61. بابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدَايَا وَجُلُوْدِهَا وَجَلَالِهَا وَأَن لَّا يُعْطِيْ الْجَزَّارَ مِنْهَا شَيْئًا وَجَوَازُ الْاِسْتِنَابَةِ فِي الْقِيَامِ عَلَيْهَا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ عَلِىٍّ قَالَ أَمَرَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لاَ أُعْطِىَ الْجَزَّارَ مِنْهَا قَالَ « نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا ».
It was narrated that Ali said: “The Messenger of Allah (SAW) commanded me to take care of his sacrificial animals, and to give their meat, skins and blankets in charity, and not to give the butcher any of it (as wages). He said: ‘We will pay him ourselves.’”
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے حکم دیا کہ میں قربانی کے اونٹ پر کھڑا رہوں اوران کے گوشت، کھالوں اور جھولوں(وہ چادر جو اونٹ کی پشت پر ڈالی جاتی ہے ) کو صدقہ کردوں اور قصاب کی اجرت اس میں سے نہ دوں۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ قصاب کو مزدوری ہم اپنے پاس سے دیں گے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 3180) was narrated from Abdul-Karim Al-Jazari with this chain.
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِى أَبِى كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ عَلِىٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا أَجْرُ الْجَازِرِ.
It was narrated from Ali from the Prophet (SAW) (a similar Hadith as no. 3180), but their Hadith made no mention of the butcher’s wages.
ایک اور سند سے بھی یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مگر اس میں قصاب کی اجرت کا ذکر نہیں ہے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِى لَيْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِىَّ بْنَ أَبِى طَالِبٍ أَخْبَرَهُ. أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلاَلَهَا فِى الْمَسَاكِينِ وَلاَ يُعْطِىَ فِى جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا.
Ali bin Abi Talib narrated that the Prophet of Allah (SAW) told him to take care of sacrificial camels. And he told him to distribute them all; their meat, skins and blankets, among the poor, but not to give anything of them to the butcher (as the wages).
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے انہیں حکم دیا کہ وہ قربانی کے اونٹوں پر کھڑے رہیں اور ان کو یہ بھی حکم دیا کہ قربانی کے اونٹ کا گوشت اور اس کی کھال اور اس کے جھول مساکین میں تقسیم کر دیں اور ان میں سے قصاب کو اجرت نہ دیں۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِىُّ أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِى لَيْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِىَّ بْنَ أَبِى طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَهُ بِمِثْلِهِ.
Ali bin Abi Talib narrated that the Prophet (SAW) told him… a similar report.
ایک اور سند سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے انہیں اسی طرح حکم دیا ہے۔
62. بابُ جَوَازِ الاِشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ البُدْنَةِ وَالْبَقَرَةِ كُلٍّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ.
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: “In the year of Al-Hudaybiyah we offered the sacrifice with the Messenger of Allah (SAW); a camel on behalf of seven, and a cow on behalf of seven.”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ حدبییہ والے سال سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ نحر(ذبح) کیا اور سات آدمیوں کیطرف سے ایک گائے بھی ذبح کی۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ نَشْتَرِكَ فِى الإِبِلِ وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِى بَدَنَةٍ.
It was narrated that Jabir said: “We set out with the Messenger of Allah (SAW) entering Ihram for Hajj, and the Messenger of Allah (SAW) told us to share (in sacrificing) camels and cattle, every seven of us sharing an animal.”
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ حجۃالوداع کا احرام باندھے ہوئے تلبیہ کہتے ہوئے نکلے رسول اللہ ﷺنے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے کی قربانیوں میں سات سات آدمی شریک ہوجائیں۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَنَحَرْنَا الْبَعِيرَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ.
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: “We performed Hajj with the Messenger of Allah (SAW), and we sacrificed a camel on behalf of seven, and a cow on behalf of seven. ”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ حج کیا تو ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ ذبح کیا اور سات آدمیوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ فِى بَدَنَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ أَيُشْتَرَكُ فِى الْبَدَنَةِ مَا يُشْتَرَكُ فِى الْجَزُورِ قَالَ مَا هِىَ إِلاَّ مِنَ الْبُدْنِ. وَحَضَرَ جَابِرٌ الْحُدَيْبِيَةَ قَالَ نَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ بَدَنَةً اشْتَرَكْنَا كُلُّ سَبْعَةٍ فِى بَدَنَةٍ.
It was narrated from Jabir bin Abdullah said: “We participated in Hajj and Umrah with the Prophet (SAW) every seven sharing a camel (for sacrifice).”
Jabir was present at Al-Hudaybiyah. He said: “On that day we sacrificed seventy camels, every seven of us sharing a camel.”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺکے ساتھ حج اور عمرے میں شریک تھے اور سات سات آدمی قربانی کے ایک اونٹ میں شریک ہوگئے، ایک آدمی نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا جیسے قربانی کے اونٹ میں ہم شریک ہو سکتے ہیں بعد میں خریدے گئے جانوروں میں بھی شرکت درست ہے؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا پہلے والے اور بعد میں خریدے گئے اونٹوں کا ایک ہی حکم ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیبیہ میں موجود تھے انہوں نے کہا : ہم نے ستر اونٹ ذبح کئے اور ہر اونٹ میں سات سات آدمی شریک تھے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَأَمَرَنَا إِذَا أَحْلَلْنَا أَنْ نُهْدِىَ وَيَجْتَمِعَ النَّفَرُ مِنَّا فِى الْهَدِيَّةِ وَذَلِكَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا مِنْ. حَجِّهِمْ فِى هَذَا الْحَدِيثِ.
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin Abdullah narrating about the Hajj of the Prophet (SAW). He said: “When we exited Ihram he told us to offer a sacrifice, and said that a group of us could share in a sacrifice.” That was when he told them to exit Ihram for Hajj.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی ﷺکے حج کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺنے ہمیں احرام کھولنے کے وقت قربانی کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا : چند آدمی قربانی کے جانور میں شریک ہوجائے ، آپﷺ نے یہ حکم اس وقت دیا تھا جب آپﷺنے انہیں حج کا احرام کھولنے کا حکم دیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْعُمْرَةِ فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا.
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: “We did Tamattu with the Messenger of Allah (SAW) for Umrah, and we sacrificed a cow on the behalf of seven, sharing it.”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ حج تمتع کیا کرتے تھے اور ہم ایک گائے ذبح کرتے تھے جس میں سات آدمی شریک ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِى زَائِدَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ.
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (SAW) sacrificed a cow on the behalf of Aishah on the Day of Sacrifice.”
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے قربانی کے دن ایک گائے ذبح کی۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِىُّ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ نِسَائِهِ. وَفِى حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً فِى حَجَّتِهِ.
Jabir bin Abdullah said: “The Messenger of Allah (SAW) sacrificed on the behalf of his wives” - in the Hadith of Ibn Bakr: “On the behalf of Aishah - a cow during his Hajj.”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے نحرکیا ، اور ابوبکر کی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے اپنے حج میں ایک گائے ذبح کی۔
63. بابُ اسْتِحْبَابِ نَحْرِ الْإِبِلِ قِيَامًا مَعْقُوْلَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ بَارِكَةً فَقَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated from Ziyad bin Jubair that Ibn Umar came to a man who was slaughtering his sacrificial camel as it was sitting. He said: “Make it stand up and tie it, the way of your Prophet (SAW).”
زیاد بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک آدمی کے پاس آئے وہ قربانی کے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اسے کھڑا کر کے اس کے پاؤں باندھ کر اسے نحر کرو تمہارے نبی ﷺکی یہی سنت ہے۔
64. بابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لاَ يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلاَئِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لاَ يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلاَ يَحْرُمُ عَلَيْهِ شيء بِسَبَبِ ذَلِكَ
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُهْدِى مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ.
It was narrated from Urwah bin Az-Zubair and Amrah bint Abdur-Rahman that Aishah said: “The Messenger of Allah (SAW) used to send sacrificial animals from Al-Madinah (to Haram), and I would twist the garlands for his sacrificial animals, then he would not avoid anything that the Muhrim must avoid.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے قربانی کا جانوربھیجا کرتے تھے ، اور میں خود ان جانوروں کے ہار بناتی تھی، آپ ﷺ ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے احرام پرہیز کرتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 3194) was narrated from Ibn Shihab with this chain.
