51. باب اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِتَأْخُذُوا عَنِّيْ مَنَاسِكَكُمْ.
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ - قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَرْمِى عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ « لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّى لاَ أَدْرِى لَعَلِّى لاَ أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِى هَذِهِ ».
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir say: “I saw the Prophet (SAW) stoning (Jamrah) while riding on the Day of Sacrifice, and saying ‘Learn your rituals (of Hajj) from me, for I do not know, perhaps I will not perform Hajj again after this Hajj of mine.’”
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا آپ ﷺ یوم نحر کو اپنی سواری پر (جمرہ عقبہ) کو کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید کہ اس حج کے بعد میں حج نہ کر سکوں۔
وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَمَعَهُ بِلاَلٌ وَأُسَامَةُ أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ الشَّمْسِ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَوْلاً كَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ « إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ - حَسِبْتُهَا قَالَتْ - أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ».
Yahya bin Husain narrated from his grandmother Umm Al-Husain, saying: “I performed the farewell Pilgrimage with the Messenger of Allah (SAW) and I saw him when he stoned Jamrat Al-Aqabah on his mount and departed, accompanied by Bilal and Usamah. One of them leading his mount, and the other holding up his garment over the head of the Messenger of Allah (SAW) (to shield him) from the sun. And the Messenger of Allah (SAW) said many things, then I heard him say: ‘Even a slave who is missing some limbs is appointed over you’ – and I think he said: ‘who is black’ – ‘but he leads you according to the Book of Allah, then listen to him and obey.’”
حضرت ام الحصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں تھی ، میں نے دیکھا آپﷺنے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اس حال میں کہ آپ اپنی سواری پر تھے اور آپﷺکے ساتھ حضرت بلال اور اسامہ تھے ان میں سے ایک سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھے اور دوسرے نے رسول اللہ ﷺکے سر پر اپنا کپڑا بلند کیا ہوا تھا تاکہ آپ ﷺگرمی کی شدت سے محفوظ رہیں۔حضرت ام الحصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں پھر میں نے سنا کہ آپ ﷺفرما رہے ہیں کہ اگر ایک حبشی غلام بھی کتاب اللہ سے تمہاری راہنمائی کرے تو اس کے احکام سنو اور اس کی اطاعت کرو۔
وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ قَالَتْ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلاَلاً وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. قَالَ مُسْلِمٌ وَاسْمُ أَبِى عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِى يَزِيدَ وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ وَكِيعٌ وَحَجَّاجٌ الأَعْوَرُ.
It was narrated from Yahya bin Husain that his grandmother Umm Al-Husain said: “I performed the Farewell Pilgrimage with the Messenger of Allah (SAW) and I saw Usamah and Bilal, one of them holding the reins of the Prophet’s camel, and the other holding up his garment to shield him from the heat, until he stoned Jamrat Al-Aqabah.”
حضرت ام الحصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر حج کیا ،میں نے دیکھا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ، ان دونوں میں سے ایک نے نبی ﷺکی اونٹنی کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے نے اپنا کپڑا بلند کیا ہوا تھا تاکہ آپ ﷺگرمی سے محفوظ رہیں یہاں تک کہ آپ ﷺنے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔
52. باب اسْتِحْبَابِ كَوْنِ حَصَى الْجِمَارِ بِقَدْرِ حَصَى الْخَذْفِ
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ.
Jabir bin Abdullah said: “I saw the Prophet (SAW) stoning the Jamrah with something the size of board beans.”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیﷺکو دیکھا آپ ﷺنے ٹھیکریوں کے برابر جمرہ پر کنکریاں ماریں۔
53. بابُ بَيَانِ وَقْتِ اسْتِحْبَابِ الرَّمْيِ
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ.
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (SAW) stoned the Jamrah in the forenoon on the Day of Sacrifice, but after that (he stones it) after the sun had passed its zenith.”
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے قربانی والے دن(دس ذو الحجہ) چاشت کے وقت جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں سورج کے ڈھلنے کے بعد کنکریاں ماریں۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ.
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin Abdullah say: … as similar report (as no 3141).
