- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First3456

40. بابُ فَضْلُ الْقَنَاعَةِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: Richness is not abundance of (worldly) goods, rather richness is richness of heart.’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دولت مندی کثرت مال سے نہیں ہوتی بلکہ دولت مندی دل کے غنی ہونے کا نام ہے۔

41. بابُ التَحْذِيْرِ مِنَ الْاِغْتِرَارِ بِزِيْنَةِ الدُّنْيَا وَمَا يَبْسُطُ مِنْهَا

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَتَقَارَبَا فِى اللَّفْظِ - قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ يَقُولُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ « لاَ وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلاَّ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا ». فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِى الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَاعَةً ثُمَّ قَالَ « كَيْفَ قُلْتَ ». قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِى الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الْخَيْرَ لاَ يَأْتِى إِلاَّ بِخَيْرٍ أَوَ خَيْرٌ هُوَ إِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَكَلَتْ فَمَنْ يَأْخُذْ مَالاً بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَمَنْ يَأْخُذْ مَالاً بِغَيْرِ حَقِّهِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِى يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ ».

Abu Saeed Al-Khudri said: ‘The Messenger of Allah (SAW) stood up and addressed the people and said: ‘No, by Allah, I do not fear for you, O people, anything but that which Allah will bring forth for you of splendor of the life of this world.’ A man said: ‘O Messenger of Allah (SAW) does good produce evil?’ The Messenger of Allah (SAW) remained silent for a moment, then he said: ‘What did you say?’ He said: ‘I said: O Messenger of Allah (SAW) does good produce evil?’ The Messenger of Allah (SAW) said to him: ‘Good does not produce anything but good, or better than it. Every thing that grows in the spring may either kill or make the animals sick, except if an animal eats its fill of greenery; it eats, then when its flanks are stretched , it turns to face the sun and defecates or urinates, then it chews its cud, then it comes back and eats more. Whoever acquires wealth lawfully, it will be blessed for him, but whoever takes wealth unlawfully, he is like the one who eats and is never satisfied.’’’

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم میں تم پر اس سے زیادہ کسی چیز کی وجہ سے نہیں ڈرتا جو اللہ تمہارے لیے دنیا کی زینت کی چیز نکالتا ہے ایک صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا بھلائی سے برائی بھی آسکتی ہے تو رسول اللہ ﷺکچھ خاموش رہے۔ پھر فرمایا تو نے کیسے کہا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں نے عرض کیا کیا بھلائی سے بھی برائی آ سکتی ہے۔ تو اسے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ بھلائی کا نتیجہ تو بھلائی ہی ہوتا ہے لیکن موسم بہار میں اگنے والا سبزہ جانوروں کو ہلاک کر دیتا ہے۔ یا ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے سوائے ان جانوروں کے جو صرف سبزہ کھاتے ہیں وہ اس قدر کھاتے ہیں کہ ان کی کوکھیں پھول جاتی ہیں اور وہ دھوپ میں بیٹھ کر لید یا پیشاب کرتے ہیں پھر جگالی کرتے ہیں اور پھر چرنا شروع کردیتے ہیں ، جوشخص مال کو اپنے حق اور حصے کے مطابق لے گا اس کے مال میں برکت ہوگی اور جو شخص ناحق مال لے گا وہ اس جانور کی طرح جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا ». قَالُوا وَمَا زَهْرَةُ الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « بَرَكَاتُ الأَرْضِ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَأْتِى الْخَيْرُ بِالشَّرِّ قَالَ « لاَ يَأْتِى الْخَيْرُ إِلاَّ بِالْخَيْرِ لاَ يَأْتِى الْخَيْرُ إِلاَّ بِالْخَيْرِ لاَ يَأْتِى الْخَيْرُ إِلاَّ بِالْخَيْرِ إِنَّ كُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ثُمَّ اجْتَرَّتْ وَبَالَتْ وَثَلَطَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِى حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِى يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ ».

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah (SAW) said: ‘What I fear for you the most is that which Allah will bring forth for you of the splendor of the life of the this world.’ The said: “What is the splendor of life of this world, O Messenger of Allah (SAW)?” He said: ‘The blessing of the Earth.’ The said: ‘O Messenger of Allah (SAW), does good produces evil?’ He said: ‘Good does not produce anything but good, good does not produce anything but good, good does not produce anything but good. Every thing that grows in the spring may either kill or make the animals sick, except if an animal eats its fill of greenery; it eats, then when its flanks are stretched, it turns to face the sun and defecates or urinates, then it chews its cud, then it comes back and eats more. This wealth is fresh and sweet. Whoever acquires it lawfully and spend it lawfully, what a good help he is, whoever acquires it unlawfully will be like the one who eats and is never satisfied.’

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : مجھے تم لوگوں کے بارے میں سب سے زیادہ دنیا کی ترو تازگی کا خدشہ ہے ، صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ !دنیا کی ترو تازگی کیا ہے؟ آپﷺنے فرمایا زمین کی برکتیں صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ! کیا خیر کے سبب سے شر ہوتا ہے ؟ آپﷺ نے تین بار فرمایا : خیر کے سبب سے خیر ہی ہوتی ہے ۔موسم بہار میں جوچیزیں اگتی ہیں تو وہ سبزہ جانوروں کو ماردیتا ہے یا قریب المرگ کردیتا ہے سوائے ان جانوروں کے جو صرف سبزہ کھاتے ہیں وہ اس قدر کھاتے ہیں کہ ان کی کوکھیں پھول جاتی ہیں پھر وہ دھوپ میں آجاتے ہیں اور لید اور پیشاب کرتے ہیں پھر دوبارہ لوٹتے ہیں تو کھاتے ہیں (یعنی انہیں کچھ نہیں ہوتا) ، یہ مال دنیا میں سرسبز اور میٹھا ہے جو شخص اس مال کو اپنے حق کے مطابق لے گا اور اس کو اس کے صحیح مصرف میں خرچ کرے گا تو یہ اچھی مشقت ہے اور جو مال کو ناحق لے گا تو وہ اس جانور کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔


حَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِىِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِى مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ « إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِى مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا ». فَقَالَ رَجُلٌ أَوَيَأْتِى الْخَيْرُ بِالشَّرِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلاَ يُكَلِّمُكَ قَالَ وَرُئِينَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ وَقَالَ « إِنَّ هَذَا السَّائِلَ - وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ - إِنَّهُ لاَ يَأْتِى الْخَيْرُ بِالشَّرِّ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ رَتَعَتْ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِى يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ».

Abu Saeed Al-Khudri said: ‘The Messenger of Allah (SAW) sat on the Minbar and we sat around him, and he said: ‘One of the things that I fear for you after I am gone is the splendor and adornment of the life of this world that will be made available to you.’ A man said; ‘Does good produces evil, O Messenger of Allah (SAW) ?’ The Messenger of Allah (SAW) remained silent for a moment, and it was said (to that man): ‘What is the matter with you?’ Why do you speak to Messenger of Allah (SAW) when he does not speak to you? We thought that He was receiving the Revelation, then he came to and wiped away the sweat and said: ‘Where is the one who was asking?’- As if he was praising him. Then he said: ‘Good does not produce evil. Every thing that grows in the spring may either kill or make the animals sick, except if an animal eats its fill of greenery; it eats, then when its flanks are stretched, it turns to face the sun and defecates or urinates, then it chews its cud, then it comes back and eats more. This wealth is fresh and sweet. What a good companion he is to the Muslim who gives it to the poor, orphans and wayfarers. Whoever acquires it unlawfully will be like the one who eats and is never satisfied, and it will be witness against him on the Day of Resurrection.’

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺمنبر پر بیٹھے اور ہم آپ ﷺکے ارد گرد بیٹھ گئے تو آپ ﷺنے فرمایا میں تم پر اپنے بعد اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اللہ تم پر دنیا کی زینت اور ترو تازگی کے دروازے کھول دے گا ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ !کیا خیر کے سبب سے شر بھی آسکتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺاس کے جواب میں خاموش رہے ، لوگوں نے اس شخص سے کہا : کیا سبب ہے کہ تم رسول اللہ ﷺسے سوال کررہے ہو اور آپﷺجواب نہیں دے رہے ؟ حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ پھر ہم نے دیکھا آپ پر وحی نازل ہورہی ہے ، جب آپ معمول پر آگئے تو آپ نے پسینہ پونچھا ، پھر فرمایا : وہ سائل کہاں ہے ؟ گویا کہ آپ نے اس کی تحسین کی پھر فرمایا خیر کے سبب سے شر نہیں آتا ، فصل بہار جو سبزہ اگاتی ہے تو وہ سبزہ جانوروں کو ماردیتا ہے یا قریب المرگ کردیتا ہے ۔ سوائے ان جانوروں کے جو سبزہ کھاتے ہیں حتیٰ کہ ان کی کوکھیں بھر جاتی ہیں۔ پھر وہ دھوپ میں لیٹ کر لید اور پیشاب کرتے ہیں اس کے بعد چرنا شروع کردیتےہیں ۔ یہ مال دنیا سرسبز اور میٹھا ہے اور مسلمان کا اچھا ساتھی ہے ، اس مال کا جو حصہ مسکین ، یتیم اور مسافر کو دیا اور جو اس مال کو ناحق لیتاہے وہ اس جانور کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور یہ مال اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دے گا۔

42. بابُ فَضْلِ التَّعَفُّفِ وَالصَّبْرِ وَالْقَنَاعَةِ وَالْحَثِّ عَلَى كُلِّ ذَلِكَ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ نَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ « مَا يَكُنْ عِنْدِى مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِىَ أَحَدٌ مِنْ عَطَاءٍ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ ».

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that some people from among Ansar asked the Messenger of Allah (SAW) and he gave them, and then they asked him and he gave them, until what he had was exhausted. He said: ‘Whatever I have of good, I will never withhold from you, but whoever refrains from asking, Allah will make him content, whoever seeks to be independent of means, Allah will make him independent, and whoever is patient Allah will bestow patience upon him, and no one is ever given anything better and more generous than patience.’

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے بعض انصاری صحابہ نے رسول اللہ ﷺسے کچھ طلب فرمایا آپ ﷺنے ان کو عطا فرمایا انہوں نے پھر مانگا تو آپ نے ان کو عطا فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺکے پاس موجود مال ختم ہوگیا ۔ تو فرمایا میرے پاس جو کچھ ہوتا ہے اس کو ہرگز تم سے بچا کر نہ رکھوں گا ۔ جو شخص سوال سے بچتا ہے اللہ اس کو بچاتا ہے اور جو استغناء اختیار کرتا ہے اللہ اسے غنی کر دیتا ہے اور جو صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے جو کچھ تم میں سے کسی کو دیا جائے وہ بہتر ہے اور صبر سے بڑھ کر کوئی وسعت نہیں۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ.