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَىَّ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِهِ.
It was narrated that Aishah said: “It is as if I can see myself twisting the garlands for the sacrificial animals of the Messenger of Allah (SAW)…” a similar report (as no.3194).
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں گویا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ میں رسول اللہ ﷺکے قربانی کے جانور کے گلے میں ہار بنا کر ڈالا کرتی تھی۔
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدَىَّ هَاتَيْنِ ثُمَّ لاَ يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلاَ يَتْرُكُهُ.
It was narrated from Abdur-Rahman bin Al-Qasim that his father said: “I heard Aishah say: ‘I used to twist the garlands for the sacrificial animals of the Messenger of Allah (SAW) with these two hands of mine, then he did not avoid anything or give up anything.’”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺکی قربانی کے جانور وں کے ہار بناتی تھی پھر آپ ﷺنہ کسی چیز سے بچتے تھے اور نہ ہی کسی چیز کو چھوڑتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدَىَّ ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ لَهُ حِلاًّ.
It was narrated that Aishah said; “I twisted the garlands for the sacrificial animals of the Messenger of Allah (SAW) with my hands. Then he marked them, and garlanded them, and he sent them to the Kabah, and he stayed in Al-Madinah, and nothing became forbidden to him that had been permissible for him.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺکی قربانی کے اونٹوں کے ہار بناتی تھی پھر آپ ﷺان کے کوہان چیر کر اور گلے میں ہار ڈال کر ان کو بیت اللہ کی طرف بھیجتے اور آپ ﷺمدینہ میں ٹھہرتے اور آپ ﷺپر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی جو آپ ﷺکے لئے حلال تھی۔
وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ الْقَاسِمِ وَأَبِى قِلاَبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَبْعَثُ بِالْهَدْىِ أَفْتِلُ قَلاَئِدَهَا بِيَدَىَّ ثُمَّ لاَ يُمْسِكُ عَنْ شَىْءٍ لاَ يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلاَلُ.
It was narrated that Aishah said: “The Messenger of Allah (SAW) used to send the sacrificial animals, and I would twist their garlands with my own hands, then he would not abstain from anything that the non Muhrim did not abstain from.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺقربانی کا جانور بھیجا کرتے تھے اور میں اپنے ہاتھوں سے ہار بنا کر اس کے گلے میں ڈالا کرتی تھی۔ پھر آپ ﷺکسی ایسی چیز کو نہیں چھوڑتے تھے جس کو حلال(احرام کھولنے والا) نہیں چھوڑتا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلاَئِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا فَأَصْبَحَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَلاَلاً يَأْتِى مَا يَأْتِى الْحَلاَلُ مِنْ أَهْلِهِ أَوْ يَأْتِى مَا يَأْتِى الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ.
It was narrated that the Mother of the Believers said: “I twisted those garlands from colored wool that we had, and the Messenger of Allah (SAW) stayed among us as a non Muhrim, doing all that the non Muhrim does with his wife, or doing all that a man does with his wife.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں یہ ہار اس اون سے بناتی تھی جو ہمارے پاس تھی اور رسول اللہ ﷺصبح کو حلال ہی تھے جس طرح ایک حلال آدمی اپنی اہلیہ کے پاس جاتا ہے اسی طرح آپ ﷺبھی اپنی زوجہ مطہرہ کے پاس آتے۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِى أَفْتِلُ الْقَلاَئِدَ لِهَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ الْغَنَمِ فَيَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلاَلاً.
It was narrated that Aishah said: “I remember twisting the garlands for the sacrificial animals of the Messenger of Allah (SAW), which were sheep, then he sent them, and stayed among us a non Muhrim.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ میرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ ﷺکی قربانیوں کے جانوروں کے ہار بکریوں کی اون سے بٹتی تھی توآپ ﷺان کو بھیجتے تھے پھر آپ ﷺحلال ہی رہتے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلاَئِدَ لِهَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ.
It was narrated that Aishah said: “I often twisted the garlands for the sacrificial animals of the Messenger of Allah (SAW). And he garlanded his sacrificial animals, then sent them, then he remained (in Al-Madinah), not avoiding anything that the Muhrim must avoid.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی قربانیوں کے جانوروں کے ہار زیادہ تر میں ہی بناتی تھی پھر آپ ﷺان جانوروں کے گلوں میں ڈال کر انہیں بھیجتے پھر آپ ﷺٹھہرتے اور ان چیزوں میں سے کسی چیز سے نہیں بچتے تھے کہ جن سے احرام والا بچتا ہے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَرَّةً إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا فَقَلَّدَهَا.
It was narrated that Aishah said: “On one occasion the Messenger of Allah (SAW) sent sheep as sacrificial animals to the Kabah, and he garlanded them.”
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ایک مرتبہ بیت اللہ کی طرف قربانی کے لیے بکریاں بھیجیں تو ان کی گردنوں میں ہار ڈالے تھے۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ فَنُرْسِلُ بِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَلاَلٌ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَىْءٌ.
It was narrated that Aishah said: “We used to garland sheep and sent them to Kabah, and the Messenger of Allah (SAW) was not in Ihram, and nothing was forbidden to him.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم بکریوں کی گردنوں میں ہار ڈال کر انہیں بھیجا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ حلال ہی رہتے تھے اورکوئی چیز آپﷺپر حرام نہیں ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْىُ وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِى فَاكْتُبِى إِلَىَّ بِأَمْرِكِ. قَالَتْ عَمْرَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدَىَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدِهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِى فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ.
It was narrated that Amrah bint Abdur-Rahman that Ibn Ziyad wrote to Aishah, saying that Abdullah bin Abbas said: “Whoever sends a Hadi, the same things are forbidden for him as are forbidden for the pilgrim on Hajj, until his Hadi is sacrificed. I have sent a sacrificial animal, so write to me and tell me what to do.” Amrah said: “Aishah said; ‘It is not as Ibn Abbas says. I twisted the garlands for the sacrificial animals of the Messenger of Allah (SAW) with my own hands, then the Messenger of Allah (SAW) garlanded them with his own hands , then he sent them with my father (to Kabah). And nothing forbidden to the Messenger of Allah (SAW) that Allah had permitted to him, until the Hadi was sacrificed.’”
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ابن زیاد (زیاد بن ابی سفیان) نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف لکھا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جس آدمی نے قربانی کا جانور روانہ کردیا اس پر وہ سب کچھ حرام ہے کہ جو کچھ ایک حاجی پر احرام کی وجہ سے حرام ہوتا ہے جب تک کہ قربانی کا جانور ذبح نہ ہو جائے ،میں نے بھی قربانی کا جانور بھیجا ہے آپ اس مسئلہ میں اپنی رائے مجھے لکھ کر بھیجیں حضرت عمرہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس کا فرمانا درست نہیں ہے ، میں خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺکی قربانی کے جانوروں کے ہار بناتی تھی پھر آپ ﷺان کو میرے والد کے ساتھ مکہ بھیج دیتے تھے تو قربانی کا جانور ذبح ہونے تک رسول اللہ ﷺپر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی جن کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہو ۔
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَهْىَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تُصَفِّقُ وَتَقُولُ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدَىَّ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ عَنْ شَىْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ.
It was narrated that Masruq said: “I heard Aishah from behind the screen, clapping and saying: ‘I used to twist the garlands for the sacrificial animals of the Messenger of Allah (SAW) with my own hands, then he would send them (to Kabah). And he did not abstain from anything from which the Muhrim must abstain, until his Hadi was sacrificed.’”
مسروق سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا کہ وہ پردہ کے پیچھے سے دستک دیتے ہوئے فرما رہی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے جانوروں کے ہار میں خود اپنے ہاتھوں سے بنایا کرتی تھی پھر آپ ﷺ ان کو روانہ کرتے اور آپ ﷺ ان چیزوں میں کسی چیز کو نہیں چھوڑتے تھے کہ جن کو احرام والا چھوڑتا ہے جب تک کہ قربانی کا جانور ذبح نہ ہو جاتا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ كِلاَهُمَا عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.