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ (رمی جمار )اسی طرح کرتے تھے ۔
54. بَابُ بَيَانِ أَنَّ حَصَى الْجِمَارِ سَبْعٌ سَبْعٌ
وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِىُّ - عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الاِسْتِجْمَارُ تَوٌّ وَرَمْىُ الْجِمَارِ تَوٌّ وَالسَّعْىُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ وَالطَّوَافُ تَوٌّ وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ ».
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘The number of stones used for cleaning oneself (after defecating) is odd, and the number of stones used for stoning the Jamrah is odd, and the number of times for Sai between Al-Safa and Al-Marwah is odd, and the number of circuits around the Kabah is odd, so when one of you cleans himself with stones, let him use odd number of stones. ’”
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ڈھیلے سے استنجا طاق مرتبہ ہے ، اور جمرات کی کنکریاں بھی طاق مرتبہ ، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی بھی طاق مرتبہ ، اور طواف بھی طاق مرتبہ ہے۔ اور جب تم میں سے کوئی استنجاکرے تو اسے چاہیے کہ طاق مرتبہ کرے۔
55. باب تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ - مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ - وَالْمُقَصِّرِينَ ».
It was narrated from Nafi that Abdullah said: “The Messenger of Allah (SAW) shaved his head, as did a number of his Companions and some of them cut their hair.”
Abdullah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘May Allah have mercy on those who shaved their heads,’ once or twice, then he said: ‘And those who cut their hair.’”
حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺنےسر منڈایا اور آپ ﷺکے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے ایک جماعت نے بھی سر منڈوایا ، اور کچھ صحابہ نے بال کٹوائے ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ایک یا دو مرتبہ فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والے پر رحم فرمائے ، پھر فرمایا: اور بال کٹوانے والوں پر ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ ». قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ ». قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « وَالْمُقَصِّرِينَ ».
It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (SAW) said: “O Allah, have mercy on those who shaved their heads.” They said: “And those who cut their hair, O Messenger of Allah (SAW)?” He said: “May Allah have mercy on those who shaved their heads.” They said: “And those who cut their hair, O Messenger of Allah (SAW)?” He said: “And those who cut their hair.”
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ۔صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اور بال کٹوانے والوں پر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ». قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ». قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ». قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « وَالْمُقَصِّرِينَ ».
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (SAW) said: “May Allah have mercy on those who shaved their heads.” They said: “And those who cut their hair, O Messenger of Allah (SAW)?” He said: “May Allah have mercy on those who shaved their heads.” They said: “And those who cut their hair, O messenger of Allah (SAW)?” He said: “May Allah have mercy on those who shaved their heads.” They said: “And those who cut their hair, O Messenger of Allah (SAW)?” He said: “And those who cut their hair.”
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ۔صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ۔صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اور بال کٹوانے والوں پر۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِى الْحَدِيثِ فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ « وَالْمُقَصِّرِينَ ».
Ubaidullah narrated it with this chain (a Hadith similar to no.3146) and said in the Hadith: “The fourth time he said, ‘And those who cut their hair.’”
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یہ ہے کہ آپﷺنے چوتھی مرتبہ فرمایا: بال کٹوانے والوں پر بھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ - حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَ « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَ « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَ « وَلِلْمُقَصِّرِينَ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘O Allah, forgive those who shaved their heads.’ They said: ‘O Messenger of Allah (SAW), and those who cut their hair?’ He said: ‘O Allah, forgive those who shaved their heads.’ They said; ‘O Messenger of Allah (SAW), and those who cut their hair?’ He said; ‘O Allah, forgive those who shaved their heads.’ They said: ‘O Messenger of Allah (SAW), and those who cut their hair?’ He said: ‘And those who cut their hair.’”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما۔صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اور بال کٹانے والوں کے لیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما ۔صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اور بال کٹانے والوں کے لیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما ۔صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اور بال کٹانے والوں کے لیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اور بال کٹانے والوں کے لیے۔
وَحَدَّثَنِى أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنِ الْعَلاَءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ.
A Hadith similar to that of Abu Zurah (no.3148) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (SAW).
