21. بابُ فِي الْوُقُوفِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَأْتِىَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ (ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ)
It was narrated that Aisha said: “The Quraish and those who followed their way used to stand at Al-Muzdalifah, and they were called Al-Hums and the rest of the Arabs used to stand in Arafat. When Islam came, Allah commanded His Prophet (SAW) to go to Arafat and stand there, then depart from there. That is the verse in which Allah says: ‘Then depart from the place whence all the people depart.’”
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ اہل قریش اور جو ان کے دین سے موافقت رکھتے تھے وہ مزدلفہ میں ٹھہرے تھے اور انہوں نے اپنا نام حمس رکھا ہوا تھا اور دیگر تمام اہل عرب عرفات کے میدان میں ٹھہرتے تھے تو جب اسلام آیا تو اللہ نے اپنے نبی ﷺکو حکم فرمایا کہ وہ عرفات کے میدان میں آئیں اور وہیں وقوف کریں پھر واپس اسی جگہ سے لوٹیں اللہ تعالی نے اپنے فرمان ( ثم افیضوا من حیث افاض الناس ) میں یہی فرمایا کہ جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں تم بھی وہیں سے لوٹو۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتِ الْعَرَبُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرَاةً إِلاَّ الْحُمْسَ وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ وَمَا وَلَدَتْ كَانُوا يَطُوفُونَ عُرَاةً إِلاَّ أَنْ تُعْطِيَهُمُ الْحُمْسُ ثِيَابًا فَيُعْطِى الرِّجَالُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءُ النِّسَاءَ وَكَانَتِ الْحُمْسُ لاَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ وَكَانَ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَبْلُغُونَ عَرَفَاتٍ. قَالَ هِشَامٌ فَحَدَّثَنِى أَبِى عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتِ الْحُمْسُ هُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ (ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ) قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَكَانَ الْحُمْسُ يُفِيضُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ يَقُولُونَ لاَ نُفِيضُ إِلاَّ مِنَ الْحَرَمِ فَلَمَّا نَزَلَتْ (أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ) رَجَعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ.
Hisham narrated that his father said: “The Arabs used to circumambulate the Kabah naked, except the Hums, and the Hums were the Quraish and their descendants. They used to circumambulate the Kabah naked, unless the Hums gave them some clothes - men would give them to men and women to women. The Hums did not go out of Al-Muzdalifah, but the people all went to Arafat.”
Hisham said: “My father told me that Aishah said: ‘The Hums were those concerning whom Allah revealed the words: “Then depart from the place whence all the people depart.” She said: ‘The people used to depart from Arafat and, the Hums used to depart from Al-Muzdalifah, saying: “We will not depart except within the sanctuary.” When the following was revealed: “Then depart from the place whence all the people depart …” they went back to Arafat.’’”
حضرت ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حمس کے علاوہ باقی اہل عرب بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے ، اور حمس قریش اور ان کی اولاد کو کہتے ہیں یہ لوگ ننگا طواف کرتے تھے سوائے ان لوگوں کے جن کو حمس کپڑا دیں۔ مرد مردوں کو اور عورتیں عورتوں کو کپڑا دیتی تھیں اور حمس مزدلفہ سے آگے نہیں نکلتے تھے اور باقی سارے عرفات کے میدان میں پہنچتے تھے ہشام کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حمس وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا (ثم افیضوا من حیث افاض الناس) پھر تم لوٹو اس جگہ سے جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ لوگ مزدلفہ ہی سے واپس لوٹ آتے تھے اور باقی لوگ عرفات کے میدان سے واپس لوٹتے تھے اور حمس مزدلفہ سے لوٹ کر کہتے تھے کہ ہم حرم کے علاوہ کسی اور جگہ سے نہیں لوٹتے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی (ثم افیضوا من حیث افاض الناس) تو وہ لوگ عرفات سے لوٹنے لگے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِى فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَا هُنَا وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَدُّ مِنَ الْحُمْسِ.
Muhammad bin Jubair bin Mutim narrated that his father, Jubair bin Mutim said: “I lost a camel of mine, so I went and looked for it on the Day of Arafat. I saw the Messenger of Allah (SAW) standing with the people in Arafat, and I said: “By Allah, he is one of the Hums, what is he doing here?” the Quraish were regarded as being among the Hums.”
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا ایک اونٹ گم ہوگیا تو اس کو تلاش کرنے کے لئے عرفہ کے دن گیا تو میں نے رسول اللہ ﷺکو عرفات کے میدان میں وقوف کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا اللہ کی قسم! یہ تو حمس ہیں ان کو کیا ہوا کہ یہ یہاں ہیں اور قریش حمس میں سے شمار کئے جاتے تھے۔
22. بَابُ جَوَازِ تَعْلِيْقِ الْإِحْرَامِ وَهُوَ أَنْ يَحْرُمَ بِإِحْرَامِ كَإِحْرَامِ فُلَانٍ فَيَصِيْرُ مُحَرَّمًا بِإِحْرَامِ مِثْلَ إِحْرَامِ فُلَانٍ.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى مُوسَى قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ لِى « أَحَجَجْتَ ». فَقُلْتُ نَعَمْ. فَقَالَ « بِمَ أَهْلَلْتَ ». قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ « فَقَدْ أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَحِلَّ ». قَالَ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِى قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِى ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ. قَالَ فَكُنْتُ أُفْتِى بِهِ النَّاسَ حَتَّى كَانَ فِى خِلاَفَةِ عُمَرَ - رضى الله عنه - فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا مُوسَى - أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ - رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِى مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِى النُّسُكِ بَعْدَكَ. فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا. قَالَ فَقَدِمَ عُمَرُ - رضى الله عنه - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ.
It was narrated that Abu Musa said: “I came to Messenger of Allah (SAW) while he was halting in Al-Batha, and he said to me: ‘Did you intend to perform Hajj?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘For what did you enter Ihram?’ I said: ‘I said: “here I am at your Service, for the same as the Prophet (SAW) has entered Ihram.” He said: ‘You have done well. Circumambulate the House and go between As-Safa and Al- Marwah, then exit Ihram.’ I circumambulated the Kabah and went between As-Safa and Al-Marwah, then I came to woman of Banu Qais who rid my head of lice. Then I entered Ihram for Hajj. I continued to state Fatwa (religious rulings) to that effect for the people until the Khilafah of Umar [may Allah be pleased with them].’’”
A man said to him: “O Abu Musa,” or “O Abdullah bin Qais, exercise restraint in your Fatwa, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced with regard to the rituals after you. He said: ‘O people, whoever heard a Fatwa from us (about exiting Ihram) let him wait, for the Commander of the Believers is coming to you, so follow him.’ Then Umar [may Allah be pleased with them] came and I mentioned that to him, and he said: ‘We follow the Book of Allah, and the Book of Allah enjoins completing Hajj and Umrah. And we follow the Sunnah of the Messenger of Allah (SAW), and the Messenger of Allah (SAW) did not exit Ihram until the sacrifice reached its destination.’ ”
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺبطحائے مکہ میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے تو آپ ﷺنے مجھ سے فرمایا کیا تو نے حج کی نیت کرلی ہے ؟ میں نے کہا ہاں ، آپﷺنے پوچھا : تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے ؟میں نے عرض کیا : میں نے نیت کی تھی کہ میں اس چیز کا احرام باندھتا ہوں جس کا رسول اللہ ﷺنے احرام باندھا ہے ۔آپﷺنے فرمایا : تم نے اچھا کیا، اب بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کرو اور حلال ہوجاؤ یعنی احرام کھول دو ۔حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی پھر میں قبیلہ بنو قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اس نے میرے سر میں جوئیں دیکھیں پھر میں نے حج کا احرام باندھا اور میں لوگوں کو اسی کا فتوی دیتا تھا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا دور آیا تو ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابو موسیٰ ! یا اے عبداللہ بن قیس! اپنے بعض فتوے رہنے دو کیونکہ آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے بعد حج میں کیا نئے احکامات جاری کئے ہیں ۔پھر حضرت ابو موسیٰ فرمانے لگے اے لوگو! جن کو ہم نے فتویٰ دیا ہے وہ غور کریں کیونکہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمہارے پاس تشریف لانے والے ہیں تم ان ہی کی اقتداء کرو ۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو میں نے ان سے اسی چیز کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم اللہ تعالی کی کتاب کی پیروی کرتے ہیں تو اللہ تعالی کی کتاب تو حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم رسول اللہ ﷺکی سنت کی پیروی کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺتو اس وقت تک حلال نہیں ہوئے یعنی احرام نہیں کھولا جب تک کہ قربانی اپنی جگہ پر نہیں پہنچی۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِى هَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
Shubah narrated a similar report (as no. 2957) with this chain.
