41. بابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِ
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ وَعَمْرٌو ح وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنِى ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ ثُمَّ قَالَ أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلاَ أَنِّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ. زَادَ هَارُونُ فِى رِوَايَتِهِ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِى بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ.
It was narrated from Salim that his father told him: “Umar bin Al-Khattab kissed the (Black) Stone, then he said: ‘By Allah, I know that you are just a stone, and were it not that I saw the Messenger of Allah (SAW) kissing you I would not have kissed you.’”
Harun added in his report: “Amr said: ‘And Zaid bin Aslam narrated a similar report to me from his father.’”
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا پھر اس سے مخاطب ہوکر فرمایا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اگر میں نے رسول اللہ ﷺکو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَقَالَ إِنِّى لأُقَبِّلُكَ وَإِنِّى لأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَكِنِّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُقَبِّلُكَ.
It was narrated from Ibn Umar that Umar kissed the Stone and said: “I am kissing you, although I know that you are just a stone, but I saw the Messenger of Allah (SAW) kiss you.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھاوہ تجھے بوسہ دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَالْمُقَدَّمِىُّ وَأَبُو كَامِلٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ - قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ - عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ رَأَيْتُ الأَصْلَعَ - يَعْنِى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّى لأُقَبِّلُكَ وَإِنِّى أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَأَنَّكَ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ وَلَوْلاَ أَنِّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ. وَفِى رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِىِّ وَأَبِى كَامِلٍ رَأَيْتُ الأُصَيْلِعَ.
It was narrated that Abdullah bin Sarjis said: “I saw the bald one” – meaning Umar bin Al-Khattab- “kissing the Stone and saying: ‘By Allah, I am kissing you, although I know that you are just a stone, and you can neither cause harm nor bring benefit. Were it not that I saw the Messenger of Allah (SAW) kiss you, I would not have kissed you.’”
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں اللہ کی قسم! اے حجر اسود میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ تو نقصان دے سکتا ہے اور نہ ہی تو نفع دے سکتا ہے اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺکو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ إِنِّى لأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلاَ أَنِّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ.
It was narrated that Abis bin Rabiah said: “I saw Umar kissing the stone and saying: ‘I am kissing you, although I know that you are just a stone. Were it not that I saw the Messenger of Allah (SAW) kissing you, I would not have been kissed you.’”
حضرت عابس بن ربیعہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺکو تجھے بوسہ دیتے ہوئے دیکھا نہ ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ - عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِكَ حَفِيًّا.
It was narrated that Suwaid bin Ghalafa said: ‘I saw the Umar kissing the Stone and clinging to it, and he said: “I saw the Messenger of Allah (SAW) taking an interest in you.”’
حضرت سوید بن غفلہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا وہ تجھے بہت چاہتے تھے۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَلَكِنِّى رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ -صلى الله عليه وسلم- بِكَ حَفِيًّا. وَلَمْ يَقُلْ وَالْتَزَمَهُ.
Abdur-Rahman narrated from Sufyan with this chain (a hadith similar to no.3071). He said: “But I saw Abu Al-Qasim showing great interest in you,” and he did not mention clinging to it.
ایک اور سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ابو القاسم ﷺکو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بہت چاہتے تھے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ وہ حجر اسود سے چمٹ گئے تھے۔
42. بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ وَاسْتِلاَمِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ
حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- طَافَ فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ.
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah (SAW) circumambulated the House during the Farewell Pilgrimage on a camel, and he touched the Corner with a crooked staff.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر طواف کیا اور چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْبَيْتِ فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ لأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ.
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (SAW) circumambulated the House during the Farewell Pilgrimage , on his mount, touching the (Black) Stone with his crooked staff, so that the people could see him and so that he could see them, and so that they could ask him questions, for the people had crowded around him.”
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں بیت اللہ کا طواف اپنی سواری پر کیا اور اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرمایا تاکہ بلند ہونے کی وجہ سے لوگ آپ ﷺ کو دیکھ لیں اور لوگ آپ ﷺ سے مسائل وغیرہ پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا۔
وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِى ابْنَ بَكْرٍ - قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ طَافَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ. وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ خَشْرَمٍ وَلِيَسْأَلُوهُ فَقَطْ.
Jabir bin Abdullah said: “During the Farewell Pilgrimage, the Prophet (SAW) circumambulated the House and went between As-Safa and Al-Marwah on his mount, so that the people could see him and so that he could see them, and so that they could ask him questions, for the people had crowded around him.”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تاکہ بلند ہونے کی وجہ سے لوگ آپ ﷺ کو دیکھ لیں اور لوگ آپ ﷺ سے مسائل وغیرہ پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا۔
حَدَّثَنِى الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِىُّ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَافَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُضْرَبَ عَنْهُ النَّاسُ.
It was narrated that Aishah said: “During the Farewell Pilgrimage the Prophet (SAW) circumambulated the Kabah on his camel and touched the Corner, lest the people be beaten away from him.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں لوگوں کے ہٹائے جانے کو ناپسند کرنے کے سبب سے اپنے اونٹ پر کعبہ کے گرد طواف کیا ، اور حجر اسود کا استلام کیا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ.
Maruf bin Kharrabudh said: “I heard Abu At-Tufail say: ‘I saw the Messenger of Allah (SAW) circumambulating the House and touching the Corner with a crooked staff that he had with him, and kissing the crooked staff.’”
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نےدیکھا رسول اللہ ﷺبیت اللہ کا طواف کررہے تھے اور اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے تھے اور پھر اس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنِّى أَشْتَكِى فَقَالَ « طُوفِى مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ». قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَئِذٍ يُصَلِّى إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِ (الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ ).
It was narrated that Umm Salamah said: “I complained to the Messenger of Allah (SAW) that I was sick and he said: ‘Circumambulate behind the people riding.’ She said: ‘So I circumambulated (the Kabah), and at that time the Messenger of Allah (SAW) was praying beside the House, and reciting: By the Tur (Mount). And by the Book inscribed. ’”
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے شکایت کی میں بیمار ہوں تو آپ ﷺنے فرمایا: سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے طواف کر لے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ ﷺبیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور وہ نماز میں (والطور و کتاب مسطور) پڑھ رہے تھے۔
43. بابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لاَ يَصِحُّ الْحَجُّ إِلاَّ بِهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ لَهَا إِنِّى لأَظُنُّ رَجُلاً لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ. قَالَتْ لِمَ قُلْتُ لأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ. فَقَالَتْ مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلاَ عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا. وَهَلْ تَدْرِى فِيمَا كَانَ ذَاكَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا يُهِلُّونَ فِى الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُمَا إِسَافٌ وَنَائِلَةٌ. ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَحْلِقُونَ. فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا لِلَّذِى كَانُوا يَصْنَعُونَ فِى الْجَاهِلِيَّةِ قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ) إِلَى آخِرِهَا - قَالَتْ - فَطَافُوا.
