- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First78910

81. بابُ جَوَازِ الإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ بِلاَ زِيَادَةٍ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ هَلْ سَمِعْتَ فِى الإِقَامَةِ بِمَكَّةَ شَيْئًا فَقَالَ السَّائِبُ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِىِّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لِلْمُهَاجِرِ إِقَامَةُ ثَلاَثٍ بَعْدَ الصَّدَرِ بِمَكَّةَ ». كَأَنَّهُ يَقُولُ لاَ يَزِيدُ عَلَيْهَا.

Al-Ala bin Al Hadrami said: “I heard that the Messenger Of Allah (SAW) say: “The Muhajir may stay in Makkah for three (days) after completing Hajj, and it is as if he said: ‘and no more than that.””

حضرت عبدالرحمن بن حمیدسے روایت ہے انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے سنا وہ سائب بن یزید سے پوچھتے ہیں: کیا تم نے مکہ میں قیام کرنے کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ حضرت سائب نے کہا: میں نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ مہاجر کے لئے فرماتے ہیں: کہ وہ (منیٰ سے )واپسی کے بعد مکہ میں تین دن تک قیام کر سکتا ہے گویا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ اس سے زیادہ قیام نہ کرے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ لِجُلَسَائِهِ مَا سَمِعْتُمْ فِى سُكْنَى مَكَّةَ فَقَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ - أَوْ قَالَ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِىِّ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يُقِيمُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلاَثًا ».

Al-Ala bin Al Hadrami said: “The Messenger Of Allah(SAW) said: “The Muhajir may stay in Makkah, after completing his Hajj rituals, for three (days).””

حضرت عبدالرحمن بن حمیدسے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے سنا وہ اپنے ہم نشینوں سے فرماتے ہیں کہ تم نے مکہ میں قیام کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ حضرت سائب بن یزیدفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہاجر مناسک حج کی ادائیگی کے بعد مکہ میں تین دن قیام کر سکتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِىُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ فَقَالَ السَّائِبُ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِىِّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « ثَلاَثُ لَيَالٍ يَمْكُثُهُنَّ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ الصَّدَرِ ».

Al-Ala bin Al-Hadrami said: “I heard the Prophet (SAW) said: “Three nights the Muhajir may stay in Makkah after completing Hajj.””

ایک اور روایت میں بھی حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں:( منی سے واپسی کے بعد ) مہاجر تین رات تک مکہ مکرمہ میں ٹھہر سکتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَمْلاَهُ عَلَيْنَا إِمْلاَءً أَخْبَرَنِى إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِىِّ أَخْبَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَكْثُ الْمُهَاجِرِ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلاَثٌ ».

Al-Ala bin Al-Hadrami narrated that The Messenger Of Allah (SAW) said: “The Muhajir may stay in Makkah after completing Hajj rituals for three (days)”

حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ مناسک حج کی ادائیگی کے بعد مہاجر مکہ میں تین دن تک قیام کر سکتا ہے۔


وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar Hadith (as no.3300) was narrated by Ibn Juraij with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

82. باب تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَ تَحْرِيْمِ صَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ « لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ». وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ « إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لأَحَدٍ قَبْلِى وَلَمْ يَحِلَّ لِى إِلاَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلاَ يَلْتَقِطُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا ». فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ. فَقَالَ « إِلاَّ الإِذْخِرَ ».

It was narrated that Ibn Abbas said: “The Messenger Of Allah (SAW) said on the Day of the Conquest of Makkah: “There is no Hijrah (emigration),but there is Jihad and intention. And if you are mobilized, then go forth. And he said on the Day of the Conquest of Makkah: “This land was made sacred by Allah the Day He created the heavens and the earth, so it is sacred by the sanctity decreed by Allah until the Day of Resurrection. It was not permitted for anyone before me to fight therein and it was only permitted to me for part of a day, and it is sacred by the sanctity decreed by Allah until the Day of Resurrection. Its thorns are not to be cut, and its game is not to be disturbed, and its lost property is not to be picked up, except by one who announces it, and its grasses are not to be cut.” Al-Abbas said: “O Messenger Of Allah (SAW) except Idhkhir (a kind of grass), for it is used by their blacksmiths and in their houses.” He said:” Except Idhkhir .””

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: اب (مکہ سے) ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے ۔اور جب تمہیں (جہاد کے لئے) بلایا جائے تو جاؤ اور آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: اس شہر کو اللہ نے آسمان وزمین کی پیدائش کے دن ہی حرم قرار دیا تھا ، اور یہ خداداد حرمت کی وجہ سے قیامت تک حرم رہے گا۔مجھ سے پہلے کسی کے لیے مکہ میں جنگ کرنا جائز نہیں تھا او رمیرے لیے بھی صرف دن کی ایک ساعت میں جنگ جائز ہوئی تھی اور اب اس خداد حرمت کی بناء پر یہ شہر قیامت تک حرم رہے گا ۔نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں اور نہ ہی اس کے شکار کو بھگایا جائے اور کوئی بھی یہاں گری پڑی چیز کو نہ اٹھائے ماسوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرکے اس کو مالک تک پہنچادے،اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اذخر گھاس کو مستثنی قرار دے دیں کیونکہ یہ گھاس لوہاروں اور زرگروں کے کام آتی ہے اوراس سے گھر بنائے جاتے ہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا اچھا اذخر مستثنیٰ ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ فِى هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ « يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ». وَقَالَ بَدَلَ الْقِتَالِ « الْقَتْلَ ». وَقَالَ « لاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا ».

A similar report (as no.3302) was narrated by Mansur with this chain, but he did not mention: “The day He created the heavens [and the earth].”And instead of fighting, he said; “Killing”. And he said: “No one should pick up its lost property except the one who announces it.”

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں آسمانوں اور زمین کے پیدا ہونے کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اور قتال کی جگہ قتل کا لفظ استعمال ہوا ہے اور یلتقط لقطۃ الا من عرفہا کا جملہ مذکور ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِى شُرَيْحٍ الْعَدَوِىِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِى أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِى وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَاىَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ « إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِى فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ». فَقِيلَ لأَبِى شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ.

It was narrated from Abu Shuraih Al Adwai that he said to Amr bin Saeed-while he was sending troops to Makkah: “O commander, let me tell the people of something that The Messenger Of Allah (SAW) said on the day following the Conquest(Of Makkah), that my ears heard and my heart understood, and my eyes saw him as he said it. He praised and extolled Allah, then he said: “Makkah was declared sacred by Allah not by people. It is not permissible for any man who believes in Allah and the Last Day to shed blood therein or cut down its trees .If any one seeks a concession based on the fact that The Messenger Of Allah (SAW) fought therein, tell him that Allah granted permission to His Messenger (SAW) but He did not grant you permission. Rather I was given permission for part of one day, and today its sanctity has been restored as it was before. Let those who are present convey it to those who are absent.”” It was said to Abu Shuraih: “What did Amr say to you?” He said: “I know more about that than you, O Abu Shuraih. The sanctuary does not give protection to one who is disobedient, or to one who is fleeing after shedding blood, or one who is fleeing after committing a theft.”