ایک اور سند سے بھی حسب سابق روایت منقول ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِى ابْنَ مَهْدِىٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى مُوسَى - رضى الله عنه - قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ « بِمَ أَهْلَلْتَ ». قَالَ قُلْتُ أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْىٍ ». قُلْتُ لاَ. قَالَ « فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ ». فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِى فَمَشَطَتْنِى وَغَسَلَتْ رَأْسِى فَكُنْتُ أُفْتِى النَّاسَ بِذَلِكَ فِى إِمَارَةِ أَبِى بَكْرٍ وَإِمَارَةِ عُمَرَ فَإِنِّى لَقَائِمٌ بِالْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَنِى رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّكَ لاَ تَدْرِى مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِى شَأْنِ النُّسُكِ. فَقُلْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَىْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ قُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هَذَا الَّذِى أَحْدَثْتَ فِى شَأْنِ النُّسُكِ قَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ( وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ) وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ فَإِنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْىَ.
It was narrated that Abu Musa said: “I came to Messenger of Allah (SAW) while he was halting in Al-Batha, and he said to me: ‘Did you intend to perform Hajj?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘For what have you entered Ihram?’ I said: ‘I have entered Ihram for the same as the Prophet (SAW) has entered Ihram.’ He said: ‘Have you bought a sacrificial animal?’ I said: ‘No.’ He said: ‘Circumambulate the house and go between As-Safa and Al-Marwah, then exit Ihram.’ So I Circumambulated the House and went between As-Safa and Al-Marwah, then I went to a woman among my people who combed my hair and washed my head. I used to give the people Fatwas to that effect during the leadership of Abu Bakr and the leadership of Umar. It was during Hajj season that a man came to me and said: ‘you do not know what the Commander of the Believer has introduced concerning the rituals.’ I said: ‘O people, whoever heard a Fatwa from us (about exiting Ihram) let him wait, for the Commander of the Believers is coming to you, so follow him.’ When he came I said: ‘O Commander of the Believers, what is this that you have introduces concerning the rituals?’ He said: ‘
We follow the Book of Allah and Allah says, “And perform properly the Hajj and Umrah …” and we follow the Sunnah of our Prophet (SAW), and the Prophet (SAW) did not exit Ihram until he had offered the sacrifice.’
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺکے خدمت میں آیا اور آپ ﷺبطحائے مکہ میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے تو آپ ﷺنے فرمایا تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے نبی ﷺکے احرام کے موافق باندھا ہے آپ ﷺنے فرمایا کیا تو قربانی ساتھ لایا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺنے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا اور مروہ کی سعی کرو پھر احرام کھول دو، تو میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کی سعی کی پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھویا۔ اور میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں اسی چیز کا فتوی دیا کرتا تھا ۔ایک مرتبہ میں حج کے موسم میں کھڑا ہوا تو ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ نہیں جانتے کہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کے بارے میں کیا نئے احکام جاری فرمائے؟ پھر میں نے کہا اے لوگو! جن کو میں نے کسی چیز کے بارے میں فتوی دیا ہے وہ لوگ باز رہیں کیونکہ امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمہاری طرف آنے والے ہیں تم انہی کی اقتداء کرو پھر جب حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ آپ نے حج کے بارے میں کیا حکم نافذ فرمایا ہے حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر ہم اللہ کی کتاب کی پیروی کرتے ہیں تو اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو اور اگر ہم اپنے نبی ﷺکی سنت کی پیروی کرتے ہیں تو نبی ﷺحلال نہیں ہوئے جب تک آپ ﷺنے قربانی کو ذبح نہیں کیا۔
وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى مُوسَى - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَنِى إِلَى الْيَمَنِ قَالَ فَوَافَقْتُهُ فِى الْعَامِ الَّذِى حَجَّ فِيهِ فَقَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ ». قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ إِهْلاَلاً كَإِهْلاَلِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ « هَلْ سُقْتَ هَدْيًا ». فَقُلْتُ لاَ. قَالَ « فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. ثُمَّ أَحِلَّ ». ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ.
It was narrated that Abu Musa [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) had sent me to Yemen, and I came back during the year when he went for Hajj. The Messenger of Allah (SAW) said to me: ‘O Abu Musa, what did you say when you entered Ihram?’ I said: ‘Here I am at Your Service, for the same purpose as the Prophet (SAW) entered Ihram.’ He said: ‘Have you brought a sacrificial animal?’ I said: ‘No.’ He said: ‘Then go and circumambulate the House and go between As-Safa and Al-Marwah, then exit Ihram.’””
Then he quoted a hadith like that of Shubah and Sufyan (no. 2957, 2959).
حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے یمن کی طرف بھیجا اور میں اسی سال آیا جس سال آپ ﷺنے حج کا ارادہ فرمایا تو رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا اے ابوموسی! تم نے احرام باندھتے وقت کیا فرمایا تھا ؟ انہوں نے کہا : میں نے نیت کی تھی کہ جو آپﷺ کا احرام ہوگا وہی میرا احرا م ہے۔آپ ﷺنے فرمایا کیا تو قربانی ساتھ لایا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں آپ ﷺنے فرمایا : بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرو پھر احرام کھول دو، پھر آگے حدیث حسب سابق مروی ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِى مُوسَى عَنْ أَبِى مُوسَى أَنَّهُ كَانَ يُفْتِى بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِى مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِى النُّسُكِ بَعْدُ حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِى الأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُونَ فِى الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ.
It was narrated that Abu Musa that he used to issue a Fatwa allowing Mutah, and a man said to him: “Exercise restraint in some of your Fatwa, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced concerning the rituals.” After that I met him and asked him about that. Umar said: ‘I know that the Prophet (SAW) and his Companions did that, but I did not want married people to have intercourse beneath the trees and then go out for Hajj with their heads dripping.’
حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کا فتوی دیتے تھے ایک مرتبہ کسی آدمی نے ان سے کہا کہ اپنے فتوؤں کو رہنے دو کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے بعد حج کے بارے میں کیا حکم بیان فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے اور اس سلسلے میں ان سے پوچھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ نبی ﷺاور آپ ﷺکے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرح کیا ہے لیکن میں اس بات کو نا پسند سمجھتا ہوں کہ لوگ پیلو کے درختوں کے نیچے عورتوں سے شب باشی کریں پھر حج میں جائیں تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں۔
23. بابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَكَانَ عَلِىٌّ يَأْمُرُ بِهَا فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِىٍّ كَلِمَةً ثُمَّ قَالَ عَلِىٌّ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ.
Abdullah bin Shaqiq said: “Uthman used to forbid Mutah (Tamattu) and Ali used to enjoin it. Uthman said something to Ali, then Ali said: ‘You know that we did Tamattu with the Messenger of Allah (SAW).’ He said: ‘Yes, but we were afraid then.’”
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمتع سے منع فرمایا کرتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوئی بات فرمائی تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ حج تمتع کیا ہے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جی ہاں لیکن اس وقت ہم ڈرتے تھے۔
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ - أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
Shubah narrated a similar report with this chain.
ایک اور سند سے بھی اسی طرح روایت ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ اجْتَمَعَ عَلِىٌّ وَعُثْمَانُ - رضى الله عنهما - بِعُسْفَانَ فَكَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ فَقَالَ عَلِىٌّ مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تَنْهَى عَنْهُ فَقَالَ عُثْمَانُ دَعْنَا مِنْكَ. فَقَالَ إِنِّى لاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِىٌّ ذَلِكَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا.
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: “Ali and Uthman [may Allah be pleased with them] met in Usfan, and Uthman used to forbid Tamattu and Umrah (during the Hajj season). Ali said: ‘what do you mean by forbidding something that the Messenger of Allah (SAW) did?’ Uthman said: ‘Leave us alone.’ He said: ‘I cannot leave you alone.’ When Ali saw that, he entered Ihram for both of them together. ”
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما مقام عسفان میں اکٹھے ہوئے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع یا عمرہ سے حج کے دنوں میں منع فرماتے تھے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ آپ اس کام سے منع کررہے ہیں جس کو رسول اللہ ﷺنے کیا ہے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تم کو نہیں چھوڑ سکتا ، پھر جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حال دیکھا تو انہوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا۔
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ - رضى الله عنه - قَالَ كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِى الْحَجِّ لأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- خَاصَّةً.
