- احادیثِ نبوی ﷺ

 

12345

21. بابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ.

It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) used to tell her to recite Ruqyah for protection against the evil eye.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺانہیں نظر لگنے کی تکلیف میں دم کرانے کا حکم دیتے تھے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ.

Mis’ar narrated a similar Hadith (as no. 5720) with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ.

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) used to tell me to recite Ruqyah for protection against the evil eye.”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مجھے نظر لگنے کی صورت میں دم کرانے کا حکم دیتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فِي الرُّقَى قَالَ : رُخِّصَ فِي الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ وَالْعَيْنِ.

It was narrated that Anas bin Malik said concerning Ruqyah: “It is allowed in the case of stings, pustules and the evil eye.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: زہریلے ڈنگ ، پھوڑے پھنسی اور نظر لگنے کی صورت میں دم کرانے کی اجازت ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ ، وَالْحُمَةِ ، وَالنَّمْلَةِ. وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ.

It was narrated that Anas said: “The messenger of Allah (s.a.w) granted permission allowing Ruqyah in the case of the evil eye, stings and pustules.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نظر لگنے ، ڈنگ لگنے اور پھوڑے پھنسی کی صورت میں رسول اللہﷺنے دم کرانے کی اجازت دی ہے۔


حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِجَارِيَةٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَى بِوَجْهِهَا سَفْعَةً ، فَقَالَ : بِهَا نَظْرَةٌ ، فَاسْتَرْقُوا لَهَا. يَعْنِي بِوَجْهِهَا صُفْرَةً.

It was narrated from Umm Salamah, the wife of the Prophet (s.a.w), that the Messenger of Allah (s.a.w) said to a young girl in her house on whose face her saw yellow marks: “She is affected by the evil eye; recite Ruqyah for her.”

حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ کے گھر ایک لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر جھائیاں تھیں ، آپﷺنے فرمایا: اس کو نظر لگ گئی ہے ، اس پر دم کراؤ ، یعنی اس کے چہرے پر زردی تھی ۔


حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ: رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآلِ حَزْمٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ ، وَقَالَ لأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ: مَا لِي أَرَى أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً تُصِيبُهُمُ الْحَاجَةُ قَالَتْ: لاَ ، وَلَكِنِ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ ، قَالَ: ارْقِيهِمْ قَالَتْ : فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ: ارْقِيهِمْ.

Jabir bin ‘Abdullah said: “The Prophet (s.a.w) granted permission to the family of Hazm to recite Ruqyah for snake bite. He (s.a.w) said to Asma’ bint ‘Umais: Why do I see my brother’s children looking so thin? Are they in need?’ She said: ‘No, but the evil eye has affected them.’ He said: ‘Recite Ruqyah for them.’ She said: ‘So I recited it as Ruqyah for them.”’

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے سانپ کی تکلیف میں آل حزم کو دم کرنے کی اجازت دی اور اسماء بنت عمیس سے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں اپنے بھائی (حضرت جعفر بن ابی طالب ) کے بچوں کو دبلا دیکھ رہا ہوں ؟ کیا وہ بھوکے رہتے ہیں؟حضرت اسماء نے کہا: نہیں ، لیکن ان کو نظر جلد لگ جاتی ہے ، آپﷺنے فرمایا: کوئی دم کرو، انہوں نے دم کے کلمات پیش کئے ، آپﷺنے فرمایا: ان کو دم کردو۔


وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ : أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ لِبَنِي عَمْرٍو. قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ : لَدَغَتْ رَجُلاً مِنَّا عَقْرَبٌ ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرْقِي ؟ قَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ.

Jabir bin ‘Abdullah said: “The Prophet (s.a.w) granted permission to Banu ‘Amr allowing Ruqyah for snake bites.” Abu Az-Zubair said: “And I heard Jabir bin ‘Abdullah say: ‘A man was stung by a scorpion when we were sitting with the Messenger of Allah (s.a.w) and a man said: “O Messenger of Allah, shall I recite Ruqyah?” He said: ‘Whoever among you can benefit his brother, let him do so.”’

