- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First23456

30. باب فَضْلِ إِخْفَاءِ الصَّدَقَةِ

حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِى خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِى ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ الإِمَامُ الْعَادِلُ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِى الْمَسَاجِدِ وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِى اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّى أَخَافُ اللَّهَ. وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ».

It was narrated by Abu Hurairah that the Prophet (SAW) said: “There is seven whom Allah will shade with His shade on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a young man who grows up worshipping Allah; a man whose heart is attached to Masjid; two men who love one another for the sake of Allah, they meet and part on that basis; a man who is called to (a sin) by a woman of status and beauty, but he says: ‘I fear Allah.’; a man who gives charity so secretly that his right hand does not know what his left hand is giving; and a man who remembers Allah when he is alone and his eyes fill with tears. ”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا سات آدمی ایسے ہیں جن کو اللہ اپنے سایہ میں سایہ عطا کرے گا،جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ایک عادل بادشاہ، دوسرا وہ جوان جس کی پرورش اللہ کی عبادت میں ہوئی ہو، تیسرا وہ آدمی جس کا دل مساجد میں اٹکا ہوا ہو، چوتھے وہ دو آدمی جن کی دوستی اللہ کے لیے ہو، اسی پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں۔ پانچواں وہ آدمی جس کو کوئی نسب و جمال والی عورت بلائے (برائی کی طرف) تو وہ کہے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ آدمی جو صدقہ اس طرح چھپا کر دیتا ہے کہ اس کے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے دینے کی خبر نہ ہو۔ ساتواں وہ آدمی جو خلوت میں اللہ کا ذکر کرے تو اس کی آ نکھیں بہہ پڑیں۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ - أَوْ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ - أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ. وَقَالَ « وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ ».

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri- or from Abu Hurairah- that the Messenger of Allah (SAW) said: “…….”a Hadith similar to that of Ubaidullah (no 2380). And he said: “”A man who is attached to Masjid when he leaves it, until he comes back to it.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ایک وہ آدمی ہے جس کا دل مسجد میں معلق ہو جب اس سے نکلے یہاں تک کہ اس کی طرف لوٹ آئے باقی وہی حدیث ہے جو گزر چکی۔

31. باب بَيَانِ أَنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ صَدَقَةُ الصَّحِيحِ الشَّحِيحِ

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ فَقَالَ « أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا وَلِفُلاَنٍ كَذَا أَلاَ وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ ».

It was narrated by Abu Hurairah said: “A man came to Messenger of Allah (SAW) and said: ‘O Messenger of Allah (SAW), what kind of charity is greatest?’. He said: ‘To give charity when you are healthy and inclined to be stingy, fearing poverty and hoping to be wealthy. Do not put it off until (your soul) reaches the throat and you say: ‘Such-and-such is for so-and-so, and such-and-such is for so-and-so.’ No, it has already become the property of so-and-so.’”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے پاس ایک آدمی آیا ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے بڑا ہے؟آپﷺ نے فرمایا کہ تو صدقہ کرے اس حال میں کہ تم تندرست ہو ،حریص ہو ، فقر کا خوف کرتے ہو، اور مال کی امید رکھتے ہو، اور صدقہ دینے میں اتنی تاخیر نہ کرنا کہ تمہاری جان گلے تک پہنچ جائے اور پھر تم کہو اتنا فلاں کا اوراتنا فلاں کا ، حالانکہ (اب تم کہو یا نہ کہو)فلان کا اتنا ہوچکاہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا فَقَالَ « أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا وَلِفُلاَنٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: “A man came to Messenger of Allah (SAW) and said: ‘O Messenger of Allah (SAW), what kind of charity brings the greatest reward?” He said: “By your tell I shall tell you. Give charity when you are healthy and inclined to be stingy, fearing poverty and hoping to live, and do not put it off until (your soul) reaches the throat and you say: ‘Such-and-such is for so-and-so, and such-and-such is for so-and-so.’ No, it has already become the property of so-and-so.’”’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سے صدقہ کا اجر زیادہ ہے ؟آپ نے فرمایا تمہارے باپ کی قسم تم کو ضرور خبر دی جائے گی! تم اس حال میں صدقہ دو کہ تم تندرست ہو ،حریص ہو ، فقر کا خوف کرتے ہو، اور مال کی امید رکھتے ہو، اور صدقہ دینے میں اتنی تاخیر نہ کرنا کہ تمہاری جان گلے تک پہنچ جائے اور پھر تم کہو اتنا فلاں کا اوراتنا فلاں کا ، حالانکہ (اب تم کہو یا نہ کہو)فلان کا اتنا ہوچکاہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ.

