31. باب التَّدَاوِي بِسَقْيِ الْعَسَلِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِهِ عَسَلاً فَسَقَاهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: إِنِّي سَقَيْتُهُ عَسَلاً فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا ، فَقَالَ لَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلاً فَقَالَ : لَقَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ اللَّهُ ، وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ.
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “A man came to the Prophet (s.a.w) and said: ‘My brother’s bowels are loose.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: Give him honey to drink.’ He gave him honey, then he came and said: ‘I gave him honey to drink but it only made the problem worse.’ He said it to him three times. Then he came the fourth time and he ((s.a.w)) said: ‘Give him honey to drink.’ He said: ‘I did that before and it only made it worse.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Allah speaks the Truth and your brother’s bowels are lying.’ Then he gave him honey to drink and he recovered.’’
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ ، اس نے اس کو شہد پلایا ، پھر آکر اس نے کہا:میں نے اس کو شہد پلایا اس کے دست اور بڑھ گئے ، آپﷺنے تین مرتبہ یہی فرمایا ، جب وہ چوتھی مرتبہ آیا تو آپ ﷺنے پھر فرمایا: اس کو شہد پلاؤ ، اس نے کہا: میں نے اس کوشہد پلایا تھا مگر اس کے دست اور بڑھ گئے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ کا قول سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے،پھر اس نے شہد پلایا اور اس کے بھائی کو شفاء ہوگئی۔
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَخِي عَرِبَ بَطْنُهُ فَقَالَ لَهُ : اسْقِهِ عَسَلاً بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ.
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that a man came to the Prophet (s.a.w) and said: “My brother has an upset stomach.” He said to him: “Give him honey to drink,” a Hadith like that of Shu’bah (no. 5770).
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺکی خدمت میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میرے بھائی کا پیٹ بہت خراب ہے ، آپﷺنے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ، اس کے مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
32. بابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَأَبِي النَّضْرِ ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطَّاعُونُ رِجْزٌ ، أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ ، فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا ، فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ. وقَالَ أَبُو النَّضْرِ : لاَ يُخْرِجُكُمْ إِلاَّ فِرَارٌ مِنْهُ.
It was narrated from ‘Amir bin Sa’d bin Abi Waqqas that he heard his father asking Usamah bin Zahid: “What did you hear from the Messenger of Allah (s.a.w) about the plague?” Usamah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The plague is a calamity (or a punishment) that was sent upon the Children of Israel, or upon those who came before you. If you hear of it in some land, do not go there, and if it breaks out in a lad where you are, do not leave, fleeing from it.”’ Abu An-Nadr said: “Do not leave, except to flee from it.”
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حضر ت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ تم نے رسول اللہﷺسے طاعون کے بارے میں کیا سنا ہے؟ حضرت اسامہ نے کہا: کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: طاعون ایک عذاب ہے جسے بنو اسرائیل پر بھیجا گیا تھا ، یا فرمایا: تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا تھا تو جب تم کسی علاقہ کے متعلق یہ سنو کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے تو وہاں مت جا ؤ اور اگر تمہارے علاقہ میں طاعون پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو وہاں سے مت بھاگو ، راوی ابو النضر نے کہا: " لا یخرجکم الا فرار منہ"
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ وَنَسَبَهُ ابْنُ قَعْنَبٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ : عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطَّاعُونُ آيَةُ الرِّجْزِ ، ابْتَلَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَاسًا مِنْ عِبَادِهِ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ ، فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا ، فَلاَ تَفِرُّوا مِنْهُ.
هَذَا حَدِيثُ الْقَعْنَبِيِّ وَقُتَيْبَةَ نَحْوُهُ.
It was narrated that Usamah bin Zaid said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The plague is a sign of punishment with which Allah tests some of His slaves. If you hear of it, do not enter (the land where it is), and if it breaks out in a land where you are, do not flee from it.”’
حضر ت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: طاعون عذاب کی علامت ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو طاعون میں مبتلا کیا ، تو جب تم کسی علاقہ میں طاعوں کا سنو تو وہاں سے مت جاؤ ، اور جب تمہارے علاقہ میں طاعوں واقع ہوجائے تو وہاں سے مت بھاگو۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، أَوْ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوهَا.
It was narrated that Usamah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘This plague is a punishment that was sent upon those who came before you, or upon the Children of Israel. If it is present in a land (where you are), do not depart from it, fleeing from it, and if it is in a land, do not go there.”’
حضر ت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: یہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے قبل لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا ، یا فرمایا: بنو اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا ، اگر کسی علاقہ میں طاعون آجائے تو تم وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو اور اگرکسی جگہ طاعوں ہوتو وہاں سے مت جاؤ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطَّاعُونِ ، فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ عَذَابٌ ، أَوْ رِجْزٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، أَوْ نَاسٍ كَانُوا قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ ، فَلاَ تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ ، وَإِذَا دَخَلَهَا عَلَيْكُمْ ، فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا.
Amir bin Sa’d narrated that a man asked Sa’d bin Abi Waqqas about the plague. Usamah bin Zaid said: “I will tell you about it. The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘It is a torment or a punishment that Allah sent upon some of the Children of Israel, or some people who came before you. If you hear of it in some land, do not go there, and if it comes upon you, do not leave, fleeing from it.”’
حضر ت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: طاعون عذاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بنواسرائیل کے ایک گرہ پر بھیجا تھا ،یا فرمایا: تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا تھا ، اس لیے جس علاقہ کے بارے میں تم طاعون کی خبر سنو تو وہاں مت جاؤ ، اور اگر تمہارے علاقہ میں طاعون آجائے تو تم وہاں سے بھاگ کر مت نکلو۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ كِلاَهُمَا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، بِإِسْنَادِ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
A similar Hadith (as no. 5775) was narrated from ‘Amr bin Dinar with the chain of Ibn Juraij.
یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الأُمَمِ قَبْلَكُمْ ، ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالأَرْضِ ، فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الأُخْرَى ، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ ، فَلاَ يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلاَ يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ.
It was narrated from Usamah bin Zaid that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “This pain or this sickness (meaning plague) is a punishment with which some of the nations who came before you were punished, then it remained on earth after that, coming and going from time to time. Whoever hears of it in some land should not go there, and whoever is in a land where it breaks out should not leave, fleeing from it.”
حضر ت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: یہ درد یا بیماری ایک عذاب ہے جو تم سے پہلی امتو ں کو دیا گیا تھا پھر وہ ابھی تک زمین میں باقی ہے ، کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی آجاتاہے ، تو جو آدمی کسی علاقہ میں طاعون کےبارے میں سنے تو وہ وہاں سے مت جائے اور جو آدمی کسی علاقہ میں ہو اور وہاں طاعون آجائے تووہ وہاں سے نہ بھاگے۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
A similar Hadith (as no. 5777) was narrated form Az-Zuhri with the chain of Yunus.
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قَالَ : كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ ، فَقَالَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا ، فَلاَ تَخْرُجْ مِنْهَا ، وَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ ، فَلاَ تَدْخُلْهَا قَالَ قُلْتُ : عَمَّنْ ؟ قَالُوا : عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ ، قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالُوا : غَائِبٌ ، قَالَ فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ ، أَوْ عَذَابٌ ، أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا ، فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا بَلَغَكُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوهَا.
قَالَ حَبِيبٌ : فَقُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ : آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَهُوَ لاَ يُنْكِرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ.
It was narrated that Habib said: “We were in Al-Madinah and we heard that the plague had broken out in Al0Kufah. ‘Ata’ bin Yasar and others told me that the Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘If you are in a land where the plague breaks out, do not leave, and if you hear that it is in some land, do not go there.’ I said: ‘From whom (did you hear this)? He said: ‘From Amir bin Sa’d who narrated it.’ I went to him and the said: ‘He is away.’ But I met his brother Ibrahim bin Sa’d and I asked him. He said: ‘I was present when Usamah narrated it to Sa’d. He (Usamah) said: “I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: “This disease is a calamity and a punishment, or the remainder of a punishment, with which some of those who came before you were punished. If it breaks out in a land where you are, do not leave it, and if you hear that it is in a land, do not go there.”’ Habib said: I said to Ibrahim: ‘Did you hear Usamah narrate it to Sa’d, and he did not deny it?’ He said: ‘Yes.”’
