71. باب الْحَجِّ عَنِ الْعَاجِزِ لِزَمَانَةٍ وَهِرَمٍ وَنَحْوِهِمَا أَوْ لِلْمَوْتِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ. قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِى الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِى شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ « نَعَمْ ». وَذَلِكَ فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas that he said: “Ali-Fadl bin ‘Abbas was riding behind the Messenger of Allah (SAW) and a woman of Khath’am came to him to ask him a question. Al-Fadl started looking at her and she at him, and the Messenger of Allah turned Al-Fadl’s face to the other side. She said: ‘O Messenger of Allah, the obligation of Hajj has come while my father is an old man who cannot sit firmly on his mount. Can I perform Hajj' on his behalf?’ He said: ‘Yes.’ That was during the Farewell Pilgrimage.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ سوار تھے کہ ایک عورت آئی جو قبیلہ خثعم سے تھی اس نے آپ ﷺسے مسئلہ پوچھا تو حضرت فضل بن عباس اس کی طرف دیکھنے لگے اور وہ اس کی طرف دیکھنے لگی تو رسول اللہ ﷺنے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا ۔ وہ عورت عرض کرتی ہے اے اللہ کے رسول! اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے میرا باپ تو بہت بوڑھا ہے وہ طاقت نہیں رکھتا کہ سواری پر بیٹھ سکے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں ، اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔
حَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِى شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِى الْحَجِّ وَهُوَ لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِىَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ. فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « فَحُجِّى عَنْهُ ».
It was narrated from Ibn ‘Abbas, from Al-Fadl, that a woman from Khath‘am said: “O Messenger of Allah, my father is an old man and he still has to perform the obligation of Hajj, but he cannot sit up straight on the back of his camel.” The Prophet said: “Perform Hajj on his behalf.”
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا باپ بوڑھا ہے ان پر اللہ نے حج فرض کردیا ہے اور وہ اپنے اونٹ کی پشت پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو نبی ﷺنے فرمایا: تم ان کی طرف سے حج کر لو۔
72. باب صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- لَقِىَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ « مَنِ الْقَوْمُ ». قَالُوا الْمُسْلِمُونَ. فَقَالُوا مَنْ أَنْتَ قَالَ « رَسُولُ اللَّهِ ». فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ « نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ».
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (SAW) met some riders in Ar-Rawha’, and he said: “Who are these people?” They said: “Muslims” They said: “Who are you?” He said: “The Messenger of Allah (SAW).” A woman lifted up a child and said: “Is there Hajj' for this one?” He said: “Yes, and you shall have a reward.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺسے روحاء کے مقام پر کچھ سواروں نے ملاقات کی تو آپ ﷺنے فرمایا: تم کون ہو؟ وہ کہنے لگے مسلمان ہیں ۔ پھر انہوں نے کہا آپ کون ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ کا رسول ﷺ۔ ان میں سے ایک عورت نے اپنے بچے کو اٹھا کر عرض کیا کہ اس کا بھی حج ہو جائے گا؟ آپ ﷺنے فرمایا : ہاں اور تجھے بھی اجر ملے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ « نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ».
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A woman lifted up a child of hers and said: ‘O Messenger of Allah, is there Hajj for this one?’ He said: ‘Yes, and you shall have a reward.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو اٹھا کر عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا اس کا حج ہو جائے گا؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں اور تجھے بھی اس کا اجر ملے گا۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ « نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ».
It was narrated from Kuraib that a woman lifted up a child and said: “O Messenger of Allah, is there Hajj for this one‘?” He said: “Yes, and you shall have a reward.”
کریب سے روایت ہے کہ ایک عورت نے بچے کو اٹھا کر عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا اس کا حج ہو جائے گا؟ آپ ﷺنے فرمایا : ہاں اور تجھے بھی اجر ملے گا۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِهِ.
A similar report (as Hadith no. 3254) was narrated from Ibn ‘Abbas.
