11. بابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ.
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (s.a.w) said: “No one of you should make a man get up from his place and then sit there.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائیں ، پھر خود وہاں بیٹھ جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا.
It was narrated from Ibn ‘Umar that the prophet (s.a.w) said: “No man should make another man get up from his place and then sit there; rather accommodate one another and make room.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائیں ، پھر خود وہاں بیٹھ جائے ، لیکن (مجلس میں) کشادگی اور وسعت سے کام لو۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ (ح) وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلاَهُمَا ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ , كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي الْحَدِيثِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا. وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قُلْتُ : فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا.
A Hadith like that of Al-Laith (no. 5683) was narrated from Ibn “Umar, from the Prophet (s.a.w), but they did not mention in the Hadith (the words): “Rather accommodate one another and make room”/ In the Hadith of Ibn Juraij it adds: “I said: ‘On Friday?’ He said: ‘On Friday and at other times.”’
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے حسب سابق روایت کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ وسعت اور کشادگی سے کام لو۔ اور ابن جریج کی روایت میں ہے کہ میں نے پوچھا: کیا جمعہ میں یہ حکم ہے ؟ انہوں نے کہا: جمعہ اور غیر جمعہ میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ. وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ، إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ ، لَمْ يَجْلِسْ فِيهِ.
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (s.a.w) said: “No one of you should make his brother get up and then sit in his place.” (The sub narrator said :) If a man stood up to give his place to Ibn ‘Umar, he would not sit there.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبیﷺنے فرمایا: تم میں کوئی آدمی اپنے بھائی کو نہ اٹھائیں ، پھر خود وہاں بیٹھ جائیں۔ سالم کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے لیے جب کوئی آدمی اپنی جگہ سے اٹھتا تھا وہ اس کی جگہ نہیں بیٹھتے تھے۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
Ma’mar narrated a similar report (as no. 5686) with this chain of narrators.
یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔
وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ لْيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ ، فَيَقْعُدَ فِيهِ , وَلَكِنْ يَقُولُ افْسَحُوا.
It was narrated from Jabir that the Prophet (s.a.w) said: “No one of you should make his brother get up on Friday, then go and sit in his place. Rather he should say: ‘Make room for me.”’
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی جمعہ کے دن اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے مت اٹھائیں ، پھر اس کو اس کی مخالف جگہ پر رکھیں اور خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائیں، لیکن یوں کہو: کشادہ ہوجاؤ۔
12. بابُ إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ عَادَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: أَيْضًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ. وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ: مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “If one of you gets up” – and in the Hadith of Abu Awanah: “whoever gets up” from his spot and then comes back to it, he has more right to it.’
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی کھڑا ہو ۔ اور ابو عوانہ کی حدیث میں جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہو پھر اس مجلس کی طرف لوٹے تو وہ اس جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔
13. بابُ مَنْعِ الْمُخَنَّثِ مِنَ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ الأَجَانِبِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَيْضًا ، وَاللَّفْظُ هَذَا ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا , وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ لأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ : يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ , إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا ، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلاَنَ ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ، قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لاَ يَدْخُلْ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُمْ.
It was narrated from Umm Salamah that a hermaphrodite was with her when the Messenger of Allah (s.a.w) was in the house. He said to the brother of Umm Salamah: “O Abdullah bin Abi Umayyah, if Allah enables you to conquer At-Ta'if, I will show you the daughter of Ghailan, for she shows four folds when facing you and eight when she turns her back,” The Messenger of Allah (s.a.w) heard him and said: “These people should never enter upon you.”
حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک مخنث (ہیجڑہ ) بیٹھا تھا ، اور رسول اللہﷺگھر میں تشریف فرما تھے ، اس مخنث نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی سے کہا: اے عبد الہو بن ابی امیہ ! اگر اللہ تعالیٰ نے کل تم پر طائف فتح کردیا تو میں غیلان کی بیٹی کی طرف تمہاری راہنمائی کروں گا ، جب وہ سامنے ہوتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار سلوٹیں ہوتی ہیں اور جب وہ پیٹھ پھیرتی ہے تو اس کی آٹھ سلوٹیں ہوتی ہیں ، رسول اللہﷺنے اس بات کو سن لیا ، آپﷺنے فرمایا: یہ تمہارے پاس نہ آیا کرے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ ، قَالَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ ، وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً ، قَالَ : إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلاَ أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَاهُنَا لاَ يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ قَالَتْ : فَحَجَبُوهُ.