حبیب سے روایت ہے کہ ہم مدینہ میں تھے کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ کوفہ میں طاعون پھیلا ہوا ہے ، عطاء بن یسار ، اور دوسرے لوگوں نے مجھ سے کہا: رسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم کسی علاقہ میں ہو اور وہاں طاعون آجائے تو تم اس علاقہ سے مت نکلو اور جب تمہیں یہ خبر پہنچے کہ کسی علاقہ میں طاعون پھیل گیا ہے تو تم اس علاقہ میں مت داخل ہونا ، میں نے کہا: تم نے یہ کس سے سناہے ؟ انہوں نے کہا: عامر بن سعد اس حدیث کو بیان کرتے تھے، میں ان کے پاس آیا تو لوگوں نے کہا: وہ موجود نہیں ہیں ، میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد سے ملا اور ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: جس وقت حضرت اسامہ نے حضرت سعد کو یہ حدیث بیان کی تھی اس وقت میں بھی وہاں موجود تھا ، حضرت اسامہ نے کہا: میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ درد ایک عذاب ہے یا عذاب کا بقیہ ہے جس کے ساتھ تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا تھا ، سو اگر تمہارے علاقہ میں طاعون آجائے تو وہاں سے مت نکلو ، اور اگر تمہیں یہ خبر پہنچے کہ کسی علاقہ میں طاعون آگیا ہے تووہاں مت جاؤ ۔ حبیب کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا: کیاتم نے خود سنا ہے کہ حضرت اسامہ ، حضرت سعد کو یہ حدیث بیان کررہے تھے اورانہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ.
Shu’bah narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5779), except that he did not mention the story of ‘Ata’ bin Yasar at the beginning of the Hadith.
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے لیکن اس کے شروع میں عطاء بن یسار والا قصہ ذکر نہیں ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالُوا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ.
It was narrated the Sa’d bin Malik, Khuzaimah bin Thabit and Usamah bin Zaid said: The Messenger of Allah (s.a.w) said… a Hadith like that of Shu’bah (no. 5779).
حضرت سعد بن مالک ، حضرت خزیمہ بن ثابت اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: یہ حدیث شعبہ کی روایت کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلاَهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَسَعْدٌ جَالِسَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ ، فَقَالاَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
It was narrated that Ibrahim bin Sa’d bin Abi Waqqas said: “Usamah bin Zaid and Sa’d were sitting and talking, and they said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said…”’ a similar Hadith (as no. 5779).
ابراہیم بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زید اور حضرت سعد بیٹھے ہوئے احادیث بیان کررہے تھے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔
وحَدَّثَنِيهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
A Hadith like theirs (i.e., Usamah bin Zaid and Sa’d, no. 5779) was narrated from Ibrahim bin Sa’d bin Malik, from his father, form the Prophet (s.a.w).
ابراہیم بن سعد بن مالک نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبیﷺسے مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت کی ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، خَرَجَ إِلَى الشَّامِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ.
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ : ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ فَدَعَوْتُهُمْ ، فَاسْتَشَارَهُمْ ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ ، فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَدْ خَرَجْتَ لأَمْرٍ وَلاَ نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلاَ نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ ، فَاسْتَشَارَهُمْ ، فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلاَفِهِمْ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ ، فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلاَنِ ، فَقَالُوا : نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلاَ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ : إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ ، فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ : أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللهِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلاَفَهُ ، نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ إِلَى قَدَرِ اللهِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ ، إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللهِ ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللهِ ، قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ ، فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا ، فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ. قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ.
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas that ‘Umar bin Al-Khattab set out for Ash-Sham, and when he was in Sargh he was met by the commanders of the troops, Abu ‘Ubaidah bin Al-Jarrah and his companions, who told him that pestilence had broken out in Ash-Sham. Ibn ‘Abbas said: “Umar said: ‘Call the first Muhajirin for me.’ So I called them, and he consulted them and told them that pestilence had broken out in Ash-Sham. They had a difference of opinion. Some of them said: ‘You have come out for a purpose and we do not think that you should go back.’ Some said: ‘You have the remainder of the people and the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) with you; we do not think that you should continue with them to where this pestilence is.’ Then he said: ‘Call the Ansar for me,’ so I called them for him. And he consulted them, and they did not same as the Muhajirin had done, and had the same difference of opinion, He said: ‘You may go.’ Then he said: ‘Call for me those who are here of the elders of the Quraish who migrated after the conquest of Makkah. I called them and no two men among them differed. They said: ‘We think that you should go back with the people and not take them to where this pestilence is.’ ‘Umar called out to the people: ‘In the morning I will be mounted, so get on your mount in the morning.’ Abu ‘Ubaidah bin Al-Jarrah said: ‘Are you fleeing from the Decree of Allah?’ ‘Umar said: ‘Would that someone other than you had said that, O Abu ‘Ubaidah’ – because ‘Umar did not like to disagree with him –‘Yes, we are fleeing from the Decree of Allah to the Decree of Allah. Do you think that if you had camels and they came down into a valley that had two sides, one that was green and verdant and one that was barren, and you took them to graze in the verdant side, would that not be by the Decree of Allah? And if you took them to graze on the barren side, would that not also be by the Decree of Allah?’ Then ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf came, who had been absent on some errand, and said: ‘I have some knowledge about that. I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ‘If you hear that it (the plague) is in a land, do not go there, and if it breaks out in a land where you are, do not leave, fleeing from it.” ‘Umar bin Al-Khattab praised Allah, then he went back.
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف گئے ، جب سرغ پہنچے تو اجناد کے لوگوں میں سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور ان کے اصحاب نے آپ سے ملاقات کی او ریہ بتایا کہ شام میں وباء پھیل گئی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مہاجرین اولین کوبلاؤ ، میں نے ان کو بلایا ، آپنے ان سے مشورہ کیا او ران کو یہ بتلایا کہ شام میں وباء پھیل گئی ہے ، اس مسئلہ میں ان کا اختلاف ہوا ، بعض نے کہا: آپ ایک کام کے لیے آئے ہیں اور ہمارے خیال میں اب آپ کا واپس جانا درست نہیں ، بعض نے کہا: آپ کے پاس بعض متقدمین اور اصحاب رسول اللہﷺموجود ہیں اور ہمارے خیال میں یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ ان کو وبائی علاقہ میں لے جائیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا اب آپ جائیں ، پھر فرمایا : میرے لیے انصار کو بلاؤ ، میں نے انصار کوبلایا ، پھر آپ نے ان سے مشورہ کیا ، انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح اپنی رائے کا اظہار کیا اور اسی طرح مختلف آراء بیان کیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگ بھی تشریف لے جائیں ، پھر فرمایا: قریش کے ان بزرگوں کو بلاؤ جو فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے تھے ، ان میں سے دو شخصوں نے بھی اختلاف رائے نہیں کیا اور سب نے یہ کہا: کہ ہماری رائے میں آپ واپس لوٹ جائیں اور لوگوں کو وبائی علاقہ میں نہ لے جائیں ، بالآخر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے یہ اعلان کرادیا کہ میں صبح کو سوار ہوجاؤں گا ، سو لوگ بھی سوا ہوگئے ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے کہا: کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ ع نہ نے کہا: کاش ! یہ بات آپ کے سوا کوئی کرتا ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے اختلاف کرنا اچھا نہیں سمجھتے تھے ، ہاں ! ہم اللہ تعالیٰ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جارہے ہیں ، مجھے یہ بتلاؤ اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم کسی ایسی وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ، ایک سر سبز او رشاداب ہو اور دوسرا بنجر اور ویران ہو، اب اگر تم سرسبز کنارے پر اپنے اونٹ چراؤ تو وہ بھی اللہ کی تقدیر ہے اور اگر خشک کنارے پر چراؤ تو وہ بھی اللہ کی تقدیر ہے ، اتنے میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگئے جو پہلے کسی کام سے گئے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا: مجھے اس مسئلہ کا علم ہے : میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی علاقہ میں وباء کی خبر سنو تووہاں مت جاؤ، اور ا گر تمہارے علاقہ میں وباء پھیل جائے تو اس وباء سے بچنے کے لیے وہاں سے مت نکلو ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ. وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ : وَقَالَ لَهُ أَيْضًا : أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَى الْجَدْبَةَ وَتَرَكَ الْخَصْبَةَ أَكُنْتَ مُعَجِّزَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَسِرْ إِذًا ، قَالَ: فَسَارَ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : هَذَا الْمَحِلُّ ، أَوْ قَالَ : هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
Ma’mar narrated with this chain of narrators a Hadith like that of Malik (mo. 5784), and in the Hadith of Ma’mar it adds: “And he (i.e., ‘Umar bin Al-Khattab) said to him: ‘Do you think that if he took them to graze in the barren part and not the verdant part, that this would be a shortcoming?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘Then move on.’ So he traveled until he came to Al-Madinah, and he said: ‘This is the right place,’ or he said: ‘This is the destination if Allah, the Exalted, wills.”’