ایک اور سند سے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
73. باب فَرْضِ الْحَجِّ مَرَّةً فِي الْعُمْرِ
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِىُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا ». فَقَالَ رَجُلٌ أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلاَثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ - ثُمَّ قَالَ - ذَرُونِى مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَىْءٍ فَدَعُوهُ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) addressed us and said: ‘O people, Hajj has been enjoined upon you, so perform Hajj’ A man said: ‘Is it every year, O Messenger of Allah‘?’ He remained silent, until the man said it three times. Then the Messenger of Allah (SAW) said: ‘If I said yes, it would become obligatory, and you would not be able to do it.’ Then he said: ‘Leave me as I have left you; for those who came before you were doomed because of their questions and differences with their Prophets. If I command you to do something, then do as much of it as you can, and if I forbid you to do something, then refrain from it.”’
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے پس تم حج کرو، ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض ہے آپ ﷺخاموش رہے یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ یہی عرض کیا ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر میں ہاں کہتا تو ہرسال حج فرض ہوجاتا اور تم اس کی ادائیگی کی طاقت نہ رکھتے۔پھر آپ ﷺنے فرمایا: جن چیزوں کو میں چھوڑ دیا کروں تم ان کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھا کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور وہ اپنے نبیوں سے اختلاف کرتے تھے جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس پر بقدر استطاعت عمل کیا کرو، اور جب میں کسی چیز سے روک دوں تو اس کو چھوڑ دیا کرو۔
74. باب سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلاَثًا إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ».
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (SAW) said: “No woman should travel for three (days) unless she has a Mahram with her.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : کوئی عورت بغیر محرم کے تین دن کاسفر نہ کرے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. فِى رِوَايَةِ أَبِى بَكْرٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ. وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِى رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِيهِ « ثَلاَثَةً إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ».
It was narrated from ‘Ubaidullah with this chain (a Hadith similar to no. 3258).
According to the report of Abu Bakr: “for more than three days.” Ibn Numair said in his report from his father: “Three days unless she has a Mahram with her.”
ایک اور روایت میں بھی یہی ہے کہ عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلاَثِ لَيَالٍ إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ».
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Prophet (SAW) said: “It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel for a distance of three nights, unless she has a Mahram with her.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتی ہو حلال نہیں ہے (جائز نہیں ہے )کہ وہ تین راتوں کی مسافت کا سفر بغیر محرم کے کرے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ - وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ - عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِى فَقُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا لَمْ أَسْمَعْ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِى هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى ». وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ « لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ يَوْمَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا أَوْ زَوْجُهَا ».
It was narrated that Qaza‘ah said: “I heard a Hadith from Abu Sa‘eed that I liked, and I said to him: ‘Did you hear this from the Messenger of Allah (SAW) He said: ‘Would I attribute to the Messenger of Allah (SAW) something that I did not hear?’ Qaza‘ah said: ‘I heard him say: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Do not set out on a journey to visit any Masjid except three: This Masjid of mine, Al-Masjid AI-Haram and Al-Masjid Al-Aqsa.’ And I heard him say: ‘No woman should travel for two days time unless she has a Mahram with her, or her husband.”
قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث سنی جو مجھے بہت اچھی لگی چنانچہ میں نے ان سے کہا کیا یہ حدیث رسول اللہ ﷺسے آپ نے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا میں رسول اللہ ﷺکی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کرسکتا ہوں جو میں نے آپﷺ سے نہ سنی ہو؟راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :تین مسجدوں کے سوا کسی کی طرف سامان سفر مت باندھو : میری یہ مسجد، مسجد حرام ، اور مسجد اقصیٰ ۔ اور میں نے آپ ﷺسے یہ بھی سنا ہے آپ ﷺفرماتے ہیں کہ کوئی عورت دو دن کا سفر بغیر محرم یا خاوند کے نہ کرے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ قَزَعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَرْبَعًا فَأَعْجَبْنَنِى وَآنَقْنَنِى نَهَى أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ. وَاقْتَصَّ بَاقِىَ الْحَدِيثِ.
Qaza‘ah said: “I heard Abu Sa’eed Al-Khudri say: ‘I heard four things from the Messenger of Allah (SAW) that I liked and which captivated me: He forbade a woman to travel two days’ distance unless she had her husband or a Mahram with her,”’ and he quoted the rest of the Hadith (a Hadith similar to no. 3267).