A Hadith similar to (as no 2382) to that of Jarir was narrated by Umarah bin Al-Qaqa with this chain, except that he said: ‘What kind of charity is best’?

ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔

32. باب بَيَانِ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَأَنَّ السُّفْلَى هِيَ الآخِذَةُ.

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ « الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ ».

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (SAW) said- while he was on the Minbar, speaking about charity and refraining from the begging: “The upper hand is better than lower hand and upper hand is one who gives and the lower hand is the one who receives.”

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر صدقہ کرنے اور سوال سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ - قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ - أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ - عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ».

Hakim bin Hizam narrated that the messenger of Allah (SAW) said: “The best of charity is that which is given when one can afford it, and the upper hand is better than the lower hand. And start with those who are under your care.”

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا افضل ترین صدقہ وہ ہے اس کے بعد بھی دینے والا غنی رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور جو تمہارے زیر کفالت ہیں ان سے (صدقہ دینے کی) ابتداء کرو۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَعْطَانِى ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِى ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِى ثُمَّ قَالَ « إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِى يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ».

It was narrated that the Hakim bin Hizam said: “I asked the Messenger of Allah (SAW) and he gave to me, then I asked him he gave to me, then I asked him he gave to me, then he said:’ this wealth is green and fresh; whoever takes it and without asking for it, it will be blessed for him, but whoever takes him for longing, it will not be blessed for him and he will be like the one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand.’ ””

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سوال کیا آپ ﷺنے مجھے عطا کیا پھر میں نے مانگا آپ ﷺنے مجھے عطا کیا پھر میں نے مانگا آپ ﷺنے مجھے عطا کیا پھر فرمایا: یہ مال ہرا بھرا اور شیریں ہے جو اس کو پاکیزہ نفس سے لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے اور جو اس کو نفس کی حرص و ہوس سے لیتا ہے تو اس کے لیے برکت نہیں دی جاتی اور وہ ایسے شخص کی طرح ہو جاتا ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔


حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ الْجَهْضَمِىُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ وَأَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ وَلاَ تُلاَمُ عَلَى كَفَافٍ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ».

Abu Umamah said: “The messenger of Allah (SAW) said: ‘O Son of Adam, spending of your surplus wealth is good for you, and withholding it is bad for you. You will not be blamed if you keep what you need to live on. Start with those who are under your care, and the upper hand is better than the lower hand.’”

حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے ابن آدم! اپنی ضرورت سے زائد مال خرچ کر دینا تیرے لیے بہتر ہے اگر تو اس کو روک لے گا تو تیرے لیے برا ہوگا،اور ضرورت کے مطابق خرچ رکھنے پر تجھے ملامت نہیں ہے۔ اور دینے کی ابتداء اپنے اہل و عیال سے کر اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔

33. باب النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِى مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِى رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِىِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ إِلاَّ حَدِيثًا كَانَ فِى عَهْدِ عُمَرَ فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يَقُولُ « مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِى الدِّينِ ». وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ كَانَ كَالَّذِى يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ ».

Muawiyah said: “Be cautious wit regard to (the narration of) Ahadith, except a Hadith that was in circulation at the time of Umar, for Umar used to make people fear Allah, [the Mighty and Sublime] . I heard the Messenger of Allah (SAW) say: ‘If Allah wants good for a person , he causes him to understand Islam.’ And I heard the Messenger of Allah (SAW) said: ‘I am just a trustee. If I give to someone willingly, it will be blessed for him, but if I give someone because he asked for it and greedy, he will be the liked of the one who eats and but is not satisfied.”

حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ احادیث سے بچو سوائے ان احادیث کے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں مروی تھیں۔ کیونکہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو اللہ کے بارے میں خوف دیتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے تھے اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے آپ ﷺنے فرمایا میں خزانچی ہوں جس کو میں طیب نفس یعنی دلی خوشی سے کچھ عطا کروں تو اس میں اسے برکت ہوتی ہے اور جس کو میں اس کے مانگنے پر اور ستانے پر دوں اس کا حال اس شخص جیسا ہوتا ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَخِيهِ هَمَّامٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تُلْحِفُوا فِى الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ لاَ يَسْأَلُنِى أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّى شَيْئًا وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ ».

It was narrated that the Muawiyah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Do not persist in asking, for by Allah, because there is no one who asks me for something, and gets something by asking me for it while I am reluctant to give it him, and is blessed therein.’”

حضرت معاو یہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم گڑ گڑا کر سوال مت کیا کرو۔اللہ کی قسم جو شخص مجھ سے سوال کرے اور میں ناخوشی سے اس کو دوں تو میری دی ہوئی چیز میں کیسے برکت ہوگی؟


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ الْمَكِّىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنِى وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ - وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِى دَارِهِ بِصَنْعَاءَ فَأَطْعَمَنِى مِنْ جَوْزَةٍ فِى دَارِهِ - عَنْ أَخِيهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِى سُفْيَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ. فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

It was narrated that Amr bin Dinar said: “Wahb bin Munabbih narrated to me- when I entered upon him in his house in Sana and he gave some nuts to eat- that his brother said: ‘I heard Muawiyah bin Abi Sufyan say: “I heard the Messenger of Allah (SAW) say…”and he mentioned something similar (to no.2390s)’”

حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت و ہب بن منبہ نے حدیث بیان کی اور میں ان کے گھر صنعاء میں داخل ہوا تو مجھے انہوں نے اپنے گھر میں اخروٹ کھلائے اور ان کے بھائی نے مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث بیان فرمائی جو گزر چکی ہے۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِى حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِى سُفْيَانَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِى الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِى اللَّهُ ».

Humaid bin Abdur Rahman bin Awf said: ‘I heard Muawiyah bin Abi Sufyan say, while he was delivering a Khutbah: I heard the Messenger of Allah (SAW) said: “When Allah wants good for a person, he causes him to understand Islam. I am just the Distributor, and it is Allah Who gives

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے اللہ کے رسول ﷺسے سنا۔ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا کرتے ہیں اور میں صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔

34. باب الْمِسْكِينِ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى وَلاَ يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِى الْحِزَامِىَّ - عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِى يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ». قَالُوا فَمَا الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « الَّذِى لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلاَ يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلاَ يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا ».

It was narrated by Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) said: “The poor person is not the one who goes around the people and is given a mouthful or two, or a date or two.” They said: ‘Then who is the poor person, O Messenger of Allah (SAW)?’ He said: ‘The one who cannot find enough to make him independent of means, but the people do not realize that he is in need, so they do not give charity to him, and he does not ask the people for anything.’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جو گھومتا رہتا ہے اور لوگوں کے اردگرد پھرتا رہتا ہے پھر ایک لقمہ یا دو لقمے اور ایک کھجور یا دو کھجوریں لے کر لوٹ جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ پھر مسکین کون ہے؟ تو آپ ﷺنے فرمایا: مسکین وہ ہے جو اتنا مالدار نہ ہو جس سے ضرورت زندگی پوری کر سکے اور نہ لوگ اسے مسکین تصور کرتے ہوں کہ اس کو صدقہ دیں اور نہ وہ لوگوں سے کچھ مانگتا ہو۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِى شَرِيكٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالَّذِى تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلاَ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ( لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا) ».