ایک اور سند سے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ے یہی روایت مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِىُّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلاَثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً. وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
It was narrated from Yahya bin Al-Husain from his grandmother, that she heard the Prophet (SAW) during the Farewell Pilgrimage, supplicate for those who shaved their heads three times, and for those who cut their hair once.
یحییٰ بن حصین کی دادی سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺنے تین مرتبہ حجۃ الوداع میں سر منڈانے والوں کے لیے دعا فرمائی اور ایک مرتبہ بال کٹانے والوں کے لیے دعا فرمائی۔ راوی وکیع نے حجۃ الوداع نہیں کہا۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىُّ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - كِلاَهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَلَقَ رَأْسَهُ فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (SAW) shaved his head during the Farewell Pilgrimage.
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حجۃالوداع میں اپنا سر منڈایا۔
56. بابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ ثُمَّ يَنْحَرَ ثُمَّ يَحْلِقَ وَالاِبْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَتَى مِنًى فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلاَّقِ « خُذْ ». وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ الأَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ.
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (SAW) came to Mina, and he came to the Jamrah and stoned it, then he came to the place where he was staying in Mina and offered his sacrifice, then he said to the barber: “Take,” and he pointed to the right side (of his head) then the left side, then he started giving (the hair) to the people.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺمنیٰ تشریف لائے تو پہلے جمرہ عقبہ پر گئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر آپ ﷺمنی میں اپنی قیام گاہ کی طرف تشریف لائے اور قربانی کی، پھر حجام سےسر مونڈنے کو کہا ، اور اس کو دائیں جانب کی طرف اشارہ فرمایا پھر بائیں طرف اشارہ فرمایا ، پھر آپ ﷺنے وہ بال لوگوں کو عطاء فرمائے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ فِى رِوَايَتِهِ لِلْحَلاَّقِ « هَا ». وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الأَيْمَنِ هَكَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ - قَالَ - ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلاَّقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ. وَأَمَّا فِى رِوَايَةِ أَبِى كُرَيْبٍ قَالَ فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ بِالأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ « هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ ». فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِى طَلْحَةَ.
It was narrated from Hisham with this chain (a Hadith similar to no.3152). Abu Bakr said in this report: “He (SAW) said to the barber: ‘Here,’ and pointed with his hand to the right side like this, and he distributed his hair among those who were near to him. Then he gestured to the barber and to the left side, and he shaved him and he gave it to Umm Sulaim.”
In the report of Abu Kuraib it says: “He (SAW) started with the right side, and distributed it, one or two hairs at time, among the people. Then he gestured to the left side and did likewise, then he said: ‘Is Abu Talhah here?’ and he gave it to Abu Talhah. ”
ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے اور اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺنے حجام کو اپنے ہاتھ سے دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہا ں سے ،پھر آپﷺ نے ان بالوں کو جو آپ کے قریب تھے تقسیم فرمائے۔ پھر آپﷺنے حجام کو بائیں جانب اشارہ کیا ، اس نے مونڈا، تو آپ ﷺنے وہ بال حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطاء فرمائے ۔ اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺنے دائیں طرف سے شروع فرمایا اور ایک ایک ، دو دو بال لوگوں میں درمیان تقسیم فرمائے پھر آپ ﷺنے بائیں طرف سے بھی اسی طرح کیا، پھر آپ ﷺنے فرمایا یہاں ابوطلحہ ہیں تو وہ بال ابوطلحہ کو عطاء فرما دئیے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ فَحَلَقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ ثُمَّ قَالَ « احْلِقِ الشِّقَّ الآخَرَ ». فَقَالَ « أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ ». فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (SAW) stoned the Jamrat Al-Aqabah, then he went to the sacrificial camels and slaughtered them, and the cupper was sitting there. He pointed to his head with his hand, and he shaved the right side and distributed it among those who were near him. Then he said: ‘Shave the other side.’ And he said: ‘Where is Abu Talhah?’ and he gave it to him.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر آپ ﷺاونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو ذبح کیا اور حجام بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ﷺنے اپنے ہاتھ سے اپنے سر کی طرف اشارہ فرمایا ، اس نے دائیں جانب سے سر مونڈا اور جو آپ ﷺکے قریب تھے ان میں وہ بال تقسیم فرما دیے، پھر آپ ﷺنے فرمایا کہ دوسری طرف سے مونڈ دو اور فرمایا:ابوطلحہ کہاں ہے؟ اور وہ بال ان کو دے دیے۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِىَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الأَيْسَرَ فَقَالَ « احْلِقْ ». فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ « اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ».