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے بنو عمرو کو سانپ کے ڈنگ لگنے کی صورت میں دم کرنے کی اجازت دی او رحضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں : ہم میں سے ایک آدمی کو بچھو نے ڈنگ مار دیا ، اس وقت ہم رسول اللہ ﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں دم کروں ؟ آپﷺنے فرمایا: تم میں سے جو آدمی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو وہ اس کو فائدہ پہنچائے۔


وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَرْقِيهِ يَا رَسُولَ اللهِ ، وَلَمْ يَقُلْ: أَرْقِي.

Ibn Juraij narrated a similar report (as no. 5227) with this chain of narrators except that he said: “A man among the people said: ‘Shall I recite Ruqyah for him, O Messenger of Allah?”’

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں ہے کہ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہﷺ! میں اس پر دم کردوں ؟ اور یہ نہیں کہا: میں دم کروں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى ، قَالَ: فَأَتَاهُ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ، وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَقَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ.

It was narrated that Jabir said: “I had a maternal uncle who used to recite Ruqyah for scorpion stings, then the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Ruqyah. He came to him and said: ‘O Messenger of Allah, you have forbidden Ruqyah but I recite Ruqyah for scorpion stings.’ He said: ‘Whoever among you can benefit his brother, let him do so.’’

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے ماموں بچھو سے ڈسے ہوئے کو دم کرتے تھے ، اور رسول اللہﷺنے دم کرنے سے منع کردیا ، وہ آپﷺکے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ ﷺنے دم کرنے سے منع کردیا اور میں بچھو سے ڈسے ہوئے پر دم کرتا تھا ، آپﷺنے فرمایا: تم میں سے جو آدمی اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو وہ نفع پہنچائے۔


وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A Similar report (as no. 5729) was narrated from Al-A’mash with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى ، فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ ، وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ، قَالَ : فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا أَرَى بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ.

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (s.a.w) forbade Ruqyah, then the family of ‘Amar bin Hazm came to the Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘O Messenger of Allah, was had a Ruqyah that we used to recite for scorpion stings, but you have forbidden Ruqyah.’ They recited it to him and he said: ‘I do not see anything wrong with it. Whoever among you can benefit his brother, let him do so.”’

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے دم کرنے سے منع کردیا ، پھر عمرو بن حزم کی آل رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں ایک دم آتا ہے جس سے ہم بچھو کے ڈسے ہوئے کو دم کرتے تھے اور آپ نے دم کرنے سے منع کردیا ، پھر انہوں نے ا س دم کے کلمات آپﷺپر پیش کیے ، آپﷺنے فرمایا: میں ان میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ، تم میں سے جو آدمی اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کو نفع پہنچائے۔

22. بابٌ لاَ بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ : اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ ، لاَ بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ.

It was narrated that ‘Awf bin Malik Al-Ashja’i said: “We used to recite Ruqyah during the Jahiliyyah, and we said: ‘O Messenger of Allah, what do you thing about that?’ He said: ‘Present your Ruqyah to me. There is nothing wrong with a Ruqyah that does not involve Shirk.”’

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں دم کرتے تھے ، ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اس سلسلہ میں آپﷺکی کیا رائے ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: اپنے دم کے کلمات مجھ پر پیش کرو ، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر شرکیہ کلمات نہ ہوں۔

23. بابُ جَوَازِ أَخْذِ الأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالأَذْكَارِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ ، فَقَالُوا لَهُمْ : هَلْ فِيكُمْ رَاقٍ ؟ فَإِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ لَدِيغٌ ، أَوْ مُصَابٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : نَعَمْ ، فَأَتَاهُ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ ، فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا ، وَقَالَ : حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَاللَّهِ مَا رَقَيْتُ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَتَبَسَّمَ وَقَالَ : وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ ، ثُمَّ قَالَ : خُذُوا مِنْهُمْ ، وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ.

