- احادیثِ نبوی ﷺ

 

12345Last ›

20. باب الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ

حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِىُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِىُّ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ ».

It was narrated that Adiyy Bin Hatim said: “I heard the Prophet (SAW) say: ‘whoever among you can shield himself from the Fire, even with half a date, let him do so.’”

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا : تم میں سے جو شخص کھجور کے ایک ٹکڑے کے سبب دوزخ سے بچ سکتا ہے تو وہ ایسا کرے۔


حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلاَ يَرَى إِلاَّ النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ». زَادَ ابْنُ حُجْرٍ قَالَ الأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ « وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ». وَقَالَ إِسْحَاقُ قَالَ الأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ.

It was narrated that Adiyy bin Hatim said: ‘There is no one among you to whom Allah will not speak (directly) , with no interpreter between them. He will look to his right and will not see anything but what he had sent on before , and will look to his left and will not see anything but what he had sent on before , and he will look in front of him and will not see anything but the Fire,right in front of his face. So protect yourselves from the Fire,even if it is with half a date.”’ Ibn Hujr added: “Al-A’mash said: “Amr bin Murrah narrated a similar report to me from Khaithamah, and he added: “even if it is with a kind word”

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : تم میں سے ہر شخص عنقریب اللہ تعالیٰ سے اس طرح کلام کرے گا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا ، جب انسان اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو اسے صرف اپنے بھیجے ہوئے اعمال نظر آئیں گے اور بائیں طرف دیکھے گا تب بھی اپنے بھیجے ہوئے اعمال نظر آئیں گے ، سامنے دیکھے گا تو دوزخ نظر آئے گی، پس تم آگ سے بچو، خواہ کجھور کے ایک ٹکڑے سے ، ایک اور سند میں ہے خواہ اچھی بات سے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثُمَّ قَالَ « اتَّقُوا النَّارَ ». ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ « اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ». وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو كُرَيْبٍ كَأَنَّمَا وَقَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ.

It was narrated that Adiyy bin Hatim said: “The Messenger of Allah (SAW) mentioned the Fire, and he spoke in a very somber manner and said: ‘protect yourselves from the fire.’ He spoke in such a somber manner that we thought that it was if he was looking at it. Then he said: ‘Protect your selves from the fire even if it is with half a date, and whoever does not have that, then with a kind word.’”

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے دوزخ کا ذکر فرمایا اور ناپسندیدگی سے منہ پھیر لیا، پھر فرمایا دوزخ سے ڈرو اور پھر ناپسندیدگی سے منہ پھیر لیا ، جس سے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ دوزخ کو دیکھ رہے ہیں ، پھر فرمایا دوزخ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے ، اور جس کو کھجور کا ٹکڑا نہ مل سکے تووہ اچھی بات کہہ دے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ « اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ».

It was narrated that Adiyy bin Hatim that The Messenger of Allah(SAW) mentioned Fire and sought refuge with Allah from it, then he turned his face away three times , then he said : “Protect yourselves from the fire even if it is with half a date, and if you do not have that , then with a kind word ”

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے دوزخ کا تذکرہ فرمایا اس سے پناہ مانگی اور تین مرتبہ اپنا چہرہ مبارک پھیرا ،پھر فرمایا: دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے ذریعہ ہی ہو اگر تم یہ نہ پاؤ تو کلمہ طیبہ سے ہی سہی۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِىُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِى جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِى النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِى السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ « (يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ (إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ) وَالآيَةَ الَّتِى فِى الْحَشْرِ (اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ) تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ - حَتَّى قَالَ - وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ». قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ - قَالَ - ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ سَنَّ فِى الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِى الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ ».