A similar report as (no. 2424) was narrated from Az-Zuhri with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔

43. باب فِي الْكَفَافِ وَالْقَنَاعَةِ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى أَيُّوبَ حَدَّثَنِى شُرَحْبِيلُ - وَهُوَ ابْنُ شَرِيكٍ - عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ ».

It was narrated from Abdullah bin Amr bin Al-As that the Messenger of Allah (SAW) said: “He has succeeded who has accepted Islam and is given sufficient provision, and Allah makes him content with what He has given.”

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس نے اسلام قبول کیا اور اسے بقدر کفایت رزق عطا کیا گیا اور اللہ نے اپنے عطا کردہ مال پر قناعت عطا کر دی تو وہ شحض کامیاب ہوا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ كِلاَهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ».

It was narrated from that Abu Hurairah said: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Allahummaj ‘al rizqa ali muhammadin quwta (O Allah, make the provision of the family of Muhammad (no more than) sufficient.)’’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اے اللہ !آل محمد ﷺکو بقدر ضرورت رزق عطا فرما۔

44. بابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ وَمَنْ يُخَافُ عَلى إِيْمَانِهِ إِنْ لَمْ يُعْطَ ، وَاحْتِمَالُ مَنْ سُأِلَ بِجَفَاءِ لِجَهْلِهِ ، وَبَيَانُ الْخَوَارِجِ وَأَحْكَامُهُم

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى وَائِلٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلاَءِ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ. قَالَ « إِنَّهُمْ خَيَّرُونِى أَنْ يَسْأَلُونِى بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِى فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ ».

It was narrated from that Salman bin Rabiah said: “Umar bin Al- Khattab (May Allah pleased with him) said: ‘The Messenger of Allah (SAW) shared out (some wealth) and I said: ‘By Allah, O Messenger of Allah (SAW), others deserved to have it more than these people.’ He said: ‘They gave me the choice of having them ask importunately or regard me as a miser, and I am not a miser.’’”

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مال تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے علاوہ دوسرے لوگ زیادہ مستحق و حقدار تھے تو آپ ﷺنے فرمایا کہ ان لوگوں نے ایسی صورت پیدا کردی کہ یا تو یہ مجھ سے بے حیائی سے سوال کرتے یا مجھے بخیل قرار دیتے (العیاذ باللہ ) تو میں بخیل نہیں ہوں ۔


حَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِىُّ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا ح وَحَدَّثَنِى يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِىٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِىٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِى مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِى عِنْدَكَ. فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “I was walking with the Messenger of Allah (SAW) and he was wearing a Najrani Rida with a thick border. A Bedouin came up to him and roughly grabbed him by his Rida, and I could see the marks left on the neck of Messenger of Allah (SAW) by the border of his Rida, because of rough manner in which he grabbed him. The he said: ‘O Muhammad! Order that I be given some of the wealth of Allah that is with you! The Messenger of Allah (SAW) turned to him and smiled, then he ordered that he be given something.’ ”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺپر موٹے کناروں والی نجرانی چادر تھی آپ ﷺکو ایک دیہاتی ملا اس نے آپ ﷺکی چادر بہت شدت کے ساتھ کھینچی ،جس سے رسول اللہ ﷺکی گردن مبارک پر چادر کی کناری کا نشان پڑ گیا اور یہ کناری کا نشان اس کے سختی کے ساتھ کھینچے کی وجہ سے پڑا پھر اس نے کہا اے محمد ﷺاللہ کے مال میں سے جو تیرے پاس ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم دیجئے۔رسول اللہ ﷺاس کی طرف متوجہ ہوکر مسکرائے اور اس کو دینے کا حکم دیا۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ح وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا الْحَدِيثِ. وَفِى حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ مِنَ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ جَبَذَهُ إِلَيْهِ جَبْذَةً رَجَعَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى نَحْرِ الأَعْرَابِىِّ. وَفِى حَدِيثِ هَمَّامٍ فَجَاذَبَهُ حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ وَحَتَّى بَقِيَتْ حَاشِيَتُهُ فِى عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

This Hadith was narrated from Anas bin Malik, from the Messenger of Allah (SAW) (a Hadith similar to 2429). In the Hadith of Ikrimah bin Ammar is the addition: “Then he grabbed him, and the Prophet (SAW) was pulled backwards towards to that Bedouin.” In the Hadith of Hammam: “He grabbed him (so roughly) that the Burd tore, and its border was left around the neck of the Messenger of Allah (SAW).”

ایک اور سند سے یہ حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے اور عکرمہ بن عمار سے مروی اس حدیث میں یہ ہے کہ اس دیہاتی نے آپﷺکی چادر کو اتنے زور سے کھینچا کہ آپ اس کے سینے سے جالگے اور ہمام کی روایت میں ہے کہ اتنے زور سے چادر کھینچی کہ وہ پھٹ گئی اور اس کا کنارہ رسول ا للہ ﷺکی گردن میں رہ گیا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَىَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِى. قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا فَقَالَ « خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ». قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ « رَضِىَ مَخْرَمَةُ ».

It was narrated that Al-Miswar bin Makhramah said: “The mo distributed some cloaks and he did not give anything to Makhramah. Makhramah said: ‘O my son, let us go to the Messenger of Allah (SAW).’So I went with him and he said: ‘Go in and call him for me.’ So I called him, and he (SAW) came out wearing one of those cloaks and said: ‘I kept this one for you.’” He looked at him and said: “Makhramah is pleased.”

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے قبائیں تقسیم فرمائیں لیکن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ نہ عطا فرمایا تو مخرمہ نے کہا اے میرے بیٹے! میرے ساتھ رسول اللہ ﷺکے پاس چلو ، میں ان کے ساتھ چلا (دروازہ پر) مخرمہ نے کہا جاؤ اور آپ ﷺکو میرے پاس بلاکر لاؤ تو میں نے آپ ﷺکو ان کے پاس بلایا۔ آپ تشریف لائے اور آپ کے او پر ان میں سے ایک قبا تھی تو آپ ﷺنے فرمایا یہ میں نے تیرے لئے چھپاکر رکھی تھی پھر مخرمہ نے چادر کی طرف دیکھا اور مسور کہتے ہیں مخرمہ خوش ہوگئے۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِى أَبِى مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا. قَالَ فَقَامَ أَبِى عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ فَعَرَفَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- صَوْتَهُ فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولُ « خَبَأْتُ هَذَا لَكَ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ».

It was narrated that Al-Miswar bin Makhramah said: “Some cloaks were brought to the Messenger of Allah (SAW) and, and my father Makhramah said to me: ‘Let us go to him; perhaps he will give us one of them.’ My father stood at the door and the prophet (SAW) recognized his voice and came out, carrying a cloak and displaying it to him, and saying: ‘I kept this one for you, I kept this one for you.’”

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ قبائیں رسول اللہ ﷺکے پاس لائی گئیں تو مجھے میرے باپ مخرمہ نے کہا میرے ساتھ آپ ﷺکے پاس چلو،قریب ہے کہ آپ ﷺاس میں سے کچھ ہمیں بھی عطا فرما دیں۔ میرے باپ نے دروازے پرکھڑے ہو کر بات کی، نبی کریم ﷺنے اس کی آواز پہچان لی اور آپ ﷺنے ایک قباء لی اور آپ ﷺایک قباء لے کر نکلے اور آپ اس کی خوبیاں دکھاتے ہوئے فرما رہے تھے کہ یہ میں نے آپ کے لیے چھپاکر رکھی تھی یہ میں نے تیرے لیے چھپاکر رکھی تھی۔

45. بَاب إِعْطَاءِ مَنْ يُخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْهُمْ رَجُلاً لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللَّهِ إِنِّى لأَرَاهُ مُؤْمِنًا. قَالَ « أَوْ مُسْلِمًا ». فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِى مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّى لأَرَاهُ مُؤْمِنًا. قَالَ « أَوْ مُسْلِمًا ». فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِى مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّى لأَرَاهُ مُؤْمِنًا. قَالَ « أَوْ مُسْلِمًا ». قَالَ « إِنِّى لأُعْطِى الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِى النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ». وَفِى حَدِيثِ الْحُلْوَانِىِّ تَكْرَارُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ.

It was narrated from Sad: “The Messenger of Allah (SAW) gave something to a group of people among whom I was sitting, and the Messenger of Allah (SAW) left out one man without giving him anything, and he was the best of them in my view. I went to the Messenger of Allah (SAW) and whispered to him: ‘O Messenger of Allah (SAW), what about so-and so? By Allah I think that he is a believer. ’He said: ‘Or a Muslim.’ I remained silent for a while, then what I knew of him got better of me, and I said: ‘O Messenger of Allah (SAW), what about so-and so? By Allah I think that he is a believer. ’ He said: ‘Or a Muslim.’ I remained silent for a while, then what I knew of him got better of me, and I said: ‘O Messenger of Allah (SAW), what about so-and so? By Allah I think that he is a believer. ’He said: ‘Or a Muslim.’ He said: ‘I may give something to a man although someone else is dearer to me than him, lest he be thrown into the Fire on his face.’’” In the Hadith of Al-Hulwani, the words are repeated twice.

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے لوگوں کی ایک جماعت کو کچھ مال دیا میں بھی ان لوگوں میں بیٹھا ہوا تھا ، رسول اللہ ﷺنے ان میں ایک شخص کو چھوڑ دیا ، اسے کچھ نہیں دیا حالانکہ میرے نزدیک وہ بہت پسندیدہ تھا میں رسول اللہ ﷺکے پاس جاکر کھڑا ہوا اور چپکے سے کہا یا رسول اللہ !آپ نے فلاں کو کیوں نہیں دیا ، اللہ کی قسم میں اس کو مؤمن گردانتا ہوں ، آپﷺنے فرمایا آیا مسلماں؟ میں کچھ دیر خاموش رہا پھر مجھ سے نہیں رہا گیا اور میں نے کہا یارسول اللہ!آپ فلاں کو کیوں نہیں دیتے ؟ اللہ کی قسم میں اس کو مؤمن سمجھتا ہوں ، آپﷺنے فرمایا آیا مسلمان؟ میں کچھ دیر خاموش رہا ، پھر مجھ سے نہیں رہا گیا اور میں نے کہا : یارسول اللہ ! آپ فلاں کو کیوں نہیں دیتے اللہ کی قسم میں اس کو مؤمن گمان کرتا ہوں ، آپﷺنے فرمایا آیا مسلمان؟ پھر آپ ﷺنے فرمایا :میں کسی شخص کو اس خوف سے دے دیتا ہوں کہ کہیں وہ منہ کے بل جہنم میں نہ گرادیا جائے حالانکہ اس کے علاوہ دوسرا شخص مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے ۔ حلوانی کی روایت میں یہ قول دومرتبہ ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِى ابْنِ شِهَابٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَلَى مَعْنَى حَدِيثِ صَالِحٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ.