It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that a group of the Companions of the Prophet (s.a.w) set out on a journey and traveled until they stopped near one of the Arab tribes. They asked them for hospitality but they refused to host them. Then they asked them: “Is there anyone among you who knows how to do Ruqyah?” Because the leader of the tribe had been stung or had fallen ill. A man among them said: “yes.” So he went to hum and performed Ruqyah for him by reciting the Opening of the Book (i.e., Surat Al-Fatihah). The man recovered and he was given a flock of sheep, but he refused to accept them and said: “Not until I tell the Prophet (s.a.w) about that.” So he came to the Prophet (s.a.w) and told him about that. He said: “O Messenger of Allah, by Allah, I did not recite anything but the Opening, of the Book as Ruqyah for him.” He smiled and said: “How did you know that it is a Ruqyah?” Then he said: “Accept (the sheep) from them and give me a share with you.”

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺکے چند اصحاب سفر میں تھے ، عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلہ پر ا ن کا گزر ہوا ، صحابہ نے ان لوگوں سے مہمانی طلب کی ، انہوں نے ضیافت نہ کی ، پھر انہوں نے صحابہ سے پوچھا: کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ؟ کیونکہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے ڈسا ہوا ہے ، یا کہا: وہ تکلیف میں ہے ، صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا: ہاں !مجھے دم کرنا آتا ہے ، پھر وہ صحابی اس سردار کے پاس گئے اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس آدمی پر دم کردیا تو وہ آدمی ٹھیک ہوگیا اور ان کو بکریوں کا ایک ریوڑ دیا گیا ۔ انہوں نے ان بکریوں کو لینے سے انکار کردیا اور کہا: جب تک میں نبیﷺ سے اس کا ذکر نہ کروں ان کو نہیں لوں گا ۔ پھر انہوں نے نبیﷺکے پاس جاکر اس کا ذکر کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے سورۂ فاتحہ کے سوا اور کسی چیز کا دم نہیں کیا ۔پھر آپﷺمسکرائے اور فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے ؟ پھر فرمایا: ان بکریوں کو لے لو اور ان میں سے میرا حصہ بھی نکالو۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ كِلاَهُمَا ، عَنْ غُنْدَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ.

It was narrated from Abu Bishr with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5733), and he said in the Hadith: “He started to recite the Essence of the Qur’an (Al-Fatihah) and he collected his spittle and blew it, and man recovered.”

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں یہ ہے کہ وہ صحابی سورۂ فاتحہ پڑھتے جاتے تھے اور اپنا تھوک جمع کرکے اس پر تھوکتے جاتے تھے ، سو وہ آدمی تندرست ہوگیا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : نَزَلْنَا مَنْزِلاً ، فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ ، لُدِغَ ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا، مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً ، فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ ، فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا ، وَسَقَوْنَا لَبَنًا ، فَقُلْنَا : أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً ؟ فَقَالَ : مَا رَقَيْتُهُ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ : فَقُلْتُ : لاَ تُحَرِّكُوهَا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ.

It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “We made a stop and a woman came and said: ‘The chief of our tribe is ill, he has been stung. Is there anyone among you who can perform Ruqyah?’ A man among us got up and went with her, and we did not think that he was good at performing Ruqyah, He recited the Opening of the Book as a Ruqyah for him, and he recovered. They gave us some sheep and gave us milk to drink. We said: ‘Are you good at performing Ruqyah?’ He said: ‘I did not recite anything for Ruqyah but the Opening of the Book.’ I said: ‘Do not move them (the sheep) until we come to the Prophet (s.a.w).’ We came to the Prophet (s.a.w) and told him about that, and he said: ‘How did he know that it is a Ruqyah? Distribute them and give me a share with you.”’