حضرت ابوشریح عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمرو بن سعید سے کہا جس وقت کہ وہ مکہ کی طرف اپنی فوج بھیج رہے تھے اے امیر! آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے سامنے وہ حدیث بیان کروں جسے یوم فتح کی صبح رسول اللہ ﷺ سے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے دیکھا جس وقت کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے آپ ﷺ نے اللہ کی حمدوثنا بیان فرمائی پھر فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرم بنایا اور لوگوں نے اسے حرم نہیں بنایا، لہذا جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ میں خون بہائے اور یہاں کے درخت کاٹے ۔ اگر کوئی آدمی رسو لاللہ کی جنگ کی بناء پر یہاں قتال کو جائز سمجھتا ہو تو تم اسے کہہ دو کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اجازت دی تھی اور تمہارے لئے اجازت نہیں، اور مجھے بھی صرف ایک دن کے کچھ وقت کے لئے اجازت ملی تھی،اور آج پھر مکہ کی حرمت پہلے کی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل تھی اور جو اس وقت یہاں موجود ہے وہ غیر حاضرین تک یہ بات پہنچا دے ۔ حضرت ابوشریح سے کہا گیا کہ عمرو بن سعید نے تجھے کیا جوا ب دیا تھا اس نے کہا: اے ابوشریح! میں اس بارے میں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں کہ حرم کسی نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور نہ ہی قتل اور چوری کر کے نکلنے والے کو بھاگنے دیتا ہے۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنِ الْوَلِيدِ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنِى أَبُو سَلَمَةَ - هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - حَدَّثَنِى أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَكَّةَ قَامَ فِى النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ « إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِى وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِى سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لأَحَدٍ بَعْدِى فَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا وَلاَ تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُفْدَى وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ ». فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلاَّ الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِى قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِلاَّ الإِذْخِرَ ». فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اكْتُبُوا لِى يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اكْتُبُوا لأَبِى شَاهٍ ». قَالَ الْوَلِيدُ فَقُلْتُ لِلأَوْزَاعِىِّ مَا قَوْلُهُ اكْتُبُوا لِى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِى سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

Abu Hurairah said: “When Allah enabled His Messenger to Conquer Makkah, He(SAW) stood before the people and praised and extolled Allah, then he said: “Allah held the elephant back from Makkah and He caused His Messenger and the believers to prevail over it. It was not permissible(to shed blood therein) for any one before me, and it was only made permissible to me for part of a day, and it will never be permissible for anyone after me. Its game is not to be disturbed, its thorns are not to be cut, and its lost property is not permissible for anyone(to be picked up) but the one who announces it. If a person is killed he (relative) has a choice: Either to be given the blood money or to have the killer killed in retaliation. ”Al-Abbas said: “Except Idhkhir, O Messenger Of Allah (SAW),for we use it in our graves and in our houses. “The Messenger Of Allah (SAW) said:” Except Idhkhir.”Abu Shah, a man from Yemen, stood up and said: “Write it for me, O Messenger Of Allah(SAW).”The Messenger Of Allah (SAW) said: “Write it for Abu Shah.”” Al-Walid said: “I said to Al-Awazai:”What did he mean: “Write it for me, O Messenger Of Allah (SAW).””He said: “This speech that he heard from The Messenger Of Allah(SAW).” “

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے رسول پر مکہ کو فتح فرمایا تو آپ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا : اللہ نے مکہ سےاصحاب فیل کو روک دیا تھا، اور اللہ نے مکہ پر اپنے رسول ﷺ اور مومنوں کو غلبہ عطا فرمایا اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے بھی مکہ حلال نہیں تھا اور میرے لئے بھی ایک دن کے کچھ وقت کے لئے حلال ہوا تھا اور اب میرے بعد بھی کسی کے لئے حلال نہیں ہوگا اس لئے یہاں کے شکار کو نہ بھگایا جائے، اور نہ ہی یہاں کے کانٹے کاٹے جائیں اور نہ ہی یہاں کی گری ہوئی چیز کسی کے لئے حلال ہے سوائے اعلان کرنے والے کے اور جس آدمی کو کوئی قتل کر دے تو اس کے لواحقین کے لئے دو چیز میں سے ایک کا اختیار ہے یا اس کی دیت لے لے یا اسے قصاصاً قتل کر دے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! گھاس کو مستثنی فرما دیں کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے گھاس کو مستثنی فرما دیا۔تب یمن کے ایک ایک آدمی نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے یہ لکھوا دیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوشاہ کو لکھ دو۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے کہا کہ ابوشاہ کے اس کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اے اللہ کے رسول مجھے لکھوا دیں انہوں نے کہا کہ وہ خطبہ ہے جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا۔


حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى أَخْبَرَنِى أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِى لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ فَقَالَ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلاَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِى وَلَنْ تَحِلَّ لأَحَدٍ بَعْدِى أَلاَ وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِى سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ أَلاَ وَإِنَّهَا سَاعَتِى هَذِهِ حَرَامٌ لاَ يُخْبَطُ شَوْكُهَا وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلاَ يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلاَّ مُنْشِدٌ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُعْطَى - يَعْنِى الدِّيَةَ - وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ ». قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ اكْتُبْ لِى يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ « اكْتُبُوا لأَبِى شَاهٍ ». فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِى بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِلاَّ الإِذْخِرَ ».

Abu Hurairah said: “(The tribe of) Khuzaah killed a man from Banu Laith in the year when Makkah was conquered, in retaliation for one of their people whom they had killed. The Messenger Of Allah (SAW) was told about that, then he rode on his mount and addressed them saying: “Allah held the elephant back from Makkah, and He caused His Messengers and the believers to prevail over it. It was not permissible (to shed blood therein) for anyone before me and it is not permissible for anyone after me; It was only permitted to me for a part of a day. Now, at this very hour, it is sacred; Its trees are not to be cut down and its lost property is not to be picked up except by the one who announces it. Anyone whose (relative) has been killed has one of two choices: Either he may be given the Diyah or he may retaliate.” A man from Yemen, who was called Abu Shah, came to him and said: “Write it for me O Messenger Of Allah (SAW).”He said: “Write it for Abu Sahah.”A man of Quraish said: “Except Idhkhir, for we use it in our houses and in our graves.” The Messenger Of Allah(SAW) said:” Except Idhkhir.””

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی قتل کیا ہوا تھا فتح مکہ کے دن بنولیث نے اپنے مقتول کے بدلہ میں بنوخزاعہ کا ایک آدمی قتل کردیا تو اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺنے اپنی سواری پر سوار ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا: اللہ نے مکہ سےاصحاب فیل کو روک دیا تھا، اور اللہ نے مکہ پر اپنے رسول ﷺ اور مومنوں کو غلبہ عطا فرمایا۔ آگاہ رہو مجھ سے پہلے کسی کے لئے مکہ حلال نہیں تھا اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگااور میرے لئے بھی ایک دن کے کچھ وقت کے لئے حلال ہوا تھا اور اب اس وقت کے لئے بھی حرام ہے مکہ کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اور نہ ہی درختوں کو کاٹا جائے اور نہ ہی یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے سوائے اعلان کرنے والے کے ، اور جس کا کوئی قتل کردیا جائے تو اسے دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو اسے دیت دی جائے یا وہ قاتل سے قصاص لے گا ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر یمن کا ایک آدمی آیا جسے ابوشاہ کہا جاتا ہے اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مجھے یہ خطبہ لکھوا دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوشاہ کو لکھ دو۔ پھر قریش کے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مکہ کی گھاس کو مستثنی فرما دیں کیونکہ گھاس کو ہم اپنے گھروں میں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے گھاس کو مستثنی فرما دیا۔

83. بابُ النَّهْيِ عَنْ حَمْلِ السِّلاَحِ بِمَكَّةَ بِلاَ حَاجَةٍ

حَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَحِلُّ لأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بِمَكَّةَ السِّلاَحَ ».

It was narrated that Jabir said: “I heard the Prophet (SAW) say: ”It is not permissible for anyone of you to carry a weapon in Makkah.””

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی کے لئے مکہ مکرمہ میں اسلحہ اٹھاناجائز نہیں ہے۔

84. باب جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِىُّ وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَمَّا الْقَعْنَبِىُّ فَقَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَأَمَّا قُتَيْبَةُ فَقَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَقَالَ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قُلْتُ لِمَالِكٍ أَحَدَّثَكَ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ « اقْتُلُوهُ ». فَقَالَ مَالِكٌ نَعَمْ.

It was narrated from Yahya and this is his wording: “I said to Malik: “Did Ibn Shihab narrate to you from Anas bin Malik that the Prophet (SAW) entered Makkah in the Year of the Conquest with a helmet on his head, and when he took it off, a man came to him and said: “Ibn Khatal is clinging to the cover of the Kabah.” He said: “Kill him.”? [Malik] said: ”Yes.””