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے چار باتیں سنی ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں۔ آپ ﷺنے عورت کو دو دن کی مسافت کا سفر کرنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ اس کے ساتھ شوہر یا محرم ہو۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلاَثًا إِلاَّ مَعَ ذِى مَحْرَمٍ ».
It was narrated that Abu Sa‘eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘No Woman should travel for three days, unless she has a Mahram with her.”’
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : کوئی عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم اس کے ساتھ ہو۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ - قَالَ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تُسَافِرِ امْرَأَةٌ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ إِلاَّ مَعَ ذِى مَحْرَمٍ ».
It was narrated from Abu Sa‘eed Al-Khudri that the Prophet of Allah (SAW) said: “No woman should travel for more than three nights, except with a Mahram.”
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی عورت تین راتوں سے زیادہ سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم اس کے ساتھ ہو۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثٍ إِلاَّ مَعَ ذِى مَحْرَمٍ ».
It was narrated from Qatadah with this chain (a Hadith similar to no. 3261). He said: “More than three, except with a Mahram.”
قتادہ کی روایت میں ہے کہ کوئی عورت بغیر محرم کے تین دن سے زیادہ سفر نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلاَّ وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا ».
Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘It is not permissible for a Muslim woman to travel the distance of one night, unless she has with her a man who is her Mahram.”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کسی مسلمان عورت کے لئے ایک رات کی مسافت کا سفر کرنا جائز نہیں مگر اس کے ساتھ کوئی محرم شخص ہو۔
حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى ذِئْبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ إِلاَّ مَعَ ذِى مَحْرَمٍ ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (SAW) said: “It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel the distance of one day, except with a Mahram.”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ارشاد فرمایا: کسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں ہے کہ وہ ایک دن کی مسافت کا سفر بغیر کسی محرم کے کرے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلاَّ مَعَ ذِى مَحْرَمٍ عَلَيْهَا ».
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (SAW) said: “It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel the distance of one day and one night, except with a Mahram of hers.”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتی ہو جائز نہیں ہےکہ وہ ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفربغیر محرم کے کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِى ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ ثَلاَثًا إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا ».
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘It is not permissible for a woman to travel for three days, unless she has a Mahram of hers with her.”’
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کسی عورت کے لئے جائز نہیں ہےکہ وہ تین دن کا سفربغیر محرم کے کرے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا - عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا يَكُونُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلاَّ وَمَعَهَا أَبُوهَا أَوِ ابْنُهَا أَوْ زَوْجُهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا ».
It was narrated that Abu Sa‘eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel a journey of three days or more, unless she has her father with her, or her son, her husband, her brother or a Mahram of hers.”’
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ سفر کرے مگر یہ کہ اس کاوالد، یا بیٹا، یا خاوند، یا بھائی،یا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
Waki‘ narrated: “Al-A‘mash narrated a similar (as no. 3270) report with this chain.”
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِى مَعْبَدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ يَقُولُ « لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَلاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ إِلاَّ مَعَ ذِى مَحْرَمٍ ». فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِى خَرَجَتْ حَاجَّةً وَإِنِّى اكْتُتِبْتُ فِى غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا. قَالَ « انْطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ ».
It was narrated from Abu Ma’bad: I heard Ibn ‘Abbas say: I heard the Prophet (SAW) delivering a Khutbah and saying: “No man should be alone with a woman without there being a Mahram present, and no woman should travel unless she has a Mahrarn with her.” A man stood up and said: “O Messenger of Allah, my wife has set out for Hajj and I have enlisted for such and such a campaign.” He said: “Go and perform Hajj' with your wife.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺسے سنا آپ ﷺخطبہ دیتے ہوئے فرمارہے تھے کہ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے مگر یہ کہ اس کا محرم اس کے ساتھ ہو، اور کوئی عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے ۔ایک آدمی کھڑے ہوکر عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ! میری بیوی حج کے لئے نکلی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھ دیا گیا ہے آپ ﷺنے فرمایا: تم بھی اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرٍو بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
A similar report (as no. 3272) was narrated from ‘Amr with this chain.
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ - يَعْنِى ابْنَ سُلَيْمَانَ - الْمَخْزُومِىُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ « لاَ يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ».
