- احادیثِ نبوی ﷺ

 

1234Last ›

10. بَاب فِي الْكَنَّازِينَ لِلْأَمْوَالِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ

وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْجُرَيْرِىِّ عَنْ أَبِى الْعَلاَءِ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِى حَلْقَةٍ فِيهَا مَلأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ أَخْشَنُ الْجَسَدِ أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِى نَارِ جَهَنَّمَ فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْىِ أَحَدِهِمْ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفَيْهِ وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفَيْهِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ قَالَ فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا - قَالَ - فَأَدْبَرَ وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ هَؤُلاَءِ إِلاَّ كَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ. قَالَ إِنَّ هَؤُلاَءِ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئًا إِنَّ خَلِيلِى أَبَا الْقَاسِمِ -صلى الله عليه وسلم- دَعَانِى فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ « أَتَرَى أُحُدًا ». فَنَظَرْتُ مَا عَلَىَّ مِنَ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِى فِى حَاجَةٍ لَهُ فَقُلْتُ أَرَاهُ. فَقَالَ « مَا يَسُرُّنِى أَنَّ لِى مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ إِلاَّ ثَلاَثَةَ دَنَانِيرَ ». ثُمَّ هَؤُلاَءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئًا. قَالَ قُلْتُ مَا لَكَ وَلإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ لاَ تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ. قَالَ لاَ وَرَبِّكَ لاَ أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا وَلاَ أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.

It was narrated that Al-Ahnaf bin Qais said: I arrived in Al-Madinah, and while I was in a circle that included some leaders of the Quraish, a man came coarse clothes, a coarse body and a coarse face. He stood in front of them and said: “Give tidings to the hoarders of stones heated in the fire of Hell and placed on the nipples of one of them until it comes out from his shoulder bone, and placed on his shoulder bone until it comes out of his nipple, and he will tremble.” He said: “The people hung their heads, and I did not see anyone of them responding to him at all. He turned and left, and I followed him until he sat down by a pillar, I said: ‘I think that these people did not like what you said to them.’ He said: ‘They do not understand anything. My beloved AbuAl-Qasim (SAW) called me and I responded, and he said: “Do you see Uhud (mountain)?” I looked, and saw the sun shining, and I thought that he was going to send me on an errand. I said: “I can see it.” He said: “I would not like to have its equivalent in gold without spending all of it except of three Dinar, and these people gather worldly wealth and do not understand anything.’” I said: “What is the matter with you and the brothers of Quraish, that you do not ask them for anything and do not get any help from them?” He said: “No by your Lord. I will not ask them for any worldly matter, nor will I consult them about any religious matter, until I meet Allah and his Messenger.”

حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ آیا ، میں ایک ایسے حلقہ میں جا بیٹھا جس میں قریش کے سردار بھی تھے ، اچانک ایک شخص آیا جس نے موٹے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، اس کا جسم باوقار اور چہرہ بارعب تھا اس نے ان لوگوں کے پاس کھڑے ہوکر کہا ، مال جمع کرکے خزانہ اکٹھے کرنے والوں کو اس پتھر کی بشارت ہو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور وہ پھر ان کی چھاتی کی نوک پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ شانہ کی ہڈی سے پھوٹ نکلے گا اور وہ پتھر یونہی آرپار ہوتا رہے گا۔ راوی کہتے ہیں ان لوگوں نے اپنے سر جھکالیے اور میں نے ان سے کسی کو انہیں جواب دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔ پھر وہ لوگ لوٹ گیا اور میں اس شخص کے پیچھے گیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے پاس بیٹھ گئے اور کہا میرا خیال ہے ان لوگوں نے آپ کی بات ناپسند کی ہے۔اس شخص نے کہا یہ لوگ کچھ عقل نہیں رکھتے، میرے محبوب ابو القاسمﷺنے مجھے بلایا میں ان کے پاس گیا۔ انہوں نے فرمایا کیا تم احد (پہاڑ) کو دیکھتے ہو؟ میں نے دھوپ کو دیکھا اور یہ سمجھا کہ شاید آپ کسی کام کے لیے مجھے وہاں بھیجنا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں ! میں دیکھتا ہوں ۔ آپﷺنے فرمایا مجھے اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ میرے پاس اس پہاڑ جتنا سونا ہو اور اگر ہو تو میں قرض ادا کرنے کے لیے تین دینار کے سوا باقی سب خیرات کردوں گا ، پھر یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں اور کچھ نہیں سمجھتے۔میں نے ان سے کہا آپ کا ان قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے کیونکہ آپ کسی ضرورت کی بناء پر ان کے پاس جاتے ہیں نہ ان سے کوئی سوال کرتے ہیں انہوں نے کہا قسم ہے تمہارے پروردگار کی میں ان سے دنیا کا کوئی سوال کروں گا نہ دین کا کوئی مسئلہ دریافت کروں گا حتیٰ کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺسے جاملوں۔


وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِىُّ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ فِى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِكَىٍّ فِى ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ وَبِكَىٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ. - قَالَ - ثُمَّ تَنَحَّى فَقَعَدَ. - قَالَ - قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا أَبُو ذَرٍّ. قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَىْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قُبَيْلُ قَالَ مَا قُلْتُ إِلاَّ شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِى هَذَا الْعَطَاءِ قَالَ خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ.