یحیی فرماتے ہیں کہ میں امام مالک سے پوچھا کیا آپ سے ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ والے سال مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ ﷺ کے سر پر خود تھا تو جب آپ ﷺ نے اسے اتارا تو ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ ابن حنطل کعبہ کے پردے کو پکڑے ہوئے ہے تو آپ ﷺ نے فرمای: اسے قتل کر دو، امام مالک نے کہا : ہاں ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِىُّ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ الدُّهْنِىُّ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ مَكَّةَ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ - وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ. وَفِى رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ.

It was narrated from Jabir bin Abdullah Al-Ansari that The Messenger Of Allah (SAW) entered Makkah- Qutaibah said: he entered on the Day of the Conquest of Makkah- wearing a black turban and not in Ihram.

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺمکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔اور قتیبہ کی روایت میں ہے آپ ﷺفتح مکہ کے دن بغیر احرام کے داخل ہوئے اس حال میں کہ آپ ﷺکے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۔


حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَكِيمٍ الأَوْدِىُّ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِىِّ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

It was narrated from Jabir bin Abdullah Al-Ansari that The Messenger Of Allah (SAW) entered Makkah on the Day of Conquest wearing black turban.

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺفتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ ﷺکے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالاَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

It was narrated from Jafar bin Amr bin Huraith, from his father, that The Messenger Of Allah (SAW) addressed the people wearing a black turban.

حضرت عمر و بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے لوگوں کو اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ ﷺکے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ قَالَ حَدَّثَنِى وَفِى رِوَايَةِ الْحُلْوَانِىِّ قَالَ سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ. وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ.

Jafar bin Amr bin Huraith narrated that his father said: “It is as if I can see The Messenger Of Allah (SAW) on the Minbar, wearing a black turban with its edged hanging between his shoulders.”(In his narration) Abu Bakr did not say: “On the Minbar.”

حضرت عمر و بن حریث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں گویا میں اب بھی رسول اللہ ﷺکو اس حال میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺمنبر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے تشریف فرماہیں، اور عمامہ کے دونوں کنارے رسول اللہ ﷺکے دونوں شانوں کے درمیان لٹک رہے ہیں۔

85. باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِى ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِىَّ - عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِىِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لأَهْلِهَا وَإِنِّى حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ وَإِنِّى دَعَوْتُ فِى صَاعِهَا وَمُدِّهَا بِمِثْلَىْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ لأَهْلِ مَكَّةَ ».

It was narrated from Abdullah bin Zaid bin Asim that The Messenger Of Allah(SAW): ”(Prophet) Ibrahim declared Makkah sacred and supplicated for its people, and I declare Al- Madina sacred as Ibrahim declared Makkah sacred, and I supplicated concerning its Sa and Mudd (units of measurement) twice(the blessings) Ibrahim supplicated for the people of Makkah.”

حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور مکہ میں رہنے والوں کے لئے دعا فرمائی تھی اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ کے صاع اور اس کے مد میں اس سے دوگنی برکت کی دعا کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ والوں کے لئے کی تھی۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِى ابْنَ الْمُخْتَارِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِىُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى - هُوَ الْمَازِنِىُّ - بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ فَكَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِىِّ « بِمِثْلَىْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ ». وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ فَفِى رِوَايَتِهِمَا « مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ ».

It was narrated from Amr bin Yahya-Al-Mazini- with this chain (a Hadith similar to 3313). As for the Hadith of Wuhaib, it is like the report of Ad-Darawardi: “Twice the supplication of Ibrahim, peace and blessings be upon him.” As for Sulaiman bin Bilal and Abdul-Aziz bin Al-Mukhtar, in their report it says: “Like that for which Ibrahim supplicated.”

حضرت عمر و بن یحیی سے ان سندوں سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے البتہ وہیب کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ان دعاؤں سے دوگنی دعائیں کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعائیں مانگیں تھیں۔اور عبد العزیز بن مختار کی روایت میں ہے کہ جتنی دعائیں حضرت ابراہیم نے کی تھیں اتنی دعائیں کرتا ہوں۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ - يَعْنِى ابْنَ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّى أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ». يُرِيدُ الْمَدِينَةَ.

It was narrated that Rafi bin Khadij said: “The Messenger Of Allah (SAW) said: “Ibrahim, peace and blessings be upon him, declared Makkah sacred, and I declare what is between the two lava fields sacred”” meaning Al-Madinah.

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں اس کے دونوں پتھریلے کناروں والی جگہ یعنی مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ خَطَبَ النَّاسَ فَذَكَرَ مَكَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ مَا لِى أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا وَذَلِكَ عِنْدَنَا فِى أَدِيمٍ خَوْلاَنِىٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ. قَالَ فَسَكَتَ مَرْوَانُ ثُمَّ قَالَ قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ.

It was narrated from Nafi bin Jubair that Marwan bin Al-Hakam addressed the people, and he mentioned Makkah and its people and its sanctity, but he did not mention Al-Madinah and its people and its sanctity. Rafi bin Khadij called out to him and said: “Why do I hear you mention Makkah and its people and its sanctity, but you do not mention Al-Madinah and its people and its sanctity, when The Messenger Of Allah(SAW) declared what is between its two lava fields sacred? That is (recorded) with us on a piece of Khawlani leather, if you wish I will read it to you.” He said: “Marwan remained silent, then he said: “I heard some of that.””

حضرت نافع بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے مکہ اور مکہ کے رہنے والوں اور مکہ کی حرمت کا تذکرہ کیا تو رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مروان کو پکارا اور فرمایا میں تجھ سے کیا سن رہا ہوں کہ تم مکہ اور مکہ والوں اور مکہ کی حرمت کا ذکر کر رہے ہو اور مدینہ اور مدینہ کے رہنے والوں اور مدینہ کی حرمت کا ذکر نہیں کر تے ہو۔(حالانکہ)رسول اللہ ﷺنے اس پتھریلے علاقے کے دونوں کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے اور یہ حکم نامہ ہمارے پاس خولانی چمڑے پر لکھا ہوا موجود ہے اگر تم چاہو تو میں اس سے پڑھ کر سناؤں۔ راوی کہتے ہیں کہ مروان خاموش ہوگیا پھر کہنے لگا: میں نے بھی اس میں کچھ سنا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى أَحْمَدَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسْدِىُّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّى حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا لاَ يُقْطَعُ عِضَاهُهَا وَلاَ يُصَادُ صَيْدُهَا ».

It was narrated that Jabir said: “The Prophet (SAW) said: “(Prophet) Ibrahim declared Makkah sacred, and I declare Al-Madinah between the two lava fields to be sacred; its thorny shrubs are not to be cut down and its game is not to be hunted.””

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں مدینہ کے دونوں طرف کے پتھریلے علاقے کے درمیانی حصہ میں سے نہ کوئی درخت کاٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جانور کا شکار کیا جا سکتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنِى عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا - وَقَالَ - الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ لاَ يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلاَّ أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلاَ يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلاَّ كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ».

Amir bin Sad narrated that his father said: “I declare sacred what is between the two lava fields of Al-Madinah, (and I forbid) cutting of its thorny shrubs and killing of its game.” And he said: “Al-Madinah is better for them, if only they knew.” No one leaves it out of dislike for it but Allah will put someone better than him in his place, and no one stands firm despite its hardships and difficulties, but I will intercede for him, or be a witness for him, on the Day of Resurrection.””

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنےوالد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیتا ہوں ، تو اس کے خاردار درختوں کو نہ کاٹا جائے گا اور نہ ہی مدینہ کے شکار کو قتل کیا جائے گا اور آپ ﷺنے فرمایا: یہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ یہ جان لیں۔جو آدمی مدینہ سے اعراض کر کے یہاں رہنے کو چھوڑ دے گا تو اللہ تعالی اس کے بدلہ میں یہاں ایسے آدمی کو جگہ عطا فرمائیں گے جو اس سے بہتر ہوگا اور جو آدمی بھی مدینہ کی بھوک پیاس اور محنت ومشقت پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِىُّ أَخْبَرَنِى عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ. ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ « وَلاَ يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ إِلاَّ أَذَابَهُ اللَّهُ فِى النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِى الْمَاءِ ».