It was narrated that ‘Aishah said: “A hermaphrodite used to enter upon the wives of the Prophet (s.a.w), and they regarded him as one of those who are without desire. The Prophet (s.a.w) came in one day when he was with one of his wives, and he was describing a woman. He said: “She shows four folds when facing you and eight when she turns back.” The Prophet (s.a.w) said: “I see that he knows about these things. He should not enter upon you.” She said: “(After this) they observed Hijab before him.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺکی ازواج کے پاس ایک مخنث (ہیجڑہ )آیا کرتا تھا اور ازواج کے نزدیک وہ آدمی ان لوگوں میں سے تھا جن کو جنسی خواہش نہیں ہوتی ، ایک دن نبی ﷺتشریف لائے اس حال میں وہ آپ کی ایک زوجہ کے پاس بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کررہا تھا ، کہ جب وہ سامنے ہوتی ہے تو اس کی چار سلوٹین ہوتی ہیں اور جب وہ پیچھے ہوتی ہے تو اس کی آٹھ سلوٹیں ہوتی ہیں ، نبی ﷺنے فرمایا: کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ جو کچھ یہاں ہے یہ اس کو پہچانتا ہے ، ہرگز وہ تمہارے پاس نہ آیا کرے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر لوگوں نے اس کو روک دیا۔
14. بابُ جَوَازِ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ الأَجْنَبِيَّةِ إِذَا أَعْيَتْ فِي الطَّرِيقِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مِنْ مَالٍ , وَلاَ مَمْلُوكٍ , وَلاَ شَيْءٍ ، غَيْرَ فَرَسِهِ ، قَالَتْ : فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ ، وَأَكْفِيهِ مَؤُونَتَهُ , وَأَسُوسُهُ , وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ ، وَأَعْلِفُهُ ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ ، وَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الأَنْصَارِ , وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ ، قَالَتْ : وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي ، وَهِيَ عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ قَالَتْ : فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَدَعَانِي ، ثُمَّ قَالَ : إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ ، قَالَتْ : فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ ، قَالَتْ : حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ ، بَعْدَ ذَلِكَ ، بِخَادِمٍ فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ , فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي.
It was narrated from Hisham from his father, that Asma bint Abi Bakr said: “Az-Zubair married me and he did not have anything but his horse. I used to feed his horse, look after it for him, and groom it, and I used to grind date stones for his camel and feed it, and I would bring water and repair his bucket. I used to knead dough but it was not good at baking it, so some Ansari neighbors used to bake it for me, and they were sincere women, I used to bring the date stones from Az-Zubair’s which the Messenger of Allah (s.a.w) had allocated to him. Carrying them on my head and it was two thirds of a parasang away. I came one day with the date stones on my head, and I met the Messenger of Allah (s.a.w) and a group of his Companions. He called me, then he said: “Ikh, Ikh’ (to make his camel kneel down) so that he could make me ride behind him, but I felt shy because I knew of jealousy.” He (Az-Zubair) said: “By Allah, for you to carry the date stones on your head is worse for me to bear than your riding behind him.” She said: “Then after that Abu Bakr sent me a servant who took care of the horse for me, and it was as if he freed me from slavery.”