It was narrated from Al-Mundhir bin Jarir that his father said: “We were with the Messenger of Allah (SAW) during the beginning of the day when some people came who were bare-foot and (partially) naked, wearing torn Namirahs, or Abayahs, with their sword hanging from their necks. Most of them, if not all of them, were from Mudar. The expression of the Messenger of Allah (SAW) changed because of what he saw in them of povery. He went in, and then he came out and ordered Bilal to call the Adhan and the Iqamah. He prayed then he addressed (the people and said) : “O Man kind!, Be dutiful to your Lord, Who created you from single person(Adam), until the end of verse, and the verse in Al-Hashr: “O you who believe! Fear Allah and keep your duty to Him. And let every person look to what he has sent forth for the morrow”. So people give Dinar, Dirham, clothing, a Sa of wheat and a Sa of dates”. (Mentioning examples) until he said: and even half a date. Then a man from the Ansar brought a money bag which his hands could hardly lift, in fact he could not lift it, and the people came one after another until I saw two piles of food and clothing, and I saw the face of Messenger of Allah (SAW) glistening like gold (because of happiness) . The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Whoever sets a good precedent in Islam will have the reward for that and the reward of those who do it after him, without that detracting from their reward in the slightest. And whoever sets a bad precedent in Islam will bear the burden of sin for that, an the burden of those who do it after him, without that detracting from their burden in the slightest’.”

حضرت جریر سے روایت ہے کہ ہم دن کے شروع میں رسول اللہ ﷺکے پاس تھے تو ایک قوم ننگے پاؤں ،ننگے بدن، چمڑے کی عبائیں پہنے ،تلواروں کو لٹکائے ہوئے حاضر ہوئی ان میں سے اکثر بلکہ سارے کے سارے قبیلہ مضر سے تھے تو رسول اللہ ﷺکا چہرہ اقدس ان کے فاقہ کو دیکھ کر متغیر ہوگیا آپ ﷺگھر تشریف لے گئے پھر واپس آئے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان اور اقامت کہی۔ پھر آپ نے خطبہ دیا فرمایا : (یایہا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ۔۔۔) سورۃ النساء 1 ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے ۔ آخر تک تلاوت کی۔ اور وہ آیت جو سو رۃ حشر کی ہے تلاوت کی (یایہا الذین آمنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد) الحشر: 18۔ اور فرمایا کہ آدمی اپنے دینار اور درہم اور اپنے کپڑے اور گندم کے صاع سے اور کھجور کے صاع سے صدقہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا اگرچہ کھجور کا ٹکڑا ہی ہو پھر انصار میں سے ایک آدمی تھیلی اتنی بھاری لے کر آیا کہ اس کا ہاتھ اٹھا نے سے عاجز ہو رہا تھا پھر لوگوں نے اس کی پیروی کی یہاں تک کی میں نے دو ڈھیر کپڑوں اور کھانے کے دیکھے اور رسول اللہ ﷺکا چہرہ اقدس کندن کی طرح چمکتا ہوا نظر آ نے لگا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس شخص نے اسلام میں کسی اچھے طریقہ کی ابتداء کی تو اس کے لئے اس کا اجر اور اس کے بعد عمل کرنے والوں کا ثواب ہوگا بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کمی کی جائے اور جس نے اسلام میں کسی برے عمل کی ابتداء کی تو اس کے لئے اس کا گناہ ہے اور ان کا کچھ گناہ جنہوں نے اس کے بعد عمل کیا بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کچھ کمی کی جائے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِى عَوْنُ بْنُ أَبِى جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَدْرَ النَّهَارِ. بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَفِى حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنَ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ.

Al-Mundhir bin Jarir narrated that his father said: “We were with the Messenger of Allah (SAW) early one morning ……” a Hadith similar that of ibn jafar. In the Hadith of ibn muadh it adds: “Then he prayed Zuhr, and then he delivered a speech.”

حضرت جریر روایت کرتے ہیں کہ ہم صبح کے وقت رسول اللہ ﷺکے پاس موجود تھے پھر آپ ﷺنے ظہر کی نماز ادا کی اور خطبہ دیا ۔ باقی حدیث گزر چکی ہے


حَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِىُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِى النِّمَارِ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ « أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِى كِتَابِهِ ( يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ) الآيَةَ ».

It was narrated from Al-Mundhir bin Jarir that his father said: “I was sitting with the Prophet (SAW) when some people came to him, wearing Namirahs...” and he quoted the same Hadith (no. 2351). In it he, said: “Then he prayed Zuhr, then he ascended a small Minbar, where he praised and glorified Allah, then he said: “To proceed: ‘Indeed Allah has revealed in His book: “O Man kind! Be dutiful to your Lord…” mentioned the verse.’””

