what will happen)?' Ibn 'Umar set two of his fingers apart. (Sufyan set his index finger and middle finger apart.) Ibn 'Umar said, 'The Prophet separated the couple of Bani Al-Ajlan by divorce and said thrice, "Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?'"

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے کہ عمرو بن دینار نے کہا میں نے سعید بن جبیر سے سنا وہ کہتے تھے میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے دو لعان کرنے والوں کا مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا نبیﷺ نے دونوں (جورو خصم) لعان کرنے والوں سے فرمایا اللہ تعٰالیٰ تم دونوں سے حساب لینے والا ہے اور تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے پھر مرد سے فرمایا اب تیرا تعلق عورت سے نہیں رہا وہ کہنے لگا میرا مال کھر گیا (جو میں نے مہر میں دیا ) آپ نے فرمایا(اب مال کہاں سے ملے گا )اگر تو سچا ہے تو مال اس کا بدلہ ہو گیا جو تو نے اس کی شرمگاہ سے فائدہ اٹھایا اور اگر جھوٹا ہے تب تو اور ذیادہ تجھ کو مال نہ ملنا چاہیے سفیان نے کہا میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے سن کر یاد رکھی اور ایوب سختیانی نے کہا میں نے سعید بن جبیر سے سنا وہ کہتے تھے میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہا اگر کوئی مرد اپنی عورت سے لعان کرے یہ سن کر ابن عمرؓ نے دو انگلیوں سے اشارہ کیا (سفیان نے اس اشارے کو اس طرح بتلایا کہ کلمے کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو جدا کرکے دکھلایا) اور کہنے لگے نبیﷺ نے بنی عجلان کے مرد اور عورت میں جدائی کردی اور فرمایا اللہ جانتا ہے جو تم دونوں میں جھوٹا ہے پھر جو جھوٹا ہے وہ تو بہ کرتا ہے یا نہیں تین بار یہ ارشاد فرمایا علی بن مدینی نے کہا سفیان بن عیینہ نے مجھ سے کہا میں نے جیسے یہ حدیث عمرو بن دینار اور ایوب سے سن کر یاد رکھی تھی ویسی ہی تجھ سے بیان کردی۔

34. باب التَّفْرِيقِ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَّقَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ قَذَفَهَا، وَأَحْلَفَهُمَا‏

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle separated (divorced) the wife from her husband who accused her for an illegal sexual intercourse, and made them take the oath of Lian.

مجھ سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا ہم سے انس بن عیاض نے انہوں نے عبیداللہ سے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سےانہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے اس مرد کواپنی عورت سے جداکر دیا جس نے اپنی عورت کو زنا کی تہمت لگا ئی تھی اور دونوں کو قسمیں دلوائیں ۔(لعان کروایا)۔


حَدَّثَنِى مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لاَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet made an Ansari man and his wife carry out Lian, and then separated them by divorce.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے عبیداللہ بن عمر عمری سے کہا مجھ کو نافع نے خبر دی انہوں نے ابن عمرؓ سے نبیﷺ نے انصاری ایک مرد اور عورت میں (لعان کے بعد)جدائی کر دی۔

35. باب يَلْحَقُ الْوَلَدُ بِالْمُلاَعِنَةِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لاَعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ، فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet made a man and his wife carry out Lian, and the husband repudiated her child. So the Prophet got them separated (by divorce) and decided that the child belonged to the mother only.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالک نے کہا مجھ سے نافع نے انہوں نے ابن عمرؓ سے نبیﷺ نے ایک مرد اور اس کی جورو میں لعان کرایا مرد کہنے لگا اسکا بچہ میرا نہیں ہے آخر آپ نے دونوں کو جدا کردیا اور بچہ کا نسب عورت سے لگادیا۔

36. باب قَوْلِ الإِمَامِ اللَّهُمَّ بَيِّنْ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ الْمُتَلاَعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلاً، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً، فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الأَمْرِ إِلاَّ لِقَوْلِي‏.‏ فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلاً كَثِيرَ اللَّحْمِ جَعْدًا قَطَطًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ بَيِّنْ ‏"‏‏.‏ فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَهَا، فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ السُّوءَ فِي الإِسْلاَمِ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : Those involved in a case of Lian were mentioned before Allah's Apostle Asim bin Adi said something about that and then left. Later on a man from his tribe came to him and told him that he had found another man with his wife. On that 'Asim said, "I have not been put to task except for what I have said (about Lian)." 'Asim took the man to Allah's Apostle and he told him of the state in which he found his wife. The man was pale, thin and lank-haired, while the other man whom he had found with his wife was brown, fat with thick calves and curly hair. Allah's Apostle said, "O Allah! Reveal the truth." Then the lady delivered a child resembling the man whom her husband had mentioned he had found with her. So Allah's Apostle ordered them to carry out Lien. A man from that gathering said to Ibn 'Abbas, "Was she the same lady regarding whom Allah's Apostle said, 'If I were to stone to death someone without witnesses, I would have stoned this lady'?" Ibn 'Abbas said, "No, that was another lady who, though being a Muslim, used to arouse suspicion because of her outright misbehaviour."