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت زبیر نے مجھ سے نکاح کیا اس حال میں کہ ان کے پاس نہ زمین تھی نہ مال نہ خادم، سوائے ایک گھوڑے کے ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی ،حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ میں ان کے گھوڑے کو چارہ ڈالتی تھی اور ان کی طرف سے اس کی خبر گیری اور خدمت کرتی تھی اور ان کے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کوٹتی تھی اس کو گھاس ڈالتی اور پانی پلاتی تھی اور ڈول کے ذریعہ پانی نکالتی تھی اور آٹا گوندتی تھی میں اچھی طرح روٹی نہیں پکاسکتی تھی،میری انصاری ہمسائیاں مجھے روٹی پکا دیتی تھیں اور وہ بڑے اخلاص والی عورتیں تھیں اور میں حضرت زبیر کی اس زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں لاتی تھی جو انہیں رسول اللہ ﷺ نے عطا کی تھی اور وہ زمین دو تہائی فرسخ دور تھی میں ایک دن اس حال میں آئی کہ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوگئی اور آپ ﷺ کے اصحاب میں سے چند آدمی آپ کے ساتھ تھے آپ ﷺ نے مجھے بلایا پھر اونٹ بٹھانے کے لئے اخ اخ کہا تاکہ آپ مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیں فرماتی ہیں مجھے حیاء آئی اور اے زبیر میں تیری غیرت سے واقف تھی تو حضرت زبیر نے کہا: تیرا اپنے سر پر گٹھیاں اٹھانا آپ ﷺ کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت دشوار تھا یہاں تک کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس واقعہ کے بعد میرے پاس ایک خادمہ بھیج دی پھر اس نے مجھےگھوڑے کی دیکھ بال سے دور کردیا گویا کہ اس خادمہ نے مجھے آزاد کردیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ ، وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ ، وَكُنْتُ أَسُوسُهُ ، فَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْخِدْمَةِ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ ، كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا ، جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا ، قَالَتْ : كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَؤُونَتَهُ. فَجَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ ، أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ ، قَالَتْ : إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ ، فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ ، وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ ، فَجَاءَ فَقَالَ : يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ ، فَقَالَتْ : مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلاَّ دَارِي ؟ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ : مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلاً فَقِيرًا يَبِيعُ ؟ فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ ، فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي ، فَقَالَ : هَبِيهَا لِي ، قَالَتْ : إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا.
Asma said: “I used to server Az-Zubair in the house and he had a horse, which I used to groom, and there was no part of the service that was harder for me than looking after the hours. I used to bring it grass and look after it, and groom it.” He (the sub narrator) said: “Then she got a servant. The Prophet (s.a.w) brought some prisoners of war and gave her a servant.” She said: “She looked after the horse for me, and she relieved me of that burden.” A man came to me and said: “O Umm ‘Abdullah, I am a poor man, and I want to set up business in the shade of your house.” She said: “If I allow you, Az-Zubair may refuse. Come and ask me when Az-Zubair is present.” He came back said: “O Umm ‘Abdullah, I am a poor man and I want to set up business in the shade of your house.” She said: “Is there no place in Al-Madinah other than my house?” Az-Zubair said to him: “Why would you prevent a poor man from doing business?” He sold things until he acquired some wealth, then I sold our slave woman to him, and Az-Zubair entered upon me when her price was in my lap. He said: “I have already decided to give it in charity.”
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے گھر کا کام کاج کرتی تھی اور ان کا ایک گھوڑا تھا اور میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی اور اس گھوڑے کی دیکھ بال سے زیادہ میرے نزدیک کوئی سخت کام نہیں تھا ، میں اس کے لیے گھاس لاتی ، اس کی حفاظت کرتی ، اور اس کی خدمت کرتی ، مجھے پھر ایک خادمہ مل گئی نبی ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک خادمہ انہیں عطا کردیا، حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ اس خادمہ نے گھوڑے کی مشقت مجھ سے دور کردی ، میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ام عبد اللہ ! میں ایک محتاج آدمی ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ تمہارے گھر کے سایہ میں خرید و فروخت کروں ، میں نے کہا: اگر میں تم کو اجازت دے بھی دوں تو حضرت زبیر نہیں مانیں گے ، پس جب حضرت زبیر موجود ہوں تو تم اس وقت آکر اجازت طلب کرنا، سو وہ پھر آیا ، اور کہا: اے ام عبد اللہ ! میں ایک محتاج آدمی ہوں ، میں آپ کے گھر کے سایہ میں ایک دکان کھولنا چاہتا ہوں ۔ حضرت اسماء نے کہا: تمہیں پورے مدینہ میں میرے گھر کے سوا اور کوئی جگہ نہیں ملی؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں کیا ہوا ہے ؟ ایک محتاج آدمی کو خرید و فروخت سے منع کررہی ہو، پھر وہ دکانداری کرنے لگا یہاں تک کہ اس نے کافی کمائی کی اور میں نے وہ باندی اس کے ہاتھ فروخت کردی ، حضرت زبیر آئے اس حال میں اس کی قیمت میری گود میں تھی ، انہوں نے کہا: یہ پیسے مجھے دے دو ، حضرت اسماء نے کہا: میں ان کو صدقہ کرچکی ہوں۔
15. بابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الاِثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاهُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا كَانَ ثَلاَثَةٌ ، فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ.