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے ، اس میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ سے فرمایا: اگر کوئی آدمی سر سبز وادی کو چھوڑ کر خشک علاقہ میں جانور چرائے تو کیا تم اس کو الزام دو گے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر واپس چلو ، پھر وہ چلے گئے ، جب مدینہ منورہ آگیا تو آپ نے فرمایا: یہی منزل ہے ، اور یہی منزل ہے ان شاء اللہ تعالیٰ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ ، وَلَمْ يَقُلْ : عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.
It was narrated from Ibn Shihab with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5784).
یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے ، اس میں ہے کہ عبد اللہ بن حارث نے کہا: اور عبد اللہ بن عبد اللہ کا ذکر نہیں ہے۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّ عُمَرَ ، خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ ، فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ ، فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا ، فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ. وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ عُمَرَ ، إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amir bin Rabi'ah that ‘Umar set out for Ash-Sham, but when he came to Sargh he heard that pestilence had broken out in Ash-Sham. ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf told him that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “If you hear of it breaking out in some land, do not go there, and if it breaks out in a land where you are, do not leave, fleeing from it.” So ‘Umar bin Al-Khattab returned from Sargh. It was narrated from Ibn Shihab from Salim bin ‘Abdullah that ‘Umar went back with the people.
عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف گئے ، جب سرغ پہنچے تو ان کو یہ اطلاع ملی کہ شام میں وباء پھیل گئی ہے ، حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا: رسول ا للہ ﷺنے فرمایا ہے کہ جب تم کسی علاقہ میں وباء کی خبر سنو تو وہاں پر مت جاؤ ، اور جب تم کسی علاقہ میں ہو اوروہاں وباء پھیل جائے تو اس وباء سے بھاگنے کے لیے وہاں سے مت نکلو ، پھر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سرغ سے واپس لوٹ گئے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد الرحمن بن عوف کی روایت کی وجہ سے وہاں سے لوٹ گئے تھے۔
33. بابٌ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ نَوْءَ وَلاَ غُولَ وَلاَ يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لأَبِي الطَّاهِرِ ، قَالاَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ ، فَمَا بَالُ الإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا ؟ قَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ ؟.
It was narrated from Abu Hurairah that when the Messenger of Allah (s.a.w) said: “There is no ‘Adwa, no Safar and no Hamah," a Bedouin said: “O Messenger of Allah, what about camels that are running about in the sand like deer, then a mangy camel comes to them and they all get infected?” He said: “Who infected the first one?”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ صفر اور الو (کی نحوست) کی کوئی اصل ہے ، ایک دیہاتی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر کیا وجہ ہے کہ اونٹ ریگستان میں ہرنوں کی طرح پھر رہے ہوتے ہیں پھر ان میں خارش زدہ اونٹ داخل ہوتا ہے اور سب کو خارش میں مبتلاء کردیتاہے ؟ آپﷺنے فرمایا: پہلے اونٹ میں خارش کس نے پیدا کی تھی؟
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ ، ... بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
It was narrated form Ibn Shihab: “Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman and others told me that Abu Hurairah said: ‘The Messenger of Allah (s.a.w) said: “There is no ‘Adwa, no Tiyarah, no Safar and no Hamah.” A Bedouin said: ‘O Messenger of Allah…” a Hadith like that of Yunus (no. 5788).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ بدشگونی ہے ، نہ صفر اور الو (کی نحوست) کی کوئی اصل ہے ، ایک دیہاتی نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَى فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَذَكَرَ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، وَصَالِحٍ. وَعَنْ شُعَيْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ.
Abu Hurairah said: “The Prophet (s.a.w) said: ‘There is no ‘Adwa.’ A Bedouin stood up…” and he (the sub narrator) mentioned a Hadith like that of Yunus and Salih. And it was narrated from Shu'aib that Az-Zuhri said: “As-Sa’ib bin Yazid bin Ukht Namir told me that the Prophet (s.a.w) said: ‘There is no ‘Adwa, no Safar and no Hamah.”’
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہے ، پھر ایک دیہاتی کھڑا ہوا ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: نہ مرض متعدی ہوتا ہے اور نہ صفر اور الو (کی نحوست ) ہے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ عَدْوَى وَيُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ.
قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُهُمَا كِلْتَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ لاَ عَدْوَى وَأَقَامَ عَلَى أَنْ لاَ يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ قَالَ : فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ : قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُكَ ، يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ ، قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ ، كُنْتَ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَى فَأَبَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : لاَ يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ فَمَا رَآهُ الْحَارِثُ فِي ذَلِكَ حَتَّى غَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ ، فَقَالَ لِلْحَارِثِ : أَتَدْرِي مَاذَا قُلْتُ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قُلْتُ أَبَيْتُ.
قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُنَا ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ عَدْوَى فَلاَ أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الآخَرَ ؟.
It was narrated from Ibn Shihab that Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf told him that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “There is no ‘Adwa.” And he narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “No sick camel should be put with a healthy one.”
Abu Salamah said: Abu Hurairah narrated them both the Ahadith from the Messenger of Allah (s.a.w), then after the Abu Hurairah did not mention “There is no ‘Adwa,” but he continued to narrate the words: “No sick camel should be put with a healthy one.” Al-Harith bin Abu Dhubab – said: “O Abu Hurairah, I used to hear you narrate along with this Hadith another Hadith, concerning which you are now silent. You used to say: ‘The Messenger of Allah (s.a.w) said “There is no ‘Adwa.” But Abu Hurairah refused to acknowledge that and he said: “No sick camel should be put with a healthy one.” Al-Harith disagreed about that until Abu Hurairah grew angry and said something in Abyssinian, then he said to Al-Harith: “Do you know what I said?” He said: “No.” Abu Hurairah said: “I denied it.” Abu Salamah said: “By Allah, Abu Hurairah used to narrate to us that the Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘There is no ‘Adwa.’ I do not know whether Abu Hurairah forgot or whether one of them abrogated the other.”
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا ، او روہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے ، ابو سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دونوں حدیثیں رسول اللہ ﷺسے روایت کرتے تھے ، پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کرنا چھوڑ دیا کہ کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا ، اور اس پر قائم رہے کہ کسی بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے ، حارث بن ابی ذباب نے کہا: کہ ابو ہریرہ ! ہم نے سنا ہے کہ تم اس حدیث کے ساتھ ایک اورحدیث بیان کیا کرتے تھے ، جس کو اب تم نے بیان کرنا چھوڑ دیا ہے ، تم کہتے تھے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ہے : کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس روایت کو پہچاننے سے انکار کردیا اور کہا: بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے ، حارث اس سے مطمئن نہیں ہوئے یہاں تک کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ غضب ناک ہوئے اور حبشی زبان میں ان سے کچھ کہا: پھر حارث سے کہا: تم جانتے ہو میں نے تم سے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں ! حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا ہے کہ میں انکار کرتا ہوں ، ابو سلمہ نے کہا: مجھے اپنی زندگی کی قسم ! پہلے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا ، میں نہیں جانتا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھول گئے یا ایک روایت نے دوسری روایت کو منسوخ کردیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنِي ، و قَالَ الآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ عَدْوَى وَيُحَدِّثُ مَعَ ذَلِكَ لاَ يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “There is no ‘Adwa.” And he narrated as well: “No sick camel should be put with a healthy one.” Like the Hadith of Yunus (no. 5791).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا ، او راس کے ساتھ یہ حدیث بھی بیان کرتے تھےکہ بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔
حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
A similar report (as no. 5791) was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators.
