- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First23456Last ›

31. بابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ

وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِى أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِى الأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرً وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ. فَقَدِمَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْحِلِّ قَالَ « الْحِلُّ كُلُّهُ ».

It was narrated that Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said: “They used to think that Umrah during the months of Hajj was one of the greatest evils on the earth, and they would make Muaharram Safar. They would say: ‘When the backs of camel have healed and the tracks of the pilgrims have become erased and Safar is over, Umrah becomes permissible for those who want to perform Umrah. Then the Messenger of Allah (SAW) and his Companions came on the fourth (of Dhul-Hijjah), reciting the Talbiyah for Hajj, and he told them to make it Umrah. This was too hard for them, and they said: ‘O Messenger of Allah, exiting Ihram to what extent?’ he said: ‘Completely.’’”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا زمین پر تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے اور وہ لوگ محرم کو صفر بناتے تھے اور وہ کہتے کہ جب اونٹنیوں کی پشتیں اچھی ہو جائیں اور راستہ سے حاجیوں کے پاؤں کے نشان مٹ جائیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ حلال ہو جاتا ہے۔ نبی ﷺاور آپ ﷺکے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ذو الحجہ کی چار تاریخ کی صبح حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو آپ ﷺنے حکم دیاکہ اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا ڈالو تو انہیں یہ گراں گزرا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم کیسے حلال ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا : تم سارے حلال ہوجاؤ یعنی احرام کھول دو۔


حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ الْجَهْضَمِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَقُولُ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْحَجِّ فَقَدِمَ لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِى الْحِجَّةِ فَصَلَّى الصُّبْحَ وَقَالَ لَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ « مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ».

It was narrated from Abu Al-Aliyah and Al-Bara that he heard Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] say: “The Messenger of Allah (SAW) entered Ihram for Hajj, then he came on the fourth day of Dhul-Hijjah and prayed Subh.” He said: “When he had prayed Subh, he said: ‘Whoever wishes to make it Umrah let him make Umrah.’”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے حج کا احرام باندھا اور ذو الحجہ کی چار تاریخ کی رات گزرنے کے بعد مکہ تشریف لائے اور آپ ﷺنے صبح کی نماز پڑھی اور نماز پڑھنے کے بعد فرمایا : جو شخص اس احرام کو عمرے کا احرام کردینا چاہتا ہے وہ کردے۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ فِى هَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا رَوْحٌ وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ فَقَالاَ كَمَا قَالَ نَصْرٌ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْحَجِّ. وَأَمَّا أَبُو شِهَابٍ فَفِى رِوَايَتِهِ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نُهِلُّ بِالْحَجِّ. وَفِى حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ. خَلاَ الْجَهْضَمِىَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْهُ.

It was narrated from Shubah with this chain (a hadith similar to no. 3010). As for (the narration) Rawh and Yahya bin Kathir, they said what Nasr said: “The Messenger of Allah (SAW) entered Ihram for Hajj.” As for Abu Shihab, in his report it says: “We set out with the Messenger of Allah (SAW), reciting the Talbiyah for Hajj.” In the hadith of both of them it says: “He prayed Subh in Al-Batha,” except for Al-Jahdami, who did not say that.

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے ، روح اور یحییٰ بن کثیر نے نصر کی طرح روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حج کا احرام باندھا اور ابو شہاب کی روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے اس حال میں کہ ہم حج کا احرام باندھے ہوئے تھے ، اور جہضمی کی روایت کے علاوہ باقی تمام روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مقام بطحاء میں صبح کی نماز پڑھی۔


وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِىُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِى الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابُهُ لأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنَ الْعَشْرِ وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً.

It was narrated that Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said: “The Prophet (SAW) and his Companions came when four of the ten days of (Dhul-Hijjah) had passed, reciting the Talbiyah for Hajj, and he told them to make it Umrah. ”

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے ، روح اور یحییٰ بن کثیر نے نصر کی طرح روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حج کا احرام باندھا اور ابو شہاب کی روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے اس حال میں کہ ہم حج کا احرام باندھے ہوئے تھے ، اور جہضمی کی روایت کے علاوہ باقی تمام روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مقام بطحاء میں صبح کی نماز پڑھی۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الصُّبْحَ بِذِى طَوًى وَقَدِمَ لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِى الْحِجَّةِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحَوِّلُوا إِحْرَامَهُمْ بِعُمْرَةٍ إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ.

It was narrated that Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) prayed Subh in Dhu Tuwa, and he came on the fourth day of Dhul-Hijjah. He told his Companions to change their Ihram to that for Umrah, except for those who had sacrificial animals with them.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے صبح کی نماز ذی طوی میں پڑھی اور ذو الحجہ کی چار تاریخ کو مکہ تشریف لائے اور اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حکم فرمایا کہ وہ لوگ اپنے احرام کو عمرہ کا احرام کرلیں سوائے اس کے کہ جس کے پاس قربانی کا جانور ہو۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْىُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِى الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ».

It was narrated that Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘This is an Umrah which we have joined to Hajj. Whoever does not have a sacrificial animal with him, let him exit Ihram completely, for Umrah has been incorporated into Hajj until the Day of Resurrection.’”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے نفع حاصل کیا ہے جس آدمی کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے تو وہ پوری طرح حلال ہو جائے احرام کھول دے کیونکہ عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہوگیا ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِىَّ قَالَ تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِى نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَنِى بِهَا. - قَالَ - ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ فَأَتَانِى آتٍ فِى مَنَامِى فَقَالَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ - قَالَ - فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِى رَأَيْتُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِى الْقَاسِمِ -صلى الله عليه وسلم-.

Muhammad bin Jafar narrated: “Shubah told us: ‘I heard Abu Hamzah Ad-Dubai say: “I performed Tamattu and some people told me not to do that. I went to Ibn Abbas and asked him about that, and he told me to do it.”’” He said: “Then I went to Kabah and slept, and someone came to me in my dream and said: ‘(Your) Umrah is accepted and so is your Hajj.’ I went to Ibn Abbas and told him about what I had seen, and he said: ‘Allahu Akbar, Allahu Akbar! The Sunnah of Abu-Al-Qasim (SAW).’”