It was narrated from Ibn “Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “If there are three people, two should not converse privately to the exclusion of the third.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ (ح) وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، , كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ (ح) وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى ، كُلُّ هَؤُلاَءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ.
A Hadith like that of Malik (no. 5694) was narrated from Nafi, from Ibn ‘Umar, from the Prophet (s.a.w).
یہ حدیث چھ اور سندوں سے مروی ہے ان میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے روایت کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ (ح) وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الآخَرِ ، حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ.
It was narrated that ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘If you are three, two should not converse privately to the exclusion of the third, until some other people join you, because that will make him sad.”’
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم تین ہو تو ایک کے بغیر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ اور لوگ آجائیں تاکہ اس آدمی کی دل آزاری نہ ہو۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً ، فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ.
It was narrated that ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘If you are three, then two should not converse privately to the exclusion of their companion, for that will make him sad.”’
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو اپنے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کرو کیونکہ یہ چیز اس کو غمزہ کرے گی۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
It was narrated from Al-A’mash with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5697).
یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی مروی ہے۔
16. بابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ ، وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَاهُ جِبْرِيلُ ، قَالَ : بِاسْمِ اللهِ يُبْرِيكَ ، وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ، وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ.
It was narrated from ‘Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w) that she said: “When the Messenger of Allah (s.a.w) fell sick, Jibril, would recite Ruqyah for him, saying: ‘In the Name of Allah, may He cure you, from the evil of the envies and from the evil of every evil eye.”’
حضرت عائشہ نبی ﷺکی بیوی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی بیمار ہوتے تو جبریل آکر آپﷺکو دم کرتے اور یہ کلمات کہتے : (ترجمہ) اللہ کےنام سے ، وہ آپ کو تندرست کرے گا اور ہر بیماری سے شفار دے گا ، اور حسد کرنے والے حاسد کے ہر شر سے ، اور نظر لگانے والی آنکھ کے ہر شر سے آپ کو اپنی پناہ میں رکھے گا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ قَالَ : بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ ، أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ ، اللَّهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ.
It was narrated from Abu Saeed that Jibril came to the Prophet (s.a.w) and said: “O Muhammad, are you sick?” He said: “Yes.” He said: “In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from everything that is harming you, from the evil of every soul or envious eye, may Allah heal you, in the Name of Allah I perform Ruqyah for you.”
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جبریل نبی ﷺکے پاس آئے اور کہا: اے محمد ﷺ! کیا آپ بیمار ہیں ، آپﷺنے فرمایا: ہاں ! حضرت جبریل علیہ السلام نے یہ کلمات کہے: میں آپ کو ہر ایذاء دینے والی چیز کے شر سے ، اور ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے نقصان سے اللہ کے نام کے ساتھ دم کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ آپﷺکو شفا دے گا ، میں آپ کو اللہ کے نام کے ساتھ دم کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَيْنُ حَقٌّ.
Ma’mar narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w).” He mentioned a number of Ahadith, including this following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The evil eye is real.”’
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسےاحادیث روایت کیں ، ان میں سے یہ حدیث ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: نظر حق ہے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْعَيْنُ حَقٌّ ، وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ ، وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا.
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the prophet (s.a.w) said: “The evil eye is real, and if anything were to overtake the Divine Decree, it would be the evil eye, so when you are asked to bathe, then do so.”