It was narrated that Abu Dharr [may Allah be pleased with them] said: “Al-Mutah in Hajj was just for the Companions of Muhammad (SAW).”
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حج تمتع محمد ﷺکے صحابہ کے لئے مخصوص تھا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِىِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ - رضى الله عنه - قَالَ كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً. يَعْنِى الْمُتْعَةَ فِى الْحَجِّ.
It was narrated that Abu Dharr [may Allah be pleased with them] said: “We had a concession,” meaning, Al- Mutah in Hajj.
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حج میں تمتع کی رخصت ہمارے لئے تھی۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ فُضَيْلٍ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رضى الله عنه لاَ تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ إِلاَّ لَنَا خَاصَّةً. يَعْنِى مُتْعَةَ النِّسَاءِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ.
Abu Dharr [may Allah be pleased with them] said: “Two Al-Mutah were permitted to us only” – meaning Mutah (temporary marriage) with women and Mutah (Tamattu) in Hajj.
حضرت ابراہیم تیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دومتعے کسی کے لئے درست نہیں صرف ہمارے لئے ہی مخصوص تھے یعنی عورتوں سے متعہ اور دوسرا متعہ حج۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى الشَّعْثَاءِ قَالَ أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِىَّ وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِىَّ فَقُلْتُ إِنِّى أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ الْعَامَ. فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِىُّ لَكِنْ أَبُوكَ لَمْ يَكُنْ لِيَهُمَّ بِذَلِكَ. قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِى ذَرٍّ - رضى الله عنه - بِالرَّبَذَةِ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ.
It was narrated that Abdur- Rahman bin Abi Ash-Shatha said: “I came to Ibrahim An-Nakhai and Ibrahim At-Taimi and said: ‘I intend to combine Umrah and Hajj this year.’ Ibrahim An-Nakhai said: ‘your father would not have intended to do that’.”
Qutaibah said: “Jarir narrated to us from Bayan, from Ibrahim At-Taimi, from his father, that he passed by Abu Dharr [may Allah be pleased with them] in Ar-Rabdhah, and he mentioned that to him, and he said: ‘it was allowed specifically for us but not for you.’ ”
حضرت ابراہیم تیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دومتعے کسی کے لئے درست نہیں صرف ہمارے لئے ہی مخصوص تھے یعنی عورتوں سے متعہ اور دوسرا متعہ حج۔
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ الْفَزَارِىِّ - قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ - أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِىُّ عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِى وَقَّاصٍ - رضى الله عنه - عَنِ الْمُتْعَةِ فَقَالَ فَعَلْنَاهَا وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعُرُشِ. يَعْنِى بُيُوتَ مَكَّةَ.
It was narrated that Ghunaim bin Qais said: “I asked Sad bin Abi Waqqas [may Allah be pleased with them] about Mutah (Tamattu) and he said: ‘We did that, and at time he was a disbeliever in the houses of the Makkah.”
حضرت غنیم بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے تمتع کیا ہے اور یہ یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت مکہ مکرمہ کے گھروں میں کفر کی حالت میں تھے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِى رِوَايَتِهِ يَعْنِى مُعَاوِيَةَ.
It was narrated from Sulaiman At-Taimi with this chain (a hadith similar to no. 2969), and he said in his report: ‘meaning, Muawiyah.’
ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
وَحَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَ حَدِيثِهِمَا وَفِى حَدِيثِ سُفْيَانَ الْمُتْعَةُ فِى الْحَجِّ.
A similar Hadith (as no. 2969) was narrated from Sulaiman At-Taimi with this chain. In the hadith of Sufyan it says: ‘Mutah in Hajj (Tamattu).’
ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے اور اس میں تمتع فی الحج کا ذکر ہے۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِىُّ عَنْ أَبِى الْعَلاَءِ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ لِى عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِنِّى لأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِى الْعَشْرِ فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ بَعْدُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْتَئِىَ.
It was narrated that Mutarrif said: “Imran bin Husain said to me: ‘I will tell you a hadith today, by means of which Allah will benefit you after today. Know that the Messenger of Allah (SAW) allowed some of his family to perform Umrah in the first ten days of Dhul-Hijjah, and no verse was revealed which abrogated that, and he did not forbid it before he passed away. After that, it does not matter what anyone else thinks.’”
حضرت مطرف سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تجھے آج ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ آج کے بعد اس حدیث کے ذریعہ سے اللہ تعالی تجھے نفع عطاء فرمائیں گے اور جان لے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے گھر والوں میں سے ایک جماعت کو ذی الحج کے عشرہ میں عمرہ کروایا تو کوئی آیت اس کو منسوخ کرنے والی نازل نہیں ہوئی اور نہ آپ ﷺنے اس سے منع فرمایا یہاں تک کہ آپ اس (فانی دنیا) سے رخصت ہو گئے اس کے بعد جس نے بھی اس مسئلہ میں کہا وہ محض اپنی رائے سے کہا۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كِلاَهُمَا عَنْ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْجُرَيْرِىِّ فِى هَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِى رِوَايَتِهِ ارْتَأَى رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ. يَعْنِى عُمَرَ.
It was narrated from Al-Jurairi with this chain (a hadith similar to no.2972). Ibn Hatim said in his report: “it does not matter what anyone else thinks,” meaning Umar.
ایک اور سند سے ہے کہ ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا یعنی حضرت عمر نے ۔
وَحَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ لِى عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ وَقَدْ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَىَّ حَتَّى اكْتَوَيْتُ فَتُرِكْتُ ثُمَّ تَرَكْتُ الْكَىَّ فَعَادَ.
It was narrated that Mutarrif said: “Imran bin Husain said to me: ‘I will tell you a hadith, by means of which Allah will benefit you after today. The Messenger of Allah (SAW) joined Hajj and Umrah, then he did not forbid it until he died, and no Quran (Ayat) was revealed forbidding that. And I was always greeted until I was cauterized, then the greetings ceased, then when I stopped (being cauterized), the greeting returned.
حضرت مطرف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کروں گا شاید کہ اللہ تعالی اس کے ذریعہ سے تجھے نفع دے وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺنے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ اکٹھا کیا پھر ان سے منع بھی نہیں فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺدنیا سے رحلت فرما گئے۔ اور نہ ہی اس کی حرمت کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ اور مجھ پر (فرشتوں ) کی طرف سے کیا جاتا تھا ، جب تک کہ میں نے (علاج کے لیے) داغ نہیں لگوایا ، اور جب میں نے داغ لگوالیا تو یہ سلام موقوف ہوگیا اور جب داغ لگوانا چھوڑ دیا تو یہ سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا قَالَ قَالَ لِى عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ. بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ.
Mutarrif said: “Imran bin Husain said to me …” a Hadith like that of Muadh (no. 2974).
ایک اور سند سے بھی حضرت عمران بن حصین کی یہ حدیث مروی ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ بَعَثَ إِلَىَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِى مَرَضِهِ الَّذِى تُوُفِّىَ فِيهِ فَقَالَ إِنِّى كُنْتُ مُحَدِّثَكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهَا بَعْدِى فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَنِّى وَإِنْ مُتُّ فَحَدِّثْ بِهَا إِنْ شِئْتَ إِنَّهُ قَدْ سُلِّمَ عَلَىَّ وَاعْلَمْ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.
Mutarrif said: “Imran bin Husain sent for me during his final illness and said: “I am going to tell you some Ahadith by means of which Allah may benefit you after I am gone. If I live, then conceal them, but if I die, then narrate them if you wish. I have been greeted (by the angels). The Prophet of Allah (SAW) combined Hajj and Umrah, then no (words) of the Book of Allah were revealed concerning that, and the Prophet of Allah (SAW) did not forbid it, and it does not matter what anyone else says about it.”