ہم سے اسمعیٰل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انہوں نے کہا مجھ کو عبدالرحمٰن بن قاسم بن محمد نے خبر دی انہوں نے (اپنے والد)قاسم بن محمد سے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کے سامنے لعان کرنے والوں کا ذکر آیا تو عاصم بن عدیؓ نے ایک (شیخی کی)بات کہی (میں تو اپنی جورو کے پاس کسی غیر مردوے کو دیکھوں تو تلوار سے اس کاکام تمام کردوں )یہ کہہ کر عاصمؓ لوٹ گئے اتنے میں انہی کی قوم کا ایک شخص (عویمر عجلانیؓ) ان کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے اپنی جورو (خولہ) کے پاس ایک غیر مردوے کو دیکھا عاصمؓ نے کہا یہ بلا جو مجھ پر آئی تو(بڑ ی) بات نکالنے کی وجہ سے جو میں نے نکالی تھی خیر عاصم اس شخص کو لے کر نبیﷺ کے پاس گئے اور آپؑ سے بیان کیااس نے اپنی جورو کے پاس غیر مردوے کو پایا یہ شخص (یعنی عویمر جورو کا خاوند)تو ایک زرد رنگ دبلا پتلا سیدھے بال والا آدمی تھا لیکن جس شخص سے عورت کو بدنام کیا تھا وہ گندم رنگ موٹی پنڈلیوں والا اچھا موٹا تازہ اور بہت گھونگر بال والا آدمی تھا نبیﷺ نے فرمایا یا اللہ اصل حقیقت کھول دے آخر وہ عورت اسی شخص کی صورت کا بچہ جنی جس سے بدنام ہوئی تھی تب آپ نے دونوں جورو خاوند میں لعان کرایا یہ حدیث سن کر ایک شخص (عبداللہ بن شداد) ابن عباسؓ سے کہنے لگا کیا یہ عورت وہی تھی جس کے باب میں نبیﷺ نے فرمایا تھا اگر میں بن گواہوں کے کسی کو سنگسار کرنیوالا ہوتا تو اس عورت کو کرتا ابن عباسؓ نے کہا نہیں یہ عورت دوسری تھی جو اسلام کے زمانے میں علانیہ بد کاری کیا کرتی تھی ۔

37. باب إِذَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ تَزَوَّجَتْ بَعْدَ الْعِدَّةِ زَوْجًا غَيْرَهُ فَلَمْ يَمَسَّهَا

حَدَّثَنى عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رِفَاعَةَ، الْقُرَظِيَّ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، ثُمَّ طَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَتْ آخَرَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهُ لاَ يَأْتِيهَا، وَإِنَّهُ لَيْسَ مَعَهُ إِلاَّ مِثْلُ هُدْبَةٍ فَقَالَ ‏"‏ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ ‏"

Narrated By 'Aisha : Rifa'a Al-Qurazi married a lady and then divorced her whereupon she married another man. She came to the Prophet and said that her new husband did not approach her, and that he was completely impotent. The Prophet said (to her), "No (you cannot remarry your first husband) till you taste the second husband and he tastes you (i.e. till he consummates his marriage with you)."

ہم سےعمرو بن علی فلاس نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے کہا مجھ سے میرے والد عروہ بن زبیر نے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے۔دوسری سند اور ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے انہوں نے ہشام سے ،انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رفاعہ قرظی نے ایک عورت (تمیمہ بنت وہب) سے نکاح کیا پھر اسکو (تین طلاق دے دیے)اس نے دوسرا خاوند(عبدالرحمٰن بن زبیرؓ )کر لیا پھر وہ عورت نبیﷺ کے پاس آئی کہنے لگی یا رسول اللہؑ یہ دوسرا خاوند مجھ سے صحبت ہی نہیں کرتا اس کے پاس ہے کیا موأ ایک کپڑے کا پھندنا ۔آپ نے فرمایا تو پہلے خاوند کے پاس اس وقت تک نہیں جا سکتی جب تک دوسرے خاوند سے مزہ نہ اٹھا ئے اور وہ تجھ سے مزہ نہ پائے۔