It was narrated that Al-Ahnaf bin Qais said: “I was with the group of the Quraish when Abu Dharr passed by saying: ‘Give tidings to the hoarders of a branding iron on their backs that will come out from their sides, and the branding-iron on their necks that will come out from their foreheads.’ Then he went away and sat down. I said: ‘Who is that?’ They said: ‘That is Abu-Dharr.’ I got up and went to him and said: ‘What did I hear you say just now?” He said: ‘I did not say anything that I did not hear from their Prophet (SAW). ‘I said: ‘What do you say about this gift?’ He said: ‘Take it, for it is a help today, but if it is at the expense of your religious commitment, then leave it.’

حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں قریش کے چند لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا اچانک حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور کہنے لگے خزانہ جمع کرنے والوں کو ان داغوں کی بشارت دو جو ان کی پیٹھوں پر لگائے جائیں گے اور ان کے پہلوؤں سے نکل جائیں گے اور ان کی گردنوں میں لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکل جائیں گے ۔ پھر وہ ایک جانب رخ کرکے بیٹھ گئے میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ حاضرین نے جواب دیا ابو ذر ہیں ۔ میں نے ان کے سامنے جاکر کہا آپ جو کچھ بیان کررہے تھے وہ سب کیا تھا ؟ انہوں نے کہا میں نے وہی کچھ کہا ہے جو رسول اللہ ﷺسے سنا ہے ، میں نے کہا حکومت سے وظائف لینے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہا لے لیا کرو، کیونکہ اس سے تم کو آج کل مدد حاصل ہوگی ، ہاں ! جب یہ مال تمہارے دین کا معاوضہ ہوجائے تو چھوڑ دینا۔

11. بَاب الْحَثِّ عَلَى النَّفَقَةِ وَتَبْشِيرِ الْمُنْفِقِ بِالْخَلَفِ

حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم-قَالَ « قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ ». وَقَالَ «يَمِينُ اللَّهِ مَلأَى-وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلآنُ -سَحَّاءُ لاَ يَغِيضُهَا شَىْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (SAW) said: “Allah. May He be blessed and exalted, says: ‘O son of Adam, spend, and I shall spend on you.” And he said: “The right hand of Allah is full and overflowing, and nothing of that diminishes due to the night and day.” And it is also possible that the meaning is: “Overflowing by night and by day.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے بنی آدم !خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا ،نیز فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے ، رات دن کے خرچ سے اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِى وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا. وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِى أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ ». وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَمِينُ اللَّهِ مَلأَى لاَ يَغِيضُهَا سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِى يَمِينِهِ ». قَالَ « وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الأُخْرَى الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ».

It was narrated that Hammam bin Munabbih, the brother of Wahb bin Munabbih, said: This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (SAW)- and he mentioned a number of Ahadith, including the following: “And he said: ‘The Messenger of Allah(SAW) said: Allah said to me: Spend, and I shall spend on you.’” And the Messenger of Allah (SAW) said: “The right hand of Allah is full and overflowing, night and day. Do you not see what He has spent since He created the heavens and the earth, but what is in his right hand is not diminished.” He said: “And his throne is over the water, and His other hand is Al-Qabad, and he raises and lowers.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے خرچ کر ، میں تجھ پر خرچ کروں گا، اور رسول اللہ ﷺنے فرمایا اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ اور رات دن کی فیاضی سے اس میں کمی واقع نہیں ہوتی کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے آسمان وزمین کے پیدا کرنے سے کتنی فیاضی کی ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور فرمایا اللہ کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں روکنے کی طاقت ہے جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کرتا ہے۔

12. بَاب فَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَى الْعِيَالِ وَالْمَمْلُوكِ وَإِثْمِ مَنْ ضَيَّعَهُمْ أَوْ حَبَسَ نَفَقَتَهُمْ عَنْهُمْ

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كِلاَهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ - قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَبِى أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ ». قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ وَأَىُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ.

It was narrated that Thawban said: “The Messenger of Allah said: ‘The best Dinar that a man spends is a Dinar that he spends on his family, and a Dinar that a man spends on his mount in the cause of Allah, and a Dinar that he spends on his companions in the cause of Allah.’” Abu Qilabah said: “He started with the family,” And Abu Qilabah said: “What man is greater in reward than a man who spends on young dependents and protects them from resorting to unlawful deeds – or Allah benefits them through him- and makes them independent of means.”

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : بہترین دینار وہ ہے جسے کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتاہے ، بہترین دینار وہ ہے جسے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے ، اور بہترین دینار وہ ہے جسے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ، ابو قلابہ نے کہا آپ نے گھر والوں پر خرچ سے شروع کیا تھا ۔ ابو قلابہ نے کہا اس شخص سے زیادہ اور کس کا اجر ہوگا جو اپنے چھوٹے بچوں پران کی عزت وآبرو بچانے کے لئے خرچ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص کے سبب سے بچوں کو نفع دیتا ہے اور غنی کرتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِى كُرَيْبٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِى رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِى أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘A Dinar that you spend in the cause of Allah, a Dinar that you spend to free a slave, a Dinar that you give in charity to a needy person, and a Dinar that you spend on your family- the greatest of them in reward, is the one that you spend on your family.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا وہ دینار جس کو تو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جس کو تو غلام پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو تو نے مسکین پر خیرات کردیا اور وہ دینار جو تو نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ہے ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جو تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ الْكِنَانِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ قَالَ لاَ. قَالَ فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ. قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ ».