It was narrated by Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) said: “The poor person is not the one who may be sent away with a date or two, or a mouthful or two. Rather the poor person is the one who refrains from the asking. Recite if you wish: …. They do not beg of people at all… [Al-Baqarah 2:273]” [2395]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مسکین وہ شخص نہیں ہے کہ جو ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقموں کے ساتھ لوٹ جاتا ہے۔ مسکین تو وہ ہے جو سوال کرنے سے بچتا ہے۔ اگر چاہو تو تم یہ آیت پڑھو (وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے)۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِى شَرِيكٌ أَخْبَرَنِى عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى عَمْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ.

Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) said……. A Hadith like that of Ismail (2394). ”

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مثل سابق روایت ہے۔

35. باب كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِى الزُّهْرِىِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ فِى وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ ».

It was narrated from Hamzah bin Abdullah, from his father that the Prophet (SAW) said: ‘One of you will keep on begging until he meets Allah with not a bit of flesh on his face.’

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے مانگنے والا ہمیشہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔


وَحَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنِى إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَخِى الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ « مُزْعَةُ ».

A similar report (as no.2396) was narrated from the brother of Az-Zuhri, but he did not mention the word Muzah (a bit).

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے مگر اس میں گوشت کے ٹکڑے کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى اللَّيْثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى جَعْفَرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِىَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ فِى وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ ».

It was narrated from Hamzah bin Abdullah bin Umar the he heard his father say: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘A man will keep on begging from people until he comes on the Day of Resurrection with not a bit of flesh on his face.’”

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ آدمی لوگوں سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت کا دن آ جائیگا اور اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ ».

It was narrated by Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) said: ‘Whoever begs from the people in order to accumulate his wealth, it is as if he is asking for a live coal, so let him ask for a little or a lot.’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگوں سے صرف اپنا مال بڑھانے کی غرض سے مانگتا ہے تو یہ انگاروں کو مانگتا ہے خواہ کم لے یا زیادہ جمع کر لے۔


حَدَّثَنِى هَنَّادُ بْنُ السَّرِىِّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ بَيَانٍ أَبِى بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ بِهِ وَيَسْتَغْنِىَ بِهِ مِنَ النَّاسِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلاً أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ».

It was narrated by Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) said: “For one of you to go out and gather firewood on his back, then give it in charity and make himself independent of people thereby, is better than asking a man who may give to him or withhold from him. And the upper hand is better than lower hand, and start with those who are under your care.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے تم میں کسی کا صبح کے وقت جا کر اپنی پیٹھ پر لکڑی کا گٹھا اٹھا کر لانا اور اس میں سے صدقہ کرنا اور لوگوں سے مستغنی ہو جانا اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے وہ اسے دے یا نہ دے ۔ بے شک اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور جن کی کفالت تیرے ذمہ ہے ان سے صدقہ کی ابتداء کر۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنِى قَيْسُ بْنُ أَبِى حَازِمٍ قَالَ أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « وَاللَّهِ لأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ ». ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ.

Qais bin Abi Hizam said: “We came to Abu Hurairah and he said: Prophet (SAW) said: ‘By Allah the one for you to go out and carry firewood on his back and sell it.’ Then he mentioned to the Hadith similar to the (no. 2400)”

حضرت قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ کہنے لگے کہ نبی ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص صبح کو اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لاد کر لائے اور ان کو بیچے اس کے بعد حدیث مثل سابق ہے۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلاً يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ ».

Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) said; ‘if one of you were tie together a bundle of firewood and carry it on his back and sell it, that would be better for him than asking a man who may give him (something) or withhold from him.’”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لادے پھر ان کو بیچ دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ وہ لوگوں سے مانگے معلوم نہیں کہ وہ دیں یا نہ دیں۔


حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ - قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الدَّارِمِىُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِىُّ - حَدَّثَنَا سَعِيدٌ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِى إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِىِّ عَنْ أَبِى مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِىِّ قَالَ حَدَّثَنِى الْحَبِيبُ الأَمِينُ أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَىَّ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِى فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِىُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً فَقَالَ « أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ » وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. ثُمَّ قَالَ « أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ». فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. ثُمَّ قَالَ « أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ ». قَالَ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلاَمَ نُبَايِعُكَ قَالَ « عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا - وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً - وَلاَ تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا ». فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ.