حضرت ابوجمرہ ضبعی فرماتے ہیں کہ میں نے تمتع کیا تو لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا، میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے تمتع کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت ابوجمرہ کہتے ہیں کہ پھر میں بیت اللہ کی طرف چلا اور میں سو گیا تو کوئی آنے والا میرے خواب میں آیا اور اس نے کہا کہ عمرہ قبول کرلیا گیا اور حج مبرورہے ۔ حضرت ابوجمرہ کہتے ہیں پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور اس خواب کے بارے میں انہیں خبر دی کہ میں نے دیکھا ہے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ اکبر اللہ اکبر ! ابوالقاسم ﷺ کی یہی سنت ہے۔

32. بابُ إِشْعَارِ الْبَدَنِ وَتَقْلِيْدِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ أَبِى عَدِىٍّ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ - عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الظُّهْرَ بِذِى الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا فِى صَفْحَةِ سَنَامِهَا الأَيْمَنِ وَسَلَتَ الدَّمَ وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ.

It was narrated that Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) prayed Zuhr in Dhul-Hulaifah, then he called for his camel and he marked it on the right side of its hump and the blood flowed, then he garlanded it with two sandals, then he rode his mount. When he reached Al-Baida, he entered Ihram for Hajj.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آپ ﷺنے اپنی اونٹنی کو منگوایا اور اس کے کوہان میں دائیں طرف چیر دیا جس سے خون بہا۔ اور اس کے گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈالا پھر آپ ﷺاپنی سواری پر سوار ہوئے جب آپ ﷺبیداء کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺنے حج کا احرام باندھا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ قَتَادَةَ فِى هَذَا الإِسْنَادِ. بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ. وَلَمْ يَقُلْ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ.

A hadith like that of Shubah was narrated from Qatadah with this chain, except that he said: “When the Prophet of Allah (SAW) came to Dhul-Hulaifah,” and he did not say: ‘He prayed Zuhr there.’

ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے ، صرف اس میں ہے انہوں نے کہا نبی ﷺ جب ذوالحلیفہ آئے اور اس میں ظہر کی نماز پڑھنے کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الأَعْرَجَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى الْهُجَيْمِ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِى قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- وَإِنْ رَغِمْتُمْ.

It was narrated that Qatadah said: “I heard Abu- Hassan Al-Araj say: ‘A man from Banu Al-Hujaim said to Ibn Abbas: “What are these religious rulings (Fatwa) with which you are confusing the people, saying that whoever circumambulates the House may exit Ihram?” He said: “This is the Sunnah of your Prophet (SAW), whether you like it or not.”’ ”

حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوحسان سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ بنی ہجیم کے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ کے اس فتوٰی کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کرلیا وہ حلال ہوگیا کی وجہ سے لوگوں میں کافی شور ہوگیا ہے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : یہ تمہارے نبی ﷺکی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار لگے۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى حَسَّانَ قَالَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذَا الأَمْرَ قَدْ تَفَشَّغَ بِالنَّاسِ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ الطَّوَافُ عُمْرَةٌ. فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- وَإِنْ رَغِمْتُمْ.

It was narrated that Abu Hassan said: “It was said to Ibn Abbas: ‘This idea is appealing to many people, that the one who circumambulates the House may exit Ihram, as Tawaf is Umrah.’ He said: ‘It is the Sunnah of your Prophet (SAW), whether you like it or not.’”

حضرت ابوحسان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ اس مسئلہ کی وجہ سے لوگوں میں کافی شور مچ گیا ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کرلیا وہ حلال ہوگیا اور وہ اس کو عمرہ کرلے،حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے نبی ﷺکی یہ سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہو۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ لاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ وَلاَ غَيْرُ حَاجٍّ إِلاَّ حَلَّ. قُلْتُ لِعَطَاءٍ مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى (ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ) قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ. فَقَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ. وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ.

It was narrated from Ibn Juraij: “Ata informed me: ‘Ibn Abbas used to say: “No one circumambulates the House, whether he is a pilgrim or not, but he may exit Ihram.” I said to Ata: ‘On what basis did he say that?’ He said: ‘On the basis of the words of Allah [the Most High]: … And afterwards they are brought for sacrifice unto the ancient House. He said: “I said: ‘It is after returning from Arafat.’ He said: ‘Ibn Abbas used to say: “It is after returning from Arafat and before, he took that from the command of the Prophet (SAW), when he told them to exit Ihram during the Farewell Pilgrimage.”’”’’”

حضرت عطاء سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے سے حلال ہو جاتا ہے خواہ وہ آدمی حج کرنے والا ہو یا حج کرنے والا نہ ہو (عمرہ کرنے والا ہو) راوی نے عطاء سے کہا کہ وہ کہاں سے یہ بات فرماتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فرمان (ثم محلہا الی البیت العتیق ) پھر قربانی ذبح کرنے کا محل بیت اللہ ہے ۔راوی نے کہا کہ میں نے کہا کہ قربانی تو عرفات سے واپسی کے بعد ہوتی ہے تو انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہی فرماتے تھے کہ عرفات کے بعد یا عرفات سے پہلے انہوں نے یہ مسئلہ نبی ﷺکے اس حکم سے لیا جس وقت کہ نبی ﷺنے حجۃ الوداع میں انہیں احرام کھولنے کا حکم فرمایا۔

33. بابُ جَوَازِ تَقْصِيرِ الْمُعْتَمَرِ مِنْ شَعْرِهِ وَأَنَّهُ لَا يَجِبْ حَلْقُهُ ، وَأَنَّهُ يُسْتَحَبُّ كَوْنِ حَلْقِهِ أَوْ تَقْصِيْرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ.

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لِى مُعَاوِيَةُ أَعَلِمْتَ أَنِّى قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ فَقُلْتُ لَهُ لاَ أَعْلَمُ هَذَا إِلاَّ حُجَّةً عَلَيْكَ.