It was narrated from Hisham bin Urwah that his father said: “I said to Aishah: ‘I think that if a man does not go between As-Safa and Al-Marwah, it does not matter.’ She said: ‘Why?’ I said: ‘Because Allah, the Most High, says: “Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or Umrah of the House to perform the going (Tawaf) between them (As-Safa and Al-Marwah). And whoever does good voluntarily, then verily, Allah is All-Recogniser, All-Knower.” She said: ‘A person’s Hajj or Umrah is not complete if he does not go between As-Safa and Al-Marwah. If it was as you say, then it would be: “It is not sin on him if he does not go between them.” Do you know what that was revealed about? That was revealed about the Ansar (the people of Yathrib) who during the Jahiliyyah used to enter Ihram for two idols by the sea shore, which were called Isaf and Nailah. Then they would come and run between As-Safa and Al-Marwah, then they would shave their heads. When Islam came, they did not like to go between them, because of what they used to do during the Jahiliyyah.’ She said: “Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: “Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the symbols of Allah …’ then they went between them.”’”
حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ کوئی آدمی اگر صفا ومروہ کے درمیان طواف نہ کرے تو کوئی نقصان نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگی کیوں؟ میں نے عرض کیا قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں جو آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اور صفا و مروہ کا طواف کرلے تو کوئی حرج نہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگی : اللہ تعالیٰ اس آدمی کا حج اور عمرہ قبول نہیں کرے گا جو ان کے درمیان طواف نہیں کرے گا۔اور اگر اس طرح ہوتا جس طرح تم نے سمجھا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: جو شخص صفا و مروہ میں سعی نہیں کرے گا تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تم جانتے ہو کہ اس آیت کا شان نزول کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ساحلی سمندر پر دو بت اساف اور نائلہ رکھے ہوئے تھے انصار ان کے نام کا احرام باندھتے تھے ، پھر صفا و مروہ میں جاکر سعی کرتے تھے ، اور اس کے بعد سر منڈاتے تھے ۔ جب اسلام آیا تو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی سعی کے خیال سے صفا و مروہ کے درمیان سعی کو مکروہ جانا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی صفا اور مروہ میں طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔۔۔ آخر تک ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر انہوں نے طواف کیا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِى أَبِى قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا أَرَى عَلَىَّ جُنَاحًا أَنْ لاَ أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. قَالَتْ لِمَ قُلْتُ لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ) الآيَةَ. فَقَالَتْ لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا.
إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِى أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِى الْجَاهِلِيَّةِ فَلاَ يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- لِلْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآيَةَ فَلَعَمْرِى مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
Hisham bin Urwah said: My father told me: I said to Aishah: “I do not think there is any sin on me if I do not go between As-Safa and Al-Marwah.” She said: “Why?” I said: “Because Allah, the Mighty and Sublime says: ‘Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the Symbols of Allah …’ –mentioning the verse. She said: “if it was as u say, then it would be: ‘It is not a sin on him if he does not go between them.’ This was revealed concerning some of the Ansar who, when they entered Ihram during the Jahiliyyah, they entered Ihram for Manat, and they thought that it was not permissible for them to go between As-Safa and Al-Marwah. When they came with the Messenger of Allah (SAW) for Hajj, they mentioned that to him, and Allah, the Mighty and Sublime, revealed this verse. By Allah, a person’s Hajj is not complete if he does not go between As-Safa and Al-Marwah.””
حضرت عروہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ اگر میں صفا ومروہ کے درمیان طواف نہ کروں تو مجھ پر کوئی گناہ نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کیوں؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں( ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ )صفا مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان طواف کرے ۔حضرت عائشہ نے فرمایا: جس طرح تم کہہ رہے ہو اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: اگر وہ صفا اور مروہ کا طواف نہ کریں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ حقیقت میں یہ آیت انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ، جو زمانہ جاہلیت میں منات کا احرام باندھتے تھے اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو حلال نہیں سمجھتے تھے ، جب وہ نبی ﷺکے ساتھ حج کو گئے تو انہوں نے آپ سے اس چیز کا ذکر کیا ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ پس مجھے اپنی جان کی قسم! جو شخص صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرے گا اس کا حج اللہ پورا نہیں کرے گا۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِىَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا وَمَا أُبَالِى أَنْ لاَ أَطُوفَ بَيْنَهُمَا. قَالَتْ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِى طَافَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَكَانَتْ سُنَّةً وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِى بِالْمُشَلَّلِ لاَ يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا كَانَ الإِسْلاَمُ سَأَلْنَا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ( إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا) وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ لَكَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا. قَالَ الزُّهْرِىُّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ. وَقَالَ إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ. وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالاً مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ إِنَّمَا كَانَ مَنْ لاَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ يَقُولُونَ إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ. وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الأَنْصَارِ إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ). قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِى هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ.
It was narrated that Urwah bin Az-Zubair said: “I said to Aishah, the wife of Prophet (SAW). ‘I do not think it matters if someone does not go between As-Safa and Al-Marwah, and I do not mind but I do not go between them.’ She said: “What a bad thing you have said, O son of my sister! The Messenger of Allah (SAW) went between them and so did the Muslims, and it became Sunnah (prescribed). Rather those who entered Ihram for the false goddess Manat who was in Al-Mushallal did not go between As-Safa and Al-Marwah. When Islam came, we asked the Prophet (SAW) about that, and Allah, the Mighty and Sublime, revealed: “Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or Umrah of the House to perform the going (Tawaf) between them (As-Safa and Al-Marwah) …” If it was as you say, it would be: ‘it is not a sin on him if he does not go between them.’” ”
Az-Zuhri said: “I mentioned that to Abu Bakr bin Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham, and he was impressed by it, and said: “This is knowledge. I heard some of the scholars say: “Those among the Arabs who did not go between As-Safa and Al-Marwah said that going between these two rocks was a matter of Jahiliyyah. Others among the Ansar said: ‘We are only commanded to circumambulate the House, and we are not commanded to go between As-Safa and Al-Marwah.’ Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: “Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the Symbols of Allah …’”””
Abu Bakr bin Abdur-Rahman said: “I think that it was revealed concerning both groups.”
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺکی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا میری یہ رائے ہے کہ اگر کوئی صفا ومروہ کے درمیان طواف نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور میں بھی اس میں طواف نہ کرنے کی پرواہ نہیں کرتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اے میرے بھانجے! تم نے یہ غلط کہا ہے ۔رسول اللہ ﷺنے صفا ومروہ کے درمیان طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی طواف کیا اور یہی سنت ہے اور جو لوگ مشلل میں منات بت کا احرام باندھتے تھے وہ لوگ صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے تو جب اسلام آیا اور اس بارے میں ہم نے نبیﷺسے پوچھا تو اللہ نے آیت نازل فرمائی۔ ترجمہ: صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تو جو آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے ۔اور اگر اس طرح ہوتا جیسا کہ تم کہتے ہو تو یہ آیت اس طرح ہوتی کہ ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کریں۔ امام زہری کہتے ہیں کہ میں نے ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام سے اس کا ذکر کیا تو وہ حضرت عائشہ کے جواب سے خوش ہوئے اور کہا یہی دراصل علم ہے۔اور میں نے اہل علم میں سے بہت سے لوگوں سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ عرب کے لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف اس لیے نہیں کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ان دو پتھروں کے درمیان ہمارا طواف کرنا جاہلیت کے زمانہ کے کاموں میں سے ہے۔اور دوسرےلوگ انصار یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں بیت اللہ کے طواف کا حکم ہے نہ کہ صفا و مروہ کے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میری خیال یہ ہے کہ یہ آیت ان دونوں جماعتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِى الْحَدِيثِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا) قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا فَلَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا.