38. باب ‏{‏وَاللاَّئِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ‏}

قَالَ مُجَاهِدٌ إِنْ لَمْ تَعْلَمُوا يَحِضْنَ أَوْ لاَ يَحِضْنَ وَاللاَّئِي قَعَدْنَ عَنِ الْحَيْضِ، وَاللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ، فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاَثَةُ أَشْهُرٍ‏

 

39. باب ‏{‏وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ‏}‏

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا، تُوُفِّيَ عَنْهَا وَهْىَ حُبْلَى، فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَقَالَ وَاللَّهِ مَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِيهِ حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الأَجَلَيْنِ‏.‏ فَمَكُثَتْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ لَيَالٍ ثُمَّ جَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْكِحِي ‏"‏‏

Narrated By Um Salama : (The wife of the Prophet) A lady from Bani Aslam, called Subai'a, become a widow while she was pregnant. Abu As-Sanabil bin Ba'kak demanded her hand in marriage, but she refused to marry him and said, "By Allah, I cannot marry him unless I have completed one of the two prescribed periods." About ten days later (after having delivered her child), she went to the Prophet and he said (to her), "You can marry now."

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کہا ہم سے امام لیث بن سعد نے انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے انہوں نے کہا مجھ کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ان کو زینب بنت ابو سلمہؓ نے انہوں نے ام المومنین ام سلمہؓ سے کہ اسلم قبیلے کی ایک عورت جس کا نام سبیعہ تھا اس کا خاوند اس وقت مرا جب وہ حاملہ تھی (اپنے خاوند کے مرنے کے چالیس دن بعد جنی ) تو ابو السنابل بن بعکک نے اس کو نکاح کا پیغام بھیجا لیکن عورت نے اس سے نکاح کرنا منظور نہ کیا ابوالسنابل کہنے لگا تو نکاح نہیں کر سکتی جب تک دونوں مدتوں میں سے جو مدت زیادہ لمبی ہے وہ پوری نہ ہو جائے یہ سن کر وہ عورت (زچگی کے بعد) دس راتوں تک ٹھری رہی اس کے بعد نبیﷺ کے پاس آئی اور آپ سے پو چھا آپ نے فرمایا تو نکاح کر لے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ الأَرْقَمِ أَنْ يَسْأَلَ، سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ كَيْفَ أَفْتَاهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْكِحَ‏

Narrated By 'Abaidullah bin 'Abdullah : That his father had written to Ibn Al-Arqam a letter asking him to ask Subai'a Al-Aslamiya how the Prophet had given her the verdict. She said, "The Prophet, gave me his verdict that after I gave birth, I could marry."

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا انہوں نے لیث بن سعد سے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے ابن شہاب نے ان کو لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے ان کو خبر دی اپنے والد (عبداللہ بن عتبہ بن مسعود )سے انہوں نے عمربن عبداللہ بن ارقم کو یہ لکھا تم سبیعہ اسلمیہ سے پوچھو نبیﷺ نے تجھ کو کیا فتوٰی دیا تھا اس نے کہا آپ نے یہ فتوٰی دیا تھا کہ جب تو جنے تو دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ، نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا، بِلَيَالٍ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ، فَأَذِنَ لَهَا، فَنَكَحَتْ‏

Narrated By Al-Miswer bin Makhrama : Subai'a Al-Aslamiya gave birth to a child a few days after the death of her husband. She came to the Prophet and asked permission to remarry, and the Prophet gave her permission, and she got married.

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالک نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے مسور بن محزمہ سے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے خاوند کے مرنے پر چند راتوں کے بعد بچہ جنی پھر نبیﷺ کے پاس آئی آپ سے دوسرے نکاح کی اجازت مانگی آپ نے اجازت دی اس نے دوسرا نکاح کر لیا۔

40. باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ‏}‏

وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ فِيمَنْ تَزَوَّجَ فِي الْعِدَّةِ فَحَاضَتْ عِنْدَهُ ثَلاَثَ حِيَضٍ بَانَتْ مِنَ الأَوَّلِ، وَلاَ تَحْتَسِبُ بِهِ لِمَنْ بَعْدَهُ‏.‏ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ تَحْتَسِبُ‏.‏ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ، يَعْنِي قَوْلَ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ مَعْمَرٌ يُقَالُ أَقْرَأَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا دَنَا حَيْضُهَا، وَأَقْرَأَتْ إِذَا دَنَا طُهْرُهَا، وَيُقَالُ مَا قَرَأَتْ بِسَلًى قَطُّ، إِذَا لَمْ تَجْمَعْ وَلَدًا فِي بَطْنِهَا‏.

 

‹ First23456