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مقام پر گئے ہمارے پاس ایک عورت نے آکر کہا: ہمارے قبیلہ کے سردار کو ایک بچھو نے کاٹ لیا ہے ، کیا تم میں سے کوئی آدمی دم کرنے والا ہے ؟ ہم میں سے ایک آدمی اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا ، ہمیں یہ خیال نہیں تھا کہ اس کو اچھی طرح دم کرنا آتا ہوگا ، اس نے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا ، تو وہ سردار تندرست ہوگیا ، ان لوگوں نے اس کو بکریاں دیں او رہم سب کو دودھ پلایا ، ہم نے کہا: تم کو واقعی دم کرنا آتا تھا؟ اس نے کہا: میں نے تو اس پر صرف سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے ،حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں: پھر میں نے کہا: ان بکریوں کو مت چھیڑو ، یہاں تک کہ ہم نبیﷺسے جاکر معلوم کرلیں ، پھر ہم رسول اللہﷺکے پاس گئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا ، آپﷺنے فرمایا: اس کو کیسے معلوم ہوگیا کہ سورۂ فاتحہ سے دم ہوتا ہے ؟ ان بکریوں کو تقسیم کرلو اور ان میں سے اپنے ساتھ میرا حصہ بھی نکالو۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا ، مَا كُنَّا نَأْبِنُهُ بِرُقْيَةٍ.

Hisham narrated a similar report (as no. 5735) with this chain of narrators, but he said: “A man got up and went with her, and we did not think that he was one who could perform Ruqyah.”

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی اٹھ کر چل پڑا ، ہمارے خیال میں اس کو دم کرنا نہیں آتاتھا۔

24. بابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ يَدِهِ عَلَى مَوْضِعِ الأَلَمِ مَعَ الدُّعَاءِ

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ ، وَقُلْ بِاسْمِ اللهِ ثَلاَثًا ، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ.

It was narrated from ‘Uthman bin Abdul-As Ath-Thaqafi that he complained to the Messenger of Allah (s.a.w) about some pain that he had felt in his body since he became Muslim. The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: “Put your hand on the part of your body that hurts and say: ‘Bismillah (in the Name of Allah)’ three times, then say seven times: ‘I seek refuge in Allah and His Power from the evil of what I find and I fear.’’

حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺسے شکایت کی کہ جب سے وہ اسلام لائے ہیں ان کے جسم میں تکلیف رہتی ہے ، تو رسول اللہﷺنے ان کو کہا: تمہارے جسم میں جہاں درد ہے وہاں اپنا ہاتھ رکھو اور تین مرتبہ بسم اللہ کہو، اور سات مرتبہ کہو (ترجمہ: ) میں اللہ کی ذات اور قدرت سے اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کو میں پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں۔

25. بابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَيْطَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الصَّلاَةِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلاَتِي وَقِرَاءَتِي يَلْبِسُهَا عَلَيَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خَنْزَبٌ ، فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ ، وَاتْفِلْ عَلَى يَسَارِكَ ثَلاَثًا قَالَ : فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي.

It was narrated that ‘Uthman bin Abul-‘As came to the Prophet (s.a.w) and said: “O Messenger of Allah, the Shaitan interferes between me and my prayers and my recitation, and he makes me confused. The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘That is a devil called Khinzab. If you feel that, then seek refuge with Allah from him and blow spittle to your left three times.’ He said: ‘I did that and Allah took him away from me.”’

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! شیطان میرے اور میری نماز کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور مجھ پر قرأت کو مشتبہ کردیتا ہے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اس شیطان کو خنزب کہاجاتا ہے ، جب تم اس کو محسوس کرو تو اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین مرتبہ تھوکو،حضرت عثمان کہتے ہیں کہ میں نے اس طرح کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو مجھ سے دور کردیا۔


حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلاَهُمَا ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ نُوحٍ: ثَلاَثًا.

It was narrated from ‘Uthman bin Abdul-As that he came to the Prophet (s.a.w)… and he mentioned a similar report (as no. 5738), but in the Hadith of Salim bin Nuh it does not say: “Three times.”

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺکے پاس حاضر ہوئے ، اس کے بعد حسب سابق ذکر ہے ، اور سالم بن نوح کی حدیث میں تین مرتبہ کا ذکر نہیں ہے ۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ، . ... ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated that ‘Uthman bin Abdul-As Ath-Thaqafi said: “I said: ‘O Messenger of Allah…”’ then he mentioned a similar Hadith.