It was narrated that Tawus said: Ibn Abbas said: ‘Muawiyah said to me: “Do you know that I cut the Hair of the Messenger of Allah (SAW) at the Al-Marwah with the head of an arrow?” I said to him: “All I know is that this is evidence against you.”’

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے مروہ کے پاس نبی ﷺکے سر کے بال تیر کے پیکان سے کاٹے تھے تو میں نے ان سے کہا میں تو نہیں جانتا البتہ اس کے ذمہ دار آپ ہیں۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِى سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ قَالَ قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِشْقَصٍ وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ.

It was narrated from bin Abbas that Muawiyah bin Abi Sufyan told him: “I cut the hair of the Messenger of Allah (SAW) with the head of an arrow while he was atop Al-Marwah,” or “I saw him having his hair cut with the head of an arrow when he was atop Al-Marwah.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں خبر دی فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے بال مروہ پر تیر کے پیکان سے کاٹے یا کہا کہ میں نے آپ ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺمروہ پر تیر کے پیکان سے بال کٹوا رہے ہیں۔


حَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلاَّ مَنْ سَاقَ الْهَدْىَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَرُحْنَا إِلَى مِنًى أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ.

It was narrated that Abu Saeed said: “We set out with the Messenger of Allah (SAW), reciting Talbiyah loudly for Hajj. When we came to Makkah, he told us to make it Umrah, except for those who had brought sacrificial animals with them. On the day of Tarwiyah, we went to Mina, and entered Ihram for Hajj.”

حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے اور ہم بلند آواز سے حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے تو جب ہم مکہ آگئے تو آپ ﷺنے ہمیں حکم دیا کہ جن لوگوں نے قربانی کا جانور روانہ کیا (یعنی ساتھ لایا) ان کے علاوہ باقی لوگ اپنے احرام کو عمرہ کا احرام کردیں پھر جب ترویہ کا دن آٹھ ذو الحجہ ہوا تو ہم منیٰ کی طرف گئے اور ہم نے حج کا احرام باندھا۔


وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ وَعَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ - رضى الله عنهما - قَالاَ قَدِمْنَا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَنَحْنُ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا.

It was narrated that Jabir and Abu Saeed Al-Khudri [may Allah be pleased with them] said: “We came with the Messenger of Allah (SAW) and we were reciting the Talbiyah for Hajj loudly.”

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے دونوں فرماتے ہیں کہ ہم نبیﷺکے ساتھ گئے اس حال میں کہ ہم بلند آواز سے حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے۔


حَدَّثَنِى حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِى الْمُتْعَتَيْنِ فَقَالَ جَابِرٌ فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا.

It was narrated that Abu Nadrah said: “I was with Jabir bin Abdullah, and someone came to him and said: ‘Ibn Abbas and Ibn Az-Zubair differed concerning the two Mutah. Jabir said: ‘They did them both with the Messenger of Allah (SAW), then Umar forbade them to us, and we did not do them again.’’ ”

حضرت ابونضرہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا تو ایک آنے والے نے آکر عرض کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ متعوں کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں تو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ دو مرتبہ تمتع کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں منع فرمایا پھر ہم نے دوبارہ نہیں کیا۔

34. بابُ إِهْلاَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ

حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنِى سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ عَنْ أَنَسٍ - رضى الله عنه - أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « بِمَ أَهْلَلْتَ ». فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ « لَوْلاَ أَنَّ مَعِىَ الْهَدْىَ لأَحْلَلْتُ ».

It was narrated from Anas [may Allah be pleased with them] that Ali came from Yemen and the Prophet (SAW) said to him: “For what did you enter Ihram?” He said: “I entered Ihram for the same as Prophet (SAW).” He said: “Were it not that I have the sacrificial animal with me, I would have exited Ihram.”

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے واپس آئے تو نبی ﷺنے ان سے فرمایا کہ تو نے احرام باندھتے وقت کس کی نیت کی تھی؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں نے وہی نیت کی تھی جو رسول اللہ ﷺکی نیت تھی۔آپ ﷺنے فرمایا اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں حلال ہو جاتا۔


وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ح وَحَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالاَ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِى رِوَايَةِ بَهْزٍ « لَحَلَلْتُ ».

Salim bin Hayyan narrated a similar report (as no. 3026) with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى إِسْحَاقَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ وَحُمَيْدٍ أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسًا - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا « لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ».

It was narrated from Yahya bin Abi Ishaq, Abdul-Aziz bin Suhaib and Humaid that they heard Anas [may Allah be pleased with them] say: “I heard the Messenger of Allah (SAW) entering Ihram for them both and saying: ‘Labbayka umratan wa hajjan, labbayka umratan wa hajjan (here I am for Umrah and Hajj, here I am for Umrah and Hajj).’”

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھ رہے تھے اور فرمارہے تھے لبیک عمرۃ و حجا لبیک عمرۃ و حجا۔


وَحَدَّثَنِيهِ عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى إِسْحَاقَ وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ». وَقَالَ حُمَيْدٌ قَالَ أَنَسٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ ».

Anas said: “I heard the Prophet (SAW) say: ‘Labbayka umratan wa hajjan (here I am for Umrah and Hajj)’” Humaid said: “Anas said: ‘I heard the Messenger of Allah (SAW) say: “Labbayka bi umratin wa hajj (here I am for Umrah and Hajj).”’’

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ (لبیک عمرۃ و حجا) اور راوی حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو (لبیک بعمرۃ و حج) فرماتے ہوئے سنا۔


وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - حَدَّثَنِى الزُّهْرِىُّ عَنْ حَنْظَلَةَ الأَسْلَمِىِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا ».

It was narrated that Hanzalah Al-Aslami said: “I heard Abu Hurairah [may Allah be pleased with them] narrating that the Prophet (SAW) said: ‘By the One in Whose Hand is my soul, the son of Mariam will certainly enter Ihram in the valley of Ar-Rawha, as a pilgrim performing Hajj or Umrah, or both.’”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی ﷺسے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقینا حضرت ابن مریم فج الروحاء میں حج یا عمرہ یا دونوں کا تلبیہ پڑھیں گے۔


وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ قَالَ « وَالَّذِى نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ».