A similar report was narrated from Masruq, from Aishah, from the Prophet (SAW).
ایک اور سند سے حضرت عائشہ سے اسی طرح مروی ہے۔
65. بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ « ارْكَبْهَا ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. فَقَالَ « ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ». فِى الثَّانِيَةِ أَوْ فِى الثَّالِثَةِ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (SAW) saw a man driving a camel and he said: “Ride it.” He said: “O Messenger of Allah (SAW), it is a sacrificial camel.” He said: “Ride it, woe to you!” the second or third time.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو پیچھے سے ہانکتا ہوا لے کر جا رہا ہے آپ ﷺنے فرمایا : سوار ہو جا، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ ﷺنے فرمایا: سوار ہوجا ،اور دوسری یا تیسری مرتبہ آپﷺنے فرمایا: سوار ہوجاؤ تمہیں خرابی ہو (تیرا ستیاناس ہو)۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِىُّ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً.
It was narrated from Abu Az-Zinnad (from Al-Araj) with this chain (a Hadith similar to no. 3208), and he said: “While a man was driving a garlanded sacrificial camel.”
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ اونٹ کے گلے میں ہار پڑا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَيْلَكَ ارْكَبْهَا ». فَقَالَ بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « وَيْلَكَ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ارْكَبْهَا ».
It was narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated from Muhammad, the Messenger of Allah (SAW)” - and he quoted a number of Ahadith, including the following: “He said: ‘While a man was driving a garlanded camel, the Messenger of Allah (SAW) said to him: Woe to you, ride it!” He said: “It is a sacrificial camel, O Messenger of Allah.” He said: “Woe to you, ride it! Woe to you, ride it!”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص قربانی کے اونٹ کو پیچھے سے ہنکاتا ہوا لے کر جا رہا تھا اور اس کی گردن میں ہار ڈالا ہوا تھا رسول اللہ ﷺنے اس سے فرمایا: تیرے لئے خرابی ہو سوار ہو جاؤ ، اس نے کہا اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ ﷺنے فرمایا: تیرے لئے خرابی ہو سوار ہو جاؤ، تیرے لئے خرابی ہو سوار ہو جاؤ۔
وَحَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَأَظُنُّنِى قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِىِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ « ارْكَبْهَا ». فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ « ارْكَبْهَا ». مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا.
It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah (SAW) passed by a man who was driving a camel, and he said: ‘Ride it.’ He said: ‘It is a sacrificial camel.’ He said: ‘Ride it,’ two or three times.”
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے اونٹ کو ہنکاتا ہوا لے کے جارہا تھا آپ نے فرمایا : سوار ہوجاؤ، اس نے کہا یہ قربانی کا اونٹ ہے ، آپﷺنےدو یا تین مرتبہ فرمایا : سوار ہوجاؤ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ « ارْكَبْهَا ». قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ. فَقَالَ « وَإِنْ ».
Bukair bin Al-Akhnas said that Anas said: “He passed by the Prophet (SAW) with a sacrificial camel, or a sacrificial animal. He said: ‘Ride it.’ He said: ‘It is a sacrificial camel,’ or ‘a sacrificial animal.’ He said: ‘Even so.’”
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺکے پاس سے کوئی قربانی کا اونٹ یا قربانی کا جانور لے کے گزرا تو آپ ﷺنے فرمایا: سوار ہو جا ؤ ، اس نے کہا :یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ ﷺنے فرمایا: اگرچہ قربانی کا جانور ہے سوار ہو جاؤ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنِى بُكَيْرُ بْنُ الأَخْنَسِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِبَدَنَةٍ. فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
Bukair bin Al-Akhnas said that Anas said: “He passed by the Prophet (SAW) with a sacrificial camel…” and he mentioned a similar report (as no.3212).
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ ایک شخص سے گزرے ، اس کے بعد باقی حدیث اسی طرح ہے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ».
Jabir bin Abdullah was asked about riding the sacrificial animal. He said: “I heard the Prophet (SAW) say: ‘Ride it gently if you need to, until you find another mount.’”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قربانی کے جانور کی سواری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺکو فرماتے ہوئے سنا آپ ﷺفرماتے ہیں کہ جب شدید مجبوری ہوتو اس پر بقدر حاجت سواری کرسکتے ہیں۔
وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ».
It was narrated that Abu Az-Zubair said: “I asked Jabir about riding the sacrificial animal”. He said: ‘I heard the Prophet (SAW) say: “Ride it gently, until you find another mount.”’
حضرت ابوزبیرسے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قربانی کے جانور پر سواری کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے ہیں جب تک دوسری سواری نہ ملے اس پر بقدر ضرورت سواری کرسکتے ہو۔
66. بابُ مَا يُفْعَلُ بِالْهَدْيِ إِذَا عَطِبَ فِي الطَّرِيقِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِى التَّيَّاحِ الضُّبَعِىِّ حَدَّثَنِى مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِىُّ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ قَالَ وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِىَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِىَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِى بِهَا. فَقَالَ لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ.
قَالَ فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ قَالَ انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ. قَالَ فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ. فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا - قَالَ - فَمَضَى ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَىَّ مِنْهَا قَالَ « انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِى دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلاَ تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ».
Musa bin Salamah Al-Hudhali said: “Sinan bin Salamah and I set out for Umrah.” He said: “Sinan set out with the sacrificial camel that he was driving, and it stopped on the road due to exhaustion. He was confused about what to with it: If it was too exhausted to move, how could he bring it? He said: ‘When I reached the city I shell certainly find out about it.’” He (Musa) said: “The next morning we stopped at Al-Batha and he said: ‘Go to Ibn Abbas and speak to him.’” (I went to him and) told him about his camel, and he said: ‘you have come to one who is well informed. The Messenger of Allah (SAW) sent sixteen camels with a man, and put him in charge of them. He set out, then he came back and said: “O Messenger of Allah (SAW), what should I do if any of them becomes too exhausted to move?” He said: “Slaughter it, then dip the shoes (on the garland) in its blood, and put them on its hump but neither you nor any of the people who are with you should eat from it.”’
حضرت موسیٰ بن سلمہ ہذلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ عمرہ کرنے کے لیے گئے ۔راوی کہتے ہیں کہ سنان کے ساتھ قربانی کا ایک اونٹ تھا جسے ہنکاتے ہوئے چلے جا رہے تھے راستے میں وہ اونٹ تھک کر ٹھہر گیا سنان کہنے لگے کہ اگر یہ اونٹ آگے نہ چلا تو میں کیا کروں گا؟پھر انہوں نے کہا اگر میں شہر پہنچ گیا تو اس بارے میں ضرور مسئلہ پوچھوں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب دوپہر کا وقت ہوا اورہم بطحا میں اترے تو ا نہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر صورت حال بیان کرتے ہیں ۔ پھر ان کے پاس جاکر واقعہ بیان کیا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے ایسے شخص سے سوال کیا جو اس مسئلہ کو جاننے والا ہے ، رسول اللہ ﷺنے ایک مرتبہ قربانی کے سولہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ بھیجے اور اونٹوں کی خدمت پر اسے لگا دیاوہ شخص گیا اور پھر لوٹ آیا ، اور عرض کیا یارسول اللہ ! اگر اونٹوں میں سے کوئی تھک جائے تو میں کیا کروں؟ آپ ﷺنے فرمایا اسے ذبح کرو، پھر اس کے گلے میں جو جوتیاں ہیں ان کو خون میں رنگ کر کوہان پر مارو، اور تم اور تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی اس اونٹ کا گوشت نہ کھائے۔
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَبِى التَّيَّاحِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ. ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ.
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah (SAW) sent eighteen camels with a man… then he mentioned a Hadith similar to that of Abdul-Warith, but he did not mention the beginning of the Hadith.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک آدمی کے ساتھ اٹھارہ اونٹوں کو بھیجا پھر آگے حسب سابق روایت ہے ۔
حَدَّثَنِى أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ ثُمَّ يَقُولُ « إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَىْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا فَانْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِى دَمِهَا ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا وَلاَ تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ».