Amir bin Sad bin Abi Waqqas narrated from his father that The Messenger Of Allah (SAW) said….then he mentioned a Hadith like that Ibn Numair (no. 3318), and he added: “No one intends ill towards the people of Al-Madinah but Allah will melt him in Fire like lead, or like salt, dissolving in water.”

حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ جو آدمی مدینہ والوں کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا اللہ تعالی اس کو آگ میں اس طرح پگھلائے گا جیسا کہ سیسہ پگھلتا ہے ،یا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنِ الْعَقَدِىِّ - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلاَمِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلاَمِهِمْ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ.

It was narrated by Amir bin Sad that Sad rode his fortress in Al-Aqiq, where he found a slave cutting down a tree or hitting it to make its leaves to fall, and he stripped him of his belongings. When Sad acme back, the owners of that slave came to him and asked him to return to their slave, or to them, what he had taken from him .He said: “Allah forbid that I should return something that The Messenger Of Allah(SAW) granted to me as booty” and he refused to return it to them.

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مکان عقیق کی طرف گئے تو وہاں دیکھا ایک غلام درخت کو کاٹ رہا تھا ، یا اس کے کانٹے توڑ رہا تھا تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا سامان چھین لیا تو جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آئے تو اس غلام کے گھر والوں نے آپ سے بات کی تاکہ وہ سامان اس غلام کو یا اس کے گھر والوں کو واپس کردیں تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی پناہ میں وہ چیز واپس کر دوں جو رسول اللہ ﷺنے مجھے دی ہے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ أَبِى عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لأَبِى طَلْحَةَ « الْتَمِسْ لِى غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِى ». فَخَرَجَ بِى أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِى وَرَاءَهُ فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كُلَّمَا نَزَلَ وَقَالَ فِى الْحَدِيثِ ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ « هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ». فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ « اللَّهُمَّ إِنِّى أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِى مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ ».

Anas Bin Malik said: “The Messenger Of Allah (SAW) said to Abu Talhah: ‘Find me one of your boys serve me.’ So Abu Talhah took to me with him and made me sit behind him, and I served The Messenger Of Allah (SAW) every time he discounted.” And he said in Hadith: “Then he came, when he could see Uhud, he said: ‘This mountain loves us and we love it’. When he came close to Al-Madinah he said: “O Allah, I declare sacred what is between its two mountains as (Prophet) Ibrahim, peace and blessings be upon him, declared Makkah sacred. O Allah, bless them in their Mudd and Sa.””

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: تم اپنےلڑکوں میں سے کوئی لڑکا لاؤ جو میری خدمت کرے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لے آئے تو میں رسول اللہ ﷺکی خدمت کرتا تھا جب بھی آپ ﷺاترتے اور راوی نے کہا کہ اس حدیث میں ہے کہ جب آپ ﷺتشریف لا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺکے سامنے احد پہاڑ ظاہر ہوا تو آپ ﷺنے فرمایا اے اللہ! میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور آپ ﷺنے دعا فرمائی اے اللہ مدینہ والوں کے لئے ان کے مد اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔


وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىُّ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِى عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « إِنِّى أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ».

A similar report (as no.3321) was narrated from Anas Bin Malik, from the Prophet (SAW), except that he said: “I declare sacred what is between the two lava fields.”

ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا - قَالَ - ثُمَّ قَالَ لِى هَذِهِ شَدِيدَةٌ « مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً ». قَالَ فَقَالَ ابْنُ أَنَسٍ أَوْ آوَى مُحْدِثًا.

Asim said: “I said to Anas Bin Malik: ‘Did The Messenger Of Allah (SAW) declare Al-Madinah sacred.’ He said: ‘Yes, what is between such-and-such, and such-and-such .And whoever introduces any Hadath in it’ He said: “Then he said to me: ’this is a serious matter:” Whoever introduces any Hadath in it, upon him be the curse of Allah, the Angles and all the people, and on the day of Resurrection Allah will not accept from him any Sarf nor Adl. “” Ibn Anas said: “Or(anyone) who grants refuge to a Muhdith.”

حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺنے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہاں فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک ۔تو جو آدمی مدینہ میں کوئی جرم وغیرہ کرے گا حضرت عاصم کہتے ہیں کہ پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا: یہ بہت سخت گناہ ہوگا کہ جو آدمی اس میں جرم کرے گا تو اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس آدمی سے نہ کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل عبادت قبول کی جائے گی۔ ابن انس نے کہا: یا کسی مجرم کو پناہ دی۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ هِىَ حَرَامٌ لاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.

Asim Al-Ahwal said: “I asked Anas ‘Did The Messenger Of Allah (SAW) declare Al-Madinah sacred?’ He said: ’Yes, it is sacred and its grass is not to be cut .Whoever does that, upon him be the curse of Allah, the Angles and all the people.””

حضرت عاصم احول سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺنے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! مدینہ کی گھاس تک نہیں کاٹی جائے گی اور جو اس طرح کرے گا اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِى مِكْيَالِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِى صَاعِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِى مُدِّهِمْ ».

It was narrated from Anas Bin Malik that The Messenger Of Allah (SAW) said: “O Allah, bless them in their weights and measures, bless them in their Sa, bless them in their Mudd.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اے اللہ ! ان کے پیمانے میں برکت عطاء فرما، اور ان کے صاع میں،اور ان کے مد میں بھی برکت عطا فرما۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِى قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَىْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ ».

It was narrated that Anas Bin Malik said: “The Messenger Of Allah (SAW) said: “O Allah, give Al-Madinah twice the blessings of Makkah.””

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا اے اللہ !مدینہ میں اس سے دو گنی برکتیں نازل فرما جتنی برکتیں مکہ میں تو نے نازل کی ہیں۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ فَقَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَأُهُ إِلاَّ كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ - قَالَ وَصِحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِى قِرَابِ سَيْفِهِ - فَقَدْ كَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الإِبِلِ وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا قَالَ النَّبِىُّ صلى الله تعالى عليه وسلم « الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً ». وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِى بَكْرٍ وَزُهَيْرٍ عِنْدَ قَوْلِهِ « يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ». وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا مُعَلَّقَةٌ فِى قِرَابِ سَيْفِهِ.

It was narrated from Ibrahim At-Taimi that his father said. “Ali bin Abi Talib addressed us and said: ‘Whoever claims that we have something that we recite apart from the Book of Allah and this Sahifah’ – a document that was hanging from the sheath of his sword –‘is laying. In it are the ages of camels and rulings concerning (the compensation for) injuries, and in it the Prophet (SAW) said: Al-Madinah is sacred, the area between ‘Ayr and Thawr. Whoever introduces and Hadath or gives refuge to a Muhdith, upon him will be the curse of Allah the Angels and all the people and on the Day of Resurrection Allah will not accept any Sarf not Adl from him. Protection granted by one Muslim is binding upon all of them, and may be given by the humblest of them. Whoever claims to belong to someone other man his father or to be belong to someone other than his Mawla, upon him be the curse of Allah, the Angels and all the people, and on the Day of Resurrection Allah will not accept any Sarf not ‘Adl from him.’” The Hadith of Abu Bakr and Zuhair ends with the words, “and may be given by the humblest of them” and in their Hadith it does not mention: “hanging from the sheath of sword.”