It was narrated that Khaithama said: “We were sitting with ‘Abdullah bin ‘Amr when a steward of his came in and he said: ‘Have you given the slaves their provision (of food)?’ He said: ‘No.’ He said: ‘Go and give it to them.’ He said: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: It is sufficient sin for a man to withhold provision (of food) from the one whose provision he controls.’”

حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ ہم عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ان کا منشی آیا ، حضرت ابن عمرو نے پوچھا کیا تم نے خادموں کو ان کا خرچ دے دیا؟ اس نے کہا نہیں!حضرت ابن عمرونے کہا جاؤ ان کو دیدو! اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: آدمی کا یہی گناہ کافی ہے کہ اپنے مملوک(جس کے خرچ کا وہ ذمہ دار ہے) کے حق کو روک کر بیٹھ جائے۔

13. بَاب الِابْتِدَاءِ فِي النَّفَقَةِ بِالنَّفْسِ ثُمَّ أَهْلِهِ ثُمَّ الْقَرَابَةِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ « أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ ». فَقَالَ لاَ. فَقَالَ « مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّى ». فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِىُّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَجَاءَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ « ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَىْءٌ فَلأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَىْءٌ فَلِذِى قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِى قَرَابَتِكَ شَىْءٌ فَهَكَذَا وَهَكَذَا ». يَقُولُ فَبَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ.

It was narrated that Jabir said: “A man from Banu ‘Udhrah said that a slave of his would be set free upon his death.[1] News of that reached the Prophet (SAW) and he said: ‘Do you have any other wealth?’ He said: ‘No.’ He said: ‘Who will buyhim from me?’ Nu’aim bin ‘Abdullah Al-Adawi bought him for eight hundred Dirham. The Messenger of Allah (SAW) brought the money and gave it to him, then he said: ‘Start with yourself and give charity to yourself. If there is anything left over, then (gives) to your family. If there is anything leftover from your family, then (give) to your relatives. If there is anything leftover from your relatives, then (Spend it) like this and like this,’” meaning in front of you and to your right and to your left.

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے ایک غلام کو مدبر کیا ( یعنی اس نے یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے) اس بات کی اطلاع رسول اللہ ﷺکو ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا کیا تیرے پاس اس کے علاوہ مال ہے؟ اس نے کہا نہیں آپ ﷺنے فرمایا اس (غلام)کو مجھ سے کون خریدے گا؟ تو اس کو نعیم بن عبداللہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور وہ دراہم رسول اللہ ﷺکے پاس لائے گئے اور آپ ﷺنے غلام کے مالک کو دے دیے۔ پھر فرمایا اپنی ذات سے ابتداء کر اور اس پر خرچ کرو اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل کے لئے، اگر تیرے اہل سے بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں کے لئے ،اور اگر تیرے رشتہ داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو ادھر ادھر ، اپنے سامنے ، دائیں اور بائیں۔


وَحَدَّثَنِى يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِى ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ - يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ - أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ.

It was narrated from Jabir that a man from among the Ansar- who was called Abu Madhkur- declared that a slave of his who was called Yaqub would be set free after he died… and he quoted a Hadith like that of Al-Laith (no. 2313).

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے جس کا نام ابو مذکور تھا ایک غلام کومدبر کردیا اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔

14. بَاب فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِينَ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِىٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالاً وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَى وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ. قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِى كِتَابِهِ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِى إِلَىَّ بَيْرَحَى وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « بَخْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّى أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِى الأَقْرَبِينَ ». فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِى أَقَارِبِهِ وَبَنِى عَمِّهِ.

Anas bin Malik said: “Abu Talhah was the wealthiest of the Ansar in Al-Madinah, and the most beloved of his property to him was (a garden called) Bairaha’, which was opposite the Masjid. The Messenger of Allah (SAW) used to enter it and drink of fresh water there.” Anas said: “When this verse – By no means shall you maintain Al Birr…- was revealed, Abu Talha got up and went to the Messenger of Allah (SAW) and said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, says in his Book: By no means shall you attain al-Birr[1] …the dearest of my property to me is Bairaha’, and it is charity (that I give for the sake of Allah, hoping that its reward will be stored up with Allah. Dispose of it, O Messenger of Allah, as you wish.’ The Messenger of Allah said: ‘Well done! That is a profitable deal. I have heard what you say, and I think you should share it among your relatives.’ So Abu Talhah divided it among his relatives and cousins.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ انصار میں سے سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کو اپنے مال میں سب سے زیادہ باغ بیرحاء محبوب تھا اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ ﷺاس میں تشریف لے جاتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے۔ انس کہتے ہیں جب آیت (لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے رسول اللہ ﷺکے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے تم نیکی کی حد کو اسوقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو اور مجھے میرے تمام اموال میں سب سے محبوب بیر حاء ہے یہ اللہ کے لئے خیرات ہے میں اس کے ثواب اور آخرت میں ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں آپ ﷺاس کو جہاں چاہیں لگادیں۔آپﷺ نے فرمایا: بہت خوب! یہ بہت نفع بخش مال ہے یہ بہت نفع بخش مال ہے ،میں نے سنا جو تم نے کہا میرا مشورہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو!پھر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) قَالَ أَبُو طَلْحَةَ أُرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا فَأُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّى قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِى بَرِيحَا لِلَّهِ. قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اجْعَلْهَا فِى قَرَابَتِكَ ». قَالَ فَجَعَلَهَا فِى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ.