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: نظر حق ہے ، اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرسکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کرلو۔
17. بابُ السِّحْرِ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَحَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ ، يُقَالُ لَهُ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ : قَالَتْ حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ ، وَمَا يَفْعَلُهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ ، أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ دَعَا ، ثُمَّ دَعَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا عَائِشَةُ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ؟ جَاءَنِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ ، أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ ، قَالَ: مَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ ؟ قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ ، قَالَ: وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ ، قَالَ: فَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ: فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ.
قَالَتْ: فَأَتَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤُوسُ الشَّيَاطِينِ. قَالَتْ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ، أَفَلاَ أَحْرَقْتَهُ ؟ قَالَ: لاَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا ، فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ.
It was narrated that ‘Aishah said: “A spell was cast on Prophet (s.a.w) until he imagined that he had done a thing when he had not done it. One day – or one night – the Messenger of Allah (s.a.w) said a Dua, then he said: ‘O ‘Aishah, do you know that Allah has responded concerning that which I asked Him about? Two men came to me and one of them sat at my head and the other at my feet. The one who was at my head said to the one who was at my feet said to the one who was at my head: “What is ailing the man?” He said: “He has been bewitched him?” He said: “Who has bewitched him?” He said: “Labid bin Al-A’sam.” He said: “With what?” He said: “With a comb, the hair that is stuck to it, and the pollen of a male date palm.” He said: “Where is it?” He said: “In the well of Dhu Arwan.” She said: “The Messenger of Allah (s.a.w) went to it, with some of his companions, then he said: ‘O Aishah, by Allah, its water is like an infusion of henna and its date palms are like the head of devils."' "I said: ‘O Messenger of Allah, why don’t you burn it?’ He said: ‘No. Allah had healed me, and I feared that it might bring evil upon the people. But I ordered that it be filled in.”’
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے لبید بن اعصم نامی ایک یہودی نے رسول اللہﷺپر جادو کردیا ، یہاں تک کہ رسول اللہﷺکو یہ خیال آتا کہ میں یہ کام کررہا ہوں ، حالانکہ آپ وہ کام نہیں کررہے ہوتے تھے ، حتیٰ کہ ایک دن یا ایک رات کو رسول اللہﷺنے دعا کی ، پھر دوبارہ دعا کی ، پھر تیسری بار دعا کی، پھر فرمایا : اے عائشہ ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جو کچھ میں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا تھا وہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتلا دیا ، میرے پاس دو آدمی آئے ، ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا ، اور دوسرا میرے پیروں کی جانب بیٹھ گیا ، سو جو آدمی میرے سرہانے بیٹھا تھا اس نے پیروں کی جانب والے سے کہا، یا پیروں کی جانب بیٹھنے والے نے سرہانے والے سے کہا: اس شخص کو کیا تکلیف ہے ؟ دوسرے نے کہا: ان پر جادو کیا گیا ہے ، پہلے نے کہا: کس نے جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا: لبید بن اعصم نے ، پہلے نے کہا: کس چیز میں جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا: کنگھی میں اور کنگھی سے جھڑنے والے بالوں میں اور کہا: تر کجھور کے خوشہ کے غلاف میں ، پہلے نے کہا: یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ دوسرے نے کہا: ذی اروان کے کنوئیں میں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر رسول اللہ ﷺاپنے چند اصحاب کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے ، پھر آپ ﷺنے فرمایا: اے عائشہ ! اللہ کی قسم ! اس کنوئیں کا پانی مہندی کے پانی کی طرح تھا اور وہاں کھجور کے درخت شیاطین کے سر کی طرح تھے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپﷺنے اس کو جلا کیوں نہیں دیا ؟ آپﷺنے فرمایا : نہیں ،اللہ تعالیٰ نے مجھے اچھاکر دیا اور میں لوگوں میں فساد بھڑکانے کو برا سمجھتا ہوں ، اس لیے میں نے اس کو دفن کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُحِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ. وَقَالَ فِيهِ : فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ ، وَقَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَخْرِجْهُ ، وَلَمْ يَقُلْ : أَفَلاَ أَحْرَقْتَهُ ؟ وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ.