It was narrated that Ibn Shihab said: Urwah bin Az-Zubair said: ‘I asked Aishah …’ and he quoted a similar hadith (as no. 3081). H said in the hadith: “When they asked the Messenger of Allah (SAW) about that they said: ‘O Messenger of Allah (SAW), we used to feel reluctant to go between As-Safa and Al-Marwah.’ Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: ‘Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or Umrah of the House to perform the going (Tawaf) between them (As-Safa and Al-Marwah). … ’ Aishah said: “The Messenger of Allah (SAW) established the going between them as Sunnah, so no one should forsake going between them.’”
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا اور پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی اور اس حدیث میں ہے کہ جب انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺسے پوچھا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺہم صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج خیال کرتے ہیں تو اللہ تعالی نے آیت نازل فرمائی ترجمہ۔ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تو جو کوئی شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو مسنون قرار دیا ہے تو اب کسی کے لئے بھی جائز نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو ترک کر دے۔
وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِى آبَائِهِمْ مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِى ذَلِكَ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ)
It was narrated from Urwah bin Az-Zubair that Aishah told him that before the Ansar became Muslim, they and (the tribe of) (Ghassan) used to enter Ihram for Manat, and they felt reluctant to go between As-Safa and Al-Marwah, because they had been the practice of their forefathers; the one who entered Ihram for Manat did not go between As-Safa and Al-Marwah. They asked the Messenger of Allah (SAW) about that when they accepted Islam, and Allah, the Mighty and Sublime, revealed: ‘Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or Umrah of the House to perform the going (Tawaf) between them (As-Safa and Al-Marwah). And whoever does good voluntarily, then verily, Allah is All-Recogniser, All -Knower.’
حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ انصار اور غسان اسلام قبول کرنے سے قبل منات کے نام احرام باندھتے تھے تو اس وجہ سے وہ صفا و مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج محسوس کرتے ۔اور یہ ان کے آباواجداد کا طریقہ تھا کہ جو منات کے لئے احرام باندھتا تو وہ صفا مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتا تھا ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺسے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالی نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ترجمہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تو جو کوئی آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرے اور جو کوئی نفلی نیکی کرے گا تو اللہ قدر دان اور جاننے والا ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى نَزَلَتْ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا)
It was narrated that Anas said: “The Ansar did not like to go between As-Safa and Al-Marwah until Allah revealed: ‘Verily, As-Safa and Al-Marwah are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or Umrah of the House to perform the going (Tawaf) between them (As-Safa and Al-Marwah) … ’”
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ انصار صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے یہاں تک کہ آیت نازل ہوئی ترجمہ صفا اور مروہ اللہ تعالی کے نشانیوں میں سے ہے تو جو آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے۔
44. بابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ لاَ يُكَرَّرُ
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمْ يَطُفِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَلاَ أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلاَّ طَوَافًا وَاحِدًا.
Jabir bin Abdullah said: “The Messenger of Allah (SAW) and his Companions did not go between As-Safa and Al-Marwah except once.”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺاور آپ ﷺکے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک مرتبہ طواف کیا۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ وَقَالَ إِلاَّ طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الأَوَّلَ.
Ibn Juraij narrated a similar Hadith (as no. 3085) with this chain, and he said:….“ except once; the first Tawaf.”
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ وہی پہلا طواف کیا تھا۔
45. بابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى حَرْمَلَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الشِّعْبَ الأَيْسَرَ الَّذِى دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ فَبَالَ ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ثُمَّ قُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ « الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ». فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَدَاةَ جَمْعٍ.
قَالَ كُرَيْبٌ فَأَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَزَلْ يُلَبِّى حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ.
It was narrated that Usamah bin Zaid said: “I rode behind the Messenger of Allah (SAW) from Arafat. When the Messenger of Allah (SAW) reached the left-hand pass that is before Al-Al-Mudalifah, he dismounted and urinated, then he came, and I poured water for Wudu for him, and he did a light Wudu. Then I said: ‘The prayer, O Messenger of Allah (SAW).’ He said: ‘The prayer is still a head of you.’ Then the Messenger of Allah (SAW) rode until he came to Al-Al-Muzdalifah, where he prayed. Then Al-Fadl rode behind the Messenger of Allah (SAW) on the morning of Jam (Al-Muzdalifah).”
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں عرفات سے رسول اللہ ﷺکے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا تو جب رسول اللہ ﷺمزدلفہ کے بائیں طرف ایک گھاٹی پر پہنچے تو آپ ﷺنے اپنا اونٹ بٹھایا اور پھر آپ ﷺنے پیشاب کیا پھر آپ ﷺآئے اور میں نے آپ ﷺکو وضو کروایا تو آپ ﷺنے ہلکا مختصر وضو کیا پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! نماز کا وقت ہوگیا ہے تو آپ ﷺنے فرمایا کہ نماز آگے ہے پھر رسول اللہ ﷺسوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ تشریف لائے تو آپ ﷺنے نماز پڑھی پھر رسول اللہ ﷺنے مزدلفہ کی صبح حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا ۔ راوی کریب کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا : کہ رسول اللہ ﷺتلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرہ تک پہنچ گئے۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ كِلاَهُمَا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ - قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ أَخْبَرَنِى ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ قَالَ فَأَخْبَرَنِى ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَزَلْ يُلَبِّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ.
It was narrated from Ata: “Ibn Abbas informed me that Al-Fadl rode behind the Prophet (SAW) from Jam (Al-Muzdalifah).” He said: “And Ibn Abbas told me that Al-Fadl told him, that the Prophet (SAW) continued to recite the Talbiyah until he stoned the Jamrat Al-Aqabah.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺنے حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مزدلفہ سے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا حضرت فضل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺتلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ تک کنکریاں مارنے کے لئے پہنچ گئے۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنِى اللَّيْثُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِى مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ فِى عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا « عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ». وَهْوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا - وَهُوَ مِنْ مِنًى - قَالَ « عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِى يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ ». وَقَالَ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُلَبِّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ.
It was narrated from Ibn Abbas, from Al-Fadl bin Abbas, who rode behind the Messenger of Allah (SAW), that he (the Messenger of Allah (SAW)) said – on the evening of Arafat and the morning of Jam (Al-Muzdalifah) – to the people as they were moving on: “Keep calm.” He was restraining his she-camel, until he entered Muhassir, which is part of Mina. He said: “Pick up the pebbles the size of board beans with which to stone the Jamrah.”