حضرت ابراہیم تیمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں اس حال میں خطبہ دیا کہ ا ن کی نیام کے ساتھ ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس صحیفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جو آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ کے علاوہ کوئی اور چیز ہے تو وہ جھوٹا ہے۔اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمروں اور کچھ زخموں کی دیت کا ذکر ہے اور اس میں ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: عیر پہاڑ اور ثور پہاڑ تک کے درمیان مدینہ کا جو علاقہ ہے وہ حرم ہے تو جو آدمی اس حرم میں کوئی گناہ کرے گا یا کسی مجرم کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اور قیامت کے دن اللہ اس سے نہ کوئی فرض اور نہ کوئی نفل قبول کرے گا ۔اور پناہ دینا تمام مسلمانوں کا ایک ہی ہے ان میں سے عام مسلمان بھی کسی شخص کو پناہ دے سکتا ہے۔اور جس آدمی نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی، یا جس غلام نے اپنے آپ کو اپنے مالک کے غیر کی طرف منسوب کیا اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا کوئی فرض قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی نفل۔ابوبکر کی حدیث یہاں پوری ہوگئی ہے اور زبیر کی روایت اس قول تک تھی جہاں عام مسلمانوں کی پناہ کا ذکر ہے اور اس کے بعد کا اس میں ذکر نہیں اور ان دونوں حدیثوں میں صحیفہ کا تلوار کی نیام میں لٹکنے کا ذکر نہیں۔


وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ أَخْبَرَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَ حَدِيثِ أَبِى كُرَيْبٍ عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ إِلَى آخِرِهِ وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ « فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ». وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا « مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ». وَلَيْسَ فِى رِوَايَةِ وَكِيعٍ ذِكْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

A Hadith similar to that of Abu Kuraib from Abu Muawiyah was narrated by Al-Amash until its end, with this chain, and he added: (The Prophet (SAW) said:) “Whoever breaks the covenant of a Muslim, upon him be the curse of Allah, the Angels and all the people, and on the Day of Resurrection Allah will not accept any Sarf not ‘Adl from him.” But in their Hadith it does not mention: “Whoever claims to belong to anyone other than his father.” And in the Hadith of Waki it does not mention the Day of Resurrection.

ایک اور سند کے ساتھ حسب سابق روایت منقول ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ جو آدمی کسی مسلمان کی پناہ توڑے گا تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اور قیامت کے دن نہ اس سے کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل قبول کیا جائے گا۔ ان دونوں روایتوں میں اپنے والد کے غیر کی طرف منسوب ہونے کا ذکر نہیں ہے اور وکیع کی روایت میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَوَكِيعٍ إِلاَّ قَوْلَهُ « مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ » وَذِكْرَ اللَّعْنَةِ لَهُ.

A Hadith similar to that of Ibn Mushir and Waki was narrated by Al-Amash with this chain, except the phrase “Whoever claims to belong to someone other than is Mawla” and mention of the curse that is upon him.

ایک اور سند کے ساتھ ایسی ہی روایت منقول ہے مگر اس میں اپنے مالک کے علاوہ کسی کو مالک بنانے کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِىٍّ الْجُعْفِىُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْمَدِينَةُ حَرَمٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (SAW) said: “Al-Madinah is sacred, and whoever introduces any Hadath in it or grants refuge to Muhdith, upon him be the curse of Allah, the Angels and all the people, and on the Day of Resurrection Allah will not accept any ‘Adl nor Sarf from him.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: مدینہ حرم ہے جو آدمی اس میں جرم کرے گا یا جرم کرنے والے کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہواور قیامت کے دن نہ اس سے کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل قبول ہوگا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِى النَّضْرِ حَدَّثَنِى أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِىُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ « يَوْمَ الْقِيَامَةِ » وَزَادَ « وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ ».

A similar report (as no.3330) was narrated from Al-Amash with this chain, but he did not say “the Day of Resurrecting.” And he added: (The Prophet (SAW) said:) “Protection granted by one Muslim is binding upon all of them, and may be given by the humblest of them. Whoever breaks the covenant of Muslim, upon him be the curse of Allah, the Angels and all the people, and on the Day of Resurrection Allah will not accept any ‘Adl nor Sarf from him.”

ایک اور سند کے ساتھ اعمش سے یہ روایت منقول ہے لیکن اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے اور ایک عام مسلمان کے پناہ دینے کا بھی اعتبار کیا جا سکتا ہے ، اور جو آدمی کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے گا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اس سے کوئی نفل اور نہ کوئی فرض قبول کیا جائے گا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا حَرَامٌ ».

It was narrated that Abu Hurairah used to say: “If I saw gazelles grazing in Al-Madinah I would not disturb them. The Messenger of Allah (SAW) said: ‘The area between its two lava fields is a sanctuary.’”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہرنیوں کو چرتا ہوا دیکھوں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دو پتھریلی زمینوں کی درمیانی جگہ حرم ہے ۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا. وَجَعَلَ اثْنَىْ عَشَرَ مِيلاً حَوْلَ الْمَدِينَةِ حِمًى.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) declared what is between the two lava fields of Al-Madinah sacred.” Abu Hurairah said: “If I found gazelles between the two lava fields, I would not disturb them.” And he made twelve miles around Al-Madinah a Hima (sanctuary).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مدینہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ میں ہرنیوں کو چرتا ہوا دیکھوں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا اور آپ ﷺنے مدینہ کے اردگرد بارہ میل تک حدود حرم مقرر فرمادی تھی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ - فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِى مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّى عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّى أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ ». قَالَ ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ.

It was narrated from Abu Hurairah that he said: “When the people saw the first fruits (of the season), they would bring them to Prophet (SAW) , and when the Messenger of Allah (SAW) took them he said: ‘O Allah, bless us in our produce, bless us in our city, bless us in our Sa and bless us in our Mudd. O Allah, Ibrahim, peace and blessings be upon him, was Your slave, Your Close Friend and Your Prophet, and I am Your slave and Your Prophet. He supplicated to You for Mkkah and I supplicate to You for Al-Madinah as he supplicated to You for Makkah, and the same again.’ Then he would call the youngest child and give him that fruit.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ جب لوگ پہلا پھل دیکھتے تو رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے ، تو رسو ل اللہ ﷺاس کو قبول کرنے کے بعد فرماتے : اے اللہ ! ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما اورہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما اور ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما ۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں ، انہوں نے مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے ان کی دعاؤں کے برابر اور اس سے ایک مثل زیادہ دعا کرتا ہوں جو کہ تجھ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لئے کی تھی پھر آپ ﷺکسی چھوٹے بچے کو بلا کر اسے یہ پھل عطا فرماتے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِىُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُؤْتَى بِأَوَّلِ الثَّمَرِ فَيَقُولُ « اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا وَفِى ثِمَارِنَا وَفِى مُدِّنَا وَفِى صَاعِنَا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ ». ثُمَّ يُعْطِيهِ أَصْغَرَ مَنْ يَحْضُرُهُ مِنَ الْوِلْدَانِ.

It was narrated from Abu Hurairah that (the season’s) the first fruit would be brought to the Messenger of Allah (SAW) and he would say: “O Allah, bless us in our city and in jour produce, and in our Mudd and in our Sa, blessing upon blessing.” Then he would give it to the youngest of the children present.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں پہلا پھل پیش کا جاتا تھا تو آپ ﷺفرماتے : اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں اور ہمارے پھلوں میں اور ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت در برکت عطا فرما پھر آپ ﷺوہ پھل موجود بچوں میں سب سے چھوٹے کو عطا فرماتے۔

86. بابُ التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ عَلَى لأْوَائِهَا وشِدَّتِهَا

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ وُهَيْبٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى إِسْحَاقَ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِىِّ أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ فَقَالَ لَهُ إِنِّى كَثِيرُ الْعِيَالِ وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِى إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لاَ تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ - حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِىَ فَقَالَ النَّاسُ وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِى شَىْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ. فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « مَا هَذَا الَّذِى بَلَغَنِى مِنْ حَدِيثِكُمْ - مَا أَدْرِى كَيْفَ قَالَ - وَالَّذِى أَحْلِفُ بِهِ أَوْ وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ - لاَ أَدْرِى أَيَّتَهُمَا قَالَ - لآمُرَنَّ بِنَاقَتِى تُرْحَلُ ثُمَّ لاَ أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ - وَقَالَ - اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَمًا وَإِنِّى حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لاَ يُهَرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلاَ يُحْمَلَ فِيهَا سِلاَحٌ لِقِتَالٍ وَلاَ يُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلاَّ لِعَلْفٍ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلاَ نَقْبٌ إِلاَّ عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا - ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ - ارْتَحِلُوا ». فَارْتَحَلْنَا فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَالَّذِى نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ - الشَّكُّ مِنْ حَمَّادٍ - مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَىْءٌ.