It was narrated that said: “When this verse was revealed – By no means shall you attain Al-Birr… – Abu Talhah said: ‘I see that our Lord is asking us for some of our wealth. Bear witness o Messenger of Allah, that I am giving my land Bairaha’ for the sake of Allah.’ The messenger of Allah (SAW) said: ‘Give it to your relatives.’ So he shared it between Hassan bin Thabit and Ubayy bin Ka’b.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت (لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے کہا میرا خیال ہے کہ ہمارا پروردگارہم سے ہمارا مال طلب فرماتا ہے، یارسول اللہ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی زمیں بیرحاء والی اللہ کی راہ میں دیدی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :اس کو اپنے رشتہ داروں میں دیدو۔ حضرت ابو طلحہ نے وہ باغ حضرت حسان بن ثابت اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کو دے دیا۔


حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لأَجْرِكِ ».

It was narrated from Maimunah bint Al-Harith that she set free a slave girl at the time of the Messenger of Allah (SAW) and mentioned that to the Messenger of Allah (SAW) who said: “If you had given her to your maternal uncles that would have brought you a greater reward.”

حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں ایک لونڈی آزاد کی اور اس کا ذکر رسول اللہﷺ سے کیا تو آپ ﷺنے فرمایا اگر تو اسے اپنے ماموں کو دے دیتی تو تیرے لئے بڑا ثواب ہوتا۔


حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ». قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَجْزِى عَنِّى وَإِلاَّ صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ. قَالَتْ فَقَالَ لِى عَبْدُ اللَّهِ بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ. قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَاجَتِى حَاجَتُهَا - قَالَتْ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ - قَالَتْ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلاَلٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلاَنِكَ أَتَجْزِى الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِى حُجُورِهِمَا وَلاَ تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ - قَالَتْ - فَدَخَلَ بِلاَلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ هُمَا ». فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَىُّ الزَّيَانِبِ ». قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ ».

It was narrated that Zainab, the wife of ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘O women, give in charity, even if it is some of your jewelry.’ So I went back to ‘Abdullah and I said: ‘You are a man of little wealth and Messenger of Allah (SAW) has commanded us to give charity. Go to him and ask him if it will be sufficient for me (to give it to you), otherwise I will give it to someone else.’ ‘Abdullah said to me: ‘No, you go.’ So I went, and there was a woman from among Ansar at the door of the Messenger of Allah (SAW) who had come to ask the same thing. We felt too shy to speak to the Messenger of Allah (SAW). Then Bilal came out and we said to him: ‘Go to the Messenger of Allah (SAW) and tell him that there are two women at the door who want to ask him: Will it be sufficient for them to give charity to their husbands and to the orphans who are under their care? But do not tell him who we are.’ Bilal went in to the Messenger of Allah(SAW) and asked him. The Messenger of Allah(SAW) said: ‘Who are they?’ He said: ‘An Ansari woman and Zainab.’ The Messenger of Allah(SAW): ‘Which Zainab?’ He said: ‘The wife of ‘Abdullah.’ The Messenger of Allah(SAW) said to him: ‘They would have two rewards: The reward for upholding ties of kinship and the reward for giving charity.’”

حضرت زینب زوجہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو ،خواہ زیورات سے کیا کرو۔حضرت زینب کہتی ہے کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ تم خالی ہاتھ اور مفلس ہو اور رسول اللہ ﷺنے ہمیں صدقہ دینے کا حکم دیا ہے تم جاکر رسول اللہ ﷺسے معلوم کرو اگر (تمہیں دینا) ادائیگی صدقہ سے کافی ہو بہتر ، ورنہ میں تمہارے سوا کسی اور کو دے دیتی ہوں ۔ حضرت زینب کہتی ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم خود جاؤ ! حضرت زینب کہتی ہیں کہ میں گئی تو دیکھا کہ انصاری کی ایک عورت رسول اللہ ﷺکے دروازے پر کھڑی ہے اور اسے بھی یہی مسئلہ درپیش تھا اور ہم رسول اللہ ﷺسے بہت مرعوب رہتے تھے ، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ باہر آئے تو ہم نے کہا تم جاکر رسول اللہ ﷺ سے کہو کہ دو عورتیں دروازے پر یہ معلوم کرنے کے لیے کھڑی ہیں کہ اگر وہ اپنے شوہروں، اور جو ان کی گود میں یتیم بچے ہیں ان کو صدقہ دیں توادا ہوجائے گا؟ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺکے پاس گئے اور آپ سے یہ مسئلہ معلوم کیا ، رسول اللہ ﷺنے حضرت بلال سے پوچھا وہ عورتیں کون ہیں؟ انہوں نے بتایا ایک انصاری کی عورت ہے دوسری زینب ہے ۔آپﷺنے فرمایا کون سی زینب ؟ انہوں نے کہا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی! رسول اللہ ﷺنے فرمایا انہیں دو اجر ملیں گے ایک اجر قرابت کا اور ایک اجر صدقہ کا۔


حَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ حَدَّثَنِى شَقِيقٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ فَذَكَرْتُ لإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِى عَنْ أَبِى عَبَيْدَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ. بِمِثْلِهِ سَوَاءً قَالَ قَالَتْ كُنْتُ فِى الْمَسْجِدِ فَرَآنِى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ». وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِى الأَحْوَصِ.

A similar report was narrated from ‘Amr bin Al-Harith, from Zainab, the wife of Abdullah. She said: “I was in the masjid, and the Messenger of Allah (SAW) saw me and said: ‘Give in charity, even if it is some of your jewelry,’” and he quoted a Hadith similar to that of Abu Al-Ahwas(no. 2318).

حضرت عمرو بن حارث ، حضرت زینب سے مثل سابق روایت کرتے ہیں اور اس میں یہ ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں مسجد میں تھی ، مجھے دیکھ کر رسول اللہ نے فرمایا: صدقہ کیا کرو، خواہ زیورات سے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِى أَجْرٌ فِى بَنِى أَبِى سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِىَّ. فَقَالَ « نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ ».

It was narrated that Umm Salamah said: “I said: ‘O Messenger of Allah (SAW), will I have any reward for (spending on) the sons of Abu Salamah? I spend on them and I am not going to forsake them, for they are my sons too.’ He said: ‘Yes, you will have a reward for what you spend on them.’”

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺمجھے ابوسلمہ کے بیٹوں پر خرچ کرنے سے ثواب ہوگا؟ اور میں ان کو چھوڑنے والی نہیں ہوں کہ ادھر ادھر پریشان ہو جائیں کیونکہ وہ میرے بیٹے ہیں تو آپ ﷺنے فرمایا ہاں تیرے لئے ان پر خرچ کرنے میں ثواب ہے۔


وَحَدَّثَنِى سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِى هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no.2320) was narrated from hisham bin ‘Urwah with the same chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِىٍّ - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ الْبَدْرِىِّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً ».

It was narrated from Abu Masud Al-Badri that the Prophet (SAW) said: “If a Muslim spends on his family, seeking reward for that with Allah, then it will be charity on his part.”

حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے ارشاد فرمایا جو اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہوگا۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ فِى هَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Shu’bah (a Hadith similar to no. 2322) with the same chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّى قَدِمَتْ عَلَىَّ وَهْىَ رَاغِبَةٌ - أَوْ رَاهِبَةٌ - أَفَأَصِلُهَا قَالَ « نَعَمْ ».

It was narrated that Asma’ said: “I said: ‘O Messenger of Allah, my mother has come to me and she is wanting- or afraid- should I uphold ties of kinship with her?’ He said: ‘Yes’”

حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ دین سے بیزار ہے کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ فرمایا جی ہاں۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّى وَهِىَ مُشْرِكَةٌ فِى عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدَهُمْ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّى وَهْىَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّى قَالَ « نَعَمْ صِلِى أُمَّكِ ».

It was narrated that Asma’ bint Abi Bakr said: “I said: ‘O Messenger of Allah, my mother has come to me and she is an idolater.’ That was at the time of peace treaty with the Quraish. I consulted the Messenger of Allah (SAW) and said: ‘O Messenger of Allah (SAW), my mother has come to me and she is expecting (something), should I uphold the ties of kinship with my mother?’ he said: ‘Yes, uphold the ties of kinship with your mother.’”

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ!میری ماں آئی ہے اور وہ مشرک ہے ، یہ اس دور کی بات ہے جب آپ ﷺنے قریش سے معاہدہ کیا ہوا تھا ، میں نے رسول اللہ ﷺسے دریافت کیا اور کہا میری ماں آئی ہے اور وہ دین سے بیزا ہے کیا میں اس سے حسن سلوک کروں ؟ فرمایا : اپنی ماں سے حسن سلوک کرو۔

15. بَاب وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ إِلَيْهِ

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّىَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ « نَعَمْ».

It was narrated from ‘Aishah that a man came to the Prophet (SAW) and said: “O Messenger of Allah, my mother died suddenly and did not leave a will. I think that if she had been able to speak, she would have given charity. Will she have any reward if I give charity on her behalf?” He said: “Yes.”

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میری والدہ بغیر وصیت کے فوت ہوگئی ہے اور میرا گمان ہے اگر وہ بات کرتی تو وہ صدقہ کرتی اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اس کو ثواب ہو جائے گا آپ ﷺنے فرمایا ہاں۔


وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِى حَدِيثِ أَبِى أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ. كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذَلِكَ الْبَاقُونَ.