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ هَامَةَ وَلاَ نَوْءَ وَلاَ صَفَرَ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “There is no ‘Adwa, no Hamah, no no Nawa’ and no Safar.”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا ، او ر نہ الو (کی نحوست) اور نہ ستارے (کی وجہ سے بارش ) اور نہ صفر (کی نحوست ) کی کوئی حقیقت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَى ، وَلاَ طِيَرَةَ ، وَلاَ غُولَ.
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘There is no ‘Adwa, no Tiyarah and no Ghoul.”’
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا ، اور نہ بدشگونی ہے او رنہ غول کی کوئی حقیقت ہے ۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَى ، وَلاَ غُولَ ، وَلاَ صَفَرَ.
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘There is no ‘Adwa, no Ghoul and no Safar.”’
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا ، او رنہ غول اور صفر (کی نحوست ) کی کوئی اصل ہے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ ، وَلاَ غُولَ.
وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ ، أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ : وَلاَ صَفَرَ ، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : الصَّفَرُ : الْبَطْنُ ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ : كَيْفَ ؟ قَالَ : كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ ، قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : هَذِهِ الْغُولُ : الَّتِي تَغَوَّلُ.
Jabir bin ‘Abdullah said: “I heard the Prophet (s.a.w) say: ‘There is no ‘Adwa, no Safar and no Ghoul.”’ And I (the narrator) heard Abu Az-Zubair say that Jabir explained the words “There is no Safar” to them. Abu Az-Zubair said: “Safar means the belly.” It was said to Jabir: “How is that?” He said: “It was said that it is worms in the belly.” He said: “But he did not explain Ghoul to them.” Abu Az-Zubair said: “This is the Ghoul that assumes different shapes.”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا ، نہ صفر اور غول کی کوئی حقیقت ہے ، ابو الزبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر نے " اور صفر کی کوئی اصل نہیں" کی تفسیر بیان کی ، ابو الزبیر نے کہا: کہ صفر سے مراد پیٹ ہے، ان سے کہا گیا : کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا: پیٹ کے کیڑے ، ابو الزبیر نے کہا: انہوں نے غول کی تفسیر نہیں کی ، ابو الزبیر نے کہا: غول سے مراد وہ ہے جو مسافروں کو ہلاک کرتا ہے۔
34. باب الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ الشُّؤْمُ
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لاَ طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ.
Abu Hurairah said: “I heard the Prophet (s.a.w) say: ‘There is no Tiyarah; the best of it is Al-Fa’l.’ It was said: ‘O Messenger of Allah, what is Al-Fa’l?’ He said: ‘A good word which one of you hears.”’
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اچھا شگون نیک شگون ہے ، عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسولﷺ!نیک شگونی کس چیز میں ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: اچھی بات میں جو تم میں سے کوئی شخص سنے۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ (ح) وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ. وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ : عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ : سَمِعْتُ. وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ : قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا قَالَ : مَعْمَرٌ.
A similar report (as no. 5798) was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators. In the Hadith of ‘Uqail it is narrated from the Messenger of Allah (s.a.w), and he did not say: “I heard.” In the Hadith of Shu’aib it says: “I heard the Prophet (s.a.w),” as Ma’mar said.
یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ عَدْوَى ، وَلاَ طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ : الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ ، الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ.
It was narrated from Anas that the Prophet of Allah (s.a.w) said: “There is no ‘Adwa and no Tiyarah, but I like Fa’l: A kind word or a good word.”
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ، اور نہ کوئی بدفالی ہوتی ہے ، اور مجھے نیک شگون اچھا لگتا ہے ، اچھی بات ، نیک بات۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ عَدْوَى ، وَلاَ طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالَ قِيلَ : وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ.
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (s.a.w) said: “There is no ‘Adwa and no Tiyarah, but I like Fa’l.” It was said: “What is Fa’l?” He (s.a.w) said: “A good word.”
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ، اور نہ کوئی بدفالی ہے اور نیک شگون مجھے پسند ہے ، آپﷺسے عرض کیا گیا : نیک شگون کیا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: اچھی بات۔
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَتِيقٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَى ، وَلاَ طِيَرَةَ ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘There is no ‘Adwa and no Tiyarah, but I like Fa’l.”’
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ، اور نہ کوئی بدفالی ہے اور نیک فال کو میں پسند کرتا ہوں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ عَدْوَى ، وَلاَ هَامَةَ ، وَلاَ طِيَرَةَ ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘There is no ‘Adwa, no Hamah and no Tiyarah, but I like Fa’l.”’
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ، او رنہ الو کی کوئی حقیقت ہے ، اور نہ بدشگونی کی کوئی اصل ہے ، اور میں نیک فال کو پسند کرتا ہوں۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ (ح) وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالْفَرَسِ.
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Ash-Shu’m is only to be found in a house, a woman and a horse.”
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: گھر ، عورت ، اور گھوڑے میں نحوست ہوسکتی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثَةٍ : الْمَرْأَةِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالدَّارِ.
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “There is no ‘Adwa and no Tiyarah, rather Ash-Shu’m is only to be found in three things: A woman, a horse and a house.”
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ، اور نہ بدفالی کوئی حقیقت ہے ، نحوست صرف تین چیزوں میں ہوسکتی ہے : عورت ، گھوڑے ، اور مکان میں۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَحَمْزَةَ ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ (ح) وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ (ح) وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الشُّؤْمِ ، ... بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ لاَ يَذْكُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ الْعَدْوَى وَالطِّيَرَةَ ، غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
A Hadith like that of Malik (no. 5804) was narrated from Salim, from his father, from the Messenger of Allah (s.a.w) concerning Ash-Shu’m. None of them mentioned ‘Adwa and Tiyarah in the Hadith of Ibn ‘Umar, except Yunus bin Yazid.
یہ حدیث چھ سندوں کے ساتھ مروی ہے ، اور اس میں یہ ہے کہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مرض کا متعدی ہونا اور بدشگونی بے اصل ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : إِنْ يَكُنْ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ ، فَفِي الْفَرَسِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالدَّارِ.
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (s.a.w) said: “If Ash-Shu’m is in anything then it is in a horse, a woman or a house.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اگر کسی چیز میں نحوست ہونا برحق ہے تو وہ گھوڑے ، عورت ، اورمکان میں ہے ۔
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَقُلْ : حَقٌّ.
Shu’bah narrated a similar report (as no. 5807) with this chain of narrators.
ایک اور سند سے یہ حدیث مروی اسی طرح ہے لیکن اس میں " حق" کا لفظ نہیں ہے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ ، وَالْمَسْكَنِ ، وَالْمَرْأَةِ.
It was narrated from Hamzah bin ‘Abdullah bin ‘Umar from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “If Ash-Shu’m is in anything, it is in a horse, a house or a woman.”
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر کسی چیز میں بدشگونی ہوگی تو گھوڑے ، مکان ، اور عورت میں ہوگی۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ كَانَ ، فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ ، يَعْنِي الشُّؤْمَ.
It was narrated that Sahl bin Sa’d said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: “If exists it is in a woman, a horse or a house,’ meaning Ash-Shu’m.”
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اگر نحوست ہوگی تو عورت ، گھوڑے ، اور گھر میں ہوگی۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.
A similar report (as Hadith no. 5810) was narrated from Sahl bin Sa’d from the Prophet (s.a.w).
یہ حدیث بھی حضرت سہل بن سعد سے حسب سابق مروی ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ فَفِي الرَّبْعِ ، وَالْخَادِمِ ، وَالْفَرَسِ.
Jabir narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “If it (i.e., Ash-Shu’m) exists in anything, it is in a house, a servant or a horse.”
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر نحوست کسی چیز میں ہوسکتی ہے تو مکان ، خادم ، اور گھوڑے میں ہوگی۔
35. باب تَحْرِيمِ الْكِهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ ، قَالَ : فَلاَ تَأْتُوا الْكُهَّانَ قَالَ قُلْتُ : كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ : ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ ، فَلاَ يَصُدَّنَّكُمْ.
It was narrated that Mu’awiyah bun Al-Hakam As-Sulami said: “I said: ‘O Messenger of Allah, there are some things that we used to do during Jahiliyyah. We used to go to soothsayers.’ He said: ‘Do not go to soothsayers.’ I said: ‘We used to follow Tiyarah.’ He said: ‘That is something that one of you feels in his heart. He should not let it prevent him from doing something.”