Awf bin Malik Al-Ashjai said: “We were with the Messenger of Allah (SAW), nine or eight or seven (people) and he said: ‘Will you not pledge your allegiance to the Messenger of Allah (SAW)?’ We had only recently pledged our allegiance, so we said: “We have sworn our allegiance to you, O Messenger of Allah (SAW)”He said: “Will you not pledge your allegiance to the Messenger of Allah (SAW)?”” We said: ‘We have sworn our allegiance to you, O Messenger of Allah (SAW)’ then he said: ‘Will you not pledge your allegiance to the Messenger of Allah (SAW)? We held our hands and said: ‘We pledge our allegiance to you, O Messenger of Allah (SAW). Tell us on what basis we should pledge allegiance to you?’ He said: ‘On the basis that you will worship Allah and not associate anything with Him, and (you will perform) the five time prayers and you will obey Allah – and he whispered- and you will not ask the people for anything. ’I saw that some of those people, if they dropped a whip, they would not ask anyone to hand it to them.’

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نو یا آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ ﷺکے پاس حاضر تھے آپ ﷺنے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺسے بیعت نہیں کرتے؟ حالانکہ ہم قریب ہی زمانہ میں بیعت کر چکے تھے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم آپ ﷺسے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺسے بیعت نہیں کرتے ؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم آپ ﷺسے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺسے بیعت نہیں کرتے ؟ ہم نے اپنے ہاتھ دراز کئے اور عرض کیا ہم آپ ﷺسے بیعت کر چکے ہیں اب ہم کس بات پر بیعت کریں؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے اور پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور اللہ کی اطاعت کرو گے، اور یہ بات آہستہ سے فرمائی کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگو گے۔ تو میں نے ان میں سے بعض آدمیوں کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا اگر کوڑا (سواری سے) گر جاتا تو وہ کسی سے اٹھا کر دے دینے کی خواہش نہ کرتا تھا۔

36. باب مَنْ تَحِلُّ لَهُ الْمَسْأَلَةُ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كِلاَهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ حَدَّثَنِى كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِىُّ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلاَلِىِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ « أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا ». قَالَ ثُمَّ قَالَ « يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِى الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلاَنًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا ».

It was narrated that Qabisah bin Mukhariq Al- Hilali said: ‘I incurred a debt (in order to reconcile between two parties) and I came to Messenger of Allah (SAW) to ask him (for help) with it. He said: ‘stay with us until the charity comes, and we will order that something will be given to you.’ Then he said: ‘O Qabisah, asking for help is not permissible except in one of three cases: A man who has incurred a debt (in order to reconcile between two parties)’, for whom it is permissible to ask for help until he has paid it of, then he should refrain; a man who has been stricken by calamity that has destroyed all his wealth, for whom it is permissible to ask for help until he gets enough to get by’- or he said- ‘he gets enough to meet his basic needs’; and a man who is stricken by poverty and three man of wisdom among his people acknowledge that So- and so has been stricken by poverty, then it becomes permissible for him to ask for help until he gets enough to get by’ – or he said: ‘to meet his basic needs.’ Apart from these basic cases asking for help, O Qabisah is unlawful, and the one who begs is consuming something unlawful.”’

حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے (کسی امر کے لیے) چندہ جمع کرنے کا بار اپنے اوپر ڈال لیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺسے اس بارے میں پوچھنے کے لیے حاضر ہوا۔ تو آپ ﷺنے فرمایا ٹھہر جاؤ کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آ جائے تو ہم تم کو دینے کا حکم دے دیں گے۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا اے قبیصہ! تین آدمیوں کے علاوہ کسی کے لیے مانگنا جائز نہیں۔ ایک وہ آدمی جس نے اپنے اوپر چندہ کا بوجھ ڈالا ہو تو اس کے لیے اتنی رقم پوری کرنے تک مانگنا جائز ہے پھر وہ رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس کے مال کو کسی آفت نے ختم کردیا ہو تو اس کے لیے اپنے گزر بسر تک یا گزر اوقات کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے۔ تیسرا وہ آدمی ہے جس کے تین دن فاقہ میں گزر جائیں اور اس کی قوم میں سے تین کامل العقل آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں آدمی کو فاقہ پہنچا ہے تو اس کے لیے گزر بسر کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے اے قبیصہ! ان تین کے علاوہ مانگنا حرام ہے اور مانگ کر کھانے والا حرام کھاتا ہے۔