It was narrated from Hisham (a similar Hadith as no. 2326) with the same chain. In the Hadith of Abu Usamah it says: ‘She did not leave a will.’ – As Ibn Bishr said, but the rest of them (the other narrators) did not say that.

ایک اور سند سے بھی یہی روایت منقول ہے۔

16. باب بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى مَالِكٍ الأَشْجَعِىِّ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ فِى حَدِيثِ قُتَيْبَةَ قَالَ قَالَ نَبِيُّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- وَقَالَ ابْنُ أَبِى شَيْبَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ».

It was narrated from Hudhaifah that the Prophet (SAW) said: “Every good deed Ma’ruf is a charity.”

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِىُّ حَدَّثَنَا مَهْدِىُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِى عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِى الأَسْوَدِ الدِّيلِىِّ عَنْ أَبِى ذَرٍّ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالُوا لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّى وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ. قَالَ « أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْىٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ وَفِى بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِى أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ قَالَ « أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِى حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِى الْحَلاَلِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ ».

It was narrated from Abu Dharr that some of companions of the Prophet (SAW) said to Prophet(SAW): “O,Messenger of Allah the rich people have taken all the reward .They offer Salat as we offer Salat and they fast as we fast ,but they give charity from their surplus wealth .He said ‘Has Allah not given you something with which you may do acts of charity? Every Tasbihah is a charity ,every Takbirah is a charity ,every Tahmidah is a charity ,every Tahlilah is a charity enjoining what is good is a charity forbidding what is evil is a charity and (The intimacy of one of you with his wife )is a charity.; They said: “Ó Messenger of Allah if one of us fulfils his desires will he be rewarded for that ?He said: ‘Do you not see that if he did it in an unlawful manner, there would be a burden of sin on him for that? Similarly if he does it in a lawful manner he will be rewarded for it.”

ضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب النبی ﷺمیں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺسے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مالدار سب ثواب لے گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزہ رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد مال سے صدقہ کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جس سے تم کو بھی صدقہ کا ثواب ہو، ہر تسبیح ہر تکبیر صدقہ ہے ہر بار الحمد للہ کہنا صدقہ ہے اور لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے اور نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے ، عمل تزویج کرنا صدقہ ہے، صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے؟ فرمایا : کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔


حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - يَعْنِى ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ يَقُولُ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِى آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلاَثِمَائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ شَوْكَةً أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلاَثِمِائَةِ السُّلاَمَى فَإِنَّهُ يَمْشِى يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ ». قَالَ أَبُو تَوْبَةَ وَرُبَّمَا قَالَ « يُمْسِى ».

Aishah said: “The Messenger of Allah has said: Every son of Adam has been created with three hundred and sixty joints. Whoever magnifies Allah ,praises the Allah ,proclaims that there is none worthy of worship but Allah ,glorifies Allah ,ask Allah for forgiveness ,removes a rock ,a thorn ,or a bone from the path of the people, enjoins what is good or forbids what is evil, the number of those three hundred and sixty joints –will walk that day having saved himself from the Fire. Abu Tawbah said:” perhaps he said:’ will reach the evening.””

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا بنی آدم میں سے ہر انسان تین سو ساٹھ جوڑوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، جس نے اللہ اکبر کہا ،الحمد للہ کہا، لا الہ الا اللہ کہا، سبحان اللہ کہا ، استغفراللہ کہا اور لوگوں کے راستہ سے پتھریا کانٹے یا ہڈی کو ہٹا دیا، اور نیکی کا حکم کیا اور برائی سے منع کیا تو یہ تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد (کے برابرشکر)ہے۔اور اس دن وہ اس حال میں چل رہا ہوگا کہ جہنم سے آزاد ہوگا۔ ابوتوبہ کی روایت ہے کہ وہ شام کو سب گناہوں سے پاک و صاف ہوگا۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنِى مُعَاوِيَةُ أَخْبَرَنِى أَخِى زَيْدٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ ». وَقَالَ « فَإِنَّهُ يُمْسِى يَوْمَئِذٍ ».

Muawiyah narrated: “My brother Zaid narrated a similar report (as no.2330) to us with this chain, except that he said: ‘Or enjoins what is good, and he said: ‘he will reach evening on that day’.’”

ایک اور سند کے ساتھ کچھ لفظی فرق سے یہ روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَلِىٌّ - يَعْنِى ابْنَ الْمُبَارَكِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ جَدِّهِ أَبِى سَلاَّمٍ قَالَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ ». بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ عَنْ زَيْدٍ. وَقَالَ « فَإِنَّهُ يَمْشِى يَوْمَئِذٍ ».

Aishah said: “The Messenger of Allah (SAW) said:’ Every man has been created ….A Hadith similar to that of Muawiyah from Zaid (no. 2330). And he said: “He will walk that day.” ”

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا ہر انسان کو پیدا کیا گیا ہے اس کے بعد حسب سابق روایت ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ ». قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ « يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ ». قَالَ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ « يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ ». قَالَ قِيلَ لَهُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ « يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ ». قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ « يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ ».