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم زمانہ جاہلیت میں کچھ کام کرتے تھے ، ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے ، آپﷺنے فرمایا: تم کاہنوں کے پاس مت جاؤ ، میں نے عرض کیا : ہم بدشگونی لیتے ہیں ، آپﷺنے فرمایا: محض تمہارے دل کا ایک خیال ہے تم اس کے درپے نہ ہو۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ ، يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا فِي حَدِيثِهِ ذَكَرَ الطِّيَرَةَ ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْكُهَّانِ.
A Hadith like that of Yunus (no. 5813) was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators, except that Malik mentioned Tiyarah in his Hadith but he did not mention soothsayers.
یہ حدیث چار اور سندوں سے بھی مروی ہے ، البتہ امام مالک کی روایت میں بدفالی کا ذکر ہے کاہنوں کا ذکر نہیں ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ.
وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ : قُلْتُ : وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ : كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ.
A Hadith like that of Az-Zuhri from Abu Salamah from Mu’awiyah was narrated from Mu’awiyah bin Al-Hakam As-Sulami from the Prophet (s.a.w). In the Hadith of Yahya bin Abi Kathir it adds: “He said: ‘I said “Among us there are some men who perform Khatt.” He said: “One of the Prophet used to draw lines; if a person’s Khatt is in accord with his, that is fine.”
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ خط کھینچتے ہیں ، آپﷺنے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی بھی خط کھینچتے تھے ، سو جو ان کے طریقہ کے مطابق خط کھینچے وہ حق ہے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ الْكُهَّانَ كَانُوا يُحَدِّثُونَنَا بِالشَّيْءِ فَنَجِدُهُ حَقًّا قَالَ : تِلْكَ الْكَلِمَةُ الْحَقُّ ، يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ ، وَيَزِيدُ فِيهَا مِئَةَ كَذْبَةٍ.
It was narrated that ‘Aishah said: “I said: ‘O Messenger of Allah, the soothsayers used to tell us things that we would find to be true.’ He said: ‘That is a true word that the Jinn snatches and throws into the ear of his friend (the soothsayers), but he adds a hundred lies to it.”’
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! کاہن جو باتیں کرتے ہیں ان میں سے بعض باتیں سچی نکلتی ہیں ، آپﷺنے فرمایا: اس سچی بات کو جن اچک لیتے ہیں او روہ اس کو اپنے ولی (کاہن) کے کان میں پھونک دیتے ہیں ، وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسُوا بِشَيْءٍ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا الشَّيْءَ يَكُونُ حَقًّا ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الحق يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ.
'Aisha said: “Some people asked the Messenger of Allah (s.a.w) about soothsayers. The Messenger of Allah (s.a.w) said to them: ‘The are nothing.’ They said: ‘O Messenger of Allah, sometimes they tell us something that turns out to be true.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘That is a word from the Jinn that the Jinn snatches, and he cackles it into the ear of his friend (the soothsayers) as a hen cackles, but they mix more than a hundred lies with it.”’
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہﷺسے کاہنوں کے متعلق سوال کیا ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! جو باتیں وہ بیان کرتے ہیں وہ بعض اوقات سچ نکلتی ہیں ، آپﷺنے فرمایا: یہ سچی بات وہ ہے جس کو جن اچک کر اپنے ولی کے کان میں پھونک دیتا ہے جیسا کہ مرغ مرغی کو دانے کےلیے بلاتا ہے ، پھر وہ اس میں ایک سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتا ہے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْقِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
A report like that if Ma’qil from Az-Zuhri (no. 5817) was narrated from Ibn Shihab with this chain of narrators.
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ حَسَنٌ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ ، وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّهَا لاَ يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ ، إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، ثُمَّ قَالَ : الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ : مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ : قَالَ فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا ، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ ، وَيُرْمَوْنَ بِهِ ، فَمَا جَاؤُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Abbas said: “One of the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w), an Ansari man, told me that while they were sitting one night with the Messenger of Allah (s.a.w), a shooting star shone brightly. The Messenger of Allah (s.a.w) said to them: ‘What did you used to say during the Jahiliyyah if you saw a shooting star?’ They said: ‘Allah and His Messenger know best. We used to say that a great man has been born this night, or that a great man has died.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘It does not appear for the death or life of anyone, but when our Lord, Exalted and Blessed is His Name, decrees some matter, the bearers of the Throne glorify Him, then the inhabitants of heaven who are closest to them glorify Him, until the Tasbih (statements of glorification) reach the people of the lowest heaven, Then those who are nearest to the bearers of the Throne say: “What did your Lord say?” And they tell them what He said. And the inhabitants of heaven ask one another for the news, until the news reaches the lowest heaven. Then the eavesdropping Jinn snatch what they can and they convey it to their friend (the soothsayers). What they narrated as they heard it is true, but they add lies to it.”’
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکے اصحاب میں سے ایک انصاری نے بیان کیا کہ ایک رات کو وہ رسول اللہﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا او راس کی روشنی پھیلی ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں تم اس حادثہ کے متعلق کیا کہتے تھے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ، ہم یہ کہتے تھے کہ آج رات کو بہت بڑا آدمی پیدا ہوا ہے ، اور کوئی بہت بڑا آدمی فوت ہوگیا ہے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: ستارہ اس وجہ سے نہیں ٹوٹتا کہ کوئی مرتا ہے یا پیدا ہوتا ہے ، لیکن ہمارا رب تبارک و تعالیٰ جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو حاملین عرش فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں ، پھر جوان کے قریب آسمان کے فرشتے ہیں سبحان اللہ کہتے ہیں یہاں تک کہ ان کی تسبیح آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے ، پھر حاملین عرش کے قریب والے حاملین عرش سے کہتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ پھر وہ خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ، پھر آسمان کے بعض فرشتے بھی دوسروں کو بتاتے ہیں (کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ) یہاں تک کہ آسمان دنیا تک خبر پہنچتی ہے ، پھر جن اس سنی ہوئی بات کو لے اڑتےہیں اور اسے (کاہنوں کے کانوں میں) پھونک دیتے ہیں ، تو اگر وہ اسی طرح خبر دیں تو وہ سچ ہوتی ہے ، لیکن وہ اس میں اپنی مرضی سے کچھ اور ملا دیتے ہیں۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ (ح) وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللهِ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ قَالَ : عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ.
وَفِي حَدِيثِ الأَوْزَاعِيِّ وَلَكِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ. وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ وَلَكِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ. وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ وَقَالَ اللَّهُ : {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ} وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ كَمَا قَالَ الأَوْزَاعِيُّ : وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.
It was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5819). In the Hadith of Yunus it adds: “Allah says: ‘So much so that when fear is banished from their (angles’) hears, they (angles) say: “What is it that your Lord had said?” They say: “The truth”.” In the Hadith of Ma’qil it says the same as Al-Awza’i said: “But they add lies to it.”
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکے صحابہ میں سے بعض انصار نے بیان کیا کہ تمہارا رب جو فرماتا ہے وہ حق ہے لیکن وہ اس میں ردو بدل کرکے کچھ ملا دیتے ہیں ، اس حدیث کے الفاظ میں راویوں کا اختلاف ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.
It was narrated from Safiyyah, from one of the wives of the Prophet (s.a.w), that the Prophet (s.a.w) said: “Whoever goes to fortune-teller and ask him about something, his prayer will not be accepted for forty nights.”
حضرت صفیہ نبی ﷺکی بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے کاہن کے پاس جاکر کوئی بات پوچھی اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔
36. باب اجْتِنَابِ الْمَجْذُومِ وَنَحْوِهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِعْ.
It was narrated from ‘Amr bin Ash-Sharid that his father said: “Among the delegation of Thaqif there was a leper. The Prophet (s.a.w) sent word to him saying: ‘We have accepted your oath of allegiance; now go back.”’
عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک جذامی آدمی تھا ، نبی ﷺنے اس کو پیغام بھیجا کہ تم واپس لوٹ جاؤ ، ہم تم سے بیعت کرچکے ہیں۔
37. بابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ ، فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ.
It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) enjoined killing Dhut-Tufyatain (the snake with two stripes), for it causes blindness and miscarriage.”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے دو دھاریوں والے سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ، کیونکہ وہ بصارت زائل کردیتا ہے ، اور حمل گرادیتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : الأَبْتَرُ وَذُو الطُّفْيَتَيْنِ.
Hisham narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5823) bit he said: “The short-tailed snake and the snake with two stripes.”