37. بابُ جَوازُ الْأَخْذِ بِغَيْرِ سُؤَالٍ وَلَا تَطَّلَعِ

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ح وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - يَقُولُ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُعْطِينِى الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّى. حَتَّى أَعْطَانِى مَرَّةً مَالاً فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خُذْهُ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ».

Umar bin Al-Khattab (May Allah pleased with him) Said: “The Messenger of Allah (SAW) used to give us things, and I would say: ‘Give it to one who is more in need of it then I.’ Then on one occasion he gave me something, and I said: ‘Give it to one who is more in need of it then I’, and the Messenger of Allah (SAW) said: ‘Take it. Whatever of this wealth comes to you when you are not hoping for it and asking for it, take it, otherwise do not follow after it.’

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺمجھے کچھ عطا کیا کرتے تھے۔ تو میں عرض کرتا کہ آپ ﷺمجھ سے زیادہ ضرورت مند کو عطا فرمائیں۔ حسب معمول آپ ﷺنے ایک مرتبہ کچھ مال عطا فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو اسے عطا فرمائیں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اسے لے لے اور تیرے پاس اگر بغیر لالچ کے اور بغیر مانگنے کے کچھ مال آجائے تو اس کو حاصل کر لیا کرو اور جو اس طرح نہ آئے اس کا دل میں خیال نہ کرو۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُعْطِى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - الْعَطَاءَ فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّى. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ». قَالَ سَالِمٌ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلاَ يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ.

It was narrated form Salim bin Abdullah from his father, that the Messenger of Allah (SAW) used to give things to Umar bin Al- Khattab (May Allah pleased with him), and Umar would say to him: ‘O Messenger of Allah (SAW), give it to one who is more in need than me.’ The Messenger of Allah (SAW) said to him: ‘Take it, and keep it, or give it in charity.’ Whatever comes to you of this wealth when you are not hoping for it or asking for it, take it, otherwise do not hanker after it.’ Salim said: ‘Because of that, Ibn Umar did not ask anyone for anything, and he did not refuse anything that was given to him.’

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺعمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ مال عطا کیا کرتے تھے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺسے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو مجھ سے زیادہ فقیر ہو اس کو عطا کیا کریں۔ تو رسول اللہ ﷺنے انہیں فرمایا اسے لے لو اپنے پاس رکھو یا صدقہ کرو اور تیرے پاس جو مال اس طرح آئے کہ تو نہ خوا ہش کرنے والا ہو اور نہ مانگنے والا تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ آئے تو اپنے دل کو اس کی طرف نہ لگاؤ۔ حضرت سالم کہتے ہیں اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی سے سوال نہیں کرتے تھے اور اگر کوئی چیز دیتا تو اس کو رد نہیں کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِى ابْنُ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِىِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Abdullah bin As-Sadi, from Umar bin Al- Khattab (May Allah pleased with him), from the Messenger of Allah (SAW).

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ السَّاعِدِىِّ الْمَالِكِىِّ أَنَّهُ قَالَ اسْتَعْمَلَنِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِى بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِى عَلَى اللَّهِ. فَقَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّى عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَعَمَّلَنِى فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ ».

It was narrated that Ibn As-Sadi Al-Maliki said: ‘Umar bin Al- Khattab (May Allah pleased with him) appointed me in charge of charity, and when I had finished with it, and handed it over to him, he ordered that I be given some remuneration. I said: ‘I only did for the sake of Allah and my reward is with the Allah.’ He said: ‘Take what is given to you. I was appointed to do some work at the time of Messenger of Allah (SAW) and he gave me some remuneration, and I said the same as you have said, but the Messenger of Allah (SAW) said to me : If you are given something without asking for it, then take it and give charity.’’