He said: And the Messenger of Allah (SAW) continued to recite the Talbiyah until he stoned the Jamrah.
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے حضرت فضل کہتے ہیں کہ آپ ﷺعرفہ کی شام اور اگلے دن یعنی مزدلفہ کی صبح لوگوں سے فرماتے کہ آرام سے چلو اور آپ ﷺاپنی اونٹنی کو روکتے ہوئے جاتے یہاں تک کہ آپ ﷺوادی محسر میں داخل ہو گئے اور محسر منی میں ہے آپ ﷺنے فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ جمرہ کو کنکریاں مارنے کے لئے کنکریاں چن لو حضرت فضل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑھتے رہے۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِى الْحَدِيثِ وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُلَبِّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ. وَزَادَ فِى حَدِيثِهِ وَالنَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الإِنْسَانُ.
Abu Az-Zubair narrated it with this chain (a Hadith similar to no.3089), except that he did not mention in the Hadith that the Messenger of Allah (SAW) continued to recite the Talbiyah until he stoned the Jamrah. And he added in his Hadith: “And the prophet (SAW) demonstrated with his hand how to throw the pebbles.”
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے صرف اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آپ ﷺ جمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑھتے رہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺاپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ فرماتے جس طرح کہ چٹکی سے پکڑ کر انسان کنکری مارتا ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَنَحْنُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِى أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِى هَذَا الْمَقَامِ « لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ».
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: “Abdullah said, when we were in Jam (Al-Muzdalifah): ‘I heard the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed, saying in this place: “Labbayk Allahumma labbayk.”’”
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم مزدلفہ میں تھے تو میں نے آپ ﷺپر نازل کی گئی سورۃالبقرہ سنی آپ ﷺاس مقام پر لبیک اللہم لبیک پڑھ رہے تھے۔
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الأَشْجَعِىِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ أَعْرَابِىٌّ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَسِىَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا سَمِعْتُ الَّذِى أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِى هَذَا الْمَكَانِ « لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ».
It was narrated from Abdur-Rahman bin Yazid that Abdullah recited the Talbiyah when he departed from Jam (Al-Muzdalifah), and it was said: “Is he a Bedouin?” ‘Abdullah said: “Have the people forgotten or gone astray? I heard the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed, saying in this place: ’Labbayk Allahumma labbayk.’”’
حضرت عبدالرحمن بن یز ید سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس وقت مزدلفہ سے واپس ہوئے تو تلبیہ پڑھتے رہے لوگ کہنے لگے یہ دیہاتی آدمی ہیں؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا لوگ بھول گئے یا گمراہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ذات سے سنا کہ جس پر سورۃالبقرہ نازل کی گئی ہے وہ اس جگہ فرما رہے تھے لبیک اللہم لبیک ۔
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Husiyn with his chain (a Hadith similar to no. 3092).
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِىُّ حَدَّثَنَا زِيَادٌ - يَعْنِى الْبَكَّائِىَّ - عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الأَشْجَعِىِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَالأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالاَ سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِى أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَا هُنَا يَقُولُ « لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ». ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ.
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid and Al-Aswad bin Yazid said: “We heard Abdullah bin Masud say in Jam (Al-Muzdalifah): ‘I heard the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed, saying here: “Labbayk Allahumma labbayk.”’ Then he recited the Talbiyah and we recited it with him.”
حضرت عبدالرحمن بن یزید اور حضرت اسود بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ دونوں فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے اس ذات سے سنا کہ جس پر یہاں سورۃ البقرہ نازل کی گئی آپ ﷺفرما رہے تھے لبیک اللہم لبیک پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پڑھا۔
46. باب التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذِّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِىُّ حَدَّثَنِى أَبِى قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّى وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ.
It was narrated from Abdullah bin Abdullah bin Umar that his father said: “We set out in the morning with the Messenger of Allah (SAW) from Mina to Arafat, some of us reciting the Talbiyah and some of us saying the Takbir.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم اگلے دن صبح کو رسول اللہ ﷺکے ساتھ منی سے عرفات کی طرف گئے کوئی ہم میں سے تلبیہ پڑھ رہا تھا اور کوئی ہم میں سے تکبیر پڑھ رہا تھا۔
وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِىُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى غَدَاةِ عَرَفَةَ فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْكُمْ كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصْنَعُ
It was narrated that Abdullah bin Abdullah bin Umar that his father said: “We were with the Messenger of Allah (SAW) on the morning of Arafat, and some of us were saying the Takbir and some were reciting the Talbiyah. As for us, we were reciting the Takbir.” I (the narrator) said: “By Allah, how strange it is that you did not ask him: ‘What did you see the Messenger of Allah (SAW) doing.’”
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم عرفہ کی صبح کو رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہہ رہا تھا اور کوئی لا الہ الا اللہ کہہ رہا تھا باقی ہم تکبیر کہہ رہے تھے۔ راوی نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا اللہ کی قسم ! بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کیوں نہیں پوچھا کہ رسول اللہ ﷺکیا پڑھ رہے تھے؟
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ الثَّقَفِىِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِى هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ.
It was narrated from Muhammad bin Abi Bakr Ath-Thaqafi that he asked Anas bin Malik, when they were going from Mina to Arafat in the morning: ‘What did you do on this day with the Messenger of Allah (SAW)? ’ He said: ‘Some of us recited the Talbiyah and no one criticized them, and some of us recited the Takbir and no one criticized them.’
حضرت محمد بن ابو بکر ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتےہیں کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا جس وقت وہ دونوں منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے کہ آپ آج کے دن (عرفہ کے دن) میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ کیا کرتے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کوئی ہم میں سے لا الہ الا اللہ پڑھتا تھا تو اس سے کوئی منع نہیں کرتا تھا ، اور کوئی اللہ اکبر کہتا تھا تو اس سے بھی منع نہیں کیا جاتا تھا۔
وَحَدَّثَنِى سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِى التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ قَالَ سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابِهِ فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ وَلاَ يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ.
Muhammad bin Abi Bakr said: “I said to the Anas bin Malik on the morning of Arafat: ‘What do you say about reciting Talbiyah on this day?’ He said: ‘I travelled this road with the Prophet (SAW) and his Companions, and some of us recited the Takbir and some of us recited the Talbiyah, and none of us criticized his Companions.’”
حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا آپ عرفہ کی صبح تلبیہ پڑھنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور آپ ﷺکے صحابہ اس سفر میں نبی ﷺکے ساتھ تھے تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہہ رہا تھا اور کوئی ہم میں سے کوئی لا الہ الا اللہ کہہ رہا تھا تو ہم میں سے کوئی بھی اپنے کسی ساتھی کو منع نہیں کرتا تھا۔
47. باب الإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلاَتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمْعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ فَقُلْتُ لَهُ الصَّلاَةَ. قَالَ « الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ». فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِى مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلاَّهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
It was narrated from Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas , that he heard Usammah bin Zaid say: “The Messenger of Allah (SAW) set out from Arafat, and when he was in the mountain pass he dismounted and urinated, then he performed Wudu, but not thoroughly. I said to him: ‘The prayer is still ahead of you.’ Then he rode, and when he came to Al-Muzdalifah he dismounted and performed Wudu thoroughly. Then the Iqamah for prayer was called and he prayed Maghrib, then each person made his camel kneel down in his place, then the Iqamah for Isha was called, and prayed it, and he did not offer any prayer in between.”
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺعرفہ سے واپس لوٹے توایک گھاٹی میں اترکر پیشاب کیا ۔پھر وضو فرمایا اور وضو میں آپ ﷺنے پانی زیادہ نہیں بہایا مختصر وضو کیا حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺسے عرض کیا ”نماز“ آپ ﷺنے فرمایا : نماز تمہارے آگے ہے یعنی آگے چل کر پڑھیں گےپھر آپ ﷺسوار ہوئے ، جب مزدلفہ میں آئے تو اترے اور مکمل وضو فرمایا پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو آپﷺنے مغرب کی نماز پڑھی ، پھر ہر آدمی نے اپنے اونٹ کو اس کی جگہ پر بٹھادیا ، پھر عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو آپﷺنے نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ فَقُلْتُ أَتُصَلِّى فَقَالَ « الْمُصَلَّى أَمَامَكَ ».
It was narrated that Usamah bin Zaid said: “After departing from Arafat, the Messenger of Allah (SAW) went to one of these mountain passes and relieved himself, then I poured water for him, and I said: ‘Are you going to pray?’ He said: ‘The prayer is still ahead of you.’”
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺعرفات سے واپسی پر قضاء حاجت کے لئے کسی گھاٹی کی طرف گئے۔پھر میں نے آپ ﷺکو وضو کرایا تو میں نے عرض کیا : کیا آپ ﷺنماز پڑھیں گے ؟آپ ﷺنے فرمایا : نماز کی جگہ آگے ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ - وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ أَرَاقَ الْمَاءَ - قَالَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ - قَالَ - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلاَةَ. قَالَ « الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ». قَالَ ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
It was narrated that Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas said: “I heard Usamah bin Zaid say: ‘The Messenger of Allah (SAW) departed from Arafat, and when he reached the pass he dismounted and urinated’ – and Usamah did not say that he passed water. He said: ‘He called for water and performed Wudu, but not thoroughly.’ I said: “O Messenger of Allah, the prayer.” He said: “The prayer is still ahead of you.” Then he traveled on until he reached Jam (Al-Muzdalifah), and he prayed Maghrib and Isha.”
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺعرفات سے واپسی پر ایک گھاٹی میں اترے اور پیشاب کیا (اس حدیث میں حضرت اسامہ نے وضو کرانے کا ذکر نہیں کیا) پھر آپﷺنے پانی منگواکر مختصر وضو فرمایا۔حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! نماز کا وقت ہوگیا ۔آپ ﷺنے فرمایا کہ نمازتمہارے آگے ہے یعنی آگے چل کر پڑھیں گے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺچلے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے وہاں آپ ﷺنے مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِى كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَقَالَ جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِى يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَاقَتَهُ وَبَالَ - وَمَا قَالَ أَهَرَاقَ الْمَاءَ - ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلاَةَ. فَقَالَ « الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ». فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِى مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلُّوا قُلْتُ فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ قَالَ رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِى سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَىَّ.
Kuraib narrated that he asked Usamah bin Zaid: “What did you do when you rode behind the Messenger of Allah (SAW) on night of Arafat?” He said: “We came to the pass where the people halt their camels for Maghrib, and the Messenger of Allah (SAW) halted his camel and urinated” – and he did not say: “he passed water.” “Then he called for water for Wudu, and he performed Wudu, but not thoroughly. I said: ‘O Messenger of Allah, the prayer.’ He said: ‘The prayer is still ahead of you.’ Then he rode until we came to Al-Muzdalifah, and he prayed Maghrib. Then the people halted in their places, but they did not unload their camels until he prayed Isha. Then they unloaded them.” I said: “What did you do the next morning?” He said: “Al-Fadl bin Abbas rode behind him, and I went on foot with those of the Quraish who went on ahead.”
کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا جس وقت تم عرفہ کی شام کو رسول اللہ ﷺکے پیچھے سوار ہوئے تھے تو اس کے بعد آپ نے کیا کیا تھا؟ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اس گھاٹی میں آئے جس میں لوگ مغرب کی نماز کے لئے اپنے اونٹوں کو بٹھاتے تھے رسول اللہ ﷺنے بھی اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور پیشاب کیا (اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو کرانے کا ذکر نہیں فرمایا) پھر آپ ﷺنے وضو کے لئے پانی منگوایا اور مختصر وضو کیا پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! نمازکا وقت ہوگیا ۔آپ ﷺنے فرمایا : نماز تمہارے آگے ہے یعنی آگے چل کر پڑھتے ہیں پھر ہم سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آگئے ،مغرب کی اقامت ہوئی پھر لوگوں نے اونٹوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا دیا اور پھر انہیں نہیں کھولا یہاں تک کہ عشاء کی نماز کی اقامت ہوئی اور آپ ﷺنے نماز پڑھائی پھر لوگوں نے اپنے اونٹوں کو کھولا۔ راوی کہتے ہیں پھر میں نے پوچھا: تم نے صبح کے وقت کیا کیا تھا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺنے اپنے پیچھے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو بٹھایا اور میں قریش کے پہلے جانے والوں کے ساتھ پیدل تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِى يَنْزِلُهُ الأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ - وَلَمْ يَقُلْ أَهْرَاقَ - ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلاَةَ. فَقَالَ « الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ».
It was narrated from Usamah bin Zaid that when the Messenger of Allah (SAW) came to the mountain pass in which the leaders used to halt, he dismounted and urinated – and did not say: he passed water. Then he called for water for Wudu and performed a light Wudu. I said: “O Messenger of Allah, the prayer.” He said: “The prayer is still ahead of you.”
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب اس گھاٹی پر آئے جس جگہ امراء اترتے ہیں آپ ﷺاترے اور پیشاب کیا –اس حدیث میں وضو کرانے کا ذکر نہیں کیا - پھر آپ ﷺنے وضو کے لئے پانی منگوایا، مختصر وضو کیا ۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوگیا ۔ آپﷺنے فرمایا : نماز تمہارے آگے ہے یعنی آگے چل کر پڑھیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى سِبَاعٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
It was narrated from Usamah bin Zaid that he was riding behind the Messenger of Allah (SAW) when he departed from Arafat. When he came to the pass he halted his mount, then he went to relieved himself. When he came back, I poured water for him from the jug and I performed Wudu, then he rode and came to Al-Muzdalifah, where he joined Maghrib and Isha (prayer).