It was narrated that Anas bin Malik said: “When the Messenger of Allah (SAW) stoned the Jamrah and offered his sacrifice and shaved his head, he showed his right side to the barber and he shaved it. Then he called Abu Talhah Al-Ansari and gave it to him. Then he showed him the left side and said: ‘Shave it.’ So he shaved it, and he gave it to Abu Talhah and said: ‘Distribute it among the people.’”
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺنے جمرہ کو کنکریاں ماریں اور اونٹوں کو نحر کیا تو آپ ﷺنے اپنی دائیں جانب حجام کے سامنے کی تو اس نے وہ مونڈ دی پھر آپ ﷺنے حضرت ابوطلحہ انصاری کو بلوایا اور انہیں یہ بال عطا فرمائے پھر آپ ﷺنے اپنی بائیں جانب حجام کے سامنے کی اور اسے فرمایا کہ اسے مونڈ دے تو اس نے مونڈ دیئے پھر آپ ﷺنے یہ بال حضرت ابوطلحہ کو دے کر فرمایا کہ ان کو لوگوں میں تقسیم کر دو۔
57. بَابُ جَوَازِ تَقْدِيْمِ الذِّبْحِ عَلَى الرَّمْيِ وَالْحَلْقِ عَلَى الذِّبْحِ وَعَلَى الرَمْيِ، وَتَقْدِيْمِ الطَّوَافِ عَلَيْهَا كُلِّهَا.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ. فَقَالَ « اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ ». ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ فَقَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ شَىْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ « افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ».
It was narrated the Abdullah bin Amr bin Al-As said: “During the Farewell Pilgrimage, the Messenger of Allah (SAW) stopped in Mina and the people asked him questions. A man came and said: ‘O Messenger of Allah, I didn’t realize and I shaved my head before offering the sacrifice. ’ He said: ‘Offer your sacrifice, it doesn’t matter.’ Then another man came and said: ‘O Messenger of Allah, I didn’t realize and offered my sacrifice before stoning the Jamrah.’ He said: ‘Stone it, it doesn’t matter.’”He said: “The Messenger of Allah (SAW) was not asked about anything that was done sooner or later, but he said: ‘Do it, it doesn’t matter.’”
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺحجۃ الوداع میں منی میں ٹھہرے تاکہ لوگ آپ ﷺسے مسائل پوچھ سکیں تو ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے آپ ﷺنے فرمایا: کوئی حرج نہیں اب قربانی کرلو پھر ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی تو آپ ﷺنے فرمایا:کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے جس عمل کو بھی آگے پیچھے کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺنے یہی فرمایا:کوئی حرج نہیں اب کرلو۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِىُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى رَاحِلَتِهِ فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْىَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْىِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ إِنِّى لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ. فَيَقُولُ « انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا إِلاَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « افْعَلُوا ذَلِكَ وَلاَ حَرَجَ ».
Abdullah bin Amr bin Al-As said: “The Messenger of Allah (SAW) stopped on his mount, and the people started to ask him questions. One of them said: ‘O Messenger of Allah, I did not realize that the stoning comes before the sacrifice, and I offered my sacrifice before stoning the Jamrah.’ The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Stone it, it doesn’t matter.’ Another said: ‘I did not realize that the sacrifice comes before shaving, and I shaved (my head) before I offered my sacrifice.’ He said: ‘Offer your sacrifice, it doesn’t matter.’ I did not hear him being asked about anything that day where a man had forgotten or was unaware of which things came before which ,and so on, but the Messenger of Allah (SAW) said: ‘Do that, and it doesn’t matter.’”