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔

26. بابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابُ التَّدَاوِي

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “For every disease there is a remedy, and when the remedy is applied to the disease, it is healed by Allah’s Leave.”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ہر بیماری کی دوا ہے ، جب وہ دوا بیماری کے موافق ہوجاتی ہے تو اللہ عز وجل کے حکم سے شفاء ہوجاتی ہے۔


حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ، ثُمَّ قَالَ لاَ أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ فِيهِ شِفَاءً.

Jabir bin ‘Abdullah visited Al-Muqanna’ (when he was sick) then he said: “I will not depart until you are treated with cupping, for I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ‘In it there is healing.”’

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مقنع کی عیادت کی ، پھر فرمایا: میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم سینگی نہ لگوالو، کیونکہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا ہے کہ اس میں شفاء ہے۔


حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، قَالَ : جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ فِي أَهْلِنَا ، وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ ، أَوْ جِرَاحًا ، فَقَالَ : مَا تَشْتَكِي ؟ قَالَ : خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ ، فَقَالَ : يَا غُلاَمُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ ، فَقَالَ لَهُ : مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ ؟ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ قَالَ : أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي ، أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ ، فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ ، فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ قَالَ فَجَاءَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ ، فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ.

It was narrated that ‘Asim bin ‘Umar bin Qatadah said: “Jabir bin ‘Abdullah came to us in our home along with another man who was suffering from an abscess or a wound. He said: “What ails you?’ He said: ‘An abscess that is causing me pain.’ He said: ‘O young boy, bring me a cupper.’ He said: to him: ‘What will you do with the cupper, O ‘Abdullah?’ He said: ‘I want him to treat him with cupping tools.’ He said: ‘By Allah, if flies land on me or if a piece of cloth touches me, it hurts me a great deal.’ When he saw that he was feeling anxious about that he said: ‘I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: “If there is any good in your remedies it is in the incision of the cupper, or a drink of honey, or cauterization with fire.”’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: “But I would not like to be cauterized.” He brought a cupper and he made an incision, and the pain he had went away.”

عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہمارے گھر آئے اس حال میں کہ ایک آدمی کو زخم کی شکایت تھی ،حضرت جابر نے فرمایا: تم کو کیا تکلیف ہے ؟ اس نے کہا: مجھے ایک زخم سے بہت تکلیف ہے ؟ حضرت جابر نے فرمایا: اے لڑکے ! سینگی لگانے والے کو بلاؤ، اس نے کہا: اے ابو عبد اللہ ! آپ سینگی لگانے والے کو کیوں بلاتے ہیں ؟ حضرت جابر نے فرمایا: میں اس زخم پر سینگی لگوانا چاہتا ہوں ، اس نے کہا: پھر مجھ پر یہاں میرے زخم پر مکھیاں بیٹھیں گی یا میرے زخم پر کپڑا لگے گا جس سے مجھے تکلیف ہوگی، جب حضرت جابر نے یہ دیکھا کہ یہ سینگی لگوانے سے ڈر رہے ہیں تو انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے یہ فرمایا: اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی چیز میں خیر ہے تو وہ سینگی لگوانے میں ہے ،یا شہد کے ایک گھونٹ میں ، یا آگ سے داغ لگوانے میں ہے ، آپ ﷺنے فرمایا: میں داغ لگوانے کو پسند نہیں کرتا۔ راوی نے کہا: پھر ایک حجام آیا ، اس نے سینگی لگائی اور اس کی تکلیف ختم ہوگئی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا. قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ، أَوْ غُلاَمًا لَمْ يَحْتَلِمْ.

It was narrated from Jabir that Umm Salamah asked the messenger of Allah (s.a.w) foe permission for cupping, and the Prophet (s.a.w) told Abu Taibah to treat her with cupping. He said: “I think he said: ‘He was her brother through breastfeeding, or a young boy who had not reached puberty.”’