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں وہ وفات پا گئے مجھے بلا کر فرمایا کہ میں تجھ سے کچھ احادیث بیان کروں گا شاید کہ میرے بعد اللہ تعالی اس کے ذریعہ سے تجھے نفع عطا فرمائے تو اگر میں زندہ رہا تو تم ان احادیث کو میرے نام سے ظاہر نہ کرنا اور اگر میں وفات پا گیا تو اگر تو چاہے تو اسے بیان کر دینا کیونکہ مجھ پر فرشتوں کی طرف سے سلام کیا گیا اور میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ نبی ﷺنے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ اکٹھے ادا فرمایا پر اس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی حکم بھی نازل نہیں ہوا اور نہ ہی نبی ﷺنے اس سے منع فرمایا کوئی آدمی اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہے کہہ دے۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ - رضى الله عنه - قَالَ اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.
It was narrated that Imran bin Al-Husain [may Allah be pleased with them] said: “Know that the Messenger of Allah (SAW) combined Hajj and Umrah, then no (words of) the Book of Allah were revealed concerning that, and the Messenger of Allah (SAW) did not forbid it. And it doesn’t matter what anyone else says about it.”
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺنے حج اور عمرہ دونوں ایک ساتھ اکٹھے ادا فرمائے پھر اس کے بارے میں قرآن بھی نازل نہیں ہوا ، اور نہ ہی رسول اللہ ﷺنے ان دونوں حج اور عمرہ کا اکٹھا ادا کرنے سے منع فرمایا تو ایک آدمی نے اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِى عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رضى الله عنه - قَالَ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ. قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.
It was narrated that Imran bin Al-Husain [may Allah be pleased with them] said: “We performed Tamatttu with the Messenger of Allah (SAW) and no Quran (ayat) was revealed concerning that. And it doesn’t matter what anyone else says about it.”
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ حج تمتع کیا اور اس کی ممانعت میں قرآن مجید میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا ، تو ایک آدمی نے اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رضى الله عنه - بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ تَمَتَّعَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ.
This hadith was narrated from Imran bin Husain. He said: “The Prophet (SAW) performed Tamattu and we did Tamattu with him.”
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث کے ساتھ روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے حج تمتع فرمایا اور ہم نے بھی آپ ﷺکے ساتھ حج تمتع کیا۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِى رَجَاءٍ قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِى كِتَابِ اللَّهِ - يَعْنِى مُتْعَةَ الْحَجِّ - وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى مَاتَ. قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَاءَ.
It was narrated that Abu Raja said: “Imran bin Husain said: ‘The verse of Mutah was revealed in the Book of Allah, meaning Tamattu in Hajj. The Messenger of Allah (SAW) told us to do that, then no verse was revealed abrogating the verse of Tamattu, and the Messenger of Allah (SAW) did not forbid it until he died. And after that it doesn’t matter what anyone else says about it.’”
حضرت ابورجاء سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حج میں تمتع کی آیت قرآن مجید میں نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺنے ہمیں اس کا حکم فرمایا ، پھر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی کہ جس نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کردیا ہو اور نہ ہی رسول اللہ ﷺنے اس سے منع فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺاس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ اب اس کے بعد اس بارے میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلَمْ يَقُلْ وَأَمَرَنَا بِهَا.
A similar report (as no. 2981) was narrated from Imran bin Husain, except that he said: “And we did that with the Messenger of Allah (SAW),” and he did not say: “He told us to do that.”
ایک اور سند سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کچھ تغیر کے ساتھ مروی ہے۔
24. بابُ وُجُوبِ الدَّمِ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ وَأَنَّهُ إِذَا عَدِمَهُ لَزِمَهُ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى حَدَّثَنِى عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِى الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ « مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِىَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِى الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ». وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ - حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ - رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ.
Abdullah bin Umar [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) performed Tamattu during the farewell pilgrimage, joining Umrah to Hajj, and he offered a sacrifice. He brought the sacrificial animal with him from Dhul-Hulaifah. The Messenger of Allah (SAW) started by (beginning the Talbiyah) for Umrah, then he (began the Talbiyah) for Hajj. The people also performed Tamattu with the Messenger of Allah (SAW), following Umrah with Hajj.”
Those who offered a sacrifice brought the sacrificial animal with them, and some of them did not offer a sacrifice. When the Messenger of Allah (SAW) came to Makkah He said to the people: ‘Whoever among you has brought a sacrificial animal, nothing that has been forbidden to him (in Ihram) will become permissible until he has completed his Hajj. Whoever among you did not bring a sacrificial animal let him circumambulate the House and go between As-Safa and Al-Marwah, then cut his hair and exit Ihram, then let enter Ihram for Hajj and offer a sacrifice. Whoever cannot find an animal to sacrifice, let him fast for three days during Hajj and seven days if he returns to his family? The Messenger of Allah (SAW) performed Tawaf when he arrived at Makkah. He touched the Corner (the Black Stone) when he began, then he walked rapidly in three of the seven circuits and walked (at a normal pace) in the last four. Then when he had completed Tawaf he prayed two Rakah at the Maqam, then he said Salam and left. He went to As-Safa and performed seven circuits between As-Safa and Al-Marwah. Then he did not regard as permissible anything that had become forbidden to him (in Ihram) until he had completed his Hajj. He offered his sacrifice on the Day of Sacrifice, then he hastened to circumambulate thee House, then he exited Ihram completely. Those people who had brought sacrificial animals with them did what the Messenger of Allah (SAW) did.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے حجۃ الوداع میں حج و عمرہ کو ملاکر تمتع کیا ،اور قربانی دی،اور آپ ﷺقربانی کے جانور ذو الحلیفہ سے اپنے ساتھ لے گئے اور شروع میں رسول اللہ ﷺنے عمرہ کا تلبیہ پڑھا پھر اس کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺکے ساتھ عمرہ کے ساتھ حج کا تمتع کیا اور لوگوں میں سے کسی کے پاس اپنی قربانی نہیں تھی پھر جب رسول اللہ ﷺمکہ تشریف لائے تو آپ ﷺنے لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس قربانی ہو تو وہ ان کاموں میں سے کسی سے حلال نہ ہو جو اس پر حج میں حرام ہوچکی ہے جب تک کہ وہ حج سے فارغ نہ ہو جائے۔ اور تم میں سے جس کے پاس قربانی نہ ہو وہ بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کر کے بال کٹوا لے اور حلال ہو جائے پھر حج کا تلبیہ پڑھے احرام باندھے اور اس کے بعد قربانی کرے اور اگر قربانی نہ پائے تو پھر وہ حج کے دنوں میں تین روزے رکھے جب اپنے گھر کی طرف واپس لوٹے تو سات روزے رکھے۔ الغرض جس وقت رسول اللہ ﷺمکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ ﷺنے طواف کیا اور حجر اسود کو استلام کیا پھر طواف کے سات چکروں میں سے تین چکروں میں رمل فرمایا اور باقی چار چکروں میں اپنی حالت میں چلے پھر جب طواف سے فارغ ہوئے تو بیت اللہ میں مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت پڑھیں پھر سلام پھیرا ، پھر لوٹے اور صفا پر تشریف لائے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے پھر ان چیزوں میں سے کسی کو اپنے اوپر حلال نہیں فرمایا جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا یہاں تک کہ اپنے حج سے فارغ ہوگئے اور قربانی کے دن اپنی قربانی ذبح کی اور پھر مکہ واپس لوٹ آئے اور طواف افاضہ کیا اور ان چیزوں کو جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا حلال کرلیا اور لوگوں میں سے جو لوگ اپنے ساتھ قربانی لائے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺنے کیا۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى حَدَّثَنِى عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى تَمَتُّعِهِ بِالْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِى أَخْبَرَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated from Urwah bin Az-Zubair, that Aishah, the wife of Messenger of Allah (SAW), told him that the Messenger of Allah (SAW) followed Umrah with Hajj (Tamattu). And the people did Tamattu with him, as was informed to me by Salim bin Abdullah from Abdullah [may Allah be pleased with them] from the Messenger of Allah (SAW).
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی ﷺکی زوجہ مطہرہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺسے آپ ﷺکے تمتع بالحج اور آپ ﷺکے ساتھ لوگوں کے تمتع بالحج کی روایت اسی طرح نقل فرمائی جس طرح کہ حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺسے روایت کیا ہے۔
25. بابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لاَ يَتَحَلَّلُ إِلاَّ فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ - رضى الله عنهم - زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ « إِنِّى لَبَّدْتُ رَأْسِى وَقَلَّدْتُ هَدْيِى فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ».
It was narrated from Abdullah bin Umar that Hafsah [may Allah be pleased with her], the wife of the Prophet (SAW), said: “O Messenger of Allah (SAW), why have the people exited Ihram when you have not exited from Ihram following your Umrah?” He said: ‘I have matted my hair together and garlanded my sacrificial animal, so I will not exit Ihram until I offer the sacrifice.’