A Hadith similar to that of Salih (no 2433) from Az-Zuhri was narrated by others from Az-Zuhri with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ - يَعْنِى حَدِيثَ الزُّهْرِىِّ الَّذِى ذَكَرْنَا - فَقَالَ فِى حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِى وَكَتِفِى ثُمَّ قَالَ « أَقِتَالاً أَىْ سَعْدُ إِنِّى لأُعْطِى الرَّجُلَ ».

It was narrated that Ismail bin Muhammad bin Sad said: “I heard Muhammad bin Sad narrating this”- meaning, the Hadith of Az-Zuhri which is quoted above (no 2434) – and in this Hadith he said: “The Messenger of Allah (SAW) struck me with his hand between my neck and shoulder, then he said: ‘Are you arguing?, O Sad, because I give something to a man?’”

ایک دیگر سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے میری گردن اور کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا اور فرمایا : اے سعد ! اگر میں کسی شخص کو دوں تو کیا تم لڑائی کروگے ؟

46. بَاب إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ

حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُعْطِى رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الإِبِلِ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِى قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ. قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَحُدِّثَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ قَوْلِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِى عَنْكُمْ ». فَقَالَ لَهُ فُقَهَاءُ الأَنْصَارِ أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِى قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَإِنِّى أُعْطِى رِجَالاً حَدِيثِى عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَفَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ ». فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا. قَالَ « فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّى عَلَى الْحَوْضِ ». قَالُوا سَنَصْبِرُ.

It was narrated from Yunus, from ibn Shihab, who said: “Anas bin Malik informed me, that on the day of Hunain, when Allah granted the wealth of Hawazin as Fay to His Messenger (SAW) and Messenger of Allah (SAW) started to distribute it, giving one hundred camels to some men of the Quraish, some people among the Ansar said: “May Allah forgive the Messenger of Allah (SAW), he has given to the Quraish and he has ignored us, while our swords are still dripping with their blood.”” Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (SAW) was told about what they had said, and he summoned the Ansar to a tent made of leather. When they had gathered, he came to them and addressed them, and said: ‘What is that I have heard you are saying?’ The Fuqaha (the learned and wise) among the Ansar said: ‘As for the wise ones among us, O Messenger of Allah (SAW), they did not say any thing, but some of us are young in age, and they said: ‘May Allah forgive the Messenger of Allah (SAW), he has given to the Quraish and he has ignored us, while our swords are still dripping with their blood.’’” The Messenger of Allah (SAW) said: “I give to man who have only recently left disbelief behind, so as to incline their hearts (towards faith). Does it not please you that the people are leaving with the wealth while you are leaving with the Messenger of Allah (SAW)? By Allah, what you are returning with is better than what they are returning with.” They said: ‘Yes, O Messenger of Allah (SAW), we are pleased.’ He said: ‘You are going to see others being preferred over you, so be patient until you meet Allah and His Messenger, for I will be at the Cistern (Haud Al-Kauthar).’ They said: ‘We will be patient.’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انصار میں سے بعض لوگوں نے حنین کے دن عرض کیا جب اللہ نے اپنے رسولﷺ کو اموالِ ہوازن میں سے کچھ مالِ فے (یعنی بغیر جہاد) عطا فرمایا، رسول اللہ ﷺنے قریشیوں کو سو سو اونٹ دینے شروع فرمائے تو انہوں نے(انصار) کہا کہ اللہ اپنے رسول سے درگزر فرمائے کہ آپﷺ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ہماری تلواریں ان کا خون بہاتی ہیں، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺکے سامنے ان کی بات بیان کی گئی تو آپ ﷺنے انصار کو بلوایا کہ وہ چمڑے کے قبہ میں جمع ہوں جب وہ جمع ہو گئے تو رسول اللہ ﷺنے ان کے پاس جا کر فرمایا مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے؟ انصار میں سے سمجھ دار لوگوں نے کہا ، یارسول اللہ !جولوگ ہم میں سے صاحب عقل ہیں انہوں نے کوئی بات نہیں کی ، البتہ ہمارے کم عمر نوجوانوں نے یہ بات کہی ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کی مغرت فرمائے ،وہ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک کفار قریش کا خون ٹپک رہا ہے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی تازہ تازہ کفر سے اسلام میں آئے ہیں تاکہ ان کی تالیف قلوب ہو، کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ مال لیکر اپنے گھر جائیں اور تم رسول اللہ ﷺکو لیکر گھر جاؤ۔ اللہ کی قسم !جس چیز کے ساتھ تم لوٹ رہے ہو وہ اس سے بہتر ہے جس کے ساتھ وہ لوٹ رہے ہیں ۔ انصار نے کہا یارسول اللہ کیوں نہیں؟ ہم راضی ہیں ، آپ نے فرمایا عنقریب تم دیکھوگے کہ بہت سے معاملات میں لوگوں کو تم پر ترجیح دی جائے گی تم اس پر صبر کرنا حتیٰ کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جاملو کیونکہ میں حوض پر ہوں گا ۔ انصار نے کہا ہم عنقریب صبر کریں گے۔


حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِىُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ. وَقَالَ فَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ.

It was narrated from Salih, from Ibn Shihab, (who said): “Anas bin Malik narrated to me; he said: ‘When Allah granted the wealth of Hawazin to His Messenger as Fay…..’” and he quoted a similar Hadith (as no 2436), except that he said: ‘Anas said: ‘We could not bear it’ and he said: ‘As for some people who were in young age…’’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺکو بغیر جنگ کے ہوازن کا مال عطا فرمایا ۔۔۔ اس کے بعد حسب سابق روایت ہے ۔البتہ اس حدیث میں یہ ہے کہ حضرت انس نے کہا ہم نے صبر نہیں کیا۔ اور نو عمر لوگوں نے یہ کہا۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِى ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ. إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالُوا نَصْبِرُ. كَرِوَايَةِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِىِّ.

The nephew of Ibn Abi Shihab narrated that his paternal uncle said: ‘Anas bin Malik told me….’ And he quoted a similar Hadith (as no 2436) except that he said: ‘Anas said: they said: ‘We will be patient’’- like the report of Yunus from Az-Zuhri.

ایک اور سند سے حسب سابق روایت ہے اس میں ہے کہ ہم صبر کرلیں گے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الأَنْصَارَ فَقَالَ « أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ». فَقَالُوا لاَ إِلاَّ ابْنُ أُخْتٍ لَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ». فَقَالَ « إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ وَإِنِّى أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَ الأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ ».

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (SAW) gathered Ansar and said: ‘Is there any one else among you?’ They said: ‘No, except the son of a sister of ours? The Messenger of Allah (SAW) said: ‘The son of the sisters of a people is one of them.’ Then he said: ‘The Quraish have only recently left Jahiliyyah behind and have suffered a calamity, and I wanted to help them and soften their hearts (towards faith). Does it not please you the people are going back with worldly gains, and you are going back to your houses with Messenger of Allah (SAW)? If the people were to follow a valley and the Ansar were to follow a mountain pass, I would follow the mountain pass of the Ansar. ’”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے انصار کو جمع کیا اور فرمایا کیا تم میں کوئی تمہارا غیر بھی ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں البتہ ہمارا بھانجا ہے ۔آپﷺنے فرمایا بھانجا بھی قوم میں داخل ہوتا ہے ۔ پھر آپﷺنے فرمایا قریش ابھی ابھی تازہ تازہ جاہلیت اور مصائب سے نکلے ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ ان کو پناہ میں رکھوں اور ان کی تالیف قلب کروں ، کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لیکر جائیں اور تم اپنے گھروں میں رسول اللہ ﷺکو لیکر جاؤ۔ اگر لوگ ایک راستہ پر چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِى قُرَيْشٍ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ « مَا الَّذِى بَلَغَنِى عَنْكُمْ ». قَالُوا هُوَ الَّذِى بَلَغَكَ. وَكَانُوا لاَ يَكْذِبُونَ. قَالَ « أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَى بُيُوتِهِمْ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِىَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الأَنْصَارِ ».

Anas bin Malik said: ‘When Makkah was conquered, the spoils were divided among the Quraish. The Ansar said: ‘This is strange; our swords are still dripping with their blood and our spoils have been given to them.’ News of that reached to the Messenger of Allah (SAW), so he gathered them together and said: ‘What is this that I heard from you?’ They said: ‘It is what you have heard.’ And they would not tell lies. He said: ‘Does it not please you the people are going back with worldly gains, and you are going back to your houses with Messenger of Allah (SAW)? If the people were to follow a valley and the Ansar were to follow a mountain pass, I would follow the valley or mountain pass of the Ansar.’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو غنیمتیں قریش میں تقسیم کی گئیں تو انصار نے کہا یہ بھی عجیب بات ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا مال غنیمت قریش پر لٹایا جا رہا ہے یہ بات رسول اللہ ﷺکو پہنچی تو آپ نے ان کو جمع کر کے فرمایا مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے انہوں نے کہا ہم نے وہی بات کہی جو آپ تک پہنچی اور انصار جھوٹ نہیں بولتے تھے آپ ﷺنے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا کے ساتھ اپنے گھروں کی طرف لوٹیں گے اور تم اپنے گھروں کو رسول اللہ ﷺکے ساتھ لوٹو گے اگر قریش ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ - يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ الْحَرْفَ بَعْدَ الْحَرْفِ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَمَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَئِذٍ عَشَرَةُ آلاَفٍ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِىَ وَحْدَهُ - قَالَ - فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا - قَالَ - فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ « يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ». فَقَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ - قَالَ - ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ « يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ». قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ - قَالَ - وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ فَنَزَلَ فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ. فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَنَائِمَ كَثِيرَةً فَقَسَمَ فِى الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا فَقَالَتِ الأَنْصَارُ إِذَا كَانَتِ الشِّدَّةُ فَنَحْنُ نُدْعَى وَتُعْطَى الْغَنَائِمُ غَيْرَنَا. فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَهُمْ فِى قُبَّةٍ فَقَالَ « يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِى عَنْكُمْ ». فَسَكَتُوا فَقَالَ « يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ ». قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا. قَالَ فَقَالَ « لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لأَخَذْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ ». قَالَ هِشَامٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ قَالَ وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ

It was narrated that Anas bin Malik said: “On the Day of (battle of) Hunain, Hawazin, Ghatafan and others came with their children and flocks, and on that day the Prophet (SAW) had ten thousand with him, as well as the Tulaqa. They fled from him until he was left on his own. On that day he gave us two calls, with nothing in between them.. He turned to his right and said: ‘O Ansar!’ and they said: ‘Here we are at your service, O Messenger of Allah (SAW). Be of good cheer, for we are with you.’ The he turned to his left and said: ‘O Ansar!’ and they said: ‘Here we are at your service, O Messenger of Allah (SAW). Be of good cheer, for we are with you.’ He was riding a white mule, and then he dismounted and said: ‘I am the slave of Allah and His Messenger.’ Then the idolators were defeated and the Messenger of Allah (SAW) acquired the great amount of spoils f war. He divided it among the Muhajirun and the Tulaqa, and he did not give the Ansar anything. Then the Ansar said: ‘At the hour of need we were called, then the spoils are given to them!’ News of that reached to the Messenger of Allah (SAW), so he summoned them to a tent said: ‘O Ansar! What is that I heard you are saying?’. They remained silent. He said: ‘O Ansar, does it not please you the people are going back with worldly gains, and you are going back to your houses with Messenger of Allah (SAW)? ’ They said: ‘Yes, O Messenger of Allah (SAW),we are pleased. He said: ‘If the people were to follow a valley and the Ansar were to follow a mountain pass, I would mountain pass of the Ansar’’” Hisham (a narrator) said: ‘I said: ‘O Abu Hamzah, did you witness that?’ He said: ‘How could I be elsewhere?’’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ جب حنین کا دن تھا تو ہوازن اور غطفان و غیرہ اپنی اولاد اور اونٹوں سمیت مقابلہ کو آئے اور نبی کریم ﷺکے ساتھ اس دن دس ہزار لوگ تھے اور طلقاء(فتح مکہ کے دن اسلام قبول کرنے والے) بھی ساتھ تھے پس ان سب نے ایک مرتبہ پیٹھ پھیر لی یہاں تک کہ آپ ﷺاکیلے رہ گئے۔ اس دن آپ ﷺنے دو آوازیں دیں ان کے درمیان کوئی چیز نہیں کہی آپ نے اپنی دائیں طرف توجہ کی تو فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں کیا لبیک اے اللہ کے رسول آپ ﷺخوش ہوں ہم آپ ﷺکے ساتھ ہیں پھر آپ ﷺنے اپنی بائیں طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں نے عرض کیا لبیک اے اللہ رسول آپ ﷺخوش ہو جائیں ہم آپ ﷺکے ساتھ ہیں اور آپ ﷺایک سفید خچر پر سوار تھے آپ ﷺاترے اور فرمایا اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں مشرکوں کو شکست ہوئی اور رسول اللہ ﷺکو بہت غنیمتیں حاصل ہوئیں تو آپ نے مہاجرین اور طلقاء مکہ میں تقسیم کیں اور انصار کو کچھ نہ دیا تو انصار نے کہا جب سختی ہوتی ہے تو ہمیں پکارا جاتا ہے اور غنیمت ہمارے غیر کو دی جاتی ہے آپ ﷺکو یہ بات پہنچی تو آپ ﷺنے ان کو ایک خیمہ میں جمع کر کے فرمایا اے انصار کی جماعت مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے تو وہ خاموش ہو گئے تو آپ ﷺنے فرمایا اے جماعت انصار کیا تم خوش نہیں ہوں کہ لوگ تو دنیا لے جائیں اور تم اپنے گھروں کی طرف محمد ﷺکو لے جاؤ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ! ہم خوش ہیں اور حضور ﷺ نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا ۔ ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اے ابوحمزہ آپ ﷺاس وقت وہاں حاضر تھے تو انہوں نے فرمایا میں آپ ﷺکو چھوڑ کر کہاں غائب ہوتا۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِى السُّمَيْطُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ افْتَتَحْنَا مَكَّةَ ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ - قَالَ - فَصُفَّتِ الْخَيْلُ ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتِلَةُ ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ - قَالَ - وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلاَفٍ وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ - قَالَ - فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِى خَلْفَ ظُهُورِنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خَيْلُنَا وَفَرَّتِ الأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ - قَالَ - فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ». ثُمَّ قَالَ « يَا لَلأَنْصَارِ يَا لَلأَنْصَارِ ». قَالَ قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ. قَالَ قُلْنَا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَ - فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - فَايْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ - قَالَ - فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ فَنَزَلْنَا - قَالَ - فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُعْطِى الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنَ الإِبِلِ. ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ وَأَبِى التَّيَّاحِ وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “We conquered Makkah, then we attacked Hunain, and the idolators came in the best ranks I have ever seen. They lined up their cavalry, then the infantry, then the women behind them, then the sheep, then the other live stock. We were a large number of people, some six thousand, and our cavalry was led by Kahlid bin Waleed. Our cavalry scattered behind our backs, and we could hardly stood firmwhen we are exposed by our cavalry. The Bedouin and those hwom we know among the people fled, and the Messenger of Allah (SAW) called out: “O Muhajirun O Muhajirun!” Then he called out: ‘O Ansar O Ansar,’ Anas said: ‘this is the Hadith of Ummayyah.’ He said: ‘we said: ‘Here we are at your service, O Messenger of Allah (SAW).’ The Messenger of Allah (SAW) advanced, and we did not come to them before Allah defeated them. We seized that wealth, and then we set off towards At-Taif, which we besieged for forty days. Then we went back to Makkah and stayed there, and the Messenger of Allah (SAW) started to give some men one hundred [camels]. ’” Then he mentioned the rest of the Hadith, similar to the Ahadith of Qatadah, Abu At-Tayyah and Hisham bin Zaid (no 2439, 2440, and 2441).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ہم نے مکہ فتح کرلیا پھر ہم غزوہ حنین میں گئے ۔ ۔ مشر کین بہترین صفیں باندھ کر آئے تھے جو میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھیں ، پہلے گھوڑوں کی صف پھر لڑنے والوں کی پھر اس کے پیچھے عورتوں کی صف، پھر بکریوں کی صف پھر دیگر چوپایوں کی صف باندھی گئی ۔ ہماری تعداد بھی بہت زیادہ تھی جو چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی ، ہمارے ایک جانب شہ سواروں پر حضرت خالد بن ولید امیر تھے ، اچانک ہمارے گھوڑے پیٹھ کے پیچھے مڑگئے اور ہم نہ ٹھہر سکے یہاں تک کہ ہمارے گھوڑے ننگے ہوگئے اور بدو، اور ہمارے جان پہچان کے لوگ بھاگ پڑے۔ رسول اللہ ﷺنے ندا کی اے مہاجرو! اے مہاجرو! پھر فرمایا اے انصارو! اے انصارو! حضرت انس کہتے ہیں (یہ ایک جماعت کی روایت ہے)ہم نے کہا لبیک یارسول اللہ ! حضرت انس کہتے ہیں رسول اللہ ﷺآگے بڑھے ، حضرت انس کہتے ہیں اللہ کی قسم !ہم وہاں تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دیدی اور ہم نے ان کا سارا مال لے لیا ، پھر ہم طائف کی طرف بڑھے اور چالیس روز تک ہم نے ان کا محاصرہ کیے رکھا ، پھر ہم مکہ لوٹ آئے اور وہاں ٹھہرے اور رسول اللہ ﷺایک ایک کو سو اونٹ دینے لگے اس کے بعد حسب سابق روایت ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عُمَرَ الْمَكِّىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ وَالأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَأَعْطَى عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ. فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَتَجْعَلُ نَهْبِى وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالأَقْرَعِ فَمَا كَانَ بَدْرٌ وَلاَ حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِى الْمَجْمَعِ وَمَا كُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضِ الْيَوْمَ لاَ يُرْفَعِ قَالَ فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِائَةً.

It was narrated that Rafi bin Khadij said: ‘The Messenger of Allah (SAW) gave one hundred camels to Abu Sufyan bin Harb, Safwan bin Umayyah, ‘Uyaynah bin Hisn and Al-Aqra’ bin Habis, and he gave less than to Abbas bin Mirdas said (in verse).’ ‘You allot my share of the spoils and that of my horse between ‘Uyaynah and Al-Aqra’- But neither ‘Uyaynah nor Al-Aqra’ are of any higher standing than Mirdas in the assembly. I am in no way inferior to either of them, and he who accepts a lower status today will not be elevated. So the Messenger of Allah (SAW) completed one hundred for him.

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ابوسفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ اور عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس میں سے ہر ایک کو سو اونٹ عطا کئے اور عباس بن مرداس کو کچھ کم دئیے تو عباس بن مرداس نے کہا۔ آپ میرے اور میرے گھوڑے عبید کا حصہ عیینہ اور اقرع کے درمیان مقرر کرتے ہیں حالانکہ بدر (دادا عیینہ) اور حابس (والد اقرع) مرد اس (والد عباس) سے کسی مجمع میں بڑھ نہ سکتے اور میں دونوں میں سے کسی سے کم نہ تھا اور آج جس کو نیچا کر دیا گیا پھر اس کو سر بلندی حاصل نہ ہوگی تو رسول اللہ ﷺنے اس کے سو اونٹ پورے کر دئیے۔


وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فَأَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ وَأَعْطَى عَلْقَمَةَ بْنَ عُلاَثَةَ مِائَةً.

It was narrated from Umar bin Sa’eed bin Masruq with this chain: “The Prophet (SAW) distributed the spoils of Hunain, and he gave Abu Sufyan bin Harb one hundred camels…” and he quoted a similar Hadith (as no 2443), and added: and he gave ‘Alqamah bin Ulathah ’ one hundred.

عمر بن سعید بن مسروق، اسی حدیث کی دوسری سند میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺنے حنین کی غنیمت تقسیم کی تو ابوسفیان بن حرب کو سو اونٹ دئیے اور علقمہ بن علاثہ کو سو اونٹ دئیے باقی حدیث گزر چکی ہے۔


وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِى الْحَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلاَثَةَ وَلاَ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَلَمْ يَذْكُرِ الشِّعْرَ فِى حَدِيثِهِ.

Umar bin Sa’eed narrate it with the same chain, but he did not mention Alqamah bin Ulathah ’ or Safwan bin Umayyah in his Hadith, nor did he quote the poetry.

ایک اور سند سے بھی حسب سابق روایت ہے لیکن اس میں صفوان بن امیہ اور اشعار کا تذکرہ نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ فَأَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ فَبَلَغَهُ أَنَّ الأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ « يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلاَّلاً فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِى وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِى وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمُ اللَّهُ بِى ». وَيَقُولُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ. فَقَالَ « أَلاَ تُجِيبُونِى ». فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ. فَقَالَ « أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَذَا وَكَذَا وَكَانَ مِنَ الأَمْرِ كَذَا وَكَذَا ». لأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا. زَعَمَ عَمْرٌو أَنْ لاَ يَحْفَظُهَا فَقَالَ « أَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالإِبِلِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمُ الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِىَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِى أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِى عَلَى الْحَوْضِ ».