It was narrated from Ibn Abbas that Dhuaib Abu Qabisah told him that the Messenger of Allah (SAW) sent the sacrificial camel with him, then he (SAW) said: “If any of them become exhausted and you fear that it may die, slaughter it, then dip the shoes (on the garland) in its blood and strike its hump with them, but neither you nor any of those who are with you should eat from it.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت زویب ابوقبیصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺمیرے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجا کرتے تھے پھر فرماتے کہ اگر ان اونٹوں میں سے کوئی ایک تھک جائے اور تجھے اس کے مرنے کا ڈر ہو تو اسے ذبح کر دینا پھر اس کے گلے میں پڑی ہوئی جوتی کو اس کے خون میں ڈبو کر اس کے کوہان پر مارنا ، لیکن تم اور تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی بھی اس کا گوشت نہ کھائے۔
67. بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِى كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ ». قَالَ زُهَيْرٌ يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ. وَلَمْ يَقُلْ فِى.
It was narrated that Ibn Abbas said: “The people used to depart from all points, and the Messenger of Allah (SAW) said: ‘No one should leave until the last thing he has done is to circumambulate the House. ’”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ لوگ ہر ایک راستے سے واپس جایا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : کوئی واپس نہ جائے جب تک کہ آخر میں بھی بیت اللہ کا طواف نہ کرلے ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلاَّ أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ.
It was narrated that Ibn Abbas said: “The people were commanded that the last thing they should do is to circumambulate the House, but an exception was made for menstruating women.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ آخر میں بیت اللہ کے پاس سے ہو کر جائیں البتہ حائضہ عورت کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ تُفْتِى أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ.
فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِمَّا لاَ فَسَلْ فُلاَنَةَ الأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَرَجَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ وَهُوَ يَقُولُ مَا أَرَاكَ إِلاَّ قَدْ صَدَقْتَ.
It was narrated that Tawus said: “I was with Ibn Abbas, when Zaid bin Thabit said: ‘Are you ruling that a menstruating woman may leave before the last thing she does is to circumambulate the House? ’ Ibn Abbas said to him: ‘If you want to be certain, ask so-and-so, the Ansari woman, whether the Messenger of Allah (SAW) told her to do that?’ Zaid bin Thabit came back to Ibn Abbas smiling and said: ‘I see that you were telling the truth.’”
طاؤس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ یہ فتوی دیتے ہیں کہ حائضہ عورت طواف وداع سے قبل مکہ سے جاسکتی ہیں؟حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ کو میرے اس فتوی پر یقین نہیں تو فلان انصاری عورت سے پوچھ لوکہ رسول اللہ ﷺانہیں یہ حکم دیا تھا یا نہیں ؟ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ کے پاس سے ہنستے ہوئے لوٹے اور کہا :آپ ہمیشہ سچ فرماتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ وَعُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَذَكَرْتُ حِيضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَحَابِسَتُنَا هِىَ ». قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الإِفَاضَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَلْتَنْفِرْ ».
It was narrated from Abu Salamah and Urwah that Aishah said: “Safiyyah bint Huyayy got her menses after she had done Tawaf Al-Ifadah.” Aishah said: “I mentioned her menses to the Messenger of Allah (SAW), and the Messenger of Allah (SAW) said: ‘Is she going to detain us?’” She said: “I said: ‘O Messenger of Allah (SAW),she has already departed (from Mina) and circumambulated the House, then she got her menses after Tawaf Al-Ifadah’. The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Then let her leave.’”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا طواف افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہوگئیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ان کے حیض کا ذکر رسول اللہ ﷺسے کیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ وہ ہمیں روک رکھیں گی؟حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! وہ طواف افاضہ کر چکی تھیں طواف افاضہ کے بعد پھر حائضہ ہوئیں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تو پھر چلیں۔
حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَتْ طَمِثَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ زَوْجُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ طَاهِرًا بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
It was narrated from Ibn Shihab with this chain. She said: “Safiyyah bint Huyayy, the wife of the Prophet (SAW), got her menses during the Farewell Pilgrimage, after she had done Tawaf Al-Ifadah in a state of purity…” a hadith like that of Al-Laith (no. 3223).
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کوحجۃ الوداع میں طواف افاضہ کے بعد حیض آگیا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ - يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ صَفِيَّةَ قَدْ حَاضَتْ. بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِىِّ.
It was narrated from Aishah that she told the Messenger of Allah (SAW) that Safiyyah had got her menses... a hadith like that of (ibn Shihab) Az-Zuhri (no. 3222).
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نَتَخَوَّفُ أَنْ تَحِيضَ صَفِيَّةُ قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ - قَالَتْ - فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَحَابِسَتُنَا صَفِيَّةُ ». قُلْنَا قَدْ أَفَاضَتْ. قَالَ « فَلاَ إِذًا ».
It was narrated that ‘Aishah said: “We were afraid that Safiyyah would get her menses before she did Tawaf Al-Ifadah.” She said: “The Messenger of Allah (SAW) came to us and said: ‘Is Safiyyah going to detain us?’ We said: ‘She has already done Tawaf Al-Ifadah.’ He said: ‘No, then.”’
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہمیں ڈر تھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ طواف افاضہ سے پہلے حائضہ ہو جائیں گی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کیا صفیہ ہمیں روک رکھیں گی؟ ہم نے عرض کیا وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں آپ ﷺنے فرمایا : پھر کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ قَدْ حَاضَتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ قَدْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ ». قَالُوا بَلَى. قَالَ « فَاخْرُجْنَ ».
It was narrated from Aishah that she said to the Messenger of Allah (SAW): ‘O Messenger of Allah (SAW), Safiyyah bint Huyayy has got her menses.’ The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Perhaps she is going to detain us. Did she not circumambulate the House with you? ’ They said: ‘Yes she did.’ He said: ‘Then depart.’”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! حضرت صفیہ بنت حیی حائضہ ہوگئیں ہیں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : شاید کہ وہ ہمیں روک رکھیں گی، کیاانہوں نے تم سب کے ساتھ بیت اللہ کا طواف نہیں کیا ؟ صحابہ نے کہا : کیوں نہیں! آپ ﷺنے فرمایا : تو پھر نکلو۔
حَدَّثَنِى الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ - لَعَلَّهُ قَالَ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ. فَقَالُوا إِنَّهَا حَائِضٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « وَإِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا ». فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ زَارَتْ يَوْمَ النَّحْرِ. قَالَ « فَلْتَنْفِرْ مَعَكُمْ ».
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (SAW) wanted from Safiyyah bint Huyayy what a man wants from his wife, and they said: “She is menstruating, O Messenger of Allah.” He said: “Is she going to detain us?” They said: “O Messenger of Allah, she visited (the Ka‘bah Or Tawaf Al-Ifadah) on the Day of Sacrifice.” He said: “Then let her depart with you.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے وہ ارادہ کیا جو مرد اپنی بیوی سے کرتا ہے ، گھروالوں نے عرض کیا :یارسول اللہ ! وہ تو حائضہ ہیں ۔ آپ ﷺنے فرمایا : وہ ہمیں روک لیں گی؟گھروالوں نے فرمایا: یارسول اللہ ! وہ تو قربانی والے دن طواف زیارت کر چکی ہیں آپ ﷺنے فرمایا: پھر وہ بھی تمہارے ساتھ چلیں گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أَرَادَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً. فَقَالَ « عَقْرَى حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا ». ثُمَّ قَالَ لَهَا « أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ». قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ « فَانْفِرِى ».
It was narrated that ‘Aishah said; “When the Prophet (SAW) wanted to depart, he saw Safiyyah at the door of her tent, looking sad and sorrowful. He said: ‘(May you become) barren and shaven-headed, you are going to detain us.’ Then he said to her: ‘Did you perform Tawaf Al-Ifadah on the Day of Sacrifice?’ She said: ‘Yes.’ He said: ‘Then depart.’”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺنے مکہ سے روانہ ہونا چاہا تو اچانک حضرت صفیہ اپنے خیمے کے دروازے پر غمگین کھڑی ہوگئیں۔آپﷺنے فرمایا: زخمی سرمنڈی! تم ہمیں روکنے والی ہو؟ پھر آپﷺنے انہیں فرمایا: کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟ حضرت صفیہ نے کہا : جی ہاں ، آپﷺنے فرمایا: تو پھر چلو۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. نَحْوَ حَدِيثِ الْحَكَمِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لاَ يَذْكُرَانِ كَئِيبَةً حَزِينَةً.