It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) was bewitched.” Abu Kuraib quoted the same story, a Hadith like that of Ibn Numair (no. 5703), and he said: “The Messenger of Allah (s.a.w) went to the well and looked into it, and there were dates palms around it. She said: ‘I said: “O Messenger of Allah, bring out.” And he did not say: “Why don’t you burn it?” And he (the narrator) did not mention (the words): “I ordered that it be filled in.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺپر جادو کیا گیا ، اس کے بعد راوی نے واقعہ اسی طرح بیان کیا جس طرح مذکورہ بالا حدیث ابن نمیر میں ہے، اور اس میں یہ بیان ہے کہ رسول اللہﷺکنوئیں کی طرف گئے ، آپﷺنے اس کی طرف دیکھا ،تو اس پر کھجور کے درخت تھے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کو نکال لیجئے اور یہ نہیں کہا: کہ آپ نے جلا کیوں نہ دیا ؟ اس روایت میں آپﷺکا یہ حکم نہیں ہے کہ میں نے اس کو دفن کرنے کاحکم دیا ہے۔
18. بابُ السَّمِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَتْ : أَرَدْتُ لأَقْتُلَكَ ، قَالَ : مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَاكِ قَالَ : أَوْ قَالَ ، عَلَيَّ قَالَ قَالُوا : أَلاَ نَقْتُلُهَا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
It was narrated from Anas that a Jewish woman presented some poisoned lamb to the Messenger of Allah (s.a.w) and he ate some of it. She was brought to the Messenger of Allah (s.a.w) and he asked her about that. She said: “I wanted to kill you.” He said: “Allah will never give you the power to do that.” Or he said: “to me.” They said: “Shall we kill her?” He said: “No.” He said: “And I continued to see its effects on the uvula of the Messenger of Allah (s.a.w).”
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہﷺکے پاس بکری کا زہر آلودہ گوشت لے کر آئی ، نبی ﷺنے اس گوشت سے کچھ کھالیا ، پھر اس عورت کو رسو ل اللہ ﷺکے پاس لایا گیا ،آپﷺنے اس عورت سے اس گوشت کے بارے میں پوچھا ، اس نے کہا: میں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا ، آپﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اس پر تسلطت نہیں دے گا ، یا فرمایا: مجھ پر تسلطت نہیں دے گا ۔صحابہ کرام نے عرض کیا: ہم اس کو قتل نہ کردیں؟آپﷺنے فرمایا: نہیں ، راوی کہتے ہیں کہ اس زہر کا اثر رسول کے کوّے (منہ) میں ہمیشہ پایا گیا۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سَمًّا فِي لَحْمٍ ، ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ خَالِدٍ.
Anas bin Malik narrated that a Jewish woman put some poison in some meat, then she presented it to the Messenger of Allah (s.a.w)… a Hadith like that of Khalid (no. 5705).
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے گوشت میں زہر ملایا اور رسو ل اللہﷺکے پاس وہ گوشت لے کر آئی ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
19. بابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ : زُهَيْرٌ وَاللَّفْظُ لَهُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ ، مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَذْهِبِ الْبَاسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا. فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ ، أَخَذْتُ بِيَدِهِ لأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا كَانَ يَصْنَعُ ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الأَعْلَى.قَالَتْ : فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَى.
It was narrated that ‘Aishah said: “If one of us fell sick, the Messenger of Allah (s.a.w) would wipe him with his hand then he would say: “Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing, a healing that levees no trace of sickness.’ “When the Messenger of Allah (s.a.w) fell sick and took a turn for the worse, I took his hand to do the same as he used to do, but he pulled his hand away and said: ‘O Allah forgive me and join me to the Higher Company.”’ She said: “I looked, and he had passed away.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب ہم میں سے کوئی آدمی بیمار ہوتا تو رسول اللہﷺاس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے ، پھر فرماتے : (ترجمہ) اے انسانوں کے مالک ! تکلیفوں کو دور کردے ، شفا دے ، تو ہی شفا دینے والا ہے ، تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفا نہیں ہے ، ایسی شفا دے جس سے بیماری بالکل باقی نہ رہے ، پھر جب رسول اللہﷺبیمار ہوئے ، اور آپﷺکی بیماری سخت ہوگئی ، تو میں نے آپﷺکا ہاتھ لے کر اسے آپ کی طرح آپ کے جسم پر پھیرنے لگی ، آپﷺنے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور فرمایا: اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلیٰ کے ساتھ کردے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر میں نے دیکھا تو آپﷺانتقال ہوچکے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كِلاَهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ. فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ ، وَشُعْبَةَ : مَسَحَهُ بِيَدِهِ ، قَالَ وَفِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ : مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ. وقَالَ فِي عَقِبِ حَدِيثِ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا ، فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ.