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہﷺسے سینگی لگانے کے بارے میں اجازت طلب کی ، نبی ﷺنے حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ کو سینگی لگانے کا حکم دیا ، حضرت جابر کہتے ہیں کہ حضرت ابو طیبہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا ، فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ، ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ.

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (s.a.w) sent a doctor to Ubayy bin Ka’b, and he cut a vein then he cauterized it.”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے حضرت ابی بن کعب کے پاس ایک طبیب بھیجا ، انہوں نے ان کی ایک رگ کاٹ کر اس کو داغ دیا۔


وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ (ح) وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ كِلاَهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرَا : فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا.

It was narrated from Al-A’mash with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5745), but he did not mention: “He cut a vein.”

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے لیکن ان میں رگ کاٹنے کا ذکر نہیں ہے۔


وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: رُمِيَ أُبَيٌّ يَوْمَ الأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Jabir bin ‘Abdullah said: “Ubayy was wounded in his medial arm vein on the day of (the battle of) Al-Ahzab, and the Messenger of Allah (s.a.w) cauterized it.”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احزاب میں حضرت ابی بن کعب کے بازو کی رگ میں تیر لگا تو نبیﷺنے خود اس کو داغا۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ ، قَالَ: فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ، ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ.

It was narrated that Jabir said: "Sa’d bin Mu’adh was wounded in his medial arm vein, and the Prophet (s.a.w) cauterized it with his own hand, using an iron rod. Then it swelled up and he cauterized it again.”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی ایک رگ میں تیر لگا تو نبی نے اپنے ہاتھ سے تیر کے پھل کے ساتھ اس کو داغا ۔ ان کا ہاتھ سوج گیا تو آپﷺنے اس کو دوبارہ داغا۔


حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ.

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (s.a.w) was treated with cupping and gave the cupper his fee, and he took some medicine through his nose.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے سینگی لگوائی اور سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دی او رناک میں دوا ڈالی۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وقَالَ : أَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ لاَ يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ.

It was narrated that ‘Amr bin ‘Amir Al-Ansari said: “I heard Anas bin Malik say: ‘The Messenger of Allah (s.a.w) was treated with cupping and he did not withhold payment from anyone.”’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے سینگی لگوائی اور آپﷺکسی آدمی کی اجرت میں کمی نہیں کرتے تھے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ.

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (s.a.w) said: “Fever is from the heat of Hell, so cool it down with water.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بخار جہنم کے بھاپ سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ.

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (s.a.w) said: “High fever is from the heat of Hell, so cool it down with water.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: بخار کی شدت جہنم کے بھاپ سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔


وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ.

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Fever is from the heat of Hell, so extinguish it with water.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بخارجہنم کے بھاپ سے ہے ، اس کو پانی سے بجھاؤ (ٹھنڈا کرو)۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (ح) وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ.

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Fever is from the heat of Hell, so extinguish it with water.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بخارجہنم کے بھاپ سے ہے ، اس کو پانی سے بجھاؤ (ٹھنڈا کرو) ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ.

It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Fever is from the heat of Hell, so cool it down with water.”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بخارجہنم کے بھاپ سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 5755) was narrated from Hisham with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ ، فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا ، وَتَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ وَقَالَ: إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.

It was narrated from Asma’ that a woman who was running a high fever was brought to her. She called for some water and sprinkled it in the neckline of her garment and said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Cool it down with water.’ And he said: ‘It is from the heat of Hell.”’

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کے پاس کوئی بخار زدہ عورت لائی جاتی تو وہ پانی منگا کر اس کے گریبان میں ڈالتیں اور کہتیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرو اور فرمایا: یہ جہنم کے بھاپ سے ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ: صَبَّتِ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ. قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

In the Hadith of Ibn Numair (no. 5757) it says: “She sprinkled water in the neckline of her garment.” It does not say in the Hadith of Abu Usamah: “It is from the heat of Hell.”

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں جہنم کے بھاپ کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ الْحُمَّى فَوْرٌ مِنْ جَهَنَّمَ ، فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ.