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبیﷺکی زوجہ مطہرہ عرض کرتی ہیں اے اللہ کے رسول ﷺکیا وجہ ہے کہ لوگ اپنے عمرہ سے حلال ہو گئے اور آپ ﷺاپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے آپ ﷺنے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہے اور اپنی قربانی کو قلادہ ڈالا ہے تو میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ قربانی نہ کرلوں۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ - رضى الله عنهم - قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ بِنَحْوِهِ.
It was narrated that Hafsah [may Allah be pleased with her] said: “I said: ‘O Messenger of Allah (SAW), why have you not exited Ihram?’ … ” a similar report (as no. 2984).
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے احرام کیوں نہیں کھولا؟ ا س کے بعد اسی طرح حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ - رضى الله عنهم - قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ « إِنِّى قَلَّدْتُ هَدْيِى وَلَبَّدْتُ رَأْسِى فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ ».
It was narrated from Ibn Umar that Hafsah [may Allah be pleased with them] said: “I said to Prophet (SAW): ‘Why have the people exited Ihram while you have not exited Ihram following your Umrah?’ He said: ‘I have garlanded my sacrificial animal and matted my hair together, so I will not exit Ihram until I exit Ihram following Hajj.’”
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺسے عرض کیا کہ کیا بات ہے کہ لوگ اپنے عمرہ سے حلال ہو گئے اور آپ ﷺاپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ میں نے اپنی قربانی کو قلادہ ڈالا ہے اور اپنے سر کے بال جمائے ہیں تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہوجاؤں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ « فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ».
It was narrated from Ibn Umar that Hafsah [may Allah be pleased with them] said: “O Messenger of Allah (SAW) …” a Hadith like that of Malik (no. 2984). “So I will not exit Ihram until I have offered my sacrifice.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺپھر آگے مالک کی حدیث کی طرح نقل کیا اور آپ ﷺنے فرمایا: میں اس وقت تک احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ قربانی نہ کر لوں۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِىُّ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَتْنِى حَفْصَةُ - رضى الله عنها - أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ. قَالَتْ حَفْصَةُ فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ قَالَ « إِنِّى لَبَّدْتُ رَأْسِى وَقَلَّدْتُ هَدْيِى فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِى ».
It was narrated from Ibn Umar said: “Hafsah [may Allah be pleased with her] told me that the Prophet (SAW) ordered his wives to exit Ihram during the Farewell Pilgrimage. Hafsah said: ‘I said: “What is keeping you from exiting Ihram too?” He said: “I have matted my hair together and garlanded my sacrificial animal, so I will not exit Ihram until I have offered my sacrifice.”’
ضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ نبی ﷺنے حجۃ الوداع کے سال اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو احرام کھولنےکا حکم دیا ، حضرت حفصہ فرمایت ہیں کہ میں نے عرض کیا آپ ﷺکو کس چیز نے حلال ہونے سے روکا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہے اور اپنی قربانی کو قلادہ ڈال رکھا ہے تو میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ میں اپنی قربانی ذبح نہ کر لوں۔
26. بَابُ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ وَاقْتِصَارِ الْقَارِنِ عَلَى طَوَافٍ وَاحِدٍ وَسَعْيٍ وَاحِدٍ.
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - خَرَجَ فِى الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّى قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ. فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى.
It was narrated from Nafi that that Abdullah bin Umar [may Allah be pleased with them] set out to perform Umrah during the Fitnah of Al-Hajjaj and he said: ‘If we are prevented from reaching the House, we will do what we did with the Messenger of Allah (SAW).’ He set out and entered Ihram for Umrah, and he traveled until he reached Al-Baida, where he turned to his companions and said: ‘They are both the same.’ I ask you to bear witness that I have committed myself to performing Hajj with Umrah. He set out, and when he reached the House, he circumambulated it seven times, and he did not do more than that, believing that it would be sufficient for him, and then he offered the sacrifice.
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتنہ کے دور میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے نکلے اور فرمایا کہ اگرمجھے بیت اللہ جانے سے روک دیا گیا تو ہم اسی طرح کریں گے جس طرح رسول اللہ ﷺنے کیا تھا۔ پھر وہ نکلے اور عمرہ کا احرام باندھا اور چلے یہاں تک کہ جب مقام بیدا ء پر پہنچے تو انہوں نخ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: حج و عمرہ دونوں کا حکم ایک جیسا ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ کی بھی نیت کرلی ہے ، پھر وہ نکلے یہاں تک کہ بیت اللہ آئے تو اس کے سات چکر لگائے اور صفا اور مروہ کے درمیان بھی سات چکر لگائے اس پر کچھ اضافہ نہیں کیا اور اسی کو کافی خیال کیا اور قربانی کی۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِى نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالاَ لاَ يَضُرُّكَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ يُحَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَالَ فَإِنْ حِيلَ بَيْنِى وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا مَعَهُ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ أُشْهِدُكُمْ أَنِّى قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً. فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّى بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ قَالَ إِنْ خُلِّىَ سَبِيلِى قَضَيْتُ عُمْرَتِى وَإِنْ حِيلَ بَيْنِى وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا مَعَهُ. ثُمَّ تَلاَ (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ إِنْ حِيلَ بَيْنِى وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ حِيلَ بَيْنِى وَبَيْنَ الْحَجِّ أُشْهِدُكُمْ أَنِّى قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ. فَانْطَلَقَ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ.
Nafi narrated that Abdullah bin Abdullah and Salim bin Abdullah spoke to Abdullah when Al-Hajjaj came to fight Ibn-Zubair, and said: “it does not matter if you do not do Hajj this year; we are afraid that there will be fighting among the people and you will not be able to reach the House.” He said: “if I am prevented from reaching the House, I will do what the Messenger of Allah (SAW) did when I was with him, when the disbelievers of the Quraish prevented him from reaching the House. I ask you to bear witness that I have committed myself to perform Umrah.”
He set off until he reached Dhul-Hulaifah, where he recited the Talbiyah for Umrah, then he said: “if the way is clear form me, I will complete my Umrah, and if the way is blocked, I will do what the Messenger of Allah (SAW) did when I was with him.” Then he recited: “Indeed in the Messenger of Allah (SAW) you have a good example to follow” … then he traveled in until he reached Zahr- Al- Baida, where he said: “They are both the same. If I am prevented from performing the Umrah, then I will be prevented from performing hajj. I ask you to witness that I have committed myself to performing hajj with Umrah.”
He traveled on and brought a sacrificial animal in Qudaid, then he performed one Tawaf for both around the House and between As-Safa and Al-Marwah, then he did not exit Ihram until he exited Ihram from both on the Day of Sacrifice.
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر نے (اپنے والد)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا جس وقت کہ حجاج حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قتال کے لئے آیا کہ آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا اگر آپ اس سال حج نہ کریں کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ لوگوں کے درمیان قتال واقع نہ ہو جائے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان یہ چیز حائل ہوئی تو میں بھی اسی طرح کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺنے کیا تھا اور میں آپ ﷺکے ساتھ تھا جس وقت کہ کفار قریش آپ ﷺاور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کرلیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ چلے جب ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر میرا راستہ چھوڑ دیا گیا تو میں اپنا عمرہ پورا کرلوں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ پیدا کردی گئی تو میں وہی کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺنے کیا تھا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر یہ آیت تلاوت کی ، (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ) پھر چلے یہاں تک کہ جب بیداء کے مقام پر آئے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ہی حکم ہے اگر میرے اور عمرہ کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تو حج کے درمیان بھی رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کو بھی واجب کرلیا ہے۔ تو آپ نکلے اور مقام قدید سے قربانی خریدی اور حج اور عمرہ دونوں کے لیے بیت اللہ کا ایک طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی پھر ان سے حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ یوم النحر کے دن حج کے ساتھ دونوں سے حلال ہوئے۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَقَالَ فِى آخِرِ الْحَدِيثِ وَكَانَ يَقُولُ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا.
It was narrated that Nafi said: “Ibn Umar wanted to perform hajj when Al-Hajjaj attacked Az-Zubair …” and he quoted a hadith like this (no.2990), and at the end of the hadith he said: “And he used to say: ‘Whoever joins Hajj and Umrah, one Tawaf is sufficient for him. And he should not exit Ihram until he exits Ihram from both.’”