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺاپنی سواری پر کھڑے ہوئے تھے لوگوں نے آپ ﷺسے پوچھنا شروع کردیا ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یا رسول اللہ! مجھے معلوم نہیں تھا کہ کنکریاں قربانی سے پہلے ماری جاتی ہیں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اب کنکریاں مار لو کوئی حرج نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے آدمی نے آکر کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ قربانی سر منڈانے سے پہلے کی جاتی ہے اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے آپ ﷺنے فرمایا : قربانی اب کرلو کوئی حرج نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس دن آپ ﷺسے کسی بھی کام کو آگے پیچھے نسیان یا لاعلمی کی بناء پر کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺنے ان تمام کاموں کے بارے میں فرمایا: اب کرلو کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ. بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِىِّ إِلَى آخِرِهِ.
A Hadith similar to that of Yunus (no. 3157) was narrated from Az-Zuhri.
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ حَدَّثَنِى عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ قَالَ « افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ».
Abdullah bin Amr bin Al-As narrated that while the Prophet (SAW) was delivering the Khutbah on the Day of Sacrifice, a man stood up and said: “I did not know, O Messenger of Allah (SAW), that such-and-such comes before such-and-such.” Then another came and said: “O Messenger of Allah (SAW), I thought that such-and-such came before such-and-such” - referring to these three (stoning, sacrificing and shaving). He said: ‘’Do it and it doesn’t matter.”
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺہمارے سامنے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے معلوم نہیں تھا کہ فلاں فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے ہے پھر ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺمیرا خیال ہے کہ فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے ہے ان تینوں کو آپ ﷺنے فرمایا: اب کرلو کوئی حرج نہیں۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ح وَحَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِىُّ حَدَّثَنِى أَبِى جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَكْرٍ فَكَرِوَايَةِ عِيسَى إِلاَّ قَوْلَهُ لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ. فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ وَأَمَّا يَحْيَى الأُمَوِىُّ فَفِى رِوَايَتِهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ.
It was narrated from Ibn Juraij with this chain (a Hadith similar to no. 3159). The report of Abu Bakr is like the report of Isa (no. 3159), apart from the phrase: “referring to these three, ” which he does not mention. In the report of Yahya Al-Umawi it says: “I shaved my head before offering the sacrifice, and I offered the sacrifice before stoning (the Jamrah) and so on.”
ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے صرف اس میں تین آدمیوں کا ذکر نہیں ہے اور یحیی اموی کی روایت میں ہے کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈالیا یا میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ « فَاذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ».
It was narrated from Abdullah bin Amr said: “A man came to the Prophet (SAW) and said: ‘I shaved (my head) before offering the sacrifice.’ He said: ‘Offer your sacrifice, it doesn’t matter.’ He said: ‘I offered the sacrifice before stoning (the Jamrah.)’ He said: ‘Stone it, it doesn’t matter.’”
حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺکے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈالیا ہے آپ ﷺنے فرمایا: اب قربانی کرلو کوئی حرج نہیں ۔اسی طرح ایک اور آدمی نے آکر عرض کیا میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ہے آپ ﷺنے فرمایا: اب کنکریاں مار لو کوئی حرج نہیں۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى نَاقَةٍ بِمِنًى فَجَاءَهُ رَجُلٌ. بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
It was narrated from Az-Zuhri with this chain: “I saw the Messenger of Allah (SAW) on a camel in Mina, and a man came to him…” a Hadith like that of Ibn Uyaynah (no. 3161).
ایک اور سند میں اسی طرح مروی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺمنی میں اپنی اونٹنی پر سوار ہیں ، آپ ﷺکی خدمت میں ایک شخص آیا ، اس کے بعد باقی حدیث اسی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. فَقَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ » وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّى ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّى أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ « افْعَلُوا وَلاَ حَرَجَ ».