It was narrated from Abu Saeed, the freed slave of Al-Mahri, that he experienced distress and hardship in Al-Madinah. He came to Abu Saeed Al-Khudri and said to him: “I have many dependents and we are experiencing hardship, so I want to move my family to a rural area.” Abu Saeed said: “Do not do that; stay in Al-Madinah, for we went out with the Messenger of Allah (SAW) –I think he said – “until we reached ‘Usfan, where he stayed for several nights. The people said: ‘ By Allah, we are not doing anything here, and our families are left behind with no protection.’ News for that reached the Prophet (SAW) and he said: ‘What is this that I have heard of what you are saying?’” – I do not know how he said it: “‘by the One by Whom I swear,’” or ‘“by the One in Whose Hand is my soul’” - ‘“I was thinking,’” or ‘ “ if you wish’” – I am not sure which of them he said – ‘ “I will order that my she-camel be prepared and I would let her keep going until I come to Al-Madinah.’ And he said: ‘O Allah! Ibrahim, peace and blessings be upon him, declared Makkah sacred and made it a sanctuary. I declared Al-Madinah sacred; the area between its two mountains is a sanctuary. No blood is to be shed therein and no weapons are to be carried for fighting, and the leaves are not to be shaken from its trees, except for fodder. O Allah, bless us in our city. O Allah, bless us in our Sa. O Allah, bless us in our Mudd. O Allah, bless us in our Mudd. O Allah, bless us in our city. To each blessing add two more. By the One in Whose Hand is my soul, there is neither mountain pass nor road around Al-Madinah but there are two Angels standing guard over it, until you return to it.’ Then he said to the people: ‘Move on,’ so we moved on and we cane to Al-Madinah. By the One by Whom we swear,” or “by Whom oaths are sworn” – Hammad (a narrator) was not sure – “hardly had we put down our saddles after entering Al-Madinah but Banu Abdullah bin Ghatafan attached us, and they had no reason to have attached before that.”

مہری کے غلام ابو سعید سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب مدینہ کے لوگ قحط سالی اور تنگی میں مبتلا ہوئے تو مہری حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ میرے بچے بہت زیادہ ہیں اور تنگی میں مبتلا ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے بچوں کو کسی خوشحال جگہ کی طرف لے جاؤں تو حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ایسا نہ کرنا اور مدینہ میں رہنا کیونکہ ہم ایک مرتبہ نبی ﷺکے ساتھ نکلے تھے تو راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ عسفان کے مقام پر آئے تو آپ ﷺنے اس مقام پر کچھ راتیں قیام فرمایا تو لوگ کہنے لگے اللہ کی قسم یہاں ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے اور پیچھے ہمارے بچوں کی نگرانی کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے اور ہم ان کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں، یہ بات نبی ﷺتک پہنچی تو آپ ﷺنے فرمایا: تمہاری یہ کس طرح کی باتیں مجھ تک پہنچی ہیں؟ راوی کہتے ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺنے کس طرح فرمایا اور آپﷺنے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم چاہتے ہو تو میں اپنی اونٹنی پر زین کسنے کا حکم کروں اور جب تک مدینہ نہ پہنچوں اس کی گرہ نہ کھولوں پھر آپ ﷺنے فرمایا :اے اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا تھا اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا حصہ حرم ہے اس میں نہ خون بہایا جائے اور نہ اس میں جنگ کے لئے ہتھیار اٹھائے جائیں اور نہ ہی یہاں کے درختوں کے پتے توڑے جائیں سوائے جانوروں کے چارہ کے۔ اے اللہ ! ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ ! ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما، اے اللہ ! اس میں دوگنی برکت عطا فرما۔اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مدینہ کی ہر گھاٹی اور درہ پر دو فرشتے مقرر ہیں اور تمہارے واپس آنے تک اس کی حفاظت کرتے ہیں پھر آپ ﷺنے لوگوں سے فرمایا: اب نکلو پھر ہم چلے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ،قسم ہے اس ذات کی جس کی ہم قسم کھاتے ہیں کہ ابھی ہم نے مدینہ میں داخل ہو کر سامان نہیں اتارا تھا کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کردیا حالانکہ اس سے قبل ان میں کسی طرح کی کوئی بے چینی نہیں پائی جاتی تھی۔


وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ ».

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah (SAW) said: “O Allah, bless us in our Mudd and Sa, and to each blessing add two more.”

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اے اللہ ہمارے لئے ہمارے صاع میں اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما اور ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں عطا فرما۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ ح وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ - يَعْنِى ابْنَ شَدَّادٍ - كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 3337) was narrated from Yahya bin Abi Kathir with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِىِّ أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ لَيَالِىَ الْحَرَّةِ فَاسْتَشَارَهُ فِى الْجَلاَءِ مِنَ الْمَدِينَةِ وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ وَأَخْبَرَهُ أَنْ لاَ صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلأْوَائِهَا. فَقَالَ لَهُ وَيْحَكَ لاَ آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لأْوَائِهَا فَيَمُوتَ إِلاَّ كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا ».

It was narrated from Abu Sa‘eed, the freed slave of Al-Mahri, that he came to Abu Sa‘eed Al-Khudri during the nights of Al-Harrah, when he consulted him about leaving Al-Madinah, complaining to him about its prices and his large number of dependents, and telling him that he could not bear the hardships and difficulties of Al-Madinah. He said to him: “Woe to you! I do not advise you to do that. I heard the Messenger of Allah (S.A.W) say: ‘No one bears its hardships with patience and dies, but I will intercede for him, or, I will be a witness for him, on the Day of Resurrection, if he is Muslim.”’

ابوسعید مولی مہری سے روایت ہے کہ وہ حرہ کی رات میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے مدینہ سے واپس چلے جانے کے بارے میں مشورہ طلب کیا اور شکایت کی کہ مدینہ میں مہنگائی بہت ہے اور ان کے بال بچے بھی زیادہ ہیں اور یہ بتایا کہ میں مدینہ کی مشقت اور اس کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرسکتا۔ (اس پر) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : تیری بربادی ہو! میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دیتا ہوں ،کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے آپ ﷺفرماتے ہیں کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے اور اسی حال میں اس کی موت آجائے تو میں اس کی سفارش کروں گا یا فرمایا : میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا جبکہ وہ مسلمان ہو۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى أُسَامَةَ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ وَابْنِ نُمَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَبِى سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنِّى حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ». قَالَ ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَجِدُ - أَحَدَنَا فِى يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ.

‘Abdur-Rahman narrated from his father Abu Sa‘eed, that he heard the Messenger ol` Allah (S.A.W) say: “I declare sacred what is between the two lava fields of Al-Madina has (Prophet) Ibrahim declared Makkah sacred.”

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپﷺفرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ میں کسی کے ہاتھ میں پرندہ دیکھ لیتے تو اس کے ہاتھ سے اس کو چھڑا لیتے اور آزاد کر دیتے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ « إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ ».

It was narrated that Sahl bin Hunaif said: “The Messenger of Allah (S.A.W) pointed with his hand towards Al-Madinah and said: ‘It is a secure sanctuary.”’

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے ہاتھ مبارک سے مدینہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: یہ حرم ہے اور امن کی جگہ ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهْىَ وَبِيئَةٌ فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَاشْتَكَى بِلاَلٌ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَكْوَى أَصْحَابِهِ قَالَ « اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِى صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ ».