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ، اس میں دو دھاریوں والے اور دم کٹا دونوں سانپوں کا ذکر ہے۔
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ. قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ : يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
It was narrated from Salim, from his father, from the Prophet (s.a.w) (that he said): “Kill snakes and the one with two stripes and the short-tailed one, for they cause miscarriage and blindness.” Ibn ‘Umar used to kill every snake he found. Abu Lubabah bin –Abdul-Mundhir or Zaid bin Al-Khattab saw him chasing a snake and said: “It is forbidden to kill those snakes that live in houses.”
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: سانپوں کو قتل کردو ، اور دو دھاریوں والے اور دم کٹے سانپ کو ، کیونکہ یہ حمل گرادیتے ہیں ، اور آنکھ کی بصارت کو زائل کردیتے ہیں ، سالم کہتےہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جس سانپ کوبھی دیکھتے مار ڈالتے تھے ، ایک مرتبہ ابو لبابہ بن عبد المنذر یا زید بن الخطاب نے ان کو ایک سانپ کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: کہ گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ يَقُولُ : اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْكِلاَبَ ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَى. قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَنُرَى ذَلِكَ مِنْ سُمَّيْهِمَا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ : فَلَبِثْتُ لاَ أَتْرُكُ حَيَّةً أَرَاهَا إِلاَّ قَتَلْتُهَا ، فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً يَوْمًا ، مِنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ ، مَرَّ بِي زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ ، وَأَنَا أُطَارِدُهَا ، فَقَالَ : مَهْلاً ، يَا عَبْدَ اللهِ فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah (s.a.w) enjoin the killing of dogs. He said: ‘Kill snakes and dogs, and kill the one that has two stripes and the short-tailed one, for they cause blindness and miscarriage.”’ Az-Zuhri said: “We thought that was because of their poison, and Allah knows best.” Salim said: “Abdullah bin ‘Umar said: ‘For a while I did not leave any snake that I saw but I killed it. One day, while I was chasing the kind of snake that lives in houses, Zaid bin Al-Khattab or Abu Lubabah passed by me when I was chasing it. He said: ‘Take it easy, O ‘Abdullah.’ I said: ‘The Messenger of Allah (s.a.w) enjoined killing them.’ He said: ‘The Messenger of Allah (s.a.w) forbade killing those that live in houses.”’
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کتوں کو مارنے کا حکم دیا ، آپﷺنے فرمایا: سانپوں اور کتوں کو قتل کردو، اور دو دھاری والے اور دم کٹے کو قتل کردو ، کیونکہ وہ نظر زائل کرتے ہیں ، اور حاملہ عورتوں کے حمل گرادیتے ہیں ، زہری نے کہا: ہمارے خیال میں یہ ان کے زہر کی تاثیر ہے ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جو سانپ بھی دیکھتا اس کو مار دیتا ، ایک مرتبہ میں ایک گھریلو سانپ کا پیچھا کررہا تھا ، اس وقت زید بن الخطاب یا حضرت ابو لبابہ کا گزر ہوا ، انہوں نے کہا: اے عبد اللہ ! ٹھہرو ، میں نے کہا: رسول اللہﷺنے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ، انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے گھریلو سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا ہے۔
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. غَيْرَ أَنَّ صَالِحًا قَالَ: حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالاَ: إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ. وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَلَمْ يَقُلْ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ.
It was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5826), except that Salih said: “Until Abu Lubabah bin ‘Abdul-Mundhir and Zahid bin Al-Khattab saw me and said: He ((s.a.w)) forbade killing those that love in houses. In the Hadith of Yunus (it says): “Kill snakes,” but he did not say: “The one with two stripes and the short-tailed one.”
حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر اور زید بن الخطاب سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے گھریلو سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا، یونس کی روایت میں ہے ، سانپوں کو مارو اور دو دھاری والے اور دم کٹے سانپ کا ذکر نہیں کیا۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ (ح) وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ ، كَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِيَفْتَحَ لَهُ بَابًا فِي دَارِهِ ، يَسْتَقْرِبُ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدَ الْغِلْمَةُ جِلْدَ جَانٍّ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : الْتَمِسُوهُ فَاقْتُلُوهُ ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : لاَ تَقْتُلُوهُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ.
It was narrated from Nafi that Abu Lubabah spoke to Ibn ‘Umar telling him to create a door in his house, so that they would have easier access to the Masjid, The laborers found the skin of a small snake, and ‘Abdullah said: “Find it and kill it.” Abu Lubabah said: “Do not kill it, for the Messenger of Allah (s.a.w) forbade killing the small snake that live in houses.”
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابو لبابہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے گھر میں ایک دروازہ کھولنے کے بارے میں گفتگو کی ، تاکہ وہ مسجد کے قریب ہوجائیں ، اتنے میں لڑکوں کو سانپ کی ایک کھال ملی، حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے کہا: سانپ کو تلاش کرو اور قتل کردو ، ابو لبابہ نے کہا: اس کو قتل مت کرو، کیونکہ رسو ل اللہ ﷺ نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ حَتَّى حَدَّثَنَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْبَدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ ، فَأَمْسَكَ.
Nafi said: Ibn ‘Umar used to kill all kinds of snakes, until Abu Lubabah bin ‘Abdul-Mundhir Al-Badri told us that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade killing the small snakes that live in houses, then he refrained.
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تمام سانپوں کو مار ڈالتے تھے یہاں تک کہ حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر بدری نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺنے گھر وں کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ، پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے (ان کو قتل کرنا) چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا لُبَابَةَ ، يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ.
Nafi narrated that he heard Abu Lubabah tell Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade killing small snakes.
حضرت ابو لبابہ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے گھریلو سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ.
It was narrated from Nafi’, from ‘Abdullah, that Abu Lubabah told him that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade killing the small snakes that live in houses.
حضرت ابو لبابہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے گھریلو سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الأَنْصَارِيَّ ، وَكَانَ مَسْكَنُهُ بِقُبَاءٍ فَانْتَقَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَبَيْنَمَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسًا مَعَهُ يَفْتَحُ خَوْخَةً لَهُ ، إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ مِنْ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ ، فَأَرَادُوا قَتْلَهَا ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْهُنَّ يُرِيدُ عَوَامِرَ الْبُيُوتِ ، وَأُمِرَ بِقَتْلِ الأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَقِيلَ هُمَا اللَّذَانِ يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ ، وَيَطْرَحَانِ أَوْلاَدَ النِّسَاءِ.
Nafi’ narrated from Abu Lubabah bin ‘Abdul-Mundhir Al-Ansari – who lived in Quba’ then moved to Al-Madinah – that while ‘Abdullah bin ‘Umar was with him, making a door in the wall, they saw a snake of the type that lives in houses, and they wanted to kill it. Abu Lubabah said that it was forbidden to kill them – meaning the snakes that live in houses – but it was enjoined to kill the short-tailed snake and the one with two stripes. And it was said: “There are the ones that target the eyes and cause miscarriages.”
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر قبا میں تھا ، وہ مدینہ منورہ منتقل ہوگئے ، ایک دن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انہوں نے گھر کے سانپوں میں سے ایک سانپ دیکھا ، گھر والوں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ، حضرت ابو لبابہ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے گھر کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے اور دم کٹا اور دو دھاریوں والے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ، کہا گیا کہ یہی وہ دو سانپ ہیں جو نظر زائل کرتے ہیں اور عورتوں کے بچوں کو گرادیتے ہیں۔
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمًا عِنْدَ هَدْمٍ لَهُ ، فَرَأَى وَبِيصَ جَانٍّ فَقَالَ : اتَّبِعُوا هَذَا الْجَانَّ فَاقْتُلُوهُ ، قَالَ أَبُو لُبَابَةَ الأَنْصَارِيُّ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ ، إِلاَّ الأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ ، فَإِنَّهُمَا اللَّذَانِ يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ ، وَيَتَتَبَّعَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ.
It was narrated from ‘Umar bin Nafi’, that his father said: “One day ‘Abdullah bin ‘Umar was at a demolished site of his, when he saw flash of a small snake. He said: ‘Find this snake and kill it.’ Abu Lubabah Al-Ansari said: ‘I heard the Messenger of Allah (s.a.w) forbid killing the small snakes that live in houses, except the short-tailed snake and the one with two stripes, for they are the ones that cause blindness and miscarriages.”’