It was narrated from Abdullah bin Zaid that when the Messenger of Allah (SAW) conquered Hunain, he distributed the spoils and he gave to those whose hearts has been inclined (towards Islam). Then he heard that Ansar would have liked to have got what the people had got. The Messenger of Allah (SAW) stood up and addressed them; and he praised and glorified Allah, then he said: ‘O Ansar I did not find you astray, then Allah guided you through me? Were you not destitute, then Allah made you rich through me? Were you not divided, then Allah united you through me? They said: ‘Allah and his Messenger (SAW) are most generous.’ He said: ‘Are you not going to answer me?’ They said: ‘Allah and his Messenger (SAW) are most generous.’ He said: ‘If you wish you may say such-and- such, and such - and- such happened’ he mentioned a number of things, but Amr said that he did not remember them. Then he said: ‘Does it not please you that the people are leaving with camels and sheep, and you are leaving with Messenger of Allah (SAW). The Ansar are inner garments and people are outer garments. Were it nor for a Hijrah, I would have been one of the Ansar. If the people were to follow a valley or mountain pass, I would follow the valley or mountain pass of the Ansar. After I am gone you are going to see others being preferred to you, but be patient until you meet at the Cistern. ’’

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حنین فتح ہوا تو رسول اللہ نے غنائم تقسیم کئے اور مؤلفۃالقلوب کو مال دیا تو آپ ﷺکو یہ بات پہنچی کہ انصاریہ چاہتے ہیں کہ جو حصہ اوروں کو ملا ہے انہیں بھی ملے تو رسول اللہ ﷺکھڑے ہوئے اور ان کو خطبہ دیا اللہ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا اے انصار کی جماعت کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا پھر اللہ نے تم کو میرے ذریعے سے ہدایت دی، او رکیا تم فقراء نہیں تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تم کو غنی کردیا، اور کیا تم متفرق نہیں تھے تو اللہ نے میرے وجہ سے تم کو متحد فرما دیا ۔اور انصار کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بڑا احسان ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا تم مجھے جواب نہیں دیتے؟ تو انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بڑا احسان ہے فرمایا اگر تم چاہتے تو ایسا ایسا کہہ سکتے تھے اور معاملہ ایسا ایسا تھا اور اسی طرح آپ ﷺنے کئی ساری چیزوں کو شمار کیا، راوی کہتا ہے کہ میں ان کو یاد نہ رکھ سکا آپ ﷺنے فرمایا کیا تم پسند نہیں کرتے لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اللہ ﷺکو اپنے گھر لے جاؤ اور انصار اندرونی لباس کی مثل ہیں اور لوگ بالائی لباس کی مثل ہیں اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں۔ عنقریب میرے بعد تم ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملاقات کرو۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِى وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَاسًا فِى الْقِسْمَةِ فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِى الْقِسْمَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ. قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ - قَالَ - فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ « فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ». قَالَ ثُمَّ قَالَ « يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِىَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ». قَالَ قُلْتُ لاَ جَرَمَ لاَ أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا.

It was narrated from Abdullah said: ‘On the day of (battle of) Hunain, the Messenger of Allah (SAW) showed preference to some people in distributing (the spoils of the war). He gave one hundred camels to Al-Aqra’ bin Habis, and similar amount to Uyaynah, and he gave to some prominent people among the Arabs, and he showed preference to them in giving on that day. A man said: ‘By Allah, there is no justice in this division of the spoils of the war, it has not been done for the Face of Allah! I said: ‘By Allah! I am going to tell the Messenger of Allah (SAW).’ So I went to him and told him what (that man) had said. His face changed until it looked like blood, then he said: ‘Who will be just if Allah and His Messenger are not just?’ then he said: ‘May Allah have mercy on Musa, for he troubled with more than this and he remained patient.’’ I said: ‘I will not tell him of anything that people say after this.’

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺنے کچھ لوگوں کو تقسیم میں ترجیح دی ، اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے اور عیینہ کو بھی اتنے ہی دیے اور عرب کے بعض سرداروں کو بھی اتنا دیا اور اس دن انہیں تقسیم میں ترجیح دی، ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم اس تقسیم میں عدل نہیں کیا گیا ہے نہ اللہ کی رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہے ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ ﷺکو ضرور بتلاؤں گا ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ کے پاس گیا اور آپ کو اس کی باتیں بتلائیں۔ حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ آپ کا چہرہ متغیر ہوکر خون کی مانند ہوگیا پھر آپ نے فرمایا: اگر اللہ اور اس کے رسول عدل نہ کریں تو پھر کون عدل کرےگا؟ پھر آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ان کو اس سے زیادہ ایذاء دی گئی تھی او رانہوں نے صبر کیا، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے دل میں کہا اس کے بعد میں آپ کو ایسی بات نہیں سناؤں گا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ - قَالَ - فَأَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّى لَمْ أَذْكُرْهُ لَهُ - قَالَ - ثُمَّ قَالَ « قَدْ أُوذِىَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ».

It was narrated from Abdullah said: ‘The Messenger of Allah (SAW) distributed (some spoils of the war), and man said: ‘This division was not for the Face of Allah.’ I went to the Prophet (SAW) and whispered to him, and he got very angry at that, and his face turned red, until I wished that I had not told him, then he said: ‘Musa was troubled with more than this and he remained patient.’

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مال غنیمت تقسیم کیا ایک شخص نے کہا یہ وہ تقسیم ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ نہیں کیا گیا،حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نبی ﷺکی خدمت میں گیا اور آپکو چپکے سے یہ بات بتلائی رسول اللہ ﷺیہ بات سن کر بہت زیادہ ناراض ہوئے ، آپ ﷺکا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا ، حتی کہ میں نے دل میں یہ تمنا کی کہ میں نے آپ سے اس کا ذکر ہی نہ کیا ہوتا ، پھر آپ نے فرمایا : حضرت موسیٰ کو اس سے زیادہ ایذاء دی گئی اور انہوں نے صبر کیا۔

47. باب ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْجِعْرَانَةِ مُنْصَرَفَهُ مِنْ حُنَيْنٍ وَفِى ثَوْبِ بِلاَلٍ فِضَّةٌ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْبِضُ مِنْهَا يُعْطِى النَّاسَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ. قَالَ « وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ ». فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه دَعْنِى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ. فَقَالَ « مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّى أَقْتُلُ أَصْحَابِى إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْهُ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ».

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: “A man came to Messenger of Allah (SAW) in Al Jirranah, when he was on his way back from Hunain. In the cloak of Bilal there was a some silver and the Messenger of Allah (SAW) was giving handfuls of it to the people. He said: ‘O Muhammad, be fair! ’ He said: ‘Woe to you? Who will be fair if I am not fair? I will be doomed and lost if I am not fair.’ Umar bin Khattab (May Allah be pleased with him) said: ‘O Messenger of Allah (SAW), let me kill this hypocrite!’ He said: ‘Allah forbids that the people should say that I kill my Companions. This man and his like read the Quran but it does not go any further than their throats, and they pass through it like an arrow passing through prey.’”

حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ مقام جعرانہ پر ایک آدمی رسول اللہ ﷺکے پاس آیا اور آپ حنین سے لوٹے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں چاندی تھی اور رسول اللہ ﷺاس سے مٹھی بھر بھر کر لوگوں کو دے رہے تھے اس نے کہا اے محمد ﷺ! انصاف کریں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا تیرے لئے ویل(ہلاکت) ہو ۔ اگر میں عدل نہ کروں تو پھر کون عدل کرے گا۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺمجھے اجازت دیں تو میں اس منافق کو قتل کر دوں تو آپ ﷺنے کہا اللہ کی پناہ لوگ باتیں کریں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہیں کرتا اور قرآن سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِىُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِى قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقْسِمُ مَغَانِمَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

It was narrated that Jabir bin Abdullah that the Prophet (SAW) was distributing some spoils of war. And he quoted a similar Hadith (as no 2449).

ایک اور سند سے حسب سابق روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِىِّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى نُعْمٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ بَعَثَ عَلِىٌّ - رضى الله عنه - وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِى تُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ الْحَنْظَلِىُّ وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِىُّ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلاَثَةَ الْعَامِرِىُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِى كِلاَبٍ وَزَيْدُ الْخَيْرِ الطَّائِىُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِى نَبْهَانَ - قَالَ - فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ فَقَالُوا أَتُعْطِى صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لأَتَأَلَّفَهُمْ » فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ. - قَالَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِنْ عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِى عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِى » قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِى قَتْلِهِ - يُرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ ».

It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “While he was In Yemen, Ali [May Allah be pleased with him] sent some gold, still encased in earth, to the Messenger of Allah (SAW), and the Messenger of Allah (SAW) distributed it among four men, Al-Aqra bin Habis Al-Hanzali, Uyaynah bin Badr Al-Farazi, Alqamah bin Ulathah Al-Amiri who was one of the Banu Kilab, and Zaid Al-Khair At-Tai who was one of the Banu Nabhan. The Quraish got angry and said: ‘He gives to chief of Najd and ignores us?’ The Messenger of Allah (SAW) said: ‘I did only that in order to incline their hearts (towards faith).’ There came a man with a thick beard, prominent cheeks, sunken eyes, a prominent of forehead and a shaven head, who said: ‘Fear Allah, O Muhammad!’ the Messenger of Allah (SAW) said: ‘Who will obey Allah if disobey Him? Would He trust me with the people of earth but you do not trust me?’ then the man turned and left, and a man who was among the people asked for the permission to kill him- they think that he was Khalid bin Walid- “Then the Messenger of Allah (SAW) said: ‘Among the progeny of this man will be people who will recite the Quran, but it will not go any further than their throats. They will kill the people of Islam and leave the idol worshippers alone. They will pass through Islam as an arrow passes through the prey. If I live to see them, then I will certainly kill them like Ad.’”

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یمن کا کچھ سونا مٹی میں ملا ہوا رسول اللہ ﷺکی خدمت میں بھیجا تو رسول اللہ ﷺنے اسے چار آدمیوں اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری ، پھر بنو کلاب کے ایک شخص کو ، اور زید الخیرعطائی کو، پھر ایک بنو نبھان کے ایک شخص کو، قریش اس بات پر ناراض ہوئے تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺنجد کے سرداروں کو دیتے اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا میں نے ایسا ان کی تالیفِ قلبی کے لئے کیا پھر ایک آدمی گھنی ڈاڑھی اور پھولے ہوئے رخسار والے، آنکھیں اندر گھسی ہوئی اور اونچی جبین والے، مونڈے ہوئے سر والے نے آ کر کہا اے محمد ﷺاللہ سے ڈرو تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو کون ہے جو اللہ کی فرمانبرداری کرے یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے مجھے امین بنایا اہل زمین پر اور تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے وہ آدمی چلا گیا تو قوم میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی جو کہ غالباً حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اس آدمی کی نسل سے یہ قوم پیدا ہوگی جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا اہل اسلام کو قتل کریں اور بت پرستوں کو چھوڑیں گے وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں جس طرح تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے اگر میں ان کو پاتا تو انہیں قوم عاد کی طرح قتل کرتا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى نُعْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ يَقُولُ بَعَثَ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ الْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِى أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا - قَالَ - فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَزَيْدِ الْخَيْلِ وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ بْنُ عُلاَثَةَ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلاَءِ - قَالَ - فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ « أَلاَ تَأْمَنُونِى وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِى السَّمَاءِ يَأْتِينِى خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً ». قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الإِزَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ. فَقَالَ « وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الأَرْضِ أَنْ يَتَّقِىَ اللَّهَ ». قَالَ ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ « لاَ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّى ». قَالَ خَالِدٌ وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِى قَلْبِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلاَ أَشُقَّ بُطُونَهُمْ ». قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ « إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ - قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ - لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ ».