A similar report (as no. 3272) was narrated from Ibn Juraij with this chain, but he did not mention (the words): “No man should be alone with a woman without there being a Mahram present.”
ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے لیکن اس میں یہ نہیں ہے کہ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ بغیر محرم کے تنہائی میں نہ رہے۔
75. بابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ إِذَا رَكِبَ دَابَتَهُ مُتَوَجِّهًا لِسَفَرِ حَجٍّ أَوْ غَيْرِهِ وَبَيَانِ الْأَفْضَلِ مِنْ ذَلِكَ الذِّكْرِ
حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ عَلِيًّا الأَزْدِىَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ « سُبْحَانَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِى سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِى السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِى الأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِى الْمَالِ وَالأَهْلِ ». وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ. وَزَادَ فِيهِنَّ « آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ».
‘Ali Al-Azdi narrated that Ibn ‘Umar taught them that when the Messenger of Allah (SAW) mounted his camel and set out on a journey, he would say the Takbir three times, then say: “Subhan Allah alladhi sakhkhara lana lahu muqrinin, wa inna ila rabbinna I-munqalibun Allaihumma [inna] nas’aluka fi safarina hadha al-birra wat-taqwa. Allahumma hawwin ‘alaina safarana hadha watwi ‘anna bu'dahu. Allahumma antas-sahibu fis-safari, wal-khalifatu fil-ahli Allahumma inni a ‘udhu bika min wa’tha’is-safari wa kabatil-manzari wa suw’il-munqalab fil-mali wal-ahli (Glory be to Allah Who has placed this (transport) at our service and we ourselves would not have been capable of that, and to our Lord is our final destiny. O Allah, [we] ask You for righteousness and piety in this journey of ours, and We ask You for deeds which please You. O Allah, make our journey easy and let us cover its distance quickly. O Allah, You are the Companion on the journey and the Successor (the One Who guards them in a person’s absence) over the family. O Allah, I seek refuge with You from the difficulties of travel, from becoming distressed and an ill-fated outcome with regard to wealth and family.)” And when he returned, he said the same words and added: “A’ibuna ta’ibuna ‘abiduna lirabbina hamidun (Returning, repenting, worshipping and praising our Lord.)”
علی ازدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں بتلایا کہ رسول اللہ ﷺجب بھی کسی سفر پر جانے کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوجاتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے ، پھر فرماتے ( سبحان الذی سخرلنا ہذا و ما کنا مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون) (الزخرف) ترجمہ: پاک ہے وہ ذات کہ جس نے ہمارے لئے اسے مسخر فرما دیا اور ہم اسے مسخر کرنے والے نہ تھے اور ہم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں، (پھر یہ دعا مانگے) اے اللہ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا اور ان اعمال کا سوال کرتے ہیں کہ جن سے تو راضی ہوتا ہے اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہم پر آسان فرما اور اس کی مسافت کو تہہ فرما دے، اے اللہ! تو ہی اس سفر میں ہمارا رفیق ہے اور گھر والوں کا نگہبان ہے اے اللہ! میں سفر کی تکلیفوں اور رنج وغم سے اور اپنے مال اور گھر والوں کے برے انجام سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب آپ ﷺسفر سے واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے اور ان میں ان کلمات کا اضافہ فرماتے ہم واپس آنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔
حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِى الأَهْلِ وَالْمَالِ.
It was narrated that ‘Abdullah bin Sarjis said: “When the Messenger of Allah (SAW) traveled, he would seek refuge with Allah from the hardships of travel, from bad consequences, from a bad situation after a good situation, from the supplication of one who has been wronged, and from an ill-fated outcome with regard to family and wealth.”
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب کسی سفر پر جاتے تھے تو سفر کی تکلیفوں سے، اور برے انجام سے ،اور آرام کے بعد تکلیف سے اور مظلوم کی بد دعا سے ،اور اہل اور مال میں برے انجام سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنِى حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ كِلاَهُمَا عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ فِى الْمَالِ وَالأَهْلِ. وَفِى رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ خَازِمٍ قَالَ يَبْدَأُ بِالأَهْلِ إِذَا رَجَعَ. وَفِى رِوَايَتِهِمَا جَمِيعًا « اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ».