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس وقت حج کا ارادہ فرمایا جس وقت کہ حجاج حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قتال کرنے کے لئے آیا اور اس سے آگے حدیث اسی طرح سے ہے جیسے گزری اور اس کے آخر میں ہے کہ جو حج اور عمرہ دونوں کو اکٹھا کرے گا اس کے لئے ایک طواف کافی ہےاور حلال نہ ہو یہاں تک کہ ان دونوں سے حلال نہ ہو جائے یعنی احرام نہ کھولے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ فَقَالَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِنِّى أُشْهِدُكُمْ أَنِّى قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً. ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ اشْهَدُوا - قَالَ ابْنُ رُمْحٍ أُشْهِدُكُمْ - أَنِّى قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِى. وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الأَوَّلِ. وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated from Nafi that Ibn Umar wanted to perform Hajj in the year when AL-Hajja attacked Ibn Az-Zubair. It was said to him: “There will be fighting among the people and we are afraid that you will be prevented.” He said: “you have a good example to follow in the Messenger of Allah (SAW), I will do what the Messenger of Allah (SAW) did. I asked you to bear witness that I have committed myself to performing Umrah.” Then he set out, and when he was in Zahir Al-Baida he said: “Hajj and Umrah are the same. Bear the witness” - (one of the narrators) Ibn Rumh said: “I ask you to bear witness” – “That I have committed to myself to perform Hajj along with my Umrah.” He slaughtered a sacrificial animal that he had bought in the Qudaid, then he set out, entering the Ihram for both together, until he came to Makkah, where he circumambulated the House and go between As-Safa and Al-Marwah, and he did not do more than that. And he did not offer sacrifice nor shave his head nor cut his hair nor regard as permissible anything that had become forbidden to him (in Ihram) until the Day of Sacrifice came, when he slaughtered the sacrificial animal shaved his head, and he thought that his first Tawaf was sufficient for Hajj and Umrah.
Ibn Umar said: ‘this is what the Messenger of Allah (SAW) did.’
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس سال حجاج نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کیا حج کا ارادہ کیا ان سے کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے امکانات ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ آپ کو حج سے نہ روک دیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ( لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ) رسول اللہ ﷺکے اسوہ حسنہ کی اتباع بہترین چیز ہے میں بھی اسی طرح کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺکیا کرتے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کو واجب کرلیا ہے پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکلے یہاں تک کہ بیداء مقام پر آئے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ کا ایک ہی حکم ہے تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کرلیا ہے اور مقام قدید سے ایک قربانی کا جانور خرید کر ساتھ رکھ لیا اور پھر چلے اور حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھتے تھے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ آئے اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور اس پر کچھ زیادہ نہیں کیا اور نہ قربانی کی اور نہ سر منڈایا اور نہ ہی بال چھوٹے کروائے اور نہ ہی ان چیزوں میں سے کسی چیز سے حلال ہوئے جن کو احرام کی وجہ سے حرام کیا تھا یہاں تک کہ جب قربانی کا دن ہوا تو قربانی کی اور سر منڈایا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وہی پہلے والے طواف کو حج اور عمرہ کے لیے کافی سمجھا اور حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِى إِسْمَاعِيلُ كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ. بِهَذِهِ الْقِصَّةِ. وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- إِلاَّ فِى أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ. قَالَ إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. وَلَمْ يَذْكُرْ فِى آخِرِ الْحَدِيثِ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. كَمَا ذَكَرَهُ اللَّيْثُ.
This narration was narrated from Nafi, from Ibn Umar, but he only mentioned the Prophet (SAW) at the beginning of the Hadith, when it was said to him: “You will be prevented from reaching the House.” He said: “Then I will do what the Messenger of Allah (SAW) did.” And it does not say at the end of the Hadith: “This is what the Messenger of Allah (SAW) did,” as Al-Laith said (in no. 2992).
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ روایت کیا گیا ہے ، اس حدیث کے شروع میں ہے کہ جب حضرت ابن عمر سے کہا گیا کہ لوگ آپ کو روک دیں گے تو انہوں نے کہا : میں اس وقت وہی کروں گا جو رسول اللہ ﷺنے کیا تھا اور اس حدیث کے آخر میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اس طرح کیا تھا۔
27. بابُ فِي الإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلاَلِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِىُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - فِى رِوَايَةِ يَحْيَى - قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ عَوْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا.
It was narrated that Ibn Umar –according to the report of Yahya - said: “We entered Ihram with the Messenger of Allah (SAW) for Hajj only.” According to the report of Ibn Awn: “The Messenger of Allah (SAW) entered Ihram for Hajj only.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ ہم نے حج افراد کا احرام باندھا اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حج افراد کا احرام باندھا۔
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يُلَبِّى بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا. قَالَ بَكْرٌ فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ. فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ أَنَسٌ مَا تَعُدُّونَنَا إِلاَّ صِبْيَانًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ».
It was narrated from Bakr, that Anas [may Allah be pleased with them] said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) reciting the Talbiyah for Hajj and Umrah together.”
Bakr said: “So I narrated that to Ibn Umar, and he said ‘He recited the Talbiyah for Hajj only.’ Then I met Anas and I told him what Ibn Umar had said. Anas said: ‘You are treating us like little children.’ I heard the Messenger of Allah (SAW) say: “Labbayka Umratan wa Hajjan (Here I am, O Allah, for Hajj and Umrah).”
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو حج اورعمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔ بکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے یہ روایت بیان کی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے صرف حج کا تلبیہ پڑھا تھا ، بکر کہتے ہیں کہ میری حضرت انس سے پھر ملاقات ہوئی ، میں نے ان کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول سنایا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم ہمیں بچہ سمجھتے ہو، میں نے خود سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: لبیک عمرۃ و حجا یعنی آپ نے حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ تلبیہ کیا۔
وَحَدَّثَنِى أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِى ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَنَسٌ رضى الله عنه أَنَّهُ رَأَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- جَمَعَ بَيْنَهُمَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ قَالَ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ. فَرَجَعْتُ إِلَى أَنَسٍ فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ كَأَنَّمَا كُنَّا صِبْيَانًا.
It was narrated from Bakr bin Abdullah: “Anas [may Allah be pleased with them] told us that he saw the Messenger of Allah (SAW) joining them” – Hajj and Umrah – he said: “I asked Ibn Umar and he said: ‘We entered Ihram for Hajj.’ I went back to Anas and told him what Ibn Umar had said, and he said ‘it is as if we were little children.’
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا نبی ﷺنے حج اور عمرہ دونوں کو جمع کیا ہے راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے حج کا احرام باندھا تھا۔ راوی کہتا ہے کہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف لوٹا اور میں نے ان کو خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا کہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ گویا ہم بچے تھے۔
28. بَابُ اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الْقُدُومِ لِلحَاجِّ وَالسَّعْيِ بَعَدَهُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنْ وَبَرَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَيَصْلُحُ لِى أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِىَ الْمَوْقِفَ. فَقَالَ نَعَمْ. فَقَالَ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ لاَ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِىَ الْمَوْقِفَ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِىَ الْمَوْقِفَ فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا
It was narrated from that Wabarah said: “I was sitting with Ibn Umar when a man came and said: ‘is it right for me to circumambulate the House before I go to the place of standing (Al-Mawqif)?’ he said: ‘Ibn Abbas says: “Do not circumambulate the House until you have gone to the place of standing.”’ Ibn Umar said: ‘The Messenger of Allah (SAW) performed Hajj, and he circumambulated the House before going to the place of standing; is the word of the Messenger of Allah (SAW) more deserving of the followed, or the word of Ibn Abbas, if you are sincere?’”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ کیا میرے لئے وقوف عرفہ سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرنا درست ہے؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہاں ، اس نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عرفات جانے سے قبل بیت اللہ کا طواف مت کرو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے حج کیا اور عرفات جانے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، تو رسول اللہ ﷺکے فرمان کا زیادہ حق ہے کہ اسے لیا جائے یا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کا اگر تو سچا ہے( تو بتا کہ کس پر عمل کیا جائے)۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ وَبَرَةَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُكَ قَالَ إِنِّى رَأَيْتُ ابْنَ فُلاَنٍ يَكْرَهُهُ وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا. فَقَالَ وَأَيُّنَا - أَوْ أَيُّكُمْ - لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ -صلى الله عليه وسلم- أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلاَنٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا.