It was narrated that ‘Aishah said: “We came to Al-Madinah and it was filled with an epidemic. Abu Bakr fell sick and Bilal fell sick. When the Messenger of Allah (S.A.W) saw that his Companions were getting sick, he said: ‘O Allah, make Al-Madinah dear to us as you made Makkah dear, and more so. Make it healthy and bless us in its Sa‘ and Mudd, and transfer its fever to Al-Juhfah.”’

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہو گئے جب رسول اللہ ﷺنے اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بیماری دیکھی تو فرمایا : اے اللہ جس طرح تو نے ہمارے لئے مکہ کو محبوب فرمایا مدینہ کو بھی محبوب فرما دے ،بلکہ اس سے بھی زیادہ محبوب فرما دے اور مدینہ کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمارے لئے مدینہ کے صاع میں اور اس کے مد میں برکت عطا فرما اور مدینہ کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 3342) was narrated from Hisham bin ‘Urwah with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ صَبَرَ عَلَى لأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ».

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah (S.A.W)say: ‘Whoever bears its Madinah’s hardship with patience, I will intercede for him, or will be a witness for him, on the Day of Resurrection.”’

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے گا تو میں اس کے لئے سفارش کروں گا یا قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الأَجْدَعِ عَنْ يُحَنِّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِى الْفِتْنَةِ فَأَتَتْهُ مَوْلاَةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَقَالَتْ إِنِّى أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ. فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ اقْعُدِى لَكَاعِ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَصْبِرُ عَلَى لأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلاَّ كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ».

It was narrated from Yuhannis, the freed slave of Az-Zubair, that he was sitting with ‘Abdullah bin ‘Umar during the Fitnah (turmoil), and a freed slave woman of his came to him and greeted him with Salam, then she said: “I want to leave, O Abu ‘Abdur-Rahman, for times are too hard for us.” ‘Abdullah said: “Stay here, O foolish one I heard the Messenger of Allah say: ‘No one bears its hardship and difficulties* with patience but I will be a witness, or will intercede, for him on the Day of Resurrection.”’

یحنس مولی زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں فتنہ کے دور میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا تھا ان کی آزاد کردہ باندی ان کے پاس آئی اور اس نے آپ کو سلام کیا اور عرض کرنے لگی اے ابوعبدالرحمن! میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں کیونکہ اس وقت حالا ت بہت خراب ہیں(یعنی معاشی حالات) ۔حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: بے وقوف عورت ! یہیں رہو۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں اس کی سفارش کروں گا یا آپ ﷺنے فرمایا: میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِىِّ عَنْ يُحَنِّسَ مَوْلَى مُصْعَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ صَبَرَ عَلَى لأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». يَعْنِى الْمَدِينَةَ.

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) say: ‘Whoever bears its (Madinah’s) hardship and difficulties with patience, I will be a witness for him, or will intercede for him, on the Day of Resurrection,” referring to Al-Madinah.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا ، یا فرمایا: میں اس کے لئے سفارش کروں گا۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَصْبِرُ عَلَى لأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِى إِلاَّ كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ شَهِيدًا ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: “No one of my, Ummah bears the hardship and distress of Al-Madinah with patience, but I will intercede for him on the Day of Resurrection,” or “I will bear witness.” ’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میری امت میں سے جو کوئی بھی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں اس کے لئے قیامت کے دن سفارش کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِى عِيسَى أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ.

Abu Abdullah Al-Qarraz said: “I heard Abu Hurairah say: ‘The Messenger of Allah (S.A.W) said … ”’ a similar Hadith said (as no. 3347).

ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےحسب سابق منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لأْوَاءِ الْمَدِينَةِ ». بِمِثْلِهِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (S.A.W) said: ‘No one bears the hardships of A1-Madinah with patience...”’ a similar Hadith (as no. 3347).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص بھی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔

87. بابُ صِيَانَةِ الْمَدِينَةِ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ وَالدَّجَّالِ إِلَيْهَا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلاَئِكَةٌ لاَ يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلاَ الدَّجَّالُ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah said (S.A.W):‘On the roads leading to Al-Madinah there are Angels and neither the plague nor the Dajjal will enter it.”’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں مدینہ میں نہ طاعون داخل ہوسکتا ہے اور نہ ہی دجال۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِى الْعَلاَءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَأْتِى الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلاَئِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said (S.A.W):“The Dajjal will come from the east, heading for Al-Madinah, until he camps behind Uhud. Then the Angels will turn his face towards Ash-Sham, and there he will perish.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور مدینہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرے گا یہاں تک کہ احد پہاڑ کے پیچھے اترے گا پھر فرشتے اس کا منہ شام کی طرف پھیردیں گے اور وہیں پر ہلاک ہوجائے گا۔

88. بابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُسَمَّى طَابَةٌ وَطَيِّبَةٌ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِى الدَّرَاوَرْدِىَّ - عَنِ الْعَلاَءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَأْتِى عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لاَ يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلاَّ أَخْلَفَ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ أَلاَ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ. لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِىَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِى الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (S.A.W) said: “There will come a time when a man will call his paternal cousin and his relative, saying: ‘Come to a life of ease, come to a life of ease,” but Al-Madinah is better for them, if only they knew. By the One in Whose Hand is my soul, no one of them departs out of dislike for it, but Allah will replace him therein with one who is better than him. Verily Al-Madinah is like a bellows: It eliminates dross. The Hour will not begin until Al-Madinah eliminates its evil ones as the bellows eliminate the impurities of iron.”

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے چچا زاد بھائیوں اور رشتہ داروں کو بلاکر کہے گا کہ جہاں آسانی اور سہولت ہو اس جگہ چلو، عیش و عشرت کی طرف چلو، کاش کہ وہ اس بات جانتے کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہترین جگہ ہے۔قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو شخص مدینہ سے بے رغبت ہوکر چلا جائے گا اللہ اس سے بہتر آدمی کو وہاں آباد کردے گا۔ سنو ! مدینہ ایک بھٹی کی مانند ہے جو میل کچیل کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے ۔اور قیات اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مدینہ خبیث لوگوں کو نکال کر باہر پھینک نہیں دیتا جس طرح لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کو باہر پھینک دیتی ہے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ - فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ يَثْرِبَ وَهْىَ الْمَدِينَةُ تَنْفِى النَّاسَ كَمَا يَنْفِى الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ».

Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (S.A.W) said: ‘I have been enjoined (to go to) a town which supercedes other towns. They say “Yathrrib,” but it is Al-Madinah. It purifies people as the bellows eliminate the impurities of iron.”’

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مجھے اس بستی کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا جو بستیوں کو کھا جاتی ہے ، لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں ، اور وہ مدینہ ہے اور وہ (برے) لوگوں کو اس طرح دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کرتی ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ « كَمَا يَنْفِى الْكِيرُ الْخَبَثَ ». لَمْ يَذْكُرَا الْحَدِيدَ.

It was narrated from Yahya bin Saeed with this chain (a Hadith similar to no. 3353),and they [the narrators] said: “as the bellows eliminate impurities, “but they did not mention iron.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں ہے کہ جس طرح بھٹی میل کچیل کو دور کرتی ہے اور اس میں لوہے کا ذکر نہیں ہے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَصَابَ الأَعْرَابِىَّ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِى بَيْعَتِى. فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِى بَيْعَتِى. فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِى بَيْعَتِى. فَأَبَى فَخَرَجَ الأَعْرَابِىُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِى خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا ».

It was narrated from Jabir bin Abdullah that a Bedouin pledged allegiance to the Messenger of Allah (SAW) then the Bedouin suffered a severe fever in Al-Madinah. He came to the Prophet (S.A.W) and said: “O Muhammad, cancel my oath of allegiance,” but the Prophet (SAW) refused to do so. He came (a second time and) said: “O Muhammad, cancel my oath of allegiance,” but the Messenger of Allah (SAW) refused to do so. Then he came to him (a third time) and said: “Cancel my oath of allegiance,” but he refused. Then he came to him (another time) and said: “O Muhammad, cancel my oath of allegiance,” but he refused. The Bedouin departed (left Al-Madinah) and the Messenger of Allah said: “Al-Madinah is like a bellows, it eliminates its impurities and purifies what is good.”