It was narrated from Al-A’mash with the chain of Jarir (a Hadith similar to no. 5707). In the Hadith of Hushaim and Shu’bah it says: “He wiped him, with his hand.” In the Hadith of Ath-Thawri it says: “He wiped him with his right hand.” Following the Hadith of Yahya from Sufyan from Al-A’mash it says: “I narrated it to Mansur and he told me a similar report from Ibrahim from Masruq from Aishah.”
یہ حدیث پانچ سندوں سے اسی طرح مرو ی ہے ، شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپﷺنے اپنا ہاتھ پھیرا ، ثوری کی روایت میں ہے : آپﷺنے اپنا داہنا ہاتھ پھیرا۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا يَقُولُ : أَذْهِبِ الْبَاسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي ، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا.
It was narrated from ‘Aishah that when the Messenger of Allah (s.a.w) visited a sick person, he would say: “Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing, a healing that leaves no trace of sickness.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺجب کسی مریض کی عیادت کرتے تو فرماتے : اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کردے، اے اللہ ! اس کو شفا دے ، تو ہی شفا دینے والا ہے ، تیری شفاء کے سوا اور کسی کی شفاء نہیں ہے ، ایسی شفاء دے جس سے بیماری بالکل باقی نہ رہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ قَالَ : أَذْهِبِ الْبَاسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ : فَدَعَا لَهُ ، وَقَالَ : وَأَنْتَ الشَّافِي.
It was narrated that ‘Aishah said: “When the Messenger of Allah (s.a.w) visited a sick person he would pray for him and say: ‘Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Yours healing, a healing that leaves no trace of sickness.”’
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب کسی مریض کے پاس جاتے تو یہ دعا کرتے ، اے لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور کردے ،اس کو شفاء دے ، تو ہی شفاء دینے والا ہے ، تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفاء نہیں ، ایسی شفاء دے جس سے بیماری بالکل باقی نہ رہے ، ابو بکر کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ اس کے لیے دعا فرماتے ، اور فرماتے : تو ہی شفاء دینے والا ہے۔
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ... بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ، وَجَرِيرٍ.
A Hadith like that of Abu Awanah and Jarir (no. 5709) was narrated from ‘Aishah who said: “The Messenger of Allah (s.a.w) used to...”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺفرماتے تھے : اس کے بعد ابو عوانہ اور جریر کی حدیث کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي بِهَذِهِ الرُّقْيَةِ أَذْهِبِ الْبَاسَ ، رَبَّ النَّاسِ ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ ، لاَ كَاشِفَ لَهُ إِلاَّ أَنْتَ.
It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) used to recite this Ruqyah: “Take away the pain, O Lord of Mankind, for healing is in Your hand and none can relive it except You.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺ! ان کلمات کے ساتھ دم کرتے تھے : اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کردے ، تیرے ہاتھ میں ہی شفاء ہے ، تیرے سواکوئی مصیبت کو دور کرنے والا نہیں ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلاَهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
A similar report (as no. 5713) was narrated from Hisham with this chain of narrators.
یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے ۔
20. باب رُقْيَةِ الْمَرِيضِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالنَّفْثِ
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ , نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ , فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ ، لأَنَّهَا كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْ يَدِي. وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ : بِمُعَوِّذَاتٍ.