It was narrated that Rafi bin Khadij said: “I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ‘Fever is from the intense heat of Hell, so cool it down with water.”’

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بخار جہنم کے بھاپ سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ ، فَابْرُدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ عَنْكُمْ ، وَقَالَ : قَالَ : أَخْبَرَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ.

Rafi bin Khadij said: “I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ‘Fever is from the intense heat of Hell, so cool it down with water.”’

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بخار جہنم کے بھاپ سے ہے ، اس کو اپنے آپ سے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔ ابو بکر کی روایت میں ہے " اپنے آپ سے " کے الفاظ نہیں ہیں۔

27. باب كَرَاهَةِ التَّدَاوِي بِاللَّدُودِ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَدَدْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ، فَأَشَارَ أَنْ لاَ تَلُدُّونِي ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : لاَ يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلاَّ لُدَّ ، غَيْرُ الْعَبَّاسِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ.

It was narrated that ‘Aishah said: “We administered medicine to the Messenger of Allah (s.a.w) in the side of his mouth when he was sick, and he indicated to us that we should not do that. But we said it is just the objection of the sick person to the medicine. When he recovered he said: ‘There is no one among you who should not have medicine administered in the side of his mouth, except Al-‘Abbas, as he was not present with you,”’

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے مرض میں ہم نے آپﷺکے منہ میں دوا ڈالی ، آپﷺنے اشارہ کرکے دوا ڈالنے سے منع فرمایا، ہم نے آپس میں کہا: شاید آپ ﷺمرض کی وجہ سے دوا کو ناپسند کررہے ہیں ، جب آپﷺشفاء یاب ہوئے تو آپﷺنے فرمایا: عباس کے علاوہ تم سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے ، کیونکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔

28. باب التَّدَاوِي بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَهُوَ الْكُسْتُ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرُونَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ ، فَبَالَ عَلَيْهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ.

It was narrated that Umm Qais bint Mihsan, the sister of ‘Ukashah (bin Mishan), said “I brought a son of mine to the Messenger of Allah (s.a.w) who was not yet eating food, and he urinated on him, and he called for some water and sprinkled it over it.

عکاشہ بن محصن کی بہن ام قیس بنت محصن سے روایت ہے کہ میں اپنے ایک بچے کو لیکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جو ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا (دودھ پیتا بچہ) تو اس نے آپﷺپر پیشاب کردیا، آپﷺنے پانی منگا کر اس پر بہادیا۔


قَالَتْ: وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي ، قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ ، فَقَالَ : عَلاَمَ تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَكُنَّ بِهَذَا الْعِلاَقِ ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ.

She (Umm Qais bint Mihsan said: “I brought a son of mine to him and I had squeezed his uvula to relive the swelling, He said: ‘Why do you squeeze your children’s uvulas like this? You should use this Indian aloes wood, for in it there are seven cures, including pleurisy. It should be administered through the nose for selling in the uvula and in the side of the mouth for pleurisy.”’

ام قیس بنت محصن فرماتی ہیں: میں اپنے ایک بچے کو آپ کی خدمت میں لیکر گئی جس کو میں نے بیماری میں دبایا تھا اس کے تالو میں ورم تھا ، آپﷺنے فرمایا: تم اپنے بچوں کا حلق کیوں دباتے ہو؟ تم اس عود ہندی کو لازم رکھو، اس میں سات چیزوں میں شفاء ہے ، اس میں سے نمونیا بھی ہے ، تالو کی بیماری میں ناک سے دوا ڈالی جائے ، اور نمونیے میں منہ سے دوا ڈالی جائے۔


وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ اللاَّتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، أَحَدِ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ ، قَالَ يُونُسُ : أَعْلَقَتْ : غَمَزَتْ فَهِيَ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ عُذْرَةٌ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلاَمَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَكُنَّ بِهَذَا الإِعْلاَقِ ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ ، يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ.