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں جب رسو ل اللہ ﷺ میدان عرفات سے واپس لوٹے تو میں آپﷺکے پیچھے سواری پر تھا ، جب آپﷺگھاٹی کے پاس آئے تو آپ ﷺنے اپنی سواری کو بٹھایا پھر آپ ﷺقضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے اور جب آپ ﷺلوٹے تو میں نے برتن میں پانی لے کر آپ ﷺکو وضو کروایا پھر آپ ﷺسوار ہوئے اور مزدلفہ آئے اور وہاں آپ ﷺنے مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھا۔
حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِى سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ قَالَ أُسَامَةُ فَمَازَالَ يَسِيرُ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا.
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah (SAW) moved on from Arafat, and Usamah rode behind him. Usamah said: “He kept travelling in his manner until he reached Jam (Al-Muzdalifah).”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺعرفہ سے واپس لوٹے تو حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺکی سواری پر آپ ﷺکے پیچھے سوار تھے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺچلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ آگئے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ - قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ أَوْ قَالَ سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ.
Hisham narrated that his father said: “Usamah was asked, when I was present” – or he said: “I asked Usamah bin Zaid, whom the Messenger of Allah (SAW) had made behind him from Arafat: ‘How did the Messenger of Allah (SAW) travel when he departed from Arafat?’ He said: ‘He made his camel trot, then when he found an open space he made it Gallop.’”
حضرت ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیا اور میں بھی وہاں موجود تھا یا فرمایا کہ میں نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا اور انہیں رسول اللہﷺ نے عرفات سے واپسی پر اپنے پیچھے سوار کیا تھا ۔ میں نے کہا: رسول اللہ ﷺعرفات سے جس وقت واپس ہوئے تو کیسے چل رہے تھے؟ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺآہستہ چل رہے تھے تو جب کشادگی ہوتی تو تیز رفتار ہو جاتے تھے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِى حَدِيثِ حُمَيْدٍ قَالَ هِشَامٌ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
It was narrated from Hisham bin Urwah with this chain (a Hadith similar to no. 3106). And in the Hadith of Humaid, he added: “Hisham said: ‘Galloping is faster than trotting.’”
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِى عَدِىُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِىَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ.
Abu Ayyub narrated that he prayed Maghrib and Isha at Al-Muzdalifah with the Messenger of Allah (SAW) during the Farewell Pilgrimage.
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی پڑھی۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِى رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِىِّ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
It was narrated from Yahya bin Saeed with this chain (a Hadith similar to no. 3108). Ibn Rumh said in his report: “It was narrated from Abdullah bin Yazid Al-Khutmi, who was governor of Al-Kufah during the time of Ibn Az-Zubair.”
ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔ ابن رمح نے عبد اللہ بن یزید خطمی کی روایت میں یہ بیان کیا کہ وہ عبد اللہ بن زبیر کے دور میں کوفہ کے امیر تھے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا.
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (SAW) prayed Maghrib and Isha together in Al-Muzdalifah.
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی پڑھی۔
وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ. فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّى بِجَمْعٍ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ تَعَالَى.
It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah bin Umar that his father said: “The Messenger of Allah (SAW) joined Maghrib and Isha (prayers) in Al-Muzdalifah, with no prostration (meaning, no other prayer) between them. He prayed Maghrib with three Rakah and he prayed Isha with two Rakah.”
Abdullah used to pray like that in Jam (Al-Muzdlifah), until he met Allah the most High.
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہیں اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺنے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز(سنن اور نوافل وغیرہ) نہیں پڑھیں اور آپ ﷺنے مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی دو رکعتیں پڑھیں ۔ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی طرح اکٹھی نمازیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالی سے جا ملے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صَلَّى مِثْلَ ذَلِكَ وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ.
It was narrated from Ibn Umar that he prayed like that (as in Hadith no. 3111), and Ibn Umar narrated that the Prophet (SAW) did that.
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھیں پھر انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ انہوں نے بھی اسی طرح نماز پڑھی اور حضرت ابن عمر نے بیان کیا کہ نبیﷺ اسی طرح کرتے تھے۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ صَلاَّهُمَا بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ.
Shubah narrated it with this chain (a Hadith similar to no.3111) and said: He (SAW) prayed them with one Iramah.
ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِىُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ.
It was narrated that Ibn Umar said: “The Messenger of Allah (SAW) joined Maghrib and Isha in Jam (Al-Muzdalifah); he prayed Maghrib with three Rakah and Isha with two Rakah, with one Iqamah.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ ﷺنے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کے درمیان اکٹھی نماز پڑھی مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعت ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھی۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى هَذَا الْمَكَانِ.
Saeed bin Jubair said: “We moved on with Ibn Umar until we reached Jam (Al-Muzdalifah), then he let us in praying Maghrib and Isha, with one Iqamah, then he finished (the prayer) and said: ‘This is how the Messenger of Allah (SAW) led us in prayer in this place.’”
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچے تو انہوں نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھائیں پھر واپس لوٹے اور فرمایا کہ یہ نماز رسول اللہ ﷺنے ہمیں اسی مقام پر اسی طرح پڑھائی۔
48. باب اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلاَةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى صَلاَةً إِلاَّ لِمِيقَاتِهَا إِلاَّ صَلاَتَيْنِ صَلاَةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا.
It was narrated that ‘Abdullah said: “I did not see the Messenger of Allah (SAW) offer any prayer except at a regular time, except in two cases: Maghrib and Isha in Jam‘(Al-Muzdalifah) and he prayed Fajr on that day before the time he regularly prayed it.”
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکوہمیشہ اپنے وقت پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا سوائے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کے ،آپ نے ان دونوں نمازوں کو جمع کرکے پڑھا اور فجر کی نماز اس کے عام وقت سے پہلی پڑھی۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ.
It was narrated from Al-Amash with this chain (a Hadith similar to no. 3116). He said: “Before the time (he regularly prayed it), when it was still dark.”
ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے اس میں ہے کہ آپﷺنے صبح کی نماز اس کے معروف وقت سے قبل اندھیرے میں پڑھی۔
49. باب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ دَفْعِ الضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى فِي أَوَاخِرِ اللَّيْلِ قَبْلَ زَحْمَةِ النَّاسِ وَاسْتِحْبَابِ الْمُكْثِ لِغَيْرِهِمْ حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمُزْدَلِفَةَ
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ - يَعْنِى ابْنَ حُمَيْدٍ - عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً - يَقُولُ الْقَاسِمُ وَالثَّبِطَةُ الثَّقِيلَةُ - قَالَ فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ وَلأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ.