It was narrated that ‘Aishah said: “If one of his family fell sick, the Messenger of Allah (s.a.w) would blow over him and recite Al-Mu’awwidhat. When he fell sick with his final illness, I started to blow over him and wipe him with his own hand, because it was more blessed than my hand.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺکے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپﷺ"قل أعوذ برب الفلق " اور " قل أعوذ برب الناس" پڑھ کر اس پر دم کرتے ، جب آپ مرض وصال میں مبتلا تھے تو میں آپ ﷺ پر دم کرتی اور آپ کے ہاتھ کو آپ پر پھیرتی ، کیونکہ آپﷺکے ہاتھ میں میرے ہاتھ سے زیادہ برکت تھی ، اور یحییٰ بن ایوب کی روایت میں " بمعوذات " کا لفظ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَيَنْفُثُ ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ ، وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ ، رَجَاءَ بَرَكَتِهَا.
It was narrated from ‘Aishah: “When he was sick, the Prophet (s.a.w) would recite Al-Mu’awwidhat and blow over himself. When his pain got worse, I would recite over him and wipe his hand over him, seeking its blessing.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺجب بیمار ہوئے تو آپﷺسورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر دم کرتے اور جب آپﷺکا درد زیادہ ہوا تو میں پڑھتی تھی اور برکت کی امید سے آپ ﷺہی کا ہاتھ پھیرتی تھی۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ (ح) وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ كِلاَهُمَا ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ كُلُّهُمْ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ ، نَحْوَ حَدِيثِهِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ : رَجَاءَ بَرَكَتِهَا ، إِلاَّ فِي حَدِيثِ مَالِكٍ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ ، وَزِيَادٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ.
A similar Hadith (as no. 5715) was narrated from Ibn Shihab with the chain if Malik, but it does not say in the Hadith of any of them: ‘Seeking its blessing.’ Except in the Hadith of Malik. In the Hadith of Yunus and Ziyad it says: “When the Prophet (s.a.w) fell sick he would blow over himself and recite Al-Mu’awwidhat, and he would wipe his hand over himself.”
یہ حدیث چار اور سندوں سے بھی حسب سابق مروی ہے ، مالک کے علاوہ اور کسی کی سند میں یہ نہیں ہے کہ آپﷺکے ہاتھ کی برکت کی امید سے۔ یونس ، اور زیاد کی روایت میں ہے کہ جب نبیﷺبیماء ہوئے تو اپنے نفس پر سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر دم کرتے اور اپنا ہاتھ پھیرتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرُّقْيَةِ ؟ فَقَالَتْ : رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ.
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Al-Aswad that his father said: “I asked ‘Aishah about Ruqyah, and she said: The Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession allowing a family among the Ansar to recite Ruqyah for every type of person.’”
حضرت اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دم کرانے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا: کہ رسول اللہﷺنے انصار کے ایک گھرا نے کو ہر زہریلے ڈنگ کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فِي الرُّقْيَةِ ، مِنَ الْحُمَةِ.
It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession to a family among the Ansar to recite Ruqyah for every type of poison.”’
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے انصار کے ایک گھرانے کو ہر زہریلے ڈنگ کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى الإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ ، أَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ ، أَوْ جُرْحٌ ، قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا ، وَوَضَعَ سُفْيَانُ سَبَّابَتَهُ بِالأَرْضِ ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِاسْمِ اللهِ ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا ، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا ، لِيُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا ، بِإِذْنِ رَبِّنَا. قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : يُشْفَى وقَالَ زُهَيْرٌ لِيُشْفَى سَقِيمُنَا.
It was narrated from ‘Aishah that if someone fell sick or suffered an aliment or injury, the Messenger of Allah (s.a.w) would do this with his finger O Sufyan (a narrator) put his forefinger on the ground then raised it – and the Prophet (s.a.w) said: “In the Name of Allah, with the dust of our land and the spittle of one of us, our sick one will be healed, by the leave of our Lord.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب کوئی انسان بیمار ہوتا یا اس کو کوئی چھالا یا زخم ہوتا تو نبی ﷺاپنی اس انگلی (سفیان نے کہا: آپﷺشہادت انگلی زمین پر رکھ کر پھر اٹھاتے) سے اشارہ کرکے فرماتے : اللہ کے نام سے ، ہماری زمین کی مٹی ، ہم میں سے کسی کے لعاب دہن سے ہمارا بیمار اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاء پائے گا ، زبیر کی روایت میں ہے : تاکہ ہمارا بیمار شفاء پائے۔