A similar report (as no.3030) was narrated from Ibn Shihab with this chain. He (SAW) said: “By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad.”

ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے اور اس میں یہ ہے کہ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے۔


وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِىٍّ الأَسْلَمِىِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ ». بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.

It was narrated from Hanzalah bin Al-Aslami that he heard Abu Hurairah [may Allah be pleased with them] say: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘By the One in Whose Hand is my soul …’” a similar hadith (as no. 3030).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اس کے بعد باقی روایت حسب سابق ہے۔

35. بابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسًا - رضى الله عنه - أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِى ذِى الْقَعْدَةِ إِلاَّ الَّتِى مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِى ذِى الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِى ذِى الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنْ جِعْرَانَةَ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِى ذِى الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ.

Qatadah narrated that Anas [may Allah be pleased with them] told him, that the Messenger of Allah (SAW) performed Umrah four times, all of them in Dhul-Qadah apart from the one, which he did with his Hajj: The Umrah from Al-Hudaybiyah or at the time of Al-Hudaybiyah, in Dhul-Qadah ; the Umrah following year, in Dhul-Qadah; Umrah from Jiranah, when he divided the spoils of Hunain in Dhul-Qadah; and Umrah with Hajj.

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے چار مرتبہ عمرہ کیا اور یہ سارے کے سارے عمرے ذو القعدہ میں کئے سوائے اس عمرہ کے جو آپ ﷺنے حج کے ساتھ کیا ہے۔ ایک عمرہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ذو القعدہ میں کیا تھا اور دوسرا عمرہ آنے والے سال ذو القعدہ میں کیا اور تیسرا عمرہ جعرانہ سے کیا جہاں آپ ﷺنے غزوہ حنین کا مال غنیمت ذو القعدہ میں تقسیم کیا اور چوتھا عمرہ آپ ﷺنے اپنے حج کے ساتھ کیا ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِى عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ. ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَدَّابٍ.

Qatadah narrated: “I asked Anas: ‘How many times did the Messenger of Allah (SAW) perform Hajj?’ He said: ‘One Hajj, and he performed Umrah four times,’” then he mentioned something like the hadith of Haddab (no.3034).

حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنے حج کئے؟ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک حج اور چار عمرے کئے پھر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ. قَالَ وَحَدَّثَنِى زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَبِمَكَّةَ أُخْرَى.

It was narrated that Abu Ishaq said: “I asked Zaid bin Arqam: ‘How many times did you go out on military campaigns with the Messenger of Allah (SAW)?’ He said: ‘Seventeen.’” He said: “And Zaid bin Arqam told me that the Messenger of Allah (SAW) went out on nineteen campaigns, and after he emigrated he performed Hajj only once the Farewell Pilgrimage.” Abu Ishaq said: “And he performed another while he was in Makkah.”

حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ کتنے غزوات کئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ سترہ غزوات ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے انیس غزوات میں شرکت کی۔ اور آپ ﷺنے ہجرت کے بعد ایک حج کیا اور وہ حجۃ الوداع ہے۔ راوی ابو اسحاق کہتے ہیں کہ مکہ میں آپ ﷺنے رہتے ہوئے ایک اور حج بھی کیا۔


وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يُخْبِرُ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَإِنَّا لَنَسْمَعُ ضَرْبَهَا بِالسِّوَاكِ تَسْتَنُّ - قَالَ - فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَعْتَمَرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فِى رَجَبٍ قَالَ نَعَمْ. فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ أَىْ أُمَّتَاهُ أَلاَ تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ وَمَا يَقُولُ قُلْتُ يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فِى رَجَبٍ. فَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَعَمْرِى مَا اعْتَمَرَ فِى رَجَبٍ وَمَا اعْتَمَرَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلاَّ وَإِنَّهُ لَمَعَهُ. قَالَ وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ فَمَا قَالَ لاَ وَلاَ نَعَمْ. سَكَتَ.

Ata said: “Urwah bin Az-Zubair told me: ‘Ibn Umar and I were leaning on the wall outside the apartment of Aishah, and we could hear the sound of her brushing her teeth. I said: “O Abu Abdur-Rahman, did the Prophet (SAW) perform Umrah in Rajab?”’ He said: “Yes.” I said to Aishah: “O my mother, did you not hear what Abu Abdur-Rahman said?” She said: “What did he say?” I said: “He said that the Prophet (SAW) performed Umrah in Rajab.” She said: “May Allah forgive Abu Abdur-Rahman. By Allah, he did not perform Umrah except that he was with him.”” He said: “Ibn Umar was listening, and he did not deny it or affirm it; he remained silent.”

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ کی طرف ٹیک لگائے ہوئے تھے اور ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سن رہے تھے تو میں نے کہا اے ابو عبدالرحمن! کیا نبی ﷺنے رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں تو میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا اے میری اماں! کیا آپ نہیں سن رہیں کہ ابوعبدالرحمن کیا کہہ رہے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: وہ کیا کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺنے رجب میں عمرہ کیا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اللہ ابوعبدالرحمن کی مغفرت فرمائے مجھے اپنی زندگی کی قسم ! آپ ﷺنے رجب میں عمرہ نہیں کیا اور آپ ﷺنے جو عمرہ بھی کیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺکے ساتھ تھے راوی کہتے تھے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سن رہے تھے تو انہوں نے نہ تو کہا نہیں اور نہ ہی کہا ہاں، بلکہ وہ خاموش رہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ الضُّحَى فِى الْمَسْجِدِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلاَتِهِمْ فَقَالَ بِدْعَةٌ. فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِى رَجَبٍ. فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِى الْحُجْرَةِ. فَقَالَ عُرْوَةُ أَلاَ تَسْمَعِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَتْ وَمَا يَقُولُ قَالَ يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِى رَجَبٍ. فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلاَّ وَهُوَ مَعَهُ وَمَا اعْتَمَرَ فِى رَجَبٍ قَطُّ.