نافع سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گرے ہوئے مکانوں کے پاس تھے ، کہ اچانک انہوں نے ایک سانپ کی کھال دیکھی ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس سانپ کو تلاش کرکے قتل کردو ، حضرت ابو لبابہ انصاری نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ آپﷺگھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع کرتے تھے سوائے دو دھاری والے اور دم کٹا کے ، کیونکہ یہی وہ دو سانپ ہیں جو نظر کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے حمل کو گرادیتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ ، مَرَّ بِابْنِ عُمَرَ وَهُوَ عِنْدَ الأُطُمِ الَّذِي عِنْدَ دَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، يَرْصُدُ حَيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.
Nafi’ narrated that Abu Lubabah passed by Ibn ‘Umar when he was at the fortified place that was near the house of ‘Umar bin Al-Khattab, watching a snake… a Hadith like that of Al-Laith bin Sa’d (no. 5838).
نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابو لبابہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اس حال میں وہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے مکان کے پاس جو قلعہ تھا اس میں سانپ کو تلاش کررہے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى : وَإِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا ، فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً ، إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ ، فَقَالَ : اقْتُلُوهَا فَابْتَدَرْنَاهَا ، لِنَقْتُلَهَا ، فَسَبَقَتْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا.
It was narrated that ‘Abdullah said: “We were with the Prophet (s.a.w) in a cave, and: ‘By the winds (or angels or the Messengers of Allah) sent forth one after another was revealed to him. We heard it directly from his lips. Then a snake came out and he said: ‘Kill it.’ So we hastened to kill it but it got away from us. The Prophet (s.a.w) said: ‘Allah protected it from your harm as He protected you from its harm.”’
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبیﷺکے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی ﷺپر " والمرسلات عرفا" نازل ہوئی ، ہم نبی ﷺکے منہ سے اس سورت کو تازہ بہ تازہ سن رہے تھے ، کہ اچانک ایک سانپ نکلا، آپﷺنے فرمایا: اس سانپ کو مار دو ، ہم اس سانپ کو مارنے کے لیے جھپٹے کہ وہ ہم سے بھا گ گیا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کے شر سے بچالیا جیسا کہ اس کو تمہارے شر سے بچا لیا۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، بِمِثْلِهِ.
A similar report (as no. 5835) was narrated from Al-A’mash with this chain of narrators.
یہ حدیث ایک اور سند سے حسب سابق مروی ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُحْرِمًا بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى.
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) told a Muhrim (pilgrim in Ihram) to kill a snake in Mina.
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے منیٰ میں ایک محرم کو سانپ مارنے کا حکم دیا۔
وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ.
It was narrated that ‘Abdullah said: “While we were with the Messenger of Allah (s.a.w) in a cave…” a Hadith like that of Jarir and Abu Mu’awiyah (no. 5835, 5836).
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ ایک غار میں تھے ، یہ حدیث بھی مثل سابق ہے ۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ ، وَهُوَ عِنْدَنَا مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ ، قَالَ : فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاَتَهُ ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لأَقْتُلَهَا ، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ ، فَقَالَ : أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا ،فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ عَلَيْكَ سِلاَحَكَ ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلاَحَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً فَأَهْوَى إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ ، فَقَالَتْ لَهُ : اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي ، فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ ، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى ، قَالَ : فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ وَقُلْنَا ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا فَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا ، فَآذِنُوهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَاقْتُلُوهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.
Abu As-Sa’ib the freed slave of Hisham bin Zuhrah, narrated that he entered upon Abu Sa’eed Al-Khudri in his house. He said: “I found him praying, so I sat down to wait until he finished his prayer. I heard a sound in the ceiling, and I turned and saw a snake, so I jumped up to kill it, but he gestured to me to sit down, so I sat down, When he had finished he pointed to a room in the house and said: ‘Do you see this room?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘In in there was a young man of our family who was newly married. We went out with the Messenger of Allah (s.a.w) to (the battle of) Al-Khandaq (the Ditch) and that young man used to ask the Messenger of Allah (s.a.w) for permission to go back to his wife at mid-day. He asked him asked him for permission one day, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Take your weapon with you, for I fear that Quraizah may harm you.” So the man took his weapon and went back, and he found his wife standing in the courtyard. He ran towards her with the spear to stab her, because he was overtaken by protective jealousy (Ghirah), but she said to him: “Put your spear down, and go inside the house so you can see what made me come out.” He went inside and saw a huge snake coiled on bed. He ran towards it with his spear and pierced it, then he came out and thrust the spear, with the snake on it, into the ground in the yard. It attacked him, and it is not known which of them died first, the snake or the young man. We said to him (the Prophet (s.a.w)): “Pray to Allah that he might be brought back to life for us.” He said: “Pray for forgiveness for your companion.” Then he said: “In Al-Madinah there are some Jinn who became Muslim, so if you see any of them, ask them to leave for three days. If it appears to you after that then kill it, for it is a devil.”
ابو السائب سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے گھر گئے تو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ، میں بیٹھ کر ان کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا ، اتنے میں گھر کے کونے میں رکھی ہوئی لکڑیوں سے حرکت کی آواز آئی ، میں نے مڑکر دیکھا تو ایک سانپ تھا ، میں اس کو قتل کرنے کے لیے لپکا ، حضرت ابو سعید نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ، سو میں بیٹھ گیا ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے مکان کی ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ کیا تم اس گھر کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: ہاں ! انہوں نے کہا: اس گھر میں ہمارا ایک نوجوان رہتا تھا ، جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ، انہوں نے کہا: پھر ہم رسول اللہﷺکے ساتھ خندق کی طرف گئے ، وہ نوجوان دوپہر کے وقت رسول اللہﷺسے اجازت لے کر اپنے گھر جاتا تھا ، ایک دن اس نے اجازت طلب کی تو رسول اللہﷺنے فرمایا: اپنے ہتھیار لے کر جاؤ ، کیونکہ مجھے تم پر بنو قریظہ کے حملہ کا ڈر ہے ، وہ نوجوان اپنے ہتھیار لیکر چلا گیا ، جب و ہ گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے کی دونوں پٹیوں کے درمیان کھڑی ہے ، اس نے غیرت میں آکر اسکو نیزہ مارنے کا ارادہ کیا ، اس عورت نے کہا: اپنے نیزے کو روکو اور گھر کے اندر جاکر دیکھو ، تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میں کس وجہ سے باہر کھڑی ہوں ، جب وہ اندر گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا سانپ کنڈلی مارے بستر پر بیٹھا ہے ، اس نوجوان نے اس سانپ کو مارنے کا ارادہ کیا اور نیزہ اس سانپ میں گھونپ دیا ، پھر باہر نکل کر وہ نیزہ مکان میں گاڑ دیا، وہ سانپ اس جوان پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور یہ پتا نہ چل سکا کہ سانپ پہلے مرا ، یا وہ جوان ، پھر ہم رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر اس واقعہ کا ذکر کیا ، ہم نے عرض کیا کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کردے ، آپﷺنے فرمایا: اپنے اس ساتھی کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو، پھر فرمایا: مدینہ میں رہنے والے جن مسلمان ہوگئے ہیں ، پس جب تم ان سانپوں میں سے کسی کو دیکھو تو ان کو تین دن تک خبردار کرو، اس کے بعد بھی اگر سانپ دکھائی دے تو اس کو قتل کردو کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَكَةً ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا حَيَّةٌ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ صَيْفِيٍّ. وَقَالَ فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلاَثًا ، فَإِنْ ذَهَبَ ، وَإِلاَّ فَاقْتُلُوهُ ، فَإِنَّهُ كَافِرٌ وَقَالَ لَهُمْ : اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ.
Asma bint ‘Ubaid narrated that a man who was called As-Sa’ib – and he is known to us as Abu As-Sa’ib – said: “We entered upon Abu Sa’eed Al-Khudri, and while we were sitting there, we heard a movement beneath the bed. We looked and saw a snake…’ and he quoted the story as in the Hadith of Malik form Saifi (no. 5839). And he said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘These houses have inhabitants. If you see any of them, ask them to leave for three days. If it goes (all well and good), otherwise kill it, for it is a disbeliever.’ And he said to them: ‘Go and bury your companion.”’