حضرت جریر روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺکے پاس بیٹھا تھا کہ چند لوگ چمڑے کی عبائیں پہنے ہوئے آئے باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺظہر کی نماز پڑھ کر چھوٹے منبر پر تشریف لائے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا اما بعد اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے : یایہا الناس اتقوا ربکم ۔۔۔ آخرتک


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِى الضُّحَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِىِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ. قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ. فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.

It was narrated that Jarir bin Abdullah said: “some Bedouin people came to the Messenger of Allah (SAW) wearing wool. He saw the bad state they were in, and that they were in need….” And he quoted a similar Hadith

حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ چند دیہاتی لوگ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اون پہنی ہوئی تھی آپ ﷺنےاحتیاج کی بناء پر ان کا برا حال دیکھا ۔۔۔باقی حدیث گزر چکی ہے۔

21. باب الْحَمْلِ بِأُجْرَةٍ يُتَصَدَّقُ بِهَا وَالنَّهْيِ الشَّدِيدِ عَنْ تَنْقِيصِ الْمُتَصَدِّقِ بِقَلِيلٍ

حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِى ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِى وَائِلٍ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ قَالَ أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ. قَالَ كُنَّا نُحَامِلُ - قَالَ - فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ - قَالَ - وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَىْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الآخَرُ إِلاَّ رِيَاءً فَنَزَلَتْ ( الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِى الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ) وَلَمْ يَلْفِظْ بِشْرٌ بِالْمُطَّوِّعِينَ.

It was narrated that Abu Masud said: “We were commanded to give charity-and we were bearers (who carried goods for payments). Abu Aqil gave half a Sa in charity, and someone brought more than that. The hypocrites said: “Allah has no need of the charity of his man, and the other one only did it to show off”. Then the following verse was revealed: “Those who defame such of believers who give charity voluntarily and such who could not find to give charity except what is available to them””

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا حالانکہ ہم بوجھ اٹھا کر مزدوری کیا کرتے تھے، ابوعقیل نے آدھا صاع صدقہ دیا ایک اور آدمی ان سے زیادہ لایا ۔تو منافقین نے کہا اس صدقہ کی اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں ہے ، اس دوسرے نے تو محض دکھلاوے کے لیے صدقہ دیا ۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (ترجمہ):جو لوگ خوشی سے صدقہ دینے والوں اور ان لوگوں پر طنز کرتے ہیں جو صرف اپنی محنت و مزدوری کے تناسب سے صدقہ دے پاتے ہیں۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ح وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِى حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ كُنَّا نُحَامِلُ عَلَى ظُهُورِنَا.

It was narrated by Shubah with this chain (a similar Hadith as no.2355). In the Hadith of Sa’eed bin Ar-Rabi it says: “We used to carry goods on our back.”

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت ہے اس میں ہے ہم اپنی پیٹھ پر بوجھ لادتے تھے۔

22. باب فَضْلِ الْمَنِيحَةِ

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ « أَلاَ رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِعُسٍّ وَتَرُوحُ بِعُسٍّ إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ ».

It was narrated by Abu Hurairah (that the Prophet(SAW) ) said: “Is there anyone who can lend a family a she-camel which will produce a large bowl of milk morning and evening ; for the reward for that is great.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :آ گاہ رہو! جو آدمی کسی گھر والوں کو ایسی اونٹنی دیتا ہے جو صبح بھی برتن بھرے اور شام کو بھی تو اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِىٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ عَنْ عَدِىِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ نَهَى فَذَكَرَ خِصَالاً وَقَالَ « مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً غَدَتْ بِصَدَقَةٍ وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ صَبُوحِهَا وَغَبُوقِهَا ».