It was narrated that Mujahid said: “Urwah bin Az-Zubair and I entered the Masjid and we saw Abdullah bin Umar sitting beside the apartment of Aishah, and the people were praying Duha in the Masjid. We asked him about their prayer and he said: ‘It is an innovation.’ Urwah said to him: ‘O Abu Abdur-Rahman how many times did the Messenger of Allah (SAW) performed Umrah?’ He said: ‘Four times, one of which was in Rajab.’ We did not want to deny him or reject him what he said. We heard the sound of Aishah brushing her teeth in the apartment, and Urwah said: ‘O Mother of believers, did you not hear what Abu Abdur-Rahman said?’ She said: ‘What did he say?’ He said: ‘He said that the Prophet (SAW) performed Umrah four times, one of which was in Rajab.’ She said: ‘May Allah have mercy on Abu Abdur-Rahman. The Messenger of Allah (SAW) did not perform Umrah except he was with him. And he never performed Umrah in Rajab.’”

حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ مبارک سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے تو ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان لوگوں کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ بدعت ہے پھر حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺنے کتنے عمرے کئے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ چار عمرے کئے اور ان میں سے ایک عمرہ آپ ﷺنے رجب میں کیا تو ہم نے ناپسند سمجھا کہ ہم ان کو جھٹلائیں اور ان کی تردید کریں پھر ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ میں مسواک کرنے کی آواز سنی تو حضرت عروہ کہنے لگے اے ام المومنین! کیا آپ سن رہی ہیں کہ ابوعبدالرحمن کیا کہہ رہے ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ عروہ کہنے لگے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے چار عمرے کئے ہیں اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے رسول اللہ ﷺنے جب بھی کوئی عمرہ کیا وہ ان کے ساتھ تھے اور آپ ﷺنے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔

36. بابُ فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ

وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُنَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا « مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّى مَعَنَا ». قَالَتْ لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلاَّ نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ قَالَ « فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِى فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ».

Ata said: “I heard Abu Abbas say: ‘The Messenger of Allah (SAW) said to a woman from among the Ansar – Ibn Abbas mentioned her name but I forgot it- “What kept you from performing Hajj with us?” she said: “We have only two camels,” and the father of her son and her son had gone for Hajj on camel, “and he left us the other camel so that we could carry water on it.” He said: “When Ramadan comes, go for Umrah, for Umrah in (that month) is equivalent to Hajj.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی ایک عورت سے فرمایا : راوی نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عورت کا نام بھی لیا تھا میں اس کا نام بھول گیا ہوں فرمایا کہ تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس نے منع کیا ہے؟ وہ عورت کہنے لگی کہ ہمارے پانی لانے والے دو اونٹ تھے ایک اونٹ پر میرے لڑکے کا باپ یعنی میرا خاوند اور اس کا بیٹا حج کے لئے گیا ہوا ہے اور دوسرا اونٹ ہمارے لئے چھوڑ دیا تاکہ اس پر ہم پانی لائیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آئے گا تو عمرہ کرلینا کیونکہ رمضان کے مہینہ میں عمرہ کرنے کا اجر حج کے برابر ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِى ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ سِنَانٍ « مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِى حَجَجْتِ مَعَنَا ». قَالَتْ نَاضِحَانِ كَانَا لأَبِى فُلاَنٍ - زَوْجِهَا - حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا وَكَانَ الآخَرُ يَسْقِى عَلَيْهِ غُلاَمُنَا. قَالَ « فَعُمْرَةٌ فِى رَمَضَانَ تَقْضِى حَجَّةً. أَوْ حَجَّةً مَعِى ».

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (SAW) said to a woman from among the Ansar, whose name was Umm Sinan: “What kept you from performing Hajj with us?” She said: “Abu Fulan” – her husband- “has two camels; he and his son went for Hajj on one of them, and our slave uses the other one to bring the water.” He said: “Umrah in Ramadan is equivalent (in reward) to Hajj” – or he said: “to Hajj with me.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے انصار کی ایک عورت جسے ام سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا جاتا ہے فرمایا کہ تجھے کس نے منع کیا کہ تو ہمارے ساتھ حج کرے وہ عرض کرنے لگی کہ ہمارے دو اونٹ تھے ان اونٹوں میں سے ایک پر میرا خاوند اور اس کا بیٹا حج کرنے کے لئے گیا ہوا ہے اور دوسرا اونٹ جس پر ہمارا غلام پانی لاتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔

37. بابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلْدَةٍ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرِ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى.

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (SAW) used to leave via Ash-Shajarah and enter via Al-Muarris. When he entered Makkah, he entered from the upper mountain pass and exited from the lower mountain pass.

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺدرخت والے راستے سے نکلتے تھے اور معرس والے راستہ سے داخل ہوتے تھے اور جب آپ ﷺمکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو بلند گھاٹی سے داخل ہوتے اور جب مکہ مکرمہ سے نکلتے تو نچلے والی گھاٹی سے نکلتے تھے۔


وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَقَالَ فِى رِوَايَةِ زُهَيْرٍ الْعُلْيَا الَّتِى بِالْبَطْحَاءِ.

It was narrated from Ubaidullah with this chain (a hadith similar to no.3040). In the report of Zuhair he said: “The upper mountain pass which is in Al-Batha.”

ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ أَبِى عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا جَاءَ إِلَى مَكَّةَ دَخَلَهَا مِنْ أَعْلاَهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا.

It was narrated from Aishah that when the Messenger of Allah (SAW) came to Makkah, he entered from the upper mountain pass, and departed from the lower mountain pass.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺجب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تھے تو بالائی جانب سے داخل ہوتے تھے اور جب واپس نکلتے تو نیچےکی جانب سے نکلتے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ. قَالَ هِشَامٌ فَكَانَ أَبِى يَدْخُلُ مِنْهُمَا كِلَيْهِمَا وَكَانَ أَبِى أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ.