A Hadith similar to that of Al-Hakam (no. 3228) was narrated from ‘Aishah, except that it does not mention that she looked sad and sorrowful.
ایک اور سند سے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے ۔
68. بابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ وَالصَّلاَةِ فِيهَا وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِىُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ ثُمَّ مَكَثَ فِيهَا. قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ جَعَلَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى.
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (SAW) entered the Ka‘bah, accompanied by Usamah, Bilal and ‘Uthman bin Talhah Al-Hajabi. He closed the door and remained inside. Ibn ‘Umar said: “I asked Bilal when he came out: ‘What did the Messenger of Allah (SAW) do?’ He said: ‘He put two pillars on his left, one pillar on his right, and three pillars behind him’ – and at that time the House was built on six pillars - ‘then he prayed.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکعبہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺکے ساتھ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے اور پھر کعبہ کا دروازہ بند کردیا گیا ، پھر آپﷺ اس میں ٹھہرے رہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس وقت باہر نکلے تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺنے اندر کیا کیا؟ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آپ ﷺنے دو ستونوں کو اپنے بائیں طرف اور ایک ستون کو دائیں طرف اور تین ستونوں کو اپنے پیچھے کیا پھر آپ ﷺنے نماز پڑھی۔اوراس وقت بیت اللہ کے چھ ستون تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ - قَالَ أَبُو كَامِلٍ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَزَلَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ وَأَرْسَلَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ فَجَاءَ بِالْمِفْتَحِ فَفَتَحَ الْبَابَ - قَالَ - ثُمَّ دَخَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَبِلاَلٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَأَمَرَ بِالْبَابِ فَأُغْلِقَ فَلَبِثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَتَلَقَّيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَارِجًا وَبِلاَلٌ عَلَى إِثْرِهِ فَقُلْتُ لِبِلاَلٍ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ نَعَمْ. قُلْتُ أَيْنَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ. قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى.
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah (SAW) came on the Day of the Conquest and dismounted in the courtyard of the Ka‘bah. He sent for ‘Uthman bin Talhah, who brought the key and opened the door. Then the Prophet (SAW), Bilal, Usamah bin Zaid and ‘Uthman bin Talhah entered and he ordered that the door be closed. They stayed inside for a while, then he opened the door.” ‘Abdullah (ibn ‘Umar) said: “I went ahead of the people and I met the Messenger of Allah coming out, with Bilal right behind him. I said to Bilal: ‘Did the Messenger of Allah (SAW) pray inside?’ He said: ‘Yes.’ I said: ‘Where?’ He said: ‘Between the two pillars that were in front of him.”’ He said: “And I forgot to ask him how many (Ra‘kah) he prayed.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺفتح مکہ کے دن تشریف لائے اور کعبہ کے صحن میں اترے آپ ﷺنے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا تو وہ چابی لے کر آئے اور دروازہ کھولا پھر نبی ﷺ کعبہ کے اندر داخل ہوگئے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی داخل ہوگئے ۔اور پھر دروازہ بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر آپ اور یہ صحابہ کافی دیر تک ٹھہرے رہے، پھر دروازہ کھولا گیا ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جھپٹ کرسب لوگوں سے پہلے رسول اللہ ﷺسے باہر ملا ، اور حضرت بلال آپ ﷺکے پیچھے تھے تو میں نے حضرت بلال سے پوچھا کیا آپ ﷺنے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جی ہاں ، میں نے کہا کہاں؟ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اپنے سامنے کے دو ستونوں کے درمیان ۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپﷺنے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِىِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَقَالَ « ائْتِنِى بِالْمِفْتَاحِ ». فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَتُعْطِينِيهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِى - قَالَ - فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ. فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ فَفَتَحَ الْبَابَ. ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “In the Year of the Conquest, the Messenger Of Allah (SAW) came on a camel belonging to Usamah bin Zaid, until he made it kneel in the courtyard of the Ka‘bah. Then he called ‘Uthman bin Talhah and said: ‘Bring me the key.’ He went to his mother, who refused to give it to him. He said: ‘By Allah, you will give it to me, or else this sword will come out through my back.’ So she gave it to him, and he brought it to the Prophet (SAW) and gave it to him, and he opened the door... then he mentioned a hadith like that of Hammad bin Zaid (no. 3231).”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺفتح مکہ والے سال حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اونٹنی پر سوار تھے یہاں تک کہ آپ ﷺاونٹنی کو کعبہ کے صحن میں بٹھایا پھر حضرت عثمان بن طلحہ کو بلایا اور ان سے چابیاں طلب کیں۔وہ چابی لینے کے لیے اپنی والدہ کی طرف گئے تو انہوں نے چابی دینے سے انکار کیا۔حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے مجھے چابی دو، ورنہ میں اپنی تلوار میان سے نکال لوں گا حضرت عثمان کی والدہ نے ان کو چابی دے دی تو وہ اسے لے کر نبی ﷺکی طرف آئے آپ ﷺنے دروازہ کھولا ۔ پھر اس کے بعد حسب سابق روایت ہے ۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْبَيْتَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ طَوِيلاً ثُمَّ فُتِحَ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَلَقِيتُ بِلاَلاً فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ. فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah entered the House, accompanied by Usamah, Bilal and ‘Uthman bin Talhah. They kept the door closed for a long time, then it was opened. I was the first one to go in, and I met Bilal. I said: ‘Where did the Messenger of Allah pray?’ He said: ‘Between the two front pillars.” But I forgot to ask him how many (Ra‘kah) the Messenger of Allah prayed.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺبیت اللہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺکے ساتھ حضرت اسامہ حضرت بلال اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے پھر ان پر دروازہ بند ہوگیا پھر کافی دیر بعد دروازہ کھلا تو سب سے پہلے میں داخل ہوا تو میری ملاقات حضرت بلال سے ہوئی تو میں نے کہا :رسول اللہ ﷺنے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا : اپنے سامنے والے دو ستونوں کے درمیان۔تو میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ پوچھنا بھول گیا ہوں کہ رسول اللہ ﷺنے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟
وَحَدَّثَنِى حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَبِلاَلٌ وَأُسَامَةُ وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ قَالَ فَمَكَثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فُتِحَ الْبَابُ فَخَرَجَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَرَقِيتُ الدَّرَجَةَ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- قَالُوا هَا هُنَا. قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى؟.
It was narrated from Abdullah bin Umar that he went to the Kabah, where the Prophet (SAW), Bilal and Usamah had entered it, and Uthman bin Talhah had closed the door on them. He said: “They stayed inside for a while, then the door was opened and the Prophet (SAW) came out. I went up the stairs and entered the House, and said: ‘Where did the Prophet (SAW) pray?’ They said: ‘Here.’ He said: ‘But I forgot to ask them how many Rakah he prayed.’”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں کعبہ کی طرف پہنچا تو نبیﷺاور حضرت بلال اور اسامہ کعبہ میں داخل ہو گئے تھے اور ان پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دروازہ بند کردیا تھا آپ ﷺکعبہ میں کچھ دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا گیا تو نبی ﷺباہر نکلے اور میں سیڑھی سے اندر گیا اور بیت اللہ میں داخل ہوا اور میں نے پوچھا کہ نبی ﷺنے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: یہاں ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں یہ بھول گیا کہ میں ان سے پوچھتا کہ آپ ﷺنے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ فِى أَوَّلِ مَنْ وَلَجَ فَلَقِيتُ بِلاَلاً فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ نَعَمْ صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ.
It was narrated from Salim that his father said: “The Messenger of Allah (SAW) entered the House, accompanied by Usamah bin Zaid, Bilal and ‘Uthman bin Talhah. The door was closed on them, and when they opened it, I was the first one to go in. I met Bilal and asked him: ‘Did the Messenger of Allah (SAW) pray inside?’ He said: ‘Yes, he prayed between the two Yemeni pillars.’”