It was narrated by Abu Hurairah that the Prophet (SAW) forbade (some things) and he mentioned certain characteristics. He said: “Whoever lends a female animal will get reward in the morning and in the evening, when it is milked in the morning and when it is milked in the evening”

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے بہت سے کاموں سےمنع فرمایا ، آپ ﷺنے فرمایا: جس نے دودھ دینے والی اونٹنی بطور عطیہ دی تو اونٹنی کا صبح کو دودھ دینا بھی اس کے لیے صدقہ ہوگا اور شام کو بھی اس کے لیے صدقہ ہوگا صبح کو صبح کے دودھ کے پینے کا اور شام کو شام کے دودھ پینے کا۔

23. باب مَثَلِ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلٍ عَلَيْهِ جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ - وَقَالَ الآخَرُ فَإِذَا أَرَادَ الْمُتَصَدِّقُ - أَنْ يَتَصَدَّقَ سَبَغَتْ عَلَيْهِ أَوْ مَرَّتْ وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ ». قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ يُوَسِّعُهَا فَلاَ تَتَّسِعُ.

It was narrated by Abu Hurairah that the Prophet (SAW) said: “The likeness of the one who spends and gives charity is that of a man who is wearing two cloaks or two coats of chain- mail from his chest to his collar bone. When he wants to give in charity, it becomes expanded for him. But the miser wants to spend, it contracts for him and each ring grips its place, (but for the giver it expands) until it cover his fingertips and erases his footsteps”. Abu Hurairah said: “He said (SAW): “(The miser) tries to expand it but it will not expand.”””

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ خرچ کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے (دوسری روایات میں یہ ہے کہ بخیل اور سخی کی مثال اس آدمی جیسی ہے)جس نے چھاتی سے گلے تک دو کرتے یا دو زرہیں پہنی ہوں ، جب خرچ کرنے والا یا صدقہ کرنے والا ارادہ کرتا ہے تو زرہ کشادہ ہوکر اس کے سارے بدن پر پھیل جاتی ہے۔اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتاہے تو وہ زرہ اس پر تنگ ہو جاتی ہے اور اتنی سکڑ جاتی کہ ہر کڑی اپنی جگہ پر کس جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے قدموں کے پوروں کو چھپالیتی ہے اور ان کے نشانات مٹا دیتی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بخیل اس زرہ کو کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی۔


حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ - يَعْنِى الْعَقَدِىَّ - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدَيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّى تُغَشِّىَ أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا ». قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ فِى جَيْبِهِ فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلاَ تَوَسَّعُ.

It was narrated by Abu Hurairah that the Prophet (SAW) likened the miser and the charity-giver to two men who are wearing coats of mail, with their hands pressed to their chests and collar bones. Every time the giver gives charity, it expands for him until it covers his fingertips and erases his footsteps. But every time the miser tries to give charity, it contracts and every ring grips its place.” He said: “And I saw the Messenger of Allah (SAW) gesture with his fingers at the neck of his garment, as if trying to expand it but it would not expand.”

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان فرمائی جیسا کہ دو آدمی ہوں ان پر لو ہے کی دو زر ہیں ہوں اور ان کے دونوں ہاتھ چھا تیوں کی طرف گلوں میں باندھ دئیے گئے ہوں صدقہ کرنے والا جب صدقہ کرنا چاہے تو وہ زرہ اس پر کشادہ ہو جائے یہاں تک کے ڈھانپ لے اس کے پوروں کو اور مٹا دے اس کے قدموں کے نشانات کو اور بخیل جب صدقہ کرنے کا ارادہ کرے۔ تو وہ زرہ تنگ ہو جائے اور اس کا ہر حلقہ اپنی جگہ پھنس جائے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے اپنے گر یبان میں انگلیوں کو ڈال کر اشارہ فرمارہے تھے اگر تم دیکھتے تو کہتے کہ کشادہ کرنا چاہتے ہیں اور کشادہ نہیں ہوتی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِىُّ عَنْ وُهَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ إِذَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّىَ أَثَرَهُ وَإِذَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ تَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ وَانْقَبَضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا ». قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلاَ يَسْتَطِيعُ ».