It was narrated from Aishah that when the Messenger of Allah (SAW) entered from Kada, in the upper part of Makkah, in the Year of the Conquest. Hisham said: “My father used to enter from both, but my father usually entered from Kada.”

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺفتح مکہ والے سال مکہ کے بالائی حصے کداء کی طرف سے داخل ہوئے۔ حضرت ہشام کہتے ہیں کہ میرا والد ان دونوں اطراف سے داخل ہوتے تھے مگر زیادہ تر کداء کی طرف سے ۔

38. بابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طَوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ وَالاِغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا، وَدُخُولِهَا نَهَارًا

حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَاتَ بِذِى طَوًى حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ. قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ. وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ سَعِيدٍ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ. قَالَ يَحْيَى أَوْ قَالَ حَتَّى أَصْبَحَ.

It was narrated from Nafi, from Ibn Umar, that the Messenger of Allah (SAW) stayed overnight in Dhu Tuwa until morning, then he entered Makkah. He said: “Abdullah used to do that.” In the report of (one of the narrators) Ibn Saeed it says: “Until he prayed Subh.” Yahya said: “Or he said: ‘Until morning came.’”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ذی طوی میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر آپ ﷺمکہ مکرمہ میں داخل ہوئے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے اور ابن سعید کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺنے رات گزاری یہاں تک کہ آپ ﷺنے صبح کی نماز پڑھی ۔ یحیی نے کہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لاَ يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلاَّ بَاتَ بِذِى طَوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ نَهَارًا وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ فَعَلَهُ.

It was narrated from Nafi that Ibn Umar did not come to Makkah without staying overnight in Dhu Tuwa, until morning came. Then he would perform Ghusl and then enter Makkah by day, and he mentioned that the Prophet (SAW) did that.

حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی مکہ تشریف لاتے تو ذی طوی میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبج ہوجاتی ، اور غسل کرتے ، پھر دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے اور فرماتے تھے کہ نبی ﷺبھی اسی طرح کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِىُّ حَدَّثَنِى أَنَسٌ - يَعْنِى ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَنْزِلُ بِذِى طَوًى وَيَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّىَ الصُّبْحَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِى الْمَسْجِدِ الَّذِى بُنِىَ ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ.

It was narrated from Nafi that Abdullah told him, that the Messenger of Allah (SAW) used to stop in Dhu Tuwa and stay there overnight until he prayed Subh, when he came to Makkah. The place where the Messenger of Allah (SAW) offered prayers was atop a rough hillock, not in the Masjid which has been built there, but lower than that, on a rough hillock.

حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺجب بھی مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھتے اور رسول اللہ ﷺکی نماز پڑھنے کی جگہ ایک بلند ٹیلے پر ہوتی تھی نہ کہ اس مسجد میں جو کہ بعد میں بنائی گئی لیکن اس سے نیچے ایک بلند ٹیلے پرہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِىُّ حَدَّثَنِى أَنَسٌ - يَعْنِى ابْنَ عِيَاضٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَىِ الْجَبَلِ الَّذِى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ يَجْعَلُ الْمَسْجِدَ الَّذِى بُنِىَ ثَمَّ يَسَارَ الْمَسْجِدِ الَّذِى بِطَرَفِ الأَكَمَةِ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ يَدَعُ مِنَ الأَكَمَةِ عَشْرَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا ثُمَّ يُصَلِّى مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Nafi that the Abdullah told him that the Messenger of Allah (SAW) turned to face two prominent points in the mountain that were between himself and the tall mountain, in the direction of the Kabah, putting the masjid that has been build there to the left of the masjid that is on the edge of the rough hillock. The place where the Messenger of Allah (SAW) offered prayers was lower than that, on the black hillock, ten cubits or so from the rough hillock. Then he (Ibn Umar) would pray facing the two prominent points in the tall mountain, which is between you and the Kabah.

حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺاس لمبے پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کے درمیان کعبہ کی طرف رخ کرتے اور اس مسجد کو جو وہاں بنائی گئی ہے اسے ٹیلے کے بائیں طرف کر دیتے اور رسول اللہ ﷺکی نماز پڑھنے کی جگہ اس سیاہ ٹیلے سے بھی نیچے ہے اس سیاہ ٹیلے سے دس ہاتھ چھوڑ کر یا تقریبا اتنا ہی پھر اس لمبے پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کے سامنے جو تمہارے اور کعبۃ اللہ کے درمیان ہے رخ کر کے نماز پڑھتے تھے اللہ آپ ﷺپر درود وسلام نازل فرمائے۔

39. بابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ وَفِي الطَّوَافِ الأَوَّلِ فِي الْحَجِّ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الأَوَّلَ خَبَّ ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

It was narrated from Ibn Umar that when the Messenger of Allah (SAW) circumambulated the Kabah in the first Tawaf, he would walk rapidly in three circuits, and at a normal place in (the remaining) four. When he went between As-Safa and Al-Marwah, he ran in the bottom of the valley, and Ibn Umar did likewise.

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب بھی بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تھے تو پہلے تین چکروں میں تیز تیز دوڑتے اور باقی چار چکروں میں عام چال چلتے اور جب صفا ومروہ کے درمیان طواف کرتے تو دو سبز نشانوں کے درمیان دوڑ کر چلتے تھے راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا طَافَ فِى الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يَمْشِى أَرْبَعَةً ثُمَّ يُصَلِّى سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.

It was narrated from Nafi, from Ibn Umar, that when the Messenger of Allah (SAW) performed Tawaf in Hajj and Umrah upon his arrival, he would walk rapidly for three circuits of the House, then he would walk normally in (the remaining) four, then he would pray two Rakah, then he would go between As-Safa and Al-Marwah.

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب حج اور عمرہ کا پہلا طواف کرتے تو تین مرتبہ دوڑ کر طواف کرتے ، اور چار مرتبہ معمول کےمطابق چل کر طواف کرتے،پھر دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر صفا مروہ کے درمیان طواف کرتے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ إِذَا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوفُ حِينَ يَقْدَمُ يَخُبُّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ.