حضرت ابن سعدی مالکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل مقرر فرمایا۔ جب میں اس سے فارغ ہوا اور رقمِ زکاۃ لا کر جمع کرا دی تو آپ رضی اللہ عنہ نے میرے لیے کچھ اجرت کا حکم فرمایا ۔ تو میں نے عرض کیا میں نے اللہ کی رضا کے لیے کام کیا اور میرا ثواب اللہ پر ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو تجھے دیا جائے وصول کر لے کیونکہ میں بھی رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں عامل مقرر ہوا تھا آپ ﷺنے مجھے اجرت دی تھی۔ تو میں نے تیری طرح کہا تو رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا جو تجھے بغیر مانگے مل جائے اس کو کھاؤ اور صدقہ بھی کرو۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ السَّعْدِىِّ أَنَّهُ قَالَ اسْتَعْمَلَنِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ -رضى الله عنه - عَلَى الصَّدَقَةِ. بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.

It was narrated that Ibn As-Sadi said: ‘Umar bin Al- Khattab (May Allah pleased with him) appointed me in charge of charity….’ A Hadith like that of Al-Laith(no. 2409)

ایک اور سند سے بھی منقول ہے ابن السعدی بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقات کا عامل بنایا ، اس کے بعد حسب سابق ہے۔

38. باب كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الدُّنْيَا

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ حُبِّ الْعَيْشِ وَالْمَالِ ».

It was narrated by Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) said: “The heart of an old man remains young with regard to two things: Love of life and of wealth.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا : بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان رہتا ہے ۔ زندگی اور مال کی محبت۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولُ الْحَيَاةِ وَحُبُّ الْمَالِ ».

It was narrated by Abu Hurairah that Messenger of Allah (SAW) said: “The heart of an old man remains young with regard to love of two things: A long life and wealth.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا : بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان رہتا ہے ۔لمبی زندگی اور مال کی محبت۔


وَحَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِى عَوَانَةَ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ - عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ ».

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (SAW) said… a similar report (as no. 2412).

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ابن آدم بوڑھا ہوتا ہے اور اس میں دو چیزیں جوان رہتی ہیں مال اور عمر پر حرص۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ بِمِثْلِهِ.

It was narrated from Anas that the Prophet (SAW) said:. a similar report (as no.2412).

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس سے حسب سابق روایت ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِهِ.

A similar report (as no.2412) was narrated from Anas bin Malik, from the Prophet (SAW).

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس سے ایسی ہی روایت منقول ہے۔

39. باب لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ لاَبْتَغَى ثَالِثًا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلاَ يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ».

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (SAW) said: “If the son of Adam had two valleys of wealth he would desire a third, but nothing will fill the belly of the son of the Adam but dust. And Allah accepts the repentance of one who repents.”

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر ابن آدم کے لیے دو وادیاں مال کی بھری ہوئی ہوں تب بھی وہ تیسری وادی تلاش کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ سوائے مٹی کے کوئی نہیں بھر سکتا اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ - فَلاَ أَدْرِى أَشَىْءٌ أُنْزِلَ أَمْ شَىْءٌ كَانَ يَقُولُهُ - بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِى عَوَانَةَ.

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (SAW) say – and I do not know whether it was something that was revealed to him or something that he said – similar to what was narrated by Abu Awanah (no. 2415)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ، اور مجھے پتا نہیں کہ آپﷺپر وہ بات نازل ہوئی تھی یا آپ از خود فرمارہے تھے ۔ اس کے بعد حسب سابق روایت ہے۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنِى ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا آخَرَ وَلَنْ يَمْلأَ فَاهُ إِلاَّ التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ ».