A similar report (as no. 3276) was narrated from ‘Asim with this chain, except that in the Hadith of ‘Abdul-Wahid (a narrator) it says: “With regard to wealth and family.” In the report of Muhammad bin Hazim it says family first when he returns. And in the report of both it says: “Allahumma, inni a’udhu bika min wa’tha’is-safar (O Allah, I seek refuge with You from the difficulties of travel.)”
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے صرف چند الفاظ کا فرق ہے ۔
76. بابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَجَعَ مِنْ سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا قَفَلَ مِنَ الْجُيُوشِ أَوِ السَّرَايَا أَوِ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ إِذَا أَوْفَى عَلَى ثَنِيَّةٍ أَوْ فَدْفَدٍ كَبَّرَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ « لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ».
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “When the Messenger of Allah (SAW) returned from a battle or expedition, or from Hajj' or ‘Umrah, when he reached the top of a hillock or high ground, he would say the Takbir three times, then he would say: ‘La ilaha illa Allahu wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu wa huwa ‘ala kulli shay’in qadir, a’ibuna ta’ibuna ‘abiduna sajiduna lirabbina hamidun, sadaq Allahu wa‘dahu wa nasara ‘abdahu wa hazamal-ahzaba wahdah (There is none worthy of worship but Allah alone, with no partner or associate, His is the Dominion, to Him be praise, and He has power over all things. Returning, repenting, worshipping and prostrating to our Lord and praising Him. Allah has fulfilled His promise, supported His slave and defeated the confederates alone.)”’
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب بھی کسی لشکر یا جہاد یا حج وعمرہ سے واپس لوٹتے تو کسی ٹیلے پر یا کسی ہموار میدان میں آتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے پھر فرماتے (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر)یعنی اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور کوئی شریک نہیں اسی کے لئے سلطنت اور اسی کے لئے تعریف ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے ، ہم لوٹ کر آنے والے، توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، سجدہ کرنے والے ، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا ، اپنے بندے کی مدد کی ، اور اکیلے تمام لشکروں کو شکست دی۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِى ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ عَنْ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ إِلاَّ حَدِيثَ أَيُّوبَ فَإِنَّ فِيهِ التَّكْبِيرَ مَرَّتَيْنِ.
A similar report (as no. 3278) was narrated from Ibn Umar, from the Prophet (SAW), but in the Hadith of Ayyub (a narrator) it says that he said the Takbir twice.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ. وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ قَالَ « آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ». فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ.
Anas Bin Malik said: “We came with the Prophet (SAW), Abu Talha and I, and Safiyyah was riding behind on his camel. Then when we were on the outskirts of Al-Madinah he said: ‘A’ibuna ta’ibuna, abiduna lirabbina hamidun (Returning, repenting, worshipping and praising our Lord)’ and he kept saying it until we entered Al-Madinah”
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺکے ساتھ واپس آرہے تھے اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺکے پیچھے آپ ﷺکی اونٹنی پر سوار تھیں یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺنے فرمایا : (آئبون تائبون عابدون لربنا حامدون) ہم لوٹ کر آنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں حمد بیان کرنے والے ہیں یہاں تک کہ آپ ﷺیہی کلمات فرماتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔
وَحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.
A similar report (as no. 3280) was narrated from Anas Bin Malik, from the Prophet (SAW).
ایک اور سند سے حضرت انس بن مالک سے ایسی ہی روایت منقول ہے
77. بابُ اسْتِحْبَابِ النُزُولِ بِبَطْحَاءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَغَيْرِهِمَا فَمَرَّ بِهَا.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِى بِذِى الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
It was narrated from Abdullah Bin Umar that the Messenger of Allah (SAW) made his camel kneel down in Al-Batha which is in Dhul- Hulaifah, and he prayed there. And Abdullah also used to do that.
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ذو الحلیفہ کی کنکریلی زمیں میں اپنا اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، راوی نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِىُّ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ -وَاللَّفْظُ لَهُ -قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُنِيخُ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِى بِذِى الْحُلَيْفَةِ الَّتِى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُنِيخُ بِهَا وَيُصَلِّى بِهَا.
It was narrated that Nafi Said:”Ibn’Umar used to stop in Al-Batha which is in Dhul- Hulaifah where the Messenger Of Allah (SAW) used to stop and pray.”