It was narrated from Abdullah bin Amr bin Al-As said: “I heard the Messenger of Allah (SAW), when a man came to him on the Day of Sacrifice, when he was standing by the Jamrah and said: ‘O Messenger of Allah (SAW), I shaved (my head) before stoning (the Jamrah.)’ He said: ‘Stone it, it doesn’t matter.’ Another man came to him and said: ‘I offered the sacrifice before stoning (the Jamrah).’ He said: ‘Stone it, it doesn’t matter.’ Another man came to him and said: ‘I went to Kabah (and did Tawaf Al-Ifadah) before stoning (the Jamrah).’ He said: ‘Stone it, it doesn’t matter.’”
He said: “I did not see him being asked about anything that day but he said: ‘Do it, it doesn’t matter.’”
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ ایک آدمی قربانی کے دن آیا اور آپ ﷺجمرہ کے پاس کھڑے تھے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈالیا ہے آپ ﷺنے فرمایا: اب کنکریاں مار لو کوئی حرج نہیں ۔ اور ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ہے آپ ﷺنے فرمایا : کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو۔اسی طرح ایک تیسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے طواف افاضہ کرلیا ہے آپ ﷺنے فرمایا : کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو۔راوی کہتے ہیں کہ اس دن آپ ﷺسے جس چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺنے یہی فرمایا: کوئی حرج نہیں اب کرلو ۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قِيلَ لَهُ فِى الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْىِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ « لاَ حَرَجَ ».
It was narrated from Ibn Abbas that it was said to the Prophet (SAW) concerning the sacrifice, shaving, and stoning, that people had done one before the other, or, one after the other, and he said: ‘It doesn’t matter.’
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺسے ذبح اور سر منڈانے اور کنکریاں مارنے کے بارے میں تقدیم و تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔
58. باب اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الإِفَاضَةِ يَوْمَ النَّحْرِ
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى. قَالَ نَافِعٌ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّى الظُّهْرَ بِمِنًى وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَعَلَهُ.
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (SAW) performed Tawaf Al-Ifadah on the Day of Sacrifice, then he went back and prayed Zuhr in Mina.
Nafi said: “Ibn Umar used to perform Tawaf Al-Ifadah on the Day of Sacrifice, that he went back and prayed Zuhr in Mina, and he said that the Prophet (SAW) had done that.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتےہیں کہ نبی ﷺنے قربانی والے دن طواف افاضہ کیا پھر آپ ﷺلوٹے اور منی میں ظہر کی نماز پڑھی۔حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی قربانی والے دن طواف افاضہ کرتے تھے پھر لوٹتے اور منی میں ظہر کی نماز پڑھتے اور فرماتے کہ نبی ﷺنے بھی اسی طرح کیا ہے۔
59. بابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَصَلاَةُ الظهر وَمَا بَعْدَهَا بِهِ
حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِى عَنْ شَىْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى. قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالأَبْطَحِ - ثُمَّ قَالَ - افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ.
It was narrated that Abdul-Aziz bin Rufai said: “I asked Anas bin Malik: ‘Tell me something you know about the Messenger of Allah (SAW): Where did he pray Zuhr on the day of At-Tarwiyah?’ He said: ‘In Mina.’ I said: ‘And where did he pray Asr on the day of departure from Mina?’ He said: ‘In Al-Abtah.’ Then he said: ‘Do what your leaders do.’”
حضرت عبدالعزیز بن رفیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ترویہ کے دن (آٹھ ذو الحجہ) رسول اللہ ﷺنے ظہر کی نماز کہاں پڑھی؟ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: منیٰ میں۔ میں نے عرض کیا روانگی والے دن عصر کی نماز آپ ﷺنے کہاں پڑھی؟ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : وادی ابطح میں۔ پھر فرمایا : تم وہی کرو جو تمہارے حکمران کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الأَبْطَحَ.
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (SAW), Abu Bakr and Umar used to stop in Al-Abtah.
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺاور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابطح کی وادی میں اترا کرتے تھے۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً وَكَانَ يُصَلِّى الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ. قَالَ نَافِعٌ قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ.
It was narrated from Nafi that Ibn Umar used to think that (stopping in) Al-Hasbah was Sunnah, and he used to pray Zuhr on the day of departure from Mina in Al-Hasbah.
Nafi said: The Messenger of Allah (SAW) and the caliphs after him stopped in Al-Hasbah.