Abu Sa’eed Al-Khudri said: “Ali bin Abi Talib sent to the Messenger of Allah (SAW) some gold from Yemen in a tanned lather bag, that had not been purified of the earth clinging to it. He distributed it in a four men: ‘, Uyaynah bin Badr, Al-Aqra bin Habis, Zaid Al-Khail and the fourth, who was either Alqamah bin Ulathah or Amir bin Tufail. One of his companions’ said: ‘We had more right to it than these men. ’ News of that reached the Prophet (SAW) and he said: ‘Do you not trust me, when I am the trustee of the One Who is above the heaven and the news of heaven comes to me morning and evening?’ A man with a thick beard, prominent cheeks, sunken eyes, a high of forehead and a shaven head stood up and folding his Izar up, and said: ‘O Messenger of Allah (SAW), fear Allah!’ He said: ‘Woe to you! Am I not the one who should fear the Allah the most among the people of the earth?’ then the man turned and left, and Khalid bin Walid said: ‘O Messenger of Allah (SAW), should I not strike his neck (kill him)?’ he said: ‘No, perhaps he prays.’ Khalid said: ‘How many of those who pray say with their tongues what is not in their hearts?’ The Messenger of Allah (SAW) said: ‘I have not been commanded to check people’s heart or split open heir bellies.’ Then he looked at him as he was going back and said: ‘From among the progeny of this man will emerge people who recite the book of Allah fluently, but it will not go any further than their throats. They will pass out of the religion as an arrow passes out of the prey. ’ He (one of the narrators) said: ‘I think he said: ‘If I live to see them, the I will certainly kill them like the killing of Thamud.’’’’’”

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یمن سے کچھ سونا سرخ رنگے ہوئے کپڑے میں بند کر کے رسول اللہ ﷺکی طرف بھیجا اور اسے مٹی سے بھی جدا کیا گیا تھا۔ آپ ﷺنے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید خیل اور چوتھے علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کیا۔ تو آپ ﷺکے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ ہم اس کے زیادہ حقدار تھے یہ بات نبی کریم ﷺکو پہنچی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے۔ حالانکہ میں آسمانوں کا امین ہوں میرے پاس آسمان کی خبریں صبح شام آتی ہیں تو ایک آدمی گھسی ہوئی آنکھوں والا ،بھرے ہوئے گالوں والا، ابھری ہوئی پیشانی والا،گھنی داڑھی والا ، مونڈے ہوئے سر والا ،اٹھے ہوئے ازار بند والا کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! اللہ سے ڈرو ، آپ ﷺنے فرمایا تیری خرابی ہو ،کیا روئے زمین پر میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کاسب سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟پھر وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺکیا میں اس کی گردن نہ مار ڈالوں؟ تو آپ ﷺنے فرمایا نہیں شاید کہ وہ نماز ی ہو، حضرت خالد نے کہا نماز پڑھنے والے کتنے ایسے ہیں جو زبان سے اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے نہیں مانتے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا مجھے لوگوں کے دلوں کو چیرنے اور ان کے پیٹ چاک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ پھر آپ ﷺنے اس کو پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھ کر فرمایا اس آدمی کی نسل سے ایک قوم پیدا ہوگی جو عمدہ انداز سے اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے گی لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہ کرے گی وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا اگر میں ان کو پالوں تو انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کروں۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلاَثَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ وَقَالَ نَاتِئُ الْجَبْهَةِ وَلَمْ يَقُلْ نَاشِزُ. وَزَادَ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ « لاَ ». قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِدٌ سَيْفُ اللَّهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ « لاَ ». فَقَالَ « إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ لَيِّنًا رَطْبًا - وَقَالَ قَالَ عُمَارَةُ حَسِبْتُهُ قَالَ « لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ ».

It was narrated from Umarah bin Al-Qaqa with this chain (a similar Hadith as no 2452), and he said… and Alqamah bin Ulathah, and he did not mention Amir bin At-Tufail. And he said: ‘Prominent forehead,’ he did not say: ‘High.’ And he added: “” Umar bin Al-Khattab [may Allah pleased with him] stood up and said: ‘’O Messenger of Allah (SAW), shall I not strike his neck? He said: ‘No.’ Then he turned away and Khalid the Sword of Allah , stood up and said: ‘O Messenger of Allah (SAW), shall I not strike his neck?’ He said: ‘No. From among the progeny of this man will emerge people, who recite the Book of Allah fluently.’ And Umarah said: ‘I think he said: ‘If I live to see them, the I will certainly kill them like the killing of Thamud.’’

حضرت عما رہ بن قعقاع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہ حدیث اسی سند سے ذکر کی ہے لیکن علقمہ بن علاثہ کہا ہے اور عامربن طفیل ذکر نہیں کیا اورناتیء الجبھۃ کہا اور ناشز نہیں کہا۔اور اس میں یہ زیادہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺکیا میں اس کی گردن نہ مار دوں آپ ﷺنے فرمایا نہیں اور فرمایا عنقریب اس آدمی کی نسل سے ایک قوم نکلے گی عمارہ کہتے میرا گمان ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا اگر میں ان کو پا لوں تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کر دوں۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ زَيْدُ الْخَيْرِ وَالأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلاَثَةَ أَوْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ. وَقَالَ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ. كَرِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ. وَقَالَ إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ وَلَمْ يَذْكُرْ « لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ ».

It was narrated from Umarah bin Al-Qaqa with this chain (a similar Hadith as no 2452), and he said “…between four men: Zaid Al-Khail, Al-Aqra bin Habis, Uyaynah bin Hisn and Alqamah bin Ulathah or Amir bin Tufail.” And he said: ‘A high forehead,’ like the report of Abdul-Wahid and he said: ‘There will be emerge from the progeny of this man people who…’ but he did not say: ‘If I live to see them then I will certainly kill them like the killing of Thamud.’

حضرت عمارہ بن قعقاع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند یہ روایت ہے کہ اسی طرح ہے کہ آپ ﷺنے چار آدمیوں کے درمیان تقسیم کیا زید الخیل، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن ، علقمہ بن علاثہ یا عامر طفیل اور عبدالواحد کی روایت کی طرح ناشز الجبھۃ کہا اور فرمایا کہ اس کی نسل سے عنقریب ایک قوم نکلے گی اور اس میں آخری جملہ کہ اگر میں ان کو پالوں تو انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کر دوں مذکور نہیں۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِى مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمَا أَتَيَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ فَسَأَلاَهُ عَنِ الْحَرُورِيَّةِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَذْكُرُهَا قَالَ لاَ أَدْرِى مَنِ الْحَرُورِيَّةُ وَلَكِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « يَخْرُجُ فِى هَذِهِ الأُمَّةِ - وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا - قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَكُمْ مَعَ صَلاَتِهِمْ فَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ. لاَ يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ - أَوْ حَنَاجِرَهُمْ - يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ فَيَنْظُرُ الرَّامِى إِلَى سَهْمِهِ إِلَى نَصْلِهِ إِلَى رِصَافِهِ فَيَتَمَارَى فِى الْفُوقَةِ هَلْ عَلِقَ بِهَا مِنَ الدَّمِ شَىْءٌ ».

It was narrated from Abu Salamah and Ata bin Yasar that they came to Abu Sa’eed Al-Khudri and asked him about Al-Haruriyyah “Did you hear the Messenger of Allah (SAW) mention them?” he said : “I do not know who Al-Haruriyyah are, but I hear the Messenger of Allah (SAW) say: ‘There will be emerge among this Ummah’- and he did not say ‘from them’- ‘people in comparison to whose prayer you will regard your prayer as insignificant. They will recite the Quran but it will not go nay further than their throats. They will pass out of Islam like an arrow passes out of the prey, then the archer looks at his arrow, as its tip and at its end, and its notch, wondering whether there are any traces of blood on it.’”

حضرت ابوسلمہ اور عطاء بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺسے حروریہ کے بارے میں کچھ سنا تو انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ حروریہ کون ہیں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ فرماتے تھے کہ اس امت میں ایک قوم نکلے گی یہ نہیں فرمایا کہ اس امت سے ہوگی وہ ایسی قوم ہوگی کہ ان کی نمازوں کے مقابلہ میں تم اپنی نمازوں کو ہیچ سمجھو گے ، وہ قرآن پڑھیں گے اور قرآن ان کے حلقوم یا گلوں سے نیچے نہیں اترے گا ، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیرشکار سے نکل جاتا ہے ، شکاری اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے اور اس کے پھل کو اس کے پر کو اور ا سکے آخری کنارے کو جو اس کی چٹکیوں میں تھا کہ کہیں اسے خون لگا ہو۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ ح وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِىُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالضَّحَّاكُ الْهَمْدَانِىُّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى تَمِيمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ ». فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِى فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاَتَهُ مَعَ صَلاَتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ - وَهُوَ الْقِدْحُ - ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ. آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْىِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ ». قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَشْهَدُ أَنِّى سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِىَّ بْنَ أَبِى طَالِبٍ - رضى الله عنه - قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ فَوُجِدَ فَأُتِىَ بِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الَّذِى نَعَتَ.