It was narrated by Abu Hurairah that the Prophet (SAW) said: ‘The likeness of miser and the charity-giver is that of two men wearing coats of mail. Every time the giver thinks of charity, it expands for him until it erases his footsteps. But when the miser thinks of giving charity, it contracts and presses his hands against his collarbone, and each ring clings to its place.’ He said: And I heard the Messenger of Allah (SAW) saying: ‘He tries to expand it but he cannot’”

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن پر دو زرہیں لوہے کی ہوں جب صدقہ دینے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اس پر کشادہ ہو جائے یہاں تک کہ اس کے قدموں کے نشانات کو مٹا دے اور جب بخیل صدقہ کا ارادہ کرے تو وہ اس پر تنگ ہو جائے اور اس کے ہاتھ اس کے گلے میں پھنس جائیں اور ہر حلقہ دوسرے حلقہ میں گھس جائے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا وہ اس کو کشادہ کرنے کی کوشش کرے لیکن طاقت نہیں رکھتا۔

24. باب ثُبُوتِ أَجْرِ الْمُتَصَدِّقِ وَإِنْ وَقَعَتِ الصَّدَقَةُ فِي يَدِ فَاسِقٍ وَنَحْوِهِ

حَدَّثَنِى سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِى حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « قَالَ رَجُلٌ لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِى يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ. قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ. فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِى يَدِ غَنِىٍّ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِىٍّ. قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِىٍّ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ. فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِى يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ. فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِىٍّ وَعَلَى سَارِقٍ. فَأُتِىَ فَقِيلَ لَهُ أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا وَلَعَلَّ الْغَنِىَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ ».

It was narrated by Abu Hurairah that the Prophet (SAW) said: “A man said: ‘I am going to give charity tonight.’ He went out with his charity and placed it in the hand of prostitute. The next morning they said: “Last night he gave charity to a prostitute.” He said: ‘O Allah, praise be to You (I gave charity) for a prostitute. I am going to give charity again.’ He went out with his charity and placed it in the hand of a rich man. The next morning, they said: “Last night he gave charity to a rich man.” He said: ‘O Allah, to You be praise (I gave charity) for a rich man. I am going to give charity (again)’. He went out with his charity and placed it in the hands of thief. The next morning, they said: ‘He gave charity to a thief’. He said: ‘O Allah, to You be praise’ for (I gave charity to) a prostitute, a rich man and a thief.” It was said to him: ‘As for your charity, it has been accepted. As for the prostitute, perhaps it will be the cause of her refraining from fornication; as for the rich man, perhaps he will learn a lesson and spend from that which Allah has given him; and as for the thief, perhaps it will be the cause of his refraining from stealing ’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا ایک آدمی نے کہا کہ آج رات ضرور صدقہ کروں گا ۔ وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا۔ تو اس نے وہ صدقہ کا مال کسی زانیہ کے ہاتھ پر رکھا صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ رات کو زانیہ کو صدقہ دیا تو اس نے کہا اے اللہ! تیرے ہی لئے زانیہ پر صدقہ دینے پر تعریف ہے، پھر اس نے صدقہ کا مال مالدار کے ہاتھ میں دے دیا لوگوں نے صبح کو باتیں کی کہ رات کو مالدار کے ہاتھ میں دے دیا تو اس نے کہا اے اللہ مالدار پر صدقہ پہنچا دیتے میں تیری ہی تعریف ہے اس نے مزید صدقہ دینے کا ارادہ کیا اور صدقہ دینے کے لیے نکلا تو چور کے ہاتھ میں دے دیا صبح کو لوگوں نے چہ میگوئیاں کیں کہ رات کو چور پر صدقہ کیا گیا تو اس نے کہا اے اللہ زانیہ مالدار اور چور تک صدقہ پہنچا دینے میں تیرے ہی لیے تعریف ہے اس کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا کہ تیرے سب کے سب صدقات قبول کر لیے گئے زانیہ کو صدقہ اس لئے دلوایا گیا کہ شاید وہ آئندہ زنا سے باز رہے اور شاید کہ مالدار عبرت حاصل کرے اور اللہ نے جو اسے عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرے اور شاید کہ چور چوری کرنے سے باز آجائے۔

25. باب أَجْرِ الْخَازِنِ الأَمِينِ وَالْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ بِإِذْنِهِ الصَّرِيحِ أَوِ الْعُرْفِيِّ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِىُّ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِى أُسَامَةَ - قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ - حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ عَنْ جَدِّهِ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ الْخَازِنَ الْمُسْلِمَ الأَمِينَ الَّذِى يُنْفِذُ - وَرُبَّمَا قَالَ يُعْطِى - مَا أُمِرَ بِهِ فَيُعْطِيهِ كَامِلاً مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِى أُمِرَ لَهُ بِهِ - أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ ».