It was narrated from Sa’eed bin Abi Burdah, from his father ,from his grandfather, that the Prophet (SAW) said: “Every Muslim must give charity, “It was said: “What if he cannot find anything (to give)?” He said: “Let him work with his hands and benefits himself and give charity.” It was said: “What if he cannot do that?”. He said: “Let him assist the one who is in desperate need.” It was said to him: “What if he cannot do that?” He said: “Let him enjoin what is right or good.” He said: “What if he does not do that?” He said: “Let him refrain from doing evil, and that is an act of charity.”

حضرت ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے عرض کیا گیا اگر یہ نہ ہو سکے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا اپنے ہاتھوں سے کمائے اور اپنے آپ کو نفع پہنچائے اور صدقہ کرے، عرض کیا اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا ضرورت مند مصیبت زدہ کی مدد کرے، آپ سے عرض کیا گیا اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو آپ ﷺنے فرمایا نیکی کا حکم کرے اور یہ بھی نہ کر سکے تو آپ ﷺکیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا برائی سے رک جائے اس کے لئے یہ بھی صدقہ ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Shubah narrated (a similar Hadith as no 2333) with the same chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كُلُّ سُلاَمَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ - قَالَ - تَعْدِلُ بَيْنَ الاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِى دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ - قَالَ - وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خَطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلاَةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ».

Ma’mar bin Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated from Muhammad(SAW) the Messenger of Allah and he quoted a number of Ahadith, including the following :”The Messenger of Allah(SAW) said:’ Every joints of a person must perform an act of charity every day on which the sun rises .’And he said:’ Reconciling fairly between two people is a charity .Helping a man onto his mount or lifting up his luggage onto it is a charity. A good word is a charity .Every step that you take walking to prayer is a charity .Removing a harmful thing from the road is a charity.’” ”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا ہرروز طلوع آفتاب کے بعد انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہوتا ہے،دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا بھی صدقہ ہے، کسی کو سواری پر سوار ہونے میں مدد دینا بھی صدقہ ہے، اورسواری پر کسی کا مال لادنا بھی صدقہ ہے ، اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے ، نماز کوجانے کے لیے ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔

17. باب فِي الْمُنْفِقِ وَالْمُمْسِكِ

وَحَدَّثَنِى الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - حَدَّثَنِى مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِى مُزَرِّدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلاَّ مَلَكَانِ يَنْزِلاَنِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا. وَيَقُولُ الآخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا ».

It was narrated that Abu Hurairah [said]:”The Messenger of Allah (SAW) said: “There is no day on which people wake up, but two Angles come down and one of them says: “O Allah, give more to the one who spends, and other says: O Allah, send destruction upon the one who withholds.’”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر روز صبح کو دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ایک کہتا ہے اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اور مال عطا کر، اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ ! بخیل کا مال تباہ کردے۔

18. باب التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لاَ يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « تَصَدَّقُوا فَيُوشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِى بِصَدَقَتِهِ فَيَقُولُ الَّذِى أُعْطِيَهَا لَوْ جِئْتَنَا بِهَا بِالأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الآنَ فَلاَ حَاجَةَ لِى بِهَا. فَلاَ يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ».

Harithah bin wahb said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) say: ‘Give in charity, for soon a man will walk about his charity , the one to whom he wants to give it will say: If you had come to us yesterday we would have accepted it, but now I have no need of it,” and he will not find anyone to accept it.’”

حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: صدقہ کیا کروکیونکہ عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے جب آدمی اپنے صدقہ کا مال لیے لئے پھرے گا اور جس کو دے گا وہ کہے گا کل لے آتے تو میں لے لیتا، آج مجھے ضرورت نہیں ہے غرضیکہ کوئی صدقہ لینے والا نہیں ملے گا۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِىُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ ثُمَّ لاَ يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ وَيُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ ». وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ بَرَّادٍ « وَتَرَى الرَّجُلَ ».

It was narrated from Abu Musa that the Prophet (SAW) said: “There will come upon a time the people in which a man will go around with charity from gold, but he will not find anyone to take it from him. And a man will be seen being followed by forty women seeking his protection, because there will be so few men and so many women.” According to the report of Ibn Barrad: “you will see a man...”

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ انسان صدقہ کرنے کے لیے سونا لیے گھومتا پھرے گا اور کوئی لینے والا نہیں ملے گا، اور مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت سے یہ حال ہوگا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس عورتیں دکھائی دیں گی۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىُّ - عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ فَلاَ يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا ».

It was narrated from Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) has said: “The Hour will not begin until wealth increases and becomes abundant , until a man will go out with the Zakat of his wealth and will not find anyone to accept it from him , and until the lands of the ‘Arabs goes back to being meadows with rivers’ ”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مال بکثرت ہوکر بہہ نہ جائے حتیٰ کہ ایک آدمی اپنا زکاۃ کا مال نکالے گا اور اسے قبول کرنے والا نہیں ملے گا اور جب تک سرزمیں عرب چراگاہوں اور نہروں والی نہ ہوجائے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِى يُونُسَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ صَدَقَةً وَيُدْعَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ لاَ أَرَبَ لِى فِيهِ ».