حضرت سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنےوالد ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺبیت اللہ میں داخل ہوئے اور حضرت اسامہ اور حضرت بلال اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے پھر دروازہ ان پر بند ہوگیا تو جب دروازہ کھولا گیا تو سب سے پہلے میں داخل ہوا اور میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺنے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺنے دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَلَمْ يَدْخُلْهَا مَعَهُمْ أَحَدٌ ثُمَّ أُغْلِقَتْ عَلَيْهِمْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَأَخْبَرَنِى بِلاَلٌ أَوْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى فِى جَوْفِ الْكَعْبَةِ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ.
Salim bin ‘Abdullah narrated that his father said: “I saw the Messenger of Allah (SAW) enter the Ka‘bah, accompanied by Usamah bin Zaid, Bilal, and ‘Uthman bin Talhah, and no one else entered with them. Then the door was locked behind them.” ‘Abdullah bin ‘Umar said: “Bilal” - or “‘Uthman bin Talhah” - “told me that the Messenger of Allah (SAW) prayed inside the Ka‘bah, between the two Yemeni pillars.”
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺکعبہ میں داخل ہوئے اور حضرت اسامہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ ﷺکے ساتھ تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ان کے ساتھ اور کوئی داخل نہیں ہوسکا۔ پھر ان پر دروازہ بند کردیا گیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت بلال یا عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں سے کسی نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺنے کعبہ کے وسط میں دو یمانی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ بَكْرٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ. قَالَ لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ وَلَكِنِّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَخْبَرَنِى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِى نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِى قُبُلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ.
وَقَالَ « هَذِهِ الْقِبْلَةُ ». قُلْتُ لَهُ مَا نَوَاحِيهَا أَفِى زَوَايَاهَا قَالَ بَلْ فِى كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ.
Ibn Juraij said: “I said to ‘Ata’: ‘Did you hear Ibn ‘Abbas say: “You have only been commanded to circumambulate it, you have not been commanded to enter it?” He said: “He did not forbid (people) to enter it, rather I heard him say: ‘Usamah bin Zaid told me that when the Prophet (SAW) entered the House, he supplicated on all its sides, but he did not pray therein, until he came out. When he came out, he prayed two Ra‘kah in front of the House and said: ‘This is the Qiblah.”’ I (Ibn Juraij) said to him (‘Ata’): “What are ‘its sides?’ Was that in its corners?’ He said: “No, in every direction of the House.”
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تم کو کعبہ میں طواف کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا۔ عطاء کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے اندر داخل ہونے سے نہیں روکتے لیکن میں نے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن زید نے بتایا کہ نبی ﷺجب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺنے اس کے تمام کونوں میں دعا مانگی اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ ﷺباہر تشریف لے آئے تو جب آپ ﷺباہر تشریف لائے تو آپ ﷺنے بیت اللہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں اور آپ نے فرمایا یہ قبلہ ہے میں نے عرض کیا کہ اس کے کناروں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ بیت اللہ کا ہر کنارہ قبلہ ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ فَقَامَ عِنْدَ سَارِيَةٍ فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ.
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (SAW) entered the Ka‘bah, in which there were six pillars. He stood by a pillar and supplicated, but he did not pray.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کعبہ میں داخل ہوئے اس میں چھ ستون تھے آپ ﷺنے ہر ستون کے پاس کھڑے ہو کر دعا مانگی اور نماز نہیں پڑھی۔
وَحَدَّثَنِى سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنِى هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى أَوْفَى صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَدَخَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- الْبَيْتَ فِى عُمْرَتِهِ قَالَ لاَ.
Ismail bin Abi Khalid said: “I said to ‘Abdullah bin Abi Awfa, the Companion of the Messenger of Allah (SAW): ‘Did the Prophet (SAW) enter the House during his ‘Umrah?’ He said: ‘No.”’
اسماعیل بن خالدکہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول اللہ ﷺحضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی ﷺاپنے عمرہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں۔
69. باب نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْلاَ حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا ».
It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (SAW) said to me: ‘Were it not that your people have only recently left disbelief behind, I would have demolished the Ka‘bah and rebuilt it on the foundations of Ibrahim. For when the Quraish rebuilt the House, they reduced its size. And I would have given it a rear door.”’
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے فرمایا : اگر تمہاری قوم نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا تو میں بیت اللہ کو توڑکر اس کو قواعد ابراہیم پر تیار کرتا، کیونکہ قریش نے جب اس کو بنایا تو ا س کو چھوٹا کردیا،اور میں اس کے پیچھے بھی دروازہ بناتا۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Hisham with this chain (a Hadith similar to no. 3240).
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ». قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْلاَ حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ ». فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تَرَكَ اسْتِلاَمَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلاَّ أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ.
It was narrated from ‘Aishah, the wife of the Prophet that the Messenger of Allah (SAW) said: “Do you not see that when your people rebuilt the Ka‘bah, they made it smaller than the foundations of Ibrahim?” She said: “I said: ‘O Messenger of Allah (SAW), why don’t you restore it or the foundations of lbrahim?’ The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Were it not that your people have only recently left disbelief behind, I would have done that.”’ ‘Abdullah bin ‘Umar said: “If ‘Aishah heard this from the Messenger of Allah (SAW) I would not think that the Messenger of Allah (SAW) stopped touching the two corners that are next to the Hijr, except that the House was not completed on the foundations of Ibrahim.”
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبیﷺکی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے بیت اللہ بناتے وقت اس کو قواعد ابراہیم علیہ السلام سے چھوٹا بنادیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ ﷺاسے دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر کیوں نہیں بنا دیتے؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر تمہاری قوم نے کفر کو نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا تو میں بنادیتا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ بات ضرور رسول اللہ ﷺسے سنی ہوگی کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جو دو کونے حجر اسود سے ملے ہوئے ہیں رسول اللہ ﷺنے ان کا استلام چھوڑ دیا ہے اس لئے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر پورا بنا ہوا نہیں ہے۔
حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ ح وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِى بَكْرِ بْنِ أَبِى قُحَافَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ - أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ - لأَنْفَقْتُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالأَرْضِ وَلأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ ».
It was narrated that ‘Aishah, the wife of the Prophet (SAW) said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) say: ‘Were it not that your people have only recently left Jahiliyyah – or disbelief - behind, I would have spent the treasure of the Ka‘bah in the cause of Allah, and I would have put its door at ground level, and I would have incorporated the Hijr into it.”’
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبیﷺکی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے ہیں کہ اگر تمہاری قوم نے جاہلیت یا کفر کو نیا نیا چھوڑا ہوا نہ ہوتا تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ کے راستے میں خرچ کر دیتا اور میں اس کا دروازہ زمین کے ساتھ بناتا اور حطیم کو کعبہ میں ملا دیتا۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنِى ابْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ سَعِيدٍ - يَعْنِى ابْنَ مِينَاءَ - قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِى خَالَتِى - يَعْنِى عَائِشَةَ - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا عَائِشَةُ لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْكٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتِ الْكَعْبَةَ ».
‘Abdullah bin Az-Zubair said: “My maternal aunt” - meaning ‘Aishah - “told me: ‘The Prophet (SAW) said: “O ‘Aishah, were it not that your people have only recently left Shirk behind, I would have demolished the Ka‘bah and razed it to the ground (and rebuilt it). And I would have given it two doors; an eastern door and a western door, and I would have added six cubits of the Hijr to it, for Quraish reduced its size when they rebuilt the Ka‘bah.”