It was narrated from Abu Musa that the Prophet (SAW) said: “The trustworthy Muslim trustee who does as he is commanded- and sometimes he said- gives what he is commanded to give, giving it in full and willingly, to those to whom he is commanded to give it, is one of givers of charity.”

حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا وہ خزانچی جو مسلمان اور امانت دار ہو اور وہ حکم کے مطابق خوشی سے پورا پورا مال اس شخص کو دے جسے دینے کا حکم دیا گیا ہے تو اس کا شمار بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ - قَالَ يَحْيَى - أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لاَ يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا ».

It was narrated that Aishah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: “If a woman spends from the food that is in her house, without causing any damage, she will have the reward for what she spends, and her husband will have the reward for what he earned, and the trustee will have a similar reward, without their rewards detracting from one another.””

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جب عورت اپنے گھر سے بغیر فساد کے خرچ کرتی ہے تو اس کو خرچ کرنے کا ثواب ہوگا اور اس کے شوہر کو کمانے کا اور خزانچی کے لیے بھی اسی طرح ثواب ہوگا کسی کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا ».

It was narrated from Mansur with this chain (a similar Hadith as no. 2365), and he said: “From her husband’s food.”

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے اس میں ہے "خاوند کے طعام سے"۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا وَلَهُ مِثْلُهُ بِمَا اكْتَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ».

It was narrated that Aishah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘If a woman spends from her husband’s house without causing any damage, she will have the reward for that, and he will have a similar reward for what he earned, and she will have a reward for what she spend, and the trustee will have a similar reward, without their rewards being diminished in the slightest. ’

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا عورت جب اپنے خاوند کے گھر سے بغیر فساد خیرات کرے تو اس عورت کے لیے ثواب ہوگا اور اس کے خاوند کے لیے کمانے کی وجہ سے اس کی مثل اور عورت کے لیے اس خرچ کی وجہ سے اورخزانچی کے لیے بھی اس کے مثل ثواب ہوگا ان کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہوگی۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as n. 2366) was narrated from Al-A ‘mash with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔

26. باب مَا أَنْفَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِ مَوْلاَهُ

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِى اللَّحْمِ قَالَ كُنْتُ مَمْلُوكًا فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَأَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِىَّ بِشَىْءٍ قَالَ « نَعَمْ وَالأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ ».

It was narrated that Umair, the freed slave of Abu Al-Lahm said: “I was a slave, and I asked the Messenger of Allah (SAW)” said: “Can I give the charity from my master wealth?” He said: “Yes and the reward will be shared equally between you.”

آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر سے روایت ہے کہ میں غلام تھا میں نے رسول اللہ ﷺسے پوچھا کیا میں اپنے مالکوں کے مال سے کچھ صدقہ دوں؟ فرمایا: ہاں اور ثواب تم دونوں کے درمیان آدھا آ دھا۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ - يَعْنِى ابْنَ أَبِى عُبَيْدٍ - قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِى اللَّحْمِ قَالَ أَمَرَنِى مَوْلاَىَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَاءَنِى مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلاَىَ فَضَرَبَنِى فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ. فَقَالَ « لِمَ ضَرَبْتَهُ ». فَقَالَ يُعْطِى طَعَامِى بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ. فَقَالَ « الأَجْرُ بَيْنَكُمَا ».

Umair, the freed slave of Abu Al-Lahm, said: ‘My master ordered me to cut some meat into strips, and a poor person came to me so, I fed him some of it. My master found out about that and beat me. I went to Messenger Of Allah (SAW) and told him about and he summoned him and said: ‘Why did you beat him?’ He said: ‘He gave my food without instructions from me.’ He said: ‘The reward is shared between you.’’

حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جوآبی اللحم کے آزاد کردہ غلام ہیں میرے آقا نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت سکھاؤں میرے پاس ایک مسکین آیا تو میں نے اس میں سے اس کو کھلا دیا۔ میرے مالک کو اس کا علم ہوا تو اس نے مجھے مارا میں نے رسول اللہ ﷺکے پاس حاضر ہو کر آپ ﷺسے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺنے اس کو بلایا اور فرمایا تو نے اس کو کیوں مارا ؟ تو اس نے کہا کہ یہ میرا کھانا میرے حکم کے بغیر عطا کرتا ہے تو آپ ﷺنے فرمایا ثواب تم دونوں کو ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَصُمِ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ وَلاَ تَأْذَنْ فِى بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ ».

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated from Muhammad Messenger of Allah (SAW)”. – and he quoted a number of Ahadith, including the following: “And the Messenger of Allah (SAW) said: ‘No woman should fast while her husband is present without his permission, and she should not allow anyone (superoragative Fasting) to enter his house while he is present without his permission, and whatever she spends from his earnings without instructions from him, half of the reward will go to him’”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا خاوند کی موجودگی میں کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر(نفلی) روزہ نہ رکھے۔ اور شوہرکی موجودگی میں(اپنے کسی محرم کو)بغیر اس کی اجازت کے نہ آنے دے اور اس کی کمائی سے اس کی اجازت کے بغیر جو کچھ خرچ کرے گی اس میں سے آدھا اجر عورت کو ملے گا۔

27. باب مَنْ ضَمَّ إِلَى الصَّدَقَةَ مِنْ أَعْمَالَ الْبِرِّ

حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِىُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِى الطَّاهِرِ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ نُودِىَ فِى الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ. فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِىَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِىَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِىَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِىَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ». قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (SAW) said: ‘Whoever gives a pair of any thing in the cause of Allah, he will be called in Paradise,: ‘O slave of Allah, this is good.’ Whoever was one of the people of prayer will be called from the gate of prayer. Whoever was one of the people of Jihad will be called from gate of Jihad, Whoever was one of the people of Charity will be called from gate of Charity, Whoever was one of the people of fasting will be called from gate of Ar-Rayyan,’ Abu Bakr As-Siddiq said: ‘O Messenger of Allah (SAW)! There is no need for anyone to be called from all these gates, but will anyone be called from all of them? ’The Messenger Of Allah (SAW) said: ‘Yes, and I hope that you’ll one of them.’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کے راستہ میں خرچ کیا تو جنت میں اس کے لے ندا کی جائے گی ۔ اے اللہ کے بندے! یہ بھلائی ہے، پس جو نماز والوں میں سے ہوگا تو وہ باب الصلاۃ سے پکارا جائے گا اور جو اہل جہاد میں سے ہوگا وہ باب الجہاد سے پکارا جائے گا جو صدقہ والوں میں سے ہوگا وہ باب الصدقہ سے بلایا جائے گا اور جو روزہ والوں میں سے ہوگا وہ باب الریان سے پکارا جائے گا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا کوئی ایک ان سب دروازوں میں سے پکارا جائے گا؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہاں! اور میں امید کرتا ہوں کہ تو ان میں سے ہوگا۔


حَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِىُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِىِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ.

A similar Hadith (no.2371) was narrated from Az-Zuhri with the chain of Yunus.’

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِى شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ دَعَاهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ كُلُّ خَزَنَةِ بَابٍ أَىْ فُلُ هَلُمَّ ». فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَلِكَ الَّذِى لاَ تَوَى عَلَيْهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ».