‘Ubaidullah bin ‘Abdullah bin ‘Utbah bin Mas’ud narrated that Umm Qais bint Mihsan, who was one of the earliest Muhajir women who had sworn allegiance to the Messenger of Allah (s.a.w), and who was the sister of ‘Ukashah bin Mihsan, one of Banu Asad bin Khuzaimah, told him that she brought a son of hers, who had not reached the age of eating good, to the Messenger of Allah (s.a.w) she had squeezed his uvula to relive swelling – Yunus *a narrator) said: “She had squeezed his uvula because she was afraid it might have swollen” – she said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Why do you squeeze your children’s uvulas like this? You should use this Indian aloes wood – meaning costmary – for in there are seven cures, including pleurisy.”’

حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ حضرت ام قیس بنت محصن ان پہلے ہجرت کرنے والیوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہﷺسے بیعت کی تھی ، یہ عکاشہ بن محصن کی بہن تھی جو اسد بن خزیمہ کی اولاد میں سے تھے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے انہوں نے بتایا کہ وہ رسو ل اللہﷺکے پاس اپنا بیٹا لے کر گئیں جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا ، ا س کے تالو میں ورم کی وجہ سے انہوں نے اس کا حلق دبایا تھا ، ان کو یہ خوف تھا کہ اس کے تالو میں ورم نہ ہو ، وہ کہتی ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: تم اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو ؟ تم اس عود ہندی کا استعمال لاز م کرلو ، کیونکہ اس میں سات بیماریوں کے لیے شفاء ہے ، ان میں سے ایک نمونیے کی بیماری ہے۔


قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى بَوْلِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلاً.

‘Ubaidullah said: And she (Umm Qais bint Mihsan) narrated that that son of hers urinated in the lap of the Messenger of Allah (s.a.w). The Messenger of Allah (s.a.w) called for some water and her sprinkled it n the urine, and he did not wash it thoroughly.

عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ام قیس نے بیان کیا کہ اسی بچہ نے رسول اللہﷺکی گود میں پیشاب کردیا تھا ، رسول اللہﷺنے پانی منگوایا اور اس کا چھڑکاؤ اس کے پیشاب پر کیا اور اس کو دھویا نہیں۔

29. بابُ التَّدَاوِي بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ ، إِلاَّ السَّامَ. وَالسَّامُ الْمَوْتُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ.

Abu Hurairah narrated that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: “In the black seed there is healing for every disease, except death.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔


وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ (ح) وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ... بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ. وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَيُونُسَ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ وَلَمْ يَقُلِ الشُّونِيزُ.

A Hadith like that of ‘Uqail (no. 5766) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).

یہ حدیث چار سندوں سے حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ دَاءٍ ، إِلاَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ ، إِلاَّ السَّامَ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “There is no disease but there is a cure for it in the black seed, except death.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنےفرمایا: موت کے سوا ہر بیماری کے لیے کلونجی میں شفاء ہے۔

30. باب التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلاَّ أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ ، فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَتْ : كُلْنَ مِنْهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ ، تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ.

‘Urwah narrated from ‘Aishah that if anyone died among her family, and the women gathered, when everyone had left but her own family and close friends, ‘Aishah the wife of the Prophet (s.a.w) would order that a pot of Talbinah be cooked, then that some Tharid be made and the Talbinah poured over it, then she would say: “Eat it, for I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ‘Talbinah brings comfort to the sick person and it lessens grief.”’

نبی ﷺکی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کے ہاں کسی کا انتقال ہوتا تو عورتیں جمع ہوتیں ۔ پھر ان کے گھر والے اور خواص رہ جاتے اور باقی لوگ چلے جاتے ، اس وقت وہ پتیلی میں حریرہ پکانے کا حکم دیتیں ، اس کو پکایا جاتا ، پھر ثرید بنایا جاتا ، پھر حریرہ کو اس پر ڈال دیا جاتا ، اس کے بعد فرماتیں : اس کو کھاؤ ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺسے یہ سنا ہے کہ حریرہ بیمار کے دل کو خوش کرتا ہے اور رنج و غم کو دور کرتا ہے۔

12345