حضرت ابو سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اچانک ہم نے تخت کے نیچے ایک حرکت کی آواز سنی ، ہم نے دیکھا کہ وہ ایک سانپ تھا ، اس کے بعد مالک کی روایت کی طرح مذکور ہے، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ان گھروں میں آباد رہنے والے سانپ ہیں ، جب تم کوئی سانپ دیکھو تو اس کو تین دن تک تنگ کرو ، اگر وہ چلا جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو قتل کردو ، کیونکہ وہ کافر ہے ، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آپﷺنے فرمایا: جاؤ اپنے ساتھی کو دفن کردو۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، حَدَّثَنِي صَيْفِيٌّ ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ بِالْمَدِينَةِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ قَدْ أَسْلَمُوا ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْعَوَامِرِ فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلاَثًا ، فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْهُ ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ.
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘In Al-Madinah there are some of the Jinn who have become Muslim. Whoever sees any sign of these inhabitants, let him warn him for three days, them if he appears after that let him kill him, for he is a devil.”’
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مدینہ میں کئی جن رہتے ہیں جو مسلمان ہوچکے ہیں ، سو جو آدمی ان سانپوں میں سے کسی کو دیکھے تو اس کو تین دن تک متنبہ کرے ، اگر وہ اس کے بعد بھی دکھائی دے تو اس کو قتل کردے ، کیونکہ وہ شیطان ہے۔
38. باب اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرُونَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِقَتْلِ الأَوْزَاغِ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَمَرَ.
It was narrated from Sa’eed bin Al-Musaiyyab, from Umm Sharik, that the Prophet (s.a.w) told her to kill geckos. In the Hadith of Ibn Abu Shaibah it says: “He (s.a.w) enjoined (the killing of geckos).”
ام شریک بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺنے ان کو چھپکلی مارنے کا حکم دیا ، ابن ابی شیبہ کی روایت میں " امرھا " کی جگہ " امر" کا لفظ ہے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قَتْلِ الْوِزْغَانِ فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا.
وَأُمُّ شَرِيكٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ اتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ ، وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ قَرِيبٌ مِنْهُ.
Sa'eed bin Al-Musaiyyab narrated that Umm Shairk told him that she asked the Prophet (s.a.w) about killing geckos and he told her to kill them. Umm Sharik was one of the women of Banu ‘Amir bin Lu’ayy.
ام شریک بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺچھپکلی مارنے کے بارے میں پوچھا تو آپﷺنے ان کو مارنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا.
It was narrated from ‘Amir bin Sa’d, from his father, that the Prophet (s.a.w) enjoined the killing of geckos and he called them Fuqaisiq (vermin).
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے چھپکلی مارنے کا حکم دیا اور اس کا نام فویسق رکھا۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالاَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ. زَادَ حَرْمَلَةُ: قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے چھپکلی کو فویسق کہا ہے ، حرملہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے آپﷺسے نہیں سنا کہ آپ ﷺنے اسکو مارنے کا حکم دیا ہو۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً ، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً ، لِدُونِ الأُولَى ، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً ، لِدُونِ الثَّانِيَةِ.
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Whoever kills a geckos with the first blow will have such and such of Hasanah (good merit). Whoever kills it with the second blow will have such and such of Hasanah, less than the first. Whoever kills it with the third blow will have such-and-such of Hasanah, less than the second.”’
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی نے پہلی ضرب میں چھپکلی کو قتل کردیا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جس نے دوسری ضرب میں مارا اس کے لیے اس سے کم نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور تیسری ضرب میں اس سے کم نیکیاں لکھی جائیں گی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ , كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ خَالِدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ. إِلاَّ جَرِيرًا وَحْدَهُ ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَتْ لَهُ مِئَةُ حَسَنَةٍ ، وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِكَ ، وَفِي الثَّالِثَةِ دُونَ ذَلِكَ.
A Hadith like that of Khalid from Sahl (no. 5846) was narrated form Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w), except Jarir only, in whose Hadith it says: “Whoever kills a gecko with the first blow, one hundred Hasanah will be recorded for him, and for the second blow, less than that, and for the third blow, less than that.”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جس آدمی نے پہلی ضرب میں چھپکلی کو قتل کردیا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور دوسری ضرب میں اس سے کم ، اور تیسری ضرب میں اس سے کم۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، حَدَّثَتْنِي أُخْتِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً.
It was narrated Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: “For the first blow seventy Hasanah.”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: پہلی ضرب میں ستر نیکیاں ہیں ۔
39. باب النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النَّمْلِ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ ؟.
It was narrated from Abu Hurairah from the Messenger of Allah (s.a.w): “An ant bit one of the Prophets and he ordered that the colony of the ants be burned. Allah revealed to him: Because one ant bit you, you have destroyed one of the nations that glorifies Allah?”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو کسی چیونٹی نے کاٹ لیا ، انہوں نے چیونٹی کی پوری بستی جلانے کا حکم دیا ، اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی کہ ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے تم نے اللہ کی مخلوق کے ایک ایسے گروہ کو ہلاک کردیا جو اللہ کی تسبیح کرتا تھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا ، فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ ، فَهَلاَّ نَمْلَةً وَاحِدَةً.
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: “One of the Prophet halted beneath a tree and an ant bit him. He ordered that his belongings be removed from beneath (the tree), then he ordered that it be burned. Allah revealed to him: ‘Why not punish just one ant?”’
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی درخت کے نیچے ٹھہرے ، ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا ، انہوں نے درخت کے نیچےسے چیونٹیوں کا چھتہ نکالنے کا حکم دیا ، پھر ان کے حکم سے اس کو جلا دیا گیا ، تب اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ تم نے ایک چیونٹی ہی کو جلایا ہوتا۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ، وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ ، قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : فَهَلاَّ نَمْلَةً وَاحِدَةً.
It was narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w),” – and he narrated a number of Ahadith including the following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘One of the Prophet halted beneath a tree and an ant bit him. He ordered that his belongings be removed from beneath (the tree), then he ordered that it be burned. Allah revealed to him: ‘Why not punish just one ant?”’
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی درخت کے نیچے ٹھہرے ، ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا ، انہوں نے درخت کے نیچےسے چیونٹیوں کے چھتے کو نکالنے کا حکم دیا ، پھر ان کے حکم سے اس کو آگ میں جلا دیا گیا ، تب اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ تم نے ایک چیونٹی کے مارنے پر اکتفاء کیوں نہیں کی۔
40. باب تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ ، لاَ هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا ، إِذْ حَبَسَتْهَا ، وَلاَ هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ.
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “A woman was punished because of a cat which she imprisoned until it died, and she entered Hell because of that. She did not feed it or give it water when she imprisoned it, and she did not let it eat from the vermin of the earth.”
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ، اس نے بلی کو باندھ کر رکھا یہاں تک کہ وہ مرگئی ، وہ عورت اس سبب سے جہنم میں داخل کی گئی ، اس عورت نے بلی کو نہ کھلایا نہ پلایا ، اور نہ اس کو کیڑے مکوڑے کھانے کے لیے آزاد کیا۔
وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
A similar report (as no. 5852) was narrated from Ibn ‘Umar and Sa’eed al-Maqburi, from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).
یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
It was narrated from Nafi’ from Ibn ‘Umar, from Prophet (s.a.w) (a similar Hadith).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو نبی ﷺسے روایت کیا ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ، لَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “A woman was punished because of a cat that she did not feed or give water, and she did not let it eat from the vermin of the earth.”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ، اس نے اس کو نہ کھلایا او رنہ پلایا ، اور نہ اس کو کیڑے مکوڑے کھانے کے لیے آزاد کیا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا رَبَطَتْهَا. وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ حَشَرَاتِ الأَرْضِ.
Hisham narrated it with this chain of narrators. In their Hadith it says, “She tied it up”. In the Hadith of Abu Mu’awiyah it says: “The insects of the earth.”
یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے ، ان دونوں میں " ربطتہا " کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جبکہ ابو معاویہ کی روایت میں " حشرات الارض " کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : عَبْدٌ أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
A Hadith like that of Hisham bin ‘Urwah (no. 5855) was narrated from Abu Hurairah, from the Messenger of Allah (s.a.w).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کے معنی میں ایک روایت بیان کی ہے۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
A similar Hadith (as no. 5855) was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی طرح ایک روایت بیان کی ہے۔