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وادی محصب میں ٹھہرنے کو سنت خیال کرتے تھے اور کوچ کے دن ظہر کی نماز وادی محصب میں پڑھا کرتے تھے حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺاور آپ ﷺکے بعد آپ ﷺکے خلفاء وادی محصب میں جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نُزُولُ الأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ.
It was narrated that Aishah said: “Stopping in Al-Abtah is not Sunnah, rather the Messenger of Allah (SAW) stopped there because it was easier for him to depart (for Al-Madinah) from there.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ وادی محصب میں اترنا کوئی سنت نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺاس جگہ اس لئے ٹھہرے کہ مکہ جاتے وقت آپ ﷺکے لئے وہاں سے نکلنا آسان تھا۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ح وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
A similar report (as no.3169) was narrated from Hisham with this chain.
ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الأَبْطَحَ. قَالَ الزُّهْرِىُّ وَأَخْبَرَنِى عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ وَقَالَتْ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلاً أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ.
It was narrated from Salim that Abu Bakr, Umar and Ibn Umar used to halt in Al-Abtah.
Az-Zuhri said: “Urwah informed me from Aishah, that she did not do that, and she said: ‘The Messenger of Allah (SAW) only halted there because it was a place from which it was easy to depart.’”
سالم سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وادی ابطح میں اترے تھے۔ عروہ نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہاں نہیں جاتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺاس جگہ صرف اس لئے اترے کہ وہ جگہ واپس روانگی کے لئے زیادہ مناسب تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَىْءٍ إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated that Ibn Abbas said: “Stopping at Al-Muhassab is not important, it is just a place where the Messenger of Allah (SAW) halted.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ وادی محصب (میں جانا حج کی مقررہ عبادت )کوئی نہیں ہے وہ تو ایک منزل ہے جہاں رسول اللہ ﷺٹھہرے تھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ قَالَ أَبُو رَافِعٍ لَمْ يَأْمُرْنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ أَنْزِلَ الأَبْطَحَ حِينَ خَرَجَ مِنْ مِنًى وَلَكِنِّى جِئْتُ فَضَرَبْتُ فِيهِ قُبَّتَهُ فَجَاءَ فَنَزَلَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِى رِوَايَةِ صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ. وَفِى رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ قَالَ عَنْ أَبِى رَافِعٍ وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated that Sulaiman bin Yasar said: “Abu Rafi said: ‘The Messenger of Allah (SAW) did not tell me to stop in Al-Abtah when he departed from Mina, but I went there and set up his tent, and he came and halted.’”
Abu Bakr said in the report of Salih: “I heard Sulaiman bin Yasar (say)” – and in the report of Qutaibah it says: “From Abu Rafi – and he was in charge of the luggage of the Prophet (SAW).”
سلیمان بن یسار سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابورافع نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے ابطح میں اترنے کا حکم نہیں دیا جب آپ منی سے نکلے ، مگر میں آیا اور میں نے وہاں خیمہ لگادیا اور آپﷺ وہاں آکر ٹھہر گئے ۔اور ایک روایت میں ہے کہ ابو رافع رسول اللہ ﷺکے سامان پر مقرر تھے۔
حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِى كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (SAW) said: “We will halt tomorrow, if Allah wills, in Khaif of Abu Kinanah, where they (the disbelievers) swore an oath of disbelief.”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو کل ہم خیف بنی کنانہ میں ٹھہریں گے جہاں کافروں نے آپس میں کفر پر قسمیں کھائی تھیں۔
حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِى الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى الزُّهْرِىُّ حَدَّثَنِى أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَحْنُ بِمِنًى « نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِى كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ». وَذَلِكَ إِنَّ قُرَيْشًا وَبَنِى كِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِى هَاشِمٍ وَبَنِى الْمُطَّلِبِ أَنْ لاَ يُنَاكِحُوهُمْ وَلاَ يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَعْنِى بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ.
Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) said to us, while we were in Mina- ‘Tomorrow we will halt at Khaif of Banu Kinanah, where they (the disbelievers) swore an oath of disbelief.’”