It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: ‘while we were with the Messenger of Allah (SAW) and he was distributing some wealth, Dhul Khuwaysirah, a man from Banu Tamim, came and said: ‘O Messenger of Allah (SAW), be fair!’ The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Woe to you! Who will be fair if I man not fair? I will be doomed and lost if I am not fair’ Umar bin Al-Khattab [may Allah pleased with him] stood up and said: ‘’O Messenger of Allah (SAW), shall I not strike his neck? The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Let him be, for he has companions, in comparison to whose prayer one of you would regard his prayer as insignificant, and he would regard his fasting as insignificant in comparison to their fasting. They recite the Quran but it does not go any further than their collarbones. They will pass out of Islam as an arrow passes out of the prey, and he (the archer) looks at the tip of it and there is nothing on it, then he looks at the sinews (which tie the arrowhead to the shaft) and there is nothing on them, then he looks at its base and there is nothing on it, then he looks at his feathers and there is nothing on them, because it has gone too fast to be smeared with excrement or blood. Their sign will be a black man, one of whose uppers arms will be like a woman’s breast, or like of quivering flesh. They will emerge when there is division among the people.’ Abu Sa'eed said: ‘I bear witness that I heard this from the Messenger of Allah (SAW), and I bear witness that Ali bin Abi Talib fought them when I was with them. He ordered that this man be sought, and he was found and brought, and I looked at him and (SAW) that he was just as the Messenger of Allah (SAW) had described him. ’

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے پاس تھے اور آپ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ کے پاس ذوالخویصرہ جو بنو تمیم میں سے ایک ہے اس نے کہا اے اللہ کے رسول! انصاف کر۔ تو رسول اللہ نے فرمایا تیری خرابی ہو اگر میں انصاف نہ کروں تو کون ہے جو انصاف کرے گا اور تو بدنصیب اور نقصان اٹھانے والا ہوگیا اگر میں نے عدل نہ کیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دے دیں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کے ساتھی ایسے ہوں گے کہ تمہارا ایک آدمی اپنی نماز کو ان کی نماز سے حقیر تصور کرے گا، اور اپنے روزے کو ان کے روزے سے ،قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہ کرے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسا کہ تیر شکار سے اس طرح نکل جاتا ہے کہ تیر انداز ، تیر کے پھل کو دیکھتا ہے اور اس میں خون کا اثر نہیں ہوتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو اس میں بھی کچھ نہیں ہوتا ، حالانکہ تیر شکار کی پیٹ اور خون سے نکلتاہے ۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں سے ایک کالا آدمی ہوگا جس کا ایک شانہ عورت کے پستان کی طرح ہوگا جیسے ہلتا ہوا گوشت کا لوتھڑا ہو، یہ اس وقت نکلیں گے جب لوگوں میں پھوٹ ہوگی ابوسعید کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہی رسول اللہ ﷺسے سنا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے جہاد کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا تو آپ نے اس آدمی کو تلاش کرنے کا حکم دیا وہ ملا تو اسے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لایا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے اسے ویسا ہی پایا جیسا رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- ذَكَرَ قَوْمًا يَكُونُونَ فِى أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِى فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ سِيمَاهُمُ التَّحَالُقُ قَالَ « هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ - أَوْ مِنْ أَشَرِّ الْخَلْقِ - يَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ ». قَالَ فَضَرَبَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- لَهُمْ مَثَلاً أَوْ قَالَ قَوْلاً « الرَّجُلُ يَرْمِى الرَّمِيَّةَ - أَوْ قَالَ الْغَرَضَ - فَيَنْظُرُ فِى النَّصْلِ فَلاَ يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِى النَّضِىِّ فَلاَ يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِى الْفُوقِ فَلاَ يَرَى بَصِيرَةً ». قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ.

It was narrated from Abu Sa'eed that Prophet (SAW) mentioned some people who would be among his Ummah; they would emerge when there was division among the people, and their distinguishing feature would be shaving. He said: ‘They are the most of the evil of the people.’ Or said: ‘they are the among most evil of people’- ‘and the group that is closer to the truth will kill them.’ The Prophet (SAW) gave a likeness of them, or said: ‘A man shoots at the prey’- or the ‘the target’- ‘then he looks at the arrow and he does not see any sign (of blood); he looks at he lowest end of the arrow and he does not see any sign (of blood); he look at the notch and he does not see any sign (of blood). Abu Sa'eed said: ‘And you have killed them, O people of Al-Iraq. ’ ’

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ایک قوم کا ذکر فرمایا جو آپ کی امت میں پیدا ہو گی ا سکا ظہور اس وقت ہوگا جب لوگوں میں تفرقہ ہو جائے گا۔ ان کی نشانی سر منڈانا ہوگی وہ بدترین مخلوق ہیں یا بدترین مخلوق میں سے ہیں ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو دو گروہوں میں سے حق کے قریب ہوں گے پھر نبی کریم ﷺنے ان کی مثال بیان فرمائی جب آدمی کسی شکار یا نشانہ کو تیر مارتا ہے تو پر دیکھتا ہے اس میں کچھ اثر نہیں ہوتا اور تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے اور وہاں بھی اثر نہیں ہوتا ، پھر اس حصہ کو دیکھتا ہے جو تیر انداز کی چٹکی میں ہوتا ہے تو وہاں بھی کچھ اثر نہیں ہوتا ، پھر حضرت ابوسعید نے کہا اے عراق والو! تم ہی نے تو انہیں قتل کیا ہے۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ - وَهُوَ ابْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِىُّ - حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: ‘A group will secede from my Ummah at a time of division among the Muslims, and they will be killed by the group that is closer to the truth.’’

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : مسلمانوں میں تفریق کے وقت ایک فرقہ جدا ہوجائےگا اورمسلمانوں کی دو جماعتوں میں سے جو حق کے زیادہ قریب ہوگی وہ اس فرقہ کو قتل کرے گی۔


حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَكُونُ فِى أُمَّتِى فِرْقَتَانِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِى قَتْلَهُمْ أَوْلاَهُمْ بِالْحَقِّ ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: ‘There will be among my Ummah two groups, from among whom (a third) group will secede, and they will be killed by those who will be closer to the truth.’’

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :میری امت میں دو جماعتیں ہوجائیں گی او ران میں ایک فرقہ پیدا ہوگا اور جو جماعت اس فرقہ کو قتل کرے گی وہ حق کے زیادہ قریب ہوگی۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « تَمْرُقُ مَارِقَةٌ فِى فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ فَيَلِى قَتْلَهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: ‘A group will secede at a time of division among the people, and they will be killed by the group that is closer to the truth.’’

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :لوگوں میں تفرقہ کے وقت ایک فرقہ پیدا ہوجائے گا او رجو لوگ اس فرقہ کو قتل کریں گے وہ حق کے زیادہ قریب ہوں گے۔


حَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنِ الضَّحَّاكِ الْمِشْرَقِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَدِيثٍ ذَكَرَ فِيهِ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَى فُرْقَةٍ مُخْتَلِفَةٍ يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْحَقِّ.

It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri in a Hadith from the Prophet (SAW) in which he mentioned people who would emerge at a time of division, and they would be killed by the group that is closer to the truth.

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :اختلاف کے وقت ایک قوم ظاہر ہوگی اور دو جماعتوں میں سے جو اس کو قتل کرے گی وہ حق کے زیادہ قریب ہوگی۔

48. باب التَّحْرِيضِ عَلَى قَتْلِ الْخَوَارِجِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ - قَالَ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِىٌّ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ. سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « سَيَخْرُجُ فِى آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الأَحْلاَمِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ فِى قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ».

Ali said: When I narrate to you from the Messenger of Allah (SAW), it would be dearer to me to be thrown down from the sky than to attribute to him something that he did not say. But if I speak between you and I, then war is deceit. I heard the Messenger of Allah (SAW) said: “There will be emerge at the end of the time people who are young in a age and foolishly immature, but their speech will be like the best of people. They will recite the Quran but it will not go any further than their throats, and they will pass out of the religion as an arrow passes out of the prey. If you encounter them, then kill them, for killing them brings to one who kills them reward with Allah on the Day of Resurrection.”

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں تمہیں رسول اللہﷺکی حدیث بیان کروں تو آسمان سے گر پڑنا میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ میں آپ کی طرف وہ منسوب کروں جو آپ ﷺنے نہیں فرمائی۔ اور جب میں اپنی اورتمہاری بات بیان کروں تو جنگ میں دھوکا دینا جائز ہے ۔ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک قوم نکلے گی جو کم عمر اور کم عقل ہوں گے ، رسول اللہ ﷺکی احادیث بیان کریں گے ، قرآن مجید کو پڑھیں گے اور وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا او ردین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکلتا ہے اور جب تم ان سے ملاقات کرو تو ان کو قتل کرنا کیونکہ جو ان سے جنگ کرے گا اور ان کو قتل کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کو اجر ملے گا۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.

A similar report (as no 2462) was narrated from Al-Amash with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا « يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ».

It was narrated from Al-Amash with this chain (a Hadith similar to no 2462), but their Hadith did not say: “They will pass out of the faith like an arrow passes out of the prey.”

ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے اور اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکلتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ ذَكَرَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ - أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ - لَوْلاَ أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ إِى وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِى وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِى وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.

It was narrated from Abidah that Ali mentioned the Khawarij and said: ‘Among them is a man with a defective arm,’ or “a small arm”. If you would exercise restraint, I would tell you what Allah promised on the tongue of Muhammad (SAW) to those who kill them.” I said: ‘Did you hear that from the Messenger of Allah (SAW)?’ He said: ‘Yes, by the Lord of Kabah; yes, by the Lord of Kabah; yes, by the Lord of Kabah.’

عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوارج کا ذکر کیا تو فرمایا ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ والا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہاتھ والا یا عورت کے پستان جیسے ہاتھ والا ہوگا اور اگر تم فخر نہ کرو تو میں تم سے بیان کروں وہ وعدہ جو اللہ نے ان لوگوں کو قتل کرنے کا محمد ﷺکی زبانی دیا میں نے عرض کیا آپ نے محمد ﷺسے سنا ہے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہاں رب کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ لاَ أُحَدِّثُكُمْ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ. فَذَكَرَ عَنْ عَلِىٍّ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا.

It was narrated that Abidah said: “I only tell you what I heard from him.” Then he narrated from Ali a Hadith similar to that of Ayyub (no 2464).

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِى سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ حَدَّثَنِى زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِىُّ أَنَّهُ كَانَ فِى الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِىٍّ - رضى الله عنه - الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ فَقَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِى يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَىْءٍ وَلاَ صَلاَتُكُمْ إِلَى صَلاَتِهِمْ بِشَىْءٍ وَلاَ صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَىْءٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ لاَ تُجَاوِزُ صَلاَتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ». لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قُضِىَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ -صلى الله عليه وسلم- لاَتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلاً لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى رَأْسِ عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْىِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلاَءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِى ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَاللَّهِ إِنِّى لأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلاَءِ الْقَوْمَ فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِى سَرْحِ النَّاسِ فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ. قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ فَنَزَّلَنِى زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلاً حَتَّى قَالَ مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِىُّ فَقَالَ لَهُمْ أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا فَإِنِّى أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ. فَرَجَعُوا فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَسَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ - قَالَ - وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ رَجُلاَنِ فَقَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ. فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَامَ عَلِىٌّ - رضى الله عنه - بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى نَاسًا قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ قَالَ أَخِّرُوهُمْ. فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِى الأَرْضَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ - قَالَ - فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِىُّ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهَ الَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِى وَاللَّهِ الَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلاَثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ.