It was narrated from that Wabarah said: “A man asked Ibn Umar [may Allah be pleased with them]:’ ‘Should I circumambulate the House once I have entered Ihram for Hajj?’ he said: ‘What is stopping you?’ he said: ‘I saw the son of the so-and-so disapproving of it, but you are dearer to us than him; we see that he is tempted by this world.’ He said: ‘Which of us?’ – or ‘which of you’ –‘is not tempted by this world’ then he said: ‘We saw the Messenger of Allah (SAW) enter Ihram for Hajj, circumambulate the House and perform Sa’i between As-Safa and Al-Marwah. The way of Allah and the way of His Messenger (SAW) are more deserving of being followed the way of so-and-so, if you are sincere.’”
حضرت وبرہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا میں نے حج کا احرام باندھا ہے کیا میں طواف کرسکتا ہوں ؟تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تجھے کس نے روکا ہے؟ وہ آدمی کہنے لگا کہ میں نے فلاں کے بیٹے کو دیکھا کہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہیں آپ تو ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے ان کو دیکھا کہ وہ دنیا کے فتنہ میں مبتلا ہو گئے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم میں سے اور تم میں سے کون ایسا ہے کہ جسے دنیا کے فتنہ میں مبتلا نہ کر دیا گیا ہو پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو اللہ اور اس کے رسول ﷺکی سنت کا فلاں آدمی کی سنت سے زیادہ حق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اگر تو سچا ہے ۔
29. بابُ بَيَانِ أَنَّ الْمُحْرِمِ بِعُمْرَةٍ لَا يَتَحَلَّلُ بِالطَّوَافِ قَبْلَ السَّعْيِ وَأّنَّ الْمُحْرِمَ بِحَجٍّ لَا يَتَحَلَّلُ بِطَوَافٍ بِالْقُدُوْمِ وَكَذَلِكَ الْقَارِنِ
حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِى امْرَأَتَهُ فَقَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.
It was narrated that Amr bin Dinar said: “We asked Ibn Umar about a man who comes to perform Umrah and circumambulates the House but he does not go between As-Safa and Al- Marwah –can have intercourse with his wife?” He said: “The Messenger of Allah (SAW) came and circumambulated the House seven times, and he prayed two Rakah behind the Maqam, and he went between As-Safa and Al-Marwah seven times, and you have the best example in Messenger of Allah (SAW).”
حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ عمرہ کرنے کے لئے آیا اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا جبکہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کی کیا وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس آسکتا ہے؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺتشریف لائے اور آپ ﷺنے بیت اللہ کے سات چکر لگائے یعنی طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا ومروہ کے درمیان سات چکر لگائے یعنی سعی کی اور فرمایا کہ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺکی حیات طیبہ بہترین نمونہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
A hadith similar to that of Ibn Uyaynah (no. 2999) was narrated from Amr bin Dinar, from Ibn Umar [may Allah be pleased with them], from the Prophet (SAW).
ایک اور سند سے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ سَلْ لِى عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لاَ فَإِنْ قَالَ لَكَ لاَ يَحِلُّ. فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَجُلاً يَقُولُ ذَلِكَ - قَالَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لاَ يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلاَّ بِالْحَجِّ. قُلْتُ فَإِنَّ رَجُلاً كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ. قَالَ بِئْسَ مَا قَالَ فَتَصَدَّانِى الرَّجُلُ فَسَأَلَنِى فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ فَقُلْ لَهُ فَإِنَّ رَجُلاً كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ فَعَلاَ ذَلِكَ. قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ لاَ أَدْرِى. قَالَ فَمَا بَالُهُ لاَ يَأْتِينِى بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِى أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا. قُلْتُ لاَ أَدْرِى. قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَتْنِى عَائِشَةُ - رضى الله عنها - أَنَّ أَوَّلَ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلاَ يَسْأَلُونَهُ وَلاَ أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَىْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّى وَخَالَتِى حِينَ تَقْدَمَانِ لاَ تَبْدَآنِ بِشَىْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ لاَ تَحِلاَّنِ وَقَدْ أَخْبَرَتْنِى أُمِّى أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِىَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ.
It was narrated from Muhammad bin Abdur-Rahman that a man from AL-Iraq said to him: “Ask Urwah bin Az-Zubair for me about a man who enters Ihram for Hajj- when he was circumambulated the House, can he exit Ihram of not? If he says to you that he should not exit Ihram, tell him: ‘There is a man who says that is may be done.’” He said: “I asked him, and he said: ‘The one who has entered Ihram for Hajj cannot exit Ihram except by completing Hajj.’ I said: ‘There is a man who says that it may be done.’ He said: ‘what a bad thing he has said.’ Then that man met me and asked me, and I told him. He said: ‘Tell him that a man used to narrate that the Messenger of Allah (SAW) did that, and how Asma and Az-Zubair do that?’”
He said: “I went to him and told him that. He said: ‘Who is that?’ I said: ‘I do not know.’ He said: ‘Why doesn’t he come to me himself and ask me? I think he is an Iraqi.’ I said: ‘I do not know.’ He said: ‘He is lying.’ The Messenger of Allah (SAW) performed Hajj, and Aishah [may Allah be pleased with her] told me that the first thing he did when he came to Makkah was perform Wudu, then he circumambulated the House.’”
‘Then Abu Bakr performed Hajj and the first thing he did was circumambulate the House, and nothing else. Then Umar did likewise, then Uthman performed Hajj and the first thing I saw him do was circumambulate the House and nothing else.’”
“ ‘ Then Muawiyah and Abdullah bin Umar (performed Hajj), then I performed Hajj with Abu Az-Zubair Bin Al-Awwam, and the first thing he did was circumambulate the House, and nothing else. Then I saw the Muhajirun and Ansar doing that, and nothing else. Then the last one whim I saw doing that was Ibn Umar, and he did not alter it to Umrah. Ibn Umar is with them, so why don’t they ask him? No on among those who have passed away started with anything else other than circumambulating the House as soon as they arrived in Makkah, then they did not exit Ihram.’”
“ ‘ I saw my mother and my maternal uncle, when they came (to Makkah), they did not start with anything other than the House, which they circumambulated, then they did not exit Ihram. My mother told me that she and her sister and Az-Zubair and other came to perform Umrah only, and when they has touched the Corner (the Black stone), they exited Ihram. So he was lying when he told you that.”’
حضرت محمد بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عراق والوں میں سے ایک آدمی نے ان سے کہا کہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھو کہ جو حج کا احرام باندھ لے اور جب وہ بیت اللہ کا طواف کرلے تو کیا وہ حلال ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو اگر وہ تجھے کہیں کہ وہ حلال نہیں ہو سکتا تو ان سے کہنا کہ ایک آدمی تو اس طرح کہتا ہے یعنی حلال ہو سکتا ہےمحمد بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں حضرت عروہ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا : جس شخص نے حج کا احرام باندھا وہ حج پورا کیے بغیر احرام نہیں کھول سکتا۔میں نے کہا ایک آدمی کہتا ہے کہ حلال ہوسکتاہے ۔ عروہ نے کہا : اس نے بری بات کہی۔پھر وہ عراقی مجھ سے ملا اور مجھ سے اس نے پوچھا تو میں نے اسے حضرت عروہ کا قول بیان کردیا اس آدمی نے کہا حضرت عروہ سے کہوکہ ایک آدمی کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اس طرح کیا ہے اور حضرت اسماء اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی طرح کیا ہے ۔راوی محمد بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عروہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا انہوں نے فرمایا کہ وہ خود میرے پاس آکر کیوں نہیں پوچھتا ؟ میرے خیال میں وہ عراقی ہے میں نے کہا میں نہیں جانتا حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اس آدمی نے جھوٹ بولا ہے ۔رسول اللہ ﷺنے جو حج کیا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے یہ حدیث بیان کی جس وقت آپ ﷺ مکہ تشریف لائے تو پہلےآپ ﷺنے وضو فرمایا پھر بیت اللہ کا طواف کیا پھر حضرت ابو بکر نے حج کیا انہوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا اور حج کے علاوہ کچھ نہیں کیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی طرح کیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا میں نے ان کو دیکھا کہ انہوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کو طواف کیا اور حج کے علاوہ کچھ نہیں کیا ، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حج کیا پھر میں نے بھی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا اور حج کے علاوہ کچھ نہیں کیا پھر میں نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار بھی اسی طرح کرتے ہیں اور وہ بھی حج کے علاوہ کچھ نہیں کرتے پھر میں نے سب سے آخر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا اور عمرہ کے بعد حج کے احرام کو نہیں کھولا اور یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو عراق والوں کے پاس موجود ہی ہیں یہ ان سے کیوں نہیں پوچھتے اور جتنے اسلاف تھے سب کے سب مکہ میں آتے ہی بیت اللہ کے طواف سے ابتداء کرتے تھے پھر حلال نہیں ہوتے تھے احرام نہیں کھولتے تھے اور میں نے اپنی ماں اور خالہ کو بھی دیکھا کہ جس وقت وہ آئیں تو وہ بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرتی تھیں پھر حلال نہیں ہوتی تھیں ۔ میری ماں نے مجھے بتایا کہ میں اور میری بہن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فلاں فلاں آدمی صرف عمرہ کرنے آئے تھے تو جب رکن کو چھو لیا تو وہ سب حلال ہو گئے۔ اور عراقی نے تجھ سے جو ذکر کیا جھوٹ ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ - رضى الله عنهما - قَالَتْ خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيَحْلِلْ ». فَلَمْ يَكُنْ مَعِى هَدْىٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْىٌ فَلَمْ يَحْلِلْ. قَالَتْ فَلَبِسْتُ ثِيَابِى ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ قُومِى عَنِّى. فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
It was narrated that Asma bint Abi Bakr said: “We set out in Ihram and the Messenger of Allah (SAW) said: ‘Whoever has sacrificial animal with him, let him remain in Ihram, and whoever does not have a sacrificial animal with him, let him exit Ihram.’ I did not have a sacrificial animal with me, so I exited Ihram, but Az-Zubair had a sacrificial animal with him so he did not exit Ihram.”