That was when the Quraish of Banu Kinanah swore a pledge against Banu Hashim and Banu Al-Muttalib, vowing not to intermarry with them nor engage in any transections with them until they handed the Messenger of Allah (SAW) over to them.” What was meant by that was Al-Muhassab.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں فرمایا اس حال میں کہ ہم منی میں تھے کہ کل ہم خیف بنی کنانہ میں اترنے والے ہیں جس جگہ کافروں نے کفر پر قسمیں کھائیں تھیں اور یہ کہ قریش اور بنوکنانہ نے قسم کھائی کہ وہ بنوہاشم اور بنو مطلب کے ساتھ نہ نکاح کریں گے اور نہ ہی ان کے ساتھ خرید وفروخت کریں گے جب تک کہ وہ رسول اللہ ﷺکو ان کے سپرد نہ کر دیں یعنی وہ جگہ وادی محصب تھی۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِى وَرْقَاءُ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْزِلُنَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ-الْخَيْفُ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (SAW) said: “Our halting place, if Allah wills, when Allah grants us victory, will be Al-Khaif, where they (the disbelievers) swore an oath of disbelief.”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: اگر اللہ نے فتح دی تو ہماری منزل انشاء اللہ خیف ہوگی جہاں کفار نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں۔
60. بابُ وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لأَهْلِ السِّقَايَةِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِىَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ.
It was narrated from Ibn Umar, that Al-Abbas bin Abdul-Muttalib asked the Messenger of Allah (SAW) for the permission to stay overnight in Makkah during the days of Mina, because he was a supplier of water , and he gave him permission.
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے منی کی راتوں میں آب زمزم پلانے کے لیے مکہ میں قیام کی اجازت طلب کی تو آپﷺنے اجازت دے دی۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ كِلاَهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 3177) was narrated from Ubaidullah bin Umar.
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث روایت کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِىِّ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَأَتَاهُ أَعْرَابِىٌّ فَقَالَ مَا لِى أَرَى بَنِى عَمِّكُمْ يَسْقُونَ الْعَسَلَ وَاللَّبَنَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ أَمِنْ حَاجَةٍ بِكُمْ أَمْ مِنْ بُخْلٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ وَلاَ بُخْلٍ قَدِمَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ فَاسْتَسْقَى فَأَتَيْنَاهُ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ فَشَرِبَ وَسَقَى فَضْلَهُ أُسَامَةَ وَقَالَ « أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ كَذَا فَاصْنَعُوا ». فَلاَ نُرِيدُ تَغْيِيرَ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated that Bakr bin Abdullah Al-Muzani said: “I was sitting with Ibn Abbas at the Kabah, and a Bedouin came to him and said: ‘Why do I see the sons of your paternal uncle supplying honey and milk, and you supply Nabidh? Is it because of poverty on your part, or because of miserliness?’ Ibn Abbas said: ‘Praise be to Allah, we are neither poor nor miserly. The Prophet (SAW) came on his mount, with Usamah behind him, and asked for something to drink. We gave him a vessel of Nabidh, and he drank it, and he gave his remaining to Usamah to drink. And he said (to us): “You have done good and have done well. Carry on doing that.” And we do not want to change what the Messenger of Allah (SAW) commanded us to do.’”
بکر بن عبداللہ مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ میں خانہ کعبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ ﷺکے چچازاد تو شہد اور دودھ پلاتے ہیں اور آپ نبیذ (یعنی کھجوروں کا پانی) پلاتے ہیں؟ کیا اس کی وجہ غربت یا بخل؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: الحمد للہ نہ تو ہم غریب ہیں اور نہ بخیل، بات دراصل یہ ہے کہ نبی ﷺاپنی سواری پر تشریف لائے اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سواری پر آپ ﷺکے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺنے پانی طلب کیا تو ہم نے آپ ﷺکی خدمت میں نبیذ کا برتن پیش کیا تو آپ ﷺنے وہ پیا اور اس میں سے بچا ہوا حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیا اور آپ ﷺنے فرمایا کہ تم نے اچھا اور خوب کام کیا تم اسی طرح کرو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں جو حکم دیا ہے ہم اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہتے۔