Zaid bin Wahb Al-Juhani narrated that he was in army that was with the Ali [may Allah be pleased with him] which went to deal with Khawarij. Ali said: ‘O people, I heard the Messenger of Allah (SAW) say: ‘There will emerge some people from my Ummah who will recite the Quran, and your recitation would seem insignificant in comparison to theirs, and your prayer would seem insignificant in comparison to theirs, and your fasting would seem insignificant in comparison to theirs. They will recite the Quran, thinking that it is in their favor, when in fact it is against them and their prayer will not go any further than their collarbones. They will pass out of the Islam as an arrow passes out of the prey.’ If the army which encounters them knew what has been declared for them on the tongue of their Messenger of Allah (SAW), they would rely upon that action. The sign of that is that among them their is a man who has an upper arm but not forearm, and the end of his upper arm is like a nipple with white hairs. You will go to the Muawiyah and the people of Ash-Sham and you will leave these people to look after your families and wealth. By Allah, I believe that these are the people in question, for they have shed forbidden blood and raided the flocks of people. So march forth, in the Name of Allah.” Salamah bin Kuhail said: “Zaid bin Wahb described to me the stops (made by army) until he said: ‘Then we crossed a bridge, and when we met (the Khawarij), who were being led that day by ‘Abdullah bin Wahb Ar-Rasibi, he (Abdullah) said to (his men): “Throw your spears and draw your sword from their sheaths, for I am afraid that they may urge you to negotiate as they did on the day of (the battle of) Harura.” So they went back and threw their spears and unsheathed their swords, and (the companions of Ali) fought back with their spears, and they the (the Khawarij) were killed and piled up one on top of another, but only two of the people (the companions of Ali) were killed that day. Ali [may Allah be pleased with him] said: ‘See if the deformed one is among them.’ So they looked but they did not find him, Ali [may Allah pleased with him] stood up himself and (looked) until he came to some people who had been killed and piled up one top of another, and he said: “Search them till the last man.” They found him next to earth (at the bottom of the heap) and Ali said the Takbir, then he said: ‘Allah spoke the truth and His Messenger conveyed it.’ Then Abidah As-Salmani went to him and said: “O Commanders of the believers, by Allah, besides Whom there is none worthy worship, did you hear this Hadith from the Messenger of Allah (SAW)? Then he repeated this question three times and Ali affirmed it each time.”’’”

حضرت زید بن وہب جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اس لشکر میں شریک تھا جو سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معیت میں خوارج سے جنگ کے لیے چلا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اے لوگو! میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا کہ ایک قوم میری امت سے نکلے گی وہ قرآن اس طرح پڑھیں گے کہ تم ان کی قرات سے مقابلہ نہ کر سکو گے اور نہ تمہاری نماز ان کی نماز کا مقابلہ کر سکے گی اور نہ تمہارے روزے ان کے روزوں جیسے ہوں گے وہ قرآن پڑھتے ہوئے گمان کریں گے کہ وہ ان کے لیے مفید ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا اور ان کی نماز ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے جو لشکر ان کی سرکوبی کے لیے جارہا ہے اگر وہ اس ثواب کو جان لے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نبی کی زبان پر کیاہے تو وہ باقی اعمال کو چھوڑ کر اسی پر بھروسا کر بیٹھیں گے ، ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہے جس کے شانہ میں ہڈی نہیں ہے اور اس کے شانہ کا سر عورت کے پستان کی طرح ہے اس پر سفید رنگ کے بال ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: معاویہ اور اہل شام کی طرف جاتے ہو اور انہیں چھوڑجاتے ہو تاکہ یہ تمہارے پیچھے تمہاری اولاد اور تمہارے اموال کو ایذا دیں اللہ کی قسم ! مجھے امید ہے کہ یہ وہی قوم ہے جس نے ناحق خون بہایا اور لوگوں کی چراگاہوں کو لوٹ لیا ، تم اللہ کا نام لیکر ان سے قتال کے لیے روانہ ہو۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ پھر مجھ سے زید بن وہب نے ایک ایک منزل کا تذکرہ کیا اور بیان کیا کہ جب ہم جاکر ان سے ملے تو ہمارا ایک پل سے گذر ہوا ، اس روز خوارج کا سپہ سالار عبد اللہ بن وہب راسبی تھا، اس نے حکم دیا کہ اپنے نیزے پھینک دو اور تلواریں میاں سے نکال لو کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ تم پر اس طرح حملہ کریں گے جس طرح یوم حروراء میں کیا تھا ، چنانچہ وہ پھر سے انہوں نے اپنے نیزے پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں ، لوگوں نے ان پر اپنے نیزوں سے حملہ کیا اور بعض نے بعض کو قتل کرنا شروع کردیا، اس روز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر سےصرف دو آدمی شہید ہوئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، ان میں ناقص آدمی کو تلاش کرو اسے ڈھونڈا گیا لیکن وہ نہیں ملا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے اور وہاں گئے جہاں ان کی لاشیں ایک دوسرے پر پڑی ہوئی تھیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان لاشوں کو اٹھاؤ تو اس کو زمین پر لگا ہوا پایا ۔ حضرت علی نے فرمایا: اللہ اکبر ، اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا او راس کے رسول اللہ ﷺنے ہم تک صحیح احکام پہنچائے ، عبیدہ سلمانی کھڑے ہوئے اور کہا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا آپ نے خود رسول اللہ ﷺسے یہ حدیث سنی ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ حلف لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ قسم کھائی۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ - رضى الله عنه - قَالُوا لاَ حُكْمَ إِلاَّ لِلَّهِ. قَالَ عَلِىٌّ كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَصَفَ نَاسًا إِنِّى لأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِى هَؤُلاَءِ « يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لاَ يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ - وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ - مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ طُبْىُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْىٍ ». فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ - رضى الله عنه - قَالَ انْظُرُوا. فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا فَقَالَ ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلاَ كُذِبْتُ. مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ وَجَدُوهُ فِى خَرِبَةٍ فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ. وَقَوْلِ عَلِىٍّ فِيهِمْ زَادَ يُونُسُ فِى رِوَايَتِهِ قَالَ بُكَيْرٌ وَحَدَّثَنِى رَجُلٌ عَنِ ابْنِ حُنَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الأَسْوَدَ.

It was narrated from Ubaidullah bin Abi Rafi, the freed slave of Messenger of Allah (SAW), that when the Haruriyyah rebelled, he was with Ali bin Abi Talib [may Allah pleased with him] . They said: “That is no command but that of Allah.” Ali said: ‘These are true words being used for false purpose. The Messenger of Allah (SAW) described some people, and I recognize their characteristics in these people. ‘They will speak the truth on their tongues but it will not go any further than this’- and he pointed to his throat- ‘and they are the most hated of Allah’s creation to Him. Among them will be a black man, one of whose arms is like the teat of the sheep or a nipple.’’ When Ali bin Abi Talib [may Allah pleased with him] killed them, he said: ‘Look (for that man).’ They looked but did not find any thing. He told them: “Go back, for By Allah, I did not lie nor I was lied to”- (he said this) two or three times, then they found him in a ruin, and they brought him and placed him before him. Ubaidullah said: “I was present when that happened and Ali said that to them.” Yunus added in his report: Bukair said: ‘And a man narrated to me from Ibn Hunain that he said: ‘I saw that black man.’’

رسول اللہ ﷺکے غلام حضرت عبد اللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حروریہ کا جس وقت ظہور ہوا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، انہوں نے کہا اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ حق بات ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیاہے۔رسول اللہ ﷺنے کچھ نشانیاں بتلائی تھیں جنہیں میں بخوبی جانتا ہوں اور ان لوگوں میں ان کی نشانیاں پائی جاتی ہیں ، وہ اپنی زبانوں سے حق کہتے ہیں او رحق اس سے (یعنی ان کے حلق سے ) متجاوز نہیں ہوتا ۔عبید نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کرکے دکھایا اور کہا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے مبغوض ترین ہیں ، ان میں سے ایک شخص سیاہ رنگ کا ہے ، جس کا ہاتھ بکری کے تھن یا عورت کے پستان کےسر کی طرح ہے ۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ ان سے قتال کرچکے تو فرمایا اس آدمی کو تلاش کرو اسے ڈھونڈا گیا مگر وہ نہیں ملا، فرمایا اس کو پھر جاکر تلاش کرو،اللہ کی قسم نہ میں نے جھوٹ بولا ہے نہ مجھے جھوٹ بتایا گیا ہے ، یہ بات انہوں نے دو یا تین بار کہی، حتیٰ کہ لوگوں نے اس کو ایک کھنڈر میں ڈھونڈ لیا اور اس کی لاش لاکر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دی ، عبید اللہ کہتے ہیں کہ اس موقع پر میں وہاں موجود تھا ، یونس نے اپنی روایت میں اتنا زیادہ کہا ہے کہ مجھے ایک شخص نے بتایا کہ ابن حنین بیان کرتے ہیں ، میں نے اس شخص کو دیکھا۔

49. باب الْخَوَارِجُ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ بَعْدِى مِنْ أُمَّتِى - أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِى مِنْ أُمَّتِى - قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَلاَقِيمَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لاَ يَعُودُونَ فِيهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ ». فَقَالَ ابْنُ الصَّامِتِ فَلَقِيتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِىَّ أَخَا الْحَكَمِ الْغِفَارِىِّ قُلْتُ مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِى ذَرٍّ كَذَا وَكَذَا فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated that Abu Dharr said: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: ‘After me among my Ummah there will be people who recite the Quran, but it does not go any further than their throats. They will pass out of the religion as an arrow passes out of the prey, then they will not return of it. They are the most evil people of the mankind and of all creation.’’ Ibn As-Samit said: “I met Rafi bin Amr Al-Ghifari, the brother of Al-Hakam Al-Ghifari, and I said: ‘What is this Hadith that I have heard from Abu Dharr, (saying) such and such?’ And I quoted this Hadith to him. He said: ‘I heard this from the Messenger of Allah (SAW) too.’”

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : میرے بعد میری امت میں ایک ایسی قوم ظاہر ہوگی جو قرآن پڑھے گی مگر قرآن اس کے حق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر وہ دین میں لوٹ کر نہیں آئیں گے ۔ یہ مخلوق میں سب سے بدترین لوگ ہوں گے ۔ ابن صامت بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میں رافع بن عمر و غفاری سے ملا جو حکم غفاری کے بھائی ہیں اور کہا وہ حدیث جومیں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے اس اس طرح سے سنی ہے اور انہیں وہ حدیث بیان کی انہوں نے کہا میں نے رسو ل اللہ ﷺسے خود یہ حدیث سنی تھی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ « قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لاَ يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ».

It was narrated that Yusair bin Amr said: ‘I asked Sahl bin Hunaif: ‘Did you hear the Prophet (SAW) mention the Khawarij?’ He said: ‘I heard him’- and he gestured towards the east – (say:) ‘People who recite the Quran on their lips, but it will not go any further than their collarbones. They will pass out of the religion as an arrow passes out of the prey.’’

یسیر بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے سہیل بن حنیف سے پوچھا تم نے نبی ﷺسے خوارج کا ذکر سنا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے سنا ہے اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرکے کہا وہ اپنی زبانوں سے قرآن مجید پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نہیں اترے گا اور دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِىُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ يَخْرُجُ مِنْهُ أَقْوَامٌ.

Sulaiman Ash-Shaibani narrated it with this chain (a similar Hadith as n.2470), and he said: ‘Many groups will emerge therefrom.’

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ - عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِىُّ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَتِيهُ قَوْمٌ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ ».

It was narrated from Sahl bin Hunaif that the Prophet (SAW) said: ‘There will be people in the east who will go astray; they have shaven heads.’

سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا : مشرق کی طرف سے ایک قوم نکلے گی ان کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔

‹ First3456