She said: “I put on my ordinary clothes then I went out and sat beside Az-Zubair. He said: ‘Go away from me.’ I said: ‘Are you afraid that I am going to jump on you!’”
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم احرام باندھے ہوئے نکلے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس کے پاس قربانی کا جانور ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے اور میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا تو میں حلال ہوگئی احرام کھول ڈالا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس قربانی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے کپڑے پہنے پھر میں نکلی اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر بیٹھ گئی تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے کھڑی ہو جا کیونکہ میں احرام کی حالت میں ہوں حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا کہ کیا تمہیں ڈر ہے کہ میں تجھ پر کود پڑوں گی۔
وَحَدَّثَنِى عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِىُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ - رضى الله عنهما - قَالَتْ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ. ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ اسْتَرْخِى عَنِّى اسْتَرْخِى عَنِّى. فَقُلْتُ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
It was narrated that Asma bint Abi Bakr [may Allah be pleased with them] said: “We came with the Messenger of Allah (SAW), having entered Ihram for Hajj.” Then he (a narrator) narrated a hadith similar to that of Ibn Juraij (no. 3002), except that he said: “He said: ‘Keep away from me, keep away from me.’ She said: ‘Are you afraid that I am going to jump on you?’”
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺنے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے آئے پھر ابن جریج کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی سوائے اس کے اس میں سے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے دور ہو جا میں نے کہا کہ مجھ سے ایسے ڈرتے ہو کہ میں تجھ پر کود پڑوں گی۔
وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو عَنْ أَبِى الأَسْوَدِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ - رضى الله عنهما - حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُونِ تَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَا هُنَا وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافُ الْحَقَائِبِ قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِى عَائِشَةُ وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِىِّ بِالْحَجِّ. قَالَ هَارُونُ فِى رِوَايَتِهِ أَنَّ مَوْلَى أَسْمَاءَ. وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ.
It was narrated from Abu Al-Aswad that Abdullah, the freed slave of Asma bint Abi Bakr [may Allah be pleased with them], told him that he used to hear Asma say, every time she passed by Al- Hajun: “May Allah send blessings, an peace upon His Messenger. We stayed here with him, and at that time our burdens were light and our mounts were few, and we had few provisions. I performed Umrah along with my sister Aishah, and Az-Zubair, and others. We had touched the House (i.e., completed the Tawaf and Sa’i) we exited Ihram, then we entered Ihram for Hajj in the evening.”
Harun said in his report: “The freed slave of Asma,” and he did not name him as Abdullah.
حضرت ابواسود سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ جو حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا جب وہ حجون کے مقام سے گزرتیں تو فرماتیں: اللہ اپنے رسول ﷺپر رحمت نازل فرمائے کہ ہم آپ ﷺکے ساتھ یہاں اترے اور ہمارے پاس اس دن بوجھ تھوڑا تھا اور سواریاں کم تھیں اور زادراہ بھی تھوڑا تھا تو میں نے اور میری بہن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فلاں فلاں نے عمرہ کیا تو جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو ہم حلال ہوگئے اور پھر شام کو ہم نے حج کو احرام باندھا، ہارون نے اپنی روایت میں حضرت اسماء کے مولی کاذکر کیا ہے اور عبداللہ کا نام ذکر نہیں کیا۔
30. بابٌ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّىِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِيهَا وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا فَقَالَ هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَخَّصَ فِيهَا فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ فَقَالَتْ قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِيهَا.
Shubah narrated that Muslim Al- Qurri said: “I asked Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] about Mutah (Tamattu) in Hajj, and he said it was allowed, but Ibn Az-Zubair used to say that it was not allowed.” He said: “The mother of Ibn Az-Zubair narrated that the Messenger of Allah (SAW) allowed it, so they entered upon her and asked her. He said: ‘We entered upon her and we saw a larger blind woman who said: The Messenger of Allah (SAW) allowed it. ’”
حضرت مسلم قری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس بارے میں رخصت دے دی جبکہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ موجود ہیں جو بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے تو تم ان کی خدمت میں جاؤ اور ان سے پوچھو تب ہم ان کے پاس گئے تو وہ ایک موٹی اور نابینا عورت تھی ہمارے پوچھنے پر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِى ابْنَ جَعْفَرٍ - جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَفِى حَدِيثِهِ الْمُتْعَةُ وَلَمْ يَقُلْ مُتْعَةُ الْحَجِّ. وَأَمَّا ابْنُ جَعْفَرٍ فَقَالَ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ مُسْلِمٌ لاَ أَدْرِى مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَاءِ.
It was narrated from Shubah with this chain (a hadith similar to no. no. 3005). As for (the narration of) Abdur-Rahman, it mentions Mutah but it does not say “Mutah in Hajj.” As for Ibn Jafar, he said: “Shubah said: ‘Muslim said: “I do not know whether it is Mutah (Tamattu) in Hajj or Mutah with women.”’”
ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے ۔ کچھ راویوں نے متعۃ کا لفظ استعمال کیا ہے اور متعۃ الحج کا لفظ نہیں استعمال کیا۔ اور امام مسلم نے کہا : معلوم نہیں اس سے متعۃ الحج مراد ہے یا متعۃ النساء ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّىُّ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَقُولُ أَهَلَّ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَلاَ مَنْ سَاقَ الْهَدْىَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ فَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْىَ فَلَمْ يَحِلَّ.
Muslim Al-Qurri heard Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] say: “The Prophet (SAW) entered Ihram for Umrah, and his Companions entered Ihram for Hajj. The Prophet (SAW) did not exit Ihram and neither did those of his Companions who had brought sacrificial animals, but the rest of them exited Ihram. Talhah bin Ubaidullah was one of those who had sacrificial animal, so he did not exit Ihram.
مسلم قری بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺنے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ ﷺکے ساتھیوں نے حج کا احرام باندھا ، تو نہ نبی ﷺحلال ہوئے اور نہ ہی آپ ﷺکے وہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو قربانی ساتھ لائے تھے۔اور باقی صحابہ حلال ہوگئے تھے۔اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان حضرات میں سے تھے جن کے ساتھ قربانی تھی اس لئے وہ حلال نہیں ہوئے(احرام نہیں کھولا)۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِى ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْىُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلاَّ.
Shubah narrated it with this chain (a hadith similar to no. 3007), but he said: “Among those who did not have sacrificial animal with them were Talhah bin Ubaidullah and another man, so they exited Ihram.”
ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے ، اس میں یہ ہے کہ طلحہ بن عبید اللہ اور ایک اور شخص کے پاس قربانی نہیں تھی اور وہ دونوں حلال ہوگئے۔