حضرت نافع سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذو الخلیفہ کی کنکریلی زمیں میں اپنا اونٹ بٹھاتے تھے جس میں رسول اللہ ﷺاپنا اونٹ بٹھاتے تھے اور وہاں نماز پڑھتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِىُّ حَدَّثَنِى أَنَسٌ - يَعْنِى أَبَا ضَمْرَةَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِى بِذِى الْحُلَيْفَةِ الَّتِى كَانَ يُنِيخُ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
It was narrated from Nafi that whenever Abdullah Bin Umar came back from Hajj or Umrah, he would stop in Al-Batha which is in Dhul- Hulaifah where the Messenger Of Allah (SAW) used to stop.
حضرت نافع سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج یا عمرہ سے واپسی پر ذو الخلیفہ کی کنکریلی زمیں میں اپنا اونٹ بٹھاتے تھے جس میں رسول اللہ ﷺاپنا اونٹ بٹھاتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى - وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ - عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُتِىَ فِى مُعَرَّسِهِ بِذِى الْحُلَيْفَةِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ.
It was narrated from Salim, from his father, that someone came to The Messenger Of Allah(SAW) when he stopped in Dhul-Hulaifah and it was said to him: “You are on blessed stony ground (Batha).”
حضرت سالم اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے آخری حصہ میں ذوا لحلیفہ پہنچے آپ سے کہا گیا کہ یہ بطحاء مبارکہ ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ - وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أُتِىَ وَهُوَ فِى مُعَرَّسِهِ مِنْ ذِى الْحُلَيْفَةِ فِى بَطْنِ الْوَادِى فَقِيلَ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ. قَالَ مُوسَى وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمُنَاخِ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِى كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ بِهِ يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِى بِبَطْنِ الْوَادِى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ.
It was narrated from Salim bin Abdullah bin Umar, from his father, that someone came to The Prophet (SAW) when he stopped in Dhul-Hulaifah at the bottom of the valley, and it was said :” You are on blessed stony ground(Batha). ”
Musa Said:”Salim made his camel kneel near the Masijd where Abdullah used to stop, seeking the place where The Messenger of Allah (SAW) stopped, which is lower than the Masjid in the Bottom of the valley, between it and the Qiblah, in the middle. ”
سالم اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺکے پاس ایک فرشتہ آیا اس حال میں کہ آپ ﷺذو الحلیفہ کی وادی میں رات کے آخری حصہ میں پہنچے ہوئے تھے آپ ﷺسے کہا گیا کہ آپ ﷺبطحاء مبارکہ میں ہیں ۔موسیٰ راوی کہتے ہیں کہ سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اس جگہ اونٹ بٹھایا جس جگہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹ بٹھاتے تھے اور اس جگہ کو تلاش کرتے تھے کہ جس جگہ رسول اللہ ﷺرات کے آخری حصہ میں اترتے تھے اور وہ جگہ اس مسجد کی جگہ سے نیچی ہے جو کہ بطن وادی میں ہے اور وہ جگہ مسجد اور قبلہ کے درمیان میں ہے۔
78. بابُ لاَ يَحُجُّ الْبَيْتَ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَبَيَانُ يَوْمِ الْحَجِّ الأَكْبَرِ
حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ ح وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَنِى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فِى الْحَجَّةِ الَّتِى أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِى رَهْطٍ يُؤَذِّنُونَ فِى النَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ يَوْمُ النَّحْرِ يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ. مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِى هُرَيْرَةَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: “During the Hajj that The Messenger Of Allah(SAW) appointed him in charge of, before the Farewell Pilgrimage, Abu Bakr As-Saddiq sent me among a group of people to announce the people on the day of Sacrifice: ‘After this year no idolator may perform Hajj, and no naked person may circumambulate the House’”
Ibn Shihab said:”Humaid bin Abdur-Rahman used to say: ‘The day of sacrifice is the greatest day of Hajj, according to Hadith of Abu Hurairah.’”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں حجۃ الوداع سے قبل رسول اللہ ﷺنے جس حج کا امیر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا اس حج میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے قربانی کے دن ایک جماعت کے ساتھ یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی برہنہ ہوکر بیت اللہ کا طواف کرے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ حمید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی وجہ سے کہتے تھے کہ یوم النحر ہی حج اکبر کا دن ہے۔
79. بابُ فَضْلِ يَوْمِ عَرَفَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ يَقُولُ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِى بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ ».