Abdullah bin Umar said: “I saw the Messenger of Allah (SAW), when he came to Makkah, when he touched the Black Corner, when he first performed Tawaf upon his arrival, he walked rapidly for (the first) three circuits out of seven.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو حجر اسود کو بوسہ دیتے اور آنے کے بعد سب سے پہلے طواف کے سات چکروں میں سے تین چکروں میں تیز چلتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ الْجُعْفِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا.

It was narrated that Ibn Umar [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) walked rapidly from the Stone to the Stone three times, and walked normally four times.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے حجر اسود سے حجر اسود تک پہلے تین چکروں میں رمل (تیز درڑے) فرمایا اور باقی چار چکروں میں عام چال چلے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَعَلَهُ.

It was narrated from Nafi that Ibn Umar walked rapidly from the Stone to the Stone, and he said that the Messenger of Allah (SAW) had done that.

حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺایسے ہی کیا کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ.

It was narrated that Jabir bin Abdullah [may Allah be pleased with them] said: “I saw the Messenger of Allah (SAW) walking rapidly from the Black Stone until he came back to it (the first) three circuits.”

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل فرمایا یہاں تک کہ اس تک تین چکر پورے ہو گئے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَالِكٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَمَلَ الثَّلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ.

It was narrated that Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah (SAW) walked rapidly in three circuits, from the Stone to Stone.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حجر اسود سے حجر اسود تک پہلے تین چکروں میں رمل فرمایا۔


حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِىُّ عَنْ أَبِى الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشْىَ أَرْبَعَةِ أَطْوَافٍ أَسُنَّةٌ هُوَ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ. قَالَ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا. قَالَ قُلْتُ مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدِمَ مَكَّةَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لاَ يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ. قَالَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَرْمُلُوا ثَلاَثًا وَيَمْشُوا أَرْبَعًا. قَالَ قُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِى عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا أَسُنَّةٌ هُوَ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ. قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا. قَالَ قُلْتُ وَمَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ يَقُولُونَ هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ. حَتَّى خَرَجَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ. قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لاَ يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ وَالْمَشْىُ وَالسَّعْىُ أَفْضَلُ.

It was narrated that Abu At-Tufail said: “I said to Ibn Abbas: ‘Do you think that this walking rapidly around the House for (the first) three circuits and walking normally for four is Sunnah? For your people are saying that it is Sunnah.’ He said: ‘They are telling the truth and they are lying.’ I said: ‘What do you mean, they are telling the truth and they are lying?’ He said: ‘The Messenger of Allah (SAW) came to Makkah and the idolators said: “Muhammad and his Companions will not able to circumambulate the House because they are unfit.” They were jealous. So the Messenger of Allah (SAW) commanded them to walk rapidly in three circuits and to walk normally in four.’ I said to him: ‘Tell us about going between As-Safa and Al-Marwah while riding – is it Sunnah? For your people are saying that it is Sunnah.’ He said: ‘They are telling the truth and they are lying.’ I said: ‘What do you mean, they are telling the truth and they are lying?’ He said: ‘The people had crowded around the Messenger of Allah (SAW), saying: “This is Muhammad, this is Muhammad,” until even the adolescent girls came out of their houses. People were not beaten to make way for the Messenger of Allah (SAW), so when they crowded around him too much, he rode, but walking and walking rapidly are better.’”

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا بیت اللہ کا طواف پہلے کے تین چکروں میں رمل اور چار چکروں میں عام چال چلنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کیا یہ سنت ہے؟ کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ اسے سنت سمجھ رہے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ سچے ہیں اور جھوٹے بھی ہیں، میں نے کہا آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ وہ سچے بھی ہیں اور جھوٹے بھی؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺمکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺاور آپ ﷺکے صحابہ دبلے پتلے ہونے کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور مشرکین آپ ﷺسے حسد کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺنے اپنے صحابہ کو حکم فرمایا کہ وہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کریں یعنی سینہ نکال کر کندھے ہلا ہلا کر تھوڑا تیز چلیں اور باقی چار چکروں میں عام چال چلیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ آپ مجھے صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بارے میں خبر دیں کہ کیا سوار ہو کر کرنا سنت ہے؟ کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ اسے سنت سمجھ رہے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ سچے بھی ہیں اور جھوٹے بھی، راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا آپ کے اس قول کہ سچے بھی ہیں اور جھوٹے بھی ہیں کا کیا مطلب ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺکے پاس بہت سے لوگوں کا ہجوم ہوگیا اور وہ کہنے لگے کہ یہ محمد ہیں یہ محمد ﷺہیں یہاں تک کہ نوجوان عورتیں بھی اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں اور رسول اللہ ﷺاپنے سامنے سے لوگوں کو نہیں ہٹاتے تھے تو جب بہت زیادہ لوگ ہو گئے تو آپ ﷺسوار ہو کر گئے اور پیدل چلنا اور دوڑنا یہ زیادہ بہتر ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِىُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَكَانَ أَهْلُ مَكَّةَ قَوْمَ حَسَدٍ. وَلَمْ يَقُلْ يَحْسُدُونَهُ.

Al-Jurairi narrated a similar report as (no. 3055) with this chain, except that he said: “The people of Makkah were jealous people,” and he did not say: “They were jealous of him.”

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ اہل مکہ حاسد تھے ، راوی نے یہ نہیں کہا کہ مکہ والے آپﷺ سے حسد کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِى حُسَيْنٍ عَنْ أَبِى الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهْىَ سُنَّةٌ. قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا.

It was narrated that Abu at-Tufail said: “I said to Ibn Abbas: ‘Your people are saying that the Messenger of Allah (SAW) walked rapidly around the House and between As-Safa and Al-Marwah, and that it is Sunnah.’ He said: ‘They are telling the truth and they are lying.’”