It was narrated that Aishah said: “On the night of Al-Muzdalifah, Sawdah asked the Messenger of Allah (SAW) for permission to move on ahead of him and ahead of the mass of people, as she was a heavy woman, and he gave her permission. She set out before he did, and we waited until dawn came, then we set out when he did. If I had asked the Messenger of Allah (SAW) for permission as Sawdah did, and had moved on with his permission, that would be dearer to me than anything else.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مزدلفہ کی رات رسول اللہ ﷺسے اجازت مانگی کہ وہ آپ ﷺسے پہلے منیٰ چلی جائیں اور لوگوں کے ہجوم سے پہلے نکل جائیں کیونکہ وہ بھاری بدن کی عورت تھیں آپ ﷺنے حضرت سودہ کو اجازت دے دی اور وہ آپ ﷺکے لوٹنے سے قبل روانہ ہوگئیں، اور ہم رکے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر ہم آپ ﷺکے ساتھ لوٹے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر میں بھی رسول اللہ ﷺسے حضرت سودہ کی طرح اجازت لیتی او رآپ کی اجازت سے چلی جاتی تو یہ میرے لیے اس سے بہتر تھا جس سے میں خوش ہورہی تھی۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِىِّ - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَيْتَنِى كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ وَكَانَتْ عَائِشَةُ لاَ تُفِيضُ إِلاَّ مَعَ الإِمَامِ.
It was narrated that Aishah said: “Sawdah was a large and heavy woman, so she asked the Messenger of Allah (SAW) for permission to depart form Jam‘(Al-Muzdalifah) at night, and he gave her permission.”
Aishah said: “Would that I had asked the Messenger of Allah (SAW) for permission as Sawdah did.” Aishah used to depart only with the Imam.
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھاری بدن والی عورت تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے رسول اللہ ﷺسے مزدلفہ سے رات ہی کو واپس آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺنے انہیں اجازت دی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ کاش میں بھی رسول اللہ ﷺسے اجازت مانگتی جیسا کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ ﷺسے اجازت مانگی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مزدلفہ سے امام کے ساتھ ہی واپس جایا کرتی تھیں۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّى كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأُصَلِّى الصُّبْحَ بِمِنًى فَأَرْمِى الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِىَ النَّاسُ. فَقِيلَ لِعَائِشَةَ فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ قَالَتْ نَعَمْ إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَذِنَ لَهَا.
It was narrated that Aishah said: “I wish that I had asked the Messenger of Allah (SAW) for permission as Sawdah did, then I would pray Subh in Mina and stone the Jamrah before the people come.”
It was said to Aishah: “Did Sawdah asked him for permission?” She said: “Yes. She was a large and heavy woman, so she asked the Messenger of Allah (SAW) for permission, and he gave her permission.”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺسے اجازت مانگوں جس طرح کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت مانگی اور صبح کی نماز منیٰ میں پڑھتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں مار لیتی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا گیا کیا حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ ﷺسے اجازت مانگی تھی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: ہاں، کیونکہ وہ ایک بھاری جسم کی عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺسے اجازت طلب کی اور آپﷺنے اجازت عطا فرما دی۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ.
A similar report (as no. 3120) was narrated from Abdur-Rahman bin Al-Qasim with this chain.
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ قَالَ قَالَتْ لِى أَسْمَاءُ وَهْىَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لاَ. فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَىَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَتِ ارْحَلْ بِى. فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ ثُمَّ صَلَّتْ فِى مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا أَىْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا. قَالَتْ كَلاَّ أَىْ بُنَىَّ إِنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَذِنَ لِلظُّعُنِ.
Abdullah, the freed slave of Asma, said: “Asma said to me, while she was in the area of Al-Muzdalifah: ‘Has the moon set?’ I said: ‘No.’ So she prayed for a while, then she said: ‘O my son, has the moon set?’ I said: ‘Yes.’ She said: ‘Set out with me.’ So we set out until she stoned the Jamrah, then she prayed where she stopped. I said to her: ‘O my lady, we set out when it was still dark.’ She said: ‘No, O my son. The Prophet (SAW) gave permission to the women.’ ”
حضرت اسماء کے غلام عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اس حال میں کہ وہ دار مزدلفہ کے پاس تھیں کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں تو حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کچھ وقت نماز پڑھی پھر فرمایا اے میرے بیٹے! کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا چلو میرے ساتھ ہم چلے یہاں تک کہ حضرت اسماء نے جمرہ کو کنکریاں ماریں پھر انہوں نے اپنی جگہ میں نماز پڑھی میں نے عرض کیا ہم نے بہت جلدی کی ہے حضرت اسماء نے فرمایا ہرگز نہیں اے میرے بیٹے ! نبی ﷺنے عورتوں کے جلدی جانے کی اجازت دی ہے۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِى رِوَايَتِهِ قَالَتْ لاَ أَىْ بُنَىَّ إِنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَذِنَ لِظُعُنِهِ.
It was narrated from Ibn Juraij with this chain (a Hadith similar to no. 3122). According to his report: she said: “No, O my son. The Prophet of Allah (SAW) gave permission to his womenfolk.”
ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت اسماء نے کہا کہ نبی ﷺنے اپنی زوجہ مطہرہ کو سفر کی اجازت دی تھی۔
حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ أَنَّ ابْنَ شَوَّالٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ بِهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ.
It was narrated from Ibn Juraij: “Ata informed me that Ibn Shawwal informed him, that he entered upon Umm Habibah and she told him that the Prophet (SAW) sent her for Jam (Al-Muzdalifah) at night.”
ابن شوال کہتے ہیں کہ وہ ام حبیبہ کی خدمت میں آئے انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺنے انہیں رات کے وقت ہی مزدلفہ بھیج دیا تھا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى. وَفِى رِوَايَةِ النَّاقِدِ نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ.
It was narrated that Umm Habibah said: “We used to do that at the time of Prophet (SAW) we would set out from Jam (Al-Muzdalifah) to Mina when it was still dark.” In the narration of Al-Nadiq: “From Al-Muzdalifah when it was still dark.”
ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے دور میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف اندھیرے میں ہی روانہ ہو جاتی تھیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ بَعَثَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الثَّقَلِ - أَوْ قَالَ فِى الضَّعَفَةِ - مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ.
It was narrated that Ubaidullah bin Abi Yazid said: “I heard Ibn Abbas say: ‘The Messenger of Allah (SAW) sent me with a luggage’ – or he said: ‘with the weak ones’ – from Jam (Al-Muzdalifah) at night.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے سامان کے ساتھ یا ضعیف لوگوں میں بھیجا جن کو رات میں مزدلفہ سے پہلے روانہ کردیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى ضَعَفَةِ أَهْلِهِ.
Ibn Abbas said: “I am one of those whom the Messenger of Allah (SAW) sent on ahead with the weak ones of his family.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے اہل کے جن کمزوروں کو پہلے بھیج دیا تھا میں بھی ان میں سے تھا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى ضَعَفَةِ أَهْلِهِ.
It was narrated that Ibn Abbas said: “I was among those whom the Messenger of Allah (SAW) sent on ahead with the weak ones of his family.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے اہل کے جن کمزوروں کو پہلے بھیج دیا تھا میں بھی ان میں سے تھا۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ بِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِى ثَقَلِ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
قُلْتُ أَبَلَغَكَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ بِى بِلَيْلٍ طَوِيلٍ قَالَ لاَ إِلاَّ كَذَلِكَ بِسَحَرٍ. قُلْتُ لَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ. وَأَيْنَ صَلَّى الْفَجْرَ قَالَ لاَ إِلاَّ كَذَلِكَ.