It was narrated that Ibn Al-Musayyab said: “Aishah said: ‘The Messenger Of Allah (SAW) said: ‘There is no day when Allah ransoms more slaves from the fire than the day of Arafat. He draws near, then He boasts about them before the Angles and Says: ‘What do these people want?””
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن اپنے بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا اور اللہ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے کہ یہ بندے کس ارادے سے آئے ہیں؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سُمَىٍّ مَوْلَى أَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ ».
It was narrated from Abu Hurairah that The Messenger Of Allah (SAW) said: “From one Umrah to the next is an expiation for whatever(of sin) comes in between, and an accepted Hajj (Al-Hajjul-Mabrur) brings no reward but Paradise.”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور ( نیکیوں والا حج ) کا بدلہ صرف جنت ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ سُهَيْلٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ سُمَىٍّ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
A Hadith similar to that of Malik bin Anas (no.3298) was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (SAW).
ایک اور سند سے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ».
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger Of Allah (SAW) said: “Whoever comes to this House and does not utter any obscene speech or do any evil deed, will go back (sinless) as his mother bore him.””
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو آدمی بیت اللہ آئے اور پھر نہ تو وہ بے ہودہ گفتگو کرے اور نہ ہی گناہ کے کام کرے تو وہ اس حال میں واپس لوٹے گا جیسا کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے ابھی پیدا ہوا ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِى عَوَانَةَ وَأَبِى الأَحْوَصِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِى حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا « مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ ».
It was narrated from Mansur (and other) with this chain (a Hadith similar to no.3291).And in all their Ahadith it says: “Whoever performs Hajj and does not utter any obscene speech or do any evil deed.”
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے ، اس میں یہ ہے کہ جس نے حج کیا ، نہ تو بیہودہ باتیں کیں اور نہ کوئی گناہ کیا ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
A similar report (as no.3291) was narrated from Abu Hurairah, from Prophet (SAW).
ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
80. بابُ نُزُولِ الحَاجِّ بِمَكَّةَ لِلْحَاجِّ وَتَوْرِيثِ دُورِهَا
حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَلِىَّ بْنَ حُسَيْنٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَهُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْزِلُ فِى دَارِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ « وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ ». وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلاَ عَلِىٌّ شَيْئًا لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ.
It was narrated from Usama bin Zaid bin Harithah that he said: “O Messenger Of Allah (SAW), will you stay in your house in Makkah?” He said: “Did Aqil leave us any house?”
Aqil and Talib had inherited from Abu Talib, and Jafar and Ali did not inherit anything, because they were Muslims and Aqil and Talib were disbelievers.
حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ مکہ میں اپنے مکان پر اتریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:کیا عقیل نے ہمارے لئے مکہ میں کوئی زمین یا کوئی گھر چھوڑا ہے؟ عقیل اور طالب، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے ترکہ میں سے کچھ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کافر تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِىُّ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ - قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ - عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عَلِىِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا وَذَلِكَ فِى حَجَّتِهِ حِينَ دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ. فَقَالَ « وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلاً ».
It was narrated from Usama bin Zaid: “I said: ‘O Messenger Of Allah (SAW), where will you stay tomorrow? That was during his pilgrimage, when he drew close to Makkah. He said: “Has Aqil left any house for us?.””
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حجۃ الوداع کے موقع پر جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! کل آپ کہاں اتریں گے ؟ آپﷺنے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا ہے ؟
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِىِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ. قَالَ « وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ ».
It was narrated from Usama bin Zaid that he said: “O Messenger Of Allah (SAW), where will you stay tomorrow, if Allah wills?” That was time of the Conquest. He said:” Has Aqil left any house for us?”
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر اللہ نے چاہا تو کل آپ ﷺ کہاں اتریں گے؟ اور یہ فتح مکہ کا زمانہ تھا آپ ﷺ نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی مکان چھوڑا ہے؟