It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that he heard Abu Hurairah say: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Whoever gives a pair of any thing in the cause of Allah, he will be called by the gatekeepers of Paradise,’: ‘O so-and- so, come!’ Abu Bakr said: ‘O Messenger of Allah (SAW), that one who has not lost. The messenger of Allah (SAW) said: ‘I hope that you will be one of them’’’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جس نے اللہ کے راستہ میں ایک جوڑا خرچ کیا تو اس کو جنت کے ہر دروازے کے پہرہ دار بلائیں گے اے فلاں ادھر آ! حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ! ایسے شخص پر تو کوئی مشکل نہ ہوگی ۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تو انہی میں سے ہوگا۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِى الْفَزَارِىَّ - عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِى حَازِمٍ الأَشْجَعِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا ». قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه أَنَا. قَالَ « فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً ». قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه أَنَا. قَالَ « فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ». قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه أَنَا. قَالَ « فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا ». قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا اجْتَمَعْنَ فِى امْرِئٍ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (SAW) said: “Who among you fasted today?” Abu Bakr [may Allah be pleased with him] said: ‘I did’. He said: ‘Who among you attended a funeral today?’ Abu Bakr [may Allah be pleased with him] said: ‘I did’. He said: ‘Who among you fed today a poor person?’ Abu Bakr [may Allah be pleased with him] said: ‘I did’. He said: ‘Who among you visited a sick person today?’ Abu Bakr [may Allah be pleased with him] said: ‘I did’. The Messenger of Allah (SAW) said: ‘These qualities are not combined in man but he will enter Paradise.’’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں!آپﷺنےفرمایا : آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کون گیا تھا؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ! آپﷺنے فرمایا آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے ، آپﷺنے پوچھا آج تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے! آپﷺنے فرمایا جس شخص میں یہ تمام کام جمع ہوں گے وہ ضرور جنت میں جائے گا۔

28. باب الْحَثِّ فِي الإِنْفَاقِ وَكَرَاهَةِ الإِحْصَاءِ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِى ابْنَ غِيَاثٍ - عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَنْفِقِى - أَوِ انْضَحِى أَوِ انْفَحِى - وَلاَ تُحْصِى فَيُحْصِىَ اللَّهُ عَلَيْكِ ».

It was narrated that Asma bint Abi Bakr [may Allah pleased with her] said: “The Messenger of Allah (SAW) said to me: ‘Spend and do not count how much, lest Allah count how much He bestows upon you.’ ”

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: خرچ کرو اور گن گن کے نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔


وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « انْفَحِى - أَوِ انْضَحِى أَوْ أَنْفِقِى - وَلاَ تُحْصِى فَيُحْصِىَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَلاَ تُوعِى فَيُوعِىَ اللَّهُ عَلَيْكِ ».

It was narrated that Asma said: “The Messenger of Allah (SAW) said: “Spend and do not count how much, lest Allah count how much He bestows upon you, and do not hoard lest Allah withhold from you.””

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: خرچ کرو اور گن گن کرمت رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔اور جمع مت کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہارے معاملے میں جمع کرکے رکھ گا۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ لَهَا نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated from Abbad bin Hamzah, from Asma, that the Prophet (SAW) said to her…………… a similar Hadith (as no.2375).

ایک اور سند سے بھی حضرت اسماء سے ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ أَبِى مُلَيْكَةَ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ يَا نَبِىَّ اللَّهِ لَيْسَ لِى شَىْءٌ إِلاَّ مَا أَدْخَلَ عَلَىَّ الزُّبَيْرُ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَىَّ فَقَالَ « ارْضَخِى مَا اسْتَطَعْتِ وَلاَ تُوعِى فَيُوعِىَ اللَّهُ عَلَيْكِ ».

It was narrated that Asma bint Abi Bakr that she came to Prophet (SAW) and said: “O Prophet of Allah, I do not have anything but that which Az-Zubair gives me. Is there any sin on me if I spend from what is given to me?” He said: “Spend whatever you can, and do not hoard, lest Allah withhold from you.”

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺکے پاس حاضر ہوئیں اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ! میرے پاس کوئی چیز نہیں سوائے اس کے جو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے دیں کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے اگر میں اس دئیے ہوئے میں سے کچھ صدقہ دوں؟ آپ ﷺنے فرمایا جنتی تجھے طاقت ہو اتنا دو اور جمع کر کے نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم کو دینا بند کر دے گا۔

29. باب الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِالْقَلِيلِ وَلاَ تُمْتَنَعُ مِنَ الْقَلِيلِ لاِحْتِقَارِهِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ « يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ ».

It was narrated by Abu Hurairah that the Prophet (SAW) used to say: “O Muslim woman, no woman should look down on a gift giver by her neighbor, even if it is the meat from a sheep’s hoof.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مسلمان عورتو! تم میں کوئی اپنےہمسائے کے گھر بکری کاایک کھر (پائے) بھیجنے کو بھی حقیر نہ سمجھے۔یعنی کچھ نہ کچھ ہدیہ بھیجتی رہے۔

12345Last ›