It was narrated from Ata that Ibn Abbas said: “The Messenger of Allah (SAW) sent me before dawn from Jam (Al-Muzdalifah) with the luggage of the Prophet of Allah (SAW).”
I (one of the narrators) said: “Have you heard about that Ibn Abbas said: ‘He sent me in the latter part of the night.’” He said: “No, it was just what I said: ‘before dawn.’” I said to him: “Ibn Abbas said: ‘We stoned the Jamrah before dawn.’ But where did he pray Fajr?” He said: “No, that’s all he told me.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺنے اپنا سامان دے کر مزدلفہ سے سحری کے وقت بھیجا۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کیا تجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے آپ ﷺنے رات کو بہت پہلے بھیج دیا تھا انہوں نے کہا : نہیں بلکہ یہ کہا : وہ سحری کا وقت تھا ۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ کیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے فجر سے پہلے جمرہ کو کنکریاں ماریں اور فجر کی نماز کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا : نہیں صرف اتنی بات کہی۔
وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلاَةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوُا الْجَمْرَةَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَرْخَصَ فِى أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
Salim bin Abdullah narrated that Abdullah bin Umar used to send the weak ones among his family on ahead, and they would stay at Al-Mashar Al-Haram in Al-Muzdalifah at night, remembering Allah as much as they wanted. Then they would move on before the Imam stood and before he moved on. Some of them arrived in Mina for Fajr prayer, and some arrived after that. When they arrived, they stoned the Jamrah. Ibn Umar used to say: “The Messenger of Allah (SAW) granted a concession for them.”
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر والوں میں سے کمزرو لوگوں کو پہلے بھیج دیا کرتے تھے اور وہ رات ہی کو مزدلفہ میں مشعر الحرام کے پاس وقوف کرتے تھے اور اللہ کا ذکر کرتے جتنا چاہتے پھر وہ امام کے وقوف اور اس کے آنے سے پہلے ہی واپس ہوتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگ فجر کی نماز کے وقت منی میں پہنچتے اور کچھ اس کے بعد تو جب وہ پہنچ جاتے تو جمرہ کو کنکریاں مارتے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے ان کمزوروں کے بارے میں رخصت دی ہے۔
50. باب رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ رَمَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ. قَالَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أُنَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ هَذَا وَالَّذِى لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِى أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ.
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: “Abdullah bin Masud stoned at Jamrat Al-Aqabah from the bottom of the valley with seven pebbles, saying the Takbir with each throw.”
It was said to him: “Some people are stoning it from above.” Abdullah bin Masud said: “By the One besides Whom there is none worthy of worship, this is where the one of whom Surat Al-Baqarah was revealed stood.”
حضرت عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ لوگ تو اس کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یہ ان کا مقام ہے کہ جن پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔
وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلِّفُوا الْقُرْآنَ كَمَا أَلَّفَهُ جِبْرِيلُ السُّورَةُ الَّتِى يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ وَالسُّورَةُ الَّتِى يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ وَالسُّورَةُ الَّتِى يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ. قَالَ فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِ فَسَبَّهُ وَقَالَ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِىَ فَاسْتَعْرَضَهَا فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ - قَالَ - فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا. فَقَالَ هَذَا وَالَّذِى لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِى أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ.
It was narrated that Al-Amash said: “I heard Al-Hajjaj bin Yusuf say – while he was delivering the Khutbah on the Minbar: ‘Observe the order of the Quran as it was observed by Jibril: The Surah in which the cow is mentioned, the Surah in which women are mentioned, and the Surah in which the family of Imran is mentioned.’”
“So I met Ibrahim and told him what he had said, so he criticized him, and he said: “Abdur-Rahman bin Yazid narrated to me that he was with Abdullah bin Masud and he came to Jamrat Al-Aqabah. He went to the bottom of the valley and turned to face it, and he stoned it from the bottom of the valley with seven pebbles, saying the Takbir with each throw.” I said: “O Abu Abdur-Rahman, the people are stoning it from above.” He said: “This, By the One besides Whom there is none worthy of worship, is the place where one to whom Surah Al-Baqarah was revealed stood.””
اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن یوسف سے سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ تم قرآن کو اس طرح جمع کرو جس طرح جبرائیل نے جمع کیا ہے۔وہ سورت جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا اور وہ سورت جس میں النساء کا ذکر کیا گیا اور وہ سورت جس میں آل عمران کا ذکر کیا گیا ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ابراہیم سے ملا تو میں نے ان کو حجاج کے اس قول کی خبر دی تو انہوں نے حجاج کو برا بھلا کہا اور کہنے لگے کہ عبدالرحمن بن یزید نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے تو وہ جمرہ عقبہ پر آئے اور اس کے سامنے بطن وادی سے جمرہ عقبہ پر سات کنکریاں ماریں اور وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! لوگ تو اس کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں تو انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یہی وہ مقام ہے (کنکریاں مارنے کی جگہ) جس پر سورۃالبقرہ نازل کی گئی۔
وَحَدَّثَنِى يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى زَائِدَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ لاَ تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ. وَاقْتَصَّا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ.
It was narrated that Al-Amash said: “I heard Al-Hajjaj say: ‘Don’t say Surat Al-Baqarah…’” and he narrated a hadith like that of Ibn Mushir (no.3132).
اعمش سے روایت ہے کہ حجاج نے کہا کہ سورہ بقرہ نہ کہو، اس کے بعد حدیث اسی طرح ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ هَذَا مَقَامُ الَّذِى أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ.
It was narrated from Abdur-Rahman bin Yazid that he performed Hajj with Abdullah. He said: “He stoned the Jamrah with seven pebbles, putting the Kabah at his left and Mina at his right, and he said: ’This is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stood.’”
حضرت عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا ۔راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے سات کنکریوں کے ساتھ رمی جمار کی، اور بیت اللہ کو اپنے بائیں طرف اور منیٰ کو اپنے دائیں طرف کیا اور فرمایا : کہ یہ اس ذات کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ.
Shubah narrated it with this chain (a hadith similar to no.3134), except that he said: “When he came Jamrat Al-Aqabah.”
ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ - قَالَ - فَرَمَاهَا عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِى ثُمَّ قَالَ مِنْ هَا هُنَا وَالَّذِى لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَاهَا الَّذِى أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ.
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: “It was said to Abdullah: ‘Some people are stoning to Jamarh from above Al-Aqabah. ’He said: ‘Abdullah stoned it from the bottom of the valley’, then he said: ‘From here, By the One besides Whom there is none worthy of worship, the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stoned it.’”
حضرت عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ لوگ عقبہ کے اوپر سے جمرہ کو کنکریاں مارتے ہیں ۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بطن وادی سے کنکریاں ماریں پھر فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ،اس جگہ سے انہوں نے کنکریاں ماری ہیں جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی ہے۔