ابوالطفیل سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺنے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور یہی سنت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا وہ سچے بھی ہیں اور جھوٹے بھی ۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الأَبْجَرِ عَنْ أَبِى الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أُرَانِى قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ فَصِفْهُ لِى. قَالَ قُلْتُ رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ عَلَى نَاقَةٍ وَقَدْ كَثُرَ النَّاسُ عَلَيْهِ. قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِنَّهُمْ كَانُوا لاَ يُدَعُّونَ عَنْهُ وَلاَ يُكْهَرُونَ.

It was narrated that Abu at-Tufail said: “I said to Ibn Abbas: ‘I think I saw the Messenger of Allah (SAW).’ He said: ‘Describe him to me.’ I said: ‘I saw him at Al-Marwah on a camel, and the people had crowded around him. Ibn Abbas said: “That was the Messenger of Allah (SAW). No one pushed people aside from or turned them away from him.”’

ابوالطفیل سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا مجھ سے بیان کر و۔کہ حضرت ابوالطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مروہ کے پاس اونٹنی پر دیکھا اور آپ ﷺکے پاس بہت سے لوگ تھے راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ رسول اللہ ﷺتھے کیونکہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عادت تھی کہ لوگوں کو آپﷺکے پاس سے نہ ہانکتے تھے اور نہ ہٹاتے تھے۔

40. بابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلاَمِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الآخَرَيْنِ

وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ. قَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى وَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً. فَجَلَسُوا مِمَّا يَلِى الْحِجْرَ وَأَمَرَهُمُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَرْمُلُوا ثَلاَثَةَ أَشْوَاطٍ وَيَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ هَؤُلاَءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلاَّ الإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ.

It was narrated that Ibn Abbas said: “The Messenger of Allah (SAW) and his Companions came to Makkah, and they had been weakened by fever of Yathrib. The idolators said: ‘Tomorrow there will come to you people who have been weakened by fever and they have suffered greatly because of it,’ and they (the idolators) sat beside the Hijr. The Prophet (SAW) commanded them (the Companions) to walk rapidly in three circuits, and to walk normally between the two Corners, so that the idolators could see their endurance. The idolators said: ‘These people whom you said had been weakened by fever are stronger than such-and-such.’” Ibn Abbas said: “Nothing prevented him from ordering them to walk rapidly in all the circuits except his kindness towards them.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺاور آپ ﷺکے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مکہ تشریف لائے اس حال میں کہ یثرب(مدینہ)کے بخار نے ان کو کمزور کر دیا تھا۔ تو مشرکین نے کہا کہ کل تمہارے پاس ایسے لوگ آئیں گے جنہیں بخار نے کمزور کردیا ہے اور انہیں اس سے سخت تکلیف ملی ہے مشرکین حطیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور نبی ﷺنے اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ تین چکروں میں رمل کریں اور دو رکنوں کے درمیان عام چال چلیں تاکہ مشرکین کو ان کی طاقت دکھائی جائے تو مشرکین نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تمہارا یہ خیال تھا کہ یہ بخار کی وجہ سے کمزور ہو گئے ہیں یہ تو فلاں فلاں سے زیادہ طاقتور لگتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺنے ان کے تھک جانے کی وجہ سے ان کو تمام چکروں میں رمل کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔


وَحَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَرَمَلَ بِالْبَيْتِ لِيُرِىَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ.

It was narrated that Ibn Abbas said: “The Messenger of Allah (SAW) walked rapidly and walked quickly around the House in order to show the idolators his strength.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے کہ رسول اللہ ﷺنے بیت اللہ کے طواف میں رمل اس لئے کیا تاکہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھائیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلاَّ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ.

It was narrated that Abdullah bin Umar said: “I did not see the Messenger of Allah (SAW) touch any part of the House, apart from the two Yemeni Corners.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دو یمانی رکنوں کے علاوہ بیت اللہ کی کسی چیز کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلاَّ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ وَالَّذِى يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ.

It was narrated from Salim that his father said: “The Messenger of Allah (SAW) did not touch any of the corners of the House except the Black Corner and that which is next to it, in the direction of the houses of the Jumahis.”

حضرت سالم اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺبیت اللہ کے ارکان میں سے صرف حجر اسود اور اس کے ساتھ والے کونے کا استلام (بوسہ دینا یا ہاتھ سے چھونا )کرتے تھے جو بنو جمح کے گھروں کی سمت ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ لاَ يَسْتَلِمُ إِلاَّ الْحَجَرَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِىَ.

It was narrated that Abdullah said: “The Messenger of Allah (SAW) used to touch only the (Black) Stone and the Yemeni Corner.”

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام (بوسہ دینا یا ہاتھ سے چھونا ) کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَا تَرَكْتُ اسْتِلاَمَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ - الْيَمَانِىَ وَالْحَجَرَ مُذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَسْتَلِمُهُمَا فِى شِدَّةٍ وَلاَ رَخَاءٍ.

It was narrated that Ibn Umar said: “I did not stop touching these two Corners, the Yemeni and the Stone, since I saw the Messenger of Allah (SAW) touching them, in hardship and in ease.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں جب سے میں نے رسول اللہ ﷺکو ان دو رکنوں ، رکن یمانی ، اور حجر اسود کو استلام (بوسہ دینا یا ہاتھ سے چھونا ) کرتے ہوئے دیکھا تب سے میں نے کبھی بھی ان دو رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا ، سختی میں اور نہ ہی آسانی میں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى خَالِدٍ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ وَقَالَ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَفْعَلُهُ.

It was narrated that Nafi said: “I saw Ibn Umar touching the Stone with his hand, then he kissed his hand and said: ‘I did not stop this since I saw the Messenger of Allah (SAW) doing it.’”

نافع سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا انہوں نے حجر اسود کا اپنے ہاتھ سے استلام کیا پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کوچوم لیا اور فرمایا جب سے میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ کرتے دیکھا تب سے میں نے اس کو نہیں چھوڑا۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ الْبَكْرِىَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَسْتَلِمُ غَيْرَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ.

Ibn Abbas said: “I did not see the Messenger of Allah (SAW) touch any but the two Yemeni Corners.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی کو استلام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

‹ First23456Last ›