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میری خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا اے عائشہ! اگر تمہاری قوم نے شرک نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا تو میں کعبہ کو گرا کر اسے زمین سے ملا دیتا اور اس کے دو دروازے بناتا ایک دروازہ مشرق کی طرف اور دوسرا دروازہ مغرب کی طرف اور حطیم میں سے چھ ہاتھ کی جگہ اور شامل کردیتا کیونکہ قریش نے جب کعبہ دوبارہ تعمیر کیا تو اس کو چھوٹا کردیا تھا۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِىِّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى زَائِدَةَ أَخْبَرَنِى ابْنُ أَبِى سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ - أَوْ يُحَرِّبَهُمْ - عَلَى أَهْلِ الشَّامِ فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَشِيرُوا عَلَىَّ فِى الْكَعْبَةِ أَنْقُضُهَا ثُمَّ أَبْنِى بِنَاءَهَا أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنِّى قَدْ فُرِقَ لِى رَأْىٌ فِيهَا أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ مَا رَضِىَ حَتَّى يُجِدَّهُ فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ إِنِّى مُسْتَخِيرٌ رَبِّى ثَلاَثًا ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِى فَلَمَّا مَضَى الثَّلاَثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَىْءٌ تَتَابَعُوا فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الأَرْضَ فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ. وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنِّى سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَوْلاَ أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ وَلَيْسَ عِنْدِى مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّى عَلَى بِنَائِهِ لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ ». قَالَ فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ - قَالَ - فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِىَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ فَزَادَ فِى طُولِهِ عَشَرَ أَذْرُعٍ وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ وَالآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ. فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ. فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِى شَىْءٍ أَمَّا مَا زَادَ فِى طُولِهِ فَأَقِرَّهُ وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِى فَتَحَهُ. فَنَقَضَهُ وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ.
It was narrated that ‘Ata’ said: “When the Ka‘bah was burned during the time of Yazid bin Mu‘awiyah, while it was raided by the people of Ash-Sham, and what happened, Ibn Az-Zubair left it until the people came for Hajj, seeking to exhort them - or incite them - to fight the people of Ash-Sham. When the people arrived, he said: ‘O people, advise me with regard to the Ka‘bah. Should I demolish it and then rebuild it, or should I repair the damage that has been done to it?’ Ibn ‘Abbas said: ‘An idea has occurred to me concerning it. I think that you should repair the damage that has been done to it and leave it in the state it was when the people embraced Islam and the Prophet was sent.’ Ibn Az-Zubair said: ‘If the house of one of you was burned, would he be happy unless he rebuilt it? Then what about the House of your Lord? I will pray for guidance to my Lord (Istikharah) three times, then I will make up my mind.”’ “When he had prayed Istikharah three times, he made up his mind to demolish it. The people were afraid that some punishment would come down from heaven upon the first one to climb up onto it (to start the demolition), until one man climbed up and threw down one stone. When the people saw that nothing happened to him, they followed suit and demolished it until it was razed to the ground. Then Ibn Az-Zubair set up pillars and hung curtains around them, until the construction was completed.” “Ibn Az-Zubair said: ‘I heard ‘Aishah say: “The Prophet (SAW) said: ‘Were it not that your people have only recently left disbelief behind, and that I do not have the means to rebuild it, I would have incorporated five cubits of the Hijr into it, and I would have given it a door through which the people could enter, and a door through which they could exit.” “He said: ‘Today I have the means, and I do not fear the people.’ So he added five cubits of the Hijr to it, and he excavated the (original) foundations of (the Hijr) and the people looked at them, and he built on top of them.” The length of the Ka‘bah was eighteen cubits, and he added ten cubits to its length, and he gave it two doors; one for entering, and one for exiting. When Ibn Az-Zubair was killed, Al-Hajjaj wrote to ‘Abdul-Malik bin Marwan telling him of that, and telling him that Ibn Az-Zubair had built it on foundations that had been seen by witnesses of good character among the people of Makkah. ‘Abdul-Malik wrote to him saying: ‘We do not approve of what Ibn Az-Zubair did. As for what he added to its length, leave it as it is, and as for what he added to it of the Hijr, put it back as it was, and block up the door that he opened.’ So he demolished it and rebuilt it.”
عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب شام والوں نے مکہ میں جنگ کی اور بیت اللہ جل گیا اور اس کے نتیجے میں جو ہونا تھا وہ ہوگیا تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت اللہ کو اسی حال میں چھوڑ دیا تاکہ حج کے موسم میں لوگ آئیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چاہتے تھے کہ وہ ان لوگوں کو شام والوں کے خلاف ابھاریں اور انہیں برانگیختہ کریں جب وہ لوگ واپس ہونے لگے تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے توڑ کر دوبارہ بناؤں یا اس کی مرمت وغیرہ کروا دوں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ میری یہ رائے ہے کہ اس کا جو حصہ خراب ہوگیا اس کو درست کروا لیا جائے باقی بیت اللہ کو اسی طرح رہنے دیا جائے جیسا کہ ابتداء اسلام میں تھا اور انہی پتھروں کو باقی رہنے دو کہ جن پر لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے تھے ، اور رسول اللہ ﷺکی بعثت ہوئی۔حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جائے تو وہ خوش نہیں ہوگا جب تک کہ اسے نیا نہ بنالے تو اپنے رب کے گھر کو دوبارہ کیوں نہ بنایا جائے؟ میں تین مرتبہ استخارہ کروں گا پھر اس کام پر پختہ عزم کروں گا جب انہوں نے تین مرتبہ استخارہ کرلیا تو اسے توڑنے کا ارادہ کیا ، لوگوں کو خطرہ پیدا ہوا کہ جو آدمی سب سے پہلے بیت اللہ کو توڑنے کے لئے اس پر چڑھے گا اس پر آسمان سے کوئی بلا نازل نہ ہو جائے تو ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس نے اس میں سے ایک پتھر گرایا جب لوگوں نے دیکھا کہ اس پر کوئی بلا نازل نہیں ہوئی تو سب لوگوں نے اسے مل کو توڑ ڈالا یہاں تک کہ اسے زمین کے برابر کردیا حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند ستون کھڑے کر کے اس پر پر دے ڈال دئیے یہاں تک کہ اس کی دیواریں بلند ہوگئیں اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبیﷺنے فرمایا کہ اگر لوگوں نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا اور نہ ہی میرے پاس اتنا خرچ ہے کہ اس کو بناسکوں تو میں حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں داخل کر دیتا اور اس میں ایک دروازہ ایسا بناتا جس سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرا دروازہ ایسا بناتا جس سے لوگ باہر جائیں۔حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آج میرے پاس اس کا خرچہ بھی موجود ہے اور مجھے لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں شامل کر دی یہاں تک کہ اس جگہ سے بنائے ابراہیمی کی بنیادظاہر ہوئی جسے لوگوں نے دیکھا حضرت ابن زبیرنے اس بنیاد پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی اس طرح بیت اللہ لمبائی میں اٹھارہ ہاتھ ہوگیا جب اس میں زیادتی کی تو اس کا طول کم معلوم ہونے لگا پھر اس کے طول میں دس ہاتھ زیادتی کی اور اس کے دو دروازے بنائے ایک داخل ہونے کے لیے اور دوسرا دروازہ نکلنے کے لیے ۔جب حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کر دئیے گئے تو حجاج نے ً عبدالملک بن مروان کو اس کی خبر دی اور لکھا کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کعبہ کی جو تعمیر کی ہے وہ ان بنیادوں کے مطابق ہے جنہیں مکہ کےمعتبر لوگوں نے دیکھا ہے تو عبدالملک نے جوابا حجاج کو لکھا کہ ہمیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رد وبدل سے کوئی غرض نہیں انہوں نے طول میں جو اضافہ کیا ہے اور حطیم سے جو زائد جگہ بیت اللہ میں داخل کی ہے اسے واپس نکال دو اور اسے پہلی طرح دوبارہ بنا دو اور جو دروازہ انہوں نے کھولا ہے اسے بھی بند کر دو پھر حجاج نے بیت اللہ کو گرا کر دوبارہ پہلے کی طرح اسے بنا دیا۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ يُحَدِّثَانِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى رَبِيعَةَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فِى خِلاَفَتِهِ فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ - يَعْنِى ابْنَ الزُّبَيْرِ - سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا. قَالَ الْحَارِثُ بَلَى أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا. قَالَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا قَالَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ وَلَوْلاَ حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِى أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّى لأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ ». فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ. هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِى الأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا ». قَالَتْ قُلْتُ لاَ. قَالَ « تَعَزُّزًا أَنْ لاَ يَدْخُلَهَا إِلاَّ مَنْ أَرَادُوا فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدْعُونَهُ يَرْتَقِى حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ ». قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ ثُمَّ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّى تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ.