It was narrated from Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) has said: “The Hour will not begin until wealth increases among you, and becomes so abundant that a wealthy man will despair of finding someone to accept charity from him. A man will be called to it and he will say: ‘I have no need of it’.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مال کثرت کے سبب بہہ نہ جائے اور حتیٰ کہ مال والا سوچ میں پڑجائے کہ اس کا مال کون قبول کرے گا؟اور کسی شخص کو صدقہ قبول کرنے کے لیے بلایا جائے اور وہ کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى وَأَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِىُّ - وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَقِىءُ الأَرْضُ أَفْلاَذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَيَجِىءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ فِى هَذَا قَتَلْتُ . وَيَجِىءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ فِى هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِى. وَيَجِىءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ فِى هَذَا قُطِعَتْ يَدِى ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلاَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا ».

It was narrated from Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) has said: “The earth will vomit out pieces of its liver, like columns of gold and silver .The murderer will come and will say: “It was for this that I killed” . The one who severed the ties of kinship will come and say: “It was for this that I severed the ties of kinship”. The thief will come and say: “It was for this that my hand was cut off”. Then they will leave it and not take anything from it.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: سونے چاندی کے ستونوں کی مثل زمیں اپنے جگر پارے اگل دے گی ، قاتل دیکھ کر کہے گا اسی (مال)کی وجہ سے تو میں نے قتل کیا تھا۔ قاطع رحم کہے گا اسی وجہ سے تو میں نے رشتہ داری توڑی تھی، چور دیکھ کر کہے گا اسی مال کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا پھر سب اس مال کو چھوڑ دیں گے اور کوئی کچھ نہیں لے گا۔

19. باب قَبُولِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَتَرْبِيَتِهَا

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ - وَلاَ يَقْبَلُ اللَّهُ إِلاَّ الطَّيِّبَ - إِلاَّ أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً فَتَرْبُو فِى كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ كَمَا يُرَبِّى أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ».

It was narrated from Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) has said: ‘No one gives charity earned from a good (Tayyib) source – And Allah does not accept anything but that which is good (Tayyib) – but the most Merciful takes it in His Right hand – even it is a date- and it is tended in the Hand of the Most Merciful until it becomes bigger than mountain, as one of you tends to colt or young camel’.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو شخص پاکیزہ مال سے صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال کے سوا قبول نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہےخواہ وہ ایک کجھور ہو ، پھر وہ صدقہ رحمن کے ہاتھ میں بڑھتا رہتا ہے حتیٰ کہ پہاڑ سے زیادہ ہوجاتا ہے ، جس طرح تم میں سے کوئی شخص گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتاہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىَّ - عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ إِلاَّ أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّى أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوصَهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) has said: “No one gives in charity a date earned from a good (Tayyib) source, but Allah takes it in His right hand and tends it as one of you tends his colt or young she-camel, until it becomes like a mountain, or a bigger.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو شخص اپنی کمائی سے ایک کھجور بھی صدقہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتاہے پھر اس کو بڑھاتا رہتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے حتیٰ کہ وہ پہاڑ سے بڑھ جاتا ہے۔


وَحَدَّثَنِى أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِى ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ح وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الأَوْدِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. فِى حَدِيثِ رَوْحٍ « مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ فَيَضَعُهَا فِى حَقِّهَا ». وَفِى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ « فَيَضَعُهَا فِى مَوْضِعِهَا ».

It was narrated from Suhail with his chain (a similar Hadith as no.2343) In the Hadith of Rawh it says: “Earned from a good (Tayyib) source, and allocates it to the right place.”. In the Hadith of Sulaiman it says: “and allocates to its place.”

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ عَنْ سُهَيْلٍ.

A Hadith similar to that of Ya’ qub from Suhail (no. 2343) was narrated from Abu Salih from Abu Hurairah.

ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنِى عَدِىُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لاَ يَقْبَلُ إِلاَّ طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ ( يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّى بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ) وَقَالَ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ) ». ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِىَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) has said: “O People, Allah is Tayyib (good) and does not accept anything but that which is good. Allah has enjoined upon the believers that which He has enjoined upon the Messengers. He says : O You Messengers! Eat of the Tayyibat [the lawful] and do righteous deeds. Verily ,I am well-Acquainted with what you do” and He says : O you believers !Eat of the lawful things that We have provided you with…Then he mentioned a man who has undertaken a lengthy journey and is disheveled and dusty , raising his hands toward heaven and saying : ‘O Lord, O Lord! ‘But his food is unlawful, his drink is unlawful, his clothing is unlawful, and he is nourished with what is unlawful, so how can he receive a response?”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے لوگو! اللہ پاک ہے اور پاک چیز ہی کو قبول کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو دیا اللہ نے فرمایا اے رسولو! تم پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو میں تمہارے عملوں کو جاننے والا ہوں اور فرمایا اے ایمان والو! ہم نے جو تم کو پاکیزہ رزق دیا اس میں سے کھاؤ پھر ایسے آدمی کا ذکر فرمایا جو لمبے لمبے سفر کرتا ہے پریشان بال جسم گرد آلود اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف دراز کر کے کہتا ہے اے رب اے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام اور اس کا پہننا حرام اور اس کا لباس حرام اور اس کی غذا حرام تو اس کی دعا کیسے قبول ہو۔

1234Last ›