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺسے بیعت کی ، اس کو مدینہ میں سخت بخار ہوا ، تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا :اے محمد ﷺ! میری بیعت واپس کردو، رسول اللہ ﷺنے انکار کیا ، پھر آیا اور کہنے لگا : میری بیعت واپس کردو ، رسول اللہ ﷺنے انکار کردیا ،وہ پھر آیا اور کہنے لگا : اے محمد! میری بیعت واپس کردو ، آپﷺنے انکار کردیا ، وہ دیہاتی چلا گیا (یعنی مدینہ سے نکل گیا )۔ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: مدینہ بھٹی کی مانند ہے وہ اپنے میل کو دور کرتا ہے اور پاک چیز کو خالص اور صاف کرتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَهُوَ الْعَنْبَرِىُّ - حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِىٍّ - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّهَا طَيْبَةُ - يَعْنِى الْمَدِينَةَ - وَإِنَّهَا تَنْفِى الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِى النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ ».

It was narrated from Zaid bin Thabit that the Prophet (S.A.W) said: “It -meaning Al-Madinah - is Taibah and it eliminates impurities as fire eliminates the impurities of silver.”

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: مدینہ طیبہ ہے او رمیل کچیل کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح آگ چاندی کے میل کو دور کرتی ہے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِىِّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ ».

It was narrated that abu bin Samurahsaid: “I heard the Messenger of Allah(S.A.W) say: ‘Allah [Most High]called Al-Madinah Tabah.”’

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نےرسول اللہ ﷺسے سنا آپﷺفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے ۔

89. بابُ تَحْرِيمْ إرادة أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ وَأَنَّ مَنْ أَرَادَهُمْ بِهِ أَذَابَهُ اللَّهُ

حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنِّسَ عَنْ أَبِى عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَرَادَ أَهْلَ هَذِهِ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ - يَعْنِى الْمَدِينَةَ - أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِى الْمَاءِ ».

It was narrated that Abu Abdullah Al-Qarraz said: “I bear witness that Abu Hurairah said: ‘Abu Al-Qasim (S.A.W) said: “Whoever wishes ill towards the people of this city” - meaning A1-Madinah -“Allah will cause him to melt like salt dissolving in water.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم ﷺنے فرمایا: جو آدمی اس شہر والوں یعنی مدینہ والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ ا س کو اس طرح پگھلا دے گا جیسا کہ نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ح وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِى هُرَيْرَةَ - يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ - يُرِيدُ الْمَدِينَةَ - أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِى الْمَاءِ ». قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِى حَدِيثِ ابْنِ يُحَنِّسَ بَدَلَ قَوْلِهِ بِسُوءٍ شَرًّا.

‘Amr bin Yahya bin ‘Umarah narrated that he heard Al-Qarraz - who was one of ,the companions of Abu Hurairah - say that he heard Abu Hurairah say: “The Messenger of Allah (S.A.W) said: ‘Whoever wishes ill towards its people’ – meaning Al-Madinah - ‘Allah will cause him to melt like salt dissolving in water.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی مدینہ والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ ا س کو اس طرح پگھلا دے گا جیسا کہ نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِى عِيسَى ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِىُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو جَمِيعًا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 3359) was narrated from Abu‘Abdullah A1-Qarraz (He said) that Abu Hurairah heard it from the Prophet (S.A.W).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ أَخْبَرَنِى دِينَارٌ الْقَرَّاظُ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِى وَقَّاصٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِى الْمَاءِ ».

Dinar Al-Qarraz said: “I heard Sa‘d bin Abi Waqqas say: ‘The Messenger of Allah (S.A.W) said: Whoever wishes ill towards the people of Al-Madinah, Allah will cause him to melt like salt dissolving in water.”’

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی مدینہ والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِى ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ الْكَعْبِىِّ عَنْ أَبِى عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ ».

It was narrated from Abu’ Abdullah Al-Qarraz that he heard Sa‘d bin Malik say: “The Messenger of Allah (S.A.W) said..." a similar report (as no. 3361),except that he said: “Whoever wishes a calamity or wishes ill to the people of Al-Madinah.”

ایک اور سند سے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِى عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَسَعْدًا يَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اللَّهُمَّ بَارِكْ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِى مُدِّهِمْ ». وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ « مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِى الْمَاءِ ».

It was narrated that Abu Abdullah Al-Qarraz said: I heard Abu Hurairah and Sa‘d say: “'The Messenger of Allah (S.A.W) said: ‘O Allah, bless the people of Al-Madinah in their Mudd,” and he quoted the Hadith, in which he Said:“ Whoever wishes ill towards its people, Allah will melt him like salt dissolving in water.”

حضرت ابو ہریرہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: اے اللہ ! مدینہ والوں کے مد میں برکت نازل فرما ۔۔۔ آگے مزید یہ فرمایا: جو آدمی مدینہ والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔

90. بابُ التَّرْغِيبِ فِي الْمَدِينَةِ عِنْدَ فَتْحِ الأَمْصَار

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِى زُهَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يُفْتَحُ الشَّامُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ».

It was narrated that Sufyan bin Abu Zuhair said: “The Messenger of Allah (S.A.W) said: ‘Ash-Sham will be conquered and some people will go out from Al-Madinah with their families, driving their livestock, but Al-Madinah is better for them, if only they knew. Then Yemen will be conquered, and some people will go out from Al-Madinah with their families, driving their livestock, but Al-Madinah is better for them, if only they knew. Then Al-‘Iraq will be conquered, and some people will go out from Al-Madinah with their families, driving their livestock, but Al-Madinah is better for them, if only they knew.”’

حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: شام فتح ہوگا تو مدینہ سے ایک قوم اپنے اہل و عیال کو لیکر اونٹ ہنکاتے ہوئے چلی جائے گی ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہترین جگہ تھی کاش کہ وہ جانتے ۔پھر یمن فتح ہوگا تو ایک قوم اپنے اہل و عیال کو لیکر اونٹ ہنکاتے ہوئے مدینہ سے چلی جائے گی ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہترین جگہ تھی کاش کہ وہ جانتے۔ پھر عراق فتح ہوگا تو ایک قوم اپنے اہل و عیال کو لیکر اونٹ ہنکاتے ہوئے مدینہ سے چلی جائے گی ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہترین جگہ تھی کاش کہ وہ جانتے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِى زُهَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِى قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِى قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِى قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ».

It was narrated that Sufyan bin Abu Zuhair said: “I heard the Messenger of Allah (S.A.W) say: ‘Yemen will be conquered and some people will come, driving their livestock; they will bring their families and those who obey them, but Al-Madinah is better for them, if only they knew. Then Ash-Sham will be conquered and some people will come, driving their livestock; they will bring their families and those who obey them, but Al-Madinah is better for them, if only they knew. Then Al-‘lraq will be conquered and some people will come, driving their livestock; they will bring their families and those who obey them, but A1-Madinah is better for them, if only they knew.”’

حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یمن فتح ہوگا تو ایک قوم اونٹ ہنکاتے ہوئے اور اپنے اہل و عیال اور خدام کو لے کر چلی جائے گی ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہترین جگہ تھی کاش !کہ وہ جانتے ۔پھرشام فتح ہوگا تو ایک قوم اونٹ ہنکاتے ہوئے اور اپنے اہل و عیال اور خدام کو لے کر چلی جائے گی ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہترین جگہ تھی کاش !کہ وہ جانتے ۔ پھرعراق فتح ہوگا تو ایک قوم اونٹ ہنکاتے ہوئے اور اپنے اہل و عیال اور خدام کو لے کر چلی جائے گی ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہترین جگہ تھی کاش !کہ وہ جانتے ۔

‹ First78910