‘Abdullah bin ‘Ubaid said: “Al-Harith bin ‘Abdullah came to ‘Abdul-Malik bin Marwan during his Khilafah and ‘Abdul-Malik said: ‘I do not think that Abu Khubaib’ - meaning Ibn Az-Zubair - ‘heard from ‘Aishah what he claimed to have heard from her.” Al-Harith said: ‘No, I heard it from her too.’ He said: ‘What did you hear her say?’ He said: ‘She said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Your people reduced its size when they rebuilt the House. Were it not that they have only recently left Shirk behind, I would have re-incorporated into it what they left out. If, after I am gone, your people decide to rebuild it, come with me so that I can show you what they left out of it.”’ And he showed her nearly seven cubits. This is the Hadith of ‘Abdullah bin ‘Ubaid.
Al-Walid bin ‘Ata’ added: “The Prophet (SAW) said: ‘And I would have given it two doors at ground level, on the east and west. Do you know why your people made its door so high?’ She said: I said: ‘No.’ He said: ‘Out of arrogance, so that no one could enter it except whomever they wanted. If a man wanted to enter it, they would let him climb up, then when he was about to enter, they would push him and he would fall.”’
‘Abdul-Malik said to Al-Harith: “Did you hear her say that?” He said: “Yes.” He said: “He scratched the ground with his stick for a moment, then he said: ‘I wish that I had left him responsible for his action.”’
حضرت عبداللہ بن عبید سے روایت ہے کہ حارث بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ ، عبد الملک بن مروان کے پاس اس کے زمانہ خلافت میں وفد لے کر گئے ، تو عبدالملک کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ ابوخبیب یعنی ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بغیر سنے روایت کرتے ہیں، حارث کہنے لگے :نہیں ، بلکہ میں نے خود حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ حدیث سنی ہے عبدالملک نے کہا تم نے جو سنا ہے اسے بیان کرو ۔حارث نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ تیری قوم نے بیت اللہ کی بنیادوں کو کم کر دیا ہے اور اگر تیری قوم نے شرک کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا تو جتنا انہوں نے اس میں سے چھوڑ دیا ہے میں اسے دوبارہ بنا دیتا تو اگر میرے بعد تیری قوم اسے دوبارہ بنانے کا ارادہ کرے تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں کہ انہوں نے اس کی تعمیر میں سے کیا چھوڑا ہے؟ پھر آپ ﷺنے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وہ جگہ دکھائی جو کہ تقریباً سات ہاتھ تھی یہ عبداللہ بن عبید کی حدیث ہے اور اس پر ولید بن عطاء نے یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا کہ میں بیت اللہ میں دو دروازے زمین کے ساتھ بنا دیتا ایک مشرق کی طرف اور دوسرا مغرب کی طرف، کیا تم جانتی ہو کہ تمہاری قوم نے اس کے دروازے اونچے کیوں رکھے تھے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺنے فرمایا:چودھراہٹ کے لیے ،تاکہ جن لوگوں کو وہ چاہیں صرف وہی داخل ہوسکیں ، جب کوئی کعبہ میں داخل ہونا چاہتا تھا تو اس سے بلاتے ،اور جب وہ داخل ہونے کے قریب ہوتا تو اسے دھکا دیتے اور وہ گر پڑتا ۔عبدالملک نے حارث سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ! راوی کہتے ہیں کہ عبدالملک کچھ دیر اپنی لاٹھی سے زمین کریدتا رہا اور کہنے لگا کہ کاش کہ میں نے اس کی تعمیر کو اسی حال پر چھوڑ دیا ہوتا۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ.
A Hadith similar to that of (Muhammad) Ibn Bakr (no. 3246) was narrated from Ibn Juraij with this chain.
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِىُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِى صَغِيرَةَ عَنْ أَبِى قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ سَمِعْتُهَا تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا عَائِشَةُ لَوْلاَ حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِى الْبِنَاءِ ». فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى رَبِيعَةَ لاَ تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا. قَالَ لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ.
It was narrated from Abu Qaza‘ah that while ‘Abdul-Malik bin Marwan was circumambulating the Ka‘bah, he said: “May Ibn Az-Zubair be doomed! For he told a lie about the Mother of the Believers when he said: ‘I heard her say: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘O ‘Aishah, were it not that your people have only recently left disbelief behind, I would have demolished the House and added part of the Hijr to it, for your people reduced its size when they rebuilt it.”’ Al-Harith bin “Abdullah bin Abi Rabi‘ah said: “Do not say that, O Commander of the Believers, for I heard the Mother of the Believers narrating that.” He said: “If I had heard it before I demolished it, I would have left it as Ibn Az-Zubair built it.”
ابوقزعہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کے طواف کے دوران کہہ رہے تھے کہ اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہلاک کر دے وہ ام المومنین پر جھوٹ باندھتا تھا اور کہتا ہے کہ میں نے ان سے سنا وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے عائشہ! اگر تیری قوم کے لوگوں نے نیانیا کفر چھوڑا نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو توڑ کر حطیم والے حصہ کو اس میں شامل کر دیتا کیونکہ تیری قوم کے لوگوں نے بیت اللہ کی تعمیر کو کم کردیا ہے۔ حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ کہتے ہیں اے امیرالمومنین! آپ ایسے نہ کہیں کیونکہ میں نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ حدیث خود سنی ہے عبدالملک نے کہا کہ اگر میں یہ بات بیت اللہ کو گرانے سے پہلے سن لیتا تو میں ابن زبیر ہی کی تعمیرکو برقرار رکھتا۔
70. بابُ جَدْرِ الْكَعْبَةِ وَبَابِهَا
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ أَبِى الشَّعْثَاءِ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ « نَعَمْ ». قُلْتُ فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِى الْبَيْتِ قَالَ « إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ ». قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ « فَعَلَ ذَلِكِ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِى الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافَ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِى الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالأَرْضِ ».
It was narrated that ‘Aishah said: “I asked the Messenger of Allah (SAW) about the wall (meaning, the Hijr), is it part of the Ka‘bah?” He said: “Yes.” I said: “Why did they not include it in the House?” He said: “Your people ran short of funds.” I said: “Why is its door so high?” He said: “Your people did that so that they could admit whomever they wanted, and keep out whomever they wanted. Were it not that your people have only recently left Jahiliyyah behind, and I am afraid that they would resent it, I was thinking of incorporating the wall into the House, and making its door at ground level.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے حطیم کی دیوار کے بارے میں پوچھا کیا وہ بیت اللہ میں شامل ہے یا نہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں ، میں نے عرض کیا پھر انہوں نے اسے بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کیا؟ آپ ﷺنے فرمایا: تمہاری قوم کے پاس اس کا خرچہ کم ہوگیا تھا ۔میں نے عرض کیا اس کا دروازہ اونچا کیوں کیا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: تمہاری قوم نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ جسے چاہیں (کعبہ میں )داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں ۔اور اگر تمہاری قوم نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا اور مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ انہیں یہ ناگوار لگے گا تو میں حطیم کی دیواروں کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ ملا دیتا۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ مُوسَى - حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِى الشَّعْثَاءِ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْحِجْرِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِى الأَحْوَصِ وَقَالَ فِيهِ فَقُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا لاَ يُصْعَدُ إِلَيْهِ إِلاَّ بِسُلَّمٍ وَقَالَ « مَخَافَةَ أَنْ تَنْفِرَ قُلُوبُهُمْ ».
It was narrated that ‘Aishah said: “I asked the Messenger of Allah (SAW) about the Hijr...” and he quoted a Hadith like that of Abu Al-Ahwas (no. 3249), and he said in it: “I (‘Aishah) said: ‘Why is its door so high that it can only be reached by a ladder‘?’ And he (SAW) said: ‘For fear of causing resentment in their hearts.”’
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے حطیم کے بارے میں پوچھا آگے حدیث اسی طرح ہے ۔اور اس میں ہے کہ بیت اللہ کا دروازہ اتنا اونچا کیوں ہے کہ بغیر سیڑھی کے نہیں چڑھا جا سکتا ؟ آپﷺ نے فرمایا: ان کے دلوں کے متنفر ہونے کا ڈر ہے۔