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (SAW) said: “If the son of Adam had a valley of gold, he would want to have another valley, but nothing will ever fill his mouth but dust. And the Allah accepts the repentance of the one who repents.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اگر ابن آدم کے لیے سونے کی ایک وادی ہو تب بھی دوسری وادی کی خواہش کرے گا۔ اور اس کا منہ مٹی ہی بھرے گی اور جو توبہ کرے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالاً لأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ وَلاَ يَمْلأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ ». قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلاَ أَدْرِى أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لاَ. وَفِى رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالَ فَلاَ أَدْرِى أَمِنَ الْقُرْآنِ. لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ.

Ibn Abbas said: ‘If the son of Adam had a valley full of wealth, he would want to have another, but nothing will satisfy but dust. And the Allah accepts the repentance of the one who repents.’ Ibn Abbas said: ‘I do not know whether this is from Quran or not.’ According to the report of Zubair he said: ‘I do not know whether this is from Quran or not’ and he did not mention Ibn Abbas.

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے تھے اگر ابن آدم کے لئے وادی بھر مال ہو تو بھی وہ پسند کرے گا کہ اس کی مثل اور ہو اور ابن آدم کا جی سوائے مٹی کے کسی چیز سے نہیں بھرتا اور جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ قرآن سے ہے یا نہیں۔ اور زہیر کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔


حَدَّثَنِى سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِى حَرْبِ بْنِ أَبِى الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِىُّ إِلَى قُرَّاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلاَثُمِائَةِ رَجُلٍ قَدْ قَرَءُوا الْقُرْآنَ فَقَالَ أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ وَلاَ يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الأَمَدُ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ كَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا فِى الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَاءَةَ فَأُنْسِيتُهَا غَيْرَ أَنِّى قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلاَ يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ. وَكُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا غَيْرَ أَنِّى حَفِظْتُ مِنْهَا (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَ تَفْعَلُونَ) فَتُكْتَبُ شَهَادَةً فِى أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated from Abu Harb bin Abi Al-Aswad that his father said: ‘Abu Musa Al-Ashari was sent to the reciters of the people of Al-Basrah, and three hundred men who had memorized the Quran entered upon him. He said: ‘You are the best of the people of Al-Basrah and their reciters, so recite it, but do not let a long life cause your hearts to become hardened as did the hearts of those who came before you. We used to recite a Surah which we likened in length and power to Surah Baaah (At-Tawbah), then I was caused to forget it, but I remember of it (the words): “If the son of Adam had two valleys of wealth he would desire a third, but nothing will fill the belly of Adam but dust.” And we used to recite a Surah which we likened to one of the Musabbihat, but I was caused to forget it, but I remember from it the words: ‘O You who believe!, why do you say that what you do not do? ’It will be written as a testimony on your necks, and you will be questioned about it on the Day of Resurrection. ’’

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے قاریوں کو بلوایا تو ان کے پاس سو ایسے شخص آئے جو قرآن مجید پڑھ چکے تھے ، حضرت ابو موسیٰ نے کہا تم اہل بصرہ میں سب سے بہتر ہو اور اے قرآن پڑھنے والو!تم قرآن مجید پڑھتے رہو، کہیں زیادہ مدت گزرجانے سے تمہارے دل سخت نہ ہوجائیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں کے دل سخت ہوگئے تھے ، اور ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو لمبائی میں اور سخت وعیدات میں سورۃ توبہ کے برابر تھی مجھے وہ سورت بھلادی گئی البتہ اس کی اتنی بات یاد رہی کہ ابن آدم کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ سوائے مٹی کے کوئی نہیں بھر سکتا اور ہم ایک سورۃاور پڑھتے تھے جس کو ہم مسبحات(جو سورت سبح سے شروع ہوتی ہے) میں سے ایک سورت کے برابر جانتے تھے وہ بھی مجھے بھلادی گئی ، البتہ اس میں سے مجھے اتنا یاد ہے (یا ایھا الذین آمنوا لم تقولون مالا تفعلون)کو یاد رکھا ہے یعنی اے ایمان والوں وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں تو تمہاری گردنوں میں شہادت کے طور پر لکھ دی جاتی ہے قیامت کے دن تم سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا۔

‹ First23456